Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، راہِ خدا میں جس قدر مجھے اذیت پہنچائی گئی ہے کسی اور کو نہیں پہنچائی گئی کنزالعمال حدیث5818

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

چھٹی زیارت------- عرفہ کے دن امام حسین کی زیارت

جاننا چاہیے کہ اہل بیت اطہار سے زیارت عرفہ سے متعلق بہت زیادہ روایات اور جو کچھ اس کی فضلیت و ثواب میں وارد ہوا ہے وہ حد شمار سے باہر ہے لیکن یہاں ہم زائرین کا شوق بڑھانے کیلئے ان میں سے چند حدیثیں نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں معتبر سند کے ساتھ بشیر دھان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق  کی خدمت میں گزارش کی کہ بعض موقعوں پر حج مجھ سے ترک ہو جاتا ہے اور میں عرفہ کا دن ضریح امام حسین کے پاس گزارتا ہوں آپ نے فرمایا کہ اے بشیر یہ تو بہت اچھا عمل کرتا ہے کیونکہ جو مومن امام حسین کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے روز عید کے علاوہ کسی دن آپ کی زیارت کرے تو اس کیلئے بیس حج اور بیس عمرہ مقبولہ اور بیس جہاد کا ثواب لکھا جاتا ہے جو اس نے کسی پیغمبر یا امام عادل کی ہمراہی میں کیے ہوں۔ پھر جو شخص عیدکے دن آپ کی زیارت کرے تو اس کے نامہ اعمال میں سو حج‘سو عمرہ مقبولہ اور سو جہاد کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی نبی مرسل یا امام عادل کے ہم رکاب کیے ہوں اور جو شخص عرفہ کے دن امام حسین کی معرفت کے ساتھ آپ کی زیارت کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ہزار حج، ہزار عمرہ مقبولہ اور ہزار جہاد کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ کئے ہوں میں نے عرض کی کہ مجھ کو وقوف عرفات کا ثواب کہا ںمل سکتا ہے؟ پس حضرت نے غضب کی نظر سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اے بشیر جب کوئی شخص روز عرفہ امام حسین کی زیارت کرنے جائے اور نہر فرات میں غسل کرے اس کے بعد حضرت کی قبر شریف کی طرف چلے تو خدا اس کے ہر قدم کے لیے جو وہ اٹھاتا ہے اس کے نام ایک حج کا ثواب لکھے گا جو وہ تمام مناسک کے ساتھ بجا لائے راوی کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں حضرت نے حج کے ساتھ عمرہ اور غزوہ کا ذکر بھی فرمایا ہے چنانچہ بہت سی معتبر احادیث میں موجود ہے کہ خدائے تعالیٰ روز عرفہ اہل عرفات کی طرف نظرکرنے سے پہلے زائرین قبر امام حسین پر نظر رحمت کرتا ہے ایک معتبر حدیث میں رفاعہ سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق  نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے اس سال حج کیا ہے رفاعہ نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جاؤں میرے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ حج کے لیے جاتا تاہم میں نے عرفہ کا دن امام حسین کے روضہ مبارک پر گزاراہے‘ تب آپ نے فرمایا کہ اے رفاعہ!تم نے ان اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جو اہل منیٰ نے وہاں انجام دیے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ لوگ حج کو ترک کر دیں تو ضرور تم کو ایسی حدیث سناتا کہ تم حضرت کی زیارت کبھی ترک نہ کرتے کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ مجھے میرے والد گرامی (ع)نے خبر دی ہے کہ جو امام حسین کے حرم مبارک کی طرف جائے جب کہ حضرت کے حق کو پہچانتا ہو اور بڑائی جتانے کے لیے بھی نہ جا رہا ہو تو اس کے ساتھ ایک ہزار فرشتے دائیں جانب اور ایک ہزار فرشتے بائیں جانب ہوتے ہیں نیز اس کے لیے ہزار حج اور ہزار عمرہ کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی پیغمبر یاوصی پیغمبر کے ساتھ ادا کیے ہوں۔

کیفیت زیارت

باقی رہی حضرت کی زیارت کی کیفیت تو جیسا کہ بزرگ علماء اور رؤسائے مذہب نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص امام حسین کی زیارت کرنا چاہے تو اگر اس کے لیے ممکن ہو تو نہر فرات میں غسل کرے وگرنہ جس پاک پانی سے ہو سکے غسل کرے اور پاکیزہ لباس پہنے اور سنجیدگی و وقار کے ساتھ چلے‘ جب حائر کے دروازہ پر پہنچ جائے تو کہے: اللّهُ ٲَکْبَرپھر کہے:

اللّهُ ٲَکْبَرُ کَبِیراً وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیراً، وَسُبْحانَ اللّهِ بُکْرَۃً وَٲَصِیلاً، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی

خدا بزرگتر ہے بزرگی کے ساتھ اور حمد ہے خدا کیلئے پاک و منزہ ہے خدا ہر صبح اور شام اور حمد ہے خدا کے لیے جس نے اس طرف

ھَدَانا لِھَذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلا ٲَنْ ھَدَانَا اللّهُ لَقَدْ جائَتْ رُسُلُ رَبِّنا بِالْحَقِّ

ہماری رہنمائی کی اور ہم راہ نہ پا سکتے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ فرماتا ضرور آئے ہیں ہمارے رب کے سبھی رسول(ص) حق کے ساتھ

اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی فاطِمَۃَ الزَّھْرائِ

سلام ہو خدا کے رسول پر سلام ہو مومنوں کے امیر(ع) پر سلام ہو فاطمہ زہرا(س) پر

سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ

جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو حضرات حسن (ع) و حسین (ع) پر سلام ہو حضرت علی(ع) بن

الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، اَلسَّلَامُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، اَلسَّلَامُ

الحسین(ع) پر سلام ہو حضرت محمد(ع) بن علی(ع) سلام ہو حضرت جعفر(ع) بن محمد(ع) پر سلام ہو

عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ

حضرت موسیٰ(ع) بن جعفر(ع) پرسلام ہو حضرت علی(ع) بن موسیٰ(ع) پر سلام ہو حضرت محمد(ع) بن علی(ع) پر

اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْخَلَفِ

سلام ہو حضرت علی(ع) بن محمد(ع) پر سلام ہو حضرت حسن(ع) بن علی(ع) پر سلام ہو ان خلف

الصَّالِحِ الْمُنْتَظَرِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ

صالح پر جو منتظر ہیں آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند

عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ ٲَمَتِکَ، الْمُوالِی لِوَلِیِّکَ، الْمُعادِی لِعَدُوِّکَ اسْتَجارَ

آپکا یہ غلام جو آپکے غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹا ہے آپ کے دوست سے دوستی رکھنے والاآپکے دشمن سے دشمنی رکھنے والا پناہ لیتا ہے

بِمَشْھَدِکَ وَتَقَرَّبَ إلَی اللّهِ بِقَصْدِکَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ھَدَانِی لِوِلایَتِکَ، وَخَصَّنِی

آپکے روضہ کی اور آپکی طرف آنے میں خدا کا قرب چاہتا ہے حمد ہے خدا کیلئے جس نے مجھے آپکی ولایت کا راستہ دکھایا مجھے آپکی

بِزِیارَتِکَ، وَسَھَّلَ لِی قَصْدَکَ۔

زیارت کیلئے مخصوص کیا اور آپ کی طرف آنے میں آسانی دی۔

پس حضرت امام حسین کے روضہ مقدسہ میں داخل ہوجائے اور آپ کے سر کے مقابل کھڑے ہو کر کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَۃِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے آدم (ع)کے وارث جو خدا کے پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے نوح (ع)کے وارث جو خدا کے نبی ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراھِیمَ خَلِیلِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے ابراہیم (ع)کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہوآپ پر اے موسیٰ کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے عیسیٰ (ع)کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد(ص)کے وارث جو خدا کے محبوب ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ فاطِمَۃَ الزَّھْرائِ

سلام ہو آپ پر اے امیر المومنین علی(ع) کے وارث سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہرا (س)کے وارث

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو اے محمد مصطفی(ص) کے فرزند آپ پر سلام ہو اے علی مرتضیٰ(ع) کے فرزند آپ پر

عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَۃَ الزَّھْرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَۃَ الْکُبْری، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

سلام ہو اے فاطمہ زہرا(س) کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدیجہ کبریٰ(س) کے فرزند آپ پر سلام ہو

یَا ثارَ اللّهِ وَابْنَ ثارِہِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ قَدْ ٲَقَمْتَ الصَّلاۃَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاۃَ

اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزند اور وہ خون جس کابدلہ لیا جائے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی

وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَٲَطَعْتَ اللّهَ حَتَّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ اللّهُ

آپ نے نیک کاموں کا حکم دیابرے کاموں سے منع کیا اور خدا کی اطاعت کرتے رہے حتیٰ کہ شہید ہو گئے پس خدا لعنت کرے

ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً سَمِعَتْ بِذلِکَ

اس گروہ پرجس نے آپکو قتل کیا خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا

فَرَضِیَتْ بِہِ، یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، ٲُشْھِدُ اللّهَ وَمَلائِکَتَہُ وَٲَنْبِیائَہُ وَرُسُلَہُ ٲَنِّی

تو اس پر خوش ہوا اے میرے آقا اے ابا عبداللہ (ع)میں گواہ کرتا ہوں خدا کو اس کے فرشتوں کو اس کے نبیوں اور سولوں کو اس پر کہ میں

بِکُمْ مُؤْمِنٌ، وَبِ إیَابِکُمْ مُوقِنٌ، بِشَرائِعِ دِینِی، وَخَواتِیمِ عَمَلِی، وَمُنْقَلَبِی إلَی رَبِّی

آپ پر اور آپ کی رجعت پر ایمان رکھتا اور یقین رکھتا ہوں احکام دین پراپنے عمل کی جزا پر اور خدا کی طرف اپنی واپسی پر

فَصَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکُمْ، وَعَلَی ٲَرْواحِکُمْ وَعَلَی ٲَجْسادِکُمْ، وَعَلَی شاھِدِکُمْ وَعَلَی

پس خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کی روحوں پر آپ کے بدنوں پر اور آپ میں سے حاضر پر اور آپ کے

غائِبِکُمْ، وَظاھِرِکُمْ وَباطِنِکُمْ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَابْنَ سَیِّدِ

غائب پر آپ کے ظاہر پر اور باطن پر رحمتیں ہوں سلام ہو آپ پر اے خاتم الانبیا کے فرزند اوصیا کے سردار

الْوَصِیِّینَ وَابْنَ إمامِ الْمُتَّقِینَ وَابْنَ قائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ إلی جَنَّاتِ النَّعِیمِ وَکَیْفَ

کے فرزند پرہیز گاروں کے امام کے فرزند چمکتے چہرے والوں کے پیشوا کے فرزند نعمتوں والی جنت میں داخلے تک سلام اور ایسا

لاَ تَکُونُ کَذلِکَ وَٲَنْتَ بابُ الْھُدیٰ، وَ إمامُ التُّقیٰ، وَالْعُرْوَۃُ الْوُثْقیٰ، وَالْحُجَّۃُ عَلَی

کیوں نہ ہو جب کہ آپ ہدایت کا دروازہ ہیں پرہیزگاروں کے امام ہیں خدا کی مضبوط رسی ہیں اہل دنیا پر خدا کی

ٲَھْلِ الدُّنْیا وَخامِسُ ٲَصْحابِ الْکِسائِ غَذَتْکَ یَدُ الرَّحْمَۃِ، وَرَضَعْتَ مِنْ ثَدْیِ الْاِیمانِ

حجت ہیں اور آپ اہل کسا کے پانچویں فرد ہیں آپ نے دست رحمت سے غذا کھائی سرچشمہ ایمان سے دودھ پیا

وَرُبِّیتَ فِی حِجْرِ الْاِسْلامِ، فَالنَّفْسُ غَیْرُ راضِیَۃٍ بِفِراقِکَ، وَلاَ شَاکَّۃٍ فِی حَیَاتِکَ

اور آپ نے اسلام کی آغوش میں پرورش پائی پس یہ دل آپکی جدائی میں ناخوش ہے اور اسے آپ کے زندہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں

صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ وَٲَبْنائِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَرِیعَ الْعَبَرَۃِ السَّاکِبَۃِ

خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کے بزرگان پر اور آپ کے فرزندوں پر سلام ہو آپ پر اے وہ شہید جس پر آنسو بہائے گئے

وَقَرِینَ الْمُصِیبَۃِ الرَّاتِبَۃِ،لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، فَقُتِلْتَ صَلَّی اللّهُ

اور جس پر مصیبت پہ مصیبت آتی رہی خدا لعنت کرے اس گروہ پرجس نے آپ کی حرمت کو ملحوظ نہ رکھا پس خدا کی رحمت ہو

عَلَیْکَ مَقْھُوراً، وَٲَصْبَحَ رَسُولُ اللّهِ بِکَ مَوْتُوراً، وَٲَصْبَحَ کِتابُ اللّهِ بِفَقْدِکَ

آپ پر کہ آپ ظلم و ستم سے شہید کیے گئے رسول عربی آپکے خون کا بدلہ لینے کے دعویدار بنے اور آپکی شہادت سے کتاب خدا

مَھْجُوراً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی جَدِّکَ وَٲَبِیکَ وَٲُمِّکَ وَٲَخِیکَ وَعَلَی الْاََئِمَّۃِ مِنْ بَنِیکَ

متروک ہو گئی آپ پر سلام ہواور آپ کے نانا پر آپ کے والد پر آپ کی والدہ پراور آپ کے بھائی پر سلام ہو آپ کی اولاد میں ائمہ(ع)

وَعَلَی الْمُسْتَشْھَدِینَ مَعَکَ، وَعَلَی الْمَلائِکَۃِ الْحافِّینَ بِقَبْرِکَ، وَالشَّاھِدِینَ لِزُوَّارِکَ

پر اور سلام ہو آپکے ہمراہ شہید ہونے والوں پر سلام ہو ان فرشتوں پر جو آپکی قبر کے گرد رہتے ہیں وہ آپکے زائروں کے گواہ ہیں اور

الْمُؤَمِّنِینَ بِالْقَبُولِ عَلَی دُعائِ شِیعَتِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ، بِٲَبِی

آپکے حبداروں کی دعاؤں کی قبولیت کیلئے آمین کہتے ہیں اور سلام ہو آپ پراور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہو قربان آپ پر

ٲَنْتَ وَٲُمِّی یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ، بِٲَبِی ٲَنْتَ وَٲُمِّی یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّۃُ

میرے ماں باپ اے رسول خدا (ص)کے فرزند قربان آپ پر میرے ماں باپ اے ابا عبداللہ (ع)یقینا آپ کی سوگواری اور آپ کی

وَجَلَّتِ الْمُصِیبَۃُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ ٲَھْلِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، فَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً

مصیبت بہت بھاری ہے ہم پر اور ان سب پر جو آسمانوں اور زمین میں رہتے ہیں پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر

ٲَسْرَجَتْ وَٲَلْجَمَتْ وَتَھَیَّٲَتْ لِقِتالِکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ قَصَدْتُ حَرَمَکَ وَٲَتَیْتُ

جس نے زین کسا لگام دی اور آپ سے لڑنے کیلئے گھوڑے تیار کیے اے میرے آقا اے ابا عبداللہ میں نے آپکے حرم کا ارادہ کیا اور آپ کے مزار پر

مَشْھَدَکَ ٲَسْٲَلُ اللّهَ بِالشَّٲْنِ الَّذِی لَکَ عِنْدَہُ وَبِالْمحَلِّ الَّذِی لَکَ لَدَیْہِ

حاضر ہوا سوال کرتاہوں خدا سے آپ کی شان کے وسیلے سے جو اس کے ہاں ہے اورآپ کے مرتبے کے واسطے سے جو اس کے

ٲَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ بِمَنِّہِ

حضور ہے یہ کہ محمد(ص) وآل محمد(ص)پر رحمت نازل کرے اور یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اپنے احسان

وَجُودِہِ وَکَرَمِہِ۔

بخشش اورعطا سے کام لے کر۔

پھر ضریح مبارک پر بوسہ دے اور سرہانے کی طرف ہو کر دو رکعت نمازالحمد کے ساتھ جو سورہ چاہے پڑھ کر ادا کرے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کہے:

اَللّٰھُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ وَرَکَعْتُ وَسَجَدْتُ لَکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لاََِنَّ الصَّلاۃُ وَالرُّکُوعَ

اے معبود! بے شک میں نے تیرے لیے نماز پڑھی رکوع کیا اور سجدہ کیا ہے تو یگانہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں یہی وجہ ہے کہ نماز رکوع

وَالسُّجُودَ لاَ تَکُونُ إلاَّ لَکَ، لاََِنَّکَ ٲَنْتَ اللّهُ لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

اور سجدہ نہیں ہوتا مگر صرف تیرے لیے کہ بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اے معبود درود بھیج محمد(ص)

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَبْلِغْھُمْ عَنِّی ٲَفْضَلَ التَّحِیَّۃِ وَالسَّلامِ وَارْدُدْ عَلَیَّ مِنْھُمُ التَّحِیَّۃَ وَالسَّلامَ

و آل محمد(ص) پر اور پہنچا ان کومیری طرف سے بہترین دعااور سلام اور لوٹا مجھ پر ان کی طرف سے دعائے امن و سلامتی

اَللّٰھُمَّ وَھَاتَانِ الرَّکْعَتانِ ھَدِیَّۃٌ مِنِّی إلی مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَ إمامِی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ

اے معبود! یہ دو رکعت نماز ہدیہ ہے میری طرف سے میرے مولا میرے آقا اور میرے امام حسین بن علی

عَلَیْھِمَا اَلسَّلَامُ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ ذلِکَ مِنِّی، وَاجْزِنِی

علیہما السلام کی خدمت میں اے معبود محمد (ص)و آل محمد (ص)پر رحمت فرما اور میرا یہ عمل قبول فرما اور مجھے اس پر

عَلَی ذلِکَ ٲَفْضَلَ ٲَمَلِی وَرَجائِی فِیکَ وَفِی وَلِیِّکَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

بہترین اجر دے جس کی امید و تمنا کرتا ہوں تجھ سے اور تیرے اس ولی سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

اب اٹھے اور امام حسین کی پائینتی میں حضرت علی اکبر(ع)کی زیارت کرے کہ جن کا سر اپنے پدر گرامی کے پاؤں کے قریب ہے پس آپ کی قبر مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ نَبِیِّ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند آپ پر سلام ہو اے نبی خدا (ص)کے فرزندسلام ہوآپ پر اے امیر المومنین (ع)

ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْحُسَیْنِ الشَّھِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الشَّھِیدُ

کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حسین (ع) شہید کے فرزند آپ پر سلام ہو کہ آپ شہید ہیں

ابْنُ الشَّھِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْمَظْلُومُ ابْنُ الْمَظْلُومِ، لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ

شہید کے فرزند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ مظلوم ہیں مظلوم کے فرزند ہیں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا خدا کی

اللّهُ ٲُمَّۃً ظَلَمَتْکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ

لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم کیا اورخدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا تو اس پر خوش ہوا آپ پر سلام ہو اے میرے مولا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اللّهِ وَابْنَ وَلِیِّہِ لَقَدْ عَظُمَتِ الْمُصِیبَۃُ وَجَلَّتِ الرَّزِیَّۃُ بِکَ عَلَیْنا

آپ پر سلام ہو اے میرے مولاآپ پر سلام ہو اے ولی خدا اورولی خدا کے فرزند یقیناً آپ کا دکھ اور آپ کا سوگ ہمارے لیے اور

وَعَلَی جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ، فَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ، وَٲَبْرَٲُ إلَی اللّهِ وَ إلَیْکَ

تمام مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت ہے پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا اور انکے اس عمل پر میں بیزار ہوں آپ

مِنْھُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ۔ پھر دیگر شہدائے کربلا کی طرف متوجہ ہوکر ان کی زیارت کرے اور کہے:

اور خدا کے سامنے دنیا و آخرت میں۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَوْلِیائَ اللّهِ وَٲَحِبَّائَہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَصْفِیائَ اللّهِ وَٲَوِدَّائَہُ اَلسَّلَامُ

سلام ہو تم پر اے اولیائے خدا اور اس کے پیارو آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدو اور اس کے خاص بندو آپ پر

عَلَیْکُمْ یَا ٲَنْصارَ دِینِ اللّهِ وَٲَنْصارَ نَبِیِّہِ وَٲَنْصارَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَٲَنْصارَ فاطِمَۃَ

سلام ہو اے دین خدا کی مدد کرنے والو اور اسکے نبی کی نصرت کرنے والو امیر المومنین (ع)کی امداد کرنے والواور فاطمہ (ع)کی حمایت کرنے والو

سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَنْصارَ ٲَبِی مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ الْوَلِیِّ النَّاصِحِ

جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہوآپ پر اے ابو محمد حسن (ع) کے مدد گار جو خدا کے ولی ہیں نصیحت کرنے والے

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَنْصارَ ٲَبِی عَبْدِاللّهِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیدِ الْمَظْلُومِ صَلَواتُ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے ابو عبداللہ حسین (ع) کی نصرت کرنے والو جو ایسے شہید ہیں کہ جن پر ظلم کیا گیا خدا کی رحمتیں ہوں

عَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ، بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی طِبْتُمْ وَطَابَتِ الْاََرْضُ الَّتِی فِیھا دُفِنْتُمْ وَفُزْتُمْ

ان سب پر قربان میرے ماں باپ آپ پر آپ پاکیزہ ہیں اور وہ زمین بھی پاک ہے جس میں آپ دفن کیے گئے قسم بخدا کہ آپ

وَاللّهِ فَوْزاً عَظِیماً، یَا لَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ فَٲَفُوزَ مَعَکُمْ فِی الْجِنانِ مَعَ الشُّھَدائِ

نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی اے کاش کہ میں بھی آپ کیساتھ ہوتا تو پہنچتا آپ کے ہمراہ جنت میں جو شہیدوں اور

وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ ٲُولَیِکَ رَفِیقاً، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔

نیک لوگوںکا مقام ہے اور وہ کیا ہی اچھے ہمراہی ہیں اور سلام ہوآپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔

اس کے بعد حضرت امام حسین کے سرہانے کی طرف آ جائے اور وہاں اپنے لیے اپنی اولاد کے لئے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے بہت زیادہ دعائیں مانگے۔

سید ابن طاؤس اور شہید(رح) نے فرمایا ہے کہ اس کے بعدروضہ حضرت عباس پر جائے وہاں پہنچ کر قبر شریف کے نزدیک کھڑا ہو جائے اور کہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسَ بْنَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ

آپ پر سلام ہو اے اباالفضل عباس(ع) فرزند امیر المومنین(ع) آپ پر سلام ہو اے سید

الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ ٲَوَّلِ الْقَوْمِ إسْلاماً وَٲَقْدَمِھِمْ إیماناً وَٲَقْوَمِھِمْ بِدِینِ

اوصیا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے اس کے فرزند جو لوگوں میں پہلا مسلمان ایمان میں سب سے آگے ہے خدا کے

اللّهِ، وَٲَحْوَطِھِمْ عَلَی الْاِسْلامِ، ٲَشْھَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ

دین پر ان سب سے محکم تر اورسب سے زیادہ اسلام کی حفاظت کرنے والا تھا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا اور اس کے رسول(ص)

وَلاََِخِیکَ فَنِعْمَ الْاََخُ الْمُواسِی، فَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ اللّهُ

اور اپنے بھائی کی بڑی خیر خواہی کی تو آپ کیا ہی فدا کار بھائی ہیں پس خدا کی لعنت ہو آپ کو قتل کرنے والوں پرخدا کی لعنت ہو اس

ٲُمَّۃً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، وَانْتَھَکَتْ فِی قَتْلِکَ حُرْمَۃَ

پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا کی لعنت ہو آپ کی حرمتوں کو ضائع کرنے والوں پر اور لعنت ہو آپ کے قتل سے اسلام کی بے حرمتی

الْاِسْلامِ، فَنِعْمَ الْاََخُ الصَّابِرُ الْمُجاھِدُ الْمُحامِی النَّاصِرُ، وَالْاََخُ الدَّافِعُ عَنْ ٲَخِیہِ

کرنیوالوں پر پس وہ اچھے بھائی ہیں صبروالے جہاد کرنے والے حمایت کرنے نصرت کرنے والے اور وہ بھائی ہیں جو اپنے بھائی کا

الْمُجِیبُ إلی طاعَۃِ رَبِّہِ، الرَّاغِبُ فِیمَا زَھِدَ فِیہِ غَیْرُہُ مِنَ الثَّوَابِ

دفاع کرنے والے ہیں خدا کی اطاعت میں حاضر ہونے والے اور اس چیز کی طرف بڑھنے والے ہیں جس سے دوسروں نے منہ

الْجَزِیلِ وَالثَّنَائِ الْجَمِیلِ، وَٲَلْحَقَکَ اللّهُ بِدَرَجَۃِ آبائِکَ فِی دارِ النَّعِیمِ إنَّہُ حَمِیدٌ

موڑا وہ ہے بہت بڑا ثواب اور بہترین تعریف پس خدا آپکو اپنے بزرگوں کے مقام پر پہنچائے نعمتوں بھری جنت میں کہ وہ ہے

مَجِیدٌ پھر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور کہے: اَللّٰھُمَّ لَکَ تَعَرَّضْتُ وَلِزِیارَۃِ ٲَوْلِیائِکَ قَصَدْتُ

تعریف والا بزرگی والا اے معبود تیرے سامنے حاضر ہوا ہوں تیرے پیاروں کی زیارت کے لیے چل کے آیا ہوں

رَغْبَۃً فِی ثَوَابِکَ، وَرَجَائً لِمَغْفِرَتِکَ، وَجَزِیلِ إحْسَانِکَ، فٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ

تیری طرف سے ثواب کی خواہش میں تیری طرف سے مغفرت کی آرزو اور تیری مہربانی کی امید میں پس سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ

تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تَجْعَلَ رِزْقِی بِھِمْ دارَّاً، وَعَیْشِی بِھِمْ قَارَّاً،

محمد (ص)و آل محمد (ص)پررحمت فرما اور ان کے وسیلے سے میرے رزق میں اضافہ فرما میری زندگی کو پر سکون

وَزِیارَتِی بِھِمْ مَقْبُولَۃً، وَذَنْبِی بِھِمْ مَغْفُوراً، وَاقْلِبْنِی بِھِمْ مُفْلِحاً مُنْجِحاً

میری زیارت کو قبول اور میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور ان کے واسطے سے مجھے کامیاب و کامران لوٹا قبول دعا

مُسْتَجاباً دُعائِی بِٲَفْضَلِ مَا یَنْقَلِبُ بِہِ ٲَحَدٌ مِنْ زُوَّارِہِ وَالْقَاصِدِینَ إلَیْہِ، بِرَحْمَتِکَ

کے ساتھ کہ جس بہترین صورت میں تو نے ان کے زائروں اور انکی طرف آنے والوں میں سے کسی کو لوٹا یا اپنی رحمت کے ساتھ

یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

پھر ضریح مبارک پر بوسہ دے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے بعد میں جو ذکر و دعا چاہے پڑھے جب آپ(ع) سے وداع کرنا چاہے تو وہ زیارت پڑھے جو مطلب دوم میں حضرت کے وداع میں نقل ہوئی ہے کہ جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے اَسْتَوْ دِعُکَ اللّهُ وَاَسْتَرْعِیْکَ۔ ۔۔ تا آخر۔

فضیلت زیارت یوم عاشورا

ساتویں زیارت------ عاشورا کے دن زیارت امام حسین

معلوم ہونا چاہیے کہ عاشورہ کے دن کے لیے امام حسین کی بہت سی زیارتیں نقل ہوئی ہیں اور ہم بغرض اختصار دو زیارتوں کے نقل پر اکتفا کریں گے قبل ازیں دوسرے باب میں روز عاشورا کے اعمال میں ایک زیارت لکھی گئی ہے اور وہ مطالب بھی وہاں ذکر ہوئے ہیں جو اس مقام کے ساتھ مناسب ہیں اب رہیں دو زیارتیں تو ان میں سے ایک وہی زیارت عاشورا ہے جو معروف ہے اور دو ر و نزدیک سے پڑھی جاتی ہے اس کی تفصیل جیسا کہ شیخ ابو جعفر طوسی نے کتاب مصباح میں فرمائی کچھ اس طرح ہے کہ محمد بن اسماعیل بن بزیع نے صالح بن عقبہ سے اسنے اپنے باپ سے اور اسنے امام محمد باقر  سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دسویں محرم کے دن امام حسین کی زیارت کرے اور اسکے ساتھ وہاں گر یہ بھی کرے تو روز قیامت وہ خدا سے ملاقات کریگا دو ہزار حج دو ہزار عمرہ دو ہزار غزوہ کے ثواب کے ساتھ اس شخص جس نے حج‘ عمرہ اور جہادحضرت رسول اﷲ اور ائمہ طاہرین کیساتھ مل کر کیا ہو راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جاؤں ایسے شخص کے لیے کیا ثواب ہے جو کربلا سے دور دراز کے شہروں میں رہتا ہو اور اس کیلئے عاشورہ کے دن مزار امام حسین کی زیارت کو آنا ممکن نہ ہو؟ آپ نے فرمایا اس صورت میں وہ شخص صحرا میں چلا جائے گا یا اپنے گھر کی سب سے اونچی چھت پر چڑھے اور حضرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلام کرے اور آپ کے قاتلوں پر جتنی ہو سکے لعنت بھیجے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ عمل دن کے پہلے حصے میں زوال سے قبل بجا لائے بعد میں امام حسین کیلئے روئے اور فریاد بلند کرے نیز گھر میں جو افراد ہوں اگر ان سے تقیہ نہ کرنا ہو تو انہیں بھی کہے کہ وہ گریہ کریں۔

اس طرح وہ اپنے گھر میں سوگواری اور گریہ زاری کی صورت بنائے اور حضرت کے مصائب پر باآواز بلند روتے ہوئے وہ لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کریں تو میں خدا کی طرف سے ان لوگوں کیلئے ضامن ہوں کہ اگر وہ اس طرح عمل کریں تو ان کو بھی وہی ثواب ملے گا میں نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جاؤں ! کیا آپ اس ثواب کے ضامن و کفیل ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ہر اس شخص کیلئے اس ثواب کا ضامن و کفیل ہوں جو یہ عمل انجام دے تب میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کس طرح ایک دوسرے سے تعزیت کریں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں:

ٲَعْظَمَ اللّهُ ٲُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ، وَجَعَلَنا وَ إیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ

خدا ہماری جزاؤں میں اضافہ کرے اس سوگواری پر جو ہم نے امام حسین کیلئے کی اور ہمیں تمہیں انکے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے

بِثارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الْاِمامِ الْمَھْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ۔

ان کے وارث امام مہدی (ع)کی ہمراہی میں جو آل محمد میں سے ہیں۔

اگر ایسا ممکن ہو تو دسویں محرم کے دن کوئی شخص اپنے ذاتی اغراض کیلئے کہیں نہ جائے کیونکہ یہ دن نحس ہے جس میں کسی مومن کی حاجت پوری نہیں ہوتی اور اگر حاجت پوری ہو بھی جائے تو وہ اس مومن کیلئے بابرکت نہ ہو گی اور وہ اس میں بھلائی نہ دیکھے گا نیز کوئی مومن اس دن اپنے گھر کے لیے ذخیرہ نہ کرے کہ جو شخص اس دن کوئی چیز ذخیرہ کرے گا اس میں برکت نہ ہو گی۔ اور وہ اس کیلئے مفید ثابت نہ ہو گی نہ ان افراد کے لیے جن کی خاطر اس نے ذخیرہ کیا ہے۔ پس جو لوگ یہ عمل بجا لائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کے نام ہزار حج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد کا ثواب لکھے گا جو انہوں نے رسول اﷲ(ص) کی ہمراہی میں کیا ہو۔ اسکے علاوہ ان کیلئے ہر پیغمبر رسول وصی اور شہید کی مصیبت کا ثواب ہو گا خواہ وہ طبعی موت سے فوت ہوا ہو یا شہید کیا گیا ہو اس وقت سے جب سے خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا اور اس وقت تک جب قیامت بپا ہو گی صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر  سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسین کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسین کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسین کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جاؤ گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جاؤ گے جو امام حسین کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:

زیارت عاشورہ

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے ابا عبدا(ع)للہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین

ٲَمِیرِالْمُوَْمِنِینَ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَۃَ سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ

(ع)کے فرزند اور اوصیا کے سردار کے فرزند سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ (ع)جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاثارَ اللّهِ وَابْنَ ثارِہِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ

آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر

الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اللّهِ ٲَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ

جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں

یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّۃُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصِیبَۃُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ

اے ابا عبداﷲ(ع) آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام

ٲَھْلِ الْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلَی جَمِیعِ ٲَھْلِ السَّمٰوَاتِ

کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے

فَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً ٲَسَّسَتْ ٲَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ ٲَھْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً

پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر

دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَٲَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اللّهُ فِیھا، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً

جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو

قَتَلَتْکُمْ وَلَعَنَ اللّهُ الْمُمَھِّدِینَ لَھُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِیْتُ إلَی اللّهِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ

قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان

وَٲَشْیاعِھِمْ وَٲَتْباعِھِمْ وَٲَوْلِیائِھِمْ، یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ

سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے

لِمَنْ حارَبَکُمْ إلی یَوْمِ الْقِیامَۃِ، وَلَعَنَ اللّهُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ، وَلَعَنَ اللّهُ بَنِی

آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک اور خدا لعنت کرے اولاد زیاداور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے

ٲُمَیَّۃَ قاطِبَۃً، وَلَعَنَ اللّهُ ابْنَ مَرْجانَۃَ، وَلَعَنَ اللّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَلَعَنَ اللّهُ شِمْراً،

خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر

وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً ٲَسْرَجَتْ وَٲَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ، بِٲَبِی ٲَنْتَ وَٲُمِّی،

اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں

لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ، فَٲَسْٲَلُ اللّهَ الَّذِی ٲَکْرَمَ مَقامَکَ، وَٲَکْرَمَنِی بِکَ، ٲَنْ یَرْزُقَنِی

یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ

طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ ٲَھْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ۔ اَللّٰھُمَّ

مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور (ع)کے ساتھ جو اہل بیت محمد(ص) میں سے ہوں گے اے معبود!

اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیھاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَۃِ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ إنِّی ٲَتَقَرَّبُ إلَی

مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین  کے واسطے سے دنیا و آخرت میں اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں

اللّهِ، وَ إلی رَسُولِہِ، وَ إلی ٲَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، وَ إلی فاطِمَۃَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ

خدا کا اس کے رسول(ص) کا امیر المومنین(ع) کا فاطمۃ زہرا (ع)کا حسن مجتبیٰ (ع) کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری

بِمُوَالاتِکَ وَبِالْبَرائَۃِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَبِالْبَرائَۃِ مِمَّنْ ٲَسَّسَ ٲَسَاسَ

سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم

الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ وَٲَبْرَٲُ إلَی اللّهِ وَ إلی رَسُولِہِ مِمَّنْ ٲَسَّسَ ٲَساسَ ذلِکَ وَبَنی

کی بنیاد رکھی اور میں بری الذمہ ہوں اﷲ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی

عَلَیْہِ بُنْیانَہُ، وَجَریٰ فِی ظُلْمِہِ وَجَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی ٲَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی اللّهِ

اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا

وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ، وَٲَتَقَرَّبُ إلَی اللّهِ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَمُوالاۃِ وَلِیِّکُمْ، وَبِالْبَرائَۃِ

اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے اولیاء سے محبت

مِنْ ٲَعْدائِکُمْ، وَالنَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَبِالْبَرائَۃِ مِنْ ٲَشْیَاعِھِمْ وَٲَتْبَاعِھِمْ، إنِّی

کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے

سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَوَلِیٌّ لِمَنْ والاکُمْ،

میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور

وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ، فَٲَسْٲَلُ اللّهَ الَّذِی ٲَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَمَعْرِفَۃِ ٲَوْلِیَائِکُمْ،

آپکے دشمن کا دشمن ہوں پس سوال کرتاہوںخدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے

وَرَزَقَنِی الْبَرائَۃَ مِنْ ٲَعْدائِکُمْ، ٲَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ، وَٲَنْ یُثَبِّتَ

اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے

لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ، وَٲَسْٲَلُہُ ٲَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ

حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام

لَکُمْ عِنْدَ اللّهِ، وَٲَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ ھُدیً ظَاھِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ

پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے

مِنْکُمْ، وَٲَسْٲَلُ اللّهَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّٲْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَہُ ٲَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی

تم میں سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا

بِکُمْ ٲَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِہِ، مُصِیبَۃً مَا ٲَعْظَمَھا وَٲَعْظَمَ

کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و

رَزِیَّتَھا فِی الْاِسْلامِ وَفِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی

غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر

ھذَا مِمَّنْ تَنالُہُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَۃٌ وَمَغْفِرَۃٌ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ

ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش اے معبود قرار دے میرا جینا محمد(ص) و آل

مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ إنَّ ھذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِہِ بَنُو ٲُمَیَّۃَ

محمد(ص) کا سا جینا اور میری موت کو محمد (ص)و آل محمد(ص) کی موت کی مانند بنا اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی

وَابْنُ آکِلَۃِ الْاََکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلَی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ

کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرم(ص) کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے

وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیہِ نَبِیُّکَ۔ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ ٲَبا سُفْیانَ وَمُعَاوِیَۃَ وَیَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ عَلَیْھِمْ

اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرم(ص) ٹھہرے اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو

مِنْکَ اللَّعْنَۃُ ٲَبَدَ الْاَبِدِینَ، وَھذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِہِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِھِمُ الْحُسَیْنَ

تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین

صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْہِ، اَللّٰھُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْھِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاََلِیمَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی

صلوات اﷲ علیہ کو اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو اے معبود بے شک

ٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی ھذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی ھذَا، وَٲَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَۃِ مِنْھُمْ،

میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے

وَاللَّعْنَۃِ عَلَیْھِمْ، وَبِالْمُوَالاۃِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ۔ پھر سو مرتبہ کہے:

اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبی(ص) کی آل (ع)سے ہے سلام ہو تیرے نبی (ص)اور ان کی آل (ع)پر

اَللّٰھُمَّ الْعَنْ ٲَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَہُ عَلَی ذلِکَ۔

اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد (ص)و آل محمد (ص)کا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی

اَللّٰھُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَۃَ الَّتِی جاھَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلَی قَتْلِہِ

اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین (ع) سے نیز ان پربھی جو قتل حسین (ع) میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے

اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ جَمِیعاً اب سو مرتبہ کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی

اے معبود ان سب پر لعنت بھیج سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے

حَلَّتْ بِفِنائِکَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اللّهِ ٲَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ، وَلاَ جَعَلَہُ

روضے پر آتی ہیں آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ

اللّهُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ،

دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع سلام ہو حسین(ع) پر اور شہزادہ علی(ع) فرزند حسین(ع) پر

وَعَلَی ٲَوْلادِ الْحُسَیْنِ، وَعَلَی ٲَصْحابِ الْحُسَیْنِ۔ پھر کہے: اَللّٰھُمَّ خُصَّ ٲَنْتَ ٲَوَّلَ

سلام ہو حسین(ع) کی اولاد اور حسین(ع) کے اصحاب پر اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کو

ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَٲْ بِہِ ٲَوَّلاً، ثُمَّ الْعَن الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ۔

میری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج اے معبود!

اَللّٰھُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَالْعَنْ عُبَیْدَاللّهِ بْنَ زِیادٍ وَابْنَ مَرْجانَۃَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ

لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر

وَشِمْراً وَآلَ ٲَبِی سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوَانَ إلی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ اس کے بعد سجدے

اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک

میں جائے اور کہے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلَی مُصَابِھِمْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی

اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد، حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے

عَظِیمِ رَزِیَّتِی، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَۃَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ

عزاداری نصیب کی اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین (ع) کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب

عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَٲَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُھَجَھُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ۔

میں تیرے پاس آؤں حسین (ع) کے ساتھ اور اصحاب حسین (ع) کے ساتھ جنہوں نے حسین(ع) کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر  نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔

محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا :میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق  حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیرالمومنین کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسین کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنین کے سر اقدس کے قریب سے امام حسین کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق  نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر  سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنین کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔

زیارت عاشورا کے بعد کی دعا

یہ روایت جو نقل کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ بیان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام سے وداع کے بعد صفوان نے حضرت امام حسین کو سلام پیش کیا۔ جب کہ اس نے اپنا چہرہ ان کے روضہ اقدس کی سمت کیا ہوا تھا زیارت کے بعد اس نے حضرت کا وداع بھی کیا اور جو دعائیں اس نے نماز کے بعد پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ تھی:

یَا اللّهُ یَا اللّهُ یَا اللّهُ، یَا مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا کاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا

اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے

غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا مَنْ ھُوَ ٲَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ

داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے

الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہِ، وَیَا مَنْ ھُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاََعْلَی، وَبِالْاُفُقِ

قریب ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر

الْمُبِینِ، وَیَا مَنْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ، وَیَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَۃَ

کنارے میں ہے اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پرحاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا

الْاََعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَیَا مَنْ لا یَخْفیٰ عَلَیْہِ خافِیَۃٌ، یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ

حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں اے وہ جس پر آوازیں

الْاََصْواتُ وَیَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُہُ الْحاجاتُ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُہُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ یَا مُدْرِکَ

گڈمڈ نہیں ہویں اے وہ جس کو حاجتوں میں بھول نہیں پڑتی اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ

کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ، وَیَا بارِیََ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ

کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز

فِی شَٲْنٍ، یَا قاضِیَ الْحاجاتِ، یَا مُنَفِّسَ الْکُرُباتِ، یَا مُعْطِیَ السُّؤُلاتِ، یَا وَلِیَّ

نئی شان ہے اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں

الرَّغَباتِ، یَا کافِیَ الْمُھِمَّاتِ، یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْہُ شَیْئٌ فِی

پر مختار اے مشکلوں میں مددگار اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں

السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلِیٍّ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ،

میں کوئی چیز مدد نہیں کرتی سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد (ص)کے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضی (ع) کے حق کے واسطے

وَبِحَقِّ فاطِمَۃَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، فَ إنِّی بِھِمْ ٲَتَوَجَّہُ إلَیْکَ فِی

تیرے نبی(ص) کی دختر فاطمہ (س)کے حق کے واسطے اور حسن (ع) و حسین (ع) کے حق کے واسطے کیونکہ میں نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا

مَقامِی ھذَا، وَبِھِمْ ٲَتَوَسَّلُ، وَبِھِمْ ٲَتَشَفَّعُ إلَیْکَ، وَبِحَقِّھِمْ ٲَسْٲَلُکَ وَٲُقْسِمُ وَٲَعْزِمُ

اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوںاسی کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے

عَلَیْکَ، وَبِالشَّٲْنِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ وَبِالْقَدْرِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ، وَبِالَّذِی فَضَّلْتَھُمْ

طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے

عَلَی الْعَالَمِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَہُ عِنْدَھُمْ، وَبِہِ خَصَصْتَھُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ،

انکو جہانوںمیں بڑائی دی اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوںمیں خصوصیت عطا فرمائی

وَبِہِ ٲَبَنْتَھُمْ وَٲَبَنْتَ فَضْلَھُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتَّی فاقَ فَضْلُھُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ

ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے

جَمِیعاً، ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَھَمِّی

زیادہ ہو گئی سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور

وَکَرْبِی، وَتَکْفِیَنِی الْمُھِمَّ مِنْ ٲُمُورِی، وَتَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی، وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ،

ہر دکھ اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ دے مجھ کو تنگدستی سے بچا

وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَۃِ، وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْٲَلَۃِ إلَی الْمَخْلُوقِینَ، وَتَکْفِیَنِی ھَمَّ مَنْ

مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اور میری مدد فرما اس

ٲَخافُ ھَمَّہُ، وَعُسْرَ مَنْ ٲَخافُ عُسْرَہُ، وَحُزُونَۃَ مَنْ ٲَخافُ حُزُونَتَہُ، وَشَرَّ مَنْ

اندیشے میں جس سے میں ڈرتا ہوں اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں اس تکلیف میں جس

ٲَخافُ شَرَّہُ، وَمَکْرَ مَنْ ٲَخافُ مَکْرَہُ، وَبَغْیَ مَنْ ٲَخافُ بَغْیَہُ، وَجَوْرَ مَنْ ٲَخافُ

سے خوف کھاتا ہوں اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا رہتا ہوں اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں اس بے گھر ہونے سے جس سے

جَوْرَہُ، وَسُلْطانَ مَنْ ٲَخافُ سُلْطانَہُ، وَکَیْدَ مَنْ ٲَخافُ کَیْدَہُ، وَمَقْدُرَۃَ مَنْ ٲَخافُ

ترساں ہوں اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوںاس فریب سے جس سے خائف ہوں اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں

مَقْدُرَتَہُ عَلَیَّ، وَتَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ الْکَیَدَۃِ، وَمَکْرَ الْمَکَرَۃِ۔ اَللّٰھُمَّ مَنْ ٲَرادَنِی فَٲَرِدْہُ،

دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو اے معبود جو میرے لیے جیسا قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کر

وَمَنْ کادَنِی فَکِدْہُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَہُ وَمَکْرَہُ وَبَٲْسَہُ وَٲَمانِیَّہُ وَامْنَعْہُ عَنِّی کَیْفَ

جو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو روک دے اسے مجھ سے

شِئْتَ وَٲَنَّیٰ شِئْتَ۔ اَللّٰھُمَّ اشْغَلْہُ عَنِّی بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُہُ، وَبِبَلائٍ لاَ تَسْتُرُہُ

جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے

وَبِفاقَۃٍ لاَ تَسُدُّھا، وَبِسُقْمٍ لاَ تُعافِیہِ، وَذُلٍّ لاَ تُعِزُّہُ، وَبِمَسْکَنَۃٍ

ایسی تنگدستی سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے

لاَتَجْبُرُھا۔ اَللّٰھُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْہِ، وَٲَدْخِلْ عَلَیْہِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِہِ

جسے تو دور نہ کرے اے معبود میرے دشمن کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں

وَالْعِلَّۃَ وَالسُّقْمَ فِی بَدَنِہِ حَتَّی تَشْغَلَہُ عَنِّی بِشُغْلٍ شاغِلٍ لاَ فَراغَ لَہُ، وَٲَنْسِہِ

دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے اسے میری یاد بھلا دے جیسے

ذِکْرِی کَما ٲَنْسَیْتَہُ ذِکْرَکَ وَخُذْ عَنِّی بِسَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَلِسانِہِ وَیَدِہِ وَرِجْلِہِ وَقَلْبِہِ

اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے پاؤں اس کا دل

وَجَمِیعِ جَوارِحِہِ وَٲَدْخِلْ عَلَیْہِ فِی جَمِیعِ ذلِکَ السُّقْمَ وَلاَ تَشْفِہِ حَتَّی تَجْعَلَ ذلِکَ

اور اس کے تمام اعضا کو روک دے اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے

لَہُ شُغْلاً شاغِلاً بِہِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی، وَاکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لاَ یَکْفِی سِواکَ

لیے ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں

فَ إنَّکَ الْکافِی لاَ کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ

کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے

لاَ مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لاَ جارَ سِواکَ، خابَ مَنْ کانَ جَارُہُ سِواکَ، وَمُغِیثُہُ

تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں نا امید ہوا جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جس کا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ

سِواکَ وَمَفْزَعُہُ إلی سِواکَ وَمَھْرَبُہُ إلی سِواکَ وَمَلْجَأہُ إلی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاہُ مِنْ

کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی پناہ لے اور جسے بچانے والا

مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ، فَٲَنْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی وَمَفْزَعِی وَمَھْرَبِی وَمَلْجَأی

سوائے تیرے کوئی اور ہو کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو

وَمَنْجایَ، فَبِکَ ٲَسْتَفْتِحُ، وَبِکَ ٲَسْتَنْجِحُ، وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ٲَتَوَجَّہُ إلَیْکَ

مجھے نجات دینے والا ہے پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد (ص)و آل محمد (ص)کے واسطے سے تیری طرف آیا

وَٲَتَوَسَّلُ وَٲَتَشَفَّعُ، فٲَسْٲَلُکَ یَا اللّهُ یَا اللّهُ یَا اللّهُ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَ إلَیْکَ

اور انہیں وسیلہ بنانا اور شفاعت چاہتا ہوں پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے

الْمُشْتَکَیٰ وَٲَنْتَ الْمُسْتَعانُ، فٲَسْٲَلُکَ یَا اللّهُ یَا اللّهُ یَا اللّهُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمد(ص) و آل محمد(ص) کے واسطے سے کہ

ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَھَمِّی وَکَرْبِی فِی

محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں

مَقامِی ھذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ ھَمَّہُ وَغَمَّہُ وَکَرْبَہُ، وَکَفَیْتَہُ ھَوْلَ عَدُوِّہِ، فَاکْشِفْ

کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبی(ص) کا اندیشہ ان کا غم اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی پس دور کر میری

عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْہُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ عَنْہُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَہُ، وَاصْرِفْ

مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی میرا خوف

عَنِّی ھَوْلَ مَا ٲَخافُ ھَوْلَہُ، وَمَؤُونَۃَ مَا ٲَخافُ مَؤُونَتَہُ، وَھَمَّ مَا ٲَخافُ ھَمَّہُ، بِلا

دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے

مَؤُونَۃٍ عَلَی نَفْسِی مِنْ ذلِکَ، وَاصْرِفْنِی بِقَضائِ حَوائِجِی، وَکِفَایَۃِ مَا ٲَھَمَّنِی ھَمُّہُ

کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے

مِنْ ٲَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ اللّهِ

میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبداﷲ(ع) آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام

ٲَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ والنَّھارُ وَلاَ جَعَلَہُ اللّهُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلاَ فَرَّقَ

ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ

اللّهُ بَیْنِی وَبَیْنَکُما۔ اَللّٰھُمَّ ٲَحْیِنِی حَیَاۃَ مُحَمَّدٍ وَذُرِّیَّتِہِ، وَٲَمِتْنِی مَمَاتَھُمْ، وَتَوَفَّنِی

بنائے اور میرے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے اے معبودمجھے زندہ رکھ محمد(ص) اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے

عَلَی مِلَّتِھِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِھِمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ ٲَبَداً فِی

مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی

الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ، یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، ٲَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً إلَی

دنیا اور آخرت میں اے امیر المومنین (ع)اور اے ابا عبداللہ (ع)میں آپ دونوں کی زیارت کو آیا کہاس کو خدا کے ہاںوسیلہ بناؤں جو میرا

اللّهِ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّھاً إلَیْہِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی اللّهِ تَعالی فِی حاجَتِی

اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی بناتا ہوں اپنی حاجت

ھذِہِ فَاشْفَعا لِی فَ إنَّ لَکُما عِنْدَ اللّهِ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاہَ الْوَجِیہَ، وَالْمَنْزِلَ

کے بارے میں پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور

الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَۃَ، إنِّی ٲَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحاجَۃِ وَقَضائِھا وَنَجاحِھا

محکم تعلق رکھتے ہیں بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے

مِنَ اللّهِ بِشَفاعَتِکُما لِی إلَی اللّهِ فِی ذلِکَ فَلا ٲَخِیبُ، وَلاَ یَکونُ مُنْقَلَبِی

خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیں اور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے

مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاًمُنْجِحاً مُسْتَجاباً

جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری

بِقَضائِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إلَی اللّهِ۔ انْقَلَبْتُ عَلَی مَا شائَ اللّهُ وَلاَ حَوْلَ

ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیں میں پلٹ رہا ہوں اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت

وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ، مُفَوِّضاً ٲَمْرِی إلَی اللّهِ، مُلْجِئاً ظَھْرِی إلَی اللّهِ، مُتَوَکِّلاً عَلَی

و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی

اللّهِ، وَٲَقُولُ حَسْبِیَ اللّهُ وَکَفیٰ، سَمِعَ اللّهُ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ لِی وَرائَ اللّهِ

بھروسہ رکھتا ہوں اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے

وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَھیٰ، مَا شائَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَٲْ لَمْ یَکُنْ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ

اور سوائے آپ کے اے میرے سردار جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت

قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ ٲَسْتَوْدِعُکُمَا اللّهَ، وَلاَ جَعَلَہُ اللّهُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی إلَیْکُما، انْصَرَفْتُ

و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے میں واپس جاتا ہوں

یَا سَیِّدِی یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَٲَنْتَ اُبْتُ یَاٲَبا عَبْدِاللّهِ یَا سَیِّدِی وَسَلامِی

اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار اور آپ ہیں اے ابا عبداللہ (ع)اے میرے سردار میرا سلام ہو

عَلَیْکُما مُتَّصِلٌ مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ، واصِلٌ ذلِکَ إلَیْکُما غَیْرُ مَحْجُوبٍ عَنْکُما

آپ دونوں پر متواتر جب تک رات اور دن باقی ہیں یہ سلام آپ دونوں کو پہنچتا رہے کبھی رکنے نہ پائے آپ پر میرا

سَلامِی إنْ شَائَ اللّهُ، وَٲَسْٲَلُہُ بِحَقِّکُما ٲَنْ یَشائَ ذلِکَ وَیَفْعَلَ فَ إنَّہُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔

یہ سلام اگر خدا چاہے تو سوال کرتا ہوں اس سے آپ کے واسطے کہ وہ یہی چاہے اور یہ کرے کیونکہ وہ ہے حمد والا بزرگی والا میں آپ

انْقَلَبْتُ یَا سَیِّدَیَّ عَنْکُما تائِباً حامِداً لِلّٰہِ شاکِراً راجِیاً لِلاِِْجابَۃِ، غَیْرَ آیِسٍ وَلاَ

کے ہاں سے جاتا ہوں اے میرے سردار ا ور خدا سے توبہ کرتا ہوں اسکی حمد کرتا ہوں شکر کرتا ہوں قبولیت کا امید وار ہوں مجھے نا امید و مایوس

قَانِطٍ، آئِباً عائِداً راجِعاً إلی زِیارَتِکُما، غَیْرَ راغِبٍ عَنْکُما وَلاَ عَنْ زِیارَتِکُما بَلْ

نہ کرنا پھر آنے کی زیارت کرنے کے ارادے سے نہ کہ آپ سے اور نہ آپ کی زیارت سے

راجِعٌ عائِدٌ إنْ شَائَ اللّهُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ، یَا سادَتِی رَغِبْتُ إلَیْکُما

منہ موڑے ہوئے بلکہ دوبارہ آنے کے لیے اگر خدا چاہے اورنہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے اے میرے سردار میں شائق

وَ إلی زِیارَتِکُما بَعْدَ ٲَنْ زَھِدَ فِیکُما وَفِی زِیارَتِکُما ٲَھْلُ الدُّنْیا، فَلا خَیَّبَنِیَ

ہوں آپ کا اور آپ کی زیارت کا جبکہ بے رغبت ہو گئے ہیں آپ سے اور آپ دونوں کی زیارت کرنے سے یہ دنیا والے پس خدا

اللّهُ مِمَّا رَجَوْتُ وَمَا ٲَمَّلْتُ فِی زِیارَتِکُما إنَّہُ قَرِیبٌ مُجِیبٌ۔

مجھے نا امید نہ کرے اس سے جسکی امید و آرزو رکھتا ہوں آپکی زیارت کے واسطے بے شک وہ نزدیک تر ہے قبول کرنے والا ہے۔

زیارت عاشورا کے فوائد

سیف ابن عمیر کہتا ہے کہ میں نے صفوان سے کہا کہ علقمہ ابن محمد نے امام محمد باقر سے یہ دعا ہمارے لیے نقل نہیں کی بلکہ اس نے صرف زیارت عاشورہ ہی بیان کی ہے صفوان نے کہا کہ میں اپنے سردار امام جعفر صادق  کے ساتھ اس مقام پر آیا تھا تو آپ نے یہی عمل کیا جو ہم نے کیا ہے یعنی اس طرح زیارت پڑھی اور پھر دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد یہی دعائے وداع پڑھی تھی جیسا کہ ہم نے نماز پڑھی اور وداع کیا ہے صفوان نے مزید کہا کہ امام جعفر صادق  نے مجھ سے فرمایا کہ اس زیارت اور دعا کا پڑھنا اپنا شیوہ بنا لو اور اسی طرح زیارت کیا کرو پس ضرور میں ضامن ہوں خدا کی جانب سے ہر اس شخص کے لیے جو اس طرح زیارت کرے اور اسی طرح دور یا نزدیک سے دعا پڑھے تو اس کی زیارت قبول ہو گی اس کا سلام حضرت تک پہنچے گا اور نا مقبول نہ ہو گا جب بھی وہ خدا سے حاجت طلب کرے گاوہ پوری ہوگی اور خدائے تعالیٰ اسے مایوسی کے عالم میں واپس نہ پلٹائے گا۔ اے صفوان میں نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت اپنے والد گرامی امام علی ابن الحسین علیہما السلام سے سنی انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ امام حسین سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے برادر امام حسن سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے والد بزرگوار امیر المومنین سے انہوں نے اسی ضمانت کیساتھ حضرت رسولﷺ سے اور آنحضرت (ص) نے اسی ضمانت کے ساتھ جبرائیل(ع) سے اور جبرائیل(ع) نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت خدا وند عالم سے سنی کہ یقیناً حق تعالیٰ نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص یہ زیارت پڑھ کر امام حسین کی دور یا نزدیک سے زیارت کرے اور پھر یہی دعا پڑھے تو میں اس کی زیارت قبول کروں گا۔ اس کی ہر خواہش پوری کروں گا وہ جتنی بھی ہو اس کا سوال پورا کروں گا اور وہ میری بارگاہ سے مایوس و ناکام نہیں پلٹے گا بلکہ وہ بہ چشم روشن واپس جائے گا کہ اس کی حاجت پوری ہو چکی ہو گی وہ حصول جنت میں کامیاب او رجہنم سے آزاد ہو چکا ہو گا میں اس کی شفاعت قبول کروں گا سوائے دشمن اہل بیت کے اس حق میں اس کی شفاعت قبول نہ ہو گی خدائے تعالیٰ نے اپنی ذات برحق کی قسم کھائی اور ہمیں اس پر گواہ بنایا ہے کہ جس کی اس کے ملائکہ نے گواہی دی ہے ۔

جبرائیل(ع)نے بھی یہ کہا کہ یا رسول اللہ (ص)! خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ آپ کو بشارت دوں اور مسرور کروں نیز اس لیے بھیجا ہے کہ علی و فاطمہ و حسن و حسین اور آپ کی اولاد سے دیگر ائمہ معصومین کو بشارت دو کہ یہ خوشی اور شادمانی تا قیامت قائم رہے لہذا آپ کی خوشی علی، فاطمہ،حسن، حسین،اور دیگر ائمہ اور آپکے شعیوں کی یہ مسرت و شادمانی تا قیامت بحال و قائم رہے اس کے بعد صفوان نے کہا کہ امام جعفر صادق  نے مجھ سے فرمایا کہ اے صفوان جب بھی بارگاہ الہٰی میں تجھے کوئی حاجت در پیش ہوا کرے تو تم جس جگہ پر بھی ہو وہاں یہ زیارت اور یہ دعا پڑھو اور پھر جو حاجت بھی خدا سے طلب کرو گے وہ پوری کی جائے گی اور حق تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ سے عطا وبخشش کا جووعدہ کر رکھا ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا والحمد للہ!

مولف کہتے ہیں نجم الثاقب میں حاج سید احمد رشتی کے سفر حج کے ذیل میں حضرت صاحب العصر ارواحنافداہ سے ان کے شرف ملاقات کی حکایت درج ہے جس میں امام العصر﴿عج﴾ کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ تم زیارت عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے عاشورہ عاشورہ عاشورہ اور انشا اللہ ہم یہ حکایت زیارت جامعہ کبیرہ کے ساتھ نقل کریں گے تاہم ہمارے استاد ثقتہ الاسلام نوری(رح) کا ارشاد ہے کہ زیارت عاشورہ کے مرتبہ و فضلیت میں اتنا ہی کافی ہے کہ یہ زیارت دیگر زیارتوں کی طرح معصوم کی طرف سے صرف ظاہری املا و انشا نہیں گو کہ ان کے پاک دلوں سے جو بات نکلتی ہے وہ عالم بالاسے آتی ہے لیکن یہ زیارت احادیث قدسیہ میں سے ہے جو اسی ترتیب سے زیارت و لعنت اورسلام و دعا کے ساتھ ذات احدیت سے جبرائیل امین (ع) تک اور ان سے حضرت خاتم النبیین(ص) تک پہنچی ہے اس کے تجربہ و آزمائش کے مطابق چالیس روز یا اس سے کم دنوں تک اس کو روزانہ پڑھنا حاجتوں کے پورا ہونے اور مقاصد کے برآنے اوردفعیہ دشمن کے لیے بے خطا اور بے نظیر ہے لیکن سب سے بڑا فائدہ جو اس کے متواتر پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے وہ وہی ہے جسے میں نے کتاب دارالسلام میں درج کیا ہے جو مختصراً یوں ہے کہ ثقہ صالح متقی حاج ملا حسن یزدی(رح) جو پارسا افراد میں سے تھے اور نجف اشرف میں عبادت و زیارت میں مصروف رہاکرتے تھے انہوں نے ثقہ امین حاج محمد علی یزدی(رح) سے نقل کیا ہے جو مرد فاضل و صالح تھے اور یزد میں ہمیشہ آخرت کی بھلائی کی خاطر مشغول عبادت رہتے ہیں یزد کے باہر واقع مقبرہ جس میں بہت سے صالحین مدفون ہیں اور اسے مزار کہتے ہیں اس میں راتیں گزارتے تھے ان کا ایک ہمسایہ تھا جو ان کے ساتھ پلا بڑھا تھا اور وہ دونوں ایک ہی استادکی شاگردی میں رہے جب وہ جوان ہوا تو اس نے وصولی عشر کا شغل اختیار کیا اور پھر اسی کام میں دنیا سے چل بسا وہ اسی جگہ کے قریب دفن ہوا جہاں یہ مرد صالح راتوں کو عبادت کرتے تھے اس کی مرگ پر ابھی ایک ماہ نہ گزرا تھا کہ اس نیک شخص نے اسے عمدہ لباس اور بہترین حالت میں دیکھا تب وہ اس کے قریب گئے اور اس سے کہا کہ میں تمہارے آغاز و انجام زندگی سے واقف ہوں اور تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہوں کہ تم ایسے لوگوں میں سے نہ تھے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ ان کا باطن صاف ہے نیز جو پیشہ تم نے اختیار کر رکھا تھا اس کا تقاضا بھی یہ تھا کہ تم عذاب میں پڑے رہو پس وہ کون سا عمل ہے جس کے ذریعے تم اس مرتبے پر پہنچے ہو؟اس نے کہا کہ معاملہ ایسا ہی تھا جیسے آپ نے فرمایا ہے اور جب سے قبر میں آیا ہوں بڑے ہی سخت عذاب میں رہا ہوں یہاں تک کہ ہمارے استاد اشرف لوہار کی بیوی یہاں دفن کی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی جائے دفن کی طرف اشارہ بھی کیا جو وہاں سے سو گز کے فاصلے پر تھی پھر بتایا کہ دفن کی رات میں امام ابو عبداللہ الحسین نے تین بار اس خاتون کی خبر گیری فرمائی جب تیسری دفعہ تشریف لائے تو آپ نے حکم فرمایا کہ اس قبرستان پر سے عذاب اٹھا دیا جائے چنانچہ اس وقت سے ہم سبھی اہل قبور کی حالت بہتر ہو گئی اور ہم نعمت و رحمت میں بسر کر رہے ہیں اس پر وہ صالح حیرت زدہ ہو کر بیدار ہوئے جب کہ وہ نہ اس لوہار کو جانتے تھے نہ اس گھر کی جائے وقوع سے واقف تھے پس وہ لوہاروں کے بازار گئے اور جستجو کی تو اس عورت کا خاوند انہیں مل گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری کوئی بیوی تھی اس نے کہا ہاں وہ کل فوت ہو گئی اور اسے فلاں جگہ دفن کیاگیا ہے‘ ان بزرگ نے پوچھا کہ آیا وہ امام حسین کی زیارت کو گئی تھی اس نے کہا نہیں کیا وہ ذکر و مصائب کیا کرتی تھی؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے دریافت کیا آیا وہ مجلس عزا برپا کرتی تھی اس نے کہا نہیں تب وہ لوہار کہنے لگا کہ آپ کس بات کی جستجو میں ہیں؟ اب بزرگ نے اسے اپنا خواب سنایا تو وہ کہنے لگا کہ میری بیوی ہمیشہ زیارت عاشورہ پڑھا کرتی تھی۔

دوسری زیارت عاشورہ

یہ زیارت عاشورہ غیر معروف ہے جو زیارت مشہورہ ہی کیطرح اجر و ثواب کی حامل ہے اس میں سو مرتبہ لعنت کرنا اور سو مرتبہ سلام کرنا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کیلئے فوز عظیم کی حیثیت رکھتی ہے جو اہم کاموں میں مشغول رہتے ہیں مزار قدیم میں اسکا جو طریقہ درج ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص دور یا نزدیک سے حضرت امام حسین کی زیارت کرنا چاہے تو وہ غسل کرے اور صحرا یااپنے گھر کی چھت پر جائے دو رکعت نماز بجا لائے اور الحمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھے اور جب سلام پھیرلے تو آنحضرت کی طرف سلام کے ساتھ اشارہ کرے اور اسی سلام، اشارے اور نیت کے ساتھ اسی جہت کیطرف متوجہ ہو جس میں وہ ہے یعنی حضرت امام حسین کے مزار کربلا معلی کیطرف رخ کرے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ یہ سلام پڑھے :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ

آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خوشخبری دینے والے ڈرانے والے کے فرزنداور اوصیا کے سردار کے

الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَۃَ سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا (ع)کے فرزند جوجہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے

خِیَرَۃَ اللّهِ وَابْنَ خِیَرَتِہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللّهِ وَابْنَ ثَارِہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا

پسندیدہ خدا اور پسندیدہ خدا کے فرزند سلام ہو آپ پراے قربان خدااور قربان خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے

الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْاِمامُ الْھَادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی ٲَرْوَاح

وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے سلام ہوآپ پر اے وہ امام کہ جورہبر ہے پاک و پاکیزہ ہے اور سلام ہو ان روحوں پر جو

حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَٲَقامَتْ فِی جِوارِکَ، وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا

آپ کی بارگاہ میں اترتی ہیں آپ کے قرب میں ٹھہرتی اور آپ کے زائروں کے ہمراہ آتی ہیں سلام ہو آپ پر

بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّہارُ فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّۃُ وَجَلَّتْ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ

میری طرف سے جب تک زندہ ہوں اور رات دن کی آمد جاری ہے یقینا آپ کا سوگ بہت زیادہ اور بہت بھاری ہے

وَفِی ٲَھْل السَّمٰوَاتِ وَٲَھْلِ الْاََرَضِینَ ٲَجْمَعِینَ فَ إنَّا لِلّٰہِ وَ إنَّا إلَیْہِ راجِعُونَ صَلَواتُ

مومنوں اور مسلمانوں کے لیے اور ان سب پر بھاری ہے جو آسمانوں پر اورزمینوں میں ہیں پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف

اللّهِ وَبَرَکاتُہُ وَتَحِیَّاتُہُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ الْحُسَیْنِ وَعَلَی آبائِکَ الطَّیِّبِینَ

لوٹیں گے خدا کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اور سلام ہوں آپ پر اے ابا عبداللہ حسین (ع) اور سلام ہو آپ کے بزرگوں پر جو پاکیزہ

الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذُرِّیَّاتِکُمُ الْھُداۃِ الْمَھْدِیِّینَ۔ لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً خَذَلَتْکَ وَتَرَکَتْ نُصْرَتَکَ

اور منتخب ہیں اور سلام آپکے فرزندوں پر جو ہدایت یافتہ رہبر ہیں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا ساتھ چھوڑاآپ کی مدد نہ کی

وَمَعُونَتَکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً ٲَسَّسَتْ ٲَساسَ الظُّلْمِ لَکُمْ وَمَھَّدَتِ الْجَوْرَ عَلَیْکُمْ وَطَرَّقَتْ

اور کمک نہ پہنچائی اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کرنے کی بنیاد ڈالی آپ پرستم کرنے کا سامان فراہم کیا آپ کو

إلی ٲَذِیَّتِکُمْ وَتَحَیُّفِکُمْ وَجارَتْ ذلِکَ فِی دِیارِکُمْ وَٲَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی اللّهِ

آزار پہنچانے اور آپ کو بے گھر کرنے کی راہ نکالی اس ظلم و ستم کو آپ کے گھروں اورآپ کے ساتھیوں تک بڑھایا میں اظہار

عَزَّوَجَلَّ وَ إلَیْکُمْ یَا سَادَاتِی وَمَوَالِیَّ وَٲَیِمَّتِی مِنْھُمْ وَمِنْ ٲَشْیاعِھِمْ وَٲَتْباعِھِمْ،

بیزاری کرتا ہوں خدائے تعالیٰ کے اور آپکے سامنے اے میرے سردارمیرے آقا اور میرے امام ان سے انکے ساتھیوں سے انکے پیروکاروں سے

وَٲَسْٲَلُ اللّهَ الَّذِی ٲَکْرَمَ یَا مَوالِیَّ مَقامَکُمْ وَشَرَّفَ مَنْزِلَتَکُمْ وَشَٲْنَکُمْ ٲَنْ یُکْرِمَنِی

اور سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے اے میرے آقا بلند کیا آپ کا مقام بڑھائی آپ کی عزت اور شان یہ کہ وہ مجھے بزرگی دے

بِوِلایَتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَالائْتِمامِ بِکُمْ، وَبِالْبَرائَۃِ مِنْ ٲَعْدَائِکُمْ، وَٲَسْٲَلُ اللّهَ الْبَرَّ

آپ کی ولایت آپ کی محبت آپ کی پیروی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے جو بڑا

الرَّحِیمَ ٲَنْ یَرْزُقَنِی مَوَدَّتَکُمْ وَٲَنْ یُوَفِّقَنِی لِلطَّلَبِ بِثارِکُمْ مَعَ الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ

مہربان ہے یہ کہ وہ مجھے آپ کی مودّت نصیب کرے اور مجھے توفیق دے کہ آپ کے خون کابدلہ لوں اس امام کے ہمراہ

الْھادِی مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ، وَٲَنْ یُبَلِّغَنِی

جو آنے والے رہبر ہیں آل محمد(ص) میں سے ہیں اور یہ کہ وہ قرار دے مجھ کو آپ کے ساتھ دنیا وآخرت میں نیزمجھے بھی اس مقام محمود پر

الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللّهِ، وَٲَسْٲَلُ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّٲْنِ الَّذِی جَعَلَ

پہنچائے جو اس نے آپ کیلئے خاص کیا ہے پھر سوال کرتا ہوں خدائے عزو جل سے آپ کے حق اور مرتبے کے واسطے سے جو خدا

اللّهُ لَکُمْ ٲَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ ٲَفْضَلَ مَا ٲَعْطیٰ مُصاباً بِمُصِیبَۃٍ،

نے آپ کیلئے قرار دیا ہے کہ وہ آپ کی عزا داری کے بدلے میں مجھے بہترین اجر دے جو اس نے آپ کے کسی عز دار کو عنایت کیا ہو

إنَّا لِلّٰہِ وَ إنَّا إلَیْہِ راجِعُونَ، یَا لَھا مِنْ مُصِیبَۃٍ مَا ٲَفْجَعَھا وَٲَنْکاھا لِقُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ

یقیناً ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے افسوس ہے کہ آپ کی اس مصیبت پر جوکتنی دلگداز اور گہری ہے مومنوں اور مسلمانوں

وَالْمُسْلِمِینَ فَ إنَّا لِلّٰہِ وَ إنَّا إلَیْہِ راجِعُونَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی

کے دلوں کے لیے پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مجھے اس جگہ قرار دے

فِی مَقامِی مِمَّنْ تَنالُہُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَۃٌ وَمَغْفِرَۃٌ، وَاجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیھاً فِی

جہاں پر کھڑا ہوں ان افراد میں جن پر تیری سلامتی، رحمت اور بخشش ہوئی ہے اور مجھے قرار دے اپنے حضور باعزت

الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَ إنِّی ٲَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْہِ

اور مقربین میں سے دنیا اور آخرت میں کیونکہ میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) کے صدقے ان پر

وَعَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ۔ اَللّٰھُمَّ وَ إنِّی ٲَتَوَسَّلُ وَٲَتَوَجَّہُ بِصَفْوَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ

اور انکی ساری آل پر تیری رحمتیں ہوں اے معبود! بے شک میں نے وسیلہ بنایا اور تیری طرف آیا بواسطہ مخلوق میں سے تیرے

وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالطَّیِّبِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا، اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

پسندیدہ کے اور کائنات میں تیرے چنے ہوؤں یعنی حضرت محمد(ص) و حضرت علی(ع) اور ان دونوں کی پاکیزہ اولاد کو وسیلہ بنایا پس اے معبود محمد(ص)

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیاھُمْ، وَمَماتِی مَماتَھُمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ فِی

و آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور بنا دے میری زندگی انکی زندگی جیسی اور میری موت انکی موت جیسی اور جدائی نہ ڈال مجھ میں اور ان میں دنیا

الدُّنْیا وَالْاَخِرۃِ، إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ اَللّٰھُمَّ وَھذَا یَوْمٌ تَجَدَّدَ فِیہِ النِّقْمَۃُ، وَتَنَزَّلَ فِیہِ

وآخرت میں بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اے معبود آج وہ دن ہے جس میں نیا عذاب آتا ہے اور برستی ہے

اللَّعْنَۃُ عَلَی اللَّعِینِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ زِیادٍ وَعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ وَالشِّمْرِ۔

لعنت پر لعنت ملعون ولعنتی یزید پر اور اولاد یزید پر اور زیاد پر اور لعنت ہے عمر بن سعد اور شمر پر

اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ وَالْعَنْ مَنْ رَضِیَ بِقَوْلِھِمْ وَفِعْلِھِمْ مِنْ ٲَوَّلٍ وَآخِرٍ لَعْناً کَثِیراً وَٲَصْلِھِمْ

اے معبود لعنت بھیج ان پر لعنت بھیج اس پر جو انکے قول و فعل پر راضی ہو اولین و آخرین میں سے بہت بہت لعنت ڈال دے انکا اپنی

حَرَّنارِکَ وَٲَسْکِنْھُمْ جَھَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیراً وَٲَوْجِبْ عَلَیْھِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ شایَعَھُمْ

آگ کے شعلوں میں ٹھکانہ بنا ان کو جہنم میں ٹھہرا اور وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے ضرور لعنت کر ان پر اور ان کے ساتھیوں پر

وَبایَعَھُمْ وَتابَعَھُمْ وَساعَدَھُمْ وَرَضِیَ بِفِعْلِھِمْ وَافْتَحْ لَھُمْ وَعَلَیْھِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ

جنہوں نے ان سے پیمان باندھے انکی پیروی کی اور انکی مدد کرتے رہے اور انکے فعل پر راضی رہے کھول دے ان کیلئے اپنی ہر لعنت کا

رَضِیَ بِذلِکَ لَعَناتِکَ الَّتِی لَعَنْتَبِھا کُلَّ ظالِمٍ، وَکُلَّ غاصِبٍ، وَکُلَّ جاحِدٍ،

راستہ اور ان پر بھی جو ان کے ظلم کو پسند کرتے ہیں اپنی طرف سے وہ لعنت کر جو لعنت کی ہے تو نے ہر ظالم پر ہر غاصب پرہر منکر پر ہر

وَکُلَّ کافِرٍ، وَکُلَّ مُشْرِکٍ، وَکُلَّ شَیْطانٍ رَجِیمٍ، وَکُلَّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ۔ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ

کافر پر ہر مشرک پر اور جو لعنت کی ہے تو نے ہر مردود شیطان پر اور ہر ضدی ستمگار پر اے معبود لعنت بھیج یزید پر

وَآلَ یَزِیدَ وَبَنِی مَرْوانَ جَمِیعاً اَللّٰھُمَّ وَضَعِّفْ غَضَبَکَ وَسَخَطَکَ وَعَذابَکَ وَنَقِمَتَکَ

اولاد یزید پر اور اولاد مروان سب پر اے معبود دگنا کر دے اپنا غضب اپنا غصہ اپنا عذاب اور اپنی سزا

عَلَی ٲَوَّلِ ظالِمٍ ظَلَمَ ٲَھْلَ بَیْتِ نَبِیِّکَ، اَللّٰھُمَّ وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ لَھُمْ وَانْتَقِمْ

اس پہلے ظالم پر جس نے تیرے نبی کے خاندان پر ظلم کاآغاز کیا اے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے اہل بیت(ع) پر ظلم کیا اور تو ان

مِنْھُمْ إنَّکَ ذُو نِقْمَۃٍ مِنَ الْمُجْرِمِینَ، اَللّٰھُمَّ وَالْعَنْ ٲَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ آلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ،

سے انتقام لے کیونکہ تو مجرموں کو سزا دینے والا ہے اے معبود تو لعنت کر ان پہلے ظالموں پر جنہوں نے اہل بیت محمد(ص) پر ظلم کیا

وَالْعَنْ ٲَرْواحَھُمْ وَدِیارَھُمْ وَقُبُورَھُمْ وَالْعَنِ اَللّٰھُمَّ الْعِصابَۃَ الَّتِی نازَلَتِ الْحُسَیْنَ

اورلعنت بھیج ان کی روحوں پر ان کے گھروں پر اور انکی قبروں پر نیز لعنت کر اے معبود اس گروہ پر جنہوں نے حسین (ع) سے جنگ کی جو

بْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ وَحارَبَتْہُ وَقَتَلَتْ ٲَصْحابَہُ وَٲَنْصارَہُ وَٲَعْوَانَہُ وَٲَوْلِیَائَہُ وَشِیعَتَہُ

تیرے نبی(ص) کی دختر کے فرزند ہیں لعنت کر ان پر جس نے ان سے جنگ کی اور قتل کیا انکے ساتھیوں اور مدد گاروں کو اورقتل کیاانکے حامیوں انکے دوستوں

وَمُحِبِّیہِ وَٲَھْلَ بَیْتِہِ وَذُرِّیَّتَہُ، وَالْعَنِ اَللّٰھُمَّ الَّذِینَ نَھَبُوا مالَہُ،وَسَلَبُوا

انکے پیروکاروں اور محبوں کو اور قتل کیا ان کے خاندان اور انکی اولاد کو اے معبود لعنت بھیج ان کا مال لوٹنے والوں اور ان کے خیمے

حَرِیْمُہَُ، وَلَمْ یَسْمَعُوا کَلامَہُ وَلاَ مَقالَہُ، اَللّٰھُمَّ وَالْعَنْ کُلَّ مَنْ بَلَغَہُ ذلِکَ فَرَضِیَ

تاراج کرنے والوں پر جنہوں نے توجہ نہ کی انکی گفتار اور ان کی پکار پراے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے یہ واقعہ سنا اور وہ اس

بِہِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَالْخَلائِقِ ٲَجْمَعِینَ إلی یَوْمِ الدِّینِ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

پر خوش ہوئے اولین و آخرین میں سے اور ساری مخلوق میں سے سب پر قیامت کے دن تک، سلام ہو آپ پر

یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ الْحُسَیْنَ وَعَلَی مَنْ سَاعَدَکَ وَعاوَنَکَ وَوَاسَاکَ بِنَفْسِہِ، وَبَذَلَ

اے ابا عبداللہ الحسین (ع)اور ان پر جنہوں نے آپ کا ساتھ دیاآپ کی مدد کی آپ کے لیے اپنی جانیں حاضر کر دیں اور آپ کا دفاع

مُھْجَتَہُ فِی الذَّبِّ عَنْکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَعَلَیْھِمْ، وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی

کرتے ہوئے اپنے خون میں نہا گئے سلام ہو آپ پر اے میرے آقا اور ان پر سلام آپ کی روح پر اور ان کی

ٲَرْواحِھِمْ، وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِھِمْ۔ اَللّٰھُمَّ لَقِّھِمْ رَحْمَۃً وَرِضْواناً وَرَوْحاً

روحوں پر اور سلام آپ کی قبر پر اور ان کی قبروں پر اے معبود ملاقات کر ان سے رحمت و خوشنودی سے اور راحت و

وَرَیْحاناً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ، یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدِ

مسرت سے آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے اباعبداﷲ(ع) اے خاتم الانبیا کے فرزند اے اوصیا کے

الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدَۃِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَھِیدُ یَابْنَ الشَّھِیدِ۔

سردار کے فرزند اے جہانوں کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید ابن شہید

اَللّٰھُمَّ بَلِّغْہُ عَنِّی فِی ھذِہِ السَّاعَۃِ وَفِی ھذَا الْیَوْمِ وَفِی ھذَا الْوَقْتِ وَکُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّۃً

اے معبود! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی آج کے دن اور اسی وقت اور ہر وقت بہت بہت درود

وَسَلاماً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْعالَمِینَ، وَعَلَی الْمُسْتَشْھَدِینَ مَعَکَ سَلاماً

اور سلام، سلام ہو آپ پر اے جہانوں کے سردار کے فرزند اور ان پر جوآپ کے ہمراہ شہید ہوئے سلام ہو مسلسل

مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّہارُ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الشَّھِیدِ، اَلسَّلَامُ

جب تک رات اور دن باقی رہیں سلام ہو حسین(ع) شہید پر جو علی(ع) کے فرزند ہیں سلام ہو

عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ الشَّھِیدِ

شہید علی(ع) پر جو حسین(ع) کے فرزند ہیں سلام ہو شہید عباس (ع)پر جو امیر المومنین (ع)کے فرزند ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَدائِ مِنْ وُلْدِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَدائِ مِنْ وُلْدِ

سلام ہو ان شہیدوں پر جو امیر المومنین (ع)کی اولاد سے ہیں سلام ہو ان شہیدوں پر جو جعفر(ع) اور عقیل(ع) کی

جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی کُلِّ مُسْتَشْھَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

اولاد سے ہیں سلام ہو ان سب شہیدوں پر جو مومنوں میں سے ہیں اے معبود محمد(ص)

وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْھُمْ عَنِّی تَحِیَّۃً وَسَلاماً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّهِ وَعَلَیْکَ

و آل محمد(ص) پر رحمت نازل کر اور ان کو میرا درود اور سلام پہنچا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول(ص) اور آپ(ص) پر

اَلسَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ، ٲَحْسَنَ اللّهُ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ ں،

سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور برکات ہوں خدا آپ کو اس غم کا بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسین  کے بارے میں پایا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبَا الْحَسَنِ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ

آپ پر سلام ہو اے ابا الحسن (ع)اے مومنوں کے امیر اور آپ پرسلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں خدا آپ کو

ٲَحْسَنَ اللّهُ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَۃُ یَا بِنْتَ رَسُولِ

اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسین (ع) کے بارے میں پایا آپ پر سلام ہو اے فاطمہ (ع)اے جہانوں کے پرودگار کے

رَبِّ الْعالَمِینَ وَعَلَیْکِ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ٲَحْسَنَ اللّهُ لَکِ الْعَزائَ فِی وَلَدِکِ

رسول(ص) کی دخترآپ پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا آپکو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسین (ع) کے

الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ

بارے میں دیکھا آپ پر سلام ہو اے ابا محمد الحسن (ع)آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں

ٲَحْسَنَ اللّهُ لَکَ الْعَزائَ فِی ٲَخِیکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَرْواحِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ

خدا آپ کو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے بھائی حسین (ع) کے بارے میں پایا سلام ہو مومنین و مومنات کی روحوں پر

الْاََحْیائِ مِنْھُمْ وَالْاََمْواتِ، وَعَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ، ٲَحْسَنَ اللّهُ لَھُمُ

کہ جو ان میں زندہ ہیں اور جو مر چکے ہیں ان سب پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں خدا ان کو اس غم پر بہترین اجر

الْعَزائَ فِی مَوْلاھُمُ الْحُسَیْنِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا مِنَ الطَّالِبِینَ بِثارِہِ مَعَ إمامٍ عَدْلٍ

دے جو انہیں اپنے مولا حسین (ع) کے بارے میں ہے اے معبود! ہمیں ان کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے اس امام عادل

تُعِزُّ بِہِ الْاِسْلامَ وَٲَھْلَہُ یَارَبَّ الْعالَمِینَ۔

کے ہمراہ جن کے ذریعے تو اسلام و مسلمانوں کو عزت دے گا اے جہانوں کے پروردگار۔

پھر سجدے میں جاکر پڑھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی جَمِیعِ مَا نابَ مِنْ خَطْبٍ وَلَکَ الْحَمْدُ

اے معبود تیرے لیے حمد ہے بوجہ اس بڑی مصیبت کے جو پیش آئی تیرے لیے حمد ہے

عَلَی کُلِّ ٲَمْرٍ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُھِمَّاتِ بِخِیَرَتِکَ

ہر معاملے میں اور تیری بارگاہ میں شکایت ہے ان بڑی مصیبتوں پر جو تیرے برگزیدہ دوستوں

وَٲَوْلِیائِکَ وَذلِکَ لِما ٲَوْجَبْتَ لَھُمْ مِنَ الْکَرَامَۃِ وَالْفَضْلِ الْکَثِیرِ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی

پر گزریں اس وجہ سے کہ تو نے لازم فرمائی ان کے لیے بزرگواری اور بہت زیادہ فضلیت پس اے معبود محمد(ص) و آل محمد(ص)

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی شَفاعَۃَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَالْمَقامِ الْمَشْھُودِ

پر رحمت فرما اور مجھے نصیب کر حسین  کی شفاعت و سفارش جس دن آنا ہے مقام معین حوض کوثر پر جو وارد

وَالْحَوْضِ الْمَوْرُودِ، وَاجْعَلْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَٲَصْحابِ

ہونے کی جگہ ہے اور قرار دے میری اپنے حضور کی بہترین آمد جو حسن(ع) اور حسین(ع) کے اصحاب

الْحُسَیْنِ الَّذِینَ وَاسَوْہُ بِٲَنْفُسِھِمْ، وَبَذَلُوا دُونَہُ مُھَجَھُمْ، وَجاھَدُوا مَعَہُ ٲَعْدائَکَ

کے ہمراہ وہم رکاب ہو جنہوں نے ان پر اپنی جانیں قربان کیں انکے سامنے گردنیں کٹوا دیں اور انکے ساتھ ہو کرتیرے دشمنوں سے

ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ وَرَجَائِکَ، وَتَصْدِیقاً بِوَعْدِکَ، وَخَوْفاً مِنْ وَعِیدِکَ، إنَّکَ

لڑے کہ تیری رضا پائیں اور امید لگائیں تجھ سے انہوں نے تیرے وعدے کو سچا جانا اور تیری سخت گیری سے ڈرے بے شک تو

لَطِیفٌ لِمَا تَشائُ یَاٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

مہربان ہے اس کے لیے جسے تو چاہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

آٹھویں زیارت

زیارت اربعین

یہ وہ زیارت ہے جو امام حسین کے چہلم کے دن یعنی بیس صفر کو پڑھی جاتی ہے شیخ(رح) نے تہذیب میں اور مصباح میں امام حسن عسکری  سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مومن کی پانچ علامات ہیں

(1)ہر شب و روز میں اکاون رکعت نماز پڑھنا کہ اس سے مراد سترہ رکعت فریضہ اور چونتیس رکعت نافلہ ہے

(2)زیارت اربعین کا پڑھنا،

(3) دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا،

(4)سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی خاک پر رکھنا

(5)نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا:

پہلی زیارت

بیس صفر کو امام حسین کی زیارت کے دو طریقے ہیں پہلا طریقہ وہ ہے جسے شیخ نے تہذیب اور مصباح میں صفوان جمال ﴿ساربان﴾ سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا مجھ کو میرے آقا امام جعفر صادق  نے زیارت اربعین کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ جب سورج بلند ہو جائے تو حضرت کی زیارت کرو اور کہو:

اَلسَّلَامُ عَلَی وَلِیِّ اللّهِ وَحَبِیبِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَلِیلِ اللّهِ وَنَجِیبِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو خدا کے ولی اور اس کے پیارے پر سلام ہو خدا کے سچے دوست اور چنے ہوئے پر سلام ہو خدا کے

صَفِیِّ اللّهِ وَابْنِ صَفِیِّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّھِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

پسندیدہ اور اس کے پسندیدہ کے فرزند پر سلام ہو حسین(ع) پر جو ستم دیدہ شہید ہیں سلام ہو حسین(ع) پر

ٲَسِیرِ الْکُرُباتِ وَقَتِیلِ الْعَبَرَاتِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَشْھَدُ ٲَنَّہُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ، وَصَفِیُّکَ

جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہے اے معبود میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند تیرے پسندیدہ

وَابْنُ صَفِیِّکَ، الْفَائِزُ بِکَرَامَتِکَ، ٲَکْرَمْتَہُ بِالشَّھَادَۃِ، وَحَبَوْتَہُ بِالسَّعَادَۃِ، وَاجْتَبَیْتَہُ

اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں جنہوں نے تجھ سے عزت پائی تونے انہیں شہادت کی عزت دی انکو خوش بختی نصیب کی اور انہیں

بِطِیبِ الْوِلادَۃِ، وَجَعَلْتَہُ سَیِّداً مِنَ السَّادَۃِ، وَقَائِداً مِنَ الْقَادَۃِ، وَذَائِداً مِنَ الذَّادَۃِ،

پاک گھرانے میں پیدا کیا تو نے قرار دیاانہیں سرداروںمیں سردار پیشواؤں میں پیشوا مجاہدوں میں مجاہداور انہیں

وَٲَعْطَیْتَہُ مَوَارِیثَ الْاََنْبِیَائِ، وَجَعَلْتَہُ حُجَّۃً عَلَی خَلْقِکَ مِنَ الْاََوْصِیَائِ، فَٲَعْذَرَ فِی

نبیوں کے ورثے عنایت کیے تو نے قرار دیاان کو اوصیا میں سے اپنی مخلوقات پر حجت پس انہوں نے تبلیغ کا

الدُّعَائِ، وَمَنَحَ النُّصْحَ، وَبَذَلَ مُھْجَتَہُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَھَالَۃِ، وَحَیْرَۃِ

حق ادا کیابہترین خیر خواہی کی اور تیری خاطر اپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی وگمرا ہی کی پریشانیوں سے

الضَّلالَۃِ، وَقَدْ تَوَازَرَ عَلَیْہِ مَنْ غَرَّتْہُ الدُّنْیا، وَبَاعَ حَظَّہُ بِالْاََرْذَلِ الْاََدْنیٰ، وَشَرَیٰ

جب کہ ان پر ان لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اور اپنی

آخِرَتَہُ بِالثَّمَنِ الْاََوْکَسِ، وَتَغَطْرَسَ وَتَرَدَّیٰ فِی ھَوَاہُ، وَٲَسْخَطَکَ وَٲَسْخَطَ نَبِیَّکَ

آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا انہوں نے سرکشی کی اور لالچ کے پیچھے چل پڑے انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبی(ص) کو

وَٲَطَاعَ مِنْ عِبادِکَ ٲَھْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ، وَحَمَلَۃَ الْاََوْزارِ، الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ،

ناراض کیا انہوںنے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کرجہنم کیطرف چلے گئے

فَجاھَدَھُمْ فِیکَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی سُفِکَ فِی طَاعَتِکَ دَمُہُ وَاسْتُبِیحَ حَرِیمُہُ۔

پس حسین(ع) ان سے تیرے لیے لڑے جم کرہوشمندی کیساتھ یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر انکا خون بہایا گیا اور انکے اہل حرم کو لوٹا گیا

اَللّٰھُمَّ فَالْعَنْھُمْ لَعْناً وَبِیلاً، وَعَذِّبْھُمْ عَذاباً ٲَلِیماً۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ،

اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اور عذاب دے ان کو درد ناک عذاب آپ پر سلام ہو اے رسول(ص) کے فرزند

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْاََوْصِیائِ ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ ٲَمِینُ اللّهِ وَابْنُ ٲَمِینِہِ عِشْتَ سَعِیداً

آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیا کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اور اسکے امین کے فرزند ہیں آپ نیک بختی میں زندہ رہے

وَمَضَیْتَ حَمِیداً، وَمُتَّ فَقِیداً، مَظْلُوماً شَھِیداً، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ اللّهَ مُنْجِزٌ

قابل تعریف حال میں گزرے اور وفات پائی وطن سے دور کہ آپ ستم زدہ شہید ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا

مَا وَعَدَکَ، وَمُھْلِکٌ مَنْ خَذَلَکَ، وَمُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَکَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ

جسکا اس نے وعدہ کیا اور اسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اور اسکو عذاب دیگا جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ

وَفَیْتَ بِعَھْدِ اللّهِ، وَجاھَدْتَ فِی سَبِیلِہِ حَتّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ اللّهُ مَنْ قَتَلَکَ،

آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبھائی آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہیدہو گئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل کیا

وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِہِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی

خدا لعنت کرے جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی اے معبود میں

ٲُشْھِدُکَ ٲَنِّی وَلِیٌّ لِمَنْ والاہُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداہُ بِٲَبِی ٲَنْتَ وَٲُمِّی یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ

تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں میرے ماں باپ قربان آپ پراے فرزند رسول خدا

ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَۃِ، وَالْاََرْحامِ الْمُطَھَّرَۃِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ

(ص)میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میں رہے صاحب عزت صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست

الْجاھِلِیَّۃُ بِٲَنْجاسِھا وَلَمْ تُلْبِسْکَ الْمُدْلَھِمَّاتُ مِنْ ثِیابِھا وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ

سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے بے ہنگم لباس آپ کو پہنائے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں

وَٲَرْکانِ الْمُسْلِمِینَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ

مسلمانوں کے سردار ہیں اور مومنوں کی پناہ گاہ ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام (ع)ہیں نیک و پرہیز گار پسندیدہ

الزَّکِیُّ الْھادِی الْمَھْدِیُّ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ الْاََئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَۃُ التَّقْوی وَٲَعْلامُ الْھُدیٰ

پاک رہبر راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیز گاری کے ترجمان ہدایت کے

وَالْعُرْوَۃُ الْوُثْقی وَالْحُجَّۃُ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَٲَشْھَدُ ٲَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ وَبِ إیابِکُمْ مُوقِنٌ

نشان محکم تر سلسلہ اور دنیا والوںپر خدا کی دلیل و حجت ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا

بِشَرائِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ وَ ٲَمْرِی لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ

اپنے دینی احکام اور عمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری

وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّۃٌ حَتَّی یَٲْذَنَ اللّهُ لَکُمْ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُّوِکُمْ صَلَواتُ

مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ خدا کی رحمتیں ہوں

اللّهِعَلَیْکُمْ وَعَلَی ٲَرْواحِکُمْ وَ ٲَجْسادِکُمْ وَشاھِدِکُمْ وَغَائِبِکُمْ وَظَاھِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ

آپ پر آپ کی پاک روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر پر آپ کے غائب پر آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر

آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ۔

ایسا ہی ہو جہانوں کے پروردگار۔

اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اپنی حاجات طلب کرے اور پھر وہاں سے واپس چلا آئے

دوسری زیارت اربعین

یہ زیارت جابربن عبدا للہ انصاری سے منقول ہے اور اس کی کیفیت و طریقے کے بارے میں عطا سے روایت ہے کہ اس نے کہا میں جابر کے ساتھ تھا ہم بیس صفر کو غاضریہ پہنچے جابر نے دریائے فرات میں غسل کیا اور پاکیزہ لباس پہنا جو ان کے پاس تھا پھر مجھ سے کہا اے عطا تمہارے پاس کوئی خوشبو ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں میرے پا س ُسعد ہے پس انہوں نے وہ تھوڑی سی لے لی اور اپنے سر اور بدن پر چھڑک دی پھر ننگے پاؤں چل پڑے یہاں تک کہ امام حسین کے سرہانے جا ٹھہرے تب انہوں نے تین بار اَﷲُ اَکْبَرُ کہا اور بے ہوش ہر کر گر پڑے جب ہوش آیا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا آلَ اللّهِ..الخ جو بعینہ وہی پندرہ رجب والی زیارت ہے کہ جسے ہم نے اعمال رجب میں نقل کر چکے ہیں اور سوائے چند ایک کلمات کے اس میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ بھی جیسا کہ شیخ مرحوم نے احتمال دیا ہے کہ نقل در نقل ﴿اختلاف نسخ ﴾ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے پس اگر کوئی شخص روز اربعین یہ زیارت بھی پڑھنا چاہے تو وہ پندرہ رجب کی زیارت کے صفحات میں سے پڑھ لے۔

امام حسین کی زیارت کے خاص اوقات

مؤلف لکھتے ہیں کہ ان اوقات کے علاوہ جو ذکر ہوئے ہیں امام حسین کی زیارت کے دیگر اوقات اور بابرکت شب و روز بھی ہیں جن میں آپ کی زیارت کرنا افضل ہے خصوصاً وہ دن اور راتیں جو حضرت کے ساتھ نسبت رکھتی ہیں۔ مثلاً روز مباہلہ ’’آیہ ھل اتی‘‘ کے نزول کا دن، آپ کی ولادت کی رات اور جمعہ کی راتیں ہیں جیساکہ ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا ئے تعالیٰ ہر شب جمعہ میں امام حسین پر نظر کرم فرماتا ہے اور تمام نبیوں اور ان کے وصیوں کو آپ کی زیارت کرنے کے لیے بھیجتا ہے ابن قولویہ نے امام جعفر صادق  سے روایت کی ہے کہ فرمایا جو شخص شب جمعہ میں روضہ امام حسین کی زیارت کرے تو وہ ضرور بخشا جائے گا اور وہ دنیا سے مایوسی و شرمندگی کی حالت میں نہیں جائے گا اور جنت میں اس کا گھر امام حسین کے ساتھ ہو گا اعمش کی خبر میں آیا ہے کہ اس کے ہمسائے نے اس سے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے اوراق گر رہے ہیں جن پر ہر اس شخص کیلئے امان نامہ لکھا ہوا ہے جو شب جمعہ میں امام حسین کی زیارت کرے آئندہ صفحات میں کاظمین کے اعمال کے ذیل میں حاجی علی بغدادی کی حکایت میں اس امر کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور ان اوقات زیارت کے علاوہ دیگر بہترین اوقات کا ذکر بھی آئیگا ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے امام جعفر صادق  سے پوچھا کہ امام حسین کی زیارت کا کوئی ایسا وقت ہے جو دوسرے اوقات سے بہتر ہو؟ آپ نے فرمایا حضرت کی زیارت ہر وقت اور زمانے میں کرو کہ آپ کی زیارت ایک عمل خیر ہے جو اس کو جتنا زیادہ بجا لائے گا وہ اتنی ہی زیادہ نیکی حاصل کرے گا اور جو اسے کم بجا لائے گا وہ کم نیکی حاصل کر سکے گا۔ پس تم کوشش کرو کہ حضرت کی زیارت ان بابرکت اوقات میں کرو جن میں اعمال خیر کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے انہی مبارک اوقات میں ملائکہ آسمان سے اتر کر حضرت کی زیارت کرتے ہیں لیکن ان اوقات کے لیے کوئی زیارت مخصوصہ منقول نہیں ہے البتہ تین شعبان کو جو امام حسین کا یوم ولادت ہے اس کیلئے ناحیہ مقدسہ سے ایک دعا صادر ہوئی ہے جو اس دن پڑھناچاہیے اورہم وہ دعا شعبان کے اعمال میں نقل کرچکے ہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ حضرت کی زیارت کربلائے معلی میں پڑھنے کے علاوہ دوسرے شہروں میں پڑھنے کی بھی بڑی فضلیت ہے اس ضمن میں یہاں ہم صرف دو روایتیں نقل کرتے ہیں جو کافی تہذیب اور فقیہ میں آئی ہیں۔

پہلی روایت

ابن ابی عمیر نے ہشام سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق  نے فرمایا تم میں سے جس کا راستہ دور دراز ہو اور اس کے گھر سے ہمارے مزاروں تک سفر زیادہ ہو تو وہ اپنے مکان کی سب سے اونچی چھت پر جائے اور دو رکعت نماز بجا لاکر ہماری قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم پر سلام بھیجے تو یقیناً اس کا سلام ہم تک پہنچ جاتا ہے۔

دوسری روایت

حنان ابن سدیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق  نے مجھ سے فرمایا کہ اے سدیر کیا تم ہر روز قبر حسین کی زیارت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ کس قدر جفا کار ہو کیا ہر جمعہ کو زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا کیا ہر ماہ زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو کیا ہر سال زیارت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ کچھ سال ایسے تھے جن میں میں نے زیارت کی ہے تب آپ نے فرمایا کہ اے سدیر تم لوگ امام حسین کے ساتھ کیسی جفا کرتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ خدائے تعالیٰ نے دو ہزار فرشتے مقرر کیے ہیں اور تہذیب و فقیہ میں ہے کہ وہ دس لاکھ فرشتے ہیں کہ جن کے بال بکھرے ہوئے اور خاک آلود ہیں۔ وہ حضرت پر گریہ کرتے ہیں آپ کی زیارت کرتے ہیں اور کبھی کوتاہی نہیں کرتے پس اے سدیر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہر جمعہ کو پانچ مرتبہ اور دن میں ایک مرتبہ روضہ امام حسین کی زیارت نہیں کرتے؟ میں نے عرض کی کہ آپ پر فدا ہو جاؤں ہمارے اور حضرت کے روضہ کے درمیان کئی فرسخ کا فاصلہ ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر کی چھت پر جاؤ پھر دائیں بائیں نظر کرو تو اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرو اور حضرت کے روضہ اقدس کی سمت اشارہ کر کے کہو ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِاللّهِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّهِوَ بَرَکَاتُہ‘‘ پس اس سے تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت حج و عمرہ کے برابر ہو گی سدیر کا بیان ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں مہینے میں بیس مرتبہ سے بھی زیادہ یہ عمل کیا کرتا تھااور زیارت مطلقہ کے آغاز میں وہ امور گزر چکے ہیں جو یہاں کیلئے مناسب تھے۔

اضافی بیان ---------- قبر حسین (ع) کی خاک کے فوائد

جاننا چاہیے کہ ایسی بہت سی روایات آئی ہیں کہ جن کے مطابق امام حسین کی قبر مبارک کی خاک میں سوائے موت کے ہر تکلیف اور مرض سے شفا ہے اس میں ہر بلا و مصیبت سے امان اور ہر خوف خطر سے تحفظ کی تاثیر ہے اس سلسلے میں اخبار و روایات متواتر ہیں اور اس مقدس خاک کی جو کرامتیں ظاہر ہوئیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ یہاں ان سب کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ میری کتاب فوائد الرضوّیہ کہ جو علماء امامیہ کے حالات میں ہے میں نے اس میں محدث جلیل القدیر آقا سید نعمت اللہ جزائری کے حالات میں لکھا ہے کہ انہوں حصول علم میں بڑی زحمت اٹھائی اور بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔ آغاز تعلیم میں چونکہ ان میں چراغ کے خریدنے کی سکت نہ تھی لہذا وہ چاند کی چاندنی میں بیٹھ کر لکھتے پڑھتے تھے چاند کی چاندنی میں بیٹھ کر اتنا زیادہ لکھنے پڑھنے کے نتیجے میں ان کی آنکھوں کی بینائی کمزور ہو گئی چنانچہ وہ اپنی بینائی کی بحالی کیلئے امام حسین کی قبر شریف کی خاک اور عراق میں واقع دیگر ائمہ معصومین کی قبور کی خاک بطور سرمہ استعمال فرماتے تھے پس اس خاک کی برکت سے ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے لوگ جن کا کفار و مشرکین کے ساتھ رہن سہن ہے ممکن ہے وہ اس کرامت پر تعجب کریں کمال الدین دمیری نے حیات العیون میں نقل کیا ہے کہ اژدھا جب ہزار سال کا ہو جاتا ہے تو اس کی آنکھیں اندھی اور بے نور ہو جاتی ہیں تب خدائے تعالیٰ اسے یہ سوجھ عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندھے پن کو دور کرنے کے لیے اپنی آنکھیں راز یا نج (ایک قسم کی گھاس) پر ملے‘ اس وقت وہ اژدھا اندھا ہونے کے باوجودبیابان سے نکل کر ان باغوں اور جگہوں کی طرف جاتا ہے جہاں راز یا نج گھاس پیدا ہوتی ہے پس وہ طویل راہیں طے کر کے اس گھاس کے پاس پہنچتا اور اپنی آنکھیں اس پر ملتا ہے تو اسکی بینائی پلٹ آتی ہے اس بات کو زمخشری وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے ہاں اگرخدائے قدیر نے ایک گھاس میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ اندھا اژدھا اس کی تلاش میں جائے تو اس کی آنکھیں پھر سے روشن ہو جائیں تو اس میں کیا تعجب ہو سکتا ہے فرزندان رسول(ص) جو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں ان کی قبور کی خاک میں وہ تمام بیماریوں سے شفا قراردے اور ان کو برکات دینے والی بنا دے تاکہ محبان اہل بیت ان سے فائدہ اٹھائیں اور آرام و راحت حاصل کریں یہاں ہم اس مضمون کی چند روایات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

پہلی روایت

اس روایت میں کہا گیا ہے کہ جنت کی حوریں جب دیکھتی ہیں کوئی فرشتہ کسی مقصد سے زمین پر جا رہا ہے تو وہ اس سے عرض کرتی ہیں کہ ان کیلئے قبر حسین سے خاک شفا اور تسبیح بطور سوغات لے کر آئے

دوسری روایت

معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا امام علی رضا  نے میرے لیے خراسان سے کچھ چیزیں ایک پوٹلی میں باندھ کر بھیجیں میں نے اسے کھولا تو اس سے کچھ خاک ملی تب میں نے اسے لے کرآنے والے آدمی سے پوچھا کہ یہ کیسی خاک ہے اس نے کہا یہ امام حسین کی قبر شریف کی خاک ہے امام علی رضا جب بھی کسی کیطرف کوئی چیز یا کپڑا وغیرہ بھیجتے ہیں تو یہ خاک بھی اس کیساتھ رکھ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خدا کے اذن و مشیت سے یہ خاک بلاؤں سے امان کا ذریعہ ہے۔

تیسری روایت

عبداللہ ابن ابی یعفور نے امام جعفر صادق  سے عرض کی کہ ایک شخص امام حسین کی قبر سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے برکت حاصل ہوتی ہے لیکن دوسرا شخص وہاں سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے کچھ بھی نفع و برکت حاصل نہیں ہوتی حضرت نے فرمایا کہ بات یوں نہیں ہے بخدا جو بھی شخص یہ خاک اٹھائے اوریہ عقیدہ رکھے کہ اسے نفع دے گی تو اس کو ضرور نفع و برکت حاصل ہوتی ہے۔

چوتھی روایت

ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق  کی خدمت میں عرض کی کہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض ساتھی امام حسین کی قبر مبارک سے خاک اٹھاتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں آیا اس خاک میں شفا کی تاثیر رکھی گئی ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت کی قبر اطہر اردگردکے چار میل تک کی خاک سے شفا حاصل ہو سکتی ہے اور اسی طرح ہمارے جد بزرگو ار حضرت رسول کی قبر شریف کی خاک، امام حسن، امام زین العابدین اور امام محمدباقر  کی قبور کی خاک میں بھی یہ تاثیر موجود ہے پس تم بھی ان قبور سے خاک لیا کرو کہ وہ ہر دکھ کی دوا اور ہر خوف سے امان کا ذریعہ ہے نیز یہ کہ سوائے اس دعا کے جس سے شفا ملتی ہے کوئی اور چیز اس خاک کی برابری نہیں کر سکتی اسے ناپاک جگہ یا ناپاک برتن میں نہ رکھا جائے کہ اس طرح خاک شفا کا اثر زائل ہو جاتا ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اسے شفا کی خاطر تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس بات پر انہیں بہت کم یقین ہوتا ہے اور اگر کسی کو یقین ہو جائے کہ اس خاک میں شفا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے اور اسے کسی اور دوا کی حاجت نہیں رہتی اس خاک کے اثر کو کافر جنات زائل کر دیتے ہیں جو خود کو اس سے مس کر لیتے ہیں اس خاک کو جس چیز پررکھا جائے وہ اسے سونگھتے ہیں جس سے اسکی پاکیزہ خوشبو ختم ہو جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ کافر جنات انسانوں سے حسد کرتے ہیں جب بھی کوئی شخص حائر حسینی سے خاک اٹھاتا ہے تو وہ کافر جنات خود کو اس سے مس کرنے کیلئے اکھٹے ہو جاتے ہیں جنکی تعداد کو خدا کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا حالانکہ فرشتے ان کو روضہ پاک کے قریب آنے سے روکتے رہتے ہیں پس اگر یہ خاک ان کافر جنات کے مس کر لینے سے محفوظ رہ جائے تو جس بیماری کے علاج میں اسے کام میں لایا جائے اس سے ضرور شفا حاصل ہو گی لہذا جب اس خاک کو وہاں سے اٹھائے تو اسے چھپائے رکھے اور اس پر اللہ کا نام زیادہ سے زیادہ پڑھے:

میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جو لوگ اس خاک شفا کو وہاں سے لیتے ہیں وہ اسے کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور بعض افراد تواسے جانوروں پر لادے ہوئے بورے میں یا کسی ایسے برتن میں رکھ دیتے ہیں جس کوناپاک ہاتھ لگتے رہتے ہیں پس کیونکر ایسے شخص کو اس سے شفا ملے گی جو اسکا جائز احترام نہیں کرتا اور جو چیز اس کیلئے فائدہ مند ہے اسکو معمولی سمجھے تو وہ اپنے عمل کو فاسد کر دیتا ہے۔

پانچویں روایت

اس روایت میں کہاگیا ہے کہ جو شخص خاک کربلا کو اٹھانا چاہے وہ اسے انگلیوں کے پوروں کیساتھ اٹھائے اور اسکی مقدار چنے کے دانے کے برابر ہو پھر اسے اپنی آنکھوں اور جسم کے دیگر حصوں پر ملے اوریہ دعا پڑھے:

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ھذِہِ التُّرْبَۃِ وَبِحَقِّ مَنْ حَلَّ بِھا وَثَوَیٰ فِیھا وَبِحَقِّ جَدِّہِ وَٲَبِیہِ وَٲُمِّہِ وَٲَخِیہِ

اے معبود اس خاک کے واسطے سے اور اس کے واسطے سے جو اس میں دفن اور مقیم ہے اور اسکے نانا اسکے بابا اسکی ماں اور اسکے بھائی کے واسطے سے

وَالْاََئِمَّۃِ مِنْ وُلْدِہِ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَۃِ الْحافِّینَ بِہِ إلاَّ جَعَلْتَھا شِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ وَبُرْئاً

ان ائمہ(ع) کے واسطے سے جو اسکی اولاد میں ہوئے اور ان فرشتوں کے واسطے سے جو اسکے اردگرد ہیں اس خاک کو ہر درد کی دوا بنادے

مِنْ کُلِّ مَرَضٍ، وَنَجاۃً مِنْ کُلِّ آفَۃٍ، وَحِرْزاً مِمَّا ٲَخافُ وَٲَحْذَرُ۔

اسے ہر بیماری سے ذریعہ صحت اور ہر مصیبت سے بچنے کا ذریعہ بنا نیز اسے میری سپر بنااس چیز سے جس کا مجھے خوف و خطرہ ہے۔

اسکے بعد اس خاک شفا کو استعمال میں لائے روایت میں آیا ہے کہ امام حسین کی خاک قبر کو مہر کرنے کا طریقہ یہ ہے۔کہ اس پر سورہ قدر پڑھے نیز روایت ہوئی ہے کہ جب خاک شفا خود کھائے یا کسی کو کھلائے تو اس وقت کہے:

بِسْمِ اللّهِ وَبِاللّهِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ رِزْقاً واسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ إنَّکَ عَلَ

خدا کے نام سے اور خدا کی ذات سے اے معبود اس خاک کورزق کی فراوانی علم میں نفع اور ہر بیماری سے شفاکاذریعہ بنا بے شک تو

کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔

ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے۔

مؤلف کہتے ہیں امام حسین کی خاک قبرکے بہت سے فائدے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کو میت کے ساتھ قبر میں رکھنا‘ اس سے کفن پر لکھنا اور اس پر سجدہ کرنا مستحب ہے روایت ہے کہ اس پر سجدہ کرنا سات پردوں کو ہٹا دیتا ہے یعنی یہ قبول نماز کا سبب بن جاتا ہے اور وہ نماز آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے نیز اس خاک سے تسبیح بنانا‘ اس تسبیح سے ذکر الہی کرنا اور اسے ہاتھ میں رکھنا بڑی فضلیت کا موجب ہے اس خاک سے بنائی گئی تسبیح کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کے ہاتھ میں تسبیح کرتی رہتی ہے اگرچہ وہ تسبیح نہ بھی پڑھ رہا ہو اور اس کا یہ تسبیح کرنا اور اس تسبیح کے علاوہ ہے جسے دنیا کی ہر چیز انجام دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٰ وَلَکِنْ لاَ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ۔

اور کوئی ایسی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ اس کی تسبیح کرتی ہے حمد سے لیکن تم ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔

اس مفہوم کو مولانا رومی(رح) نے یوں ادا کیا ہے:

﴿۱﴾گر ترا از غیب چشمی باز شد

با تو ذات جہاں ہم راز شد

﴿۲﴾نطق خاک و نطق آب و نطق گل

ہست محسوس حواس اہل دل

﴿۳﴾جملہ ذرات در عالم نہاں

باتو میگویند روزان و شبان

﴿۴﴾ماسمیعیم و بصیر و باشیم

باشما نامحرماں ما خامشیم

﴿۵﴾از جمادی سوی جان جان شوید

غلغل اجزای عالم بشنوید

﴿۶﴾فاش تسبیح جمادات آیدت

وسوسہ تادیلہا بزوایدت

ترجمہ:

﴿۱﴾ اگر تمہارے باطن کی آنکھ کھل جائے توتم دنیا کے ذر ے ذرے کے رازداں بن جاؤ گے۔

﴿۲﴾مٹی پانی اور پھول کی گفتگو کو اہل باطن کے کان ہی سنتے ہیں۔

﴿۳﴾اس دنیا کا ذرہ ذرہ دن رات تم سے سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔

﴿۴﴾کہ ہم میں سے ہر ایک سنتا، دیکھتا اور سمجھتا ہے لیکن تم نامحرموں کیسامنے ہم چپ رہتے ہیں۔

﴿۵﴾تم اپنی جان لکڑی پتھر وغیرہ کی جان سے ملا دو اور دنیا کے ہر ذرے کی آواز سنو۔

﴿۶﴾اس طرح تم جمادات کی تسبیح سنو گے اور تمہارا تخیل تمہیں اس تسبیح کے معنی سے آشنا کرے گا۔

خلاصہ یہ کہ اس روایت میں قبر حسین کی مٹی سے بنائی گئی تسبیح کا جوتسبیح کرنا بیان ہوا ہے وہ اس پاک خاک کی ایک خصوصیت ہے۔

چھٹی روایت

امام علی رضا  سے منقول ہے کہ جو شخص خاک شفا کی تسبیح ہاتھ میں لے کر ہر دانے پر یہ پڑھے:

سُبْحَانَ اللّهِ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ اِلَہَ اِلاَّ اللّهُ وَاللّهُ اَکْبَرُ۔

پاک تر ہے خدا حمد ہے خدا کے لیے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگتر ہے۔

پس خدائے تعالی تسبیح کے ہر ہر دانے کے عوض اس کے لیے چھ ہزار نیکیاں لکھے گا اس کے چھ ہزار گناہ معاف کر دے گا۔ اس کے چھ ہزار درجے بلند کرے گا اور اس کیلئے چھ ہزار شفاعتیں لکھے گا۔ امام جعفر صادق  سے روایت ہے کہ جو شخص خاک کربلا سے بنائی ہوئی پختہ تسبیح پھیرے اور ایک بار استغفار کرے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ستر بار استغفار لکھے گا اور اگر اس تسبیح کو محض ہاتھ میں لیے رہے تو بھی اس کے ہر دانے کے عوض اس شخص کیلئے سات بار استعفار لکھی جائے گی۔

ساتویں روایت

یہ ایک معتبر روایت ہے جس میں منقول ہے کہ جب امام جعفر صادق  عراق آئے تو لوگوں کا ایک گروہ آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ہمیں اس بات کا تو علم ہے کہ امام حسین کی خاک قبر ہر درد کی دوا ہے تو کیا یہ خاک پاک ہرخوف وخطر سے امن کا موجب بھی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہی ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ ہر خطرے سے امان میں رہے تو وہ خاک شفا کی بنی ہوئی تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے تین بار یہ دعا پڑھے:

ٲَصْبَحْتُ اَللّٰھُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمامِکَ وَجِوَارِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ

صبح کی میں نے اے معبود کہ محفوظ ہوں تیری نگہداری وتیری پناہ میں جو بچاؤ کرتی ہے کہ نہ دست درازی کرتا ہے نہ گھیرتا ہے کوئی

شَرِّ کُلِّ غَاشِمٍ وَطَارِقٍ مِنْ سائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ

فریب کار اور تاریکی میں آزار پہنچانے والا تیری تمام مخلوقات میں سے اور نہ وہ جو مخلوق میں سے تو نے پیدا کیا چپ رہنے

وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّۃٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ بِلِباسٍ سابِغَۃٍ حَصِینَۃٍ وَھِیَ وَلائُ ٲَھْلِ بَیْتِ

اور بولنے والے میں ہر خطرے سے حفاظت میں ہوں کہ پہنے ہوئے ہوںزرہ جو محکم ہے اور وہ ہے محبت ان اہل(ع)بیت کی

نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ مُحْتَجِزاًمِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلَی ٲَذِیَّۃٍ بِجِدارٍ حَصِینٍ الْاِخْلاصِ فِی

جو تیرے نبی(ص) کا خاندان ہیں محفوظ ہوں ہراذیت پہنچانے والے سے محکم دیوار کے پیچھے کہ وہ ہے تہ دل سے ماننا

الاعْتِرافِ بِحَقِّھِمْ، وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِھِمْ جَمِیعاً، مُوقِناً ٲَنَّ الْحَقَّ لَھُمْ وَمَعَھُمْ وَمِنْھُمْ

ان کے حق کو اور تعلق رکھنا ان کے مضبوط سلسلے سے اس یقین کے ساتھ کہ حق ان کا ہے ان کے ساتھ ہے ان سے ہے اور ان سے

وَفِیھِمْ وَبِھِمْ، ٲُوَالِی مَنْ والَوْا، وَٲُعَادِی مَنْ عادَوْا، وَٲُجانِبُ مَنْ جانَبُوا،

محبت کرتا ہوں جو ان سے محبت کریں ان سے دشمنی رکھتا ہو ں جو ان سے دشمنی رکھیں اور ان سے دور ہوں جو ان سے دوری کریں

فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَٲَعِذْنِی اَللّٰھُمَّ بِھِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا ٲَتَّقِیہِ، یَا عَظِیمُ

پس محمد(ص) اور ان کی آل (ع) پر رحمت فرما اور پناہ دے اے معبود بواسطہ انکے ہر چیز کے شر سے جس سے ڈرتا ہوں اے بزرگی والے

حَجَزْتُ الْاََعادِیَ عنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ ٲَیْدِیھِمْ سَدَّاً

دور کر دے دشمنوں کو مجھ سے بواسطہ آسمانوں اور زمین کی پرورش کے اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار

وَمِنْ خَلْفِھِمْ سَدَّاً فَٲَغْشَیْناھُمْ فَھُمْ لاَیُبْصِرُونَ۔ پھر تسبیح پر بوسہ دے اور دونوں آنکھوں پر

ان کے پیچھے بنا دی ہے پس ہم نے ڈھانپ دیا ان کو تو وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے

ملے اور کہے: اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِحَقِّ ھذِہِ التُّرْبَۃِ الْمُبَارَکَۃِ، وَبِحَقِّ صَاحِبِھا، وَبِحَقِّ

اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس برکت والی خاک کے بواسطہ اس قبر والے کے بواسطہ

جَدِّہِ وَبِحَقِّ ٲَبِیہِ وَبِحَقِّ ٲُمِّہِ وَبِحَقِّ ٲَخِیہِ وَبِحَقِّ وُلْدِہِ الطَّاھِرِینَ اجْعَلْھا شِفائً مِنْ

اسکے نانااور بابا کے اور بواسطہ اسکی ماں اور بھائی کے اور اسکے پاک فرزندوں کے واسطے سے اس خاک کو ہردرد کی دوا

کُلِّ دَائٍ، وَٲَمَاناً مِنْ کُلِّ خَوْفٍ، وَحِفْظاً مِنْ کُلِّ سُوئٍ۔

ہر خطرے سے امان اور ہر تکلیف سے حفاظت کرنے والی بنا دے۔

اس کے بعد تسبیح کو اپنی پیشانی پر ملے چنانچہ اگر یہ عمل صبح کے وقت کرے تو اس دن شام تک اور اگر شام کو کرے تو صبح تک وہ شخص خدا کی پناہ و امن میں رہے گا ایک روایت میں ہے کہ جس شخص کو کسی حاکم یا کسی اورشخص سے خوف لاحق ہو تو وہ جب گھر سے باہر جائے تو یہ عمل کرے پس وہ اس حاکم وغیرہ کے شروآزار سے محفوظ رہے گا۔

مولف کہتے ہیں کہ علماء کے ہاں مشہور یہ ہے کہ خاک کا کھانا اگرچہ جائز نہیں ہے لیکن امام حسین کی قبر مطہر کی خاک کو حصول شفا کی خاطر چنے کے دانے کی مقدار میںکھایا جاسکتا ہے بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسور کے دانے جتنی ہی کھائے اور بہتر یہ ہے کہ خاک شفا کو منہ میں ڈال کر اوپر سے پانی پیئے اور یہ پڑھے:

اَللَّھُمَّ اجْعَلْہُ رِزْقاً وَاسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفَائً مِنْ کُلِ دَآئٍ وَسُقْمٍ۔

اے معبود اسے بنا دے رزق واسع، علم نافع اور ہر بیماری سے شفا اور ہر دکھ کی دوری کا ذریعہ۔

علامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ خاک کربلا سے جو تسبیح اور سجدہ گاہ بنائی جائے اسے بیچا اور خریدا نہ جائے بلکہ بطور ہدیہ و سوغات دیا جائے لیکن پہلے سے شرط کیے بغیر اگر بعد میں ایک دوسرے کو راضی کر لیں یعنی کچھ رقم سے لین دین کر دیں تو بہت بہتر ہوگا جیسا کہ ایک معتبر حدیث میں امام جعفر صادق  سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسین کی خاک قبر کو بیچے تو یہ فعل ایسا ہے جیسے اس نے حضرت کی ہڈی اور گوشت کی خرید و فروخت کی ہے۔

مولف کہتے ہیں میرے استاد محترم ثقتہ الاسلام محدث نوری نے اپنی کتاب دارالسلام میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک دن میرے بھائیوں میں سے ایک والدہ مرحومہ کی خدمت میں حاضر ہوا والدہ مرحومہ نے دیکھا کہ اس نے سجدہ گاہ اپنی قبا کی اس جیب میں رکھی ہے جو پہلو کی طرف ہوتی ہے پس انہوں نے اسے یہ بے ادبی کرنے پر ڈانٹا کیونکہ اس کی جیب میں رکھنے سے سجدہ گاہ کبھی ران تلے دب کر ٹوٹ جاتی ہے تب میرے بھائی نے تسلیم کیا کہ بے شک آپ درست فرماتی ہیں کہ اب تک دو سجدہ گاہیں مجھ سے اسی طرح ٹوٹ چکی ہیں لہذا اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ایسی جیب میں سجدہ گاہ نہیں رکھوں گا اس بات کو کئی دن ہو گئے تھے کہ میرے والد علامہ مرحوم نے خواب دیکھا جن کو اس واقعہ کی خبر نہ تھی کہ آقا و مولا امام حسین ان کے پاس تشریف لائے اور کتاب خانے میں اکھٹے بیٹھے ہیں‘ آپ نے والد مرحوم سے فرمایا کہ اپنے بیٹوں کوبلائیں کہ میں ان سے بھی ملاقات کروں چنانچہ میرے والد نے ہم پانچ بھائیوں کو وہاں بلایا اور ہم سب حضرت کے سامنے آ کھڑے ہوئے‘ آپ کے پاس ملبوسات اور ایک خاص چیز تھی جو ہم میں سے ہر ایک کو باری باری بلا کر عنایت فرماتے تھے جب میرے اس مذکورہ بھائی کی باری آئی تو حضرت نے اس پر غصے کی نظر ڈالی اور میرے والد سے فرمایا کہ اس نے میری خاک قبر سے بنی ہوئی دو سجدہ گاہیں توڑی ہیں۔ چنانچہ آپ نے وہ خاص چیز اسکی طرف پھینک دی اور دوسروں کی طرح اپنے پاس بلا کر عنایت نہیں فرمائی اور جہاں تک مجھے یاد ہے وہ شال بننے کی کنگھی تھی۔

اس وقت میرے والد کی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے اپنا یہ خواب میری والدہ مرحومہ کو سنایا تو انہوں نے سجدہ گاہ کے بارے میں میرے اس بھائی سے اپنی گفتگو کا قصہ بیان کیاتو وہ اس خواب کی صداقت پر متعجب ہو کر رہ گئے۔

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد