Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، تہمت کے مقامات اور بدگمانی کی محفل میں جانے سے بچو، کیونکہ برے انسان کا ساتھی، اپنے ہم نشین سے پہچانا جاتا ہے۔ بحارالانوار تتمہ کتاب تاریخ امیرالمومنین ؑ باب127 حدیث1

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

تیسرا باب

باب زیارات

اس باب میں ایک مقدمہ، چند فصلیں اور خاتمہ بیان کیا جائے گا۔

(مقدمہ) --------------------------------------

یہ سفر کے آداب سے متعلق ہے سفر شروع کرنے سے پہلے بدھ، جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھے اور ہفتہ، منگل یا جمعرات کو سفر پر نکلے سوموار اور بدھ کو سفر نہ کرے۔ نیز جمعہ کے دن بھی ظہر سے پہلے سفر پر نہ جائے۔ اس کے علاوہ ہر ماہ ان تاریخوں میں سفر نہ کرے جو درج ذیل اشعار میں ذکر ہیں:

ھفت روزی نحس باشد در مھی

زاں حذرکن تانیابی ھیچ رنج!

سہ وپنج وسیزدہ باشانزدہ

بیست ویک بیست وچھار بیست وپنج

ہر مہینے کی سات تاریخیں، تین، پانچ، تیرہ،سولہ،اکیس،چوبیس اور پچیس سفر کیلئے نحس ہیں ان میں سفر نہ کریں تاکہ سفر کی وجہ سے کسی مصبیت کا شکار نہ ہوں۔

اسی طرح ہر مہینے کے آخری دن جن میں چاند ڈوبا رہتا ہے اور جب قمر در عقرب ہوتا ہے ان دنوں میں بھی سفر نہ کریں۔ ان ایام میں سفر کرنا نامناسب اور ممنوع ہے البتہ اگر ان دنوں میں کسی اشد ضرورت کے تحت سفر کرنا پڑے تو سفر کی دعائیں پڑھیں اور صدقہ دے کر سفر کریں تو انشا اﷲ کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔

روایت میں ہے کہ امام محمدباقر کے اصحاب میں سے ایک شخص نے سفر کا قصد کیا اور الوداع کرنے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو ا آپ نے اس سے فرمایا کہ میرے والد ماجد امام زین العابدین جب اپنی کسی املاک وجائیداد کی طرف جانے کی خاطر سفر کا قصد کرتے تو آسان تر خیر ونیکی کے بدلے میں خدا سے اپنی سلامتی خرید لیتے، یعنی جتنا ہوسکے صدقہ دے دیتے تھے۔ یہ صدقہ آپ اس وقت دیتے جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھ لیتے اور جب سفر سے سلامتی کیساتھ واپس آتے تو اﷲ کا شکر ادا کرتے اور پھر جتنا ممکن ہوتا صدقہ دیتے تھے، وہ شخص آپ کے ہاں سے رخصت ہوا، لیکن اس نے آپ کے فرمان پر عمل نہ کیا اور وہ راستے میں ہلاک ہوگیا۔ جب امام محمد باقر کو یہ خبر ملی تو فرمایا کہ اس شخص کو نصیحت کی گئی تھی،اگر وہ اس نصیحت کو مان لیتا تو اس ہلاکت سے بچ جاتا۔

سفر پر جانے سے قبل غسل کرنا بھی ضروری ہے غسل کے بعدپھر اپنے اہل وعیال کو جمع کرکے دو رکعت نماز ادا کرے اور حق تعالیٰ سے اپنی خیریت کی دعا مانگے اور اس کے بعد آیۃالکرسی پڑھے :

اﷲ کی ثنا وحمد بجا لائے محمد(ص) وآل محمد (ع)پر درود بھیجے اور یہ پڑھے:

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْتَوْدِعُکَ الْیَوْمَ نَفْسِی وَٲَھْلِی وَمَالِی وَوُلْدِی وَمَنْ کَانَ

اے معبود ! آج کے دن میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اپنا خاندان اپنا مال ومتاع اپنی اولاد اور جو کوئی مجھ سے

مِنِّی بِسَبِیلٍ الشَّاھِدَ مِنْھُمْ وَالْغَائِبَ۔ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنا بِحِفْظِ الْاِیمانِِ

تعلق رکھتا ہے چاھے حاضر ہے یا غائب کو تیرے سپرد کرتا ہوں اے معبود! ہماری حفاظت فرما کر ہمارا ایمان اور ہماری جان

وَاحْفَظْ عَلَیْنا۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا فِی رَحْمَتِکَ، وَلاَ تَسْلُبْنا فَضْلَکَ إنَّا إلَیْکَ رَاغِبُونَ۔

محفوظ رکھ اے معبود! ہمیں اپنے سایۂ رحمت میں رکھ اور اپنا فضل ہم سے دور نہ کر بے شک ہم تیرے ہی مشتاق ہیں

اَللّٰھُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْاََھْلِ

اے معبود! ہم تیری پناہ لیتے ہیں سفر کی مشکلوں سے مایوس ہوکر واپس آنے سے اور اپنے خاندان اپنے مال ومتاع

وَالْمالِ وَالْوَلَدِ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَ تَوَجَّہُ إلَیْکَ ھذَا التَّوَجُّہَ طَلَباً

اور اپنی اولاد کے بارے میں دنیا وآخرت میں برے انجام سے اے معبود! میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں یہ توجہ تیری خوشنودی کی

لِمَرْضاتِکَ وَتَقَرُّباً إلَیْکَ۔ اَللّٰھُمَّ فَبَلِّغْنِی مَا ٲُؤَمِّلُہُ وَٲَرْجُوہُ فِیکَ وَفِی ٲَوْلِیائِکَ

طلب اور تیرا تقرب حاصل کرنے کیلئے ہے اے معبود!پس مجھے عطا کر وہ جس کی تجھ سے اور تیرے اولیائ سے آرزو اور امید رکھتا

یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

اس کے بعد اپنے اہل وعیال کو وداع کرے اور اپنے مکان کے دروازے پر کھڑے ہوکر تسبیح فاطمہ زہرا (ع) پڑھے، پھر سامنے دائیں اور بائیں طرف منہ کر کے سورہ الحمد پڑھے اور اسی طرح آیۃ الکرسی بھی تینوں طرف منہ کر کے ایک ایک مرتبہ پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے :

اَللّٰھُمَّ إلَیْکَ وَجَّھْتُ وَجْھِی، وَعَلَیْکَ خَلَّفْتُ ٲَھْلِی وَمَالِی وَمَا

اے معبود ! میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا ہے اور تجھ پر چھوڑے جاتا ہوں اپنا خاندان اپنا مال اور جو کچھ تو نے

خَوَّلْتَنِی وَقَدْ وَثِقْتُ بِکَ فَلاَ تُخَیِّبْنِی، یَا مَنْ لاَ یُخَیِّبُ مَنْ ٲَرادَہُ، وَلاَ

مجھے دے رکھا ہے میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے نا امید نہ کر اے وہ جس کا قصد کرنے والا نا امید نہیں ہوتا اور جس کی

یُضَیِّعُ مَنْ حَفِظَہُ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَاحْفَظْنِی فِیما غِبْتُ

وہ نگہبانی کرے وہ بربادنہیں ہوتا اے معبود! حضرت محمد(ص) اور ان کی آل (ع)پر رحمت نازل فرما اور جن چیزوں کے پاس میں حاضر نہیں

عَنْہُ وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

ان کی نگہداری کر اور مجھے میری خواہش کے سپرد نہ کر اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

پھر گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے، ایک مرتبہ سورہ قدر، آیۃ الکرسی، سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھ کر اپنے ہاتھوں کو بدن پر پھیرے اور جس قدر ہوسکے صدقہ دے اور یہ پڑھے :

اَللّٰھُمَّ إنِّی اشْتَرَیْتُ بِھذِہِ الصَّدَقَۃِ سَلاَمَتِی وَسَلامَۃَ سَفَرِی وَمَا مَعِی۔ اَللّٰھُمَّ

اے معبود! میں اس صدقہ کے بدلے حاصل کرنا چاہتا ہوں اپنی سلامتی، سفر میں خیریت اور اپنے متاع کی حفاظت اے معبود !

احْفَظْنِی وَاحْفَظْ مَا مَعِیَ، وَسَلِّمْنِی وَسَلِّمْ مَا مَعِیَ، وَبَلِّغْنِی وَبَلِّغْ مَا مَعِیَ بِبَلاغِکَ

میری حفاظت فرما اور میرے مال کی نگہداری کر مجھے اور جو میرے پاس ہے اسے سالم رکھ اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہے اس کو خیر

الْحَسَنِ الْجَمِیلِ۔

وخوبی سے منزل پر پہنچا دے۔

سفر کے دوران تلخ بادام کی لکڑی کا عصا بھی اپنے پاس رکھے۔ کیونکہ روایت ہے کہ جو شخص سفر پر جائے اور تلخ بادام کا عصا اپنے پاس رکھے اور یہ پڑھے: وَلَمَّا تَوَجَّہَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ... تا وَاللّهُعَلیٰ مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ۔

یہ سورہ قصص کی آیت ہے اور اس کے پڑھنے سے خدا اس کو ہر درندے، چور اور ہر زہریلے حیوان سے محفوظ رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس پہنچ جائے نیز ستتر﴿77﴾ فرشتے اس کے ہمراہ رہیں گے اور جب تک وہ شخص واپس آکر اپنا عصا ہاتھ سے رکھ نہ دے گا وہ اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔ سنت ہے کہ عمامہ باندھ کر روانہ ہو اور اس میں تحت الحنک بھی لگائے رکھے تاکہ کوئی آسیب نہ پہنچے اسے کوئی چور نہ لوٹے، دریا میں غرق نہ ہو اور آگ میں جل کے نہ مرے نیز کربلا معلّیٰ کی تھوڑی سی خاک شفا بھی اپنے پاس رکھے اور یہ خاک اٹھاتے وقت یہ دعاپڑھے:

اَللّٰھُمَّ ھذِہِ طِینَۃُ قَبْرِ الْحُسَیْنِ وَلِیِّکَ وَابْنِ وَلِیِّکَ اتَّخَذْتُھا حِرْزاً لِمَا

اے معبود! یہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند حسین کے مزار کی خاک ہے کہ جو میں نے اپنی پناہ کیلئے اٹھائی اس چیز سے جس

ٲَخافُ وَمَا لاَ ٲَخافُ۔

سے ڈرتا ہوں اور جس سے نہیں ڈرتا۔

سفر میں عقیق وفیروزہ کی انگوٹھی پہنے اور خصوصاً زرد عقیق کی انگوٹھی کہ جس پر ایک طرف یہ نقش ہو :

مَاشَآئَ اللّهُ لاَقَوَّۃَ اِلاَّبِاللّهِ اَسْتَغْفِرُاللّهَ۔

وہی ہوگا جو خدا چاہے نہیں کوئی قوت سوائے اﷲ کے میں اﷲ سے بخشش مانگتا ہوں۔

اس انگوٹھی کی دوسری طرف محمد(ص) و علی (ع) ہر دو اسماء مبارکہ نقش کیے گئے ہوں۔ سید ابن طاؤس نے امان الاخطار میں ابو محمد قاسم بن علاء سے اور انہوں نے امام علی نقی کے خادم صافی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام علی نقی سے ان کے جد طاہر امام علی رضا کی زیارت کو جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ اپنے پاس زرد عقیق کی انگوٹھی رکھو کہ جس کی ایک طرف مَاشَآئَ اللّهُ لاَقَوَّۃَ اِلاَّبِاللّهِ اَسْتَغْفِرُاللّهَ اور دوسری طرف محمد (ص) و علی (ع) کے اسماء گرامی نقش ہوں۔ اگر تم یہ انگوٹھی اپنے ساتھ رکھو گے تو چوروں، ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ رہوگے اور یہ انگوٹھی تمہاری جان کی سلامتی اور تمہارے دین کی محافظ رہے گی، وہ خادم کہتا ہے کہ حضرت(ع) کے ہاں سے آکر جب میں نے ویسی ہی انگوٹھی مہّیا کر لی تو پھر وداع کرنے کیلئے حضرت (ع)کی خدمت میں گیا۔ آپ سے وداع کرکے جب چل پڑا تو میرے بہت دور نکل جانے کے بعد حضرت (ع)نے مجھے واپس بلوایا، میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا اے صافی : فیروزہ کی انگوٹھی بھی لے جاؤ کہ طوس اور نیشاپور کے درمیان تمہیں ایک شیر سے سابقہ پڑے گا جو تمہیں اور تمہارے قافلے کو آگے نہ جانے دے گا۔ تب آگے بڑھ کر تم اس شیر کویہ انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہنا کہ میرے مولا فرماتے ہیں کہ تو ہمارے راستے سے ہٹ جا۔ ہاں اس فیروزہ کی ایک طرف اَﷲُ الْمَلِکُ اور دوسری طرف الْمَلِک َﷲِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ کندہ کرالینا کہ اَﷲُ الْمَلِکُ امیر المؤمنین کی انگوٹھی کا نقش تھا، جب آپ کو ظاہری خلافت ملی تو آپ نے اپنی انگوٹھی پر اَلْمَلِک َﷲِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِکندہ کرالیا۔ آپ کی انگوٹھی فیروزہ کی تھی۔ یہ نگینہ درندوں سے امان کا باعث ہوتا ہے اور جنگ میں دشمنوں پر فتح و کامیابی کا موجب بنتا ہے، صافی کہتا ہے کہ میں اس سفر پر چلاگیا اور خدا کی قسم جیسے میرے مولا نے فرمایاتھا وہ شیر اسی مقام پر ہمارے آگے آیااورمیں نے اپنے آقا کے فرمان پر عمل کیا تو وہ شیر پلٹ گیا۔ جب میں زیارت کرکے واپس آیا تو میں نے یہ واقعہ حضرت (ع) کی خدمت میں عرض کیا، آپ نے فرمایا ایک بات رہ گئی جو تم نے نہیں بتائی۔ اگر تم چاہو تو وہ بات بتا دوں ؟ میں نے عرض کی کہ شاید وہ بات میں بھول گیا ہوں !آپ نے فرمایا کہ طوس میں جب تم رات کو قبر امام (ع)کے قریب سو رہے تھے تو جنات کا ایک گروہ امام علی رضا کی زیارت کو وہاں آیا ہواتھا، انہوں نے تمہارے ہاتھ میں اس انگوٹھی پر وہ نقش دیکھا تو انگوٹھی اتار کرلے گئے،اسے پانی میں ڈال کر وہ پانی اپنے ایک بیمار کو پلایا تو وہ تندرست ہوگیا۔ وہ انگوٹھی لا کر انہوں نے تیرے بائیں ہاتھ میں پہنا دی جب کہ سوتے وقت وہ تمہارے دائیں ہاتھ میں تھی اس سے تمہیں تعجب ہوا اور تمہاری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ نیز تم نے اپنے سرہانے ایک یاقوت پڑا پایا اور اسے اٹھالیا جو، اب بھی تمہارے پاس ہے،یہ یاقوت وہ جنات تمہارے لئے بطور ہدیہ لائے تھے، تم اسے بازار لے جاؤ تو اس کو اسی ﴿80﴾ اشرفی میں بیچ سکتے ہو۔ وہ خادم بیان کرتا ہے کہ میں نے وہ یاقوت بازار میں اسی ﴿80﴾اشرفی میں ہی فروخت کیاجیسا کہ میرے مولا (ع)نے فرمایا تھا۔ امام جعفر صادق کاارشاد ہے کہ جو شخص سفرمیں ہر رات آیۃ الکرسی پڑھے تو وہ خود اور اس کا مال ومتاع محفوظ رہیں گے نیز یہ دعا بھی پڑھیں :

اَللَّھُمَّ اجْعَلْ مَسِیْرِی عَبْراً وَصُمْتِیْ تَفَکُّراً وَکَلَامِیْ ذِکْراً۔

اے معبود !میری رفتار کو عبرت، میری خاموشی کو غور و فکر اور میرے کلام کو ذکر قرار دے۔

