Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام موسیٰ کاظم نے فرمایا، اگر لوگ کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرلیں تو ان کے جسموں میں اعتدال پیداہوجائے المحاسن ج2ص439

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

گیارہویں فصل

اس فصل میں زیارت جامعہ اور زیارت کے بعد پڑھی جانے والی دعا اور چہار دہ معصومین(ع) کیلئے صلوات کا بیان ہے یہ فصل چند مقامات پر مشتمل ہے۔

پہلا مقام

زیارات جامعہ

زیارت جامعہ کے بارے میں ہے کہ جسے ہر ایک امام (ع)کی زیارت کے وقت پڑھا جا سکتا ہے اور چند ایک زیارتیں ہیں ان میں سے بعض کے بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

پہلی زیارت جامعہ صغیرہ

شیخ صدوق(رح) نے من لا یحضرہ الفقیہ میں روایت فرمائی ہے کہ بعض لوگوں نے امام رضا سے دریافت کیا کہ امام موسیٰ کاظم کی زیارت کس طرح کی جائے آپ نے فرمایا کہ حضرت کے روضہ پاک کے نزدیک جو مسجدیں ہیں ان میں نماز ادا کرو اور تمہارے لیے کافی ہو گا کہ تم جس بھی نبی (ص) اور وصی یا امام (ع)کی زیارت کو جاؤ تووہاں یہ زیارت پڑھو:

اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَوْلِیائِ اللّهِ وَٲَصْفِیائِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲُمَنائِ اللّهِ وَٲَحِبَّائِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَنْصارِ اللّهِ

سلام ہو اولیا خدا اور اس کے برگزیدہ پر سلام ہو خدا کے امانتداروں اور اس کے پیاروں پر سلام ہو خدا کے ناصروں

وَخُلَفائِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَۃِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی مَساکِنِ ذِکْرِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی

اور اس کے نائبوں پر سلام ہو خدا کی معرفت کے نشانوں پر سلام ہو ذکر الہی کے منزل گاہوں پر سلام ہو خدا کے

مُظْھِرِی ٲَمْرِ اللّهِ وَنَھْیِہِ اَلسَّلَامُ عَلَی الدُّعاۃِ إلَی اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُسْتَقِرِّینَ فِی مَرْضاۃِ

امرو نہی کے آشکار کرنے والوں پر سلام ہو خدا کی طرف بلانے والوں پر سلام ہو خدا کی رضاؤں میں رہنے والوں پر

اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُخْلِصِینَ فِی طاعَۃِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََدِلاَّئِ عَلَی اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی

سلام ہو خدا کے سچے اطاعت گزاروں پر سلام ہو خدا کی طرف رہنمائی کرنے والوں پر سلام ہو ان پر

الَّذِینَ مَنْ وَالاھُمْ فَقَدْ والَی اللّهَ وَمَنْ عَادَاھُمْ فَقَدْ عادَی اللّهَ وَمَنْ عَرَفَھُمْ

کہ جو ان سے محبت کرے تو خدا اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھے خدا اس سے دشمنی رکھتا ہے سلام ہو ان پر کہ جو انکی

فَقَدْ عَرَفَ اللّهَ وَمَنْ جَھِلَھُمْ فَقَدْ جَھِلَ اللّهَ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِھِمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللّهِ

معرفت کر لے وہ خدا کو پہچان لیتا ہے اور جو ان سے ناواقف ہو وہ خدا سے ناواقف ہوتا ہے جو ان سے تعلق رکھے وہ خدا سے تعلق رکھتا ہے

وَمَنْ تَخَلَّیٰ مِنْھُمْ فَقَدْ تَخَلَّیٰ مِنَ اللّهِ عَزَّوَجَلَّ وَٲُشْھِدُ اللّهَ ٲَنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمْتُمْ وَحَرْبٌ

اور جو ان سے الگ رہے وہ خدا سے الگ رہ جاتا ہے میں خداکو گواہ بناتا ہوں کہ میری صلح ہے اس سے جس سے آپکی صلح ہو اور میری جنگ ہے

لِمَنْ حارَبْتُمْ مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ مُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ کُلِّہِ إلَیْکُمْ لَعَنَ اللّهُ عَدُوَّ

اس سے جس سے آپکی جنگ ہو میں آپکے ظاہر و باطن پر ایمان رکھتا ہوں اس بارے میں خود کو آپکے سپرد کرتا ہوں خدا لعنت کرے

آلِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَٲَبْرَٲُ إلَی اللّهِ مِنْھُمْ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ۔

آل محمد کے دشمنوںپر جو جن وانس میں سے ہیں میں خدا کے سامنے ان سے بری ہوں اور خدا محمد(ص)اور ان کی آل (ع) پر رحمت کرے ۔

یہ زیارت الکافی‘ تہذیب اور کامل الزیارات میں بھی نقل ہوئی ہے۔ ان کتابوں میں یہ بھی تحریر ہے کہ یہ زیارت ہر امام (ع)کے روضہ پاک کی زیارت کے وقت پڑھی جا سکتی ہے یہ زیارت پڑھنے کے بعد محمد(ص) و آل محمد(ع) پر بہت زیادہ درود و سلام بھیجے اور معصومین(ع) میں سے ہر ایک کا نام بھی لے اور انکے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرے اور اپنے لیے اور دیگر مومنین و مومنات کیلئے دعائیں مانگے۔

مؤلف کہتے ہیں اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آخری جملے بھی روایت ہی کا جز ہیں اور اگر یہ محدثین کااپنا قول ہو تو بھی بات یہی رہے گی کہ جب ان مشائخ عظام نے اسے ہر امام(ع) کی زیارت کیلئے کافی شمار کیا ہے ہمارے لیے ان بزرگان کا فرمان بھی لائق اعتماد ہے۔ علاوہ ازیں ان علمائے کرام نے اس زیارت کو زیارت جامعہ کے باب میں شامل کیا ہے اور پھر زیارت میں ایسے اوصاف کا ذکرکیا ہے جو کسی ایک معصوم (ع)کے ساتھ مختص نہیں لہذا اس زیارت کو زیارت جامعہ تصور کرنا اور اسے تمام انبیا و اوصیا کے مشاہد مقدسہ میں پڑھنا بہت ہی مناسب و موزوں ہے ۔ جیسا کہ بعض علما نے اسے حضرت یونس کے روضہ پر پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے۔ نیز اس زیارت کے آخر میں ہر معصوم پر صلوٰۃ کا خاص حکم وارد ہوا ہے اگر وہ صلوٰت پڑھی جائے جو ابوالحسن ضراب اصفہانی کی طرف منسوب ہے جو روز جمعہ کے اعمال کے آخر میں نقل ہوچکی ہے تو بہت بہتر ہے۔

