Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، مومن اپنے دین کو اپنی دنیا کے ذریعے بچاتا ہے اور فاسق اپنی دنیا کو اپنے دین کے ذریعے بچاتا ہے۔ غررالحکم حدیث 2160

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

بِسْمِ اللّهِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلْحَمْدُ لله الّذي جَعَلَ الْحَمْدَ مفْتَاحاً لذِكْرِهِ وَخَلَقَ الاشْيَاءَ نَاطِقَةً بحَمْدِه وَشُكرِهِ

سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں

وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلى نَبِيِّهِ مُحَمَّد الْمُشتَقِّ اسْمُهُ مِنْ اسْمِهِ الَْمحْمُودِ وَعَلى آلهِ

اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمد(ص) پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی

الطَّاهِرينَ اُولِي الْمَكارِمِ وَالْجُوِد

پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔

امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی ﴿خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے﴾ عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان﴿جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے﴾کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:

پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے

دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تیسرا باب : اس میں آئمہ (ع)کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔﴿مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں﴾۔جزاک اللہ احسن الجزا

باب اول

اس میں تعقیبات نماز، ایام ہفتہ کی دعائیں، شب و روز جمعہ کے اعمال، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجاتیں شامل ہیں ۔اور اس میں کئی ایک فصلیں ہیں۔

پہلی فصل -------------------------------------- تعقیبات مشترکہ

شیخ طوسی (رح)کی کتاب مصباح وغیرہ سے نقل ہوا ہے کہ جب نمازکا سلام پھیر لیں تو تین دفعہ اﷲ اکبر کہیں، ہر دفعہ اپنے ہاتھوں کو کانوں تک بلند کریں اور اسکے بعد یہ کہیں:

لا اِلـهَ إلاَّ اللهُ اِلهاً واحِداً وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ لا اِلـهَ إلاَّ اللهُ وَلا نَعْبُدُ إلاّ اِيّاهُ

خدا کے سوا کوئی معبود نہیں وہی معبود یگانہ ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہم بس اسی کی عبادت کرتے

مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ رَبُّنَا وَرَبُّ آبائِنَا الْاَوَّلِینَ

ہیں اسی کے دین کیساتھ مخلص ہیں خواہ مشرکین کو ناگوارہی لگے ،خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں جو ہمارا اور ہمارے آباؤاجداد کا

لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ وَحْدَہُ، أَ نْجَزَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَأَعَزَّ جُنْدَہُ

رب ہے، خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے ،واحد ہے، ایک ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی نصرت فرمائی اپنے

وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہُ، فَلَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَ یُمِیتُ وَیُحْیِی

لشکر کو غالب کیا اور اکیلے ہی جتھوں کو مار بھگایا، پس ملک اسی کا اور حمد اسی کے لیے ہے وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے

وَھُوَ حَیٌّ لاَیَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ پھر کہے:

وہی موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیں۔ خیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذي لا اِلـهَ اِلاّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَاَتُوبُ اِلَيْهِ پھر کہے: اَللّٰھُمَّ أھْدِنِی مِنْ

میں اس خدا سے بخشش چاہتا ہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اے اﷲ اپنی جانب

عِنْدِكَ وَاَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ وَانْشُرْ عَلَيَّ مِنْ رَحْمَتِكَ وَاَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ

سے میری رہنمائی فرما اورمجھ پر اپنا فضل وکرم فرما، اور مجھ پر اپنی رحمت پھیلا دے اور مجھ پر اپنی برکات

بَرَکاتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ أنْتَ أغْفِرْ لِی ذُنُوْبِی کُلَّہٰا جَمِیعاً، فَإنَّہُ لا یَغْفِرُ

نازل فرما، تیری ذات پاک ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں میرے سارے کے سارے گناہ

الذُّنُوبَ کُلَّھا جَمِیعاً إلاَّ أَ نْتَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَحَاطَ بِہِ عِلْمُکَ،

معاف فرما کہ تیرے سوا کوئی سارے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اے اﷲ تجھ سے ہر اس خیر کا طلب گار ہوں جس کا تیرا علم احاطہ کیے

وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَحَاطَ بِہِ عِلْمُکَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ عَافِیَتَکَ فِی اُمُوْریِ

ہوئے ہے اور ہراس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس پر تیرا علم محیط ہے اے اﷲ میں اپنے تمام امور میں تجھ سے عافیت طلب

کُلِّھا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الاَْخِرَۃِ، وَأَعُوذُ بِوَجْھِکَ الکَرِیمِ،

کرتا ہوں ، میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری کریم ذات

وَعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ تُرامُ، وَقُدْرَتِکَ الَّتِی لاَ یَمْتَنِعُ مِنْھَا شَیْئٌ، مِنْ شَرِّ الدُّنْیا وَالاَْخِرَۃِ،

اور بلند مقام کہ جس تک کسی کی رسائی نہیں اور تیری قدرت کہ جس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ان کے ذریعے دنیا و آخرت

وَمِنْ شَرِّ الْأَوْجاعِ کُلِّھٰا، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّۃٍ أَ نْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھا، إنَّ رَبِّی عَلی

کے شر اور تمام درد و اذیت اور ہر حیوان کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے، بے شک میرے رب کا

صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ

راستہ مستقیم ہے اور طاقت و قوت بس خدائے عظیم وبرتری سے ملتی ہے اور میرا بھروسہ اس زندہ ﴿خدا﴾

الَّذِی لاَ یَمُوتُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ،

پر ہے جس کے لیے موت نہیں، حمد اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو فرزند بنایا نہ کوئی اس کے ملک میں شریک ہے

وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً۔

اور نہ اس کی عاجزی کے سبب کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی کا اظہار کرو۔

اس کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑھیں اور اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے پہلے دس مرتبہ کہیں:

أَشْھَدُ أَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ إلہاً وَاحِداً أَحَداً فَرْداً صَمَداً، لَمْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں وہ معبود یگانہ ، یکتا ،واحد ﴿اور﴾بے نیاز ہے کہ جس کی

یَتَّخِذْ صاحِبَۃً وَلا وَلَداً۔

نہ زوجہ ہے اور نہ ہی اولاد ہے

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ تہلیل بہت زیادہ فضیلت رکھتی ہے خصوصًا صبح اور رات کی نمازکی تعقیب میں اور طلوع وغروب کے وقت اسکے پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہ دعا پڑھیں:

سُبْحانَ اللّهِ کُلَّما سَبَّحَ اللّهَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُسَبَّحَ وَکَمَا ھُوَ أَھْلُہُ

پاک ہے خدا ۔جب بھی کوئی چیز خداکی ایسی تسبیح کرے جسے وہ پسند کرتا ہے اور جس تسبیح کا وہ اہل ہے

وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلالِہِ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ کُلَّما حَمِدَ اللّهَ شَیْئٌ وَکَمَا

اور جیسی تسبیح اس کی کریم ذات اور جلالت و شان کے لائق ہے۔ حمد خدا ہی کیلئے ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی حمد کرے کہ جیسی

یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُحْمَدَ وَکَمَا ھُوَ أَھْلُہُ، وَ کَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلاَلِہِ۔ وَلاَ إلہَ

حمد کو وہ پسند کرتا ہے اور جیسی حمد کا وہ اہل ہے کہ جو اس کی کریم ذات اور عزت وجلال کے لائق ہے خدا کے سوا

إلاَّ اللّهُ کُلَّما ھَلَّلَ اللّهَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُھَلَّلَ وَکَمَا ھُوَ أَھْلُہُ وَکَمَا یَنْبَغِی

کوئی معبود نہیں جب بھی کوئی چیز اسکا ایسے ذکر کرے جیسے ذکر کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کا اہل ہے اور جو ذکر اس کی بزرگی اور عزت

لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلاَلِہِ وَاللّهُ أَکْبَرُ کُلَّما کَبَّرَ اللّهَ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُکَبَّرَ

وجلال کے شایان شان ہے۔ خدا بزرگ تر ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی بزرگی بیان کرے جیسی بزرگی کو وہ پسند کرتا ہے

وَکَمَا ھُوَ أَھْلُہُ وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلالِہِ سُبْحانَ اللّهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ

جس کا وہ اہل ہے اور جو بزرگی اس کی اونچی شان اور عزت وجلال کے لائق ہے ،پاک ہے خدا اور حمد اسی کے لیے ہے

وَلاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ، وَاللّهُ أَکْبَرُ عَلَی کُلِّ نِعمَۃٍ أَ نْعَمَ بِھَا عَلَیَّ وَعَلَی کُلِّ أَحَدٍ مِنْ خَلْقہِ

اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور خدا ہر نعمت پربزرگ تر ہے جو اس نے مجھے دی اور جو گزری ہوئی مخلوق کو دی

مِمَّنْ کَانَ أَوْ یَکُونُ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی أسْألُكَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ

اور تاقیامت آنے والی مخلوق کو ملتی رہے گی۔اے اﷲ: میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر

وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأسْأَلُكَ مِنْ خَیْرِ مَا أَرْجُو وَخَیْرِ مَا لاَ أَرْجُو، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ

رحمت فرما۔میں تجھ سے وہ خیر طلب کرتا ہوںجس کا امیدوار ہوں اور وہ خیر بھی جس کی آرزو نہیں کی اور ہر اس شر سے تیری پناہ

مَا أَحْذَرُ وَمِنْ شَرِّ مَا لاَ أَحْذَرُ ۔

چاہتا ہوں جس کا مجھے خوف ہے اور جس کاخوف نہیں

اس کے بعد سورہ حمد، آیت الکرسی اورآیت شَھِدَ اللّہُ ، آیۃ قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ اْلمُلْکِ اور آیات سخرہ یعنی سورۂ اعراف کی درج ذیل تین آیات
﴿اِنَّ رَبَّکُمُ اﷲ سے مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾ کی تلاوت کریں اور پھر تین مرتبہ کہیں :

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ

تمہارا صاحب عزت پروردگار ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ کہا کرتے ہیں اور سلام ہو سبھی انبیائ پر اور حمد ہے خدا کی

الْعالَمِینَ۔ پھر تین مرتبہ کہے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِیَ

جو عالمین کا رب ہے۔ اے اﷲ! رحمت فرما محمد(ص)(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر اور میرے ہر کام میں کشائش وسہولت

فَرَجاً وَمَخْرَجاً، وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ۔

قرار دے ،اور مجھے رزق دے جہاں سے توقع ہے اور جہاں سے توقع نہیں ہے۔

یہ حضرت یوسف (ع)کی وہ دعا ہے جب وہ زندان میں تھے تو حضرت جبرائیل (ع)نے انہیں یہ دعا تعلیم کی تھی اسکے بعد دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی پکڑیں اور بایاں ہاتھ آسمان کیطرف پھیلاکرسات مرتبہ کہیں:

يا رَبَّ مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَعَجِّلْ فَرَجَ آلِ مُحَمَّد

اے محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) کے رب! محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر اپنی رحمت نازل فرما اور آل(ع) محمد(ص) کو جلد کشادگی عطا فرما

يا ذَا الْجَلالِ وَالاِكْرامِ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَارْحَمْني وَاَجِرْني مِنَ النّارِ

اے عزت وجلال والے خدا! محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پراپنی رحمت نازل فرما ،مجھ پر رحم کر اور آتش جہنم سے پناہ میں رکھ

اس کے بعد بارہ مرتبہ قُلْ ھُوَ اللّهُ اَحدُ، پڑھیں اور کہیں:

اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِکَ الْمَالْاِکْنُونِ الْمَخْزُونِ الطَّاھِرِ الطُّھْرِ الْمُبَارَکِ وَأسْأَلُكَ

اے اﷲ! میں تیرے پوشیدہ، مخزون ،پاک اور پاک کرنے والے بابرکت نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں

بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَسُلْطَانِکَ الْقَدِیمِ ، یَا وَاھِبَ الْعَطَایَا، وَیَا مُطْلِقَ الاَُْسَارَی،

اور تیرے بلند تر نام اور قدیم سلطنت کے واسطے سے سائل ہوں کہ اے انمول نعمتیں دینے والے ،اے قیدیوں کو رہائی عطا کرنے

وَیَافَکَّاکَ الرِّقابِ مِنَ النَّارِ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعْتِقَ

والے، اے بندوں کو جہنم سے چھٹکارہ دینے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور میری

رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَأَنْ تُخْرِجَنِی مِنَ الدُّنْیَا سَالِماً وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ آمِناً وَأَنْ تَجْعَلَ

گردن کو آگ سے آزاد کر دے اور مجھے دنیا سے سالم ایمان کیساتھ لے جا ، اور امن وامان سے مجھے جنت میںداخل فرما اور میری

دُعَائِی أَوَّلَہُ فَلاَحاً وَأَوْسَطَہُ نَجاحَاً وَآخِرَہُ صَلاَحاً إنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ۔

دعا کے اول کوفلاح اور اوسط کو کامیابی اور آخر کو بہتری کا موجب بنا دے۔بے شک تو ہر غیب کوخوب جانتا ہے ۔

صحیفہ علویہ میں ہے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:

یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، وَیَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُہُ السَّائِلُونَ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُہُ

اے وہ ﴿خدا﴾ جس کیلئے ایک بات سننا دوسری بات سننے سے مانع نہیں اور سائلوں کی کثرت غلطی میں نہیں ڈالتی اے وہ ذات

إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ، أَذِقْنِی بَرْدَ عَفْوِکَ، وَحَلاَوَۃَ رَحْمَتِکَ وَمَغْفِرَتِکَ۔ پڑھیں اور کہیں:

جسے اصرار کرنے والوں کا اصرار تنگ دل نہیں کرتا اپنے عفوودرگزر کی بدولت مجھے اپنی رحمت وبخشش کی لذت چکھا دے ۔

إلھِی ھذِہِ صَلاتِی صَلَّیْتُھا لاَ لِحاجَۃٍ مِنْکَ إلَیْھَا، وَلاَ رَغْبَۃٍ مِنْکَ فِیھَا، إلاَّ تَعْظِیماً

اے اﷲ !جو میں نے نمازپڑھی ہے یہ نہ اس لیے ہے کہ تجھے اسکی حاجت تھی اور نہ اس لیے ہے کہ تجھے اس میں رغبت تھی ہاں یہ

وَطَاعَۃً وَ إجَابَۃً لَکَ إلَی مَا أَمَرْتَنِی بِہِ، إلھِی إنْ کَانَ فِیھا خَلَلٌ أَوْ نَقْصٌ مِنْ رُکُوعِھا

صرف تیری تعظیم واطاعت اور تیرے حکم کی اتباع ہے جو تو نے مجھے دیا ۔خداوندا! اگر اس نماز میں کوئی خلل یا اس کے رکوع

أَوْ سُجُودِھا فَلاَ تُؤاخِذْنِی، وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ بِالْقَبُولِ وَالْغُفْرانِ۔

وسجود میں کچھ کمی ہو تواس پر میری گرفت نہ فرما اور اس کی قبولیت اور بخشش کے ساتھ مجھ پر فضل وکرم کر دے

نیزہرنماز کے بعدیہ دعا بھی پڑھیں جو پیغمبر (ص)نے امیرالمومنین (ع)کو حافظہ کی تقویت کیلئے تعلیم فرمائی:

سُبْحَانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی أَھْلِ مَمْلَکَتِہِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ یَٲْخُذُ أَھْلَ الْاَرْضِ

پاک ہے وہ خد اجو اپنی مملکت میںرہنے والوں پر زیادتی نہیں کرتا، پاک ہے وہ خدا جو طرح طرح کے عذاب سے اہل زمین پر

بِأَلْوانِ الْعَذَابِ سُبْحانَ الرَّؤُوُفِ الرَّحِیمِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِی قَلْبِی نُوراً وَبَصَرَاً وَفَھْماً وَعِلْماً

گرفت نہیں کرتا۔ پاک ہے وہ خدا جو مہربان رحم کرنے والا ہے۔ اے معبود! میرے قلب میں نور،بصیرت، فہم

إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ -مصباح کفعمی میں ہے کہ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں

اور علم کو جگہ دے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اُعِیذُ نَفْسِی وَدِینِی وَأَھْلِی وَمَالِی وَوَلَدِی وَ إخْوانِی فِی دِینِی، وَمَا رَزَقَنِی رَبِّی،وَخَواتَِیمَ

اپنے نفس، اپنے دین، اپنے اہل، اپنے مال، اپنی اولاد، اپنے دینی بھائیوں اور اپنے رب کے دئیے ہوئے رزق ،اپنے اعمال کے

عَمَلِی، وَمَنْ یَعْنِینِی أَمْرُہُ، بِاللّهِ الْوَاحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ

انجام اور جس کسی سے تعلق رکھتا ہوں ان سب کو خدائے واحد ویکتائے و بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں کہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ جنا گیا

وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً أَحَدٌ، وَبِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شرِّ غَاسِقٍ

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، میں انکوصبح کے مالک کی پناہ میں دیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور اندھیری رات

إذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فی الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ، وَبِرَبِّ

کے شر سے جب چھا جائے ۔گرہوں پر پھونکنے والوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ میں ان سبکو انسانوں

النَّاسِ،مَلِکِ النَّاسِ، إلہِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخَنَّاسِ الَّذِی

کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے معبود کی پناہ میں دیتا ہوں۔ شیطان کے وسوسوں کے شر سے جو لوگوں کے

یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِالنَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۔

دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔خواہ جنوں میں سے ہوں یاانسانوں میں سے ہو۔

شیخ شہید کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت رسول اﷲ (ص)نے فرمایا:جو یہ چاہے کہ خدااسے قیامت میں اسکے گناہوں سے مطلع نہ کرے اور اسکا دفترِ گناہ نہ کھولے تو وہ ہر نماز کے بعدیہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ إنَّ مَغْفِرَتَکَ أَرْجَی مِنْ عَمَلِی وَ إنَّ رَحْمَتَکَ أَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰھُمَّ إنْ کَانَ

اے اﷲ! تیری بخشش میرے عمل سے زیادہ امید افزا ہے اور تیری رحمت میرے گناہ سے زیادہ وسیع ہے۔ الہی اگر تیرے نزدیک

ذَ نْبِی عِنْدَکَ عَظِیماً فعَفْوُکَ أَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰھُمَّ إنْ لَمْ أَکُنْ أَھْلاً أَنْ أَبْلُغَ رَحْمَتَکَ

میرا گناہ عظیم ہے تو تیرا عفو میرے گناہ سے عظیم تر ہے۔ الہی اگر میں تیری رحمت تک پہنچنے کا اہل نہیں تو تیری رحمت ضرور مجھ

فَرَحْمَتُکَ أَھْلٌ أَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی لاََِنَّھَا وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

تک اور مجھ پر چھا جانے کی اہل ہے کیونکہ اس نے تیرے کرم سے ہر چیز کو گھیرا ہو اہے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ۔

ابن بابویہ (رح)سے منقول ہے کہ جب تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پڑھ چکیں تو یہ کہیں:

اَللّٰھُمَّ أَ نْتَ السَّلاَمُ، وَمِنْکَ السَّلاَمُ، وَلَکَ السَّلاَمُ، وَ إلَیْکَ یَعُودُ السَّلاَمُ۔ سُبْحَانَ

اے معبود تو سلامتی والا ہے، سلامتی تیری طرف سے ہے ،سلامتی تیرے ہی لیے ہے اور سلامتی کی بازگشت تیری ہی طرف ہے

رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعَالَمِینَ

صاحب عزت وغالب پرودگار اس سے پاک ہے،جو کچھ یہ کہتے ہیں اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور ہر قسم کی حمد دونوں جہانوں کے

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ، اَلسَّلاَمُ عَلَی الْاَئِمَّۃِ الْھَادِین الْمَھْدِیِّینَ

پروردگار کیلئے ہے اے نبی آپ پر سلام اور خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں سلام ہو ائمہ پر جو ہدایت یافتہ ہادی ہیں

السَّلاَمُ عَلی جَمِیعِ أَنْبِیائِ اللّهِ وَرُسُلِہِ وَمَلاَئِکَتِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْنا وَعَلَیٰ عِبادِ اللّهِ الصَّالِحِینَ،

سلام ہو خدا کے سب نبیوں رسولوں اور فرشتوں پر۔سلام ہو ہم پر اور خدا کے صالح بندوں پر۔

اَلسَّلاَمُ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبَابِ أَھْلِ

سلام ہو حضرت علی امیرالمؤمنین(ع) پر۔سلام ہو حسن(ع) وحسین(ع) پر جو تمام جوانان جنت کے

الْجَنَّۃِ أَجْمَعِینَ، السَّلاَمُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ

سید و سردار ہیں۔سلام ہو علی(ع) بن الحسین(ع) پر کہ جو زین العابدین(ع) ہیں۔سلام ہو محمد(ع) ابن

عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ، اَلسَّلاَمُ عَلَی مُوسَی بْنِ

علی باقر(ع) پر جو انبیائ کے علم کو کھولنے والے ہیں۔سلام ہو محمد (ص)کے فرزند جعفر صادق(ع) پر۔ سلام ہو جعفر صادق(ع) کے فرزند

جَعْفَرٍ الْکَاظِمِ اَلسَّلاَمُ عَلیٰ عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ

موسیٰ کاظم(ع) پر۔سلام ہو موسیٰ کاظم(ع) کے فرزند علی رضا (ع)پر۔سلام ہو علی رضا (ع)کے فرزند محمد الجواد (ع)پر۔

اَلسَّلاَمُ عَلی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْھادِی اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الزَّکِیِّ الْعَسْکَرِیِّ،

سلام ہو محمد الجواد (ع)کے فرزند علی الہادی (ع)پر۔سلام ہو علی الہادی(ع) کے فرزند حسن عسکری زکی (ع)پر۔

اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحُجَّۃِ بْنِ الْحَسَنِ الْقائِمِ الْمَھْدِیِّ، صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ

سلام ہو حسن عسکری (ع)کے فرزند حجت القائم مہدی (ع) پر۔ ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں۔

پھر جو بھی حاجت ہو خدا سے طلب کریں۔ شیخ کفعمی فرماتے ہیں ہر نماز کے بعد یہ کہیں :

رَضيتُ بِاللهِ رَبّاً وبِالاِْسْلامِ ديناً وَبِمُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآلِهِ نَبِيّاً وَبِعَلِيٍّ اِماماً وَبِالْحَسَنِ

میں راضی ہوں اس پر کہ اﷲ میرا رب، اسلام میرا دین، محمد (ص) میرے نبی اور علی(ع) میرے امام ہیں۔ نیز حضرت حسن (ع)

وَالْحُسَيْنِ وَعَلِيٍّ وَمُحَمَّد وَجَعْفَر وَمُوسى وَعَلِيٍّ وَمُحَمَّد وَعَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْخَلَفِ

و حسین(ع) و سجاد(ع) و محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) و موسی کاظم(ع) و علی رضا(ع) و محمدتقی(ع) و علی نقی(ع) وحسن عسکری(ع) اور

عَلَيْهِمُ السَّلامُ اَئِمَّةً وَسادَةً وَقادَةً بِهِمْ اَتَولّى وَمِنْ اَعْدآئِهِمْ اَتَبَرَّأُ۔ پھر تین مرتبہ کہیں:

حضرت مہدی القائم(ع) میرے امام، سردار اور رہبر ہیں اور میں ان سے محبت رکھتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہوں۔

اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعافِیَۃَ وَالْمُعافاۃَ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَۃِ۔

خداوندا! میں تجھ سے عفوودرگزر ، صحت وعافیت اور دنیا وآخرت میں بخشش کا طلب گار ہوں۔

 

دوسری فصل -------------------------------------- تعقیبات مخصوص

تعقیب نماز ظہر

کتاب المتہجد میں ہے کہ نماز ظہر کی تعقیبات کے حوالے سے یہ دعا میں پڑھیں:

لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمُ الْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ

خدائے عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود نہیں، رب ِعرش بریں کے سوا کوئی سزاوارِ عبادت نہیں۔تمام حمد عالمین کے پالنے والے خدا ہی کیلئے ہے،

اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ

اے خدا میں تجھ سے تیری رحمت اور یقینی مغفرت کے اسباب کا سوال کرتا ہوں ،ہر نیکی سے حصہ پانے اور ہر گناہ سے

وَالسَّلامَۃَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ۔ اَللّٰھُمَّ لاَتَدَعْ لِی ذَنْباً إلاَّغَفَرْتَہُ، وَلاَھَمَّاً إلاَّفَرَّجْتَہُ وَلاَسُقْماً إلاَّ

بچاؤ کا طلب گار ہوں، اے معبود! میرے ذمہ کوئی ایسا گناہ نہ چھوڑ جسے تو معاف نہ کرے۔ کوئی غم نہ دے جسے تو دور نہ کر دے، بیماری نہ دے مگر

شَفَیْتہَُ، وَلاَعَیْباً إلاَّسَتَرْتَہُ، وَلاَرِزْقاً إلاَّبَسَطْتَہُ وَلاَخَوْفاً إلاَّ

وہ جس سے شفا عطا کردے۔ عیب نہ لگا مگر وہ جسے تو پوشیدہ رکھے،رزق نہ دے مگر وہ جس میں فراخی عطا کرے، خوف نہ ہومگر

آمَنْتَہُ، وَلاَسُوئً إلاَّصَرَفْتَہُ، وَلاَحاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضاً

جس سے تو امن عطا کرے، برائی نہ آئے مگر وہ جسے تو ہٹا دے، کوئی حاجت نہ ہو مگر جسے تو پورا فرمائے اور اس میں تیری رضا

وَلِیَ فِیھا صَلاحٌ إلاَّقَضَیْتَھا یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ۔ پھر دس مرتبہ یہ کہیں:

اور میری بہتری ہو۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔ آمین اے عالمین کے پالنے والے

بِاللّهِ اعْتَصَمْتُ، وَبِاللّهِ أَثِقُ، وَعَلَی اللّهِ أَتَوَکَّلُ۔ اس کے بعد یہ کہیں: اَللّٰھُمَّ إنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِی

اﷲ ہی سے متوسل ہوتاہوں، اﷲ ہی پر اعتماد ہے اور اﷲ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے معبود! اگر میرا گناہ بڑا ہے

فَأَنْتَ أَعْظَمُ، وَ إنْ کَبُرَ تَفْرِیطِی فَأَنْتَ أَکْبَرُ، وَ إنْ دامَ بُخْلِی فَأَنْتَ أَجْوَدُ

تو تیری ذات سب سے بلند ہے۔ اگر میری کوتاہی بڑی ہے تو تیری ذات بزرگ تر ہے اور اگر میرا بخل دائمی ہے تو، تو زیادہ دینے والا ہے

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی عَظِیمَ ذُنُوبِی بِعَظِیمِ عَفْوِکَ، وَکَثِیرَ تَفْرِیطِی بِظَاھِرِ کَرَمِکَ، وَاقْمَعْ

اے اﷲ! اپنے عظیم عفو سے میرے بڑے گناہ بخش دے، اپنے لطف وکرم سے میری بہت سی کوتاہیاں معاف کر دے اور اپنے فضل

بُخْلِی بِفَضْلِ جُودِکَ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ لاَ إلہَ إلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ

اورعطا سے میرا بخل دور کردے۔ یا خدایا! ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں تجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔

تعقیب نماز عصر منقول از متہجد

أَسْتَغْفِرُ اللّهَ الَّذِی لاَ إلہَ إلاَّھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ

اس خدا سے بخشش چاہتاہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے بڑے رحم والا مہربان صاحب جلال و اکرام ہے،

وَأَسْٲلُہُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تَوْبَۃَ عَبْدٍ ذَلِیلٍ خاضِعٍ فَقِیرٍ بَائِسٍ مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ مُسْتَجِیرٍ

میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عاجز خاضع محتاج مصیبت زدہ مسکین بے چارہ طالب پناہ بندے کی توبہ قبول فرمائے جو

لاََ یَمْلِکُ لِنَفْسِہِ نَفْعاً وَلاَ ضَرَّاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیَاۃً وَلاَ نُشُوراً۔ اس کے بعد یہ کہیں: اَللّٰھُمَّ إنِّی

اپنے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے نہ ہی اپنی موت وحیات اور آخرت پر اختیار رکھتا ہے۔ اے معبود میں سیر

أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَمِنْ صَلاۃٍ لاَ

نہ ہونے والے نفس۔خوف نہ رکھنے والے دل۔ نفع نہ دینے والے علم۔قبول نہ ہونے والی نماز

تُرْفَعُ ، وَمِنْ دُعائٍ لاَیُسْمَعُ، اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْیُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ وَالْفَرَجَ بَعْدَ الْکَرْبِ

اور نہ سنی جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے مشکل کے بعد آسانی، دکھ کے بعد سکھ

وَالرَّخائَ بَعْدَ الشِّدَ ۃِ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ لاَ إلہَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ

اور تنگی کے بعد فراخی دے۔ یاخدایا! ہمارے پاس جو تیری نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تجھ سے

وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔

بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے توخدا اسکے سات سو گناہ معاف کردے گا۔ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جوشخص بعد از نماز عصر دس مرتبہ سورہ إنَّا أَ نْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْر پڑھے تو قیامت میں اس کا یہ عمل مخلوق کے اس دن کے اعمال کے برابر اجر وثواب کے لائق ٹھہرے گا۔نیز ہر صبح وشام دعائ عثرات کا پڑھنا مستحب ہے لیکن بہترہے کہ یہ دعا روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھی جائے ۔ اس دعا کا ذکر بعد میں ہو گا۔

تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد

تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد کہیں:

إنَّ اللّهَ وَمَلائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً

بے شک اﷲ اور اسکے فرشتے نبی اکرم(ص) پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والو تم بھی نبی پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جسطرح سلام کا حق ہے،

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَعَلی ذُرِّیَّتِہِ وَعَلی أَھْلِبَیْتِہِ پھر سات مرتبہ کہیں: بِسْمِ اللّهِ

خداوندا! ﴿ہمارے ﴾ نبی محمد(ص)، ان کی اولاد اور ان کے اہلبی(ع)ت پر رحمت فرما۔ خدا کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾

الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّۃَ إلاَّبِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تین مرتبہ کہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی

جو رحمن ورحیم ہے۔ خدا ئے بزرگ وبرتر کے علاوہ کسی کو طاقت و قوت نہیں ہے۔ ہر قسم کی تعریف خدا کیلئے ہے وہ

یَفْعَلُ مَا یَشَائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرُہُ۔ پھر یہ کہیں: سُبْحانَکَ لاَ إلہَ إلاَّ أَنْتَ اغْفِرْلِی

جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو جی چاہے کرسکے پاک ہے تو کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے سارے کے

ذُنُوبِی کُلَّھا جَمِیعاً، فَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّھا جَمِیعاً إلاَّ أَنْتَ۔

سارے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔

پھر دو سلاموں کے ساتھ مغرب کی چار رکعت نماز نافلہ بجالائیں اور درمیان میں کسی سے بات نہ کریں ۔شیخ مفید (رح) فرماتے ہیں: مروی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور دیگر دو رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھیں۔البتہ روایت ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیت سے وهُوَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدُور تک اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیت لَوْ اَنْزَلْنَا ھَذَا الْقُرْاَن سے آخر سورہ پڑھا کرتے تھے اور مستحب ہے کہ ہر شب کے نوافل کے آخری سجدہ اور خصوصاً شب جمعہ کو سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ أَنْ تُصَلِّی عَلیٰ

خدا وندا! تیری ذات کریم ،تیرے بلند وبالا نام اور تیرے قدیم اقتدار کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوںکہ تو محمد(ص)

مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ۔

اور آل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور میرے کبیرہ﴿بڑے﴾ گناہ معاف کردے کہ بڑے گناہ کو عظیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے۔

جب مغرب کے نوافل سے فارغ ہوجائیں تو جو چاہیں پڑھیں۔ اور پھر دس مرتبہ کہیں :

مَا شَائَ اﷲ لاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ أَسْتَغْفِرُ اللّهَ پھر یہ کہیں: : اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ

جو کچھ خدا چاہے۔ نہیں کوئی قوت سوائے خدا کے میں اس سے بخشش چاہتا ہوں، خداوند میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تیری رحمت

وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالنَّجاۃَ مِنَ النَّارِ، وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّۃٍ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ، وَالرِّضْوانَ فِی دارِ

کے وسائل اورتیری طرف سے یقینی مغفرت آتش جہنم سے نجات ،بلائوں سے بچانے، جنت میں داخل کیے جانے ، دارالسلام

السَّلاَمِ، وَجِوَارِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ وَآلِہِ اَلسَّلاَمُ۔ اَللّٰھُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَۃٍ فَمِنْکَ

میں تیری خوشنودی حاصل ہونے اور تیرے نبی حضرت محمد(ص) کے قرب کا ، خداوندا ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے

لاَ إلہَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إلَیْکَ۔

تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔

نماز مغرب وعشاء کے درمیان دو رکعت نماز غفیلہ پڑھیں۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پڑھیں:

وَذَا النُّونِ إذْ ذَھَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْہِ فَنادَی فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلہَ

اور جب ذالنون غصے کی حالت میں چلا گیا تو اس کا گمان تھا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر اس نے تاریکیوں میں فریاد کی کہ تیرے

إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَہُ وَنَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ

سواء کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میں ہی خطا کاروں میں سے ہوں تب ہم نے اسکی گزارش قبول کی اور اسے پریشانی سے

نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ۔ دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پڑھیں:

بچایا اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔

وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُھَا إلاَّ ھُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَۃٍ إلاَّ

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی کو معلوم ہے جو کچھ خشکی وتری میں ہے کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ

یَعْلَمُھا وَلاَ حَبَّۃٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ اس کے بعد

کہ وہ اسے جانتا ہے اورزمین کی تاریکیوں میںکوئی دانہ نہیں۔ کوئی خشک وتر نہیں مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے۔

دعائے قنوت کیلئے ہاتھ اٹھائیں اور پڑھیں: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُہا

خداوندا میں تجھ سے کلیدہائے غیب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جسے سوائے تیرے کوئی

إلاّ أَنْتَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا، پھر کہیں: : اَللّٰھُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ

نہیں جانتا کہ محمدوآل محمد(ع) پر رحمت نازل فرما اور میرے حق میں یہ کام کر دے کذاوکذا کی جگہ اپنی حاجت بیان کریں اے معبود!

نِعْمَتِی، وَالْقَادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حَاجَتِی، فَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِہِ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ

تومجھے نعمت عطا کرنے والا ہے اور میری حاجت پر قدرت رکھتا ہے میری حاجت کو جانتا ہے پس محمد(ص)وآل محمد(ص) کے

اَلسَّلاَمُ لَمَّا قَضَیْتَھا لِی۔

واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری فرما۔

اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو یہ نماز پڑھے اور حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوجائے گی۔

تعقیب نماز عشاء منقول از متہجد

اَللَّٰھُمَّ إنَّہُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی، وَ إنَّما أَطْلُبُہُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَأَجُولُ

خداوند ا! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے

فِی طَلَبِہِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِیَما أَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ، لاَ أَدْرِی أَفِی سَھْلٍ ھُوَ أَمْ فِی جَبَلٍ، أَمْ

چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میںہوں اس میں سرگرداں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں

فِی أَرْضٍ أَمْ فِی سَمائٍ، أَمْ فِی بَرٍّ أَمْ فِی بَحْرٍ، وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ

زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں، کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے

أَنَّ عِلْمَہُ عِنْدَکَ، وَأَسْبابَہُ بِیَدِکَ، وَأَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُہُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُہُ بِرَحْمَتِکَ

پاس ہے اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے

اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَہُ سَھْلاً وَمَٲْخَذَہُ

یا خدایا محمد(ص) وآل محمد(ع) پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور

قَرِیباً، وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْہِ رِزْقاً فَ إنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَأَ نَا فَقِیرٌ إلَی

اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں

رَحْمَتِکَ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ۔

بے نیاز ہے میں تیر ی رحمت کا محتاج ہوں پس محمد(ص)وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے۔

مؤلف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعاؤں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشاء کی تعقیب میں سات مرتبہ سورہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ﴿ نماز عشاء کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ﴾ میں قرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سو آیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھیں۔

تعقیب نماز صبح منقول از مصباح متہجد

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاھْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ

اے معبود ! محمد (ص)وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور حق میں اختلاف کے مقام پر اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے۔ بے شک تو

تَھْدِی مَنْ تَشَائُ إلی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ

جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اے معبود ! محمد(ص) و آل محمد

وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیائِ الرَّاضِینَ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ، وَبارِکْ عَلَیْھِمْ بِأَفْضَلِ

پر رحمت فرما جو اوصیائ ہیں کہ جو خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی ہے،ان کے لیے اپنی بہترین رحمتیں اور اپنی بہترین

بَرَکَاتِکَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْھِمْ وَعَلی أَرْواحِھِمْ وَأَجْسَادِھِمْ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکَاتُہُ۔

برکتیں قرار دے، ان پر اوران کی ارواح واجسام پرسلام ہو اور اﷲ کی رحمت وبرکت نازل ہو۔

اس درود و سلام کی جمعہ کے عصر میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اسکے بعد کہیں:

اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِی عَلی مَا أَحْیَیْتَ عَلَیْہِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، وَأَمِتْنِی عَلَی مَا ماتَ عَلَیْہِ عَلِیُّ

اے معبود ! مجھے اس راہ پر زندہ رکھ جس پر تو نے علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کوزندہ رکھا اور مجھے اسی راہ پر موت دے جس پر تونے

بْنُ أَبِی طالِبٍ عَلَیْہِ اَلسَّلاَمُ۔ پھر سو مرتبہ کہیں: أَسْتَغْفِرُ اللّهَ وَأَتُوبُ إلَیْہِ۔ پھر سو مرتبہ کہیں: أَسْأَلُ

امیر المومنین علی(ع) بن ابی طالب(ع) کو شہادت عطا فرمائی میں اﷲ سے بخشش چاہتاہوں اور اسکے حضور توبہ کرتا ہوں خدا سے

اللّهَ الْعَافِیَۃَ۔ پھر سو مرتبہ کہیں: أَسْتَجِیرُ بِاللّهِ مِنَ النَّارِ۔ پھر سو مرتبہ کہیں: وَأَسْأَلُہُ الْجَنَّۃَ۔ پھر سو مرتبہ کہیں:

صحت وعافیت مانگتاہوں میں آتش جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے جنت کا طالب ہوں

أَسْأَلُ اللّهَ الْحُورَ الْعِینَ۔ پھر سو مرتبہ کہیں: لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ۔ سومرتبہ

میں اﷲ سے حورعین کا طالب ہوں اﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور روشن حق ہے۔

سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سو مرتبہ کہیں: صَلَّی اللّهُ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔ سو مرتبہ کہیں:

محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر خدا کی رحمت ہو

سُبْحَانَ اللّهِ وَالْحَمْدُﷲِ وَلاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَاللّهُ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔

اﷲپاک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ برتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اﷲ بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

سو مرتبہ کہیں: مَا شَائَ اللّهُ کَانَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔ پھر کہیں: أَصْبَحْتُ

جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے اور اﷲ بزرگ و بر ترسے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت نہیں ہے۔ اے معبود میں نے

اَللّٰھُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمَامِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ شَرِّ کُلِّ غاشِمٍ وَطَارِقٍ

تیری عظیم نگہبانی میں صبح کی ہے ،جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا، نہ کوئی نیرنگ بار شب میں اس پر یورش کر پاتا ہے، اس مخلوق میں

مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّۃٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ

سے جو تو نے خلق فرمائی ہے اور نہ وہ مخلوق جسے تو نے زبان دی اور جسے زبان نہیں دی ہر خوف میں تیری پناہ

بِلِبَاسٍ سَابِغَۃٍ وَلاَئِ أَھْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ مُحْتَجِباً مِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلی أَذِیَّۃٍ، بِجِدَارٍ حَصِینِ

میں تیرے نبی (ص)کے اہلبیت(ع) کی ولا سے ساختہ لباس میں ملبوس ہر چیز سے محفوظ جو میرے اخلاص کی مضبوط دیوار میں

الاِِخْلاَصِ في الاعْتِرافِ بِحَقِّھِمْ وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِھِمْ، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَھُمْ وَمَعَھُمْ

رخنا ڈالنا چاہے، یہ مانتے ہوئے کہ وہ حق ہیں ان کی رسی سے وابستگی ہے اس یقین سے کہ حق ان کیلئے ان کے ساتھ اور

وَفِیھِمْ وَبِھِمْ، اُوالِی مَنْ وَالَوْا، وَاُجانِبُ مَنْ جَانَبُوا، فَأَعِذْنِی اَللّٰھُمَّ بِھِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا

ان میں ہے جو ان کو چاہے میں اسے چاہتا ہوںجوان سے دور ہو میں اس سے دور ہوں پس اے خدا ان کے طفیل مجھے ہر اس شر

أَتَّقِیہِ یَا عَظِیمُ۔ حَجَزْتُ الْاَعادِیَ عَنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ

سے پناہ دے جسکا مجھے خوف ہے اے بلند ذات زمین وآسمان کی پیدائش کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور کر دے بے شک ہم

أَیْدِیھِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِھِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْناھُمْ فَھُمْ لاَ یُبْصِرُوُنَ۔

نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی پس ان کو ڈھانپ دیا کہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔

یہ امیرالمومنین - کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے اورتہذیب میں روایت ہے کہ جوشخص نمازِ صبح کے بعددرج ذیل دعا دس مرتبہ پڑھے توحق تعالیٰ اسکو اندھے پن، دیوانگی، کوڑھ، تہی دستی، چھت تلے دبنے، اور بڑھاپے میں حواس کھو بیٹھنے سے محفوظ فرماتا ہے:

سُبْحَانَ اللّهِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِھِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ باللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔

پاک ہے خدائے برتر اور تعریف سب اسی کی ہے اور نہیں کوئی حرکت وقوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز شیخ کلینی(رح)نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جو نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیتا ہے﴿ ان میں سب سے معمولی زہرباد ، پھلبھری اور دیوانگی ہے﴾ اور اگر وہ شقی ہے تو اسے اس زمرے سے نکال کر سعیدونیک بخت لوگوں میں داخل کر دیا جائے گا۔

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔

اﷲ کے نام سے ﴿شروع کرتا ہوں﴾ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے نہیں کوئی حرکت وقوت مگرخدائے بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔

نیز آنحضرت(ص) سے روایت ہے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اور دردِچشم کے خاتمے کیلئے صبح اور مغرب کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:

اَللَّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

خداوندا! محمد(ص) وآل محمد(ص) کا جو تجھ پر حق ہے میں اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) وآل محمد(ص) پر پر اپنی رحمت نازل فرما

واجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَۃَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی

کہ میری آنکھوں میں نور ، میرے دین میں بصیرت، میرے دل میں یقین،میرے عمل میں اخلاص،

وَالسَّلامَۃَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَۃَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی۔

میرے نفس میں سلامتی اورمیرے رزق میں کشادگی عطا فرما اورجب تک زندہ رہوں مجھے اپنے شکر کی توفیق دیتا رہ۔

شیخ ابن فہد نے عدۃالداعی میں امام رضا - سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تووہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خداپوری فرمائے گا اور اسکی ہر مشکل آسان کردے گا:

بِسْمِ اللّهِ وَ صَلَّی اللّهُ عَلی مُحَمَّدٍوَآلِہِ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إلَی اللّهِ إنَّ اللّهَ بَصِیرٌ

اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ خدا رحمت فرمائے محمد(ص) وآل محمد(ص) پر اور میں اپنا معاملہ سپرد خدا کرتا ہوں بے شک خدا بندوں کو دیکھتا ہے

بِالْعِبادِ فَوَقَاھُ اللّهُ سَیِّئاتِ مَا مَکَرُوا لاَ إلہَ إلاَّأَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی

پس خدا اس شخص کو ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے پیدا کیں۔اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات ۔بیشک

کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَالَہُ وَنَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ حَسْبُنَااللّهُ

میں ظالموں میں سے تھا تو ہم ﴿خدا﴾نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے

وَنِعْمَ الْوَکیلُ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمۃٍ مِنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْھُمْ سُوئٌ مَا شَا ئَ اللّهُ لاَ حَوْلَ وَلَا

اور بہترین سرپرست ہے پس ﴿مجاہد﴾ خدا کے فضل وکرم سے اسطرح آئے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچی تھی جو اﷲ چاہے وہ ہو گا نہیں کوئی طاقت وقوت مگروہ

قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ، مَا شَائَ اللّهُ لاَ مَا شَائَ النَّاسُ مَا شَائَ اللّهُ وَ إنْ کَرِہَ النَّاسُ، حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ

جو اﷲسے ملتی ہے جو اﷲ چاہے وہ ہوگا نہ وہ جو لوگ چاہیں اور جو اﷲ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں پر گراں ہو میرے لئے پلنے والوں کے بجائے پالنے والا

الْمَرْبُوبِینَ حَسْبِیَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِینَ حَسْبِیَ اللّهُ رَبُّ

کافی ہے میرے لئے خلق ہونے والوں کی بجائے خلق کرنے والا کافی ہے میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔جہانوں کا

الْعالَمِینَ حَسْبِی مَنْ ھُوَ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ کَانَ مُذْ

پالنے والا ؛اﷲ؛ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے وہی میرے لیے کافی ہے وہ جو ہمیشہ سے کافی ہے میرے لیے کافی ہے۔وہ جو کافی

کُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِیَ اللّهُ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ۔

ہے میں جب سے ہوں اور کافی رہے گا ،میرے لیے کافی ہے وہ اﷲ جسکے سوا کوئی معبودنہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

مؤلف کہتے ہیں میرے استاد ثقۃ الاسلام نوری (رح)﴿خدا انکی قبر کو روشن کرے﴾ کتاب دارالسلام میں اپنے استاد عالم ربانی حاج ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی ،سختی اور بد حالی میںمبتلا تھے انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے ، جب پوچھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہ ﴿عج﴾کا خیمہ ہے۔یہ سن کر جلدی سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرت نے انکو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور انکے خیمہ کی طرف اشارہ کیا اخوند حضرت کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید سند حبرمعتمد عالم امجد، مؤید بارگاہ آقای سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا وقرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے انکو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی ،وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبرہوچکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا ۔حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور انکے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو انکو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا ۔وہ مصلے پر بیٹھے ،اذکارواستغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویاوہ صورت حال سے واقف ہیں اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔حاج ملا فتح علی سلطان آبادی علیہ الرحمہ سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ انکی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملافتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:

﴿۱﴾فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہ یَافَتَّاحُ کہیں۔ ﴿۲﴾پابندی سے کافی میںمذکورہ دعا پڑھتے رہیںجس کی رسول اﷲ (ص)نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اوراس دعا کی برکت سے چنددنوں میں اس کی پریشانی دور ہوگئی

﴿۳﴾نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ دعا پڑھا کریں اسکو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں۔ اور وہ دعا یہ ہے:

لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ

نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو خدا سے ملتی ہے میں نے اس زندہ خدا پر توکل کیا جس کیلئے موت نہیں اور حمد اس اﷲ کیلئے ہے جسکی کوئی

وَلَداً، ولَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً۔

اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو

نیز جاننا چاہیے کہ نمازوں کے بعد سجدہ شکر مستحب ِمؤکد ہے اور اس کیلئے بہت سی دعائیں اور اذکاربیان ہوئے ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سجدہ شکر میں چاہیں تو سومرتبہ شُکْرًا شُکْرًا یا سومرتبہ عَفْوًا عَفْوًا کہیں، حضرت سے یہ بھی منقول ہے کہ سجدہ شکر میں کم سے کم تین مرتبہ شُکْرًاﷲ کہیں۔ واضح رہے کہ رسول اﷲ (ص) اورآئمہ طاہرین سے طلوع وغروب آفتاب کے وقت بہت سی دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں نیز معتبر روایات میں ان دونوں وقتوں میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس مختصر کتاب میں ہم محض چند مستند دعاؤں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

بعض ادعیہ صبح و شام

اول:مشائخِ حدیث نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق (ع)سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پرواجب ہے کہ وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:بعض روایات میںہے کہ اگر یہ دعا وقت پر نہ پڑھ سکے تو اسکی قضا کرنا ضروری ہے

لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ

خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کا ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے

وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَھُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔

اور موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیںآتی۔ بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے

دوم:انہی حضرت(ع) کی معتبر روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ طلوع وغروب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:

أَعُوذُ بِاللّهِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ یَحْضُرُونَ، إنَّ

میں شیاطین کے وسوسوں سے سننے جاننے والے خدا کی پناہ کا طلبگار ہوں اورخدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے قریب

اللّهَ ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔

آئیں بے شک اﷲہی سننے اور جاننے والا ہے۔

سوم:آنجناب سے منقول ہے کہ تمہارے لیے کیا رکاوٹ ہے کہ صبح اور شام یہ دعا پڑھ لیا کریں:

اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَ بْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنِی

اے دلوں اور آنکھوں کے منقلب کرنے والے خدائے پاک میرے دل کو اپنے دین پر جما دے اسکے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر جب تو نے

وَھَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ، وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰھُمَّ

مجھے ہدایت دی ہے۔ مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اسمیں شک نہیں کہ تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے

امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی

آگ سے بچا اور محفوظ رکھ اے اﷲ میری عمر طویل کر دے میرے رزق میںوسعت پیدا کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور

اُمِّ الْکِتابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ اُمُّ الْکِتابِ۔

اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے یقینا تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔

چہارم:آنجناب سے مروی ہے کہ صبح شام یہ دعا پڑھے :

اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشَائُ، وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرہُ، الْحَمْدُ لِلّٰہِِ کَمَا یُحِبُّ

ساری تعریف اس اﷲ کیلئے ہے کہ جو وہ چاہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو چاہے کر پائے ساری تعریف اﷲ کیلئے ہے کہ جیسی

اللّهُ أَنْ یُحْمَدَ، الْحَمْدُ لِلّٰہِِ کَمَا ھُوَ أَھْلُہُ ۔ اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیہِ

تعریف وہ پسندکرتا ہے اور ساری تعریف اﷲ کیلئے ہے جیسا کہ وہ اسکا اہل ہے اے معبود! مجھے ہر اس نیکی میں داخل فرما جس میں تو

مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَخْرَجْتَ مِنْہُ مَحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، صَلَّی

نے محمد(ص) وآل محمد(ص) کو داخل فرمایا ہے اور مجھے ہر اس برائی سے بچا کہ جس سے تونے محمد(ص) وآل محمد(ص) کو محفوظ ومامون رکھا خدا کی رحمت ہو

اللّهُ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔سُبْحَانَ اللّهِ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ، وَاللّهُ أَکْبَرُ۔

محمد(ص) وآل محمد(ص) پر۔ اﷲ پاک ہے ساری تعریفیں اسی کیلئے ہیں اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اﷲ ہی بزرگ تر ہے۔

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد