Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، اللہ تعالیٰ مومن کے ایمان کو اس کا غم خوار بنا دیتا ہے، جس سے اُسے سکون محسوس ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ پہاڑ کی چوٹی پر بھی ہو تو تنہائی سے نہیں گھبراتا۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفرباب7 حدیث4

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

دوسری فصل -------------------------------------- ماہ شعبان کی فضیلت اور اعمال

معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ جو حضرت رسولﷺ سے منسوب ہے حضور (ص) اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے ۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ جب شعبان کا چاند نمودار ہوتا تو امام زین العابدین تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب ! جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے ؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور رسول اﷲﷺ فرمایا کرتے تھے کہ یہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی(ص) کی محبت اور خدا کی قربت کیلئے اس مہینے میں روزے رکھو ۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی ابن الحسین علیہما السلام کی جان ہے میں نے اپنے پدر بزرگوار حسین ابن علی علیہما السلام سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے اپنے والد گرامی امیر المومنین سے سنا کہ جو شخص محبت رسولﷺ اور تقرب خدا کیلئے شعبان میں روزہ رکھے تو خدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کریگا قیامت کے دن اس کو عزت و احترم ملے گا اور جنت اس کیلئے واجب ہو جائے گی۔

شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنے پر آمادہ کرو ! میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہو جاؤں اس میں کوئی فضیلت ہے ؟آپ(ع) نے فرمایا ہاں اور فرمایا رسول اﷲﷺ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :

اے اہل مدینہ! میں رسول خداﷺ کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے ۔ یعنی روزہ رکھے۔ صفوان کہتے ہیں امام جعفر صادق کا ارشاد ہے کہ امیر المؤمنین- فرماتے تھے جب سے منادی رسولﷺ نے یہ ندا دی اسکے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہیں ہوگا نیز فرمایا کہ شعبان اور رمضان دو مہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔

اسماعیل بن عبد الخالق سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضر تھا، وہاں روزۂ شعبان کا ذکر ہوا تو حضرت نے فرمایا ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے حتی کہ نا حق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بخشا جا سکتا ہے۔

اس عظیم و شریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں :

’’اعمال مشترکہ او راعمال مختصر‘‘

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال

اعمالِ مشترکہ میں سے چند امور ہیں۔

﴿۱﴾ ہر روز ستر مرتبہ کہے : اَسْتغْفِرُ اﷲ وَ اَسْئَلُہُ التَّوْبَۃَ ﴿۲﴾ ہر روز ستر مرتبہ کہے : اَسْتغْفِرُ اﷲ الَّذِیْ لَا

بخشش چاہتا ہوں اﷲ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں بخشش کا طالب ہوں اﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی

اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ بعض روایات میں الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے الفاظ

معبودنہیں وہ بخشنے والا مہربان ہے زندہ نگہبان ہے اورمیں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ و پائندہ بخشنے والا مہربان

الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے قبل ذکر ہوئے ہیں۔

بخشنے والا مہربان

پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے۔

﴿۳﴾ صدقہ دے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو، اس سے خدا اسکے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا ۔

امام جعفر صادق سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاتم ماہ شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو ؟ راوی نے عرض کی ، فرزند رسول(ع) ! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کااجر و ثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی۔ اے فرزند رسول(ع) ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟ فرمایا کہ صدقہ و استغفار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دے ۔ پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا، جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد کے پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہوگا۔

﴿۴﴾ پورے ماہ شعبان میں ہزار مرتبہ کہے:

لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ

اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے

اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے، جس میں ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا ۔

﴿۵﴾ شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدا دین و دنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے واضح ہو کہ روزے کا اپنا الگ اجر و ثواب ہے اور روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں ، خدایا آج کا روزہ رکھنے والوں کوبخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص ماہ شعبان میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خدا وند کریم دنیا و آخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔

﴿۶﴾ ماہ شعبان میں درود شریف بکثرت پڑھے۔

﴿۷﴾ شعبان میں ہر روز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات کو امام زین العابدین- سے مروی صلوات پڑھے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ شَجَرَۃِ النُّبُوَّۃِ، وَمَوضِعِ الرِّسالَۃِ، وَمُخْتَلَفِ

اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو نبوت کا شجر رسالت کا مقام، فرشتوں کی آمد و رفت

الْمَلائِکَۃِ وَمَعْدِنِ الْعِلْمِ، وَاَھْلِ بَیْتِ الْوَحْیِ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

کی جگہ، علم کے خزانے اور خانہ وحی میں رہنے والے ہیں اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما

الْفُلْکِ الْجارِیَۃِ فِی اللُّجَجِ الْغامِرَۃِ، یَٲْمَنُ مَنْ رَکِبَہا، وَیَغْرَقُ مَنْ تَرَکَھَا، الْمُتَقَدِّمُ

جو بے پناہ بھنوروں میں چلتی ہوئی کشتی ہیں کہ بچ جائے گا جو اس میں سوار ہوگا اور غرق ہوگا جو اسے چھوڑ دے گا ان سے آگے نکلنے والا

لَھُمْ مارِقٌ، وَالْمُتَاَخِّرُ عَنْھُمْ زاھِقٌ، وَاللاَّزِمُ لَھُمْ لاحِقٌ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ

دین سے خارج اور ان سے پیچھے رہ جانے والا نابود ہو جائے گا اور ان کے ساتھ رہنے والا حق تک پہنچ جائے گا اے معبود! محمد(ص)

وَآلِ مُحَمَّدٍ الْکَھْفِ الْحَصِینِ، وَغِیاثِ الْمُضْطَرِّ الْمُسْتَکِینِ، وَمَلْجَاََ الْہارِبِینَ

و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو پائیدار جائے پناہ اور پریشان و بے چارے کی فریاد کو پہنچنے والے، بھاگنے اور ڈرنے والے کیلئے جائے

وَعِصْمَۃِ الْمُعْتَصِمِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاۃً کَثِیرَۃً تَکُونُ

امان اور ساتھ رہنے والوں کے نگہدار ہیں اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما بہت بہت رحمت کہ جوان کے لیے وجہ خوشنودی

لَھُمْ رِضاً وَ لِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَدائً وَقَضائً بِحَوْلٍ مِنْکَ وَقُوَّۃٍ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ

اور محمد(ص) وآل محمد(ع) کے واجب حق کی ادائیگی اور اس کے پورا ہونے کاموجب بنے تیری قوت و طاقت سے اے جہانوں کے پروردگار

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ الْاَ بْرارِ الْاَخْیارِ الَّذِینَ اَوْجَبْتَ

اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جو پاکیزہ تر، خوش کردار اور نیکو کار ہیںجن کے حقوق تو نے واجب کیے

حُقُوقَھُمْ وَفَرَضْتَ طاعَتَھُمْ وَوِلایَتَھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاعْمُرْ

اور تو نے ان کی اطاعت اور محبت کو فرض قرار دیا ہے اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور میرے دل کو اپنی

قَلْبِی بِطاعَتِکَ وَلاَ تُخْزِنِی بِمَعْصِیَتِکَ وَارْزُقْنِی مُواساۃَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَیْہِ مِنْ رِزْقِکَ

اطاعت سے آباد فرما اپنی نافرمانی سے مجھے رسوا و خوار نہ کر اور جس کے رزق میں تو نے تنگی کی ہے مجھے اس سے ہمدردی کرنے کی

بِما وَسَّعْتَ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَنَشَرْتَ عَلَیَّ مِنْ عَدْلِکَ، وَاَحْیَیْتَنِی تَحْتَ ظِلِّکَ

توفیق دے کیونکہ تو نے اپنے فضل سے میرے رزق میں فراخی کی مجھ پر اپنے عدل کوپھیلایا اور مجھے اپنے سائے تلے زندہ رکھا ہے

وَھذا شَھْرُ نَبِیِّکَ سَیِّدِ رُسُلِکَ شَعْبانُ الَّذِی حَفَفْتَہُ مِنْکَ بِالرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوانِ الَّذِی

اور یہ تیرے نبی(ص) کا مہینہ ہے جو تیرے رسولوں کے سردار ہیں یہ ماہ شعبان جسے تو نے اپنی رحمت اور رضامندی کے ساتھ گھیرا ہوا ہے

کانَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ یَدْاَبُ فِی صِیامِہِ وَقِیامِہِ فِی لَیالِیہِ

یہ وہی مہینہ ہے جس میں حضرت رسول اپنی فروتنی سے دنوں میں روزے رکھتے اور راتوں میں صلوٰۃ و قیام کیا کرتے تھے

وَاَیَّامِہِ بُخُوعاً لَکَ فِی إکْرامِہِ وَ إعْظامِہِ إلی مَحَلِّ حِمامِہِ اَللّٰھُمَّ فَاَعِنَّا عَلَی

تیری فرمانبرداری اور اس مہینے کے مراتب و درجات کے باعث وہ زندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے اے معبود! پس اس مہینے میں ہمیں

الاسْتِنانِ بِسُنَّتِہِ فِیہِ، وَنَیْلِ الشَّفاعَۃِ لَدَیْہِ اَللّٰھُمَّ وَاجْعَلْہُ لِی شَفِیعاً مُشَفَّعاً،

ان کی سنت کی پیروی اور ان کی شفاعت کے حصول میں مدد فرما اے معبود؛ آنحضرت(ص) کو میرا شفیع بنا جن کی شفاعت مقبول ہے اور

وَطَرِیقاً إلَیْکَ مَھْیَعاً وَاجْعَلْنِی لَہُ مُتَّبِعاً حَتّی اَلْقاکَ یَوْمَ الْقِیامَۃِ عَنِّی راضِیاً، وَعَنْ

میرے لیے اپنی طرف کھلا راستہ قرار دے مجھے انکا سچا پیروکار بنادے یہاں تک کہ میں روز قیامت تیرے حضور پیش ہوں جبکہ تو مجھ

ذُ نُوبِی غاضِیاً، قَدْ اَوْجَبْتَ لِی مِنْکَ الرَّحْمَۃَ وَالرِّضْوانَ، وَاَ نْزَلْتَنِی دارَ الْقَرارِ

سے راضی ہو اور میرے گناہوں سے چشم پوشی کرے ایسے میں تو نے میرے لیے اپنی رحمت اور خوشنودی لازم کر رکھی ہو اور مجھے

وَمَحَلَّ الْاَخْیارِ ۔

دارالقرار اور صالح لوگوں کے ساتھ رہنے کی مہلت دے

﴿۸﴾ابن خالویہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین اور ان کے فرزندان ماہ شعبان میں روزانہ جو مناجات پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْمَعْ دُعائِی إذا دَعَوْتُکَ، وَاسْمَعْ نِدائِی إذا

اے معبود! محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور جب میں تجھ سے دعا کروں تو میری دعا سن جب میں تجھے پکاروں تو میری

نادَیْتُکَ وَاَ قْبِلْ عَلَیَّ إذا ناجَیْتُکَ فَقَدْ ھَرَبْتُ إلَیْکَ وَوَقَفْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ مُسْتَکِیناً لَکَ

پکار کو سن جب میں تجھ سے مناجات کروں تو میری پر توجہ فرما کہ تیرے ہاں تیزی سے آیا ہوں میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اپنی بے

مُتَضَرِّعاً إلَیْکَ راجِیاً لِما لَدَیْکَ ثَوابِی وَتَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَتَخْبُرُ

چارگی تجھ پر ظاہر کر رہا ہوں تیرے سامنے نالہ و فریاد کرتا ہوں اپنے اس ثواب کی امید میں جو تیرے ہاں ہے اور تو جانتا ہے جو کچھ

حاجَتِی وَتَعْرِفُ ضَمِیرِی، وَلاَ یَخْفی عَلَیْکَ اَمْرُ مُنْقَلَبِی وَمَثْوایَ

میرے دل میں ہے تو میری حاجت سے آگاہ ہے اور تو میرے باطن سے باخبر ہے دنیا اور آخرت میں میری حالت تجھ پرمخفی نہیں اور

وَما ٲُرِیدُ اَنْ ٲُبْدِیََ بِہِ مِنْ مَنْطِقِی، وَاَ تَفَوَّہَ بِہِ مِنْ طَلِبَتِی، وَاَرْجُوھُ لِعاقِبَتِی، وَقَدْ

جس کا میں ارادہ کرتا ہوں کہ زبان پر لاؤں اور اسے بیان کروں اور اپنی حاجت ظاہر کروں اور اپنی عافیت میں ا س کی امید رکھوںتو

جَرَتْ مَقادِیرُکَ عَلَیَّ یَا سَیِّدِی فِیما یَکُونُ مِنِّی إلی آخِرِ عُمْرِی مِنْ سَرِیرَتِی

یقینا تیرے مقدرات مجھ پر جاری ہوئے اے میرے سردار جو میں آخر عمر تک عمل کروں گا میرے پوشیدہ اور ظاہرا کاموں میں سے

وَعَلانِیَتِی وَبِیَدِکَ لاَ بِیَدِ غَیْرِکَ زِیادَتِی وَنَقْصِی وَنَفْعِی وَضَرِّی إلھِی إنْ حَرَمْتَنِی

اور میری کمی بیشی اور نفع و نقصان تیرے ہاتھ میں ہے نہ کہ تیرے غیر کے ہاتھ میں میرے معبود! اگر تو نے مجھے محروم کیا

فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْزُقُنِی وَ إنْ خَذَلْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَنْصُرُنِی إلھِی اَعُوذُ بِکَ مِنْ

تو پھر کون ہے جو مجھے رزق دے گا اور اگر تو نے مجھے رسو کیا تو پھر کون ہے جو میری مدد کرے گا میرے معبود! میں تیرے غضب اور تیرا

غَضَبِکَ وَحُلُولِ سَخَطِکَ إلھِی إنْ کُنْتُ غَیْرَ مُسْتَٲْھِلٍ لِرَحْمَتِکَ فَاَنْتَ اَھْلٌ اَنْ تَجُودَ

عذاب نازل ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوںمیرے معبود: اگر میں تیری رحمت کے لائق نہیں پس تو اس چیز کا اہل ہے کہ مجھ پر اپنے

عَلَیَّ بِفَضْلِ سَعَتِکَ إلھِی کَاَ نِّی بِنَفْسِی واقِفَۃٌ بَیْنَ یَدَیْکَ وَقَدْ اَظَلَّہا حُسْنُ تَوَکُّلِی

عظیم تر فضل سے عطا و عنایت فرمائے میرے معبود! گویا میں خود تیرے سامنے کھڑا ہوں اور تجھ پر میرے حسن اعتماد اور توکل کا سایہ

عَلَیْکَ فَقُلْتَ مَا اَ نْتَ اَھْلُہُ وَتَغَمَّدْتَنِی بِعَفْوِکَ ۔ إلھِی إنْ عَفَوْتَ

پڑرہا ہے پس تو نے وہی کچھ کیا جو تیری شان کے لائق ہے اور تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں لے لیا میرے معبود: اگر تو مجھے معاف

فَمَنْ اَوْلی مِنْکَ بِذلِکَ وَ إنْ کانَ قَدْ دَنا اَجَلِی وَلَمْ یُدْنِنِی مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ

کرے تو کون ہے جو اس کا تجھ سے زیادہ اہل ہو اور اگر میری موت قریب آگئی ہے اور میرا کردار مجھے تیرے قریب کرنے والا نہیں تو

الْاِقْرارَ بِالذَّنْبِ إلَیْکَ وَسِیلَتِی ۔ إلھِی قَدْ جُرْتُ عَلی نَفْسِی فِی النَّظَرِ لَہا فَلَھَا

میں نے اپنے گناہ کے اقرار کو تیری جناب میں اپنا وسیلہ قرار دے لیا ہے میرے معبود! میںنے اپنے نفس کی تدبیر میں اس پر ظلم کیا

الْوَیْلُ إنْ لَمْ تَغْفِرْ لَہا ۔ إلھِی لَمْ یَزَلْ بِرُّکَ عَلَیَّ اَیَّامَ حَیاتِی فَلا تَقْطَعْ بِرَّکَ عَنِّی

اگر تو اسے بخشے تو یہ ہلاکت وبربادی ہے میرے معبود ایام زندگی میں تیرا احسان ہمیشہ مجھ پر ہوتا رہا پس بوقت موت اسے مجھ سے قطع

فِی مَماتِی ۔ إلھِی کَیفَ آیَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِکَ لِی بَعْدَ مَماتِی وَاَ نْتَ لَمْ تُوَلِّنِی إلاَّ

نہ فرما میرے معبود! میں مرنے کے بعد تیرے عمدہ التفات سے کیونکر مایوس ہوں گا جبکہ میں نے اپنی زندگی میں تیری طرف سے

الْجَمِیلَ فِی حَیَاتِی ۔ إلھِی تَوَلَّ مِنْ اَمْرِی مَا اَ نْتَ اَھْلُہُ، وَعُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ عَلی

سوائے نیکی کے کچھ اور نہیں دیکھا میرے معبود! میرے امور کا اس طرح ذمہ دار بن جو تیرے شایاں ہے اور مجھ گنہگار پر اپنے فضل

مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَھُ جَھْلُہُ ۔ إلھِی قَدْ سَتَرْتَ عَلَیَّ ذُ نُوباً فِی الدُّنْیا وَاَ نَا اَحْوَجُ إلی

سے توجہ فرما جسے نادانی نے گھیر رکھا ہے میرے معبود! تو نے دنیا میں میرے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائی جبکہ میں آخرت میں

سَتْرِہا عَلَیَّ مِنْکَ فِی الاَُْخْری إذْ لَمْ تُظْھِرْہا لاََِحَدٍ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ

اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کا زیادہ محتاج ہوں میرے معبود! یہ تیرا احسان ہے کہ تو نے میرے گناہ اپنے نیک بندوں میں سے کسی پر

فَلا تَفْضَحْنِی یَوْمَ الْقِیامَۃِ عَلی رُؤُوسِ الْاَشْہادِ إلھِی جُودُکَ بَسَطَ اَمَلِی

ظاہر نہیں کیے پس روز قیامت بھی مجھے لوگوں کے سامنے رسوا و ذلیل نہ فرما میرے معبود! تیری عطا میری امید پر چھائی ہوئی ہے اور

وَعَفْوُکَ اَفْضَلُ مِنْ عَمَلِی إلھِی فَسُرَّنِی بِلِقائِکَ یَوْمَ تَقْضِی فِیہِ بَیْنَ عِبادِکَ

تیرا عفو میرے عمل سے برتر ہے میرے معبود! اپنی ملاقات سے مجھے شاد فرما جس روز تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرے گا

إلھِی اعْتِذارِی إلَیْکَ اعْتِذارُ مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِھِ فَاقْبَلْ عُذْرِی یَا اَکْرَمَ

میرے معبود! تیرے حضور میری عذر خواہی اس شخص کی طرح ہے جو قبول عذر سے بے نیاز نہیں پس میرا عذر قبول فرما اے سب

مَنِ اعْتَذَرَ إلَیْہِ الْمُسِیئُونَ۔ إلھِی لاَ تَرُدَّ حاجَتِی، وَلاَ تُخَیِّبْ طَمَعِی

سے زیادہ کرم کرنے والے کہ جس کے سامنے گنہگار عذر خواہی کرتے ہیں میرے مولا میری حاجت رد نہ فرما میری طمع میںمجھے

وَلاَ تَقْطَعْ مِنْکَ رَجائِی وَاَمَلِی ۔ إلھِی لَوْ اَرَدْتَ ھَوانِی لَمْ تَھْدِنِی

ناامید نہ کر اور میں تجھ سے جو امید و آرزو رکھتا ہوں اسے قطع نہ کرمیرے معبود اگر تو میری خواری چاہتا ہے تو میری رہنمائی نہ فرماتا اور

وَلَوْ اَرَدْتَ فَضِیحَتِی لَمْ تُعافِنِی ۔ إلھِی مَا اَظُنُّکَ تَرُدُّنِی فِی حاجَۃٍ قَدْ اَفْنَیْتُ

اگر تو میری رسوائی چاہتا تو میری پردہ پوشی نہ کرتا، میرے معبود! میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تو میری وہ حاجت پوری نہ کرے گا جو میں عمر

عُمْرِی فِی طَلَبِہا مِنْکَ ۔ إلھِی فَلَکَ الْحَمْدُ اَبَداً اَبَداً دائِماً سَرْمَداً یَزِیدُ وَلاَ یَبِیدُ

بھر تجھ سے طلب کرتا رہاہوں، میرے معبود! حمد بس تیرے ہی لیے ہے ہمیشہ ہمیشہ پے در پے اور بے انتہا جو بڑھتی جاتی ہے اور کم

کَما تُحِبُّ وَتَرْضی إلھِی إنْ اَخَذْتَنِی بِجُرْمِی اَخَذْتُکَ بِعَفْوِکَ وَ إنْ اَخَذْتَنِی

نہیں ہوتی جو تجھے پسند ہے اور تجھے بھلی لگتی ہے، میرے معبود! اگر تو مجھے جرم پر پکڑے گا تو میں تیری بخشش کا دامن تھام لوں گا اگر

بِذُنُوبِی اَخَذْتُکَ بِمَغْفِرَتِکَ، وَ إنْ اَدْخَلْتَنِی النَّارَ اَعْلَمْتُ اَھْلَھا اَ نِّی ٲُحِبُّکَ

مجھے گناہ پر پکڑے گا تو میں تیری پردہ پوشی کا سہارا لوں گا اور اگرتو مجھے جہنم میں ڈالے گا تو میں اہل جہنم کو بتاؤں گا کہ میں تیرا چاہنے

إلھِی إنْ کانَ صَغُرَ فِی جَنْبِ طاعَتِکَ عَمَلِی فَقَدْ کَبُرَ فِی جَنْبِ رَجائِکَ اَمَلِی

والا ہوں میرے خدا! اگر تیری اطاعت کے سلسلے میں میرا عمل کمتر ہے تو بھی تجھ سے بخشش کی امید رکھنے میں میری آرزو بہت بڑی

إلھِی کَیْفَ اَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِکَ بِالْخَیْبَۃِ مَحْرُوماً وَقَدْ کانَ حُسْنُ ظَنِّی بِجُودِکَ اَنْ

ہے، میرے خدا! کس طرح میں تیری درگاہ سے مایوسی میں خالی ہاتھ پلٹ جاوں جبکہ میں تیری عطا سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ تو مجھے

تَقْلِبَنِی بِالنَّجاۃِ مَرْحُوماً إلھِی وَقَدْ اَ فْنَیْتُ عُمْرِی فِی شِرَّۃِ السَّھْوِ عَنْکَ، وَاَبْلَیْتُ

رحمت و بخشش کے ساتھ پلٹائے گا، میرے خدا ہوا یہ کہ میں نے تجھے فراموش کرکے اپنی زندگی برائی میں گزاری اور میں نے اپنی

شَبابِی فِی سَکْرَۃِ التَّباعُدِ مِنْکَ ۔ إلھِی فَلَمْ اَسْتَیْقِظْ اَیَّامَ اغْتِرارِی بِکَ، وَرُکُونِی

جوانی تجھ سے دوری اور غفلت میںگنوائی میرے خدا؛ تیرے مقابل جرأت کرنے کے دوران میں ہوش میں نہ آیا اور تیری ناخوشی

إلی سَبِیلِ سَخَطِکَ إلھِی وَاَنَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ قائِمٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَوَسِّلٌ بِکَرَمِکَ

کے راستے پر چلتا گیا پھر بھی اے معبود؛ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلہ بنا کر تیری بارگاہ

إلَیْکَ إلھِی اَنَا عَبْدٌ اَتَنَصَّلُ إلَیْکَ مِمَّا کُنْتُ ٲُواجِھُکَ بِہِ مِنْ قِلَّۃِ اسْتِحْیائِی مِنْ

میں آکر کھڑا ہوں، میرے خدا! میں وہ بندہ ہوں جو خود کو تیری طرف کھینچ لایا ہے جبکہ میں تیری نگاہوں کا حیا نہ کرتے ہوئے تیرے

نَظَرِکَ، وَاَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْکَ إذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِکَرَمِکَ ۔ إلھِی لَمْ یَکُنْ لِی حَوْلٌ

مقابل اکڑا ہوا تھا میں تجھ سے معافی مانگتاہوں کیونکہ معاف کردینا تیرے لطف و کرم کا خاصہ ہے میرے خدا! میں جنبش نہیں کرسکتا تا

فَاَنْتَقِلَ بِہِ عَنْ مَعْصِیَتِکَ إلاَّ فِی وَقْتٍ اَیْقَظْتَنِی لَِمحَبَّتِکَ، وَکَما اَرَدْتَ اَنْ اَکُونَ

کہ تیری نافرمانی کی حالت سے نکل آؤں مگر اس وقت جب تو مجھے اپنی محبت کی طرف متوجہ کرے کہ جیسا تو چاہے میں ویساہی بن

کُنْتُ فَشَکَرْتُکَ بِ إدْخالِی فِی کَرَمِکَ، وَ لِتَطْھِیرِ قَلْبِی مِنْ اَوْساخِ الْغَفْلَۃِ

سکتا ہوں پس میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے مجھے اپنی مہربانی میں داخل کیا اور میں تجھ سے جو غفلت کرتا رہاہوں میرے دل کو اس

عَنْکَ ۔ إلھِی انْظُرْ إلَیَّ نَظَرَ مَنْ نادَیْتَہُ فَاَجابَکَ، وَاسْتَعْمَلْتَہُ بِمَعُونَتِکَ

سے پاک کردیا میرے خدا! مجھ پر وہ نظر کر جو تو تجھے پکارنے والے پر کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہیپھر اس کی یوں مدد کرتا ہے گویا

فَاَطاعَکَ، یَا قَرِیباً لاَ یَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِہِ، وَیا جَواداً لاَ یَبْخَلُ عَمَّنْ رَجا

وہ تیرا فرمانبردار تھا اے قریب کہ جو نافرمان سے دوری اختیار نہیں کرتا اور اے بہت دینے والے جو ثواب کے امیدوار کے کیے کمی

ثَوابَہُ ۔ إلھِی ھَبْ لِی قَلْباً یُدْنِیہِ مِنْکَ شَوْقُہُ، وَ لِساناً یُرْفَعُ إلَیْکَ صِدْقُہُ، وَنَظَراً

نہیں کرتا، میرے خدا! مجھے وہ دل دے جس میں تیرے قرب کاشوق ہو۔ وہ زبان عطا فرما جو تیرے حضور سچی رہے اور وہ نظر دے

یُقَرِّبُہُ مِنْکَ حَقُّہُ۔ إلھِی إنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِکَ غَیْرُ مَجْھُولٍ، وَمَنْ لاذَ بِکَ غَیْرُ مَخْذُولٍ

جس کی حق بینی مجھے تیرے قریب کرے، میرے خدا! بے شک جسے تو جان لے وہ نامعلوم نہیں رہتا جو تیری محبت میں آجائے وہ بے

وَمَنْ اَ قْبَلْتَ عَلَیْہِ غَیْرُ مَمْلُولٍ ۔ إلھِی إنَّ مَنِ انْتَھَجَ بِکَ لَمُسْتَنِیرٌ، وَ إنَّ مَنِ

کس نہیں ہوتا اور جس پر تیری نگاہ کرم ہو وہ کسی کا غلام نہیں ہوتا، میرے خدا! بے شک جو تیری طرف بڑھے اسے نور ملتا ہے اور جو تجھ

اعْتَصَمَ بِکَ لَمُسْتَجِیرٌ، وَقَدْ لُذْتُ بِکَ یَا إلھِی فَلا تُخَیِّبْ ظَنِّی مِنْ رَحْمَتِکَ،

سے وابستہ ہو وہ پناہ یافتہ ہے، ہاں میں تیری پناہ لیتا ہوں اے خدا؛ مجھے اپنے دوستوں میں قرار دے جن کا مقام یہ ہے

وَلاَ تَحْجُبْنِی عَنْ رَٲْفَتِکَ ۔ إلھِی اَقِمْنِی فِی اَھْلِ وِلایَتِکَ مُقامَ مَنْ رَجَا

کہ وہ تیری محبت کی بہت امید رکھتے ہیں، میرے خدا! مجھے اپنے ذکر کے ذریعے اپنے ذکر کا

الزِّیادَۃَ مِنْ مَحَبَّتِکَ ۔ إلھِی وَاَ لْھِمْنِی وَلَہاً بِذِکْرِکَ إلی ذِکْرِکَ، وَھِمَّتِی فِی رَوْحِ

شوق اور ذوق دے اور مجھے اپنے اسمائ حسنیٰ سے مسرور ہونے اور اپنے پاکیزہ مقام سے دلی سکون حاصل کر

نَجاحِ اَسْمائِکَ وَمَحَلِّ قُدْسِکَ إلھِی بِکَ عَلَیْکَ إلاَّ اَلْحَقْتَنِی بِمَحَلِّ اَھْلِ طاعَتِکَ

نیکی ہمت دے میرے خدا تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے کہ مجھے اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے

وَالْمَثْوَی الصَّالِحِ مِنْ مَرْضاتِکَ، فَ إنِّی لاَ اَقْدِرُ لِنَفْسِی دَفْعاً، وَلا اَمْلِکُ لَہا نَفْعاً ۔

اور اپنی خوشنودی کے مقام تک پہنچادے کیونکہ میں نہ اپنا بچاؤ کرسکتا ہوں اورنہ اپنے آپ کو کچھ فائدہ پہنچاسکتاہوں ،

إلھِی اَ نَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ، وَمَمْلُوکُکَ الْمُنِیبُ فَلا تَجْعَلْنِی مِمَّنْ صَرَفْتَ

میرے خدا؛ میں تیرا ایک کمزور و گنہگار بندہ اور تجھ سے معافی کا طلب گار غلام ہوں پس مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن سے تو نے توجہ

عَنْہُ وَجْھَکَ وَحَجَبَہُ سَھْوُھُ عَنْ عَفْوِکَ ۔ إلھِی ھَبْ لی کَمالَ الانْقِطاعِ إلَیْکَ، وَاَنِرْ

ہٹالی اور جن کی بھول نے انہیںتیرے عفو سے غافل کر رکھا ہے میرے خدا مجھے توفیق دے کہ میں تیری بارگاہ کا ہوجاؤں اور ہمارے

اَبْصارَ قُلُوبِنا بِضِیائِ نَظَرِہا إلَیْکَ، حَتَّی تَخْرِقَ اَبْصارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ

اورہمارے دلوں کی آنکھیں جب تیری طرف نظر کریں تو انہیں نورانی بنادے تا کہ یہ دیدہ ہائے دل حجابات نور کو پار کرکے تیری

فَتَصِلَ إلی مَعْدِنِ الْعَظَمَۃِ، وَتَصِیرَ اَرْواحُنا مُعَلَّقَۃً بِعِزِّ قُدْسِکَ ۔ إلھِی وَاجْعَلْنِی

عظمت و بزرگی کے مرکز سے جاملیں اور ہماری روحیں تیری پاکیزہ بلندیوں پر آویزاں ہوجائیں میرے خدا؛ مجھے ان لوگوں میںرکھ

مِمَّنْ نادَیْتَہُ فَاَجابَکَ، وَلاحَظْتَہُ فَصَعِقَ لِجَلالِکَ، فَناجَیْتَہُ سِرّاً

جن کو تو نے پکارا تو انہوں نے جواب دیا تو نے ان پر توجہ فرمائی تو انہوں نے تیرے جلال کا نعرہ لگایا ہاں تو نے انہیں باطن میں پکارا

وَعَمِلَ لَکَ جَھْراً ۔ إلھِی لَمْ ٲُسَلِّطْ عَلی حُسْنِ ظَنِّی قُنُوطَ الْاَیاسِ، وَلاَ انْقَطَعَ

اور انہوں نے تیرے لیے ظاہر میں عمل کیا ، میرے خدا؛ میں نے اپنے حسن ظن پر ناامیدی کو مسلط نہیںکیا اور تیرے

رَجائِی مِنْ جَمِیلِ کَرَمِکَ ۔ إلھِی إنْ کانَتِ الْخَطایَا قَدْ اَسْقَطَتْنِی لَدَیْکَ فَاصْفَحْ

لطف و کرم کی توقع قطع نہیں ہونے دی ہے، میرے خدا؛ اگر تیرے نزدیک میری خطائیں نظر انداز کردی گئی ہیںتو میری جو توکل تجھ

عَنِّی بِحُسْنِ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ ۔ إلھِی إنْ حَطَّتْنِی الذُّنُوبُ مِنْ مَکارِمِ لُطْفِکَ فَقَدْ

پر ہے اس کے پیش نظر میری پردہ پوشی فرمادے، میرے خدا؛ اگر گناہوں نے مجھے تیرے کرم کی برکتوں سے دور کردیا ہے تو بھی

نَبَّھَنِی الْیَقِینُ إلی کَرَمِ عَطْفِکَ ۔ إلھِی إنْ اَنامَتْنِی الْغَفْلَۃُ عَنِ الاسْتِعْدادِ

یقین نے مجھے تیری عنایت و مہربانی سے آگاہ کر رکھا ہے میرے خدا؛ اگر میں نے خواب غفلت میں پڑکر تیری بارگاہ میں حاضری کی

لِلِقائِکَ فَقَدْ نَبَّھَتْنِی الْمَعْرِفَۃُ بِکَرَمِ آلائِکَ ۔ إلھِی إنْ دَعانِی إلَی النَّارِ عَظِیمُ عِقابِکَ

تیاری نہیں کی تو بے شک معرفت نے مجھے تیری مہربانیوں سے باخبر کردیا ہے، میرے خدا؛ اگر تیری سخت سزا مجھے جہنم کی طرف

فَقَدْ دَعانِی إلَی الْجَنَّۃِ جَزِیلُ ثَوابِکَ ۔ إلھِی فَلَکَ اَسْاَلُ وَ إلَیْکَ اَبْتَھِلُ

بلارہی ہے تو بھی تیرا بہت زیادہ ثواب مجھے جنت کی سمت لیے جاتا ہے، میرے خدا؛ میں بس تیرا سوالی ہوں تیرے آگے زاری کرتا

وَاَرْغَبُ، وَاَسْاَ لُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُدِیمُ

ہوں تیرے پاس آیا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ مجھے ایسا قرار دے جو ہمیشہ تیرا

ذِکْرَکَ، وَلاَ یَنْقُضُ عَھْدَکَ، وَلاَ یَغْفُلُ عَنْ شُکْرِکَ، وَلاَ یَسْتَخِفُّ بِاَمْرِکَ ۔

ذکر کرتا رہا، جس نے تیری نافرمانی نہیں کی، جو تیرا شکر ادا کرنے سے غافل نہیںہوا اور جس نے تیرے فرمان کو سبک نہیں سمجھا،

إلھِی وَاَلْحِقْنِی بِنُورِ عِزِّکَ الْاَ بْھَجِ فَاَکُونَ لَکَ عارِفاً وَعَنْ سِواکَ مُنْحَرِفاً، وَمِنْکَ

میرے خدا؛ مجھے اپنی روشن تر عزت کو نور تک پہنچادے تا کہ میں تجھے پہچان لوں، تیرے غیر کو چھوڑدوں اور تجھ سے

خائِفاً مُراقِباً یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَصَلَّی اللّهُ عَلی مُحَمَّدٍ رَسُولِہِ وَآلِہِ

ڈرتے ہوئے تیری جانب متوجہ رہوں اے سب مرتبوں اور عزتوں کے مالک اور اللہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پررحمت نازل فرمائے

الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً ۔

اور ان کی پاکیزہ آل(ع) پر اور سلام بھیجے کہ جو سلام بھیجنے کاحق ہے۔

اور یہ بہت جلیل القدر مناجات ہیں جو آئمہ کی طرف سے منسوب ہیں اور یہ دعا مضامین عالیہ پر مشتمل ہے جب انسان حضور قلب رکھتا ہو اس دعا کا پڑھنا مناسب ہے

ماہ شعبان کے مخصوص اعمال

فضیلت روز اول شعبان

پہلی شعبان کی رات

کتاب اقبال میں شعبان کی پہلی رات میں پڑھی جانے والی کافی نمازوں کا ذکر ہوا ہے ، ان میں سے ایک بارہ رکعت نماز ہے کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔

پہلی شعبان کا دن

ماہ شعبان کے پہلے دن کا روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اور امام جعفر صادق سے روایت ہوئی ہے کہ یکم شعبان کا روزہ رکھنے والے کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔ سید ابن طاؤس نے رسول اللہﷺ سے نقل کیا ہے کہ شعبان کے پہلے تین دن کا روزہ رکھنے اور پہلی تین راتوں میں دو، دو رکعت نماز پڑھنے کاثواب بہت زیادہ ہے، اس نماز کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے:

واضح رہے کہ ماہ شعبان اور اسکے پہلے دن کے روزے کی فضیلت تفسیر امام میں مذکور ہے۔ ہمارے استاد ثقۃ الاسلام نوری (رح) نے کتاب کلمہ طیبہ کے آخر میں ایک روایت نقل کی

ہے۔ جس میں ا سکے بہت سے فوائد و برکات کا ذکر ہے، یہ روایت بڑی طویل ہے۔ ہم یہاں ا سکا خلاصہ نقل کررہے ہیں:

خلاصہ روایت

یکم شعبان کو چند افراد مسجد میں بیٹھے قضا و قدر کے مسئلہ پر بحث و تکرار کرتے ہوئے بلند آواز سے بول رہے تھے۔ امیرالمومنین نے ان لوگوں کو سلام کیا، جب انہوں نے آپ سے وہاں تشریف رکھنے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا : تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو، جن میں کوئی فائدہ نہیں آیا تم نہیں جانتے کہ خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو صرف خوف خدا سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں لیکن وہ بولنے سے قاصر نہیں ہوتے۔ بات یہ ہے کہ جب ان کے دلوں میں عظمت خداوندی کا تصور آتا ہے۔ تو ان کی زبانیں گنگ اور ان کی عقلیں حیران ہوجاتی ہیں پھر جب وہ اپنی حالت میں آتے ہیں تو خود کو بارگاہ الٰہی میں گنہگار و خطاکار سمجھتے ہوئے آہیں بھرتے ہیں جبکہ وہ گناہوں سے مبرأ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہم میں تقصیر اور کوتاہی ہے۔ پس وہ ہر وقت عمل خیر میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کی طرف نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالت خوف میں عبادت میں کھڑے ہیں اور ان کا اضطراب ظاہر ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں تم کہاں ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ سب سے بڑا دانا وہ ہے جو زیادہ خاموش رہے اور سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو بہت زیادہ باتیں کرتا ہو۔ اے نادان و کم سمجھ لوگو! آج یکم شعبان ہے اور خدائے تعالیٰ نے اس کا نام شعبان اس لیے رکھا ہے کہ اس میں نیکیاں عام کردی جاتی ہیں، حسنات کے دروازے کھل جاتے ہیں اورجنت کے محلات ارزاں قیمت اورآسان تر اعمال سے حاصل ہوتے ہیں۔ پس عبادت کرکے انہیں خریدلو۔ شیطان، ابلیس نے برائیوں کو تمہارے لیے پسندیدہ بنادیا ہے، تم گمراہی نافرمانی اور سرکشی میں پڑے ہو، شیاطین کی بدیوں اور برائیوں کی طرف متوجہ ہو اور شعبان کی خوبیوں اور اچھائیوں سے منہ نہ موڑو۔ جب کہ خدا کی طرف سے حسنات و خیرات کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

آج یکم شعبان ہے اور اس کی حسنا ت و خیرات میں نماز، روزہ، امر بہ معروف و نہی از منکر، والدین، ہمسایہ اور اقربا سے حسن سلوک، آپس کے اختلافات دور کرنا اور فقرا و مساکین کے لیے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ ادھر تم ہو کہ قضا و قدر کی بحث میں الجھے ہوئے ہو۔ کہ جس کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا، جن باتوں سے تمہیں منع کیا گیا ہے تم ان میں مشغول ہو۔ خبر دار رہو کہ جو راز الٰہی کے کھولنے میں کوشاں ہوگا وہ برباد ہوجائے گا۔ آج کے دن اطاعت کرنے والوں کے لیے خدا نے جو کچھ مہیا فرمایا ہے اگر تمہیں اس کا علم ہوجائے تو یقینا تم ان بے کار بحثوں کو چھوڑکر احکام خد اکی طرف متوجہ ہوجاؤگے۔

ان سب نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین! خدا تعالیٰ نے اطاعت گذاروں کے لیے کیا کچھ مہیا فرمایا ہے؟ تب حضرت نے ایک لشکر کا قصہ اس طرح نقل فرمایا:

رسول اکرمﷺ نے کفار سے جنگ کے لیے ایک لشکربھیجا تو کافروں نے اس پر شب خون مارا۔ جب کہ وہ ایک تاریک ترین رات تھی اور سبھی مسلمان پڑے سورہے تھے ۔ اس لشکر میں سے صرف چار افراد جاگ رہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے لشکر کے ایک کونے پر تلاوت، ذکر اور نماز میں مشغول تھا۔ یہ چار افراد زید بن حارثہ، عبداللہ بن رواحہ، قتادہ بن نعمان اور قیس بن عاصم منقری تھے۔ جب دشمن نے مسلمانوں پر سوتے میں حملہ کردیا تو قریب تھا کہ سب کے سب مارے جائیں۔ لیکن اچانک ان چار اشخاص کے چہروں سے نور کی کرنیں پھوٹ نکلیں کہ سارا میدان روشن ہوگیا۔ اس روشنی میں مسلمان سنبھلے اور دیکھ بھال کر دشمن کا مقابلہ کرنے لگے۔ اور اس نور کو دیکھ کر ان کے حوصلے اور بھی بڑھتے جاتے تھے۔ پس انہوں نے دشمنوں کو تلواروں سے زیر کرلیا۔

یہاں تک کہ بہت سے مارے گئے اور بہت سے زخمی و اسیر ہوگئے۔ جب یہ فاتح لشکر واپس آیا تو یہ ماجرا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ یہ نور تمہارے ان بھائیوں کے ان اعمال کی برکت سے ظاہر ہوا جو اس رات ﴿یکم شعبان کے سلسلہ میں﴾ انجام دے رہے تھے۔ ہاں یہ یکم شعبان کے اعمال ہی ہیں کہ جن کے باعث تمہیں فتح حاصل ہوئی اورتم لوگ دشمن کے اچانک حملے میں اس کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہو۔

پھر آنحضرت(ص) نے ایک ایک کرکے یکم شعبان کے اعمال کا ذکر فرماتے ہوئے کہا: جب یکم شعبان کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے گماشتوں سے کہتا ہے کہ ہر طرف پھیل جاؤ، لوگوں کو اپنی طرف بلاؤ اور انہیں خدا سے دور کرو۔ جب کہ خدائے رحمان اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے کہ آج یکم شعبان ہے، تم ہر طرف پھیل جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف بلاؤ، انہیں نیکی کی طرف راغب کرو تاکہ وہ سب با سعادت اور نیک بخت بن جائیں البتہ ان میں سے سرکش اور نافرمان لوگ شیطان کے گروہ میں ہی رہیں گے۔

آنحضرت نے فرمایا کہ جب یکم شعبان ہوتی ہے تو بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، شجر طوبیٰ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنی شاخیں پھیلائے اور انہیں زمین کے قریب کرے، خدا کا ایک منادی یہ ندا دیتا ہے کہ اے خدا کے بندو اور اے نیکوکار لوگو! طوبیٰ کی ان شاخوں سے لپٹ جاؤ کہ وہ تمہیں اٹھاکے جنت میں لے جائیں۔ جب کہ بدکاروں کی لیے تھوہر کا درخت ہے اور ڈرتے رہو کہ کہیں اس کی شاخیں تمہیں جہنم میں نہ لے جائیں۔

رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو حق کے ساتھ رسالت پر مبعوث فرمایا کہ جو یکم شعبان کے دن نیکی کرے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا اور وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔ پھر فرمایا جو آج کے دن نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ اسی طرح جوشخص آج کے دن باپ بیٹے میں صلح کرائے۔ میاں بیوی میں سمجھوتہ کرائے، رشتہ داروں میں راضی نامہ کرائے یا اپنے ہمسائے یا کسی اجنبی میں مصالحت کرائے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو مقروض کی پریشانی کم کرے یا طلب میں تخفیف کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن اپنے حساب پر نظر کرے اور دیکھے کہ ایک پرانا قرضہ ہے جسے مقروض ادا نہیں کرسکتا۔ پس وہ اس قرضے کو حساب سے کاٹ دے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی یتیم کی کفالت کرے، کسی جاہل کومؤمن کی ہتک کرنے سے باز کرے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو قرآن کی تلاوت کرے، مریض کی عیادت کرے، خداکا ذکر کرے اور خدا کی نعمتوں کا نام لے لے کر اس کا شکر ادا کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جوشخص آج کے دن اپنے ماں یا باپ یا دونوں میںسے ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹا، جو اس سے پہلے کسی کو غضب ناک کرچکا ہو اور آج اسے راضی اور خوش کردے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹا جو شخص جنازے کے ساتھ چلے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی مصیبت زدہ کی بھی دلجوئی کرے وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹا اور جو شخص آج کے دن کوئی بھی نیک کام کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔

اس کے بعد رسول اکرمﷺ نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھ کورسالت پر مامور کیا ہے کہ جو شخص آج کے دن شر و بدی کا کوئی بھی کام کرے تو وہ زقوم﴿تھوہر﴾ کی شاخوں سے لپٹ گیا اوروہ اسے جہنم کی طرف کھینچ لے جائیں گیں پھر فرمایا کہ قسم ہے مجھ کو اس ہستی کی جس نے مجھے پیغمبر (ص)قرار دیا کہ جو شخص بھی آج کے دن واجب نماز میں کوتاہی کرتے ہوئے اسے ضائع کرے تو وہ بھی شجر زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے پاس کوئی فقیر و ناتواں آئے کہ جس کی حالت کو یہ جانتا ہے اور اس کی حالت کو بدل بھی سکتا ہے۔ کہ خود اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچتا۔ نیز اس غریب کی مدد کرنے والا کوئی دوسرا شخص بھی نہ ہو پس اگر وہ اس درماندہ کو اس حالت میںچھوڑدے اور وہ ہلاک ہوجائے تو یہ مدد نہ کرنے والازقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے سامنے کوئی برے کام والا آدمی معذرت کرے اور پھر بھی وہ اس کو اس کی برائی کی سزا سے کچھ زیادہ سزا دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص آج کے دن میاں بیوی یا باپ بیٹے یا بھائی بھائی یا بھائی بہن یا کسی قریبی رشتہ داریا ہمسائے یا دو دوستوں میں جدائی اور غلط فہمی پیدا کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔

جو شخص کسی تنگ دست پر سختی کرے کہ جس کی حالت کو جانتاہے اور اس کی مصیبت میں اپنے غصے کا اضافہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جس پر کسی کا قرض ہو اور یہ اس کا انکار کردے اور اپنی عیاری سے اس قرض کو باطل قرار دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔جو شخص کسی یتیم کو اذیت دے۔ اس پر ستم توڑے اور اس کے مال و متاع کو ضائع کردے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا اور جو شخص کسی مومن کی عزت کو خراب کرے اور دوسروں کو ایسا کرنے کے لیے شہ دے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص اس طرح گانا گائے کہ لوگ اس کے گانوں سے گناہوں میں مبتلا ہوں تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جوشخص زمانہ جنگ میں کیے ہوئے اپنے برے کاموں اور اپنے ظلم و ستم کے دوسرے واقعات لوگوں میں بیٹھ کر فخرسے سنائے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔

جو شخص اپنے بیمار ہمسائے کو کم تر تصور کرتے ہوئے اس کی عیادت نہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ اور جو شخص اپنے مردہ ہمسائے کو ذلیل سمجھتے ہوئے اس کے جنازے کے ساتھ نہ جائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص کسی ستم رسیدہ سے بے رخی برتے اوراسے پست خیال کرتے ہوئے اس پر سختی کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جو شخص اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کا نافرمان ہوجائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن سے قبل اپنے ماں باپ کا نافرمان ہو اور آج کے دن ان کو راضی و خوش نہ کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ نیز جو بھی شخص ان برائیوں کے علاوہ کسی اور بدی و گناہ کا ارتکاب کرے تو وہ بھی درخت زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔

آنحضرت(ص) نے مزید فرمایا: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے مجھ کو نبی(ص) و پیغمبر (ص)بنایا کہ جو لوگ درخت طوبیٰ کی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہونگے وہ انہیں اٹھاکر جنت میں لے جائینگے۔ اس کے بعد رسول اﷲﷺ نے چند لمحوں کیلئے اپنی نگاہ آسمان کیطرف بلند کی تو آپ خوش ہوئے اور ہنسے پھر اپنی نگاہ زمین پر ڈالی اور آپ(ص) کا چہرہ مبارک کچھ ترش ہوا۔ تب اپنے اصحاب کی سمت دیکھتے ہوئے فرمایا مجھ کو قسم ہے ا س ہستی کی جس نے مجھے پیغمبر(ص) قرار دیا کہ میں نے شجر طوبیٰ کو بلند ہوتے اور اپنے سے لپٹے ہوئے لوگوں کو جنت کیطرف لے جاتے دیکھا ہے۔ بقدر اپنی اطاعت و نیکوکاری کے کہ اسکی ایک شاخ یا کئی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے تھے میں نے دیکھا کہ زید بن حارثہ اسکی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور وہ انکو جنت کے مقام اعلیٰ علیین کیطرف بلند کرتی جارہی ہیں یہ دیکھ کر میں خوش ہوا اور ہنسا۔پھر میں نے زمین پر نظر ڈالی تو قسم ہے اس ہستی کی جس نے مجھ کونبی(ص) بنایا۔ کہ میں نے درخت زقوم کو دیکھا کہ اس کی شاخیں نیچے کو جارہی ہیں اور جو لوگ اپنی برائیوں کے مطابق اس کی ایک یا کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے کی طرف لے جارہی ہیں۔ اس سے میرے چہرے پر بیزاری کے آثار ظاہر ہوئے تھے۔اور اس کے ساتھ کئی منافق لپٹے ہوئے تھے۔

تیسری شعبان کا دن

یہ بڑا با برکت دن ہے شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ اس روز امام حسین کی ولادت ہوئی نیز امام عسکری کے وکیل قاسم بن علا ہمدانی کیطرف سے فرمان جاری ہؤا کہ بروز جمعرات ۳ /شعبان کو امام حسین کی ولادت باسعادت ہوئی ہے۔ پس اس دن کا روزہ رکھو اور اس روز یہ دعا پڑھو:

اَللّٰھُمَّ إنِّی اَسْاَ لُکَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ فِی ھذَا الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ بِشَہادَتِہِ قَبْلَ اسْتِھْلالِہِ

اے معبود! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں آج کے دن پیدا ہونیوالے مولود کے واسطے سے کہ جس کے پیدا ہونے اور دنیا میں

وَوِلادَتِہِ، بَکَتْہُ السَّمائُ وَمَنْ فِیہا، وَالْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْہا، وَلَمَّا یَطَٲْ لابَتَیْہا

آنے سے پہلے اس سے شہادت کا وعدہ لیا گیا تو اس پر آسمان رویا اور جو کچھ اس میں ہے اور زمین اور جو کچھ اس پر ہے روے جبکہ

قَتِیلِ الْعَبْرَۃِ، وَسَیِّدِ الْاُسْرَۃِ، الْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَۃِ یَوْمَ الْکَرَّۃِ، الْمُعَوَّض ِ مِنْ

اس نے زمین مدینہ پر قدم نہ رکھا تھا وہ گریہ والا شہید اور کامیاب و کامران خاندان کا سید و سردار ہے رجعت کے دن، یہ اس کی

قَتْلِہِ اَنَّ الْاَئِمَّۃَ مِنْ نَسْلِہِ، وَالشِّفائَ فِی تُرْبَتِہِ، وَالْفَوْزَ مَعَہُ فِی اَوْبَتِہِ،

شہادت کا بدلہ ہے کہ پاک آئمہ (ع)اس کی اولاد میں سے ہوئے اس کی خاکِ قبر میں شفائ ہے اور اس کی بازگشت میں کامیابی اسی کے

وَالْاَوْصِیائَ مِنْ عِتْرَتِہِ بَعْدَ قائِمِھِمْ وَغَیْبَتِہِ، حَتّی یُدْرِکُوا الْاَوْتارَ، وَیَثْاَرُوا الثَّارَ،

لیے ہے اور اوصیائ اسی کی اولاد میں سے ہیں کہ ان میں سے قائم غیبت ختم ہونے کے بعد وہ اپنے خون کا بدلہ اور انتقام لے کر تلافی

وَیُرْضُوا الْجَبَّارَ وَیَکُونُوا خَیْرَ اَنْصارٍ صَلَّی اللّهُ عَلَیْھِمْ مَعَ اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّھار

کرنے والے خدا کو راضی کریںگے اور بہترین مددگار ثابت ہوںگے درود ہوان سب پر جب تک رات دن آتے جاتے رہیں

اَللّٰھُمَّ فَبِحَقِّھِمْ إلَیْکَ اَ تَوَسَّلُ وَاَسْاَلُ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُعْتَرِفٍ مُسِیئٍ إلی نَفْسِہِ

اے معبود ان کا حق جو تجھ پر ہے اسے وسیلہ بناتا ہوں اور سوال کرتا ہوں اپنا گناہ تسلیم کرنے والے کیطرح کہ جس نے اپنے نفس

مِمَّا فَرَّطَ فِی یَوْمِہِ وَاَمْسِہِ، یَسْاَ لُکَ الْعِصْمَۃَ إلی مَحَلِّ رَمْسِہِ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلی

سے برائی کی ہے آج کے دن اور گزری ہوئی رات میں تو وہ سوال کرتا ہے اپنی موت کے دن تک کیلئے اے معبود! پس حضرت محمد(ص) اور

مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِہِ، وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِہِ ، وَبَوّئْنا مَعَہُ دارَ الْکَرامَۃِ، وَمَحَلَّ الْاِقامَۃِ ۔

انکے خاندان پر رحمت فرما اور ہمیں اسکے گروہ میں محشور فرما اور ہمیں بزرگی والے گھر اور جائے قیام کے سلسلے میں انکے ساتھ جگہ دے

اَللّٰھُمَّ وَکَما اَکْرَمْتَنا بِمَعْرِفَتِہِ فَاَکْرِمْنا بِزُلْفَتِہِ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَہُ وَسابِقَتَہُ،

اے معبود! جیسے تو نے ان کی معرفت کے ساتھ ہمیں عزت دی اسی طرح ان کے تقرب سے بھی نوازا اور ہمیں ان کی رہنمائی عطا کر

وَاجْعَلْنا مِمَّنْ یُسَلِّمُ لاََِمْرِھِ، وَیُکْثِرُ الصَّلاۃَ عَلَیْہِ عِنْدَ ذِکْرِھِ، وَعَلی جَمِیعِ

اور انکی ہمراہی نصیب فرما ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کاحکم مانتے اور ان کے ذکر کے وقت ان پر بکثرت درود بھیجتے ہیں نیز

اَوْصِیائِہِ وَاَھْلِ اَصْفِیائِہِ، الْمَمْدُودِینَ مِنْکَ بِالْعَدَدِ الاثْنَی عَشَرَ، النُّجُومِ الزُّھَرِ،

ان کے سارے جانشینوں پر اور برگزیدہ اہل خاندان پر جن کی تعداد کو تو نے بارہ تک پورا فرمایا ہے جو چمکتے ہوئے ستارے ہیں

وَالْحُجَجِ عَلی جَمِیعِ الْبَشَرِ ۔ اَللّٰھُمَّ وَھَبْ لَنا فِی ہذَا الْیَوْمِ خَیْرَ مَوْھِبَۃٍ، وَاَ نْجِحْ

اور وہ تمام انسانوں پرخدا کی حجتیں ہیںاے معبود! آج کے دن ہمیں بہتریں عطاؤں سے سرفراز فرما اور ہماری سبھی حاجات

لَنا فِیہِ کُلَّ طَلِبَۃٍ، کَما وَھَبْتَ الْحُسَیْنَ لُِمحَمَّدٍ جَدِّھِ، وَعاذَ فُطْرُسُ بِمَھْدِھِ، فَنَحْنُ

پوری کر دے جیسے تو نے حسین(ع) کے نانا حضرت محمد(ص) کو خود حسین(ع) عطا فرمائے تھے اور فطرس نے انکے گہوارے کی پناہ لی پس ہم انکے روضہ

عائِذُونَ بِقَبْرِھِ مِنْ بَعْدِھِ نَشْھَدُ تُرْبَتَہُ وَنَنْتَظِرُ اَوْبَتَہُ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔

کی پناہ لیتے ہیں انکے بعد اب ہم انکے روضہ کی زیارت کرتے ہیں اور انکی رجعت کے منتظر ہیں ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پالنے والے۔

اس کے بعد امام حسین کی دعا پڑھے کہ جو آپ نے یوم عاشورہ کوپڑھی جب کہ آپ دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اور وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ اَ نْتَ مُتَعالی الْمَکانِ، عَظِیمُ الْجَبَرُوتِ، شَدِیدُ الْمِحالِ، غَنِیٌّ عَنِ الْخَلائِقِ،

اے معبود! تو بلند تر منزلت رکھتا ہے تو بڑے ہی غلبے والا ہے زبردست طاقت والا، مخلوقات سے بے نیاز،

عَرِیضُ الْکِبْرِیائِ قادِرٌ عَلی مَا تَشائُ قَرِیبُ الرَّحْمَۃِ ، صَادِقُ الْوَعْدِ، سَابِغُ النِّعْمَۃِ،

بے حد و حساب بڑائی والاہے جو چاہے اس پر قادر، رحمت کرنے میں قریب، وعدے میں سچا، کامل نعمتوں والا،

حَسَنُ الْبَلائِ، قَرِیبٌ إذا دُعِیتَ، مُحِیطٌ بِما خَلَقْتَ، قابِلُ التَّوْبَۃِ لِمَنْ تابَ إلَیْکَ،

بہترین آزمائش کرنے والاہے تو قریب ہے جب پکارا جائے جسکو پیدا کیا تو اسے گھیرے ہوئے ہے تو اسکی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے

قادِرٌ عَلی مَا اَرَدْتَ ، وَمُدْرِکٌ مَا طَلَبْتَ، وَشَکُورٌ إذا شُکِرْتَ، وَذَ کُورٌ إذا ذُکِرْتَ،

تو جو ارادہ کرے اس پر قادر ہے جسے تو طلب کرے اسے پالینے والا ہے اور جب تیرا شکر کیا جائے تو قدر کرتا ہے تجھے یاد کیا جائے

اَدْعُوکَ مُحْتاجاً، وَاَرْغَبُ إلَیْکَ فَقِیراً، وَاَ فْزَعُ إلَیْکَ خائِفاً، وَاَبْکِی إلَیْکَ

تو بھی یاد کرتا ہے میں حاجتمندی میں تجھے پکارتا اور مفلسی میں تیری رغبت کرتا ہوں تیرے خوف سے گھبراتا ہوں مصیبت میں تیرے

مَکْرُوباً، وَاَسْتَعِینُ بِکَ ضَعِیفاً، وَاَ تَوَکَّلُ عَلَیْکَ کافِیاً، احْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ قَوْمِنا

آگے روتا ہوں کمزوری کے باعث تجھ سے مدد مانگتا ہوں تجھے کافی جان کر توکل کرتا ہوں فیصلہ کردے ہمارے اور ہماری قوم کے

بِالْحَقِّ، فَ إنَّھُمْ غَرُّونا وَخَدَعُونا وَخَذَلُونا وَغَدَرُوا بِنا وَقَتَلُونا، وَنَحْنُ عِتْرَۃُ نَبِیِّکَ

درمیان کہ انہوں نے ہمیں فریب دیا اور ہم سے دھوکہ کیا ہمیں چھوڑدیا اور بے وفائی کی اور ہمیں قتل کیا جبکہ ہم تیرے نبی(ص) کا گھرانہ اور

وَوَلَدُ حَبِیبِکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللّهِ الَّذِی اصْطَفَیْتَہُ بِالرِّسالَۃِ وَائْتَمَنْتَہُ عَلی وَحْیِکَ،

تیرے حبیب محمد(ص) بن عبداللہ کی اولاد ہیں جن کو تو نے تبلیغ رسالت کے لیے چنا اور انہیں اپنی وحی کا امین بنایا

فَاجْعَلْ لَنا مِنْ اَمْرِنا فَرَجاً وَمَخْرَجاً بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

پس اس معاملے میں ہمیں کشادگی اور فراخی دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔

ابن عیاش سے روایت ہے کہ میں نے حسین بن علی بن سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام جعفر صادق تین شعبان کو مذکورہ دعا پڑھتے اور فرماتے تھے کہ یہ امام حسین کی پاک ولادت کا دن ہے۔

تیرھویں شعبان کی رات

یہ شب ہائے بیض﴿روشن راتوں﴾ میں سے پہلی رات ہے، اس رات اور اس کے بعد کی دونوں راتوں میں پڑھی جانے والی نمازوں کی ترکیب ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔ پس ا سکے مطابق یہ نمازیں ادا کی جائیں۔

فضیلت و اعمال نیمہ شعبان

پندرھویں شعبان کی رات

یہ بڑی بابرکت رات ہے، امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ امام محمد باقر سے نیمہ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس رات خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے حق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت و نافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے۔ جیسے شب قدر کو رسول اکرمﷺ کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمد و ثنائ الٰہی کرنا اس سے دعا و مناجات میں مصروف رہنا چاہیئے۔

اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصر حضرت امام مہدی ﴿عج﴾کی ولادت باسعادت ہے جو ۵۵۲ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی جس سے اس رات کو فضیلت نصیب ہوئی۔

اس رات کے چند ایک اعمال ہیں :

﴿۱﴾غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہوجاتے ہیں۔

﴿۲﴾نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین کا فرمان ہے، کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی۔ جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہوجائیں گے۔

﴿۳﴾اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیںجو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروںکی ارواح اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرت (ع) کی چھوٹی سے چھوٹی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرکے یہ کلمات کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّهِ وَ بَرَکَاتُہُ

سلام ہو آپ پر اے ابوعبدا(ع)للہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں

کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسین کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔نیز اس رات کی مخصوص زیارت انشائ اللہ باب زیارات میںآئیگی۔

﴿۴﴾شیخ و سید نے اس رات یہ دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے، جو امام زمانہ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا ھذِہِ وَمَوْلُودِھا وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِھَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِھا فَضْلاً

اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجت (ع)اور اس کے موعود (ع)کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی

فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَاَلِّقُ

اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموں کو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ

وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ

﴿مہدی موعود(ع)﴾ تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاںو پوشیدہ ہے اس کی

مَوْلِدُھُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُھُ، وَالْمَلائِکَۃُ شُہَّدُھُ، وَاللّهُ ناصِرُھُ وَمُؤَیِّدُھُ، إذا آنَ مِیعادُھُ

ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے ا س کے گواہ ہیں اور اللہ ا سکا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا

وَالْمَلائِکَۃُ اَمْدادُھُ، سَیْفُ اللّهِ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُھُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ

اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے

الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّھْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاۃُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْھِمْ

جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومین(ع) ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے

مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَاَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَۃُ وَحْیِہِ، وَوُلاۃُ اَمْرِھِ

انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی

وَنَھْیِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِھِمْ وَقائِمِھِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ وَاَدْرِکْ

کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ

بِنا اَیَّامَہُ وَظُھُورَھُ وَقِیامَہُ، وَاجْعَلْنا مِنْ اَ نْصارِھِ، وَاقْرِنْ ثٲْرَنا بِثَٲْرِھِ، وَاکْتُبْنا

اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے

فِی اَعْوانِہِ وَخُلَصائِہِ، وَاَحْیِنا فِی دَوْلَتِہِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِہِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّہِ

مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اسکی صحبت سے بہرہ یاب فرما اسکے حق میں قیام کرنے

قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،

والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوںکا پروردگار ہے

وَصَلَواتُہُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعَلَی اَھْلِ بَیْتِہِ الصَّادِقِینَ

اور اسکی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمد(ص) پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں اور انکے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور انکے

وَعِتْرَتِہِ النَّاطِقِینَ، وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ، وَاحْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَھُمْ یَا اَحْکَمَ الْحاکِمِینَ۔

اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں اور لعنت کرتمام ظلم کرنے والوں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔

﴿۵﴾شیخ نے اسماعیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

امام جعفر صادق نے پندرہ شعبان کی رات کو پڑھنے کیلئے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ الْخالِقُ الرَّازِقُ الْمُحْیِی الْمُمِیتُ الْبَدِیئُ

اے معبود! تو زندہ وپائندہ، بلندتر، بزرگتر خلق کرنے والا، رزق دینے والا، زندہ کرنے والا، موت دینے والا، آغاز کرنے

الْبَدِیعُ لَکَ الْجَلالُ وَلَکَ الْفَضْلُ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمَنُّ وَلَکَ الْجُودُ وَلَکَ الْکَرَمُ

اور ایجاد کرنے والا ہے تیرے لیے جلالت اور تیرے ہی لیے بزرگی ہے تیری ہی حمد ہے اور تو ہی احسان کرتا ہے اور تو ہی سخاوت والا ہے

وَلَکَ الْاَمْرُ، وَلَکَ الْمَجْدُ، وَلَکَ الشُّکْرُ، وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ، یَا واحِدُ یَا

تو ہی صاحب کرم اور تو ہی امر کا مالک ہے تو ہی شان والا اور تو ہی لائق شکر ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اے یکتا، اے

اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً اَحَدٌ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ

یگانہ، اے بے نیاز، اے وہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے حضرت محمد(ص) اور آل محمد(ص)

آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاکْفِنِی مَا اَھَمَّنِی وَاقْضِ دَیْنِی، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی

پر رحمت فرما اور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت فرما کٹھن کاموں میں میری کفایت فرما میرا قرض ادا کردے میرے رزق میں

رِزْقِی، فَ إنَّکَ فِی ہذِھِ اللَّیْلَۃِ کُلَّ اَمْرٍ حَکِیمٍ تَفْرُقُ، وَمَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِکَ تَرْزُقُ،

کشائش فرما کہ تو اسی رات میں ہر حکمت والے کام کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے رزق و روزی دیتا ہے،

فَارْزُقْنِی وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ، فَ إنَّکَ قُلْتَ وَاَ نْتَ خَیْرُ الْقائِلِینَ النَّاطِقِینَ

پس مجھے بھی رزق دے کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے یقینا یہ تیرا ہی فرمان ہے اور تو بہتر ہے سب کہنے والوں بولنے

وَاسْاَلُوا اللّهَ مِنْ فَضْلِہِ فَمِنْ فَضْلِکَ اَسْاَلُ وَ إیَّاکَ قَصَدْتُ، وَابْنَ نَبِیِّکَ اعْتَمَدْتُ،

والوں میں کہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل میں سے پس میں تیرے فضل کا سوال کرتاہوں اور بس تیرا ہی ارادہ رکھتا ہوںتیرے

وَلَکَ رَجَوْتُ، فَارْحَمْنِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

نبی(ص) کے فرزند کو اپنا سہارابناتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

﴿۶﴾یہ دعا پڑھے کہ رسول اکرمﷺ اس رات یہ دعا پڑھتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا یَحُولُ بَیْنَنا وَبَیْنَ مَعْصِیَتِکَ، وَمِنْ

اے معبود! ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے اور ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور

طاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنا بِہِ رِضْوانَکَ، وَمِنَ الْیَقِینِ مَا یَھُونُ عَلَیْنا بِہِ

فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اور اتنا یقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں

مُصِیباتُ الدُّنْیا ۔ اَللّٰھُمَّ اَمْتِعْنا بِاَسْماعِنا وَاَبْصارِنا وَقُوَّتِنا مَا اَحْیَیْتَنا وَاجْعَلْہُ

سبک معلوم ہوں اے معبود! جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں ہمارے کانوں، آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم(ع) کو ہمارا

الْوارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثٲْرَنا عَلَی مَنْ ظَلَمَنا، وَانْصُرْنا عَلَی مَنْ عادانا، وَلاَ تَجْعَلْ

وارث بنا اور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما اور ہمارے دین میں

مُصِیبَتَنا فِی دِینِنا، وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْیا اَکْبَرَ ھَمِّنا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنا، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیْنا

ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پر اس شخص کو غالب نہ کر

مَنْ لاَ یَرْحَمُنا، بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

جو ہم پر رحم نہ کرے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے۔

یہ دعا جامع و کامل ہے۔ پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھیں۔ جیسا کہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔

﴿۷﴾وہ صلوٰت پڑھے جو ہر روز بوقت زوال پڑھا جاتا ہے۔

﴿۸﴾اس رات دعاء کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے اور یہ دعا باب اول میں ذکر ہوچکی ہے۔

﴿۹﴾یہ تسبیحات سو مرتبہ پڑھے تا کہ حق تعالی ٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردے اور دنیا وآخرت کی حاجات پوری فرما دے:

سُبْحَانَ اللّهِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ اﷲ اَکْبَرُ وَ لَا اِلَہَ اِلَّا اﷲ

اللہ پاک تر ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے اللہ بزرگتر ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

﴿10﴾مصباح میں شیخ نے ابو یحییٰ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے امام جعفر صادق سے پوچھا کہ اس رات کیلئے بہترین دعا ئ کونسی ہے؟

حضرت نے فرمایا اس رات نمازِعشا کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سور ہ الحمد اور سورہ توحید پڑھے نماز کا سلام دینے کے بعد ۳۳/مرتبہ سبحان اللہ۔ ۳۳ /مرتبہ الحمد للہ اور 34/مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ بعد میں یہ دعا پڑھے:

یَا مَنْ إلَیْہِ مَلْجَٲُ الْعِبادِ فِی الْمُھِمَّاتِ وَ إلَیْہِ یَفْزَعُ الْخَلْقُ فِی الْمُلِمّاتِ یَا عالِمَ

اے وہ جو مشکل کاموں میں بندوں کی پناہ گاہ ہے اور جس کی طرف لوگ ہر مصیبت کے وقت فریادی ہوتے ہیں اے سب چھپی اور

الْجَھْرِ وَالْخَفِیّاتِ، یَا مَنْ لاَ تَخْفی عَلَیْہِ خَواطِرُ الْاَوْھامِ وَتَصَرُّفُ الْخَطَراتِ، یَا

کھلی چیزوں کے جاننے والے اے وہ جس پر لوگوں کے وہم و خیال اور دلوں میں گردش کرنے والے اندیشے بھی پوشیدہ نہیںاے

رَبَّ الْخَلائِقِ وَالْبَرِیَّاتِ، یَا مَنْ بِیَدِھِ مَلَکُوتُ الْاَرَضِینَ وَالسَّماواتِ، اَ نْتَ اللّهُ لاَ

مخلوقات و موجودات کے پروردگار اے وہ ذات کہ زمینوں اور آسمانوں کی حکمرانی جس کے قبضہ قدرت میں ہے تو ہی معبود ہے

إلہَ إلاَّ اَ نْتَ، اَمُتُّ إلَیْکَ بِلا إلہَ إلاَّ اَ نْتَ، فَیا لا إلہَ إلاَّ اَ نْتَ اجْعَلْنِی فِی

تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تیری طرف متوجہ ہوں اس لیے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیںپس اے ﴿اﷲ﴾ تیرے سوا کوئی معبود نہیں

ہذِھِ اللَّیْلَۃِ مِمَّنْ نَظَرْتَ إلَیْہِ فَرَحِمْتَہُ، وَسَمِعْتَ دُعائَہُ فَاَجَبْتَہُ،

اس رات میں مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن پر تو نے نظر کرم فرمائی تو نے ان پر مہربانی کی ان کی دعا سنی تو نے اور اسے شرف

وَعَلِمْتَ اسْتِقالَتَہُ فَاَ قَلْتَہُ، وَتَجاوَزْتَ عَنْ سالِفِ خَطِیئَتِہِ وَعَظِیمِ جَرِیرَتِہِ،

قبولیت بخشا تو ان کی پشیمانی سے آگاہ ہوا تو انہیں معاف کردیا اور ان کے سب پچھلے گناہوں اور بڑے بڑے جرائم پر عفو ودرگذر

فَقَدِ اسْتَجَرْتُ بِکَ مِنْ ذُ نُوبِی، وَلَجَٲْتُ إلَیْکَ فِی سَتْرِ عُیُوبِی ۔

سے کام لیا پس میں اپنے گناہوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں اور اپنے عیبوں کی پردہ پوشی کے لیے تجھ سے التجا کرتا ہوں

اَللّٰھُمَّ فَجُدْ عَلَیَّ بِکَرَمِکَ وَفَضلِکَ وَاحْطُطْ خَطایایَ بِحِلْمِکَ وَعَفْوِکَ وَتَغَمَّدْنِی

اے معبود! مجھ پر اپنے فضل و کرم سے عطا و بخشش فرما اور اپنی نرم خوئی اور درگزر کے ذریعے میری خطائیں بخش دے اس رات میں

فِی ہذِھِ اللَّیْلَۃِ بِسابِغِ کَرامَتِکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہا مِنْ اَوْلِیائِکَ الَّذِینَ اجْتَبَیْتَھُمْ

مجھ کو اپنے انتہائی کرم کے سائے تلے لے لے اور اس شب میں مجھے اپنے ان پیاروں میں قرار دے جن کو تو نے اپنی

لِطاعَتِکَ، وَاخْتَرْتَھُمْ لِعِبادَتِکَ، وَجَعَلْتَھُمْ خالِصَتَکَ وَصِفْوَتَکَ ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی

فرمانبرداری کیلئے پسند کیا اپنی عبادت کے لیے چنا اور ان کو اپنے خاص الخاص اور برگزیدہ بنایا ہے اے معبود! مجھے ان لوگوں

مِمَّنْ سَعَدَ جَدُّھُ، وَتَوَفَّرَ مِنَ الْخَیْراتِ حَظُّہُ، وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ سَلِمَ فَنَعِمَ، وَفازَ

میں قرار دے جنکا نصیب اچھا اور نیک کاموں میں جن کا حصہ زیادہ ہے اور مجھے ان لوگوںمیںرکھ جو تندرست، نعمت یافتہ، کامران

فَغَنِمَ وَاکْفِنِی شَرَّ مَا اَسْلَفْتُ، وَاعْصِمْنِی مِنَ الازْدِیادِ فِی مَعْصِیَتِکَ، وَحَبِّبْ إلَیَّ

اور فائدہ پانے والے ہیں اور جو کچھ میں نے کیا اس کے شر سے بچا مجھے اپنی نافرمانی میںبڑھ جانے سے محفوظ رکھ مجھے اپنی

طاعَتَکَ وَمَا یُقَرِّبُنِی مِنْکَ وَیُزْلِفُنِی عِنْدَکَ ۔ سَیِّدِی إلَیْکَ یَلْجَٲُ الْہارِبُ،

فرمانبرداری کا شوق دے اور اسکا جو مجھے تیرے قریب کرے اور مجھے تیرا پسندیدہ بنائے میرے سردار، بھاگنے والا، تیرے ہاں پناہ

وَمِنْکَ یَلْتَمِسُ الطَّالِبُ، وَعَلَی کَرَمِکَ یُعَوِّلُ الْمُسْتَقِیلُ التَّائِبُ، اَدَّ بْتَ عِبادَکَ

لیتا ہے طلبگار تیرے حضور عرض کرتا ہے اور پشیمان ہونے اور توبہ کرنے والا تیرے فضل و کرم پر بھروسہ کرتا ہے تو اپنی کریمی و مہربانی

بِالتَّکَرُّمِ وَاَ نْتَ اَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ، وَاَمَرْتَ بِالْعَفْوِ عِبادَکَ وَاَ نْتَ الْغَفُورُ

سے بندوں کی پرورش کرتا ہے اور تو سب سے زیادہ کرم کرنیوالا ہے تو نے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا حکم دیا اور تو بہت بخشنے والا

الرَّحِیمُ ۔ اَللّٰھُمَّ فَلا تَحْرِمْنِی مَا رَجَوْتُ مِنْ کَرَمِکَ، وَلا تُؤْیِسْنِی مِنْ سابِغِ نِعَمِکَ،

رحم کرنے والا ہے اے معبود! پس میں نے تیرے کرم کی جو امید لگارکھی ہے اس سے محروم نہ کرمجھے اپنی کثیر نعمتوں سے ناامید نہ ہونے

وَلاَ تُخَیِّبْنِی مِنْ جَزِیلِ قِسَمِکَ فِی ھذِہِ اللَّیْلَۃِ لاََِھْلِ طاعَتِکَ وَاجْعَلْنِی فِی جُنَّۃٍ مِنْ

دے اور آج کی رات اس بیشتر عطا سے محروم نہ کر جو تو نے اپنے فرمانبرداروںکیلئے مقرر کی ہوئی ہے اور مجھے اپنی مخلوق کی اذیتوں

شِرارِ بَرِیَّتِکَ، رَبِّ إنْ لَمْ اَکُنْ مِنْ اَھْلِ ذلِکَ فَاَ نْتَ اَھْلُ الْکَرَمِ وَالْعَفْوِ وَالْمَغْفِرَۃِ،

سے امان میں قرار رکھ میرے پروردگار! اگر میں اس سلوک کے لائق نہیںپس تو مہربانی کرنے، معافی دینے اور بخش دینے کا اہل ہے

وَجُدْ عَلَیَّ بِما اَ نْتَ اَھْلُہُ لاَ بِما اَسْتَحِقُّہُ فَقَدْ حَسُنَ ظَنِّی بِکَ، وَتَحَقَّقَ رَجائِی لَکَ

اور مجھ پر ایسی بخشش فرما جو تیرے لائق ہے نہ وہ کہ جس کامیں حقدار ہوںپس میں تجھ سے اچھا گمان رکھتا ہوںمیری امید تجھی سے لگی ہوئی ہے

وَعَلِقَتْ نَفْسِی بِکَرَمِکَ فَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَاَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ

اور میرا نفس تیرے کرم سے تعلق جوڑے ہوئے ہے جبکہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر مہربانی کرنیوالا ہے

اَللّٰھُمَّ وَاخْصُصْنِی مِنْ کَرَمِکَ بِجَزِیلِ قِسَمِکَ، وَاَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ،

اے معبود! مجھے اپنی مہربانی و بخشش سے زیادہ حصہ دینے میں خصوصیت عطافرما اور میںتیرے عذاب سے، تیرے عفو کی پناہ لیتا ہوں

وَاغْفِرْ لِیَ الذَّنْبَ الَّذِی یَحْبِسُ عَلَیَّ الْخُلُقَ وَیُضَیِّقُ عَلَیَّ الرِّزْقَ حَتَّی اَقُومَ

میرا وہ گناہ بخش دے کہ جس نے مجھ کو بدخلقی میں پھنسادیا اور میری روزی میں تنگی کا باعث ہے تاکہ میں تیری بہترین رضا

بِصالِحِ رِضاکَ، وَاَ نْعَمَ بِجَزِیلِ عَطائِکَ، وَاَسْعَدَ بِسابِغِ نَعْمائِکَ، فَقَدْ لُذْتُ

حاصل کرسکوں تو اپنی مہربانی سے مجھے نعمتیں عنایت فرما اور اپنی کثیر نعمتوں سے مجھے بہرہ مند کردے کیونکہ میں نے تیرے آستان پر

بِحَرَمِکَ وَتَعَرَّضْتُ لِکَرَمِکَ وَاسْتَعَذْتُ بِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَبِحِلْمِکَ مِنْ غَضَبِکَ

پناہ لی اور تیری بخشش کی امید لگائے ہوں اور میں تیرے عذاب سے عفو کی پناہ لیتا ہوں اور تیرے غضب سے تیری نرم خوئی کی پناہ لیتا ہوں

فَجُدْ بِما سَاَلْتُکَ، وَاَنِلْ مَا الْتَمَسْتُ مِنْکَ، اَسْاَ لُکَ بِکَ لاَبِشَیْئٍ

پس مجھے وہ دے جس کا میںنے تجھ سے سوال کیا ہے اس میںکامیاب کر جس کی تجھ سے خواہش کی ہے میں تجھ سے تیرے ہی

ھُوَ اَعْظَمُ مِنْکَ ۔ پھر سجدے میں جاکر بیس مرتبے کہے : یَا رَبِّ سات مرتبہ: یَا اَﷲ سات مرتبہ:

ذریعے سوال کرتا ہوں کہ تجھ سے بزرگتر کوئی چیز نہیں ہے ۔ اے پروردگار اے معبود

لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّهِ دس مرتبہ مَا شَائَ اﷲ اور دس مرتبہ: لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّهِ کہے:

نہیںکوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اللہ سے ہے جو کچھ خدا چاہے نہیں کوئی قوت مگر خدا کی۔

پھر رسول اللہ ﷺ اور ان کی آل پر درود بھیجے اور بعد میں اپنی حاجات طلب کرے۔ قسم بخدا اگر کسی کی حاجات بارش کے قطروں جتنی ہوںتو بھی حق تعالیٰ اپنے وسیع فضل و کرم اور اس عمل کی برکت سے وہ تمام حاجات برلائے گا۔

﴿۱۱﴾شیخ طوسی اور کفعمی نے فرمایا ہے کہ اس رات یہ دعا پڑھے:

إلھِی تَعَرَّضَ لَکَ فِی ہذَا اللَّیْلِ الْمُتَعَرِّضُونَ، وَقَصَدَکَ الْقاصِدُونَ

میرے معبود! طلب کرنیوالوں نے آج رات خود کو تیرے ہی سامنے پیش کیا ہے ارادہ کرنیوالوں نے تیری ہی بارگاہ کا ارادہ کیا ہے

وَاَمَّلَ فَضْلَکَ وَمَعْرُوفَکَ الطّالِبُونَ، وَلَکَ فِی ہذَا اللَّیْلِ نَفَحاتٌ

اور حاجتمندوں نے تیری ہی فضل و احسان سے امید باندھی ہوئی ہے آج کی رات تیری مہربانیاں، تیری بخشش، تیری عطائیں

وَجَوائِزُ وَعَطایا وَمَواھِبُ تَمُنُّ بِہا عَلَی مَنْ تَشائُ مِنْ عِبادِکَ، وَتَمْنَعُہا مَنْ لَمْ

اور تیرے ہی انعام ہیں کہ تو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان سے احسان فرمائے اور جس پر تیری توجہ اور عنایت نہ ہوئی ہو

تَسْبِقْ لَہُ الْعِنایَۃُ مِنْکَ وَھا اَنَا ذا عُبَیْدُکَ الْفَقِیرُ إلَیْکَ الْمُؤَمِّلُ فَضْلَکَ وَمَعْرُوفَکَ

اس سے روک لے اور یہ میںہوں تیراحقیر بندہ کہ تیرا محتاج ہوں اور تیرے فضل و احسان کی امید وار ہوں

فَ إنْ کُنْتَ یَا مَوْلایَ تَفَضَّلْتَ فِی ھذِھِ اللَّیْلَۃِ عَلَی اَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ وَعُدْتَ عَلَیْہِ

پس اے میرے مولا! اگر آج کی رات میں تو اپنی مخلوق میںکسی پر فضل و کرم کرے اور اس کو انعام عطا فرمائے اور وہ انعام عطا

بِعائِدَۃٍ مِنْ عَطْفِکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ الْخَیِّرِینَ

فرمائے جو تیری مہربانی کے ساتھ ہو تو محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما جوپاکیزہ ہیں، نیکو کار ہیں

الْفاضِلِینَ وَجُدْ عَلَیَّ بِطَوْ لِکَ وَمَعْرُوفِکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ

اور با فضیلت ہیں اور اپنے فضل اور احسان سے مجھ پر بخشش کر اے جہانوں کے پالنے والے اور محمد(ص) پر اﷲ کی رحمت ہوجو نبیوں

خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً إنَّ اللّهَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی

میں آخری نبی(ص) ہیں اور ان کی آل(ع) پر جو پاکیزہ ہیں اور سلام ہو بہت سلام بے شک اللہ خوبی والااور شان والا ہے اے معبود! میں

اَدْعُوکَ کَما اَمَرْتَ فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ ۔

تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے تو نے حکم دیا تو اپنے وعدے کے مطابق اسے قبول فرما کیونکہ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

یہ وہ دعا ہے جو نماز شفع کے بعد بھی پڑھی جاتی ہے۔

﴿12﴾اس رات نماز تہجد کی ہر دو رکعت کے بعد اور نماز شفع اور وتر کے بعد وہ دعا پڑھے کہ جو شیخ و سید نے نقل فرمائی ہے۔

﴿13﴾سجدے اور دعائیں جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں وہ بجا لائے اور ان میں سے ایک وہ روایت ہے جو شیخ نے حماد بن عیسیٰ سے ، انہوںنے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ جب پندرہ شعبان کی رات آئی تو اس رات رسول اللہ بی بی عائشہ کے ہاں تھے جب آدھی رات گزرگئی تو آنحضرت(ص) بغرض عبادت اپنے بستر سے اٹھ گئے، بی بی بیدار ہوئیں تو حضور (ص) کو اپنے بستر پر نہ پایا انہیں وہ غیرت آگئی جو عورتوں کا خاصا ہے۔ ان کا گمان تھا کہ آنحضرت(ص) اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ پس وہ چادر اوڑھ کر حضور(ص) کو ڈھونڈتی ہوئی ازواج رسول(ص) کے حجروں میں گئیں۔ مگر آپ(ص) کو کہیں نہ پایا۔ پھر اچانک ان کی نظر پڑی تو دیکھا کہ آنحضرت(ص) زمین پر مثل کپڑے کے سجدے میں پڑے ہیں۔ وہ قریب ہوئیں تو سناکہ حضور(ص) سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں۔

سَجَدَ لَکَ سَوادِی وَخَیالِی، وَ آمَنَ بِکَ فُؤادِی، ہذِھِ یَدایَ وَمَا جَنَیْتُہُ

سجدہ کیا تیرے آگے میرے بدن اور میرے خیال نے اور ایمان لایا ہے تجھ پر میرا دل یہ ہیںمیرے دونوں ہاتھ اور جو ستم میں نے

عَلَی نَفْسِی، یَا عَظِیمُ تُرْجی لِکُلِّ عَظِیمٍ اغْفِرْ لِیَ الْعَظِیمَ فَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذَّنْبَ

خود پر کیا ہے اے بڑائی والے جس سے امید ہے بڑے کام کی تو میرے بڑے بڑے گناہ بخش دے کیونکہ بڑے گناہوں کو سوائے

الْعَظِیمَ إلاَّ الرَّبُّ الْعَظِیمُ ۔

بڑائی والے پروردگار کے کوئی بخش نہیں سکتا۔

پھر آنحضرت سجدے سے سر اٹھا کر دوبارہ سجدے میں گئے اوربی بی عائشہ نے سنا کہ آپ(ص) پڑھ رہے تھے:

اَعُوذُ بِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی اَضائَتْ لَہُ السَّماواتُ وَالْاَرَضُونَ وَانْکَشَفَتْ لَہُ الظُّلُماتُ

پناہ لیتا ہوں میں تیرے نورِ ذات کی جس سے آسمانوں اور زمینوں نے روشنی حاصل کی اور جس سے تاریکیاں چھٹ گئیں

وَصَلَحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ مِنْ فُجْاَۃِ نَقِمَتِکَ، وَمِنْ تَحْوِیلِ عافِیَتِکَ وَمِنْ

اور اسکی بدولت اولین اورآخرین کا کام بن گیا کہ وہ تیرے ناگہانی عذاب سے امن کے چھن جانے اور تیری نعمتوں کے زائل ہو

زَوالِ نِعْمَتِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی قَلْباً تَقِیّاً نَقِیّاً وَمِنَ الشِّرْکِ بَریئاً لاَ کافِراً وَلاَ شَقِیّاً،

جانے کی سختیوں سے بچ گئے اے معبود!مجھے پاک اور پرہیزگار دل دے کہ جو شرک سے پاک ہو اور نہ حق سے انکاری ہو نہ بے رحم ہو۔

پس آپ نے اپنے چہرے کو دونوں طرف سے خاک پر رکھا اور یہ پڑھا:

عَفَّرْتُ وَجْھِیْ فِیْ التُّرَابِ وَحُقَّ لِّیْٓ اَنْ اَسْجُدَ لَکَ

میںنے اپنے چہرے کو خاک پر رکھا ہے اور میرے لیے ضروری ہے کہ تیرے آگے سجدہ کروں

جونہی رسول اکرم اٹھے تو بی بی عائشہ آپ(ص) کو پہچان کر جھٹ سے اپنے بستر پر آلیٹیں۔ جب آنحضرت(ص) اپنے بستر پر آئے تو آپ(ص) نے دیکھا کہ ان بی بی کا سانس تیز تیز چل رہاہے، اس پر آپ(ص) نے فرمایا: تمہارا سانس کیوں اکھڑا ہوا ہے؟ آیا تمہیں نہیں معلوم کہ آج کونسی رات ہے؟ یہ پندرہ شعبان کی رات ہے۔ اس میں روزی تقسیم ہوتی ہے۔ زندگی کی میعاد مقرر ہوتی ہے، حج پر جانے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں گناہگار افراد بخشے جاتے ہیں اور ملائکہ آسمان سے زمین مکہ پر نازل ہوتے ہیں۔

﴿14﴾اس رات نماز جعفر طیار (ع)بجا لائے، جو شیخ نے امام علی رضا سے روایت کی ہے۔

﴿۵۱﴾اس رات کی مخصوص نمازیں پڑھے جو کئی ایک ہیں، ان میں سے ایک وہ نماز ہے جو ابو یحییٰ صنعانی نے حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق سے نیز دیگر تیس معتبر اشخاص نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ کہ فرمایا:

پندرہ شعبان کی رات چار رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہے:

اَللّٰھُمَّ إنِّی إلَیْکَ فَقِیرٌ، وَمِنْ عَذابِکَ خائِفٌ مُسْتَجِیرٌ ۔ اَللّٰھُمَّ لاَ تُبَدِّلِ اسْمِی

اے معبود! میں تیرا محتاج ہوں اور تیرے عذاب سے خوف کھاتا ہوں اور اس سے پناہ ڈھونڈتا ہوں اے معبود! میرا نام تبدیل نہ کر

وَلاَ تُغَیِّرْ جِسْمِی، وَلاَ تَجْھَدْ بَلائِی، وَلاَ تُشْمِتْ بِی اَعْدائِی ، اَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ

اور میرے جسم کو دگرگوں نہ فرما میری آزمائش کو سخت نہ بنا اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوشی نہ دے میں پناہ لیتا ہوں تیرے عفو کی،

عِقابِکَ وَاَعُوذُ بِرَحْمَتِکَ مِنْ عَذابِکَ وَاَعُوذُ بِرِضاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَاَعُوذُ بِکَ

تیرے عذاب سے میں پناہ لیتا ہوں تیری رحمت کی، تیری سزا سے میں پناہ لیتا ہوں تیری رضا کی، تیری ناراضگی سے اور چاہتا ہوں

مِنْکَ، جَلَّ ثَناؤُکَ اَ نْتَ کَما اَ ثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ وَفَوْقَ مَا یَقُولُ الْقائِلُونَ ۔

تجھ سے تیرے ہی ذریعے سے کہ تیری تعریف روشن ہے جیسا کہ تو نے خود ہی اپنی تعریف کی ہے جو تعریف کرنے والوں کے قول سے بلند تر ہے۔

یاد رہے کہ اس رات سو رکعت نماز بجا لانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اس کی ہر رکعت میںسورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے۔ اس کے علاوہ چھ رکعت نماز ادا کرے کہ جس میں سورہ الحمد، سورہ یٰسین، سورہ ملک اور سورہ توحید پڑھی جاتی ہے اور اس کی ترکیب ماہ رجب کے اعمال میں بیان ہوچکی ہے۔

پندرہ شعبان کا دن

پندرہ شعبان کا دن ہمارے بارہویں امام زمانہ ﴿عج﴾ کی ولادت باسعادت کا دن ہے لہذا آج کے دن ہماری بہت بڑی عید ہے آج جہاں بھی کوئی مؤمن ہو اور اس سے جس وقت بھی ہوسکے بارہویں امام مہدی ﴿عج﴾کی زیارت پڑھے اس کا پڑھنا مستحب ہے اور ضروری ہے کہ زیارت پڑھتے وقت آپ کے جلد ظہور کی دعا مانگے سامرہ کے سرداب میں آپ کی زیارت پڑھنے کی زیادہ تاکید ہے کہ یہ آپ کے ظہور کا یقینی مقام ہے اور آپ ہی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔

ماہ شعبان کے باقی اعمال

امام علی رضا سے منقول ہے کہ جو شخص شعبان کے آخری تین دن روزہ رکھ کر ماہ رمضان کے روزوں سے متصل کردے تو حق تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ساٹھ متصل روزوں کا ثواب لکھے گا۔ ابوصلت ہروی سے روایت ہے کہ میں شعبان کے آخری جمعہ کو امام علی رضا کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت(ع) نے مجھ سے فرمایا: اے ابوصلت شعبان کا زیادہ حصہ گزرگیا ہے اور آج اس کا آخری جمعہ ہے۔لہٰذا اس کے گزشتہ دنوں میں تجھ سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں اس کے باقی آنے والے دنوں میں تجھے ان کی تلافی کرلینا چاہیئے اور تمہیں وہ عمل اختیار کرنا چاہیئے جو تمہارے لیے مفید ہو، تمہیں تلاوتِ قرآن اور بہت زیادہ دعا وا ستغفار کرنا چاہیئے نیز خدا کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پر توبہ کرو تا کہ جب ماہ مبارک رمضان آئے تو اس وقت تک تم نے خود کو اپنے رب کے لیے خالص کرلیا ہو۔ اپنے ذمہ کسی کا کوئی حق نہ رہنے دو مگر یہ کہ اسے ادا کردو، اپنے دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ نہ رکھو۔ اگر کوئی گناہ کرتے رہے ہو تو اسے ترک کردو، خدا سے ڈرو اور ظاہر و باطن میں اسی پر بھروسہ رکھو کہ جوشخص خدا پر توکل اور بھروسہ رکھتا ہے تو خدا اس کے لیے کافی ہے پس اس مہینے کے باقی دنوں میں زیادہ تر یہ دعا پڑھا کرو:

اَللّٰھُمَّ اِنْ لَّمْ تَکُنْ غَفَرْتَ لَنَا فِیْمَا مَضٰی مِنْ شَعْبَانَ فَا غْفِرْ لَنَا فِیْمَا بَقِیَ مِنْہُ

اے معبود!اگر تو نے ہمیں شعبان کے گزشتہ دنوں میں گناہوں کی معافی نہیں دی تو بھی اسکے باقی دنوں میں ہمیں بخشش عطا کردے

کیونکہ حق تعالیٰ اس مہینے میں احترام رمضان کے ناطے اپنے بہت زیادہ بندوں کوجہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے شیخ نے حارث بن مغیرہ نضری سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق شعبان کی آخری اور رمضان کی پہلی رات میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ إنَّ ہذَا الشَّھْرَ الْمُبارَکَ الَّذِی ٲُ نْزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ وَجُعِلَ ھُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ

اے معبود! بے شک یہی وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا اور اسے انسانوں کا رہنما قرار دیا گیاکہ اس میں

مِنَ الْھُدی وَالْفُرْقانِ قَدْ حَضَرَ فَسَلِّمْنا فِیہِ وَسَلِّمْہُ لَنا وَتَسَلَّمْہُ مِنّا فِی یُسْرٍ مِنْکَ

ہدایت کی دلیلیں اور حق و باطل کی تفریق ہے قرآن موجود ہے ہمیں اس کیلئے اسے ہمارے لیے سلامت رکھ اور اس کو ہم سے آسانی و

وَعافِیَۃٍ، یَا مَنْ اَخَذَ الْقَلِیلَ وَشَکَرَ الْکَثِیرَ اقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی اَسْاَ لُکَ

امن کے ساتھ لے اے وہ جو مؤخذہ کم اور قدردانی زیادہ کرتا ہے مجھ سے یہ تھوڑا عمل قبول فرما اے معبود! میں سوال کرتا ہوں

اَنْ تَجْعَلَ لِی إلی کُلِّ خَیْرٍ سَبِیلاً، وَمِنْ کُلِّ مَا لاَ تُحِبُّ مانِعاً یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ

تجھ سے کہ میرے لیے نیکی کا ہر راستہ بنا اور جو چیزیں تجھے ناپسند ہیں ان سے باز رکھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

یَا مَنْ عَفا عَنِّی وَعَمَّا خَلَوْتُ بِہِ مِنَ السَّیِّئاتِ یَا مَنْ لَمْ یُؤاخِذْنِی بِارْتِکابِ الْمَعاصِی

اے وہ جس نے مجھے معاف کیا ان گناہوں پر جو میں نے تنہائی میںکیے اے وہ جس نے نافرمانیوںپر میری گرفت نہیں کی

عَفْوَکَ عَفْوَکَ عَفْوَکَ یَا کَرِیمُ إلھِی وَعَظْتَنِی فَلَمْ اَ تَّعِظْ ، وَزَجَرْتَنِی عَنْ مَحارِمِکَ

معاف کر دے معاف کردے معاف کردے اے مہربان اے معبود! تو نے مجھے نصیحت کی میںنے پرواہ نہ کی تو نے حرام کاموں

فَلَمْ اَ نْزَجِرْ، فَما عُذْرِی فَاعْفُ عَنِّی یَا کَرِیمُ، عَفْوَکَ عَفْوَکَ ۔ اَللّٰھُمَّ

سے روکا تو میں ان سے باز نہ آیا پس میرا کوئی عذر نہیں تب بھی مجھے معاف فرما ایمہربان معاف کردے معاف کردے اے معبود!

إنِّی اَسْاَ لُکَ الرَّاحَۃَ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسابِ، عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ

میں مانگتا ہوں تجھ سے موت کے وقت راحت حساب کتاب کے وقت درگزر، تیرے بندے کا گناہ بہت بڑا ہے

فَلْیَحْسُنِ التَّجاوُزُ مِنْ عِنْدِکَ ، یَا اَھْلَ التَّقْوی وَیَا اَھْلَ الْمَغْفِرَۃِ، عَفْوَکَ عَفْوَکَ

پس تیری طرف سے بہترین درگزر ہونی چاہیے اے تقویٰ کے مالک اور اے بخش دینے والے معاف کردے معاف کردے

اَللّٰھُمَّ إنِّی عَبْدُکَ بْنُ عَبْدِکَ بْنُ اَمَتِکَ ضَعِیفٌ فَقِیرٌ إلی رَحْمَتِکَ وَاَ نْتَ مُنْزِلُ الْغِنی

اے معبود! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے اور تیری کنیز کا بیٹا ہوںکمزور ہوں تیری رحمت کا محتاج ہوں اور تو اپنے بندوں پر ثروت و

وَالْبَرَکَۃِ عَلَی الْعِبادِ، قاھِرٌ مُقْتَدِرٌ اَحْصَیْتَ اَعْمالَھُمْ، وَقَسَمْتَ اَرْزاقَھُمْ وَجَعَلْتَھُمْ

برکت نازل کرنے والا زبردست بااختیار ہے تو ان کے اعمال کو شمار کرتا اور ان میں روزی بانٹتا ہے تو نے انہیں

مُخْتَلِفَۃً اَ لْسِنَتُھُمْ وَاَ لْوانُھُمْ خَلْقاً مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَلاَ یَعْلَمُ الْعِبادُ عِلْمَکَ، وَلاَ یَقْدِرُ

مختلف زبانوں اور رنگوں والے بنایا کہ ہر مخلوق کے بعد دوسری مخلوق ہے بندے تیرے علم کو نہیں جانتے اور نہ ہی بندے تیری قدرت

الْعِبادُ قَدْرَکَ، وَکُلُّنا فَقِیرٌ إلی رَحْمَتِکَ، فَلا تَصْرِفْ عَنِّی وَجْھَکَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ

کا اندازہ کرسکتے ہیں ہم سب تیری رحمت کے محتاج ہیں پس ہم سے اپنی توجہ ہرگز نہ ہٹا مجھے عمل آرزو قسمت اور مقدر کے اعتبار سے

صالِحِی خَلْقِکَ فِی الْعَمَلِ وَالْاَمَلِ وَالْقَضائِ وَالْقَدَرِ اَللّٰھُمَّ اَبْقِنِی خَیْرَ الْبَقائِ وَاَفْنِنِی

اپنے صالح و نیکوکار بندوں میں سے قرار دے اے معبود! مجھے زندہ رکھ بہتر زندگی میں اور موت دے تو

خَیْرَ الْفَنائِ عَلَی مُوالاۃِ اَوْ لِیائِکَ، وَمُعاداۃِ اَعْدائِکَ وَالرَّغْبَۃِ إلَیْکَ، وَالرَّھْبَۃِ مِنْکَ

بہترین موت دے جو تیرے دوستوں کی دوستی اور تیرے دشمنوں سے دشمنی میں فہو نیز میری موت و حیات تیری رغبت، تجھ سے خوف

وَالْخُشُوعِ وَالْوَفائِ وَالتَّسْلِیمِ لَکَ، وَالتَّصْدِیقِ بِکِتابِکَ ، وَاتِّباعِ سُنَّۃِ رَسُو لِکَ

تیرے سامنے عاجزی وفاداری تیرا حکم ماننے تیری کتاب کوسچی جاننے اور تیرے رسول(ص) کی سنت کی پیروی میںہو

اَللّٰھُمَّ مَا کانَ فِی قَلْبِی مِنْ شَکٍّ اَوْ رِیبَۃٍ اَوْ جُحُودٍ اَوْ قُنُوطٍ اَوْ فَرَحٍ اَوْ بَذَخٍ اَوْبَطَرٍ

اے معبود! میرے دل میں جو بھی شک یا گمان یا ضدیت یا نا امیدی یا سرمستی یا تکبر یا بے فکری

اَوْ خُیَلائَ اَوْ رِیائٍ اَوْ سُمْعَۃٍ اَوْ شِقاقٍ اَوْ نِفاقٍ اَوْ کُفْرٍ اَوْ فُسُوقٍ اَوْ عِصْیانٍ اَوْ

یا خود خواہی یا ریاکاری یا شہرت طلبی یا سنگدلی یا دورنگی یا کفر یا بد عملی یا نا فرمانی یا

عَظَمَۃٍ اَوْ شَیْئٍ لاَ تُحِبُّ، فَاَسْاَ لُکَ یَا رَبِّ اَنْ تُبَدِّلَنِی مَکانَہُ إیماناً بِوَعْدِکَ

گھمنڈ یا تیری کوئی نا پسندیدہ بات ہے تو تجھ سے سوال کرتا ہوںاے پروردگار کہ ان برائیوں کومٹاکر ان کی جگہ میرے دل میں اپنے

وَوَفائً بِعَھْدِکَ، وَرِضاً بِقَضائِکَ، وَزُھْداً فِی الدُّنْیا، وَرَغْبَۃً فِیما عِنْدَکَ، وَ اَثَرَۃً

وعدے پر یقین اپنے عہد سے وفا اپنے فیصلے پر رضامندی دنیا سے بے رغبتی اور جو کچھ تیرے ہاںہے اس میں رغبت اپنے در پر

وَطُمَٲْنِینَۃً وَتَوْبَۃً نَصُوحاً، اَسْاَ لُکَ ذلِکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ ۔ إلھِی اَ نْتَ مِنْ حِلْمِکَ

حاضری دلجمعی اور سچی توبہ کی توفیق دے میں تجھ سے یہی چاہتا ہوںاے جہانوں کے پالنے والے میرے معبود! تیری نرم خوئی کی

تُعْصی فَکَاَنَّکَ لَمْ تُرَ، وَمِنْ کَرَمِکَ وَجُودِکَ تُطاعُ فَکَاَ نَّکَ لَمْ تُعْصَ

وجہ سے تیری نافرمانی کی جاتی ہے اور تیری عطا و بخشش سے تیری اطاعت کی جاتی ہے گویا تیری نافرمانی نہیں ہوتی میرے جیسا

وَاَ نَا وَمَنْ لَمْ یَعْصِکَ سُکَّانُ اَرْضِکَ فَکُنْ عَلَیْنا بِالْفَضْلِ جَواداً

نافرمان اور جو تیری نافرمانی نہیںکرتے تیری ہی زمین پر رہتے ہیں پس ہمارے لیے اپنے فضل سے بہت عطا کرنے والا اور

وَبِالْخَیْرِ عَوَّاداً، یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ صَلاۃً دائِمَۃً لاَ

بھلائی پر بھلائی کرنیوالا ہوجا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے خدا کی حضرت محمد(ص) اوران کی آل(ع) پر رحمت ہو ہمیشہ ہمیشہ کی رحمت

تُحْصی وَلاَ تُعَدُّ وَلاَ یَقْدِرُ قَدْرَہا غَیْرُکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

جسے نہ جمع کیا جاسکے نہ شمار کیا جاسکے اور تیرے سوا کوئی اسکا اندازہ نہیں کر سکتا اے سب سے بڑھ کر رحم کرنیوالے۔

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد