ur

رنج و اندوہ کے دور ہونے کی دعا

[separator top=”-20″ bottom=”-40″ style=””]
چَوّنویں دعا
54۔ رنج و اندوہ کے دور ہونے کی دعا

اے رنج و اندوہ کے برطرف کرنے والے اور غم و الم کے دور کرنے والے۔ اے دُنیا و آخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں جہانوں میں مہربانی فرمانے والے تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورمیری بیچینی کو دور اور میرے غم کو برطرف کر دے۔

اے اکیلے اے یکتا ! اے بے نیاز! اے وہ جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے میری حفاظت فرما اور مجھے (گناہوں سے) پاک رکھ اور میرے رنج و الم کو دور کردے۔

اس مقام پر آیۃ الکرسی ، قُل اعوذ بربّ النّاس، قل اعوذ بربّ الفلق اور قل ھو اللّٰہ احد پڑھو اور یہ کہو

بارالٰہا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس شخص کا سوال جس کی احتیاج شدید، قوت و توانائی ضعیف اور گناہ فراوان ہوں۔ اس شخص کا سا سوال جسے اپنی حاجت کے موقع پر کوئی فریاد درس، جسے اپنی کمزوری کے عالم میں کوئی پشت پناہ اور جسے تیرے علاوہ کوئی گناہوں کا بخشنے والا دستیاب نہ ہو۔

اے جلالت و بزرگی والے! میں تجھ سے اس عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں کہ جو اس پر عمل پیرا ہو تو اسے دوست رکھے اور ایسے یقین کا کہ جو اس کے ذریعہ تیرے فرمان قضا پر پوری طرح متیقن ہو تو اس کے باعث تو اسے فائدہ و منفعت پہنچائے۔

اے اللہ محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے حق و صداقت پر موت دے اور دنیا سے میری حاجت و ضرورت کا سلسلہ ختم کر دے اور اپنی ملاقات کے جذبہ اشتیاق کی بنا پر اپنے ہاں کی چیزوں کی طرف میری خواہش و رغبت قرار دے اور مجھے اپنی ذات پر صحیح اعتماد و توکل کی توفیق عطا فرما۔ میں تجھ سے سابقہ نوشتہ تقدیر کی بھلائی کا طالب ہوں اور سابقہ سرنوشت تقدیر کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں ۔ میں تیرے عبادت گزار بندوں کے خوف، عجز و فروتنی کرنے والے کی عبادت، توکل کرنے والوں کے یقین اور ایمان داروں کے اعتماد و توکل کا تجھ سے خواستگار ہوں۔

بارالٰہا! طلب سوال میں میری خواہش و رغبت کو ایسا ہی قرار دے جیسی طلب و سوال میں تیرے دوستوں کی تمنا و خواہش ہوتی ہے اور میرے خوف کو بھی اپنے دوستوں کے خوف کے مانند قرار دے اور مجھے اپنی رضا و خوشنودی میں اس طرح برسرعمل رکھ کہ میں تیرے مخلوقات میں سے کسی ایک کے خوف سے تیرے دین کی کسی بات کو ترک نہ کروں۔

اے اللہ! یہ میری حاجت ہے اس میں میری توجہ و رغبت کو عظیم کر دے۔ میرے عذر کو آشکارا کر اور اس کے بارے میں مجھے دلیل و حجت کی تعلیم کر اور اس میں میرے جسم کو صحت و سلامتی بخش۔

اے اللہ ! جسے بھی تیرے سوا دوسرے پر بھروسا یا امید ہو تو میں اس عالم میں صبح کرتا ہوں کہ تمام امور میں تو ہی اعتماد و امید کا مرکز ہوتا ہے۔ لہذا جو امور بلحاظ انجام بہتر ہوں وہ میرے لیے نافذ فرما اور مجھے اپنی رحمت کے وسیلہ سے گمراہ کرنے والے فتنوں سے چھٹکارا دے۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

اور اللہ رحمت نازل کرے ہمارے سید و سردار فرستادہ خدا محمد مصطفی پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آل پر۔