Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی زین العابدین نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کو وہ شخص سخت ناپسند ہے جو کسی امام کی اقتدا کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس کے اعمال کی پیروی نہیں کرتا۔ اصول کافی باب کتاب الروضۃ حدیث312

چھٹا باب --------------------- بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص اور دیگر دعائیں اور اعمال۔

یہ باب چالیس امور پر مشتمل ہے:

پہلا امر

شیخ کلینی نے کافی میں امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ جوشخص سونے سے پہلے سورہ ہائے مسبحات یعنی سورہ حدید، حشر، صف ، جمعہ، تغابن اور اعلی کی تلاوت کرکے سوئے تو وہ حضرت امام العصر کی زیارت سے مشرف ہوئے بغیر نہیں مرے گا اور بغیر زیارت کئے مر جائے تو وہ حضرت رسول (ص) کے جوار میں رہے گا۔

دوسرا امر

اسی کتاب میں ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات آیۃ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیات اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیات تلاوت کیا کرے تو وہ اپنی جان و مال میں ایسی کوئی بات نہیںدیکھے گا جو اسے ناگوار گزرے شیطان اس کے قریب نہ پھٹکے گا اور نہ قرآن کو فراموش کرے گا۔

تیسرا امر

شیخ کلینی(رح) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ جو شخص سورہ قدر کو بآواز بلند پڑھے گا وہ ایسے ہوگا جیسے بے نیام تلوار سے راہ خدا میں جہاد کررہا ہو جو اس سورت کو آہستہ سے پڑھے گا وہ ایسے ہو گا جیسے راہ خدا میں اپنے خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ نیزجو شخص اس سورت کو دس مرتبہ پڑھے گا تو اﷲ تعالی اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ مٹا دے گا۔

چوتھا امر

شیخ کلینی نے بھی امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا .میرے والد گرامی فرمایا کرتے تھے کہ سورہ اخلاص قرآن کا تیسرا حصہ ہے اور سورہ کافرون قرآن کا چوتھا حصہ ہے ۔

پانچواں امر

امام موسی کاظم سے منقول ہے کہ جو شخص آیتہ الکرسی پڑھ کر سوئے تو فالج کے حملے سے محفوظ رہے گاانشاءاﷲ اور جو شخص اسے ہر فریضہ نماز کے بعد پڑھے تو زہریلا حیوان اس تک نہ پہنچ سکے گانیز فرمایا کہ جو شخص سورہ اخلاص کو اپنے اور ظالم شخص کے درمیان پڑھے گا تو حق تعالی اسے اس کے شر سے محفوظ رکھے گااس سورہ کو اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں پڑھے اور پھر اس ظالم و جابر کے سامنے جائے تو اﷲ تعالی اسے اس کی طرف سے اچھائی دکھائے گااور اس کی برائی سے بچائے گا‘یہ بھی فرمایا کہ جب تمہیں کسی بات کا خطرہ ہو تو قرآن مجید کی کوئی سی سو آیات پڑھو اور پھر تین مرتبہ کہو:

اکْشِفْ عَنِّی الْبَلائَ

اے معبود میری مصیبت دور کر دے

چھٹا امر

شیخ کلینی نے امام جعفرصادق سے روایت کی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا جو شخص خدا اورروز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اس سورے کو پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دے گا اور اس کو اس کے والدین اور اس کی اولاد کو بخش دے گا۔

ساتواں امر

آپ(ع) ہی سے روایت ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ و مامون رہے گا ۔

آٹھواں امر

آپ(ع) ہی سے روایت ہے کہ اگر مردہ پر ستر مرتبہ سورہ حمد پڑھی جائے اور اس کی روح پلٹ آئے تو تعجب نہیں کرنا چاہیے

نواں امر

امام موسیٰ کاظم سے روایت ہے کہ بچے پر ہر رات تین مرتبہ سورہ فلق تین مرتبہ سورہ والناس اور سو مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے اگر سورہ توحید سو مرتبہ نہ پڑھی جاسکے تو پچاس مرتبہ پڑھے اور اگر اس امر کی پابندی کی جائے تو وہ بچہ مرتے دم تک ہر قسم کی آفات سے امن میں رہے گا۔

دسواں امر

شیخ کلینی ہی نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ(ع) نے مفضل سے فرمایا اے مفضل تم خود کو تمام لوگوں سے بچائے رکھو بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور سورہ توحید کے ساتھ وہ یوں کہ تم یہ سورہ پڑھ کر اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے دم کر لیا کرو جب تم کسی جابر حاکم کے پاس جاؤ تو اسے دیکھتے ہی بائیں ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے تین مرتبہ یہ سورہ پڑھو اور جب تک تم اس کے پاس رہو اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی کو بند رکھو جب باہر آ جاؤ تو اسے کھول دو بعض نے کہا ہے کہ جب تک اس کے پاس رہو یہ سورہ پڑھتے رہو ۔

گیارہوں امر

ایک حدیث میں حضرت امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھے:

اَﷲُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتابَ

وہی اﷲ ہے جس نے قرآن نازل کی

وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ

وہ نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

وَمَا قَدَرُوا اﷲَ حَقَّ

لوگوں نے خدا کی وہ قدر نہیں کی جو

قَدَرِہِ وَالْاََرْضُ جَمِیعاً

اسکا حق ہے ساری زمین اسکے قبضہ

قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیامَۃِ

قدرت میں ہے روز قیامت اور

وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّات

آسمان بھی لپیٹے ہوئے اسکے دست

بِیَمِینِہِ سُبْحانَہُ وَتَعال

قدرت میں ہیں وہ پاک و بلند ہے

عَمَّا یُشْرِکُون۔

اس سے جسے اسکا شریک بناتے ہیں ۔

﴿سرکش گھوڑے کو مطیع کرنے کیلئے اس کے دائیں کان میں کہے:﴾

وَلَہُ ٲَسْلَمَ مَنْ فِی

اور خدا کے سامنے جھکے ہوئے ہیں

السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ

وہ سبھی جو آسمانوں اور زمین میں

طَوْعاً وَکَرْہاً وَ إلَیْہِ

ہیںچارو ناچار اور اس کی طرف

یُرْجَعُونَ۔

پلٹ جائیں گے۔

﴿درندوں کی سرزمین میں ان کی گزند سے بچنے کے لیے یہ پڑھے:﴾

لقد جَائَکُمْ رَسُولٌ

یقینا تمہارے پاس تم ہی میں سے

مِنْ ٲَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ

ایک رسول(ص) آ چکا ہے کہ تم پر آنے

عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ

والی سختی اسے ناگوار ہے وہ تمہیں

عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ

بہت چاہتا ہے مومنوں کیلئے نرم خو

رَؤُوفٌ رَحِیمٌ، فَ إنْ

مہربان ہے پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو

تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ

کہو کہ مجھے کافی ہے

اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ

اﷲ مگر نہیں معبود مگر وہی میں اسی پر

تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ

بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عظمت

الْعَرْشِ الْعَظِیمِ۔

والے عرش کا مالک ہے ۔

﴿گمشدہ بازیابی کے لیے دو رکعت نماز میں سورہ یٰسین پڑھے اور بعد میں یہ کہے:﴾

یَا ہادِیَ الضَّالَّۃِ رُدَّ

اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے

عَلَیَّ ضالَّتِی۔

میری گمشدہ چیز مجھے لا دے ۔

﴿بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کیلیے پڑھے:﴾

ٲَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ

یا جیسے گہرے سمندر میں تاریکیاں

لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ

کہ ا نہیں ڈھانپتی ہے پانی کی ایک

مِنْ فَوْقِہِ مَوْج الی قول عز وجل

کے بعد دوسری لہر

وَمَنْ لَمْ یَجْعَلِ اﷲُ

اور جسے خدا نور عطا نہ کرے تو

لَہُ نُوراً فَمَا لَہُ مِنْ نُور

اس کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا۔

﴿چور سے بچنے کے لیے بستر پر سوتے وقت پڑھے:﴾

قُلْ ادْعُوا اﷲَ ٲَوِ ادْعُو

کہہ دو کہ اﷲ کو پکارو یا رحمن کو پکارو

الرَّحْمٰنَ تا وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً

اوراس کی بہت بڑائی کرو

بارھواں امر

شیخ کلینی نے امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا سورہ زلزال کے پڑھنے میں تنگی محسوس نہ کرو کیونکہ جو شخص اسے نوافل میں پڑھے تو حق تعالی اسے زلزلے سے نقصان نہ پہنچنے دے گا۔ اور وہ مرتے دم تک زلزلے‘بجلی اور ہر قسم کی آفا ت سے محفوظ رہے گانیز اس شخص کی موت کے وقت ایک خوش جمال فرشتہ اس کے پاس آئے گا جو اس کے سرہانے بیٹھے گا اور ملک الموت سے کہے گا اے ملک الموت اﷲ تعالیٰ کے اس دوست کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو تا آخر روایت کہ مذکور ہے۔ اس وقت اس شخص کی آنکھوں سے پردے ہٹائے جائیں گے اور وہ جنت میں اپنی منزلوں کو دیکھ لے گا پھر بڑی سہولت کے ساتھ اس کی روح قبض کی جائے گی۔ سترہزار فرشتے اس کے جنازے کے پیچھے چلیں گے اور اسے سیدھا جنت میں لے جائیں گے ۔