دوسری زیارت جامعہ کبیرہ

شیخ صدوق (رح)نے من لایحضرہ الفقیہ اور عیون میں موسیٰ ابن عبد اللہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا میں نے امام علی نقی سے عرض کی اے فرزند رسول(ص) مجھے ایک ایسی زیارت تعلیم فرمائیے کہ جب میں آپ حضرات (ع)میں سے کسی کی زیارت کرنا چاہوں تو ہر مقام پر اسے پڑھ سکوں آپ (ع)نے فرمایا کہ جب بھی تم کسی امام(ع) کی زیارت کے لیے وہاں پہنچو تو غسل کرنے کے بعد کھڑے ہو کر شہادتیں پڑھتے ہوئے کہو:

ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَھُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں معبود سواے اللہ کے وہ یگانہ ہے کوئی اس کاشریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد

عَبْدُھُ وَرَسُولُہُ

اس کے بندہ و رسول ہیں۔

جب حرم میں داخل ہو جاؤ اور قبر مبارک پر نظر پڑے تو رک جاؤ اور تیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘ پھر آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے سکون و وقار کے ساتھ آگے چلو اور کچھ آگے جا کر ٹھہر جاؤ اور تیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘ اس کے بعد قبر مبارک کے نزدیک پہنچ کر چالیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘یہاں تک کہ سوتکبیر مکمل ہو جائے۔ جیسا کہ علامہ مجلسی(رح) نے فرمایا ہے ممکن ہے اس طرح سو مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے سے غرض یہ ہو کہ اکثر لوگ جو اہل بیت(ع) کی محبت میں غلو کرتے ہیں وہ ان بزرگواروں کی زیارت کرنے میں کسی ناجائز عمل کی طرف مائل نہ ہونے پائیں یا خدائے تعالیٰ کی عظمت و بزرگی سے غافل نہ ہو جائیں۔ لہذا اس موقع پر ان کو تکبیر کہنے کا حکم دیا گیا تاکہ انہیں باری تعالیٰ کی کبریائی کی یاد دلائی جائے جب سو مرتبہ تکبیر کہ چکے تو صاحب مزار امام(ع) کی زیارت اس طرح پڑھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَھْلَ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ وَمَوْضِعَ الرِّسالَۃِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَۃِ وَمَھْبِطَ الْوَحْیِ

آپ پر سلام ہو اے خاندان نبوت اے پیغام الہی کے آنے کی جگہ اور ملائکہ کے آنے جانے کے مقام وحی نازل ہونے کی جگہ نزول

وَمَعْدِنَ الرَّحْمَۃِ وَخُزَّانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَھَی الْحِلْمِ وَٲُصُولَ الْکَرَمِ وَقادَۃَ الْاَُمَمِ وَٲَوْلِیائَ النِّعَمِ

رحمت کے مرکز علوم کے خزینہ دار حد درجہ کے بردباراور بزرگواری کے حامل ہیں آپ قوموں کے پیشوا ،نعمتوں کے بانٹنے والے

وَعَناصِرَ الْاََبْرارِوَدَعائِمَ الْاََخْیارِ وَساسَۃَ الْعِبادِ وَٲَرْکانَ الْبِلادِ وَٲَبْوابَ الْاِیمانِ وَٲُمَنائَ

سرمایۂ نیکو کاران، پارساؤں کے ستون، بندوں کے لیے تدبیر کار، آبادیوں کے سردار، ایمان و اسلام کے دروازے،اور خدا کے

الرَّحْمنِ وَسُلالَۃَ النَّبِیِّینَ وَصَفْوَۃَ الْمُرْسَلِینَ وَعِتْرَۃَ خِیَرَۃِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ

امانتدار ہیں اور آپ نبیوں کی نسل و اولاد رسولوں کے پسندیدہ اور جہانوں کے رب کے پسند شد گان کی اولاد ہیں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو

وَبَرَکاتُہُ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَئِمَّۃِ الْھُدَیٰ وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ وَٲَعْلامِ التُّقَیٰ وَذَوِیٰ النُّھَیٰ وَٲُولِی

اور اس کی برکات ہوں آپ(ع) پر جو ہدایت دینے والے امام(ع) ہیں تاریکیوں کے چراغ ہیں پرہیز گاری کے نشان صاحبان عقل و خرد اور

الْحِجَیٰ وَکَھْفِ الْوَرَیٰ وَوَرَثَۃِ الْاََنْبِیائِ وَالْمَثَلِ الْاََعْلَیٰ وَالدَّعْوَۃِ الْحُسْنَیٰ وَحُجَجِ اللّهِ

مالکان دانش ہیں آپ، لوگوں کی پناہ گاہ نبیوں کے وارث بلندترین نمونہ عمل اور بہترین دعوت دینے والے ہیں آپ دنیا والوں پر خدا

عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ وَالْاَُولَی وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَۃِ اللّهِ

کی حجتیں ہیں آغاز و انجام میں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خد اکی معرفت کے

وَمَساکِنِ بَرَکَۃِ اللّهِوَمَعَادِنِ حِکْمَۃِ اللّهِ وَحَفَظَۃِ سِرِّ اللّهِ وَحَمَلَۃِ کِتابِ اللّهِ وَٲَوْصِیائِ نَبِیِّ

ذریعوں پر جو خدا کی برکت کے مقام اور خدا کی حکمت کی کانیں ہیں خدا کے رازوں کے نگہبان خدا کی کتاب کے حامل خدا کے آخری نبی (ص)

اللّهِ وَذُرِّیَّۃِ رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وآلِہِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی

کے جانشین اور خدا کے رسول(ص) کی اولاد ہیں خدا ان پر اور ان کی آل(ع) پر درود بھیجے اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوںسلام ہو خدا

الدُّعاۃِ إلَی اللّهِ وَالْاََدِلاَّئِ عَلَی مَرْضاۃِ اللّهِ وَالْمُسْتَقِرِّینَ فِی ٲَمْرِ اللّهِ وَالتَّامِّینَ فِی مَحَبَّۃِ اللّهِ

