ur

عید قربان اور جمعہ کی دعا

[separator top=”-20″ bottom=”-40″ style=””]
اڑتالیسویں دعا
48۔ عید قربان اور جمعہ کی دعا

بارالٰہا!یہ مبارک و مسعود دن ہے جس میں مسلمان معمورہ زمین کے ہر گوشہ میں مجتمع ہیں۔ ان میں سائل بھی ہیں اور طلب گار بھی۔ ملتجی بھی ہیں اور خوف زدہ بھی۔ وہ سب ہی تیری بارگاہ میں حاضر ہیں اور تو ہی ان کی حاجتوں پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ لہذا میں تیرے جو دو کرم کو دیکھتے ہوئے اور اس خیال سے کہ میری حاجت براری تیرے لیے آسان ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر۔

اے اللہ! اے ہم سب کے پروردگار! جبکہ تیرے لیے بادشاہی اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے اور کوئی معبو د نہیں تیرے علاوہ، جو بردباد، کریم، مہربانی کرنے والا، نعمت بخشنے والا، بزرگی و عظمت والا اور زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب بھی تو اپنے ایمان والے بندوں میں نیکی یا عافیت یا خیرو برکت اپنی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق تقسیم فرمائے یا ایسی بھلائی جس سے تو ان پر احسان کرے اور انہیں اپنی طرف رہنمائی فرمائے یا اپنے ہاں ان کا درجہ بلند کرے یا دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے کوئی بھلائی انہیں عطا کرے تو اس میں میرا حصہ و نصیب فراواں کر۔

اے اللہ! تیرے ہی لیے جہاں داری اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔ لہٰذا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما اور اپنے عبد، رسول، حبیب، منتخب اور بر گزیدہ خلائق محمد پر اور ان کے اہل بیت پر نیکو کار، پاک و پاکیزہ اور بہترین خلق ہیں ۔ ایسی رحمت جس کے شمار پر تیرے علاوہ کوئی قادر نہ ہو اور آج کے دن تیرے ایمان لانے والے بندوں میں سے جو بھی تجھ سے کوئی نیک دعا مانگے تو ہمیں اس میں شریک کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار اور ہمیں اور ان سب کو بخش دے اس لیے کہ تو ہر چیز پرقادر ہے۔

اے اللہ! میں اپنی حاجتیں تیری طرف لایاہوں اور اپنے فقر و فاقہ و احتیاج کا بارگراں تیرے در پر لا اتارا ہے اور میں اپنے عمل سے کہیں زیادہ تیری آمرزش و رحمت پر مطمئن ہوں اور بے شک تیری مغفرت و رحمت کا دامن میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لہذا تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور میری ہر حاجت تو ہی بر لا۔ اپنی اس قدرت کی بدولت جو تجھے اس پر حاصل ہے اور یہ تیرے لیے سہل و آسان ہے اور اس لیے کہ میں تیرا محتاج اور تو مجھ سے بے نیاز ہے اور اس لیے کہ میں کسی بھلائی کو حاصل نہیں کر سکا مگر تیری جانب سے اور تیرے سوا کوئی مجھ سے دکھ درد دور نہیں کر سکا اور میں دنیا و آخرت کے کاموں میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا۔

اے اللہ ! جو کوئی صلہ و عطا کی امید اور بخشش و انعام کی خواہش لے کر کسی مخلوق کے پاس جانے کے لیے کمر بستہ و آمادہ اور تیار مستعد ہو تو اے میرے مولا و آقا! آج کے دن میری آمادگی و تیاری اور سرو سامان کی فراہمی و مستعدی کے تیرے عفو و عطا کی امید اور بخشش و انعام کی طلب کے لیے ہے۔ لہٰذا اے میرے معبود! تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور آج کے دن میری امیدوں میں مجھے ناکام نہ کر۔ اے وہ جو مانگنے والے کے ہاتھوں تنگ نہیں ہوتا اور نہ بخشش و عطا سے جس کے ہاں کمی ہوتی ہے۔ میں اپنے کسی عمل خیر پر جسے آگے بھیجا ہو اور سوائے محمد (ص) اور ان کے اہل بیت صلوات اللہ علیہ و علیہم کی شفاعت کے کسی مخلوق کی سفارش پر جس کی امید رکھی ہو اطمینان کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہوا۔

میں تو اپنے گناہ اور اپنے حق میں برائی کا اقرار کرتے ہوئے تیرے پاس حاضر ہوا ہوں درآنحالیکہ میں تیرے اس عفو عظیم کاامیدوار ہوں جس کے ذریعہ تو نے خطاکاروں کو بخش دیا۔ پھر یہ کہ ان کا بڑے بڑے گناہوں پر عرصہ تک جمے رہنا تجھے ان پر مغفرت و رحمت کی احسان فرمائی سے مانع نہ ہوا ۔ اے وہ جس کی رحمت وسیع اور عفو و بخشش عظیم ہے۔ اے بزرگ! اے عظیم! اے بخشندہ! اے کریم! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنی رحمت سے مجھ پر احسان اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ مجھ پر مہربانی فرما اور میرے حق میں اپنے دامن مغفرت کو وسیع کر۔

بارالٰہا!یہ مقام( خطبہ و امامت نماز جمعہ) تیرے جانشینوں اور برگزیدہ بندوں کے لیے تھا اور تیرے امانتداروں کا محل تھا درآنحالیکہ تو نے اس بلند منصب کے ساتھ انہیں مخصوص کیا تھا (غصب کرنے والوں نے ) اسے چھین لیا اور تو ہی روز ازل سے اس چیز کا مقدر کرنے والا ہے۔ نہ تیرا امرو فرمان مغلوب ہوسکتا ہے اور نہ تیری قطعی تدبیر (قضا و قدر ) سے جس طرح تو نے چاہا اور جس وقت چاہا ہو تجاوز ممکن ہے۔ اس مصلحت کی وجہ سے جسے تو ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال تقدیر اور تیرے ارادہ و مشیت کی نسبت تجھ پر الزام عائد نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ ( اس غصب کے نتیجہ میں ) تیرے برگزیدہ اور جانشین مغلوب و مقہور ہوگئے اور ان کا حق ان کے ہاتھ سے جاتا رہا ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ تیرے احکام بدل دیئے گئے۔ تیری کتاب پس پشت ڈال دی گئی ۔تیرے فرائض و واجبات تیرے واضح مقاصد سے ہٹا دیئے گئے اور تیرے نبی(ص) کے طور و طریقے متروک ہوگئے۔

بارالٰہا! تو ان برگزیدہ بندوں کے اگلے اور پچھلے دشمنوں پر اور ان پر جو ان دشمنوں کے عمل و کردار پر راضی و خوشنود ہوں اور جو ان کے تابع اور پیروکار ہوں لعنت فرما۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ بے شک تو قابل حمد و ثنا بزرگی والا ہے۔ جیسی رحمتیں، برکتیں اور سلام تو نے اپنے منتخب و برگزیدہ ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل کئے ہیں اور ان کے لیے کشائش، راحت، نصرت، غلبہ اور تائید میں تعجیل فرما۔

بارالٰہا !مجھے توحید کا عقیدہ رکھنے والوں، تجھ پر ایمان لانے والوں اور تیرے رسول (ص) اور ان آئمہ (ع) کی تصدیق کرنے والوں میں سے قرار دے جن کی اطاعت کو تو نے واجب کیا ہے۔ ان لوگوں میں سے جن کے وسیلہ اور جن کے ہاتھوں سے ( توحید، ایمان اور تصدیق ) یہ سب چیزیں جاری کرے ۔ میری دعا کو قبول فرما اے تمام جہانوں کے پروردگار !

بارالٰہا ! تیرے حلم کے سوا کوئی چیز تیرے غضب کو ٹال نہیں سکتی اور تیرے عفو و درگزر کے سوا کوئی چیز تیری ناراضگی کو پلٹا نہیں سکتی اور تیری رحمت کے سوا کوئی چیز تیرے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتی اور تیری بارگاہ میں گڑگڑاہٹ کے علاوہ کوئی چیز تجھ سے رہائی نہیں دے سکتی۔ لہذا تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنی اس قدرت سے جس سے تو مردوں کو زندہ اور بنجر زمینوں کو شاداب کرتا ہے مجھے اپنی جانب سے غم اندوہ سے چھٹکارا دے ۔ بارالٰہا ! جب تک تو میری دعاقبول نہ فرمائے اور اس کی قبولیت سے آگاہ نہ کر دے مجھے غم و اندوہ سے ہلاک نہ کرنااور زندگی کے آخری لمحوں تک مجھے صحت و عافیت کی لذت سے شاد کام رکھنا۔ دشمنوں کو (میری حالت پر) خوش ہونے اور میری گردن پر سوار اور مجھ پر مسلط ہونے کا موقعہ نہ دینا۔

بارالٰہا ! اگر تو مجھے بلند کرے تو کو ن پست کر سکتا ہے اور تو پست کرے تو کون بلند کرسکتا ہے اور تو عزت بخشے تو کون ذلیل کرسکتا ہے اور تو ذلیل کرے تو کون عزت دے سکتا ہے اور تو مجھ پر عذاب کرے تو کون مجھ پر ترس کھا سکتا ہے اور اگر تو ہلاک کرے تو کون تیرے بندے کے بارے میں تجھ پر معترض ہو سکتا ہے یا اس

کے متعلق تجھ سے کچھ پوچھ سکتا ہے اور مجھے خوب علم ہے کہ تیرے فیصلہ میں نہ ظلم کا شائبہ ہوتا ہے اور نہ سزا دینے میں جلدی ہوتی ہے۔ جلدی تو وہ کرتا ہے جسے موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہو اور ظلم کی اسے حاجت ہوتی ہے جو کمزور و ناتواں ہو۔ اور تو اے معبود ! ان چیزوں سے بہت بلند و بر تر ہے۔

اے اللہ! تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے بلاؤں کا نشانہ اور اپنی عقوبتوں کا ہدف نہ قرار دے۔ مجھے مہلت دے اور میرے رنج و غم کو دور کر، میرے لغزشوں کو معاف کر دے اور مجھے ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں مبتلا نہ کر ۔ کیونکہ تو میری ناتوانی، بے چارگی اور اپنے حضور میری گڑگڑاہٹ کو دیکھ رہا ہے۔

بارالٰہا ! میں آج کے دن تیرے غضب سے تیرے ہی دامن میں پناہ مانگتا ہوں۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے پناہ دے اور میں آج کے دن تیری ناراضگی سے امان چاہتا ہوں۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے امان دے اور تیرے عذاب سے امن کا طلب گار ہوں، تو رحمت نازل فرمامحمد اور ان کی آل پر اور مجھے (عذاب سے ) مطمئن کر دے اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھ پر رحم کر اور تجھ سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں تو رحمت نازل فرمامحمد اور ان کی آل پر اور مجھے بے نیاز کر دے۔ اور تجھ سے روزی کا سوال کرتا ہوں۔ تو رحمت نازل فرمامحمد اوران کی آل پر اور مجھے روزی دے اور تجھ سے کمک کا طالب ہوں۔ تو رحمت نازل فر ما محمد اور ان کی آل پر اور میری کمک فرما اور گزشتہ گناہوں کی آمرزش کا خواستگار ہوں۔ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل (ع) پر اور مجھے بخش دے اور تجھ سے ( گناہوں کے بارے میں) بچاؤ کا خواہاں ہوں۔ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھے (گناہوں سے) بچائے رکھ۔ اس لیے کہ اگر تیری مشیت شامل حال رہی تو کسی ایسے کام کا جسے تو مجھ سے ناپسند کرتا ہو مرتکب نہ ہوں گا۔

اے میرے پروردگار! اے مہربان، اسے نعمتوں کے بخشنے والے، اے جلالت و بزرگی کے مالک تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور جو کچھ میں نے مانگا اور جو کچھ طلب کیا ہے اور جخ چیزوں کے حصول کے لیے تیری بارگاہ کا رخ کیا ہے ان سے اپنا ارادہ، حکم اور فیصلہ متعلق کر اور انہیں جاری کر دے اور جو بھی فیصلہ کرے اس میں میرے لیے بھلائی قرار دے اور مجھے اس میں برکت عطا کر اور اس کے ذریعہ مجھ پر احسان فرما اور جو عطا فرمائے اس وسیلہ سے مجھے خوش بخت بنا دے اور میرے لیے اپنے فضل و کشائش کو جو تیرے پاس ہے زیادہ کر دے اس لیے کہ تو تو نگر و کریم ہے۔ اور اس کا سلسلہ آخرت کی خیر و نیکی اور وہاں کی نعمت فراواں سے ملا دے ۔ اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ۔ اس کے بعد جو چاہو دعا مانگو اور ہزار مرتبہ محمد (ص) اور ان کی آل (ع) پر درُود بھیجو کہ امام علیہ السلام ایسا ہی کیا کرتے تھے۔