ur

وداع ماہ رمضان کی دعا

[separator top=”-20″ bottom=”-40″ style=””]
پینتالیسویں دعا
45۔ وداع ماہ رمضان کی دعا

اے اللہ! اے وہ جو (اپنے احسانات کا) بدلہ نہیں چاہتا۔ اے وہ جو عطا و بخشش پرپشیمان نہیں ہوتا۔ اے وہ جو اپنے بندوں کو (ان کے عمل کے مقابلہ میں) نپا تلا اجر نہیں دیتا۔ تیری نعمتیں بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہیں اور تیرا عفو و درگزر تفصیل و احسان ہے۔ تیرا سزا دینا عین عدل اور تیرا فیصلہ خیرو بہبودی کا حامل ہے۔ تو اگر دیتا ہے تو اپنی عطا کو منت گزاری سے آلودہ نہیں کرتا اور اگر منع کر دیتا ہے تو یہ ظلم و زیادتی کی بنا پر نہیں ہوتا۔

جو تیرا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے شکر کی جزا دیتا ہے۔ حالانکہ تو ہی نے اس کے دل میں شکر گزاری کا القا کیا ہے اور جو تیری حمد کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے حالانکہ تو ہی نے اسے حمد کی تعلیم دی ہے اور ایسے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے رسوا کر دیتا اور ایسے شخص کو دیتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے نہ دیتا۔ حالانکہ وہ دونوں تیری بارگاہ عدالت میں رسوا و محروم کئے جانے ہی کے قابل تھے مگر تو نے اپنے افعال کی بنیاد تفضل و احسان پر رکھی ہے اور اپنے اقتدار کو عفو و درگزر کی راہ پر لگایا ہے اور جس کسی نے تیری نافرمانی کی تو نے اس سے بردباری کا رویہ اختیار کیا اور جس کسی نے اپنے نفس پر ظلم کا ارادہ کیا تو نے اسے مہلت دی، تو ان کے رجوع ہونے تک اپنے حلم کی بنا پر مہلت دیتا ہے اور توبہ کرنے تک انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تاکہ تیری نعمت کی وجہ سے بدبخت ہونے والا بدبخت نہ ہو مگر اس وقت کہ جب اس پر پوری عذرداری اور اتمام حجت ہو جائے ۔ اے کریم ! (یہ اتمام جحت) تیرے عفو و درگزر کا کرم اور اے بردباد تیری شفقت و مہربانی کا فیض ہے۔

تو ہی ہے وہ جس نے اپنے بندوں کے لیے عفو و بحشش کا دروازہ کھولا ہے اور اس کا نام توبہ رکھا ہے اور تو نے اس دروازہ کی نشان دہی کے لیے اپنی وحی کو رہبر قرار دیا ہے تاکہ وہ اس دروازہ سے بھٹک نہ جائیں۔ چنانچہ اے مبارک نام والے تو نے فرمایا ہے کہ’’ خدا کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو محو کردے اور تمہیں اس بہشت میں داخل کرے جس کے ( محلاّت و باغات کے ) نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اس دن جب خدا اپنے رسول (ص) اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلتا ہوگا اور وہ لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل فرما اور ہمیں بخش دے ۔ اس لیے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘‘۔ تو اب جو اس گھر میں داخل ہونے سے غفلت کرے جب کہ دروازہ کھولا اور رہبر مقرر کیا جاچکا ہے تو اس کا عذرو بہانہ کیا ہوسکتا ہے؟

تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے لین دین میں اونچے نرخوں کا ذمّہ لے لیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ وہ جو سودا تجھ سے کریں اس میں انہیں نفع ہو اور تیری طرف بڑھنے اور زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ چنانچہ تو نے کہ جو مبارک نام والا اور بلند مقام والا ہے ، فرمایا ہے : “جو میرے پاس نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کا مرتکب ہو گا تو اس کو برائی کا بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنی بُرائی ہے” اور تیرا ارشاد ہے کہ “جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس کے لیے چاہتا ہے دگنا کر دیتا ہے” اور تیرا ارشاد ہے کہ “کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو کئی گنا زیادہ کرکے ادا کرے” اور ایسی ہی افزائش حسنات کے وعدہ پر مشتمل دوسری آیتیں کہ جو تو نے قرآن مجید میں نازل کی ہیں۔

اور تو ہی وہ ہے جس نے وحی و غیب کے کلام اور ایسی ترغیب کے ذریعہ کہ جو ان کے فائدہ پر مشتمل ہے ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی کہ اگر ان سے پوشیدہ رکھتا تو نہ ان کی آنکھیں دیکھ سکتیں، نہ ان کے کان سن سکتے اور نہ ان کے تصورات وہاں تک پہنچ سکتے۔ چنانچہ تیرا ارشاد ہے کہ “تم مجھے یاد رکھو ۔ میں بھی تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو” اور تیرا ارشاد ہے کہ “اگر میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے” اور تیرا ارشاد ہے کہ “مجھ سے دعا مانگو تو میں قبول کروں گا ۔ وہ لوگ جو غرور کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے”۔

چنانچہ تو نے دعا کا نام عبادت رکھا اور اس کے ترک کو غرور سے تعبیر کیا اور اس کے ترک پر جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہونے سے ڈرایا ۔ اس لیے انہوں نے تیری نعمتوں کی وجہ سے تجھے یاد کیا، تیرے فضل و کرم کی بنا پر تیرا شکریہ ادا کیا اور تیرے حکم سے تجھے پکارا اور (نعمتوں میں) طلب افزائش کے لیے تیری راہ میں صدقہ دیا اور تیری یہ رہنمائی ہی ان کے لیے تیرے غضب سے بچاؤ اور تیری خوشنودی تک رسائی کی صورت تھی او رجن باتوں کی تو نے اپنی جانب سے اپنے بندوں کی رہنمائی کی ہے، اگر کوئی مخلوق اپنی طرف سے دوسرے مخلوق کی ایسی ہی چیزوں کی طرف رہنمائی کرتا تو وہ قابل تحسین ہوتا، تو پھر تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے۔ جب تک تیری حمد کے لیے راہ پیدا ہوتی رہے اور جب تک حمد کے وہ الفاظ جن سے تیری تحمید کی جاسکے اور حمد کے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں باقی رہیں۔

اے وہ جو اپنے فضل و احسان سے بندوں کی حمد کا سزاوار ہوا ہے اور انہیں اپنی نعمت و بخشش سے ڈھانپ لیا ہے ، ہم پر تیری نعمتیں کتنی آشکارا ہیں اور تیرا انعام کتنا فراواں ہے اور کس قدر ہم تیرے انعام و احسان سے مخصوص ہیں ۔ تو نے اس دین کی جسے منتخب فرمایا اور اس طریقہ کی جسے پسند فرمایا اور اس راستہ کی جسے آسان کر دیا ہمیں ہدایت کی اور اپنے ہاں قرب حاصل کرنے اور عزت و بزرگی تک پہنچنے کے لیے بصیرت دی۔

بارالٰہا ! تو نے ان منتخب فرائض اور مخصوص واجبات میں سے ماہ رمضان کو قرار دیا ہے جسے تو نے تمام مہینوں میں امتیاز بخشا اور تمام وقتوں اور زمانوں میں اسے منتخب فرمایا ہے اور اس میں قرآن اور نور کو نازل فرما کر اور ایمان کو فروغ و ترقی بخش کر اسے سال کے تمام اوقات پر فضیلت دی اور اس میں روزے واجب کئے اور نمازوں کی ترغیب دی اور اس میں شب قدر کو بزرگی بخشی جو خود ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پھر اس مہینہ کی وجہ سے تو نے ہمیں تمام امتوں پر ترجیح دی اور دوسری امتوں کے بجائے ہمیں اس کی فضیلت کے باعث منتخب کیا۔ چنانچہ ہم نے تیرے حکم سے اس کے دنوں میں روزے رکھے اور تیری مدد سے اس کی راتیں عبادت میں بسر کیں۔ اس حالت میں کہ ہم اس روزہ نماز کے ذریعہ تیری اس رحمت کے خواستگار تھے جس کا دامن تو نے ہمارے لیے پھیلایا ہے اور اسے تیرے اجر و ثواب کا وسیلہ قرار دیا اور تو ہر چیز کے عطا کرنے پر قادر ہے جس کی تجھ سے خواہش کی جائے اور ہر اس چیز کا بخشنے والاہے جس کا تیرے فضل سے سوال کیا جائے تو ہر اس شخص سے قریب ہے جو تجھ سے قرب حاصل کرنا چاہے۔

اس مہینہ نے ہمارے درمیان قابل ستائش دن گزارے اور اچھی طرح حق رفاقت ادا کیا اور دنیا جہان کے بہترین فائدوں سے ہمیں مالا مال کیا ۔ پھر جب اس کا زمانہ ختم ہوگیا، مدت بیت گئی اور کتنی تمام ہوگئی تو وہ ہم سے جدا ہوگیا۔ اب ہم اسے رخصت کرتے ہیں اس شخص کے رخصت کرنے کی طرح جس کی جدائی ہم پر شاق ہو اور جس کا جانا ہمارے لیے غم افزا اور وحشت انگیز ہو اور جس کے عہد وپیمان کی نگہداشت عزت و حرمت کا پاس اور اس کے واجب الا دا حق سے سبکدوشی ازبس ضروری ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں:

اے اللہ کے بزرگ ترین مہینے ، تجھ پر سلام ۔ اے دوستان خدا کی عید تجھ پر سلام۔

اے اوقات میں بہترین رفیق اور دنوں اور ساعتوں میں بہترین مہینے تجھ پر سلام۔

اے وہ مہینے جس میں امیدیں بر آتی ہیں اور اعمال کی فروانی ہوتی ہے۔ تجھ پر سلام۔

تجھ پر سلام اے وہ ہم نشین کہ جو موجود ہو تو اس کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے اور نہ ہونے پر بڑا دکھ ہوتا ہے اور اے وہ سر چشمہ امید و رجا جس کی جدائی الم انگیز ہے۔

تجھ پر سلام اے وہ ہمدم جو انس و دل بستگی کا سامان لیے ہوئے آیا تو شادمانی کا سبب ہوا اور واپس گیا تو وحشت بڑھا کر غمگین بنا گیا ۔

تجھ پر سلام۔ اے وہ ہمسائے جس کی ہمسائیگی میں دل نرم اور گناہ کم ہوگئے۔

تجھ پر سلام ۔ اے وہ مددگار جس نے شیطان کے مقابلہ مدد و اعانت کی، اے وہ ساتھی جس نے حسن عمل کی راہیں ہموار کیں۔

تجھ پر سلام ۔ ( اے ماہ رمضان ) تجھ میں اللہ تعالیٰ کے آزاد کئے ہوئے بندے کس قدر زیادہ ہیں اور جنہوں نے تیری حرمت و عزت کا پاس و لحاظ رکھا وہ کتنے خوش نصیب ہیں ۔

تجھ پر سلام تو کس قدر گناہوں کو محو کرنے والا اور قسم قسم کے عیبوں کو چھپانے والا ہے۔

تجھ پر سلام۔ تو گنہگاروں کے لیے کتنا طویل اور مومنوں کے دلوں میں کتنا پرہیبت ہے۔

تجھ پر سلام۔ اے وہ مہینے جس سے دوسرے ایّام ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

تجھ پر سلام۔ اے وہ مہینے جو ہر امر سے سلامتی کا باعث ہے۔

تجھ پر سلام۔ اے وہ جس کی ہم نشینی بار خاطر اور معاشرت ناگوار نہیں۔

تجھ پر سلام۔ جب کہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دیا۔

تجھ پر سلام ۔ اے وہ جسے دل تنگی کی وجہ سے رخصت نہیں کیاگیا اور نہ خستگی کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے۔

تجھ پر سلام۔ اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں۔

تجھ پر سلام۔ تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہوگئیں اور کتنی بھلائیوں کے سرچشمے ہمارے لیے جاری ہوگئے۔

تجھ پر سلام ( اے ماہِ رمضان ) اور اس شب قدر پر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

سلام ہو۔ ابھی کل ہم کتنے تجھ پروار فتہ تھے اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہوگی ۔

تجھ پر سلام ( اے ماہِ مبارک تجھ پر) اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہوگئے اور تیری گزشتہ برکتوں پرجو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں۔

سلام ہو اے اللہ! ہم اس مہینہ سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا اور اپنے لطف و احسان سے اس کی حق شناسی کی تو فیق دی جب کہ بدنصیب لوگ اس کے وقت (کی قدرومنزلت) سے بے خبر تھے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے اور تو ہی ولی و صاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کے لیے منتخب کیا اور اس کے احکام کی ہدایت فرمائی۔ بیشک تیری توفیق سے ہم نے اس ماہ میں روزے رکھے، عبادت کے لیے قیام کیا ۔ مگر کمی و کوتاہی کے ساتھ اور مشتے از خروار سے زیادہ نہ بجالاسکے ۔

اے اللہ ! ہم اپنی بداعمالی کا اقرار اور سہل انگاری کا اعتراف کرتے ہوئے تیری حمد کرتے ہیں اور اب تیرے لیے کچھ ہے تو وہ ہمارے دلوں کی واقعی شرمساری اور ہماری زبانوں کی سچی معذرت ہے۔ لہذا اس کمی و کوتاہی کے باوجود جو ہم سے ہوئی ہے ہمیں ایسا اجر عطا کر کہ اس کے ذریعہ دلخواہ فضیلت و سعادت کو پاسکیں او رطرح طرح کے اجر و ثواب کے ذخیرے جن کے ہم آرزومند تھے اس کے عوض حاصل کر سکیں اور ہم نے تیرے حق میں جو کمی و کوتاہی کی ہے، اس میں ہمارے عذر کو قبو ل فرما اور ہماری عمر آیندہ کا رشتہ آنے والے ماہِ رمضان سے جوڑ دے اور جب اس تک پہنچا دے تو جو عبادت تیرے شایان شان ہو اس کے بجالانے پر ہماری اعانت فرمانا اور اس اطاعت پر جس کا وہ مہینہ سزاوار ہے عمل پیرا ہونے کی توفیق دینا اور ہمارے لیے ایسے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا کہ جو زمانہ زیست کے مہینوں میں ایک کے بعد دوسرے ماہ، ماہِ رمضان میں تیری حق ادائیگی کا باعث ہوں۔

اے اللہ! ہم نے اس مہینہ میں جو صغیرہ یا کبیرہ معصیت کی ہو ، یا کسی گناہ سے آلودہ اور کسی خطا کے مرتکب ہوئے ہوں جان بوجھ کر یا بھولے چوکے ، خود اپنے نفس پر ظلم کیا ہو یا دوسرے کا دامن حرمت چاک کیا ہو ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے پردہ میں ڈھانپ لے اور اپنے عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دے اور ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کی وجہ سے طنز کرنے والوں کی آنکھیں ہمیں گھوریں اور طعنہ زنی کرنے والوں کی زبانیں ہم پر کھلیں اور اپنی شفقت بے پایاں اور مرحمت روز افزوں سے ہمیں ان اعمال پر کار بند کر کہ جو ان چیزوں کو برطرف کریں اور ان باتوں کی تلافی کریں جنہیں تو اس ماہ میں ہمارے لیے ناپسند کرتا ہے۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اس مہینہ کے رخصت ہونے سے جو قلق ہمیں ہوا ہے اس کا چارہ کر اور عید اور روزہ چھوڑنے کے دن کو ہمارے لیے مبارک قرار دے اور اسے ہمارے گزرے ہوئے دنوں میں بہترین دن قرار دے جو عفو و درگزر کو سمیٹنے والا اور گناہوں کو محو کرنے والا ہو اور تو ہمارے ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو بخش دے ۔

بارالٰہا! اس مہینہ کے الگ ہونے کے ساتھ تو ہمیں گناہوں سے الگ کر دے اور اس کے نکلنے کے ساتھ تو ہمیں برائیوں سے نکال لے اور اس مہینہ کی بدولت اس کو آباد کرنے والوں میں ہمیں سب سے بڑھ کر خوش بخت ، بانصیب اور بہرمند قرار دے ۔

اے اللہ!جس کسی نے جیسا چاہیے اس مہینے کا پاس و لحاظ کیا ہو اور کماحقہ اس کا احترام ملحوظ رکھا ہو اور اس کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہا ہو اور گناہوں سے جس طرح بچنا چاہیے اس طرح بچا ہو یا بہ نیت تقریب ایسا عمل خیر بجالایا ہو جس نے تیری خوشنودی اس کے لیے ضروری قرار دی ہو اور تیری رحمت کو اس کی طرف متوجہ کر دیا ہو تو جو اسے بخشے ویسا ہی ہمیں بھی اپنی دولت بے پایاں میں سے بخش اور اپنے فضل و کرم سے اس سے بھی کئی گنازائد عطا کر ۔ اس لیے کہ تیرے فضل کے سوتے خشک نہیں ہوتے اور تیرے خزانے کم ہونے میں نہیں آتے بلکہ بڑھتے ہی جاتے ہیں اور نہ تیرے احسانات کی کانیں فنا ہوتی ہیں اور تیری بخشش و عطا تو ہر لحاظ سے خوشگوار بخشش و عطا ہے۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جو لوگ روز قیامت تک اس ماہ کے روزے رکھیں یا تیری عبادت کریں ان کے اجر و ثواب کے مانند ہمار ے لیے اجر و ثواب ثبت فرما۔

اے اللہ ! ہم اس روز فطر میں جسے تو نے اہل ایمان کے لئے عید و مسرت کا روز اور اہل اسلام کے لیے اجتماع و تعاون کا دن قرار دیا ہے، ہر اس گناہ سے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہوں اور ہر اس برائی سے جسے پہلے کرچکے ہوں اور ہر بری نیت سے جسے دل میں لیے ہوئے ہوں اس شخص کی طرح توبہ کرتے ہیں جو گناہ کی طرف دوبارہ پلٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور نہ توبہ کے بعد خطا کا مرتکب ہوتا ہو۔ ایسی سچی توبہ جو ہر شک و شبہ سے پاک ہو ۔ تو اب ہماری توبہ کو قبول فرما، ہم سے راضی و خوشنود ہوجا اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھ ۔

اے اللہ! گناہوں کی سزا کا خوف اور جس ثواب کا تو نے وعدہ کیا ہے اس کا شوق ہمیں نصیب فرما تاکہ جس ثواب کے تجھ سے خواہش مند ہیں اس کی لذّت اور جس عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اس کی تکلیف و اذیت پوری طرح جان سکیں اور ہمیں اپنے نزدیک ان توبہ گزاروں میں سے قرار دے ، جن کے لیے توُ نے اپنی محبت کو لازم کردیا ہے اور جن سے فرمانبرداری و اطاعت کی طرف رجوع ہونے کو تو نے قبول فرمایا ہے، اے عدل کرنے والوں میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے ۔

اے اللہ ! ہمارے ماں باپ اور ہمارے تمام اہل مذہب و ملت خواہ وہ گزرچکے ہوں یا قیامت کے دن تک آیندہ آنے والے ہوں، سب سے در گزر فرما۔

اے اللہ ! ہمارے نبی محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت ناز ل فرما جیسی رحمت تو نے اپنے مقرب فرشتوں پر کی ہے اور ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے فرستادہ نبیوں پر نازل فرمائی ہے اور ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے نیکو کار بندوں پر نازل کی ہے۔ ( بلکہ ) اس سے بہتر و برتر۔ اے تمام جہان کے پروردگار ایسی رحمت جس کی برکت ہم تک پہنچے ، جس کی منفعت ہمیں حاصل ہو اور جس کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول ہوں ۔ اس لیے کہ تو ان لوگوں سے جن پر بھروسا کیا جاتا ہے، زیادہ بے نیاز کرنے والا ہے اور ان لوگوں سے جن کے فضل کی بنا پر سوال کیا جاتا ہے ، زیادہ عطا کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