تیرھواں امر

شیخ کلینی نے ہی امام محمدباقر سے روایت کی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایاسورہ ملک ’’سورہ مانعہ ‘‘ ہے یعنی عذاب قبر کو روکتی ہے۔

چودھواں امر

آنجناب(ع) ہی سے روایت ہے کہ قرآن مجید کا ایک نسخہ دریا میں گر گیا اور جب اسے وہاں سے نکالا گیا تو اس کے تمام کلمات میں سے صرف یہ جملہ باقی تھا۔

ٲَلا إلَی اﷲِ تَصِیرُ

خبر دار ہو کہ تمام معاملوں کی

الْاَُمُور۔

بازگشت اﷲ کی طرف ہے ۔

پندرھواں امر

شیخ کلینی نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ماہ رمضان کی دوسری تہائی میں قرآن کو کھول کر اپنے آگے رکھے اور پھر یہ کہے:

اَللّٰہُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں

بِکِتابِک الْمُنْزَلِ وَمَا

بواسطہ تیری نازل کردہ کتاب کے

فِیہِ وَفِیہِ اسْمُکَ

اور جو اس میں ہے اس میں تیرا

الْاََعْظَمُ الْاََکْبَرُ وَٲَسْمَاؤُکَ

سب سے عظیم سب سے بڑا نام ہے

الْحُسْنَی وَمَا یُخافُ

اور تیرے اچھے اچھے نام ہیں وہ چیز

وَیُرْجَی ٲَنْ تَجْعَلَنِی

بھی جس سے خوف وامید ہے میرا سوال

مِنْ عُتَقائِکَ مِنَ

ہے کہ تو مجھے اپنے جہنم سے آزاد

النَّارِ۔

کردہ لوگوں میں رکھ۔

اس کے بعد خدا سے اپنی دیگر حاجات طلب کرے۔

سولھواں امر

شیخ کفعمی مصباح میں اور محدث فیض خلاصۃ الاذکار میں فرماتے ہیں میں نے بعض کتب امامیہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ خواب میں پیغمبر (ص)یاامام (ع)کی زیارت کرے یا اپنے کسی رشتہ دار یا اپنے والدین کو خواب میں دیکھے تو وہ باوضو ہو کر اپنے بستر پر دائیں پہلو پر لیٹے اور سورہ ہائے شمس‘لیل‘قدر‘کافرون‘ اخلاص‘ فلق اور والناس کی تلاوت کرنے کے بعد سومرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور سو مرتبہ محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پردرود بھیجے اور پھر دائیں پہلو سوجائے تو جس کا بھی ارادہ کیا ہو گاانشائ اﷲ اسے خواب میں دیکھے گااور اس سے جو بات کرناچاہے وہ بھی کر پائے گا ایک اور نسخے میں دیکھا گیا ہے کہ یہ عمل سات راتوں تک بجا لائے اور مذکورہ سورتیں پڑھنے سے قبل یہ دعا پڑھے:

اَللّٰہُمَّ ٲَنْتَ الْحَیُّ

اے معبود تو وہ زندہ ہے جسکا وصف

الَّذِی لاَ یُوصَفُ

بیان نہیں ہو سکتا وہی جس سے

وَالْاِیمانُ یُعْرَفُ

ایمان کی معرفت ہوئی تجھی سے

مِنْہُ، مِنْکَ بَدَتِ

چیزوں کا آغاز ہوا اور وہ تیری

الْاََشْیائُ وَ إلَیْکَ

طرف پلٹ جائیں گی

تَعُودُ فَمَا ٲَقْبَلَ مِنْہا

پس جو تیری طرف آئے گا

کُنْتَ مَلْجَٲَہُ وَمَنْجاہُ

تو اس کو پناہ و نجات دے گا

وَما ٲَدْبَرَ مِنْہا لَمْ

اور جو منہ پھیرے گا اسکے لئے نہ تجھ

یَکُنْ لَہُ مَلْجَٲٌ وَلاَ

سے پناہ ہے نہ نجات مگر تیری

مَنْجَیً مِنْکَ إلاَّ

مگر تیری طرف سے

إلَیْکَ فٲَسْٲَلُکَ

پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں

بِلا إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ

میرے بر حق معبود ہو نے کے

وٲَسْٲَلُکَ بِبِسْمِ اﷲِ

واسطے سے سوال کرتا ہوں بسم اﷲ

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ

الرحمن الرحیم کے واسطے سے

وَبِحَقِّ حَبِیبِکَ

اور تیرے حبیب

مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ

حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ

عَلَیْہِ وَآلِہِ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ

علیہ وآلہ کے حق کے واسطے سے جو

وَبِحَقِّ عَلِیٍّ خَیْرِ

نبیوں کے سردار ہیں اور اوصیا میں

الْوَصِیِّینَ وَبِحَقِّ فاطِمَۃَ

بہترحضرت علی کے حق کے واسطے

سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ

سے تمام جہانوں کی عورتوں کی

وَبِحَقِّ الحَسَنِ

سردار حضرت فاطمہ (ع) کے حق اور حسن (ع)

وَالحُسَیْنِ اللَّذَیْنِ

و حسین (ع) کے حق کے واسطے سے سوال

جَعَلْتَہُما سَیِّدَیْ شَبابِ

کرتا ہوں کہ دونوں کو تو نے جوانان

ٲہْلِ الجَنَّۃِ عَلَیْہِمْ

جنت کاسردار قرار دیا ہے ان سب

ٲجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ ٲَنْ

پر درود و سلام ہو کہ تو

تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ

رحمت نازل فرما محمد(ص) و

وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ

آل (ع) محمد(ص) پر اور یہ کہ

تُرِیَنِی مَیِّتِی فِی

مجھے دکھا دے میرا فلاں مردہ

الْحالِ الَّتِی ہُوَ فِیہا۔

اس حال میں کہ جس میں وہ ہے ۔

سترھواں امر

خلاصۃ الاذکار میں ہے بعض کتب میں منقول ہے کہ میں نے محمد بن جریرطبری کی کتاب آداب الحمیدہ میں دیکھا ہے کہ حارث بن روح اپنے والد سے ناقل ہیں کہ میرے والد نے اپنی اولاد سے فرمایاکہ جب کوئی معاملہ تمہیں غمزدہ کرے تو تم میں سے ہرشخص اس طرح رات بسر کرے کہ پاکیزہ ہو کر پاک صاف بستر میں اپنی بیوی سے الگ ہو کے سوئے اور سوتے وقت سات مرتبہ سورہ شمس اور سات مرتبہ سورہ لیل پڑھے اور پھر کہے :

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ لِی مِنْ

اے معبود تو میرے لئے اس

ٲَمْرِی ہذَا فَرَجاً

معاملے کے سلجھانے اور اس سے

وَمَخْرَجاً۔

نکلنے کا راستہ بنا دے۔

چنانچہ جب کوئی شخص یہ عمل کرے گاتو اسی شب ایک فرد خواب میں اس کے پاس آئے گا یا تیسری یا پانچویں رات اور میرا خیال ہے کہ ساتویں رات میں آنے کا بھی کہا ہے پس وہ شخص اسے اس مشکل سے نکلنے کا طریقہ بتائے گا۔

مؤلف کہتے ہیں بعض بزرگوں نے سورہ والضحی اور سورہ الم نشرح کے پڑھنے کا بھی ذکر کیا ہے ۔جواہر المنثورہ میں ہے کہ جو شخص اپنا مدعا خواب میں دیکھنا چاہے تو وہ سوتے وقت سات سات مرتبہ یہ سورتیں پڑھے’’ سورہ شمس‘ واللیل‘ والتین‘اخلاص‘ فلق‘ والناس ‘‘ پھر حالت وضو میں پاک لباس میں پاک جگہ پر قبلہ رخ ہو کر دائیں پہلو پر لیٹے جیسے میت کو قبر میں لٹایا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی اپنے مقصد کے حصول کی نیت کرکے سو جائے اگر پہلی رات کوئی صورت نظر نہ آئے تو اس کے بعد کی راتوں میں ضرور نظر آجائے گی اور سات راتوں سے زیادہ وقت نہیں لگے گا نیز کہا جاتا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے ۔

اٹھارواں امر

خلاصۃ الاذکار میں فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت ہے کہ میں سونے کے لئے بستر بچھا رہی تھی کہ میرے والد گرامی محمد مصطفی تشریف لائے اور فرمایا اے فاطمہ(ع) اس وقت تک نہ سونا جب تک چار عمل بجا نہ لاؤ ﴿۱﴾ قرآن مجید کا ختم کرلو ﴿۲﴾انبیاء کو اپنا شفیع بنا لو ﴿۳﴾ مومنین کو خود سے راضی کر لو۔ ﴿۴﴾ حج اور عمرہ کو بجا لاؤ۔

اس ارشاد کے بعد آنحضرت (ص) نماز میں مشغول ہو گئے پس میں نے نماز سے آپ کے فارغ ہو نے کا انتظار کیا اور جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) آپ (ص)نے چار چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن یہ تو میرے بس سے باہر ہے کہ اسی وقت ان سب چیزوں کو بجا لاؤ؟تب آپ(ص) نے مسکراتے ہوئے فرمایا جب تم تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو گی تو گویا قرآن ختم کیا‘جب مجھ پر اور مجھ سے پہلے انبیا(ع)ئ پر صلوات بھیجو گی تو ہم سبھی انبیا(ع) قیامت میں تمہارے شفیع بن جائیں گے جب تمام مؤمنین کے لئے مغفرت طلب کرو گی تو سب تم سے راضی ہو جائیں گے اور جب کہو گی تو حج و عمرہ بجا لاؤ گی۔

سُبْحانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ

پاک ہے اﷲ تو حمد اﷲ ہی کیلئے نہیں

لِلّٰہِ، وَلاَ إلہَ إلاَّ اﷲُ،

کوئی معبود مگر اﷲ اور جب اﷲ

وَاﷲُ ٲَکْبَرُ۔

بزرگ تر ہے۔

مؤلف کہتے ہیں کفعمی نے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ

یَفْعَلُ اﷲُ مَا یَشائُ

خدا جو چاہتا ہے اپنی قدرت سے

بِقُدْرَتِہِ وَیَحْکُمُ مَا

انجام دیتا ہے اور جو ارادہ ہو اپنی

یُرِیدُ بِعِزَّتِہِ۔

عزت سے اس کا حکم جاری کرتا ہے۔

کہے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی ہو ۔

انیسواں امر

خلاصۃ الاذکار ہی میں مذکور ہے کہ وقت مطالعہ یہ دعا پڑھے :

اَللّٰہُمَّ ٲَخْرِجْنِی مِنْ

اے معبودتو مجھ کو وہم کی تاریکیوں

ظُلُماتِ الْوَہْمِ وَٲَکرِمْنِی

سے نکال اور عقل و فہم کے نور سے

بِنُورِ الْفَہْمِ اَللّٰہُمَّ

مجھے شرف عطا فرمااے معبود تو

افْتَحْ عَلَیْنا ٲَبْوابَ

ہمارے لئے اپنی رحمت کے

رَحْمَتِکَ، وَانْشُرْ

دروازے کھول دے اور اپنے علوم

عَلَیْنا خَزایِنَ عُلُومِکَ

کے خزانے ہم پر نچھاور کردے اپنی

بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ

رحمت کے ساتھ اے سب سے

الرَّاحِمِینَ۔

زیادہ رحم کرنے والے۔

بیسواں امر

روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام محمد تقی کی خدمت میں عریضہ بھیجاکہ میں بہت مقروض ہو گیا ہوں آنجناب(ع) نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو اور اپنی زبان کو سورہ انا انزلنا ہ کی تلاوت کے ساتھ ہمیشہ تر رکھو۔

اکیسواں امر

ایک حدیث میں وارد ہے کہ مفضل نے امام جعفر صادق کی خدمت میں سانس پھولنے کی شکایت کی اور بتایا کہ میں تھوڑی دور تک چلتا ہوں تو سانس رکنے لگتی ہے اور میں دم لینے کو بیٹھ جاتا ہوں حضرت (ع) نے فرمایا کہ تم اونٹ کا پیشاب پیو تو یہ تکلیف دور ہو جائیگی ایک اور حدیث میں ہے۔

بائیسواں امر

امیر المؤمنین سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ کا ایک شہر سے گزر ہوا جس کے تمام باشندوں کا رنگ زرد اور آنکھیں نیلی ہو چکی تھیں انہوں نے آپ(ع) سے بہت سی بیماریوں کی شکایت کی تو آپ(ع) نے فرمایا تم گوشت کو دھوے بغیر پکاتے ہو جب کہ کوئی بھی جانور اس دنیا سے نہیں جاتا جو حالت جنابت میں نہ ہو یہ سن کر ان لوگوں نے گوشت کو دھو کر پکانا شروع کر دیا اور ان کی تمام بیماریاں جاتی رہیں حضرت عیسٰی ایک او رشہر سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگوں کے دانت گر چکے تھے اور چہرے سوجے ہوئے تھے آپ(ع) نے ان سے فرمایا کہ تم سوتے وقت ایک مرتبہ اپنا منہ کھول کے پھر اسے بند کر کے سویا کرو پس انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا اور ان کی یہ بیماری دور ہو گئی۔

تیئسواں امر

امام محمد باقر سے منقول ہے کہ جب تم کسی مصیبت زدہ کو دیکھو تو نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ کہو :

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی

حمد ہے اس اﷲ کیلئے جس نے مجھے

عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ

بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اگر وہ

بِہِ وَلَوْ شائَ فَعَلَ۔

چاہتا تو ایسا کر دیتا۔

جو ایسا کرے وہ اس بلا میں مبتلا نہ ہوگا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ یہ کہو:

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی

حمد اس اﷲ کیلئے جس نے مجھے بچایا

عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ

جس نے تجھے مبتلا کیا اور مجھے تجھ پر

بِہِ وَفَضَّلَنِی عَلَیْکَ وَعَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ

اور اپنی بہت سی مخلوق پر

خَلَقَ۔

بڑھائی دی ہے

چوبیسواں امر

امام جعفر صادق کا ارشاد ہے کہ جب تمہاری زوجہ حاملہ ہو اور حمل پر چار مہینے گزر چکے ہوں تو اپنا منہ قبلہ رخ کر کے آیۃ الکرسی پڑھو اور پھر اس کے پہلو پر ہاتھ رکھ کر کہو اَللّٰھُمَّ اِنِّی سَمْیِتَہ، مُحَمَّد یعنی ﴿اے معبود میں نے اس بچے کا نام محمد رکھا ہے﴾ پس جو شخص بھی یہ عمل کرے گا اﷲ تعالی اسے بیٹا عطا فرمائے گا اگر وہ اس کا نام محمد رکھے گا تو وہ بچہ بڑا مبارک ہو گا اور اگر یہ نام نہیں رکھے گا تو خدا چاہے تو یہ بچہ اس سے لے لے گا اور چاہے تو اس کے پاس رہنے دے گا ۔

پچیسواں امر

روایت ہوئی ہے کہ عقیقہ کی بھیڑ بکری مینڈھا یا بکرا ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اﷲِ وَبِاﷲِ اَللّٰہُمَّ

خدا کے نام خدا کی ذات سے اے معبود

عَقِیقَۃٌ عَنْ فُلانٍ

یہ عقیقہ فلاں کی طرف سے ہے

فلاں کی جگہ اس بچے کانام لیں۔

لَحْمُہا بِلَحْمِہِ

اس کا گوشت اس کے گوشت کا

وَدَمُہا بِدَمِہِ وَعَظْمُہا

اسکا خون اسکے خون کا اسکی ہڈیاں اسکی

بِعَظْمِہِاَللّٰہُمَّ اجْعَلْہا

ہڈیوں کا بدلہ ہے اے معبود تو اسے

وِقائً لاَِلِ مُحَمَّدٍ

آل محمد کیلئے حفاظت کا ذریعہ بنا ان

عَلَیْہِ وَآلِہِ السَّلام۔

پر اور ان کی آل پر سلام ہو۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ یہ دعا پڑھے:

یَا قَوْمِ إنِّی بَرِیئٌ مِمَّا

اے میری قوم میں بری ہوں اس

تُشْرِکُونَ إنِّی وَجَّہْتُ

سیجسے تم خدا کا شریک بناتے ہو

وَجْہِیَ لَلَّذِی فَطَرَ

میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا

السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضَ

ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو

حَنِیفاً مُسْلِماً وَمَا

پیدا کیا میں نرا کھرا مسلمان ہوں

ٲَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ

اور مشرکوں میں سے نہیں

إنَّ صَلاتِی وَنُسُکِی

ہوں یقینا میری نماز میری عبادت

وَمَحْیایَ وَمَماتِی

میری زندگی میری موت اﷲ کیلئے

لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ لاَ

ہے جوجہانوں کا رب ہے جس کا

شَرِیکَ لَہُ وَبِذلِکَ

کوئی شریک نہیں یہی حکم مجھے دیا گیا

ٲُمِرْتُ وَٲَنَا مِنَ

ہے اور میں سر جھکانے والوں میں

الْمُسْلِمِینَ۔ اَللّٰہُمَّ

سے ہوں اے خدا

مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ

تیرے لئے اور تجھ سے ہے خدا کے

اﷲِ وَبِاﷲِ وَاللّہُ ٲَکْبَرُ

نام خدا کے ساتھ اور اﷲ بزرگ تر

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَی

ہے اے معبود رحمت نازل فرما

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

محمد(ص) و آل (ع)محمد(ص) پر

وَتَقَبَّلْ مِنْ فُلانِ ابْنِ فُلان

اور فلاں ابن فلاں سے قبول فرما۔

﴿یہاں بچے کا نام بمعہ ولدیت کے لے﴾پھر جانور کو ذبح کرے

عقیقہ کابیان

علامہ مجلسی فرماتے ہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اولاد کا عقیقہ کرنا سنت موکدہ ہے ہر اس شخص پر جو اس کیلئے وسعت رکھتا ہے اور بعض علمااسے واجب جانتے ہیں بہتر ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو بچے کے بالغ ہونے سے قبل تک تو اس کے باپ پر سنت ہے اور اس کے بعد خود اس بچے پر آخر عمر تک سنت ہے بہت سی معتبر احادیث میں وارد ہے کہ جس شخص کو اولاد عطا ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور اکثر حدیثوں میں منقول ہے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے یعنی اگر اس کا عقیقہ نہیں کیا جائے گا تو اس کے مر جانے یا طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ جو شخص مالدار ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور جو مفلس ہے جب مالدار ہو جائے تو عقیقہ کرلے ورنہ اس کے ذمہ کچھ نہیں ہے اگر والدین بچے کا عقیقہ نہ کریں لیکن پھر جب اس کی طرف سے قربانی کریں تو وہی کافی ہو جاتی ہے ایک اور حدیث میں مذکور ہے کہ امام جعفر صادق سے پوچھا گیا کہ عقیقہ کے لیے جانور کی بہت تلاش کی ہے لیکن مل نہیں سکا پس آپ(ع) اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اس کی قیمت صدقہ کردی جائے آپ(ع) نے فرمایا پھرتلاش کرو اور کہیں سے حاصل کرو کیونکہ حق تعالی خون بہانے اور کھانا کھلانے کو دوست رکھتا ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ امام(ع) سے پو چھا گیا کہ جو بچہ پیدائش کے ساتویں دن مرجا ئے تو کیا اس کاعقیقہ کرنا واجب ہے؟ فرمایا کہ اگر ظہر سے پہلے فوت ہوتو نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر ظہر کے بعد فوت ہو جائے تو اس کا عقیقہ کرنا چاہیے ایک معتبر حدیث میں عمر بن یزید سے منقول ہے کہ اس نے امام(ع) کی خدمت میں عرض کیا مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد نے میرا عقیقہ کیا ہے کہ نہیں؟ آپ (ع)نے فرمایا تم اپنا عقیقہ خود کروپس اس نے بڑھاپے میں اپنا عقیقہ کیا حدیث حسن میں آپ (ع) ہی سے منقول ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے عقیقہ کیا جائے اس کا سر منڈوایا جائے اور سر کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی جائے عقیقہ کے جانور کے ران اور پایے دایہ کو دیے جائیں کہ جس نے بچے کی پیدائش میں خدمت انجا م دی ہے باقی گوشت لوگوں کو کھلایا جائے اور تصدق کیا جائے ایک اور موثق حدیث میں فرماتے ہیں جب تمہارے ہاں لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو ساتویں دن اس کا عقیقہ کرواس کا نام رکھو اور اس کا سر منڈوا دو اور اسی روز اس کے سر کے بالوں کے برابر سونا چاندی صدقہ کر دوعقیقہ کا جانور گوسفند یا اونٹ ہو ایک اور حدیث میں ہے کہ عقیقہ کے گوشت کا چوتھا حصہ دایہ کو دیا جائے اگر بچہ دایہ کے بغیر پیدا ہو اہے تو وہ گوشت بچے کی ماں کو دیا جائے وہ جسے چاہے دے دے عقیقہ کا گوشت کم ازکم دس مسلمانوں کو کھلایا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو بہتر ہے لیکن یاد رہے کہ عقیقہ کے گوشت سے خود نہ کھائے اور دایہ اگر عیسائی ہے تو اسے چوتھائی گوشت کے بدلے اس کی قیمت دے دی جائے ایک اور روایت میں ہے کہ دایہ کو عقیقہ کے گوشت کی ایک تہائی دی جائے اور علمائ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ عقیقہ کا جانور اونٹ‘ بھیڑ یا بکری ہو نی چاہیے .امام محمد باقر سے منقول ہے کہ حضرات حسنین شریفین کی ولادت کے وقت رسول خدا (ص)نے ان کے کانوں میں اذان دی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علہیا نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور دایہ کو اس کے پائے اور ایک اشرفی عطا کی .ضروری ہے کہ عقیقہ کا جانور اگر اونٹ ہے توپانچ سال کا یا چھٹے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کا ہو اگر بکری ہے تو ایک سال کی یا دوسرے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کی ہو اور اگر بھیڑ ہے تو کم از کم چھ یا سات ماہ کی ہو نی چاہیے اور سات ماہ پورے ہو چکے ہوں تو بہتر ہے نیز جانور خصی نہ ہونا چاہیے اور سینگ ٹوٹا‘ کان کٹا‘ لاغر‘ اندھا اور لولاا لنگڑا نہ ہونا چاہیے اور اگر لنگڑا ہو تو ایسا نہ کہ چل پھر نہ سکے۔یاد رہے کہ امام جعفر صادق کے فرمان کے مطابق عقیقہ کا شمار قربانی میں نہیں ہوتا جو بھی گوسفندمل جائے بہتر ہے ‘اصل چیز تو گوشت ہے اور جانور جتنا موٹا تازہ ہو مناسب ہے علمائ میں مشہور قول یہ ہے کہ لڑکے کیلئے عقیقہ کا جانور اور لڑکی کیلئے مادہ ہونا چاہیے اور یہ حقیر مؤلف گمان کرتا ہے کہ دونوں کے لئے نرجانور ہو تو بہتر ہے اور یہ بات بہت سی معتبر حدیثوں سے مطابقت رکھتی ہے تاہم دونوں کیلئے مادہ جانور ہو نے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ بچے کے والدین عقیقہ کا گوشت نہ کھائیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ جو چیز اس میں پکائی جائے وہ بھی نہ کھائیں اور بچے کی ماں کا اس گوشت سے کھانا اشد مکروہ ہے بہتر ہے کہ بچے کے والدین خاندان جو اس گھر میں رہتے ہیں وہ بھی یہ گوشت نہ کھائیں یہ بھی سنت ہے کہ گوشت پکا کر کھلایا جائے اور کچا گوشت صدقہ میں نہ دیا جائے اس کے پکانے کی کم ازکم حد یہ کہ اسے نمک کے پانی میں پکایا جائے اور احتمال یہ ہے کہ یہی صورت بہتر ہے لیکن اگر کچا گوشت ہی تصدق کردیا جائے تو بھی بہتر ہے اگر عقیقہ کا جانور نہ مل سکے تو اس کی قیمت صدقے میں دینا بے فائدہ ہے بلکہ صبر کرناچاہیے یہاں تک کہ جانور مل جائے اور عقیقہ کر دیا جائے۔ اس میں شرط نہیں کہ جو لوگ کھانے میں آئیں وہ سب محتاج ہی ہوں بلکہ فقیروں کے ساتھ نیکوکار افراد کو بھی بلانا چاہیے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ عقیقہ کے گو شت میں اس کی ہڈیوں کو توڑنے کی کراہت ایک مشہور بات ہے اور روایت ہے

یکسر عظمھا و یقطع لحمھا و تصنع بھا بعد الذبح ما شئت۔

اس کی ہڈیاں توڑ دی جائیں گوشت کاٹا جائے اور ذبح کے بعد تم جیسے چاہو گوشت تیار کرو۔

اس کراہت کے منافی نہیں ہے۔ صاحب جواہر الکلام فرماتے ہیں کہ یہ بات جو اہل عراق میں مشہور ہے کہ عقیقہ کی ہڈیاں اکٹھی کر کے انہیں کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا مستحب ہے پس مجھے اس بارے میں کوئی نص نہیں مل سکی خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

چھبیسواں امر

امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ بچے کے ختنے کے وقت یہ دعا پڑھی جائے اگر اس وقت نہ پڑھی جاسکے تو لڑکے کے بالغ ہونے تک جب بھی موقع ملے دعا پڑھی جائے کہ اس طرح گرم لوہے سے مرنے اور اس سے پہنچنے والی دوسری تکلیفوں سے محفوظ رہتا ہے وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰہُمَّ ہذِہِ سُنَّتُکَ

اے معبود یہ تیرا طریقہ ہے اور

وَسُنَّۃُ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ

تیرے نبی(ص) کی سنت ہے تیری رحمت

عَلَیْہِ وَآلِہِ وَاتِّباعٌ

ہو ان(ص) پر اور ان کی آل (ع) پر ہماری

مِنَّا لَکَ وَلِنَبِیِّکَ

طرف سے تیری اور تیرے نبی(ص) کی

بِمَشِیئَتِکَ وَبِ إرادَتِکَ

اتباع ہے تیری مشیت اور

وَقَضائِکَ اََِمْرٍ ٲَرَدْتَہُ

تیرے ارادے اور تیر احکم بجا لانے

وَقَضائٍ حَتَمْتَہُ وَٲَمْرٍ

کے لئے جس کا تو نے ارادہ کیا

ٲَنْفَذْتَہُ وَٲَذَقْتَہُ حَرَّ

فیصلے کو یقینی بنایا اور حکم جاری کردیا

الْحَدِیدِ فِی خِتانِہِ

اور اس سے لوہے کی کاٹ اورزخم کی

وَحِجامَتِہِ بِٲَمْرٍ ٲَنْتَ

اذیت کا ذائقہ چکھایااس حکم سے

ٲَعْرَفُ بِہِ مِنِّی اَللّٰہُمَّ

جسے تو مجھ سے زیادہ پہچانتاہے اے معبود

فَطَہِّرْہُ مِنَ الذُّنُوبِ

پس اسے گناہوں سے پاک کر اس

وَزِدْ فِی عُمْرِہِ وَادْفَع

کی عمر میں اضافہ فرما اس

ِالْأَفاتِ عَنْ بَدَنِہِ

کے بدن سے آفتیں اور دکھ درد دور

وَالْاََوْجاعَ عَنْ جِسْمِہِ

کردے اس کو زیادہ مال عطا کر اور

وَزِدْہُ مِنَ الْغِنَیٰ وَادْفَعْ

محتاجی کو اس سے

عَنْہُ الْفَقْرَ، فَ إنَّکَ

دور رکھ کہ یقینا تو

تَعْلَمُ وَلاَ نَعْلَمُ۔

جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔

ستائیسواں امر

سید ابن طاؤس نے خطیب مستغفری کی کتاب ’’دعوات‘‘ اور اس نے رسول اﷲ(ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا جب تم کتاب اﷲ﴿قرآن ﴾ سے فال لینا چاہو تو تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو اور اس کے بعد محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر تین مرتبہ درود بھیجو اس کے بعد یہ کہو:

اَللّٰہُمَّ إنِّی تَفَٲَّلْتُ

اے معبود میں تیری کتاب سے

بِکِتابِکَ وَتَوَکَّلْتُ

فال لے رہا ہوں تجھی پر میرا بھروسہ

عَلَیْکَ فَٲَرِنِی مِنْ

ہے پس مجھے اپنی کتاب میں سے وہ

کِتابِکَ مَا ہُوَ مَکْتُومٌ

چیز دکھا جو پوشیدہ ہے تیرے چھپے

مِنْ سِرِّکَ الْمَکْنُونِ

ہوئے راز سے تیرے پردہ

فِی غَیْبِکَ۔

غیب میں۔

اس کے بعد کہ قرآن جامع کہ جس میں تمام سورتیں اور آیتیں ہوں اسے ہاتھ میں لے کر کھولو پھر صفحہ و سطر شمار کیے بغیرداہنی طرف کی پہلی سطر سے فال لو۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ مجلسی نے بعض علمائ کی تالیفات میں شیخ یوسف قطیفی کے خط سے اور انہوں نے آیۃ اﷲ علامہ کے خط سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا جب تم کتاب عزیز ﴿قرآن﴾سے استخارہ کرنے کا ارادہ کرو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے بعد یہ کہو:

إنْ کانَ فِی قَضائِکَ

الہی اگر تیرے حکم اور فیصلے میں یہ

وَقَدَرِکَ ٲَنْ تَمُنَّ عَلَی

بات ہے کہ شیعیان آل (ع) محمد(ص) پر

شِیعَۃِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِمُ

احسان فرمائے کشائش دے کر

اَلسَّلَامُ بِفَرَجِ وَلِیِّکَ

اپنے ولی اور اپنی حجت پر جو تیری

وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ

مخلوق کے لئے ہے

فَٲَخْرِجْ إلَیْنا آیَۃً

تو ظاہر فرما ہم پر ایسی آیت

مِنْ کِتابِکَ نَسْتَدِلُّ

اپنی کتاب سے جو اس

بِہا عَلَی ذلِکَ۔

پر ہماری دلیل بن جائے۔

پھر قرآن مجید کھولے اورو ہاں سے چھ صفحے شمار کرے پس ساتویں صفحے کی سطر پر نظر کرے اور اس سے مطلب اخذ کرے۔شیخ شہید (رح)نے اپنی کتاب ذکریٰ میں فرمایا ہے کہ استخاروں میں سے ایک استخارہ عدد ہے جو سید کبیر رضی الدین محمد بن محمدآلاوی مجاور روضہ امیر المؤمنین (ع) سے قبل مشہور نہ تھا ہم اس استخارے کو تمام روایتوں کے ساتھ اپنے مشائخ میں سے شیخ کبیر فاضل جمال الدین بن مطہر سے اور وہ اپنے واالد گرامی سے اور وہ سید رضی الدین مذکور سے اور وہ حضرت صاحب العصر (ع)سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ دس مرتبہ اس سے کم تین مرتبہ اور کم ازکم ایک مرتبہ اور پھر سورہ قدر دس مرتبہ پڑھے اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھے:

اَللّٰہُمَّ إنِّی ٲَسْتَخِیرُکَ

اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا

لِعِلْمِکَ بِعاقِبَۃِ الْاَُمُورِ

ہوںکہ تو معاملوں کے انجام کو جانتا

وَٲَسْتَشِیرُکَ لِحُسْنِ

ہے تجھ سے مشورہ کرتا ہوں کہ

ظَنِّی بِکَ فِی الْمَٲْمُولِ

امیدوں اور خطروں میں تجھ ہی سے

وَالَْمحْذُورِ۔ اَللّٰہُمَّ

حسن ظن ہے اے معبود

إنْ کانَ الْاََمْرُ الْفُلانِیّ

فلاں کام ان کاموں میں سے

مِمَّا نِیطَتْ بِالْبَرَکَۃِ

ہے کہ جن کے انجام میں برکت

ٲَعْجازُہُ وَبَوادِیہِ

ہے اور آغاز میں بھی

وَحُفَّتْ بِالْکَرامَۃِ

اور اس کے دن رات

ٲَیَّامُہُ وَلَیالِیہِ فَخِرْ

نفع سے بھر پورہیں

لِی اَللّٰہُمَّ فِیہِ خِیَرَۃً

تو اے معبود تو میرے لئے اس خیر کو

تَرُدُّ شَمُوسَہُ ذَلُولاً

اختیار کرجس سے سرکش مطیع ہو

وَتَقْعَضُ ٲَیَّامَہُ سُرُوراً

جائے اور دن خوشیوں سے بھر جائیں

اَللّٰہُمَّ إمَّا ٲَمْرٌ فَٲْتَمِرُ

اے معبود اگر کرنے کا حکم ہے تو

وَ إمَّا نَہْیٌ فَٲَنْتَہِی

کروں اور نہیں ہے تو رکا رہوں

اَللّٰہُمَّ إنِّی ٲَسْتَخِیرُکَ

اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا

بِرَحْمَتِکَ خِیَرَۃً

ہوں تیری رحمت سے ایسی خیر جس

فِی عافِیَۃٍ۔

میں آرام ہو۔

پھر تسبیح کے کچھ دانے مٹھی میں لے کر اپنی حاجت دل میں لائے اگر مٹھی میں لئے ہوئے دانوں کی تعداد جفت ہے تو یہ ’’افعل ‘‘﴿اس کام کے کرنے کا حکم﴾ اور طاق ہے تو یہ ’’لا تفعل‘‘﴿اس کام کے بجانہ لانے کا حکم ﴾ہے یا اس کے برعکس کہ طاق بہتر ہے اور جفت بہتر نہیں ‘یہ استخارہ کرنے والوں کی نیت سے وابستہ ہے ۔مؤلف کہتے ہیں ’’تقعض‘‘ضاد معجمہ کے ساتھ ہے جس کے معنی ہیں لوٹ جائے پلٹ جائے اور ہم نے نمازوںکے باب میں استخارہ ذات الرقاع اور دیگر اقسام کے استخاروں کاذکر کیا ہے لہذا انکی طرف رجوع کیا جائے جانناچاہیے کہ سید ابن طاؤس(رح) فرماتے ہیں ان کاخلاصہ کلام یہ ہے کہ مجھے اس بار ے میں کوئی صریح حدیث نہیں ملی کہ انسان کسی اور کیلئے بھی استخارہ کرسکتا ہے؟ لیکن مجھے ایسی بہت سی احادیث میں یہ بات ضرور نظر آتی ہے کہ دعاؤں اور توسل کے دیگر ذریعوں کے ساتھ اپنے مؤمن بھائیوں کی حاجات پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ روایات میں تو مؤمن بھائیوں کیلئے دعاکرنے کے اتنے فوائد بیان ہوئے ہیں کہ جن کے دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے چونکہ استخارے کا شمار بھی دعاؤں اور حاجتوں میں ہے اور جب کوئی شخص کسی سے استخارہ کرنے کو کہتا ہے تو گویااس کے سامنے اپنی حاجت پیش کر رہا ہوتا ہے اور جو استخارہ کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے استخارہ کرتا ہے تاکہ اسے بتائے آیا اس میں مصلحت ہے کہ اس سے کہے یہ کام کرو یا نہ کرو وہ اسے بتانا چاہتا ہے کہ اس کام کے کرنے میں مصلحت ہے یا اس کے نہ کرنے میں مصلحت ہے پس اس بات کا تعلق استخاروں اور حاجتوں کے پورا کرنے کے ضمن میں نقل شدہ روایات سے ہے کہ علامہ مجلسی (رح)کا ارشاد ہے کہ سید کا کلام دوسروں کے لئے استخارہ کرنے کے جواز میں قوت سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق عوامی ضرورتوں سے ہے خصوصا اس صورت میں جب استخارہ کرانے والے کا نائب اس چیز کا قصد کرے کہ وہ اس شخص کا نائب بن کر کہہ رہا ہے کہ اس کام کو انجام دو یا انجام نہ دو .جیسا کہ سید(رح)نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے یہ استخارے کو خاص روایات و اخبار کے تحت لانے کا ایک ذریعہ ہے تاہم زیادہ احتیاط اور زیادہ بہتری اسی میں ہے کہ صاحب حاجت اپنے لئے خود استخارہ کرے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی روایت نہیں ملی کہ جس میں استخارہ میں وکالت کو جائز قرار دیا گیا ہو اگر یہ عمل جائز یا قابل ترجیح ہوتا تو آئمہ کے اصحاب ان حضرات(ع) سے اس بارہ میں ضرور پوچھتے اور اگر پوچھا گیا ہوتا تو ضرور ہم تک یہ بات پہنچ جاتی اور کم ازکم ایک ہی ایسی روایت مل جاتی ہے ماسوائے اس کے کہ مضطر اور پریشان حال قبولیت دعا کے سلسلے میں فوقیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی دعا خلوص نیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

اٹھائیسواں امر

رسول اﷲ نے فرمایاجو شخص کسی یہودی یا عیسائی مجوسی کو دیکھے وہ یہ دعاپڑھے تو اﷲتعالی اسے اور اس کافر کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی

حمد ہے اﷲ کے لئے جس نے مجھے

فَضَّلَنِی عَلَیْکَ بِالْاِسْلامِ

تجھ پر فضیلت دی دین اسلام کے

دِیناً وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً

ساتھ کتاب قرآن کے ساتھ

وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ

پیغمبرمحمد(ص) کے ساتھ علی (ع) ایسے امام(ع)

إماما،ً وَبِالْمُؤْمِنِینَ

کے ساتھ مومنوں کی برادری کے

إخْوانا وَبِالْکَعْبَۃِ قِبْلَۃً

ساتھ اور کعبہ ایسے قبلہ کے ساتھ۔

مؤلف کہتے ہیں بہت سی آیات وروایات کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کے ساتھ محبت اور مشابہت پیدا نہ کریں اور نہ ہی ان کی روش کو اپنائیں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔

قَدْ کَانَ لَکُمْ ٲُسْوَۃٌ

جیسا کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے ضرور

حَسَنَۃٌ فِی إبْرَاہِیمَ

تمہارے لیے ابراہیم(ع) اور ان کے

وَالَّذِینَ مَعَہُ إذْ قَالُوا

ساتھیوں کے کردار میں بہترین نمونہ

لِقَوْمِہِمْ إنَّا بُرَأٰٓؤُا مِنْکُمْ

عمل ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ

وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ

ہم تم لوگوں سے بری ہیں اور خدا کے

دُونِ اﷲِ وَبَدَا بَیْنَنا

علاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور

وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ

ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کی

وَالْبَغْضَائُ ٲَبَداً۔

عداوت اور دشمنی ظاہر ہو چکی ہے۔

شیخ صدوق (رح) نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ ایک نبی (ع) کی طرف یہ وحی آئی کہ اے نبی مومنوں سے کہہ دو کہ میرے دشمنوں کا جیسا لباس نہ پہنو میرے دشمنوں جیسی خوراک نہ کھاؤ اور میرے دشمنوں کی روش پر نہ چلو ورنہ تم لوگ بھی میرے دشمن تصور کیے جاؤ گے جیسے وہ میرے دشمن ہیں اسی وجہ سے بہت سی روایتوں میں مذکور ہے کہ فلاں عمل کو بجا لاؤاور خود کو کفار کے مشا بہ نہ کرومثلا وہ روایت جو حضرت رسول اﷲ (ص)سے منقول ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا مونچھیں منڈواؤ اور داڑھی بڑھاؤ بس خود کو یہود ونصاری کے مشابہ نہ بناؤ کیونکہ نصاری اپنی داڑھیوں کو منڈواتے ہیں اور مونچھوں کو بڑھاتے ہیں جب کہ ہم داڑھی کو بڑھاتے اور مونچھوں کو کٹواتے ہیں چنانچہ جب حضرت رسول اﷲ کے تبلیغی مکتوب مختلف ملکوں کے بادشاہوں کو موصول ہوئے تو کسریٰ ﴿شاہ ایران﴾نے یمن میں اپنے گورنرباذان کو حکم بھیجا کہ وہ آنحضرت (ص) کو اس کے پاس روانہ کردے تب اس نے اپنے کاتب ۔بانویہ۔ اور ایک دوسرے شخص ۔خر۔خسک۔ کو مدینہ روانہ کیا ان دونوں نے داڑھیاں منڈوائی اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں ان کی یہ حالت آنحضرت (ص) کو نہایت ناگوار گزری اور آپ (ص) نے انہیں دیکھنا بھی گوارا نہ کیا آپ(ص)نے ان سے فرمایا: افسوس ہے تم پر کس نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم دیا؟ انہوں نے کہا ہمارے رب یعنی کسریٰ نے اس پر آپ(ص) نے فرمایا لیکن میرے رب ﴿پروردگار﴾ نے مجھے داڑھی رکھنے اور مونچھیں کاٹنے کاحکم دیا ہے نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اﷲ تعالی نے سورہ ہود میں فرمایا۔

وَلا تَرْکَنُوا إلَی الَّذیِنَ

ظالموں کی طرف میلان پیدا نہ کرو

ظَلَمُوا َتَمَسَّکُمُ النَّارُ

ورنہ جہنم کی آگ تمہیں لپیٹ میں

وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اﷲِ

لے گی اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی

مِنْ ٲَوْلِیَائَ ثُمَّ لاَ

مدد گار نہ ہوگااور پھر تمہاری مدد نہ کی

تُنْصَرُونَ۔

جائے گی۔

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ظالموں کی طرف تھوڑا ساجھکاؤ بھی پیدا نہ کرو چہ جائیکہ بہت سارا جھکاؤ پیدا کیا جائے کیونکہ اس سے جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی بعض مفسرین کا قول ہے کہ جس قسم کے جھکاؤ سے روکا گیا ہے وہ ظالموں کے ظلم میں شریک ہونا ان کاموں میں راضی اور ان سے محبت کااظہار کرنا ہے روایات اہل بیت (ع)میں وارد ہے کہ ۔رکون۔ سے مراد ان کے ساتھ محبت کرنا ان کی خیر خواہی اور ان کی اطاعت کرنا ہے :

انتیسواں امر

وہ انیس کلمات ہیں دعا مانگنے والے کی مصیبتوں کے دور ہونے کا سبب بنتے ہیں ‘یہ کلمات حضرت رسول (ص) نے امیر المؤمنین کو تعلیم فرمائے اور شیخ صدوق (رح) نے انہیں اپنی کتاب الخصال کے انیسویں باب میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہیں۔

یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ

اے اس کے سہارے ‘جس کا کوئی

لَہُ وَیَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ

سہارا نہیں اے اس کی پونچی جس کی

لَہُ وَیَا سَنَدَ مَنْ لا اَسَنَدَ

کوئی پونجی نہیں اے اسکے آسرے

لَہُ وَیَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ

جس کا کوئی آسرا نہیں اے اس کی

لَہُ وَیَا غِیاثَ مَنْ لاَ

پناہ جس کی کوئی پناہ نہیں اے اس

غِیاثَ لَہُ وَیَا کَرِیمَ

کے فریاد رس جس کا کوئی فریاد رس

الْعَفْوِ وَیَا حَسَنَ الْبَلائِ

نہیں اے خوب معاف کرنے

وَیَا عَظِیمَ الرَّجائِ وَیَا

والے اے بہتر آزمائش کرنے والے

عِزَّ الضُّعَفائِ، وَیَا

اے بڑے امید دلانے والے اے

مُنْقِذَ الْغَرْقَیٰ وَیَا

اے کمزوروں کی عزت اے

مُنْجِیَ الْہَلْکَیٰ یَا

ڈوبتوں کو بچانے والے اے

مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ

ہلاکتوں سے بچانے والے احسان

یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ

کرنے والے اے خوش رفتار اے

ٲَنْتَ الَّذِی سَجَدَ

نعمت دینے والے اے عطا کرنے

لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ

والے تو وہ ہے جسے سجدہ کرتے ہیں

وَنُورُ النَّہارِ، وَضَوْئُ

رات کی سیاہی دن کی روشنی ،چاند

الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ

کی چاندنی، سورج کی شعاعیں،

وَدَوِیُّ الْمائِ وَحَفِیفُ

پانی کیلہریں اور درختوں کی

الشَّجَرِ یَااﷲُ یَا اﷲ

حرکت یا اﷲ یا اﷲ

یَا اﷲُ ٲَنْتَ وَحْدَکَ

یا اﷲ تو ہی یکتا ہے

لاَ شَرِیکَ لَکَ۔

تیرا کوئی شریک نہیں ہے

پھر کہے:

اَللّٰہُمَّ افْعَلْ بِی کَذا وَکَذا۔

اے معبود میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔

﴿دعا میں کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات بیان کرے﴾۔

ابھی وہ شخض اپنی جگہ سے اٹھا نہ ہو گا کہ دعا قبول ہو چکی ہوگی انشاءاﷲ:

تیسواں امر

شیخ کفعمی نے مفاتیح الغیب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے پر لفظ’’بسم اﷲ‘‘ لکھے وہ ہلاکتوں سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کافر ہی ۔ہو کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالی نے فرعون کو اس لئے جلد ہلاک نہیں کیا اور اس کے دعویٰ ربوبیت کے باوجود اسے مہلت دی کہ اس نے اپنے محل کے بیرونی دروازے پر ’’بسم اﷲ‘‘ لکھی ہوئی تھی جب حضرت موسیٰٰ نے اس کی ہلاکت کے لئے دعا کی تو اﷲ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسی (ع)تم اس کے محل کو دیکھ رہے ہو اور میں اس کے دروازے پر نوشتے کو دیکھ رہا ہوں ۔

اکتیسواں امر

شیخ ابن فہد نے روایت کی ہے کہ ایک روز ابو دردائ کو بتایاگیا کہ تمہارا گھر جل گیا ہے اس نے کہا وہ نہیں جلا پھر ایک شخص نے بھی آکر یہی کہا اور اس نے وہی جواب دیا۔پھر ایک تیسرا شخص آیااور اس نے بھی گھر جلنے کی خبر دی لیکن ابو دردائ نے وہی جواب دیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے گھر کے اطراف میں سب گھر جل چکے تھے لیکن اس کا گھر محفوظ رہ گیا تھا لوگوں نے پوچھا تمہیں کہاں سے پتہ چلا کہ تمہاراگھر نہیں جلا؟ اس نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضرت رسول اﷲ(ص)سے سنا ہے کہ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے گا تو دن میں اس کا اور اگر شام کو پڑھے گا تو رات کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہو گااور میں آج صبح کو یہ دعا پڑھ چکا تھا:

اَللّٰہُمَّ ٲَنْتَ رَبِّی لا

اے معبود تو میرا رب ہے نہیں

إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ عَلَیْکَ

کوئی معبود مگر تو ہے میںتجھ پر

تَوَکَّلْتُ وَٲَنْتَ رَبُّ

بھروسہ کرتا ہوں توعظمت والے

الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَلاَ

عرش کا مالک ہے نہیں ہے

حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّبِاﷲِ

طاقتت وقوت مگر جو

الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ مَا شائَ

بلند و بزرگ خدا سے ہے خدا جو

اَﷲُ کانَ وَما لَمْ یَشَٲْ

چاہے ہو جاتا ہے اور جو

لَمْ یَکُنْ ٲَعْلَمُ ٲَنَّ اﷲَ

وہ نہ چاہے نہیں ہوتا میں جانتا ہوں

عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ

کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے

وَٲَنَّ اﷲَ ٲَحاطَ بِکُلِّ

اور یقینا اﷲ کے علم نے ہر

شَیْئٍ عِلْماً اَللّٰہُمَّ

چیز کو گھیرا ہوا ہے اے معبود

إنِّی ٲَعُوذُ بِکَ مِنْ

میں تیری پناہ لیتا ہوں

شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ

اپنے نفس کے شر سے

قَضائِ السُّوئِ، وَمِنْ

ہر بری شی کے شر سے

شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ، وَ

ہر شریر کے شر سے

مِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ

جنوں اور انسانوں کے شر سے اور

وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّۃٍ

ہرحیوان کے شر سے کہ جس کی مہار

ٲَنْتَ آخِذٌ بِناصِیَتِہا

تیرے ہاتھ میں ہے

إنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ

یقینا میرا رب سیدھے

مُسْتَقِیمٍ۔

راستے پر ملتا ہے ۔

بتیسواں امر

شیخ کلینی (رح)اور دیگر بزرگان نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپ (ع)نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم فرمائی کہ ہمارے شیعہ امام العصر (ع) کی غیبت میں اور پھر ان کی کشائش کے وقت یہ دعا پڑھا کریں:

اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ

اے معبود تو مجھے اپنی معرفت عطا کر کہ

فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی

یقینا اگر تو نے مجھے اپنی معرفت عطا

نَفْسَکَ لَمْ ٲَعْرِفْ

نہ فرمائی تو میں تیرے نبی کو نہ پہچان

نَبِیَّکَ اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی

پاؤ نگا اے معبود مجھے اپنے رسول (ص)کی

رَسُولَکَ، فَ إنَّکَ

معرفت عطاکر کہ یقینا اگر تو نے

إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ

مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ کرائی

لَمْ ٲَعْرِفْ حُجَّتَک

تو میں تیری حجت (ع)کو نہ پہچان پاؤنگا

اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ

اے معبود مجھے اپنی حجت کی معرفت

فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی

عطا کر کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت

حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ

کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین

عَنْ دِینِی۔

سے گمرا ہ ہو جاؤں گا۔

تینتیسواں امر

کتاب:عدۃ الداعی میں ہے کہ امیرالمؤمنین سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھے اور یہ کہے:

بِسْمِ اﷲِ وَضَعْتُ

اﷲ کے نام سے میں نے اپنا پہلو

جَنْبِی لِلّٰہِ، عَلَی مِلَّۃِ

اﷲ کے لئے رکھ دیا ہے ملت

إبْراہِیمَ وَدِینِ مُحَمَّدٍ

ابراہیم اور حضرت محمد صلی اﷲ

صلی اﷲ علیہ وآلہ

علیہ وآلہ وسلم کے دین پر

وسلم وَوِلایَۃِ مَنِ

اور ان کی ولایت پرجن کی اطاعت

افْتَرَضاﷲُ طاعَتَہُ

اﷲ نے واجب ٹھہرائی ہے جو اﷲ

مَاشَائَ اﷲُ کانَ وَما لَمْ

چاہے ہو جاتا ہے اور جو وہ نہ چاہے

یَشَٲْ لَمْ یَکُنْ۔

نہیں ہوتا۔

پس جو شخص سوتے وقت اس دعا کو پڑھے اﷲ تعالی اسے چور ڈاکو اور چھت تلے دبنے سے محفوظ رکھے گااور فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔

چونتیسواں امر

کتاب عدۃ الداعی میں ہے کہ ہر وہ چیز جو پوشیدہ طور پر استعمال کیلئے رکھی گئی ہے اس پر سورہ قدر کاپڑھنااسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے اور یہ بات آنجناب (ص)ہی سے روایت ہوئی ہے:

پینتیسواں امر

امیرالمؤمنین سے منقول ہے کہ جوشخص قرآن مجید میں سے کوئی سی سو آیات پڑھے پھر سات مرتبہ یا اﷲ کہے تو اگر وہ یہ عمل کسی پتھر پر بھی کرے گاتو اسے حق تعالی توڑ دے گا۔

چھیتسواں امر

امیرالمومنین ہی سے منقول ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے پچاس ہزار فرشتے بھیجے گا جو رات بھر اس کی پاسبانی کرتے رہیں گے. امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ جس شخص پر پورا دن گزر جائے اور وہ اپنی کسی بھی نماز میں سورہ اخلاص نہ پڑھے تو قیامت میں اس سے کہا جائے گا کہ اے بندے! تو نمازگذاروں میں سے نہیں تھا انہی جناب سے منقول ہے کہ جو شخص سات دنوں میں سورہ اخلاص ﴿ایک مرتبہ بھی﴾ نہ پڑھے اور مرجائے تو وہ ابولہب کے دین پر مرے گا۔ آپ(ع) ہی سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مرض یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور اس وقت سورہ اخلاص نہ پڑھے تو وہ اہل جہنم سے ہوگا۔

سینتیسواں امر

عدۃ الداعی میں منقول ہے کہ اس تعویذ کو لکھ کر خربوزہ، خیار اور دوسری فصلوں کے لیے لٹکائے تو وہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں سے محفوظ رہیں گی اس کی کیفیت یہ ہے کہ اسے کپڑے کے چار ٹکڑوں پر لکھے اور لکڑی کے ساتھ باندھ کر کھیت کے چاروں کونوں پر نصب کر دے وہ تعویذ یہ ہے:

ٲَیُّہَا الْدُوْذُ ٲَیُّہَا

اے کیڑے

الدَّوابُّ وَالْہَوامُّ

مکوڑو! اے جانوروں

وَالْحَیْواناتُ اخْرُجُوا

چرندو! اے جاندارو!

مِنْ ہذِہِ الْاََرْضِ

اس زمین اور اس کھیت

وَالزَّرْعِ إلَی الْخَرابِ

سے نکل کر ویرانے میں چلے جاؤ

کَما خَرَجَ ابْنُ مَتَّ

جیسے یونس ابن متیٰ

مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ

مچھلی کے پیٹ سے نکلے تھے

فَ إنْ لَمْ تَخْرُجُو

پس اگر تم پر نہ نکلے

ٲَرْسَلْتُ عَلَیْکُمْ شُواظاً

تو میں پر آگ اور تابنے

مِنْ نارٍ وَنُحاسٍ فَلا

کے شعلے بھیجوں گا پھر

تَنْتَصِرانِ ٲَلَمْ تَرَ إلَی

تمہاری مدد نہیں کی جائے گی آیا

الَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ

تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو

دِیارِہِمْ وَہُمْ ٲُلُوفٌ

گھروں سے نکلے ہزاروں

حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ

کی تعداد میں موت سے ڈر کے تو

لُہُمُ اﷲُ مُوتُوا فَماتُوا

اﷲ نے ان سے فرمایا کہ مرجاؤ

اخْرُج مِنْہا فَ إنَّکَ

پس وہ مرگئے تم یہاں سے نکل جاؤ

رَجِیمٌ، فَخَرَجَ مِنْہا

کیونکہ تم راندہ درگاہ ہو . تو وہ وہاں

خائِفاً یَتَرَقَّبُ سُبْحانَ

سے ڈرتا ہوا نکلا پاک ہے وہ اﷲ

الَّذِی ٲَسْرَی بِعَبْدِہِ

جس نے اپنے بندے کو راتوں

لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِد

رات سیر کرائی مسجد

الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِد

حرام سے مسجد اقصیٰ

الْاََقْصَیکَٲَنَّہُمْ یَوْم

تک گویا جس دن وہ

یَرَوْنَہا لَمْ یَلْبَثُوا

اسے دیکھیں گے تو نہیں ٹھہریں

إلاَّ عَشِیَّۃً ٲَوْ ضُحَاہَا

گے مگر شام یا ظہر تک

فَٲَخْرَجْناہُمْ مِنْ جَنَّاتٍ

پس ہم نے نکالا ان کو باغوں

وَعُیُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ

چشموں کھیتوں حویلیوں

کَرِیمٍ، وَنَعْمَۃٍ کانُوا

اور نعمتوں سے جن

فِیہا فاکِہِینَ۔ فَما

میں وہ خوش تھے تو نہ ان پر

بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمائُ

آسمان رویا اور نہ زمین

وَالْاََرْضُ وَما کانُوا

اور نہ ان کو مہلت ملی

مُنْظَرِینَ اُخْرُجْ مِنْہا

تو یہاں سے نکل

فَما یَکُونُ لَکَ ٲَنْ

جا تجھے یہ حق نہیں کہ اس

تَتَکَبَّر فِیہا فَاخْرُجْ

میں تکبر کیا کرے پس نکل جا کہ

إنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ

تو پست لوگوں میں سے ہے

اخْرُجْ مِنْہا مَذْؤُوما

اس جگہ سے نکل جا بدحال

مَدْحُوراً فَلَنَٲْتِیَنَّہُمْ

و مردود ہوکر پس ہم ان پر وہ لشکر

بِجُنُودٍ لاَ قِبَلَ لَہُمْ

لائیں گے جن کا سامنا کر سکیں اور

وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِنْہا

ضرور ہم انہیں وہاں سے

ٲَذِلَّۃً وَہُمْ صاغِرُونَ۔

ذلیل و خوار کر کے نکالیں گے۔

اڑتیسواں امر

سید ابن طاؤس(رح) نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ہو تو وہ کسی اور چیز کی طرف نظر کرنے سے پہلے انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف پھیرے اور اس پر نگاہ رکھ کر سورہ قدر کو پڑھے اور اس کے بعد کہے:

آمَنْتُ بِاﷲِ وَحْدَہُ لاَ

میں ایمان رکھتا ہوں اﷲ پر جو یکتا ہے

شَرِیکَ لَہُ وَکَفَرْتُ

کوئی اس کاشریک نہیں انکار کرتا

بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ

ہوں بت اور طاغوت کا

وَآمَنْتُ بِسِرِّ آلِ

ایمان رکھتا ہوںآل(ع) محمد(ص)(ص) کے

مُحَمَّدٍوَعَلانِیَتِہِمْ

نہاں و عیاں پر ان کے ظاہر پر

وَظاہِرِہِمْ وَباطِنِہِمْ

اور ان کے باطن پر ان کے

وَٲَوَّلِہِمْ وَآخِرِہِمْ۔

اول پر اوران کے آخری پر۔

پس جو شخص یہ عمل کرے گا تو خدائے تعالیٰ اس دن کی شام تک آسمان سے اتر نے والی چیزوں اور آسمان کی طرف جانے والی چیزوں، زمین میں داخل ہونے والی چیزوں اور زمین سے نکلنے والی چیزوں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور خدا اور دوستان خدا کی حفاظت میں رہے گا .

انتالیسواں امر

شیخ کفعمی(رح) نے کتاب جمع الشتات سے امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم ہماری کوئی حدیث بیان کرنا چاہتے ہو ،لیکن شیطان تمہیں اس میں بھلا دیتا ہے . پس اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھو اور یہ کہو:

صَلَّی اﷲُ عَلَی مُحَمَّدٍ

خدا رحمت کرے محمد(ص)(ص) اور ان کی آل(ع) پر

وَآلِہِ اَللّٰہُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ

اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں.

یَا مُذَکِّرَ الْخَیْرِ وَفاعِلَہُ

اے خیر کو یاد دلانے اس پر عمل

وَالْاَمِرَ بِہِ ذَکِّرْنِی

کرنے والے اور اس کا حکم دینے

مَا ٲَنْسانِیہِ الشَّیْطانُ

والے مجھے یاد دلا جو شیطان

من لا یحضرہ۔

نے مجھے بھلا دیا ۔

نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا

. نیز کتاب ’’مَنْ لَا یَحضرہ الفقیہ‘‘ میں امام جعفر صادق سے منقول ہے جو شخص نماز میں بہت زیادہ بھولتا ہو تو اسے چاہیئے کہ جب بیت الخلا میں جائے تویہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اﷲِ ٲَعُوذُ بِاﷲِ

خدا کے نام سے خدا کی پناہ لیتا ہوں

مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ

پلید نجس خبیث

الْخَبِیثِ الْمُخْبِثِ

آلودہ کرنے والے

الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ۔

راندے ہوئے شیطان سے۔

قوت حافظہ کی دوا اور دعا

مولف کہتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حافظہ زیادہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ مسوا ک کرے ، روزہ رکھے ، قرآن کی اور خاص کر آیت الکرسی کی تلاوت کرے، ناشتے میں کشمش خصوصاً سرخ کشمش کے اکیس دانے پابندی سے کھائے . یہ چیز فہم حافظہ اور ذہن کے لیے بہت ہی مفید ہے . اسی طرح حلوہ ، جانور کی گردن کے قریب کا گوشت ، شہد اور مسور کا کھانا بھی ترقی حافظہ کا موجب ہوتا ہے یہ بھی منقول ہے کہ تجربہ شدہ دواؤں میں سے ایک یہ ہے کہ کندر، سعد اور شکر مساوی مقدار میں لے کر آہستہ آہستہ کوٹ کر سفوف بنالیا جائے اور اسے پانچ درہم کی مقدار میں ہر روز کھائے . لیکن اس طرح کہ لگا تار تین دن کھائے اور پانچ دن کا ناغہ کرے . نیز صبح کی نماز کے بعد کسی سے بات کیے بغیر یہ کہے:

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ، فَلا

اے زندہ! اے پایندہ! جس کے علم

یَفُوتُ شَیْئاً عِلْمُہُ

سے کوئی چیز نکل نہیں پاتی نہ اسے

وَلاَ یَؤُدُہُ۔

تھکاتی ہے

نیز ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:

سُبْحانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی

پاک ہے وہ اپنے زیر حکومت

عَلَی ٲَہْلِ مَمْلِکَتِہِ۔

لوگوں پر زیادتی روا نہیں رکھتا۔

پھر وہ نماز پڑھے جو ہم نے دوسرے باب میں قوت حافظہ کے لیے لکھی ہے نیز ایسی چیزوں سے پرہیز کرے جو سہو و نسیان کا موجب ہوتی ہیں اور وہ یہ ہیں کھٹا سیب، سبز دھنیا، پنیر اور چوہے کا جھوٹا کھانا، کھڑے پانی میں پیشاب کرنا ، قبروں کی تختیوں کو پڑھنا ، دو عورتوں کے درمیان سے گزرنا، جو ئیں پکڑ کر زندہ چھوڑ دینا، ناخن نہ کٹوانا ، دنیوی امور میں بہ کثرت مشغول اور ان کے لیے مغموم رہنا ، سولی پر چڑھے ہوئے شخص کو دیکھنا اور اونٹوں کی قطار کے درمیان سے گزرنا۔

چالیسواں امر

شیخ ابن فہد(رح) نے امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: ہر وہ دعا جس کے آغاز میں خدا کی تمجید و بزرگی اور ثنا و تعریف نہ ہو وہ ابتر و ناکام ہوتی ہے پہلے خدا کی تمجید ہوتی ہے پھر ثنا اور تعریف ہوتی ہے، راوی نے پوچھا کم سے کم تمجید کیا ہے جو کافی ہو سکتی ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا:یوں کہا کرو:

اَللّٰہُمَّ ٲَنْتَ الْاََوَّلُ فَلَیْسَ

اے معبود! تو ایسا اول ہے کہ

قَبْلَکَ شَیْئٌ وَٲَنْتَ

تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی تو

الْاَخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ

ایسا آخر ہے کہ تیرے بعد

شَیْئٌ وَٲَنْتَ الظَّاہِرُ

کوئی چیز نہ ہوگی تو ایسا ظاہر

فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ

ہے کہ تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں

وَٲَنْتَ الْباطِنُ فَلَیْسَ

تو ایسا باطن ہے کہ تجھ سے

دُونَکَ شَیْئٌ وَٲَنْتَ

نیچے کوئی چیز نہیں اور

الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔

تو غالب ہے حکمت والا.

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد