Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، توبہ چار ستونوں پر قائم ہے، دل سے پشیمانی، زبان سے استغفار، ظاہری اعضاء سے عمل اور اس بات کا پختہ ارادہ کہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا۔ بحارالانوار کتاب الروضۃ باب16حدیث74
سولہویں دعا

16۔ عذر وعفو تقصیر کے سلسلے میں دعا

اے خدا ! اے وہ جسے گنہگار اس کی رحمت کے وسیلہ سے فریاد رسی کے لیے پکارتے ہیں۔ اے وہ جس کے تفضل و احسان کی یاد کا سہارا بیکس و لاچار ڈھونڈتے ہیں۔ اے وہ جس کے خوف سے عاصی و خطاکار نالہ و فریاد کرتے ہیں۔ اے ہر وطن آوارہ و دل گرفتہ کے سرمایۂ انس، ہر غمزدہ و دل شکستہ کے غمگسار، ہر بے کس و تنہا کے فریاد رس اور ہر راندہ و محتاج کے دست گیر ، تو وہ ہے جو اپنے علم و رحمت سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے اور تو وہ ہے جس نے اپنی نعمتوں میں ہر مخلوق کا حصہ رکھا ہے۔ تو وہ ہے جس کا عفو و درگزر اس کے انتقام پر غالب ہے۔ تو وہ ہے جس کی رحمت اس کے غضب سے آگے چلتی ہے۔ تو وہ ہے جس کی عطائیں فیض و عطا کے روک لینے سے زیادہ ہیں۔ تو وہ ہے جس کے دامن وسعت میں تمام کائنات ہستی کی سمائی ہے۔ تو وہ ہے کہ جس کسی کو عطا کرتا ہے اس کے عوض کی توقع نہیں رکھتا۔ اور تو وہ ہے کہ جو تیری نافرمانی کرتا ہے اسے حد سے بڑھ کر سزا نہیں دیتا۔
خدایا! میں تیرا وہ بندہ ہوں جسے تو نے دعا کا حکم دیا تو وہ لبیک لبیک پکار اٹھا۔ ہاں تو وہ میں ہوں اے میرے معبود! جو تیرے آگے خاک مذلت پر پڑا ہے۔ میں وہ ہوں جس کی پشت گناہوں سے بوجھل ہوگئی ہے۔ میں وہ ہوں جس کی عمر گناہوں میں بیت چکی ہے۔ میں وہ ہوں جس نے اپنی نادانی و جہالت سے تیری نافرمانی کی۔ حالانکہ تو میری جانب سے نافرمانی کا سزاوار نہ تھا۔
اے میرے معبود! جو تجھ سے دعا مانگے آیا تو اس پر رحم فرمائے گا؟ تاکہ میں لگاتار دعا مانگوں یا جو تیرے آگے روئے اسے بخش دے گا؟ تاکہ میں رونے پر جلد آمادہ ہوجاؤں یا جو تیرے سامنے عجزو نیاز سے اپنا چہرہ خاک پر ملے اس سے درگزر کرے گا؟ یا جو تجھ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی تہی دستی کا شکوہ کرے اسے بے نیاز کر دے گا؟
بارالٰہا ! جس کا دینے والا تیرے سوا کوئی نہیں ہے، اسے نا امید نہ کر اور جس کا تیرے علاوہ اور کوئی ذریعہ بے نیازی نہیں ہے، اسے محروم نہ کر۔
خداوندا ! رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور مجھ سے رو گردانی اختیار نہ کر، جب کہ میں تیری طرف متوجہ ہوچکا ہوں اور مجھے ناامید نہ کر جب کہ تیری طرف خواہش لے کر آیا ہوں اور مجھے سختی سے دھتکار نہ دے جب کہ میں تیرے سامنے کھڑا ہوں۔ تو وہ ہے جس نے اپنی توصیف رحم و کرم سے کی ہے۔ لہذا محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو نے اپنا نام درگزر کرنے والا رکھا ہے لہذا مجھ سے درگزر فرما۔