امام زین العابدین سے منقول ہے کہ جب میں ذیل کے دعائیہ کلمات پڑھ لیتا ہوں تو پھر میں کوئی پروا نہیں کرتا خواہ مجھے ضرر پہنچانے کے لئے تمام جن و انس بھی جمع ہو جائیں۔

بِسْمِ اللّهِ، وَبِاللّهِ، وَمِنَ اللّهِ، وَ إلَی اللّهِ، وَفِی سَبِیلِ اللّهِ۔ اَللّٰھُمَّ إلَیْکَ ٲَسْلَمْتُ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کے اذن سے اور خدا کی راہ میں اے معبود ! میں نے اپنی جان تجھے

نَفْسِی، وَ إلَیْکَ وَجَّھْتُ وَجْھِی، وَ إلَیْکَ فَوَّضْتُ ٲَمْرِی، فَاحْفَظْنِی بِحِفْظِ الْاِیمانِ

سونپ دی اپنا رخ تیری جانب کرلیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا تو مجھے ایمان کی حفاظت کے ساتھ محفوظ کر

مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ، وَمِنْ خَلْفِی، وَعَنْ یَمِینِی، وَعَنْ شِمالِی، وَمِنْ فَوْقِی، وَمِنْ تَحْتِی

میرے آگے سے میرے پیچھے سے میرے دائیں سے میرے بائیں سے میرے اوپر سے میرے نیچے سے

وَادْفَعْ عَنِّی بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ فَ إنَّہُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔

اور اپنی بخشش و قوت سے میرا دفاع کرتا رہ کیونکہ نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند تر بزرگ تر خدا سے ہے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ سفر کے آداب کے بارے میں بہت سی دعائیں وارد ہوئی ہیں مگر یہاں ہم ان میں سے چند ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

(1) ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ جب سوار ہونے لگے تو بسم اللہ کا پڑھنا ہرگز ترک نہ کرے۔

(2) اپنے کھانے پینے کی چیزوں اور نقدی کی حفاظت کرے اور ان کو کسی محفوظ جگہ پر رکھے، اس بارے میں روایت ہوئی ہے کہ مسافر کی سمجھ بوجھ کا معیار یہی ہے کہ وہ اپنی خوراک اور سفر خرچ کو سنبھا ل کر رکھے۔

(3) سفر کے دوران اپنے ساتھیوں کی مدد اور خدمت کرنے میں بے اعتنائی نہ کرے تاکہ حق تعالیٰ اسکی تہتر﴿73﴾پریشانیاں دور کردے، دنیا میں اسکو فکر و اندیشے سے بچائے رکھے اور قیامت میں فزع اکبر ﴿بہت بڑے غم واندوہ﴾سے محفوظ فرمائے روایت میں آیا ہے کہ امام زین العابدین ایسے لوگوں کے ہمراہ سفر فرماتے تھے جو آپ کو پہچانتے نہ ہوں تا کہ راستہ میں حضرت (ع)ان کی اعانت کر پائیں۔ کیونکہ جب آپ جان پہچان والے لوگوں کے ہمراہ سفر فرماتے تو وہ آپ کو کام میں ہاتھ نہیں بٹانے دیتے تھے۔ حضرت رسول (ص)کا طریقہ یہ تھا کہ جب اپنے اصحاب کے ہمراہ سفر کرتے اوراگر آپ کوئی گوسفند ذبح کرنے لگتے تو ایک صحابی کہتا کہ اسے میں ذبح کروں گا دوسرا کہتا کہ اس کی کھال میں اتاروں گا اور تیسرا یہ کہتا کہ اس کا پکانا میرے ذمے ہے اور آنحضرت(ص) فرماتے کہ اس کو پکانے کے لئے لکڑیاں لانا میرا کام ہے۔ اس پر اصحاب عرض کرتے کہ حضور(ص) یہ سارے کام ہم خود کریں گے۔ آپ یہ زحمت نہ فرمائیں، آنحضرت(ص) فرماتے کہ میں جانتا ہوں تم یہ کام انجام دے لو گے لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم سے الگ رہوں کیونکہ خدا اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ اس کا کوئی بندہ خود کو دوسروں سے افضل سمجھے۔ واضح رہے کہ سفر میں اپنے ساتھیوں کے لئے سب سے بڑا بوجھ وہ شخص ہے جو صحیح و سالم ہوتے ہوئے بھی اپنے حصے کا کام کرنے میں سستی برتے اوراس انتظار میں رہے کہ اس کاکام دوسرے لوگ انجام دیں۔

(4) ایسے لوگوں کے ساتھ سفر کرے جو خرچ کرنے میں اس کے برابر ہوں۔

(5) کسی جگہ کا پانی اس وقت تک نہ پئے جب تک اس میں پچھلی منزل کا پانی نہ ملا لے، مسافر کے لئے ضروری ہے کہ جس جگہ وہ پلا بڑھا ہو وہاں کی مٹی اپنے پاس رکھے اورجب کسی جگہ کا پانی پینے لگے تو وہ مٹی اس پانی میں ڈال کر خوب ہلائے پھر اس کو رکھ دے یہاں تک کہ مٹی بیٹھ جائے اور پانی صاف ہوجائے تب اس کو پئے:

(6) اپنے اخلاق و عادات کو سنوارے اور نرمی و ملائمت سے کام لے۔ اس بارے میں کچھ اور باتوں کا ذکر انشااللہ امام حسین کی زیارت کے ذیل میں آئے گا۔

(7) سفر میں اپنا خرچ اپنے ہمراہ رکھے کیونکہ انسان کے لئے یہ عزت و شرافت کی بات ہے کہ دوران سفر بہترین نان و نفقہ اپنے ساتھ رکھے اور خاص کر مکہ معظمہ کے سفر میں اس کا بہت دھیان رکھے البتہ امام حسین کی زیارت کے سفر میں لذیذ غذائیں مثلا حلوہ اور بریانی وغیرہ کھانا چنداں مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ آنحضرت(ص) کی زیارت میں اس کا ذکر آئے گا ابن اعثم نے اسی مفہوم کو ان اشعار میں ادا کیا ہے۔

مِنْ شَرَفِ الْاِنْسانِ فِی الْاََسْفارِ

تَطْیِیبُہُ الزَّادَ مَعَ الْاِکْثارِ

سفر کے دوران انسان کی عزت اس میں ہے

کہ اس کے پاس اچھا اور زیادہ سامان سفر ہو

وَلْیُحْسِنِ الْاِنْسانُ فِی حالِ السَّفَرِ

ٲَخْلاقَۃُ زِیادَۃً عَلَی الْحَضَرِ

حالت سفر میں انسان کے لئے بہتر ہے کہ

وہ حضر کی نسبت زیادہ بلند اخلاق ہو

وَلْیَدْعُ عِنْدَ الْوَضْعِ لِلْخِوانِ

مَنْ کانَ حاضِراً مِنَ الْاِخْوانِ

جب دستر خوان پر کھانا چنا جائے تو

جو مرد و زن وہاں ہوں ان کو وہاں بلائے

وَلْیُکْثِرِ الْمَزْحَ مَعَ الصَّحْبِ إذا

لَمْ یُسْخِطِ اللّهَ وَلَمْ یَجْلِبْ ٲَذیٰ

اپنے ہمراہیوں کیساتھ مزاحیہ گفتگو کرے

اس میں کسی کو ستانے اور خدا کی ناراضگی کا پہلو نہ ہو

مَنْ جائَ بَلْدَۃً فَذا ضَیْفٌ عَلیٰ

إخْوانِہِ فِیھا إلی ٲَنْ یَرْحَلا

جوکسی شہرمیں آئے وہ مہمان ہوتا ہے

وہاں رہنے والے بھائیوں کا جب تک چلا نہ جائے

یُبَرُّ لَیْلَتَیْنِ ثُمَّ لیَٲْکُلِ

مِنْ ٲَکْلِ ٲَھْلِ الْبَیْتِ فِی الْمُسْتَقْبِلِ

دو راتوں کی خاطر تواضع مہمان کا حق ہے

پھر گھر والوں کے ساتھ عام کھانا کھائے

(8) سفر کے دوران جس کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے کہ مسافر اپنی فریضہ نمازکو حدود وشرائط کے ساتھ اول وقت میں بجا لائے۔ کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ حاجی و زائر حضرات راستے میں نماز نہیں پڑھتے یا شرائط کا دھیان نہیں رکھتے اور گاڑی وموٹر وغیرہ پر تیمم کر کے مشکوک کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مسائل کا علم نہیں ہوتا، یا نماز ادا کرنے میں بے اعتنائی سے کام لیتے ہیں۔ حالانکہ امام جعفر صادق کا ارشاد ہے کہ فریضہ نماز بیس حج سے بہتر ہے اور ایک حج سونے سے بھرے ہوئے مکان کو صدقے میں دے دینے سے بہتر ہے۔ سفر میں نماز پڑھنا چاہیئے اور نماز قصر کے بعد کی تسبیح کو تیس مرتبہ پڑھنا ترک نہ کریں۔ کیونکہ اس کے پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید بیان ہوئی ہے۔

سُبْحَانَ اللّهِ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَا اِلَہَ اِلاَّ اللّهُ وَاللّهُ اَکْبَرُ

اﷲ پاک تر ہے حمد اﷲ ہی کے لیے ہے اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ بزرگتر ہے۔

پہلی فصل -------------------------------------- زیارات ائمہ کے آداب

آداب زیارت بہت زیادہ ہیں مگر یہاں ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کریں گے :

(1) زیارت کے سفر پر روانگی سے پہلے غسل کرے۔

(2) راستے میں بے ہودہ باتوں، لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ سے پرہیز کرے۔

(3) ہر امام کی زیارت پڑھنے سے پیشتر غسل کرے اور ان سے وارد ہونے والی دعاؤں کو پڑھے جن کا ذکر زیارت وارث سے قبل آئے گا۔

(4) حدث اکبر واصغر سے پاک رہے۔ یعنی وضو وغسل کے ساتھ رہے۔

(5) پاک وصاف اورنیا لباس پہنے۔

(6) جب کسی روضہ مبارک پر جائے تو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے، اطمینان کے ساتھ خضوع وخشوع کی حالت میں ادھر ادھر دیکھے بغیر آگے بڑھے۔

(7) امام حسین کی زیارت کے علاوہ دیگر زیارتوں کے لیے خوشبو لگا کر جائے۔

(8) حرم مطہر کی طرف جاتے ہوئے ذکر الہٰی تکبیر وتحمید اور تسبیح وتہلیل اور محمد(ص) وآل محمد (ع)پر درود وصلوات سے زبان کو معطر کرے۔

(9) حرم مبارک کے دروازے پر کھڑے ہو کر اذن دخول پڑھے اور کوشش کرے کہ اس پر رقت قلب اور خشوع وخضوع طاری ہوجائے خدا کے جلال وعظمت کا تصور کرے اور جس بزرگ ہستی کے در پر حاضر ہوا ہے اسکی بلند وبالا شان کو نظر میں لائے اور یہ باور کرے کہ وہ بزرگوار اس کو دیکھتے ہیں اسکا کلام سنتے ہیں اور اس کو سلام کا جواب دیتے ہیں اذن دخول جو اس وقت زائر پڑھتا ہے اس سب کی گواہی دیتا ہے اور ان کی محبت ونوازش سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے وہ اپنے شیعوں سے کلام کرتے ہیں زائر کو اپنے حالات پر غور کرنا چاہیے، اپنی خرابیوں اور نافرمانیوں کو یاد کرنا چاہیے جو ان مقدس ہستیوں کے احکام کے بارے میں اس نے کی ہیں، ان اذیتوں کو نگاہ میں لائے جو اس نے ان ہستیوں اور انکے شیعوں کو پہنچائی ہیں کیونکہ ان کے محبوں کو تکلیف پہنچانا اصل میں خود ان کو تکلیف دینا ہے اگر انسان ان چیزوں پر توجہ کرے تو اسکے قدم آگے بڑھنے کی بجائے رک جائیں گے اس کا دل خوف زدہ وآنکھیں روئیں گی اور یہی آداب کی حقیقی روح اور جان ہے۔

نیز بہتر ہے یہ اشعار پڑھے جائے:

قالُوا غَداً نَٲْتِی دِیارَ الْحِمیٰ

وَیَنْزِلُ الرَّکْبُ بِمَغْناھُمُ

کہنے لگے کل ان کے حرم سرا میں پہنچیں گے

اور قافلہ خیریت سے اپنی منزل پر اترے گا

فَکُلُّ مَنْ کانَ مُطِیعاً لَھُمْ

ٲَصْبَحَ مَسْرُوراً بِلُقْیاھُمُ

جو بھی ان کا مطیع وفرمانبردار ہوگا

ان کے حضور پہنچ کر راضی وخوش ہوگا

قُلْتُ فَلِی ذَنْبٌ فَما حِیلَتِی

بِٲَیِّ وُجْہٍ ٲَتَلَقَّاھُمُ

میں نے کہا میں گنہگار ہوں میرا کیا چارہ ہوگا

میں کس منہ سے ان کے حضور حاضر ہوں گا

قالُوا ٲَلیْسَ العَفْوُ مِنْ شَٲْنِھِمْ

لاَ سِیَّما عَمَّنْ تَرَجَّاھُمُ

لوگوں نے کہا کیا معاف کردینا انکی شان نہیں

خاص کر ان کیلئے جو معافی کی امید رکھیں

فَجِیْتُھُمْ ٲَسْعیٰ إلی بابِھِمْ

ٲَرْجُوھُمُ طَوْراً وَٲَخْشاھُمُ

پس میں انکے دروازے کی طرف دوڑا آرہا تھا

کبھی امید بندھ جاتی کبھی خوف آنے لگتا تھا

اس مقام پر سخاوی کے یہ اشعار نقل کر دینا بہت مناسب ہوگا۔

ھَا عَبْدُکَ وَاقفٌ ذَلِیْلٌ

بِالْبَابِ یَمُدُّ کَفَّ سَائِلْ

یہ ہے آپ کا پست تر غلام جو حاضر ہے

آپ کے در پر دست سوال پھیلائے ہوئے

قَدْ عَزَّ عَلیَّ سُوئُ حَالِی

ما یَفْعَلُ مَا فَعَلْتُ عاقِلْ

مجھ پر بد حالی کا بہت زیادہ غلبہ ہے

جو کچھ میں نے کیا کوئی عقلمند وہ کام نہیں کرتا

یَا ٲَکْرَمَ مَنْ رَجاہُ رَاجٍ

عَنْ بَابِکَ لاَ یُرَدُّ سَائِلْ

اے وہ سخی جس سے امیدوار امید رکھتا ہے

آپ کے در سے سوالی کو ہٹایا نہیں جاتا

علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں عیون المعجزات سے ایک روایت نقل کی ہے۔ ابراہیم جمال جو شیعیان علی میں سے تھے انہوں نے ہارون الرشید عباسی کے وزیر علی بن یقطین سے ملاقات کرنا چاہی چونکہ ابراہیم ایک ساربان تھے اور ان کی ظاہری حالت ایسی نہ تھی کہ ایک وزیر کے دربار میں جائیں لہٰذا ملازمین نے ان کو علی بن یقطین کے پاس نہ جانے دیا۔ ادھر اسی سال علی بن یقطین حج کو گئے اور بعد میں مدینہ منورہ بھی آئے۔ وہاں انہوں نے اپنے آقا ومولا امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں حاضری دینا چاہی تو حضرت (ع) نے اس کوملاقات کی اجازت نہ دی دوسرے روز دروازے پر امام سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ علی بن یقطین نے عرض کی کہ مولا مجھ سے کیا خطا ہوئی کہ آپ نے مجھے اپنے حضور آنے کی اجازت نہیں دی؟ آپ(ع) نے فرمایا، تمہیں ملاقات کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اپنے ایک مومن بھائی ابراہیم جمال کو اپنے پاس نہیں آنے دیا تھا۔ پس حق تعالیٰ تمہاری اس سعی وکوشش کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ جب تک کہ ابراہیم ساربان تمہیں معاف نہ کر دے۔ اس پر علی بن یقطین نے عرض کیا کہ مولا میں اس وقت مدینے میں ہوں اور ابراہیم جمال کوفہ میں ہے تو میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ آج رات اپنے غلام اور اپنے ساتھیوں کو بتائے بغیر تنہا بقیع میں چلے جانا وہاں تمہیں پالان کسا ہوا ایک اونٹ نظر آئے گا۔تم اس اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ چلے جانا۔ علی بن یقطین رات کوتنہا بقیع گئے۔ اور وہاں ویسا ہی اونٹ دیکھا تو وہ اس پر سوار ہوگئے اور تھوڑی ہی دیر میں کوفہ پہنچ گئے اور انہوں نے ابراہیم جمال کے دروازے پر اونٹ کو بٹھایا اور پھر دروازہ کھٹکھٹایا، ابراہیم نے پوچھا کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں علی بن یقطین ہوں۔ ابراہیم بولے کہ علی بن یقطین کا میرے دروازے پر کیا کام ؟انہوں نے کہا مجھے تم سے انتہائی اہم کام ہے۔ پھر اسے قسم دی کہ دروازہ کھولے اور اندر آنے دے جب اندر گئے تو کہنے لگے اے ابراہیم ! میرے مولا (ع)نے مجھے بتایا ہے کہ میرا کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔ جب تک ابراہیم جمال تجھ سے راضی نہ ہو جائے، ابراہیم(ع) نے کہا خدا آپ کو معاف کرے۔ یعنی میں نے آپ کو معاف کردیا۔ لیکن علی بن یقطین نے اس پر بس نہ کی بلکہ اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیا اور ابراہیم(ع) کو قسم دے کر کہا کہ تم اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھ کر خوب روند ڈالو، ابراہیم نے بامر مجبوری ایسا ہی کیا۔ تب علی بن یقطین نے کہا اے خدا تو گواہ رہنا۔ اور علی بن یقطین اسی اونٹ پر سوار ہوئے اور اسی رات مدینہ واپس آپہنچے اور اونٹ کو امام موسیٰ کاظم کے دروازے پر بٹھایا اسی وقت آپ (ع)نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی اور پھر حضرت (ع)نے وہ چیزیں قبول فرمائیں جو علی بن یقطین آپ کی نذر کرنا چاہتے تھے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن بھائیوں کے حقوق کی پاسداری کس قدر لازم اور اہم ہے۔

(10) روضہ مبارک کی چوکھٹ پر بوسہ دے اور شیخ شہید (رح) کا ارشاد ہے کہ زائر اگر چوکھٹ پر خدا کے حضور سجدہ شکر بجا لائے اور یہ نیت کرے کہ میں خداکے لئے سجدہ بجا لا رہا ہوں کیونکہ اس نے اسے اس مقدس مقام تک پہنچنے کی توفیق دی ہے تو اس کا یہ عمل صحیح ہے۔

(11) حرم میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اندر رکھے اور باہر آتے ہوئے پہلے بایاں پاؤں باہر نکالے۔ جیسا کہ مسجد کا حکم ہے۔

(12) ضریح کے اتنا قریب ہو جائے کہ اس سے لپٹ سکے، یہ گمان کرنا باطل ہے کہ ضریح سے دور کھڑے ہونے میں پاس ادب ہے کیونکہ اسے بوسہ دینے اور اس کا سہارا لینے کا تذکرہ آیا ہے۔

(13) زیارت پڑھتے وقت پشت بہ قبلہ ہوکر اپنا منہ ضریح کی طرف کیے رہے، بظاہر یہ ادب صرف معصوم (ع)کے روضہ مبارک کی زیارت کے لیے مخصوص ہے۔ جب زیارت پڑھ چکے تو اپنے چہرے کے دائیں حصے کو ضریح مبارک کے ساتھ مس کرکے گریہ و زاری کرتے ہوئے خدائے تعالیٰ سے دعا مانگے، پھر بائیں حصے کو مس کرے اور صاحب قبر کا واسط دے کے دعا مانگے کہ حق تعالیٰ قیامت میں اس معصوم (ع)کو اس کاشفیع بنائے۔ دعا کرنے میں ہمت وحوصلے سے کام لے اور پوری توجہ کے ساتھ خاصی دیر تک مصروف دعا رہے اسکے بعد ضریح مبارک کے سرہانے قبلہ رو ہو کر دعا کرے۔

(14) اگر کھڑے ہو کر زیارت پڑھنے میں کوئی عذر ہو جیسے کمر درد، پاؤں کا درد یا کمزوری لاحق ہو تو بیٹھ کر پڑھے :

(15) جب روضہ مقدس کو دیکھے تو زیارت پڑھنے سے پہلے تکبیر یعنی اﷲ اکبر کہے۔ کیونکہ روایت میں ہے کہ جو شخص امام کے حضور تکبیر کہے اور ’’لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّهُ وَحْدَہ، لاَ شَرِیْکَ لَہ، ‘‘ پڑھے تو اس کیلئے رضوان اکبر لکھا جائے گا۔

(16) وہ زیارتیں پڑھے جو ائمہ سے مروی ہیں، اپنی یا کسی اور کی بنائی ہوئی زیارتیں پڑھنے سے پرہیز کرے کہ جو بے خبر لوگوں نے اصل زیارتوں کی خوشہ چینی کرکے مرتب کیں اور بے خبر لوگوں کو انہی کے پڑھنے میں لگائے رکھتے ہیں۔

شیخ کلینی(رح) نے عبد الرحیم قصیر سے روایت کی ہے کہ میں امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے آقا ! میں نے اپنی طرف سے ایک دعا ترتیب دی ہوئی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنی خود ساختہ دعا سے معاف رکھو۔یعنی یہ بے کار ہے جب تمہیں کوئی حاجت پیش آئے تو رسول اﷲ کے وسیلے سے خدا کی پناہ مانگو اور دو رکعت نماز پڑھ کے آنحضرت کیلئے ہدیہ کر دو۔

(17) زیارت پڑھنے کے بعد نماز زیارت ادا کرے کہ جو کم سے کم دو رکعت ہوتی ہے۔ شیخ شہید (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر رسول اکرم کی زیارت کرے تو پھر نماز زیارت آنحضرت (ص)کے روضہ مبارک میں بجا لائے اور اگر ائمہ طاہرین میں سے کسی کی زیارت کرے تو پھر نماز زیارت ان کے سرہانے کی طرف ہوکر پڑھے۔ اس دو رکعت نماز کو مسجد میں ادا کرنا بھی جائز ہے علامہ مجلسی (رح) نے فرمایا ہے کہ میرے خیال میں نماز زیارت اور دوسری نمازیں ضریحوں کے بالائے سر ادا کرنا بہتر ہے اور علامہ بحر العلوم نے بھی کتاب درہ میں فرمایا ہے۔

وَمِنْ حَدِیثِ کَرْبَلا وَالْکَعْبۃِ

لِکَرْبَلاَ بانَ عُلُوُّ الرُّتْبَۃِ

جب بات کربلا وکعبہ کی ہو

تو کربلا کا مرتبہ بلند معلوم ہوتا ہے

وَغَیْرُھا مِنْ سَائِرِ الْمَشاھِدِ

ٲَمْثالُھا بِالنَّقْلِ ذِی الشَّوَاھِدِ

اور ان کے علاوہ دیگر مشاہد ایسے ہی ہیں

انکے بارے میں بہت دلائل نقل ہوئے ہیں

وَراعِ فِیھِنَّ اقْتِرابَ الرَّمْسِ

وَآثِرِ الصَّلاَۃَ عِنْدَ الرَّٲْسِ

انکے اندر جا کر تعویذ قبر کے قریب ہونا چاہیے

اور سرہانے کے نزدیک نماز ادا کریں

وَصَلِّ خَلْفَ الْقَبْرِ فَالصَّحِیحُ

کَغَیْرِہِ فِی نَدْبِھا صَرِیحٌ

اور قبر کی پچھلی طرف نماز پڑھے تو صحیح ہے

اس کے مستحب ہونے میں واضح نص ہے

وَالْفَرْقُ بَیْنَ ھَذِہِ الْقُبُورِ

وَغَیْرِھا کالنُّورِ فَوْقَ الطُّورِ

ان میں اور دوسری قبروں میں ایسا فرق ہے

جیسے کوہ طور اور نور میں فرق تھا

فَالسَّعْیُ لِلصَّلاۃِ عِنْدَھا نُدِبْ

وَقُرْبُھا بَلِ اللُّصُوقُ قَدْ طُلِبْ

ان کے قریب نماز پڑھنے کی کوشش مستحب ہے

ان کے قریب ہونا بلکہ ان سے لپٹ جانا چاہیے

(18) اگر کسی موقع پر نماز زیارت کی خاص کیفیت کا ذکر نہ ہو تو وہاں نماز زیارت کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ رحمن پڑھے اور پھر وہ دعا پڑھے جو زیارت کے بعد پڑھی جاتی ہے یا اپنی دنیا وآخرت کے لیے جو کچھ بھی چاہتا ہو اسکا سوال کرے بہتر یہ ہے کہ عام مؤمنین کے حق میں دعا کرے کہ اسکی قبولیت یقینی ہے۔

(19) شیخ شہید(رح) نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص حرم میں داخل ہو اور وہاں نماز باجماعت پڑھی جا رہی ہو تو پہلے اس میں شریک ہو کر فریضہ نماز بجا لائے اور بعد میں زیارت کرے۔ اسی طرح نماز جماعت میں شرکت کی خاطر زیارت پڑھنے کو بھی ترک کردے اور نماز سے فارغ ہوکر زیارت پڑھے: اگر وہ زیارت پڑھ رہا ہو اور نماز کا وقت داخل ہوجائے تو بھی اسے چھوڑ کر نماز جماعت میں شامل ہو کیونکہ نماز جماعت کے لیے زیارت کو ترک کر دینا مستحب ہے، حرم کے متولی پر لازم ہے کہ ایسے وقت میں لوگوں کو نماز جماعت میں شمولیت کا حکم دے۔

(20) شیخ شہید(رح) نے ضریح مقدس کے نزدیک تلاوت قرآن کو بھی آداب زیارت میں ذکر فرمایا ہے اور یہ کہ اس تلاوت کو اس روح پاک کے لیے ہدیہ کرے کہ جس کی زیارت کررہا ہے، اس عمل میں زائر کا نفع اور صاحب مزار کی تعظیم ہے۔

(21) زائر کو نازیبا باتوں اور بیہودہ گفتگو سے بچنا چاہیے کہ یہ چیزیں عام حالات میں بھی نا پسندیدہ، رزق میں مانع اور دل کی سختی کا سبب ہیں خاص طور پر ان پاکیزہ روضوں میںکہ اﷲنے ان بزرگواروں کی عظمت و بلندی سورہ نور میں بیان فرمائی کہ فی بیوت اذن اﷲ ان ترفع ...الخ

(22) زیارت پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند نہ کرے۔ جیسا کہ میں نے اسے ہدیہ الزائرین میں ذکر کیا ہے۔

(23) جس مقام پر کسی امام کی زیارت کو گیا ہو، وہاں سے کسی دوسرے شہر یا اپنے وطن کو جانا چاہے تو روضہ امام پر جا کر ان کو الوداع کہے اور زیارت وداع پڑھے کہ جو نقل ہوئی ہے۔

(24) اپنے گناہوں پر استغفار کرے اور زیارت سے واپس آنے کے بعد اپنے اخلاق واعمال کو سنوارے کہ زیارت سے قبل وبعد کا فرق نمایاں رہے۔

(25) اپنی حیثیت کے مطابق خدام حرم کی مالی خدمت کرے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ ان آستانوں کے خدام، شریف، نیک، دینداراور خوش اخلاق ہوں اگر زائروں کی طرف سے کوئی نامناسب بات ہوجائے تو وہ ان پر غصہ وناراضگی کا اظہار نہ کریں،بلکہ ان میں جو غریب ہوں ان کی رہنمائی سے پہلوتہی نہ کریں اور انہیں زیارت کے آداب اور اعمال سے آگاہ کریں۔ خادموں کو حقیقی معنی میں خادم ہونا چاہیے اور صفائی نگرانی اور زائرین کی حفاظت جیسی لازمی خدمات میں مشغول رہنا چاہیے۔

(26) روضہ مطہر کے قرب میں جو محتاج ومسکین افراد خصوصاً سادات، علماء اور طلباء کہ جن کے دم قدم سے یہ آستانے آباد ہیں، ان سب پردیسی لوگوں کو اپنی واجب شرعی رقوم میں سے مناسب حصہ دے۔

(27) شیخ شہید (رح) نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے کے بعد وہاں سے روانگی میں جلدی کرے اور دوبارہ یہاں آنے کا اشتیاق دل میں لے کر جائے، زیارت کرنے میں مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے علیحٰدہ رہیں۔ تاہم عورتیں اگر رات کوزیارت کریں تو یہ بہت بہتر ہے نیز انہیں عمدہ لباس پہن کر حرم میں نہیں جانا چاہیے تاکہ وہاں موجود لوگ ان کو پہچان نہ سکیں، وہ پوشیدہ طور پر حرم سے باہر آئیں کہ کوئی ان پر نظریں نہ جمائے۔ اگرچہ عورتوں کا مردوں کے ساتھ زیارت کرنا ایک جائز امر ہے، لیکن یہ پسندیدہ طریقہ نہیں ہے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ مذکورہ باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہ بد تر طریقہ رواج پاگیا ہے کہ عورتیں بن سنور کر اور نفیس لباس پہن کر زیارت کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں اور حرم مقدسہ میں مردوں کے ساتھ مخلوط ہو کر زیارت کرتی ہیں۔ کئی مواقع پر وہ مردوں کے آگے آبیٹھتی ہیں اور انکی عبادت میں خلل پیدا کرتی ہیں جو اﷲ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان عورتوں کا یہ فعل بہت برا اور ناپسندیدہ ہے حقیقیت یہ ہے کہ ان کا اس ڈھب سے زیارت کرنا شرعی لحاظ سے چنداں مناسب نہیں اور نہ ہی یہ کار ثواب کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا عورتوں کو اس بارے میں خاص احتیاط کرنا چاہیے کہ اجر کی بجائے زجر اور ثواب کی بجائے عذاب لے کر نہ جائیں۔

امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ امیر المؤمنین عراق کے لوگوں سے فرماتے تھے اے اہل عراق! مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہاری عورتیں سرراہ مردوں سے ملتی اور گفتگو کرتی ہیں آیا ان کی اس روش پر تمہیں شرم نہیں آتی؟ خدا اس شخص پر لعنت کرتا ہے، جس کو غیرت نہ آتی ہو من لا یحضرہ الفقیہ میں اصبغ بن نباتہ سے روایت کی گئی ہے کہ میں نے امیرالمؤمنین کو یہ فرماتے سنا کہ قرب قیامت کا زمانہ جو سب زمانوں سے بدتر ہوگا، اس میں عورتیں بے پردہ، دین سے ناواقف، فتنہ انگیز، خواہشوں کی دلدادہ، لذتوں کی طرف مائل اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے والی ہوں گی۔ پس وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گی۔

(28) جب زائرین کی تعداد زیادہ ہو تو جو لوگ ضریح کے پاس پہنچے ہوئے ہوں انہیں جلد تر زیارت سے فارغ ہوجانا چاہیے۔ تاکہ دوسرے لوگ ضریح مقدس کی زیارت کا ثواب حاصل کرسکیں۔

البتہ امام حسین کی زیارت کے ذیل میں کچھ اور آداب بھی بتائے جائیں گے کہ جو زائر کو بجا لانا چاہئیں۔

دوسری فصل -------------------------------------- تمام حرم ہائے مبارکہ کیلئے اذن دخول

یہاں دو اذن دخول تحریر کیے جارہے ہیں جو حرم کے اندر جانے سے قبل پڑھنے چاہئیں۔

پہلا اذن دخول

شیخ کفعمی نے فرمایا ہے کہ جب حضرت رسول کی مسجد یا ائمہ (ع)میں سے کسی امام (ع)کے حرم میں جانے کا ارادہ کرے تو دروازے پر کھڑے ہو کر یہ پڑھے:

اَللّٰھُمَّ إنِّی وَقَفْتُ عَلَی بَابٍ مِنْ ٲَبْوابِ بُیُوتِ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ عَلَیْہِ

اے معبود! میں تیرے نبی کے گھر کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر حاضر ہوں ان پر اور انکی آل (ع)پر تیری رحمت نازل ہو

وَآلِہِ وَقَدْ مَنَعْتَ النَّاسَ ٲَنْ یَدْخُلُوا إلاَّ بِ إذْنِہِ فَقُلْتَ یَا ٲَیُّھَا الَّذِینَ

تو نے لوگوں کو آنحضرت(ص) کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کیا ہے اور تیرا فرمان ہے اے ایمان والو

آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إلاَّ ٲَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَعْتَقِدُ حُرْمَۃَ صَاحِبِ

داخل نہ ہواکرو نبی کے گھروں میں مگر اس وقت جب تمہیں اجازت مل جائے اے اﷲ بے شک میں اس حرم شریف میں مدفون ہستی

ھذَا الْمَشْھَدِ الشَّرِیفِ فِی غَیْبَتِہِ کَمَا ٲَعْتَقِدُھا فِی حَضْرَتِہِ، وَٲَعْلَمُ ٲَنَّ رَسُولَکَ

کا ان کی غیبت میں ایسے ہی معتقد ہوں جیسے میں ان کے ظہور میں معتقد تھا اور میں جانتا ہوں کہ تیرا رسول (ص)اور

وَخُلَفائَکَ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ ٲَحْیائٌ عِنْدَکَ یُرْزَقُونَ یَرَوْنَ مَقامِی، وَیَسْمَعُونَ کَلامِی،

تیرے خلفائ کہ ان سب پر سلام ہو وہ زندہ ہیں اور تیرے ہاں رزق پاتے ہیں وہ مجھے دیکھ رہے ہیںمیری معروضات سن رہے ہیں

وَیَرُدُّونَ سَلامِی، وَٲَنَّکَ حَجَبْتَ عَنْ سَمْعِی کَلامَھُمْ، وَفَتَحْتَ بابَ فَھْمِی بِلَذِیذِ

اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور بے شک تو نے میرے کانوں کو ان کا کلام سننے سے روکا ہے اور ان سے راز ونیاز کرنے

مُناجاتِھِمْ، وَ إنِّی ٲَسْتَٲْذِنُکَ یَا رَبِّ ٲَوَّلاً، وَٲَسْتَٲْذِنُ رَسُولَکَ صَلَّی اللّهُ

میں میرے فہم کو کھول رکھا ہے اور اے میرے رب پہلے میں تجھ سے اجازت مانگتاہوں پھر تیرے رسول(ص) سے اجازت مانگتا ہوں کہ

عَلَیْہِ وَآلِہِ ثانِیاً، وَٲَسْتَٲْذِنُ خَلِیفَتَکَ الْاِمامَ الْمَفْرُوضَ عَلَیَّ طاعَتُہُ۔

خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل (ع)پر اور اجازت مانگتا ہوں تیرے خلیفہ و امام سے جن کی اطاعت مجھ پر واجب ہے۔

فلاں بن فلاں کی بجائے ان امام کا نام مع ان کے والد بزرگوار کے اسم گرامی کو زبان پر لائے کہ جن کی زیارت کررہا ہے مثلاً اگر امام حسین کی زیارت ہے تو کہے:

الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ اوراگر زیارت امام رضا ہو تو کہے: عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضا

حسین بن علی علی بن موسیٰ الرضا

اور اسی طرح باقی آئمہ کے بارے میں کہے پھر یہ پڑھے : وَالْمَلائِکَۃَ الْمُوَکَّلِینَ بِھذِہِ الْبُقْعَۃِ

اورپھر ان فرشتوں سے جو اس بارگاہ کے نگہبان ہیں

الْمُبارَکَۃِ ثالِثاً، ٲَٲَدْخُلُ یَا رَسُولَ اللّهِ ٲَٲَدْخُلُ یَا حُجَّۃَ اللّهِ ٲَٲَدْخُلُ یَا مَلائِکَۃَ

جو پر برکت ہے آیا میں اندر آجاؤں اے اﷲ کے رسول(ص) آیا میں اندر آجاؤں اے خدا کی حجت (ع)آیا میں اندر آجاؤں اے خدا کے

اللّهِ الْمُقَرَّبِینَ الْمُقِیمِینَ فِی ھذَا الْمَشْھَدِ فَٲْذَنْ لِی یَا مَوْلایَ فِیالدُّخُولِ ٲَفْضَلَ مَا ٲَذِنْتَ

مقرب ملائکہ جو قبر مطہر کے پاس مقیم ہیں پس اے میرے مولا(ع) مجھے اندر آنے کی اجازت دیجیے ایسی بہترین اجازت جو آپ نے

لاََِحَدٍ مِنْ ٲَوْ لِیائِکَ، فَ إنْ لَمْ ٲَکُنْ ٲَھْلاً لِذلِکَ فَٲَنْتَ ٲَھْلٌ لِذلِکَ۔ برکت والی دہلیز کو بوسہ

اپنے دوستوں میں کسی کو دی ہو پس اگرچہ میں اس کے لائق نہیں ہوں لیکن آپ اجازت دینے کے اہل ہیں۔

دے کر اندر جائے اور کہے: بِسْمِ اللّهِ وَبِاللّهِ وَفِی سَبِیلِ اللّهِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ

خدا کے نام سے خدا کی ذات سیخدا کی راہ میں اور حضرت رسول(ص) خداکی ملت پر کہ رحمت کرے اﷲ ان پر اور

عَلَیْہِ وَآلِہِ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی، وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ ٲَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔

ان کی آل(ع) پر اے معبود! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کرکہ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

دوسرا اذن و خول یہ ہے جو علامہ مجلسی(رح) نے اپنے علمائے اعلام کی قدیم کتابوں سے نقل کیا ہے۔ اور اسے سرداب مقدس یا کسی امام کے حرم مبارک کے اندر داخل ہونے سے پہلے دروازے پر کھڑے ہو کر پڑھنا چائیے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ إنَّ ھذِہِ بُقْعَۃٌ طَھَّرْتَھا، وَعَقْوَۃٌ شَرَّفْتَھا، وَمَعالِمُ زَکَّیْتَھا حَیْثُ ٲَظْھَرْتَ فِیھا

اے معبود! یقیناً اس بارگاہ کو تو نے پاکیزہ کیا ہے اور اس آستانے کو عزت دی اور یہ مقام نصیحت ہے جسے تو نے چمکا یا تاکہ تو اس میں

ٲَدِلَّۃَ التَّوْحِیدِ وَٲَشْباحَ الْعَرْشِ الْمَجِیدِ الَّذِینَ اصْطَفَیْتَھُمْ مُلُوکاً لِحِفْظِ النِّظامِ

توحید کی دلیلیں اور عزت والے عرش کی مثالیں ظاہر فرمائے کہ جن لوگوں کو تو نے نظم و نظام کی حفاظت کیلیے حاکم بنایا

وَاخْتَرْتَھُمْ رُؤَسائَ لِجَمِیعِ الْاََنامِ، وَبَعَثْتَھُمْ لِقِیامِ الْقِسْطِ فِی ابْتِدائِ الْوُجُودِ إلی

انہیں ساری مخلوق کیلئے سردار مقرر کیا اور انہیں عدل و قسط قائم رکھنے کے لیے مامور فرمایا تاکہ آغاز کائنات سے قیامت تک یہ کام

یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، ثُمَّ مَنَنْتَ عَلَیْھِمْ بِاسْتِنابَۃِ ٲَنْبِیائِکَ لِحِفْظِ شَرائِعِکَ وَٲَحْکَامِکَ

انجام دیں پھر تو نے ان پر یہ احسان کیا کہ انہیں اپنے نبیوںکا جانشین قرار دیا تاکہ تیری شریعتوں اور حکموں کی حفاظت ہو پس تو نے

فَٲَکْمَلْتَ بِاسْتِخْلافِھِمْ رِسالَۃَ الْمُنْذِرِینَ کَما ٲَوْجَبْتَ رِیَاسَتَھُمْ فِی فِطَرِ الْمُکَلَّفِین

ان کو خلافت دے کرنبیوں کی رسالت کو کامل کردیاجیسا کہ تو نے اہل دین پر ان کی حکمرانی واجب و لازم کردی ہے

فَسُبْحانَکَ مِنْ إلہٍ مَا ٲَرْٲَ فَکَ، وَلاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ مِنْ مَلِکٍ مَا ٲَعْدَلَکَ حَیْثُ طابَقَ

پس پاک تر ہے تو اے معبود! کہ بڑی محبت کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو بڑا عدل کرنے والا بادشاہ ہے

صُنْعُکَ مَا فَطَرْتَ عَلَیْہِ الْعُقُولَ، وَوافَقَ حُکْمُکَ مَا قَرَّرْتَہُ فِی الْمَعْقُولِ

کیونکہ تیری بنائی ہوی چیزیں عقل و خرد سے مطابقت رکھتی ہیں اور تیرا حکم ان اصولوں سے موافقت رکھتا ہے جو تو نے معقولات و

وَالْمَنْقُولِ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی تَقْدِیرِکَ الْحَسَنِ الْجَمِیلِ وَلَکَ الشُّکْرُ عَلَی قَضائِکَ

منقولات میں مقرر فرمائے ہیں پس حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے ہر چیز کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور شکر تیرے لیے ہے کہ تو نے اپنے ہر

الْمُعَلَّلِ بِٲَکْمَلِ التَّعْلِیلِ، فَسُبْحانَ مَنْ لاَ یُسْٲَلُ عَنْ فِعْلِہِ، وَلاَ یُنازَعُ فِی ٲَمْرِہِ

فیصلے میں ایک قوی دلیل کوبنیاد بنایا ہے پس پاک ہے وہ کہ جس کے فعل پر باز پرس نہیں اور جس کے حکم میں اختلاف نہیں ہوتااور

وَسُبْحانَ مَنْ کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ قَبْلَ ابْتِدائِ خَلْقِہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی مَنَّ

پاک ہے وہ جس نے رحمت کرنا خود پر ضروری قرار دیا قبل اس کے کہ اپنی مخلوق کا آغاز کرتا اور حمد اس اﷲ کی ہے جس نے

عَلَیْنا بِحُکَّامٍ یَقُومُونَ مَقامَہُ لَوْ کانَ حاضِراً فِی الْمَکانِ، وَلاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ الَّذِی

اپنے قائم مقام حکّام ﴿انبیائ﴾ کے تقرر سے ہم پر احسان کیا اگرچہ وہ کسی جگہ محدود نہیں ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انبیاء

شَرَّفَنا بِٲَوْصِیائَ یَحْفَظُونَ الشَّرائِعَ فِی کُلِّ الْاََزْمانِ، وَاللّهُ ٲَکْبَرُ الَّذِی ٲَظْھَرَھُمْ

کے جانشینوں کے ذریعے ہمیں عزت دی جو ہر ہر زمانے میں شریعتوں کی حفاظت کرتے رہے اور بزرگتر ہے وہ اﷲ جس نے ان کو

لَنا بِمُعْجِزاتٍ یَعْجُزُ عَنْھَا الثَّقَلانِ، لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ الَّذِی

ہمارے لیے ظاہر کیا معجزے دے کر کہ جن کے مقابل جن وانس عاجز ہیں نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے

ٲَجْرانا عَلَی عَوائِدِہِ الْجَمِیلَۃِ فِی الْاَُمَمِ السَّالِفِینَ۔ اَللّٰھُمَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَالثَّنائُ الْعَلِیُّ

جس نے ہمیں سابقہ امتوں سے خوب تر نعمتوں سے نوازا اور سرفراز کیا ہے اے معبود! تیرے ہی لیے حمد ہے اور بہت تعریف اس پر

کَما وَجَبَ لِوَجْھِکَ الْبَقائُ السَّرْمَدِیُّ، وَکَما جَعَلْتَ نَبِیَّنا خَیْرَ النَّبِیِّینَ، وَمُلُوکَنا

کہ تونے اپنی ذات میں ہمیشہ ہمیشہ کا جلوہ رکھا اور تیری حمد اس پر کہ تو نے ہمارے نبی کو نبیوں میں افضل اور ہمارے ائمہ کو مخلوق میں

ٲَفْضَلَ الْمَخْلُوقِینَ وَاخْتَرْتَھُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعالَمِینَ وَفِّقْنا لِلسَّعْیِ إلی ٲَبْوابِھِمُ

بہتر بنایا نیزعلم ودانش سے ان کو پوری کائنات سے منتخب کیا ہے ہمیں قیامت تک ان کے آبادآستانوں پر حاضر ہونے کی توفیق دی

الْعامِرَۃِ إلی یَوْمِ الدِّینِ، وَاجْعَلْ ٲَرْواحَنا تَحِنُّ إلی مَوْطِیََ ٲَقْدامِھِمْ، وَنُفُوسَنا

ہماری روح کو ان کے قدموں میں جانے کا اشتیاق دے ہماری جانوں کو ان کے

تَھْوِی النَّظَرَ إلی مَجالِسِھِمْ وَعَرَصاتِھِمْ حَتَّی کَٲَنَّنا نُخاطِبُھُمْ فِی حُضُورِ ٲَشْخاصِھِمْ

درباروں اور صحنوں کے دیکھنے کی تمنا دے یہاں تک کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے روبرو ہو کر عرض گزارہیں

فَصَلَّی اللّهُ عَلَیْھِمْ مِنْ سادَۃٍ غایِبِینَ وَمِنْ سُلالَۃٍ طاھِرِینَ وَمِنْ ٲَئِمَّۃٍ مَعْصُومِینَ

اﷲ کی رحمت ہو ان پر جو سردار، غائب پاکیزہ خاندان اور صاحب عصمت امام و پیشوا ہیں

اَللّٰھُمَّ فَٲْذَنْ لَنا بِدُخُولِ ھذِہِ الْعَرَصاتِ الَّتِی اسْتَعْبَدْتَ بِزِیارَتِھا ٲَھْلَ الْاََرَضِینَ

اے معبود! ہمیں ان بارگاہوں کے احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت دے کہ جن کی زیارت کو تو نے زمین

وَالسَّمٰوَاتِ، وَٲَرْسِلْ دُمُوعَنا بِخُشُوعِ الْمَھابَۃِ، وَذَ لِّلْ جَوارِحَنا بِذُلِّ الْعُبُودِیَّۃِ

وآسمان والوں کیلئے ذریعہ عبادت قرار دیا اپنی ہیبت سے ہمارے آنسورواں کردے اور ہمارے اعضا کو بندگی اور اطاعت

وَفَرْضِ الطَّاعَۃِ، حَتَّی نُقِرَّ بِمَا یَجِبُ لَھُمْ مِنَ الْاََوْصَافِ، وَنَعْتَرِفَ بِٲَ نَّھُمْ شُفَعَائُ

کے لیے جھکا دے یہاں تک کہ ہم اقرار کریں ان ہستیوں کے اوصاف کا اور مانیں اس بات کو کہ اس وقت وہ مخلوق کی

الْخَلائِقِ إذَا نُصِبَتِ الْمَوَازِینُ فِی یَوْمِ الْاََعْرافِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلامٌ عَلَی عِبادِہِ

شفاعت کرنے والے ہونگے جب روز قیامت اعمال کے وزن سامنے آئیں گے اورحمد خدا کیلئے ہے اور سلام ہو اسکی برگزیدہ

الَّذِینَ اصْطَفی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ۔

مخلوق محمد(ص) و آل محمد(ص) پر جو پاک و پاکیزہ ہیں۔

پھر چوکھٹ کا بوسہ دے اورگریہ کرتے ہوئے حرم میں داخل ہوجائے، یہی ان کی طرف سے اذن دخول ہے۔

صَلَوَاتُ اللّهِ عَلِیِھِمْ اَجَمَعِیْن

ان تمام پر اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد