ur

معاد

آیت اللہ امام خمینی

انسان کی دنیوی و اخروی زندگی
انسان کی دو زندگیاں ہیں: ایک مادی و دنیوی زندگی کہ جو اس جہاں میں ہے اور دوسری روحانی و اخروی زندگی کہ جو دوسرے جہاں میں ہے، ان دونوں زندگیوں میں سے ہر ایک کے اپنے خاص وسائل ہیں جن کے حصول کیلئے انسان کو کوشش کرنا پڑتی ہے، فلسفہ اولیٰ، قرآن کریم اور تمام انبیاءؑ کی تعلیمات سے ثابت ہے کہ اس دنیا کا سازو سامان اور وسائل اسی دنیا میں آمادہ کرنے چاہیں اور اس دعوے کے اثبات کیلئے انبیاءؑ کی روحانی تعلیمات ہی کافی ہیں۔ (۱)
دنیوی زندگی ، اخروی زندگی کا پیش خیمہ ہے
ہر باشعور شخص کی عقل کہتی ہے کہ اس بچگانہ زندگی کے علاوہ ایک اور عظیم جہان بھی ہے اور خداوند نے طبیعت کے ان بچوں کو اس زندگی کیلئے خلق فرمایا ہے اور اس جہان کا سازو سامان آمادہ کرنے کیلئے کچھ راہنما بھیجے ہیںاور یہ الٰہی قوانین اسی جہان کی زندگی کے وسائل کی فراہمی کیلئے ہیں، اگرچہ دنیاکی زندگی کیلئے بھی کچھ قوانین بنائے گئے ہیں، لیکن اصلی مقصد اس جہان آخرت کی ابدی زندگی ( کے مقصد کو) پورا کرناہے، اسی لیے خدا وند متعال نے اس دنیا کی زندگی کو اپنی کتاب میں لہو و لہب (۲)اور بچگانہ کام کہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔(۳)
حس پسندی کی وجہ سے معاد کا انکار
مادہ پرستوں نے اپنے تصور کائنات میں ’’حس‘‘ کو معیار شناخت بنا رکھا ہے جوچیز ’’محسوس ‘‘ نہ ہو ا سے وہ علم کی قلمرو سے خارج سمجھتے ہیں اور ہستی کو مادہ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ جو چیز مادی نہ ہواسے موجود ہی نہیں جانتے، لہٰذا وہ لوگ عالم غیب ، مثلاََ وجود خدا وند متعال ، وحی و نبوت اور قیامت کو محض ایک افسانہ خیال کرتے ہیں، جبکہ الٰہی تصور کائنات میں’’ حس و عقل‘‘ دونوں ہی شناخت کے ذرائع ہیں اور جو چیز معقول ہو وہ قلمرو علم میں داخل ہے چاہے محسوسات میں سے نہ ہو، لہٰذا ہستی میں غیب و شہادت دونوں شامل ہیں غیر مادی چیز بھی موجود ہو سکتی ہے، جس طرح مادی چیز مجرد(معقول) کے سہارے قائم ہے اسی طرح حسی شناخت کا انحصار بھی عقلی شناخت پر ہے۔(۴)
اخروی زندگی کی طرف جبری حرکت
انسان کو اس طور پر خلق کیا گیا ہے کہ وہ طبیعی حیات کے علاوہ ایک مابعد الطبیعات زندگی بھی رکھتاہے اور وہ مابعد الطبیعات زندگی ہی انسان کی حقیقی زندگی ہے، دنیا میں فقط حیوانی زندگی ہے، اسی لیے لوگ صحیح راستہ تلاش کرنے کیلئے وحی کی راہنمائی کے محتاج ہیں اور خداوند متعال نے بھی لوگوں پر احسان کرتے ہوئے انبیاءؑ مبعوث فرمائے ہیں تاکہ وہ انہیں راستہ دکھائیں، انبیاء کرامؑ کی تمام تعلیمات کا مقصد انسان کووہ راستہ دکھانا ہے جسے انسان کو بہر حال عبار کرنا ہے،انسان اس عالم طبعیت سے ایک دوسرے عالم کی طرف جانے پر مجبور ہے۔(۵)
دنیا راستہ ہے اور ماورائے دنیا منزل
انبیاءؑ کے نزچیک یہ دنیا وسیلہ ہے، ایک راستہ ہے، ایک ایسی اعلیٰ منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے جسے خود انسان نہیں جانتا،لیکن انبیاء جانتے ہیں،وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اگر انسان کو ہر طرح کی آزادی دے دی جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا اور اگر اسے کسی حد تک پابند بنایا جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔
وہ تمام امور جو ان ( دنیوی) حکومتوں کی نظر میں منزل ہیں انبیاء کی نظر میں راستہ ہیں، انبیاء کی نظر میں خود یہ دنیا مقصد و مراد نہیں اور نہ ہی منزل و محراب ہے بلکہ محض ایک راستہ ہے کہ اس کے ذریعے اس مرتبے تک پہنچنا ہوتا ہے جو انسان کا عالی ترین مرتبہ ہے ، اگر کوئی انسان ، اس اعلیٰ انسانی مرتبے تک پہنچ جائے تو یہ اس کیلئے سعادت ہے اور اس کی یہ سعادت دنیوی زندگی تک محدود نہیں اسی دنیا میں بھی سعادت ہے لیکن منحصر نہیں۔ اس جہا ں کے علاوہ ایک دوسرا جہاں بھی ہے،انبیاء نے مابعد الطبیعات کو دیکھا ہے عالم غیب کہ جو فی الحال ہمارے لیے مجہول ہے انہوں نے اسے دیکھ لیا ہے۔(۶)
انسانی معاد اور دیگر موجودات کے معاد میں پایا جانےوالا فرق
خلقت انسان کی غایت ’’ عالم غیب مطلق‘‘ ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں آیا ہے: یَابنَ آدَمَ ، خَلَقتُ الأَشیاءَ لِأَجلِک وخَلَقتُکَ لِأَجلی (۷)اور قرآن شریف میں حضرت موسیٰ بن عمران علیٰ نبینا وآلہ و علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا ہے: وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي (۸)اور فرمایا وَأَنَا اخْتَرْتُکَ(۹)
پس انسان مخلوق ’’ لاجل اللہ‘‘ ہے اور اسی ذات مقدس کیلئے پیدا کیا گیا ہے،اور موجودات کے درمیان وہی مصطفیٰ و مختار ( منتخب اور چنا ہوا) ہے، اس کی سیر کی انتہا باب اللہ ، فنا اللہ اور عکوف فی فنا اللہ ہے اس کی باز گشت الی اللہ ، من اللہ ، فی اللہ اور باللہ( اللہ کی طرف ، اللہ سے اللہ میں اور اللہ کے وسیلہ سے ) ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ (۱۰) دوسرے موجودات انسان کے توسط سے ’’ اللہ ‘‘ کی طرف رجوع کرتے ہیں، بلکہ ان کا مرجع و معاد انسان کی طرف ہے،چنانچہ زیارت جامعہ میں مقامات ولایت کا کچھ تذکرہ فرمایا ہے جس میں آیا ہےکہ:وَاِيابُ الْخَلْقِ اِلَيْكُمْ، وَحِسٰابَھُم عَلِیکُماور فرماتے ہیں:بِكُمْ فَتَحَ اللَّهُ وَ بِكُمْ يَخْتِمُ (۱۱،۱۲)
عوالم و جودیہ کا مرجع و معاد
احتمال ہے کہ امامؑ کا یہ کلام کہ جس میں آپؑ نے فرمایا  ممازجت و اختلاط کے ذریعے (۱۳)بازگشت ہے نہ مجاورت و ہمجواری کے ذریعے ،اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جوبعض بزرگان حکمت و فلسفہ(۱۴) کے نزدیک ثابت ہے مادہ میں ڈوبے ہوئے قویٰ کا معاد، جب تک تجردخیالی تک نہ پہنچ جائے، عالم عقل کے ساتھ اتصال کے ذریعے ، تحقق پذیر ہوتا ہے، مثلاً جب کوزے کے اند ر کا پانی دریا کے قریب پہنچتا ہے تو جب کوزہ ٹوٹتا ہے اس کا پانی تو دریا سے متصل ہو جاتا ہے،اس کے برعکس ، وہ قویٰ کہ جو تجردخیالی کے ذریعے مجرد ہوئے ہیں اور وہ نفوس ناطقٔہ قدسّیہ کہ جن کا رجوع و باز گشت عالم روحانیت کی طرف، ان کی فعلیات، مجردیہ کے باقی رہنےسے ہے، ہماری نظر میں تمام و عالم و جود کا مرجع و جائے باز گشت ، مرتبہ غیب سے لیکر مراتب شہود تک اطلاق وجود اور عدم محض کو وجہ سے ہے کہ جو حقیقت کے طلوع شمس اور سلطنت و حدانی کے ظہور اور مالکیت مطلق کے وقت وقوع پذیر ہوتا ہے چونکہ مقام مالکیت ، مقام قبض وجود ہے جیسا کہ مقام روحانیت و رحمیت ، مقام بسط و جوداور یسط کمالات وجود ہے۔(۱۵)
انسان کامل کے توسط سے موجودات کا معاد
علاوم الہیہ میں ثابت ہو چکا ہے کہ تمام موجودات کی معاد ایک انسان کامل کے توسط سے وجود میں آتی ہے:
كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ (۱۶) بِكُمْ فَتَحَ اللَّهُ وَ بِكُمْ يَخْتِمُ، وَاِيابُ الْخَلْقِ اِلَيْكُمْ(۱۷،۱۸)
انسان کامل کے توسط سے ایجاد اور موجودات کی معاد
تمام موجودات کی خداوند متعال کی طرف بازگشت ، ولی مطلق، صاحب کلی الٰہی اور صاحب مرتبہ عقل کے توسط سے ہے اور موجودات انسان کامل کے قویٰ ، ابزارو آلات اور شاخوں کی مانند ہیں، پس جس طرح بارگاہ غیب میں موجودات کی ایجاد کی ابتدا، بارگاہ شہادت میں، رب انسان کامل کے توسط سے اور خود انسان کامل کے ذریعے ہوئی ہے، اسی طرح ان کی بازگشت اور خاتمہ بھی اسی ترتیب سے ہے، اسی لیے، امت کی استقامت رسول اللہ کی استقامت ہے اور خود آنحضرتؐ سے خدا وند متعال کے اس فرمان: ’’ پس استقامت کرو جس طرح تمہیں فرمان دیا گیا ہے‘‘(۱۹) کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: سورۂ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے، اور یہ سب اسی آیت کی وجہ سے ہے ورنہ اگر امت کی استقامت کا مسٔلہ نہ تھا تو آپ ؐ کا وجود مقدس تو خود استقامت کا معیار و میزان ہے۔(۲۰)
عالم عقل سے اتصال کا حق کی طرف باز گشت کی شرط ہونا
عوالم نازلہ میں ظاہر شدہ عقل، ظاہر و مظہر کے اتحاد کے اعتبار سے ثواب و عقاب (جزا و سزا) کی مولد قرار پاتی ہے اور ہر چیز کا معا د اسی کے توسط سے ہے ۔ بلکہ تمام موجودات کا معاد، اسی کے معاد سے تحقق پذیر ہوتا ہے، پس موجودات جب تک عالم عقل تک نہ پہنچ جائیں اور اس میں فنا نہ ہو جائیں ، اس وقت تک حق کی طرف باز گشت نہیں کریں گی، اگرچہ( دراصل) تمام کا معاد،انسان کامل کے توسط سے ہے کہ یہ عقل ، اسی عقل کا ایک مرتبہ ہے۔(۲۱)
معاد اسی عالم میں تحول کا نام نہیں
’معاد‘ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو اسی طبیعت کے مرحلے میں واقع ہو، یہ معاد اور رجوع الی اللہ کا انکار اور عالم طبیعت کی تثبیت و تخلید ہے، امر معاد ، شجر و درخت کے گل سڑجانے اور مٹی ہو جانے اور پھر ان اجزا کا وقت گزرنے اور طبیعت کی تبدیلی و تٖغیر کے ساتھ ساتھ دوبارہ درخت و شجرکی صورت اختیار کرنے کی طرح نہیں ۔ چونکہ درخت کا تغیر کرنا، دوسرے مرحلے میں جانے کی مانند نہیں، جبکہ تمام شرایع( آسمانی) میںیہ بات ضروریات ( دین) میں سے ہے کہ معاد سے مراد ایک اور مرحلے اور فوق الطبیعہ ‘ جہان کا اثبات ہے اور لفظ معاد کے معنیٰ بھی ’’ عودالی اللہ‘‘ کے ہیں،معاد کو ’’ عود الی اللہ ‘‘ جاننا اس قربت کی وجہ سے کہ جو وہ مرحلہ عالم الوہیت سے رکھتا ہے، بعض آیات میں’’رجعت‘‘ کی جس تعبیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اسی مناسبت سے ہے ۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ (۲۲)كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ(۲۳،۲۴)
قرآن کتاب دعوت ہے وہ انسان کو اصل حقائق کی طرف بلاتی ہے اور ان دینی عقائد کو بیان کرتی ہے جو دنیوی آرام و سکون ، اصلاح اور درجات و جودی کی بلندی و رفعت اور اخروی کمال و سعادت میں مؤثر اور عام لوگوں کے شوق کا موجب ہیں، مثلاً علی الا طلاق الٰہی جزاء و سزا کی عدالت میں حاضر ہونے کا اعتقادیا اعمال کے ثواب و عقاب کے ملنے کا اعتقاد جیسا کہ(آیۂ مجیدہ میں) فرمایا گیا ہے:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (۲۵) یا عام لوگ جس زندگی سےآشنا ہیں اس کے ماوراء ایک زندگی کا اعتقاد، البتہ آئندہ کی زندگی کی کیفیت اور اموات کے احیاء اور اسی قسم کے دوسرے مسائل کی وضاحت ایک ایسی بات ہے کہ جو ایک دعوت دینے والی کتاب کی ذمہ داری نہیں، بالخصوص ایسے مطالب کو بیان کرنا کہ جو فلسفی و منطقی مقدمات کے محتاج ہیں۔
قرآن میں اصل معاد کا بیان
اگر قرآن ایک فائدہ مند ، برحق عقیدہ پیدا کرنے کے علاوہ، اس کی کیفیت و ماہیت کے بارے میں بھی گفتگو کرتا تو مقدمات (فلسفی و علمی) کی پیچدگی اور عام لوگوں میں عدم استعداد اور فکری کمزروری کی وجہ سے ، اصل بات رہ جاتی اور اصلی موضوع کے بارے میں عقائد بنانا اور انہیںپرورش دینا مشکل ہوجاتا، لہٰذا قرآن کا فقط اصل معاد کو بیان کرنااور موت سے قبل والے جسم وہیکل اور شخصیت پر مبنی زندگی اور حیات کو پیش کرنا ہی کافی ہے، آیات میں بھی اس سے زیادہ وضاحت نہیں ملتی، کیونکہ مقصد تک پہنچنے کیلئے اسی قدر کافی ہے۔(۲۶)
زندگی پر عقیدہ معاد کی تائید
اگر انسان یہ باور کر لے کہ اس عالم کا ایک مبداء ہے اور انسان سےایک ( دن) پوچھ گچھ ہوگی، ایک مرحلے کےبعد ، مرنا، فنا نہیں، مرنا ایک نقص سے کمال کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے، تویہ بات اسے ہر چیز سے اور ہر قسم کی لغزش سے، اس کی حفاظت کرے گی۔(۲۷)
عقیدۂ معاد، مانع گناہ ہے
آیا ممکن ہے کوئی شخص جہنم اور اس کی آگ کے دائمی ہونے کا احتمال رکھتا ہو، اس کے باوجود برائی کا ارتکاب کرے؟آیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی خداوند متعال کو حاضرو ناظر جانتا ہو، اپنے آپ کو محضرر بوبی میں دیکھتا ہو اور جانتا ہو کہ اس کے قول و فعل پر جزا و سزا ہے ، حساب و عقاب ہے ، اس دنیا میں جو بھی بات کرتا ہے، جو بھی قدم اٹھاتا ہے ،جو بھی عمل انجام دیتا ہے وہ لکھا جاتا ہے،خدا وند کے رقیب و عتید ملائکہ اس کے نگران ہیں اور اس کے تمام اقوال و اعمال ثبت کرتے ہیں، ان سب باتوں کے باوجود وہ برے اعمال کے ارتکاب سے کسی قسم کا پاک نہ رکھتا ہو؟(۲۸)
سفر آخرت کی فراموشی کے علل و اسباب
انسان جب تک اس بات پر متنبہ نہ ہو کہ وہ ایک مسافر ہے اور مسافر کیلئے سفر اور مقصد کا ہونا ضروری ہے اور ( یہ سمجھنا بھی) ضروری ہے کہ وہ اس مقصد کی طرف حرکت کرنے پر مجبور ہے اور حصول مقصد (بھی) ممکن ہے( اس وقت تک) اسکے اندر عزم پیدا نہ ہو گااور نہ وہ صاحب ارادہ ہوگا، یہ تمام امور وضاحت طلب ہیں اور وضاحت کی صورت میں کلام طولانی ہو جائیگا۔
اور یہ بات جاننا چاہیے کہ اس بیداری کا سب سے بڑا مانع جو مقصد کے بھولنے کا سبب اور ضرورت سفر کی فراموشی (کی سے بری علت) ہے اور جو انسان کے عزم و ارادے کو مار ڈالتی ہے وہ انسان کا یہ گمان ہے کہ ( ابھی ) سفر کیلئے بہت وقت پڑا ہے، اگر آج منز ل کی طرف نہ چلا تو کل چل پڑونگا اور اگر اس ماہ یہ سفر نہ کیا توآئند ہ ماہ کر لونگا، یہ لمبی امیدیں، طولانی توقعات، بقاء کا گمان، زندگی کی امید اور وقت کے وسیع ہونے کی امید، انسان کو اصل مقصد یعنی آخرت اور آخرت کی طرف سفر کی ضرورت اور زادراہ اکٹھا کرنے سے روک دیتی ہے اور انسان بالکل آخرت کو بھول جاتا ہے اور وہ( اپنے) مقصد کو فراموش کردیتا ہے، خدا نہ کرے کہ کسی کو دوردراز کا پر خطر سفر درپیش ہو وقت تنگ ہواور سازوسامان ضروری ہو، مگر اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اور اس کے باوجود اپنے اصل مقصد کو بھول جائے، واضح سی بات ہے کہ اگر وہ اسے بھول جائے گا تو اسے زادور راحلہ کی کوئی فکر نہیں ہوگی اور وہ زادسفرکا انتظام نہیں کرے گا اور مجبوراََ جب اسے سفر پر جانا پڑے گا تو سفر سے عاجز آ جائے گا راستے ہی میں گر پڑے گا ، ہلاک ہو جائے گا اور منز ل تک نہ پہنچ پائے گا۔
علم و عمل ، زادوراحلۂ آخرت ہے
پس اے عزیز ! جان لو کہ ایک پر خطر لازمی سفر درپیش ہے جس کا توشہ و راحلہ علم اور نفع بخش عمل ہے، وقت سفر بھی معلوم نہیں کہ کس وقت یہ سفر کرنا ہوگا؟ ہوسکتا ہے یہ وقت بہت تنگ ہو اور موقع ہاتھ سے نکل جائے، انسان کو معلوم نہیں کہ کس وقت کوچ کا نقارہ بج جائے گااور اسے مجبوراًسفر کرنا پڑجائے گا، یہ طولانی امیدیں جو ہم لوگ رکھتے ہیں، یہ حبّ نفس اور شیطانی جال ، اس ملعون کا شاہکار ہیں کہ جس نے ہم کو عالم آخرت سے اس طرح روک رکھا ہے کہ ہم کو اس کی کوئی فکر ہی نہیں، اگر ہم کو سفر کے خطرات اور وانع کا احساس تو ہو جائے لیکن ہم تو بہ وانابت کےذریعے اپنی اصلاح کرکے حق کی طرف رجوع نہ کریں اور کسی بھی قسم کا زادوراحلہ اکٹھا کرنے کی فکر نہ کریں تو اچانک موت آجائے گی اور ہم کو بغیر زادوراحلہ کے اور بغیر تیاری کے سفر پر مجبور کردے گی،حالانکہ نہ ہمارے پاس عمل صالح ہوگا اور نہ علم نافع جبکہ اس دنیا کا دارومدار انہی دوچیزوں پر ہے اورہم نے کسی ایک کا بھی انتظام نہیں کیا ہوگا، اگر ہم نے کوئی عمل بھی انجام دیا ہوگا تو وہ خالص اور بغیر ملاوٹ کے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے قبول ہونے کے ہزاروں موانع کے ساتھ اسے بجا لائے ہونگے اور اگر علم حاصل کیا ہوگا تو وہ بھی لا حاصل اور بے فائدہ علم ہو گا کہ خود یا تو لغوو باطل ہے یا آخرت کے راستے کیلئے رکاوٹ ہے۔
اگر ہمارا یہ علم و عمل سود مند ہوتا تو ہم سالہا سال سے جس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اس کا ہمارے چالیس پچاس سالہ علم و عمل نے ہمارے دلوں پر برعکس اثر کیا ہے اور ہمارے قلوب کو سنگ خارا سے زیادہ سخت کردیا ہے؟نماز جو مومن کی معراج ہے، اس سے ہم نے کیا فائدہ حاصل کیا ہے؟ خوف و خشیت جو علم کا لازمہ ہے کہاں ہے؟ اگر ہم خدانخواستہ اسی حال میں مر گئے تو ہم بہت بڑے نقصانات اٹھائیں گے اور ہمیں بہت زیادہ حسرتوں کا سامنا ہوگا جو کبھی بھی زائل نہیں ہونگی۔
پس نسیان آخرت ان چیزوں میں سے ہے کہ اگر حضرت ولی اللہ اعظم امیر المومنین علی علیہ السلام اس کی وجہ سے یعنی ہماری’’ لمبی امیدوں‘‘ ّ(۲۹)سے ہمارے بارے میں ڈرتے تھے تو وہ حق بجانب تھے،کیونکہ ان حضرتؑ کو معلوم تھا کہ یہ سفر کتنا پر خطر ہے اور انسان کو چاہیے کہ ایک لحظہ کیلئے چین نہ بیٹھے بلکہ ہرآن ، توشہ وراحلہ جمع کرنے کی فکر میں رہے ایک سیکنڈ کیلئے بھی اس سے غافل نہ ہو، کیونکہ اگر وہ آخرت کو بھول گیا اور خواب (غفلت) میں چلا گیا اور یہ نہ سمجھ سکا کہ ایسا بھی ایک عالم ہے اور ایسا بھی سفر پیش آ سکتا ہے تو اس پر کیا گزرے گی اور وہ کن عذابوں میں گرفتار ہوگا۔
امر آخرت کا پرخطر ہونا
بہتر ہے کہ یہاں پر تھوڑا سا حضرت علی ؑ اور حضرت رسول اکرمؐ جو افصل مخلوقات اور خطا و نسیان و لغزش و طغیان سے معصوم ہیں، کا ذکر کریں اور دیکھیں کہ ہم کس حال میں ہیں اور وہ حضراتؑ کس حالت میں تھے، سفر کے خطرات کے علم نے ان ذوات مقدسہ سے راحت و آرام چھین لیا تھا اور ہماری جہالت نے ہمیں نسیان میں مبتلا کر دیا ہے ، حضرت ختمی مرتبتؑ نے اتنی ریاضت کی تھی اور آپؐ حق تعالیٰ کے سامنے اس قدر قیام فرماتے تھے کہ آپؐ کے قد م مبارک سوج گئے تھے، یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی:طه‘، مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَی (۳۰،۳۱)
حضرت علیؑ کے خوف اور عبارت سے تو سب ہی آگاہ ہیں۔
پس جان لو کہ سفر بہت ہی پر خطر ہے اور ہمارا نسیان اور فراموشی شیطان اور نفس کے مکروفریب کی وجہ سے ہے اور یہ آرزوئیں اور لمبی امیدیں ابلیس کے عظیم جال ہیں اور نفس کا مکر و دھوکہ ہے، لہٰذا اس خواب سے بیدار ہو جائو اور ہوشیار رہو!
جان لو کہ تم مسافر ہو اور تمہاری ایک منزل ہے۔ تمہاری منزل دوسرا جہان ہے، تم چاہو یا نہ چاہو، تم کو بہرحال اس جہان سے لے جائیں گے،اگر تم نے سفر کی تیاری کر لی اور زادوراحلہ کاانتظام کر لیا تو اس سفر میں درماندہ نہیں ہوگے اور اس سفر میں بے کس نہیں رہو گے۔ ورنہ بے کس و بے یارومدگار ہوجائو گے اور ایسی بد بختی و شقاوت میں مبتلا ہو جائو گے جس میں کسی قسم کی سعادت نہیں ہوگی، ایسی ذلت ہوگی جس ( کےبعد) جو بجھے گے جس کے بعد کبھی بھی راحت و آسائش نہیں ہوگی،ایسی آگ ( میں جلوگے)جو بجھے گی نہیں،ایسا فشار ہوگا جو کبھی ختم نہیں ہوگا، ایسا حزن و اندوہ ہو گا جس کے بعد کبھی مسرت نہیں ہوگی، ایسی حسرت و ندامت ہوگی جس کی انتہانہ ہوگی۔
اے میرے عزیز! ذرادیکھو تو خدا سے مناجات کرتے ہوئے ’’ دعائے کمیل‘‘ میں مولاؑ کیا عرض کرتے ہیں۔
أَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِی عَنْ قَلِیلٍ مِنْ بَلاءِ الدُّنْیا وَعُقُوباتِہا،
پھر آگے فرماتے ہیں : وَھَٰذَا مَالاَ تَقُوْمُ لَہُ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ(۳۲) یہ کونسا عذاب ہے کہ آسمان و زمین اس کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے جو تیرے لیے مہیا کیا گیا ہے لیکن تو پھر بھی نہیں جاگتا بلکہ روز بروز فراموشی و خواب غفلت میں ڈوبتا جا رہا ہے بلکہ یہ خواب گہرا ہوتا جاتا ہے؟
ہاں: اے دل غافل! خواب غفلت سے اٹھ سفر آخرت کیلئے آمادہ ہو
جا:فَقَد نُودِیَ فِیکُم بَالرَّحِیل(۳۳)
کوچ کرنے کی آواز بلند ہو چکی ہے، حضرت عزرائیل ؑ کے ماتحت کام کرنے والے اپنے کام میں مشغول ہیں اور ہر آن تجھے عالم آخرت کی طرف ہنکارہے ہیں۔ اس کے باوجود تم غافل و نادان ہواللّھُمَ انّی أسألَکَ التَّجا فِی عَن دارِ الغُرُورِ وَالْاِ نَابَةَ اِلیَ دارِ السُّرُورِ وَالْأِ سْتِعْدادَ لِلْمَوتِ قَبْلَ حُلُولِ الفَوت۔(۳۴،۳۵)
حوالہ جات
۱۔کشف الاسرار ،ص ۳۱۱۔۳۱۲
۲۔انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو۔(تحقیق دنیا کی زندگی ،کھیل تما شا ہے،سورہ محمد ، آیت ۶۳
۳۔کشف الاسرار ،ص ۲۰۳
۴۔صیحفہ ٔ امام ،ج۲۱،ص ۲۲۰
۵۔صحیفۂ امام،ج۹،ص۱۱
۶۔صحیفۂ امام ،ج۱۱،ص ۴۵۰
۷۔اے فرزند آدم!میں نے ہر چیز کوتیرے لیے اور تجھ کو اپنے لیے پیدا کیا،علم الیقین ،ج۱،ص ۳۸۱
۸۔اور ہم نے تم کو اپنے لیے منتخب کر لیا،سورہ طہ ،آیت ۴۱
۹۔اور ہم نے تم کو منتخب کر لیا،سورہ طہ ،آیت ۱۳
۱۰۔بے شک ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے،سورہ غاشیہ ،آیت۲۵
۱۱۔مخلوقات کی بازگشت آپ کی طرف اور ان کا محاسبہ پر ہے ۔۔۔خدا نے آپ کے سبب سے (خلقت کا) آغاز کیا اور آپ ہی پر ختم کرے گا۔من لا یحضرہ الفقیہ، ج۲،ص۳۷۰،زیارت جامعہ کبیر ہ
۱۲۔آداب نماز ،ص ۲۴۳
۱۳۔امیر المومنین ؑ سے منقول حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ جسے قاضی سعید قمی نے فوائد الرضویہ ‘میں ذکر کیا ہے۔(۔۔۔فقال : ماالنفس الحوانیۃ؟ قا ل علیہ السلام : قوۃ فلکیۃ و حرارۃ غریزیۃ،اصلھا الافلاک، بد ایجادھا عند الولادۃ الجسمانیۃ،فعلھا الحیاۃ الحرکۃ و الظالم والفسم والغلبۃ و اکتساب الاموال ،والشھوات الدنیویۃ،مقرھا القلب،وسبب فراقھا اختلاف المتولدات،فاذا فارقت عادت الی مامنہ،عبدات عود ممازجۃ لاعود مجاورۃ ،فتعدم صورتھاویبطل فعلھا ووجود فیضمحل ترکبھا۔۔۔)
التعلیقہ علیٰ شرح فوائد الرضویہ،ص۱۱۰حدیث ،کلمات مکنونہ فیض کاشانی ،ص ۷۶،پر بھی موجود ہے ۔
۱۴۔فتوحات مکیہ ج۳،ص ۱۲،اسفار،ج۹،ص۲۵۲
۱۵۔(ویتحمل ان یکون قولہ:عودمخازجۃ اشارۃ الی ما ھو المحقق عند بعض اساطین الحکمۃ، ان القوی المنغمرۃ فی المادۃ مالم تتجرد الخیال ، معادھا یکون بالاتصال الی العالم العقلی ،اتصال الماء الماذی فی الکیزان علی شاطی البحر اذا انکسرت الکیزان و اتصل الماءبالبحربخلاف القوی المجردۃ تجرداً اخیالیتاًوالنفوس القدسیۃ النطقیۃ فان رجو عھا الیٰ عوالم و حانیات مع بقاء فعلیتا تھا التجردیۃ، و عندناکل اعوالم الوجودیۃ، من المراتب الغیبۃ و الشودیۃ ،مرجعھا الیٰ الاطلاق الجودی والعدم المحض عندالطلوع شمس الحقیقۃ و بروز سلطنۃ الوحدانیۃ والمالکیۃ المطلقۃ، فان مقام المالکیۃ مقام قضالوجود، کما ان مقام الرحمانیۃ والرحیمیۃمقام بسطہ و بسط کمالہ)التعلیقۃ علیالفوائد الرضویہ ،ص۱۰۸،۱۰۷
۱۶۔اسی طرح ،جس طرح تم کو شروع میں پیدا کیا تھا واپس پلٹو گے ،سورہ اعراف ،آیت ۲۹
۱۷۔خدا نے تم سے ابتدا کی ہے اور تمہیں پر انتہا کرے گا اور تمام مخلوق کی بازگشت تمہاری طر ف ہے۔
۱۸۔آداب الصلاۃ،ص ۱۳۹
۱۹۔(فاسنقم کما امرت )سورہ ہود،آیت ۱۱۲
۲۰۔(شیبتنی سورۃ ہود)مجمع البیان ،ج۳،ص۱۹۹،الکشاف ،ج۲ص ۲۹۵،تفسیر بیضادی ،ص ۳۰۷
۲۱۔(ان عود الموجودات الی اللہ تعالیٰ بتوسط الولی المطلق صاحب النفس الکلیۃ الالھیۃ وواجدہ رتبۃ العقل ،و ان الموجودات بمنزلۃ القویٰ والالات والمتفرعات من وجود الانسان الکامل،فکماان بدو ایجادھا من الحضرۃ الغیب بتوسط رب الانسان الکامل ،و فی الحضرۃ الشہادت بتوسط نفس الانسان الکامل ،کذلک عودھا و ختھا، ولھذا کانت استقامۃ الامۃ استقامۃ رسول اللہ ﷺ وودمنۃؑ عند قولہ تعالی فی سورۃ ہود (فاستقم کما امرت)(شیبتنی سورۃ ھود)لکان ھذہ الایۃ،والافھو ؑ بوجود المقدس میزان الستقامۃ۔تعلیقہ علیٰ الفوائد الرضویہ ،ص ۱۰۹
۲۲۔(العقمل الظاہر فی العوالم النازلۃ یثاب و یعاقب باعتبار اتحاد الظاہر و المظہر، و معاد کل شی ،بتوسط ،بل بمعادہ،فان الاشیا ء الکونیۃ لاتعود الی الحق مالم تصل العقلی ،او تفنی فیۃ : و ان کان معاد الکل بتوسط الانسان الکامل الذی کان العقل ہو مرتبۃ عقلہ )مصباح الہدایہ ،ص۷۱
۲۳۔ہم خدا ہی کیلئے ہیں اور اسکی طرف واپس جانے والے ہیں۔ سورہ البقرہ ،آیت ۱۵۶
۲۴۔سورہ اعزاب ،آیت ۲۹
۲۵۔تقریرات اسفار
۲۶۔پس جو کوئی ذرہ بھر نیکی بھی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جوکوئی ذرہ بھر برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔سورہ الزال ۸،۷
۲۷۔تقریرات اسفار
۲۸۔تفسیر سورہ حمد،ص ۱۰۹
۲۹۔جہاد اکبر ،ص ۵۰
۳۰۔حضرت امیر ؑ کے اس کلام کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں آپ ؑ نے فرمایا :(انما اخاف علیکم اثنین: اتباع الھوی و طول الامل ۔امااتباع الھویٰ فانہ یصد عن الحق و اناالحق واما طول الامل فینسی الاخرۃ)
یعنی میں تمہارے بارے میں دو چیزوں سے ڈرتا ہوں ،ہوا ئے نفسانی کی پیروی اور لمبی اُمیدیں،ہوا ئے نفسانی کی پیروی تمہیں حق سے روک دے گی اور لمبی آرزوئیں ، آخرت کی فراموشی کا سبب بنتی ہیں۔اصول کافی ج۲،ص۳۳۵،کتاب ایمان و کفر ، باب اتباع الھویٰ ،حدیث ۳
۳۱۔اے طہٰ(اے رسول ﷺ)ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم اس قدرو مشقت میں پڑجائو۔ طہٰ آیت ۱،۲
۳۲۔امام باقر اور امام صادق (علیہماالسلام) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا
(کان رسول اللہ اذا صلی ،قام علی اصابع رجلیہ حتی تودمت، فانزل اللہ تبارک و تعالٰ : طہ ۔۔۔)تفسیر علی بن ابراہیم ،ج۲،ص۵۸
۳۳۔معبود تو جانتا ہے کہ میں دنیا کے تھوڑے سے عقوبات اور بلائوں کے اٹھانے سے عاجز ہوں۔۔۔۔اور یہ تو وہ چیز کہ اس کا ٹھانا آسمانوں اور زمین کے بس کی بات نہیں۔ دعائے کمیل ،مصباح المتہجد،ص ۵۸۷
۳۴۔صدائے رحیل گونج اٹھی ہے نہج البلاغہ ،خطبہ ۱۹۵
۳۵۔پالنے والے میں تجھ سے فریب گھر دنیا سے دوری کی دعا کرتا ہوں اور دار سرور (جنت ) میں آنے کی موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کی توفیق طلب کرتا ہوں۔
یہ دعا معمولی اختلاف کے ساتھ حضرت امام سجاد ؑ سے نقل ہوئی ہے۔ اقبال ،ص ۲۲۸،المراقبات فی اعمال السنہ ص ۱۵۵،مفاتیح الجنان ،اعمال شب ۲۷ماہ رمضان ،
چہل حدیث ص ۱۷۴،۱۷۷۔