بار الٰہا! تو میرے اشکوں کی روانی کو جو تیرے خوف کے باعث ہے ، میرے دل کی دھڑکن کو جو تیرے ڈر کی وجہ سے ہے اور میرے اعضاء کی تھر تھری کو جو تیری ہیبت کے سبب سے ہے، دیکھ رہا ہے۔ یہ سب اپنی بداعمالیوں کو دیکھتے ہوئے تجھ سے شرم و حیا محسوس کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تضرع و زاری کے وقت میری آواز رک جاتی ہے اور مناجات کے موقع پر زبان کام نہیں دیتی۔
اے خدا تیرے ہی لیے حمد و سپاس ہے کہ تو نے میرے کتنے ہی عیبوں پر پردہ ڈالا اور مجھے رسوا نہیں ہونے دیااور کتنے ہی میرے گناہوں کو چھپا یا اور مجھے بدنام نہیں کیا اور کتنی ہی برائیوں کا میں مرتکب ہوا مگر تو نے پردہ فاش نہ کیا اور نہ میرے گلے میں ننگ و عار کی ذلت کاطوق ڈالا اور نہ میرے عیبوں کی جستجو میں رہنے والے ہمسایوں اور ان نعمتوں پر جو مجھے عطا کی ہیں، حسد کرنے والوں پر ان برائیوں کو ظاہر کیا۔ پھر بھی تیری مہربانیاں مجھے ان برائیوں کے ارتکاب سے جن کا تو میرے بارے میں علم رکھتا ہے، روک نہ سکیں۔
تو اے میرے معبود ! مجھ سے بڑھ کر کون اپنی اصلاح و بہبود سے بے خبر، اپنے حظ و نصیب سے غافل اور اصلاح نفس سے دور ہو گا جبکہ میں اس روزی کو جسے تو نے میرے لیے قرار دیا ہے، ان گناہوں میں صرف کرتا ہوں جن سے تو نے منع کیا ہے اور مجھ سے زیادہ کون باطل کی گہرائی تک اترنے والا اور برائیوں پر اقدام کی جرأت کرنے والا ہوگا۔ جب کہ میں ایسے دورا ہے پر کھڑا ہوں کہ جہاں ایک طرف تو دعوت دے اور دوسری طرف شیطان آواز دے، تو میں اس کی کارستانیوں سے واقف ہوتے ہوئے اور اس کی شرانگیزیوں کو ذہن میں محفوظ رکھتے ہوئے اس کی آواز پر لبیک کہتا ہوں۔ حلانکہ مجھے اس وقت بھی یقین ہوتا ہے کہ تیری دعوت کا مآل جنت اور اس کی دعوت پرلبیک کہنے کا انجام دوزخ ہے۔
اللہ اکبر! کتنی یہ عجیب بات ہے جس کی گواہی میں خود اپنے خلاف دے رہا ہوں اور اپنے چھپے ہوئے کاموں کو ایک ایک کر کے گن رہا ہوں اور اس سے زیادہ عجیب تیرا مجھے مہلت دینا اور عذاب میں تاخیر کرنا ہے۔ اس لیے نہیں کہ میں تیری نظروں میں باوقار ہوں بلکہ یہ میرے معاملہ میں تیری بردباری اور مجھ پر تیرا لطف و احسان ہے تاکہ میں تجھے ناراض کرنے والی نافرمانیوں سے باز آجاؤں اور ذلیل و رسوا کرنے والے گناہوں سے دست کش ہو جاؤں اور اس لیے ہے کہ مجھ سے درگزر کرنا سزا دینے سے تجھے زیادہ پسند ہے، بلکہ میں تو اے میرے معبود! بہت گنہگار، بہت بد صفات و بد اعمال اور غلط کاریوں میں بیباک اور تیری اطاعت کے وقت سست گام اور تیری تہدید و سرزنش سے غافل اور اس کی طرف بہت کم نگران ہوں توکس طرح میں اپنے عیوب تیرے سامنے شمار کر سکتا ہوں یا اپنے گناہوں کا ذکر و بیان سے احاطہ کر سکتا ہوں اور جو اس طرح میں اپنے نفس کو ملامت و سرزنش کر رہا ہوں تو تیری اس شفقت و مرحمت کے لالچ میں جس سے گناہ گاروں کے حالات اصلاح پذیر ہوتے ہیں اور تیری اس رحمت کی توقع میں جس کے ذریعہ خطاکاروں کی گردنیں (عذاب سے ) رہا ہوتی ہیں۔ بار الٰہا ! یہ میری گردن ہے جسے گناہوں نے جکڑ رکھا ہے۔ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنے عفو و درگزر سے اسے آزاد کر دے اور یہ میری پشت ہے جسے گناہوں نے بوجھل کردیا ہے۔ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنے لطف و انعام کے ذریعہ اسے ہلکا کر دے۔
بارالٰہا! اگر میں تیرے سامنے اتنا روؤں کہ میری آنکھوں کی پلکیں جھڑ جائیں اور اتنا چیخ چیخ کر گریہ کروں کہ آواز بند ہوجائے اور تیرے سامنے اتنی دیر کھڑا رہوں کہ دونوں پیروں پر ورم آجائے اور اتنے رکوع کروں کہ ریڑھ کی ہڈیاں اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں اور اس قدر سجدے کروں کہ آنکھیں اندر دھنس جائیں اور عمر بھر خاک پھانکتا رہوں اور زندگی بھر گند لا پانی پیتا رہوںاور اس اثنا میں تیرا ذکر اتنا کروں کہ زبان تھک کر جواب دے جائے، پھر شرم و حیا کی وجہ سے آسمان کی طرف نگاہ نہ اٹھاؤں تو اس کے باوجود میں اپنے گناہوں میں سے ایک گناہ کے بخشے جانے کا بھی سزا وار نہ ہوں گا اور اگر تو مجھے بخش دے جب کہ میں تیری مغفرت کے لائق قرار پاؤں اور مجھے معاف کردے جب کہ میں تیری معافی کے قابل سمجھا جاؤں تو یہ میرے استحقاق کی بنا پر لازم نہیں ہوگا اور نہ میں استحقاق کی بنا پر اس کا اہل ہوں ۔ کیونکہ جب میں نے پہلے پہل تیری معصیت کی تو میری سزا جہنم طے تھی۔ لہذا تو مجھ پر عذاب کرے تو میرے حق میں ظالم نہیں ہوگا ۔ اے میرے معبود! جب کہ تو نے میری پردہ پوشی کی اور مجھے رسوا نہیں کیا اور اپنے لطف و کرم سے نرمی برتی اور عذاب میں جلدی نہیں کی اور اپنے فضل سے میرے بارے میں حلم سے کام لیا اور اپنی نعمتوں میں تبدیلی نہیں کی اور نہ اپنے احسان کو مکدر کیا ہے تو میری اس طویل تضرع و زاری اور سخت احتیاج اور مؤقف کی بد حالی پر رحم فرما۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے گناہوں سے محفوظ اور اطاعت میں سرگرم عمل رکھ اور مجھے حسن رجوع کی توفیق دے اور توبہ کے ذریعہ پاک کر دے اور اپنی حسن نگہداشت سے نصرت فرما اور تندرستی سے میری حالت سازگار اور مغفرت کی شیرینی سے کام و دہن کو لذت بخش اور مجھے اپنے عفو کا رہا شدہ اور اپنی رحمت کا آزاد کردہ قرار دے اوراپنے عذاب سے رہائی کا پروانہ لکھ دے اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں نجات کی ایسی خوش خبری سنا دے جسے واضح طور سے سمجھ لوں اور اس کی ایسی علامت دکھا دے جسے کسی شائبہ ابہام کے بغیر پہچان لوں اور یہ چیز تیرے ہمہ گیر اقتدار کے سامنے مشکل اور تیری قدرت کے مقابلہ میں دشوار نہیں ہے۔ بے شک تیری قدرت ہر چیز پر محیط ہے۔

 

 

 

فہرست صحیفہ کاملہ