کیطرف بلانے والوں پر اور خدا کی رضاؤں سے آگاہ کرنے والوں پر جو خدا کے معاملے میں ایستادہ خدا کی محبت میں سب سے

وَالْمُخْلِصِینَ فِی تَوْحِیدِ اللّهِ وَالْمُظْھِرِینَ لاََِمْرِ اللّهِ وَنَھْیِہِ وَعِبادِھِ الْمُکْرَمِینَ الَّذِینَ لاَ

کامل اور خدا کی توحید کے عقیدے میں کھرے ہیں وہ خدا کے امرونہی کو بیان کرنے والے اور اس کے گرامی قدر بندے ہیں کہ جو

یَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بٲَمْرِھِ یَعْمَلُونَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی

اسکے آگے بولنے میں پہل نہیں کرتے اور اسکے حکم پر عمل کرتے ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں سلام ہو ان پر جو

الْاََئِمَّۃِ الدُّعاۃِ و َالْقادَۃِ الْھُداۃِ وَ السَّادَۃِ الْوُلاۃِ وَالذَّادَۃِ الْحُماۃِ وَٲَھْلِ الذِّکْرِ وَٲُولِی

دعوت دینے والے امام ہیں ہدایت دینے والے راہنما صاحب ولایت سردار حمایت کرنے والے نگہدار ذکر الہی کرنے والے اور والیانِ

الْاََمْرِ وَبَقِیَّۃِ اللّهِ وَخِیَرَتِہِ وَحِزْبِہِ وَعَیْبَۃِ عِلْمِہِ وَحُجَّتِہِ وَصِراطِہِ وَنُورِھِ

امر ہیں وہ خدا کا سرمایہ اس کے پسندیدہ اس کی جماعت اور اس کے علوم کا خزانہ ہیں وہ خدا کی حجت اس کا راستہ اس کا نور اور

وَبُرْہانِہِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔ ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَھُ لاَ شَرِیکَ لَہُ کَما

اسکی نشانی ہیں خداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں

شَھِدَ اللّهُ لِنَفْسِہِ وَشَھِدَتْ لَہُ مَلائِکَتُہُ وَٲُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِہِ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ

جیسا کہ خدا نے اپنے لیے گواہی دی اسکے ساتھ اسکے فرشتے اور اسکی مخلوق میں سے صاحبان علم بھی گواہ ہیں کہ کوئی معبود نہیں مگر وہی

الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُھُ الْمُنْتَجَبُ وَرَسُولُہُ الْمُرْتَضَی ٲَرْسَلَہُ بِالْھُدَی

جو زبردست ہے حکمت والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص)اسکے برگزیدہ بندے اور اسکے پسند کردہ رسول(ص) ہیں جن کو اس نے ہدایت

وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَھُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِھَ الْمُشْرِکوُنَ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکُمُ الْاََئِمَّۃُ

اور سچے دین کیساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دیں اگر چہ مشرک پسند نہ بھی کریں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام ہیں

الرَّاشِدُونَ الْمَھْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ

ہدایت والے سنورے ہوئے گناہ سے بچائے ہوئے بزرگیوں والے اس سے نزدیک تر پرہیز گار صدق والے چنے ہوئے

الْمُصْطَفُونَ الْمُطِیعُونَ لِلّٰہِ الْقَوَّامُونَ بِٲَمْرِھِ الْعامِلونَ بِ إرَادَتِہِ الْفائِزُونَ بِکَرَامَتِہِ

خدا کے اطاعت گزار اس کے حکم پر کمر بستہ اس کے ارادے پر عمل کرنیوالے اور اس کی مہربانی سے کامیاب ہیں

اصْطَفاکُمْ بِعِلْمِہِ وَارْتَضاکُمْ لِغَیْبِہِ وَاخْتارَکُمْ لِسِرِّھِ وَاجْتَباکُمْ بِقُدْرَتِہِ وَٲَعَزَّکُمْ

کہ اس نے اپنے علم کیلئے آپ (ع)کو چنا اپنے غیب کیلئے آپکو پسند کیا اپنے راز کیلئے آپکو منتخب کیا اپنی قدرت سے آپکو اپنا بنایا اپنی

بِھُداھُ وَخَصَّکُمْ بِبُرْہانِہِ وَانْتَجَبَکُمْ لِنُورِھِ وَٲَیَّدَکُمْ بِرُوحِہِ وَرَضِیَکُمْ خُلَفائَ فِی ٲَرْضِہِ

ہدایت سے عزت دی اور اپنی دلیل کیلئے خاص کیااس نے آپکو اپنے نور کیلئے چنا روح القدس سے آپکو قوت دی اپنی زمین میں آپ کو اپنا نائب قرار دیا

وَحُجَجاً عَلَی بَرِیَّتِہِ وَٲَنْصاراً لِدِینِہِ وَحَفَظَۃً لِسِرِّھِ وَخَزَنَۃً لِعِلْمِہِ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِہِ

اپنی مخلوق پر اپنی حجتیں بنایا اپنے دین کے ناصر اور اپنے راز کے نگہدار اور اپنے علم کے خزینہ دار بنایا اپنی حکمت انکے سپرد کی آپ (ع)کو اپنی

وَتَرَاجِمَۃً لِوَحْیِہِ وَٲَرْکاناً لِتَوْحِیدِھِ وَشُھَدائَ عَلَی خَلْقِہِ وَٲَعْلاماً لِعِبادِھِ وَمَناراً فِی بِلادِھِ

وحی کے ترجمان اور اپنی توحید کا مبلغ بنایا اس نے آپکو اپنی مخلوق پر گواہ قرار دیا اپنے بندوں کیلئے نشان منزل اپنے شہروں کی روشنی

وَٲَدِلاَّئَ عَلَی صِرَاطِہِ عَصَمَکُمُ اللّهُ مِنَ الزَّلَلِ وَآمَنَکُمْ مِنَ الْفِتَنِ وَطَہَّرَکُمْ مِنَ الدَّنَسِ

اور اپنے راستے کے رہبر قرار دیا خدا نے آپکو خطاؤں سے بچایا فتنوں سے محفوظ کیا اور ہر آلودگی سے صاف رکھا آلائش آپ سے دور کر دی

وَٲَذْھَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَہَّرَکُمْ تَطْھِیراً فَعَظَّمْتُمْ جَلالَہُ وَٲَکْبَرْتُمْ شَٲْنَہُ وَمَجَّدْتُمْ کَرَمَہُ

اور آپکو پاک رکھا جیسے پاک رکھنے کا حق ہے پس آپ نے اسکے جلال کی بڑائی کی اسکے مقام کو بلند جانااسکی بزرگی کی توصیف کی اس

وَٲَدَمْتُمْ ذِکْرَھُ وَوَکَّدْتُمْ مِیثاقَہُ وَٲَحْکَمْتُمْ عَقْدَ طاعَتِہِ وَنَصَحْتُمْ لَہُ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَۃِ

کے ذکر کو جاری رکھا اسکے عہد کوپختہ کیا اسکی فرمانبرداری کے عقیدے کو محکم بنایا آپ نے پوشیدہ و ظاہر اسکا ساتھ دیا اور اس کے

وَدَعَوْتُمْ إلَی سَبِیلِہِ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَبَذَلْتُمْ ٲَنْفُسَکُمْ فِی مَرْضاتِہِ وَصَبَرْتُمْ

سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو دانشمندی اور بہترین نصیحت کے ذریعے بلایا آپ نے اس کی رضا کیلئے اپنی جانیں قربان کیں اور

عَلَی مَا ٲَصابَکُمْ فِی جَنْبِہِ وَٲَقَمْتُمُ الصَّلاھَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ وَٲَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتُمْ عَنِ

اسکی راہ میں آپکو جو دکھ پہنچے انکو صبر سے جھیلا آپ نے نماز قائم کی اور زکوۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا برے کاموں

الْمُنْکَرِوَجاھَدْتُمْ فِی اللّهِ حَقَّ جِہادِھِ حَتَّی ٲَعْلَنْتُمْ دَعْوَتَہُ وَبَیَّنْتُمْ فَرائِضَہُ وَٲَقَمْتُمْ حُدُودَھُ

سے منع فرمایا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا چنانچہ آپ نے اسکاپیغام عام کیا اسکے عائد کردہ فرائض بتائے اور اسکی مقررہ حدیں

وَنَشَرْتُمْ شَرائِعَ ٲَحْکامِہِ وَسَنَنْتُمْ سُنَّتَہُ وَصِرْتُمْ فِی ذلِکَ مِنْہُ إلَی الرِّضا وَسَلَّمْتُمْ لَہُ

جاری کیں آپ(ع) نے اسکے احکام بیان کیے اسکے طریقے رائج کیے اور اس میں آپ اسکی رضا کے طالب ہوئے آپ(ع) نے اسکے ہر فیصلے

الْقَضائَ وَصَدَّقْتُمْ مِنْ رُسُلِہِ مَنْ مَضَیٰ فَالرَّاغِبُ عَنْکُمْ مارِقٌ وَاللاَّزِمُ لَکُمْ لاحِقٌ

کو تسلیم کیا اور آپ نے اسکے گذشتہ پیغمبروں کی تصدیق کی پس آپ سے ہٹنے والا دین سے نکل گیا آپکا ہمراہی دیندار رہا اور آپکے

وَالْمُقَصِّرُ فِی حَقِّکُمْ زاھِقٌ وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَفِیکُمْ وَمِنْکُمْ وَ إلَیْکُمْ وَٲَنْتُمْ

حق کو کم سمجھنے والا نابود ہواحق آپ(ع) کیساتھ ہے آپ(ع) میں ہے آپ(ع) کیطرف سے ہے آپ(ع) کیطرف آیا ہے آپ حق والے ہیں اور مرکز

ٲَھْلُہُ وَمَعْدِنُہُ وَمِیراثُ النُّبُوَّۃِ عِنْدَکُمْ وَ إیابُ الْخَلْقِ إلَیْکُمْ وَحِسابُھُمْ عَلَیْکُمْ وَفَصْلُ

حق ہیں نبوت کا ترکہ آپ(ع) کے پاس ہے لوگوں کی واپسی آپ(ع) کی طرف اور ان کا حساب آپ کو لینا ہے آپ حق و باطل

الْخِطابِ عِنْدَکُمْ وَآیاتُ اللّهِ لَدَیْکُمْ وَعَزائِمُہُ فِیکُمْ وَنُورُھُ وَبُرْہانُہُ عِنْدَکُمْ وَٲَمْرُھُ إلَیْکُمْ

کا فیصلہ کرنے والے ہیں خدا کی آیتیں اور اسکے ارادے آپکے دلوں میں ہیں اسکا نور اور محکم دلیل آپکے پاس ہے اور اسکا حکم آپکی طرف آیا ہے

مَنْ والاکُمْ فَقَدْ والَی اللّهَ وَمَنْ عاداکُمْ فَقَدْ عادَی اللّهَ وَمَنْ ٲَحَبَّکُمْ فَقَدْ ٲَحَبَّ اللّهَ وَمَنْ

آپکا دوست خدا کا دوست اور جو آپکا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے

ٲَبْغَضَکُمْ فَقَدْ ٲَبْغَضَ اللّهَ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللّهِ ٲَنْتُمُ الصِّراطُ الْاََقْوَمُ وَشُھَدائُ

آپ(ع) سے نفرت کی اس نے خدا سے نفرت کی اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ خدا سے وابستہ ہوا کیونکہ آپ سیدھا راستہ دنیا میں لوگوں

دارِ الْفَنائِ وَشُفَعائُ دارِ الْبَقائِ وَالرَّحْمَۃُ الْمَوْصُولَۃُ وَالْاَیَۃُ الْمَخْزُونَۃُ وَالْاََمانَۃُ الْمَحْفُوظَۃُ

پر شاہد و گواہ اور آخرت میں شفاعت کرنے والے ہیں آپ ختم نہ ہونے والی رحمت محفوظ شدہ آیت سنبھالی ہوئی امانت

وَالْبابُ الْمُبْتَلَیٰ بِہِ النَّاسُ مَنْ ٲَتَاکُمْ نَجَا وَمَنْ لَمْ یَٲْتِکُمْ ھَلَکَ إلَی اللّهِ تَدْعُونَ

اور وہ راستہ ہیں جس سے لوگ آزمائے جاتے ہیں جو آپکے پاس آیا نجات پاگیا اور جو ہٹا رہا وہ تباہ ہو گیا آپ خدا کیطرف بلانے والے

وَعَلَیْہِ تَدُلُّونَ وَبِہِ تُؤْمِنُونَ وَلَہُ تُسَلِّمُونَ وَبِٲَمْرِھِ تَعْمَلُونَ وَ إلَی سَبِیلِہِ تُرْشِدُونَ

اور اسکی طرف رہبری کرنے والے ہیں آپ اس پر ایمان رکھتے اور اسکے فرمانبردار ہیں آپ اسکا حکم ماننے والے اسکے راستے کی طرف لے جانے والے

وَبِقَوْلِہِ تَحْکُمُونَ سَعَدَ مَنْ والاکُمْ وَھَلَکَ مَنْ عاداکُمْ وَخابَ مَنْ جَحَدَکُمْ

اور اسکے حکم سے فیصلہ دینے والے ہیں کامیاب ہوا وہ جو آپکا دوست ہے ہلاک ہوا وہ جو آپکا دشمن ہے اور خوار ہواوہ جس نے آپکا انکار کیا

وَضَلَّ مَنْ فارَقَکُمْ وَفازَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکُمْ وٲَمِنَ مَنْ لَجَٲَ إلَیْکُمْ وَسَلِمَ مَنْ

گمراہ ہوا وہ جو آپ(ع) سے جدا ہوا اور بامراد ہوا وہ جو آپکے ہمراہ رہا اور اسے امن ملا جس نے آپکی پناہ لی سلامت رہا وہ جس نے

صَدَّقَکُمْ وَھُدِیَ مَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ مَنِ اتَّبَعَکُمْ فَالْجَنَّۃُ مَٲْواھُ وَمَنْ خالَفَکُمْ

آپکی تصدیق کی اور ہدایت پاگیا وہ جس نے آپکا دامن پکڑاجس نے آپکی اتباع کی اسکا مقام جنت ہے اور جس نے آپکی نافرمانی

فَالنَّارُ مَثْواھُ وَمَنْ جَحَدَکُمْ کافِرٌ وَمَنْ حارَبَکُمْ مُشْرِکٌ وَمَنْ رَدَّ عَلَیْکُمْ فِی ٲَسْفَلِ

کی اسکا ٹھکانا جہنم ہے جس نے آپکا انکار کیا وہ کافر ہے جس نے آپ(ع) سے جنگ کی وہ مشرک ہے اور جس نے آپکو غلط قرار دیا وہ

دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ ٲَشْھَدُ ٲَنَّ ہذَا سابِقٌ لَکُمْ فِیما مَضیٰ وَجارٍ لَکُمْ فِیما بَقِیَ

جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مقام آپکو گذشتہ زمانے میں حاصل تھااورآیندہ زمانے میں بھی حاصل رہے گا

وَٲَنَّ ٲَرْواحَکُمْ وَنُورَکُمْ وَطِینَتَکُمْ واحِدَۃٌ طابَتْ وَطَھُرَتْ بَعْضُہا مِنْ بَعْضٍ

بے شک آپ(ع) سب کی روحیں آپکے نور اور آپکی اصل ایک ہے جو خوش آیند اور پاکیزہ ہے کہ آپ(ع) میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں

خَلَقَکُمُ اللّهُ ٲَنْواراً فَجَعَلَکُمْ بِعَرْشِہِ مُحْدِقِینَ حَتّی مَنَّ عَلَیْنا بِکُمْ فَجَعَلَکُمْ فِی بُیُوتٍ ٲَذِنَ

خدا نے آپکو نور کی شکل میں پیدا کیا پھر آپ(ع) سب کو اپنے عرش کے اردگرد رکھا حتیٰ کہ ہم پر احسان کیا اور آپکو بھیجا پس آپکو ان

اللّهُ ٲَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیھَا اسْمُہُ وَجَعَلَ صَلاتَناعَلَیْکُمْ وَمَا خَصَّنا بِہِ مِنْ

گھروں میں رکھا جنکو خدا نے بلند کیااور ان میں اسکا نام لیا جاتا ہے اس نے آپ(ع) پر ہمارے درود وسلام قرار دیئے اس سے ہمیں

وِلایَتِکُمْ طِیباً لِخَلْقِنا وَطَہارَۃً لاََِنْفُسِنا وَتَزْکِیَۃً لَنا وَکَفَّارَۃً لِذُنُوبِنا

آپکی ولایت میں خصوصیت دی اسے ہماری پاکیزہ پیدائش ہمارے نفسوں کی صفائی ہمارے باطن کی درستی کا ذریعہ اور گناہوں کا کفارہ بنایا

فَکُنَّا عِنْدَھُ مُسَلِّمِینَ بِفَضْلِکُمْ وَمَعْرُوفِینَ بِتَصْدِیقِنا إیَّاکُمْ فَبَلَغَ اللّهُ بِکُمْ ٲَشْرَفَ مَحَلِّ

پس ہم اسکے حضور آپکی فضیلت کو ماننے والے اور آپکی تصدیق کرنے والے قرار پاگئے ہیں ہاں خدا آپکو صاحبان عظمت کے بلند مقام پر پہنچائے

الْمُکَرَّمِینَ وَٲَعْلَی مَنازِلِ المُقَرَّبِینَ وَٲَرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلِینَ حَیْثُ لاَ یَلْحَقُہُ لاحِقٌ وَلاَ

اور اپنے مقربین کی بلند منزلوںتک لے جائے اور اپنے پیغمبروں کے اونچے مراتب عطا کرے اسطرح کہ پیچھے والا وہاں نہ پہنچے کوئی

یَفُوقُہُ فائِقٌ وَلاَ یَسْبِقُہُ سابِقٌ وَلاَ یَطْمَعُ فِی إدْرَاکِہِ طامِعٌ حَتَّی لاَ یَبْقَیٰ مَلَکٌ

اوپر والا اس مقام سے بلند نہ ہوا اور کوئی آگے والا آگے نہ بڑھے اور کوئی طمع کرنے والا اس مقام کی طمع نہ کرے یہاں تک کہ باقی نہ

مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ صِدِّیقٌوَلاَ شَھِیدٌ وَلاَ عالِمٌ وَلاَ جاھِلٌ وَلاَ دَنِیٌّ وَلاَ فاضِلٌ وَلاَ

رہے کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی نبی مرسل نہ کوئی صدیق اور نہ شہید نہ کوئی عالم اور نہ جاہل نہ کوئی پست اور نہ کوئی بلند نہ کوئی

مُؤْمِنٌ صالِحٌ وَلاَ فاجِرٌ طالِحٌ وَلاَ جَبَّارٌ عَنِیدٌ وَلاَ شَیْطانٌ مَرِیدٌ وَلاَ خَلْقٌ فِیما بَیْنَ ذلِکَ

نیک مومن اور نہ کوئی فاسق و فاجر اور گناہ گار نہ کوئی ضدی سرکش اور نہ کوئی مغرور شیطان اور نہ ہی کوئی اور مخلوق گواہی دے سوائے

شَھِیدٌ إلاَّ عَرَّفَھُمْ جَلالَۃَ ٲَمْرِکُمْ وَعِظَمَ خَطَرِکُمْ وَکِبَرَ شَٲْنِکُمْ وَتَمامَ نُورِکُمْ وَصِدْقَ

اسکے کہ وہ انکو آپکی شان سے آگاہ کرے آپکے مقام کی بلندی آپکی شان کی بڑائی آپکے نور کی کاملیت آپکے درست درجات آپ

مَقاعِدِکُمْ وَثَباتَ مَقامِکُمْ وَشَرَفَ مَحَلِّکُمْ وَمَنْزِلَتِکُمْ عِنْدَھُ وَکرامَتَکُمْ عَلَیْہِ وَخاصَّتَکُمْ

کے مراتب کی ہمیشگی آپکے خاندان کی بزرگی اسکے ہاں آپکے مقام اس کے سامنے آپ(ع) کی بزرگواری اس کے ساتھ آپ(ع) کی خصوصیت

لَدَیْہِ وَقُرْبَ مَنْزِلَتِکُمْ مِنْہُ بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی وَٲَھْلِی وَمالِی وَٲُسْرَتِی ٲُشْھِدُ اللّهَ

اور اس سے آپکے مقام کے قرب کی گواہی دے میرے ماں باپ میرا گھر میرا مال اور میرا خاندان آپ(ع) پر قربان میں گواہ بناتا ہوں

وَٲُشْھِدُکُمْ ٲَنِّی مُؤْمِنٌ بِکُمْ وَبِما آمَنْتُمْ بِہِ کافِرٌ بِعَدُوِّکُمْ وَبِما کَفَرْتُمْ بِہِ

خدا کو اور آپکو کہ اس پر میں ایمان رکھتا ہوں جس پر آپ(ع) ایمان رکھتے ہیں منکر ہوں آپکے دشمن کا اور جس چیز کا آپ انکار کرتے ہیں

مُسْتَبْصِرٌ بِشَٲْنِکُمْ وَبِضَلالَۃِ مَنْ خالَفَکُمْ مُوالٍ لَکُمْ وَلاََِوْلِیائِکُمْ مُبْغِضٌ

آپکی شان کو جانتا ہوں اور آپکے مخالف کی گمراہی کو سمجھتا ہوں محبت رکھتا ہوں آپ(ع) سے اور آپکے دوستوں سے نفرت کرتا ہوں

لاََِعْدائِکُمْ وَمُعادٍ لَھُمْ سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ

آپکے دشمنوں سے اور انکا دشمن ہوں میری صلح ہے اس سے جو آپ(ع) سے صلح رکھے اورجنگ ہے اس سے جو آپ(ع) سے جنگ کرے

مُحَقِّقٌ لِما حَقَّقْتُمْ مُبْطِلٌ لِمَا ٲَبْطَلْتُمْ مُطِیعٌ لَکُمْ عارِفٌ بِحَقِّکُمْ

حق کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) حق کہیں باطل کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) باطل کہیں آپکا فرمانبردار ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں آپکی بڑائی

مُقِرٌّ بِفَضْلِکُمْ مُحْتَمِلٌ لِعِلْمِکُمْ مُحْتَجِبٌ بِذِمَّتِکُمْ مُعْتَرِفٌ بِکُمْ مُؤْمِنٌ بِ إیابِکُمْ

کو مانتا ہوں آپکے علم کا معتقد ہوں آپکی ولایت میں پناہ گزین ہوں آپکی ذات کا اقرار کرتا ہوں آپکے بزرگان کا معتقد ہوں آپکی

مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِکُمْ مُنْتَظِرٌ لاََِمْرِکُمْ مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِکُمْ آخِذٌ بِقَوْلِکُمْ عامِلٌ

رجعت کی تصدیق کرتا ہوں آپکے دور کا منتظر ہوں آپکی حکومت کا انتظار کرتا ہوں آپ(ع) کے قول کو قبول کرتا ہوں آپ(ع) کے حکم پر عمل

بِٲَمْرِکُمْ مُسْتَجِیرٌ بِکُمْ زائِرٌ لَکُمْ لائِذٌ عائِذٌ بِقُبُورِکُمْ مُسْتَشْفِعٌ إلَی اللّهِ عَزَّوَجَلَّ بِکُمْ

کرتا ہوں آپکی پناہ میں ہوں آپکی زیارت کو آیا ہوں آپکے مقبرے میں پوشیدہ ہو کر پناہ لی ہے خدا کے حضور آپکو اپنا سفارشی بناتا ہوں

وَمُتَقَرِّبٌ بِکُمْ إلَیْہِ وَمُقَدِّمُکُمْ ٲَمامَ طَلِبَتِی وَحَوَائِجِی وَ إرادَتِی فِی کُلِّ ٲَحْوالِی وَٲُمُورِی

آپکے ذریعے اسکا قرب چاہتا ہوں آپکو اپنی ضرورتوں حاجتوں اور ارادوں کا وسیلہ بناتا ہوں اپنے ہر حال اور ہر کام میں اور ایمان

مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ وَشاھِدِکُمْ وَغائِبِکُمْ وَٲَوَّلِکُمْ وَآخِرِکُمْ وَمُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ

رکھتا ہوں آپ(ع) میں سے نہاں اور عیاں پر آپ(ع) میں سے ظاہر اور پوشیدہ پر آپ(ع) میں سے اول اور آخر پر ان تمام امور کیساتھ خود کو

کُلِّہِ إلَیْکُمْ وَمُسَلِّمٌ فِیہِ مَعَکُمْ وَقَلْبِی لَکُمْ مُسَلِّمٌ وَرَٲْئِی لَکُمْ تَبَعٌ وَنُصْرَتِی

آپکے سپرد کرتا ہوں اوران میں آپکے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں میرا دل آپکا معتقد ہے میرا ارادہ آپکے تابع ہے میری مدد و نصرت

لَکُمْ مُعَدَّۃٌ حَتَّی یُحْیِیَ اللّهُ تَعَالی دِینَہُ بِکُمْ وَیَرُدَّکُمْ فِی ٲَیَّامِہِ وَیُظْھِرَکُمْ لِعَدْلِہِ

آپ کیلئے حاضر ہے یہاں تک کہ خدا آپکے ہاتھوں اپنے دین کو زندہ کرے آپکو اس زمانے میں لے جائے قیام عدل میں آپکی مدد کرے

وَیُمَکِّنَکُمْ فِی ٲَرْضِہِ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَمَعَ غَیْرِکُمْ آمَنْتُ بِکُمْ وَتَوَلَّیْتُ آخِرَکُمْ

اور آپکو اپنی زمین میں اقتدار دے پس میں صرف آپکے ساتھ ہوں آپکے غیر کیساتھ نہیں آپکا معتقد ہوں اور آپ(ع) میں سے آخری کا محب ہوں

بِمَا تَوَلَّیْتُ بِہِ ٲَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ إلَی اللّهِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ٲَعْدائِکُمْ وَمِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ

جیسے آپ(ع) میں سے اول کا محب ہوں میں خدائے عزو جل کیسامنے آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور بیزار ہوں بتوں سے سرکشوں سے

وَالشَّیاطِینِ وَحِزْبِھِمُ الظَّالِمِینَ لَکُمُ الْجاحِدِینَ لِحَقِّکُمْ وَالْمارِقِینَ مِنْ وِلایَتِکُمْ

شیطانوں سے اور انکے گروہ سے جو آپ(ع) پر ظلم کرنے والے آپ(ع) کے حق کا انکار کرنے والے آپ(ع) کی ولایت سے نکل جانے والے

وَالْغاصِبِینَ لاِِِرْثِکُمُ الشَّاکِّینَ فِیکُمُ الْمُنْحَرِفِینَ عَنْکُمْ وَمِنْ کُلِّ وَلِیجَۃٍ دُونَکُمْ وَکُلِّ

آپکی وراثت غصب کرنے والے آپ پر شک لانے والے آپ(ع) سے پھر جانے والے ہیں اور بیزار ہوںمیں آپکے سوا ہر جماعت

مُطاعٍ سِواکُمْ وَمِنَ الْاََئِمَّۃِ الَّذِینَ یَدْعُونَ إلَی النَّارِ فَثَبَّتَنِیَ اللّهُ ٲَبَداً

سے آپکے سوا ہر اطاعت کئے والے سے اور ان پیشواؤں سے بیزار ہوں جو جہنم میں لے جانے والے ہیں پس جب تک زندہ ہوں

مَا حَیِیتُ عَلَی مُوالاتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَدِینِکُمْ وَوَفَّقَنِی لِطاعَتِکُمْ وَرَزَقَنِی شَفاعَتَکُمْ

خدا مجھے قائم رکھے آپکی دوستی پر آپکی محبت پر آپکے دین پر اور توفیق دے آپکی پیروی کرنے کی اور آپ(ع) کی شفاعت نصیب کرے

وَجَعَلَنِی مِنْ خِیارِ مَوالِیکُمُ التَّابِعِینَ لِما دَعَوْتُمْ إلَیْہِ وَجَعَلَنِی مِمَّنْ یَقْتَصُّ

خدا مجھ کو آپکے بہترین دوستوں میں رکھے جو اسکی پیروی کرنے والے ہوں جنکی طرف آپ نے دعوت دی اورمجھے ان میں سے قرار

آثارَکُمْ وَیَسْلُکُ سَبِیلَکُمْ وَیَھْتَدِی بِھُداکُمْ وَیُحْشَرُ فِی زُمْرَتِکُمْ وَیَکِرُّ فِی

دے جو آپکے اقوال نقل کرتے ہیں مجھے آپکی راہ پر چلائے آپکی ہدایت سے بہرہ ور کرے آپکے گروہ میں اٹھائے آپکی رجعت

رَجْعَتِکُمْ وَیُمَلَّکُ فِی دَوْلَتِکُمْ وَیُشَرَّفُ فِی عافِیَتِکُمْ وَیُمَکَّنُ فِی ٲَیَّامِکُمْ وَتَقِرُّ عَیْنُہُ غَداً

میں مجھے بھی لوٹائے آپکی حکومت میں آپکی ریاعا بنائے آپکے دامن میں عزت دے آپکے عہد میں اعلیٰ مقام دے اور ان میں رکھے

بِرُؤْیَتِکُمْ بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی وَٲَھْلِی وَمالِی مَنْ ٲَرادَ اللّهَ

جو کل آپکے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کریں گے میرے ماں باپ میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان جو خدا کو چاہے وہ

بَدَٲَ بِکُمْ وَمَنْ وَحَّدَھُ قَبِلَ عَنْکُمْ وَمَنْ قَصَدَھُ تَوَجَّہَ بِکُمْ مَوالِیَّ لاَ ٲُحْصِی

آپ(ع) سے ملتا ہے جو اسے یکتا سمجھے وہ آپکی بات مانتا ہے جو اسکی طرف بڑھے وہ آپکا رخ کرتا ہے میرے سردارمیں آپکی تعریف کا

ثَنائَکُمْ وَلاَ ٲَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ کُنْھَکُمْ وَمِنَ الْوَصْفِ قَدْرَکُمْ وَٲَنْتُمْ نُورُ الْاََخْیارِ وَھُداۃُ

اندازہ نہیں کر سکتا نہ آپکی مدح کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہوں اور نہ آپکی شان کا تصور کرسکتا ہوں آپ شرفا کا نور نیکو ں کے رہبر خدائے

الْاَبْرارِ وَحُجَجُ الْجَبَّارِبِکُمْ فَتَحَ اللّهُ وَبِکُمْ یَخْتِمُ وَبِکُمْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَبِکُمْ یُمْسِکُ

قادر کی حجتیں ہیں خدا نے آپ(ع) سے آغاز وانجام کیا ہے وہ آپ(ع) کے ذریعے بارش برساتا ہے آپ کے ذریعے آسمان کو

السَّمائَ ٲَنْ تَقَعَ عَلَی الْاََرْضِ إلاَّ بِ إذْنِہِ وَبِکُمْ یُنَفِّسُ الْھَمَّ وَیَکْشِفُ الضُّرَّوَعِنْدَکُمْ

روکے ہوئے ہے تاکہ زمین پرنہ آ گرے مگر اسکے حکم سے وہ آپ(ع) کے ذریعے غم دور کرتا اور سختی ہٹاتا ہے وہ پیغام آپ(ع) کے پاس ہے

مَا نَزَلَتْ بِہِ رُسُلُہُ وَھَبَطَتْ بِہِ مَلائِکَتُہُ وَ إلی جَدِّکُمْ اگر امیر المؤمنین کی زیارت پڑھے تو

جو اس کے رسول لائے اور فرشتے جس کو لے کر اترے اور آپ(ع) کے نانا کی طرف

بجائے و إلی جدّ کمکے کہے:وَ إلی ٲخیک بُعِثَ الرُّوحُ الْاََمِینُ آتاکُمُ اللّهُ مَا لَمْ یُؤْتِ

اور آپ(ع) کے نانا کی طرف اور آپ(ع) کے بھائی کے پاس روح الامین آیا خدا نے آپ کو وہ نعمت دی جو جہانوں میں

ٲَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ طَٲْطَٲَ کُلُّ شَرِیفٍ لِشَرَفِکُمْ وَبَخَعَ کُلُّ مُتَکَبِّرٍ لِطاعَتِکُمْ وَخَضَعَ کُلُّ

کسی کو نہ دی ہر بڑائی والا آپ(ع) کی بڑائی کے آگے جھکتا ہے ہر مغرور آپ(ع) کا حکم مانتا ہے ہر زبردست آپ(ع) کی فضلیت کے سامنے

جَبَّارٍ لِفَضْلِکُمْ وَذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لَکُمْ وَٲَشْرَقَتِ الْاََرْضُ بِنُورِکُمْ وَفازَ الْفائِزُونَ بِوِلایَتِکُمْ

خم ہوتا ہے ہر چیز آپکے آگے پست ہے زمین آپ(ع) کے نور سے چمکتی ہے کامیابی پانے والے آپ(ع) کی ولایت سے کامیابی پاتے ہیں

بِکُمْ یُسْلَکُ إلَی الرِّضْوانِ وَعَلَی مَنْ جَحَدَ وِلایَتَکُمْ غَضَبُ الرَّحْمٰنِ بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی

کہ آپ(ع) کے ذریعے رضائے الہی حاصل کرتے ہیں اور جو آپ(ع) کی ولایت کے منکر ہیں ان پر خدا کا غضب آتا ہے میرے ماں باپ

وَنَفْسِی وَٲَھْلِی وَمَالِی ذِکْرُکُمْ فِی الذَّاکِرِینَ وَٲَسْماؤُکُمْ فِی الْاََسْمائِ وَٲَجْسادُکُمْ فِی

میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان آپکا ذکر ہے ذکر کرنے والوں میں ہے آپکے نام ناموں میں خاص ہیں آپکے جسم اعلیٰ ہیں

الْاَجْسادِ وَٲَرْواحُکُمْ فِی الْاََرْواحِ وَٲَنْفُسُکُمْ فِی النُّفُوسِ وَآثارُکُمْ فِی الْاَثارِ وَقُبُورُکُمْ

جسموں میں آپکی روحیں بہترین ہیں روحوں میں آپکے دل پاکیزہ ہیں دلوں میں آپ(ع) کے نشان عمدہ ہیں نشانوں میں اور آپ(ع) کی

فِی الْقُبُورِ فَمَا ٲَحْلَی ٲَسْمائَکُمْ وَٲَکْرَمَ ٲَنْفُسَکُمْ وَٲَعْظَمَ شَٲْنَکُمْ وَٲَجَلَّ خَطَرَکُمْ وَٲَوْفَی

قبریں پاک ہیں قبروں میں پس کتنے پیارے ہیں آپکے نام کتنے گرامی ہیں آپکے نفوس آپکی شان بلند ہے آپکا مقام عظیم ہے آپکا

عَھْدَکُمْ وَٲَصْدَقَ وَعْدَکُمْ کَلامُکُمْ نُورٌ وَٲَمْرُکُمْ رُشْدٌ وَوَصِیَّتُکُمُ التَّقْوَی وَفِعْلُکُمُ الْخَیْرُ

پیمان پورا ہونے والا اور آپ(ع) کا وعدہ سچا ہے آپ(ع) کا کلام روشن آپ(ع) کے حکم میں ہدایت آپ(ع) کی وصیت پرہیز گاری آپ(ع) کا فعل عمدہ

وَعادَتُکُمُ الْاِحْسانُ وَسَجِیَّتُکُمُ الْکَرَمُ وَشَٲْنُکُمُ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکُمْ حُکْمٌ

آپ(ع) کی عادت پسندیدہ آپ(ع) کے اطوار میں بزرگواری آپ(ع) کی شان سچائی راستی اور ملائمت ہے آپ(ع) کا قول مضبوط و یقینی ہے

وَحَتْمٌ وَرَٲْیُکُمْ عِلْمٌ وَحِلْمٌ وَحَزْمٌ إنْ ذُکِرَ الْخَیْرُ کُنْتُمْ ٲَوَّلَہُ وَٲَصْلَہُ وَفَرْعَہُ وَمَعْدِنَہُ وَمَٲْواھُ

آپکی رائے میں نرمی اور پختگی ہے اگر نیکی کا ذکر ہو تو آپ(ع) اس میں اول اسکی جڑ اسکی شاخ اس کا مرکز اس کا ٹھکانہ اور اس کی انتہا ہیں

وَمُنْتَہاھُ بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی کَیْفَ ٲَصِفُ حُسْنَ ثَنائِکُمْ وَٲُحْصِی جَمِیلَ بَلائِکُمْ

قربان آپ(ع) پر میرے ماں باپ اور میری جان کسطرح میں آپکی زیبا تعریف و توصیف کروں اور آپکی بہترین آزمائشوں کا تصور کروں

وَبِکُمْ ٲَخْرَجَنَا اللّهُ مِنَ الذُّلِّ وَفَرَّجَ عَنَّا غَمَراتِ الْکُرُوبِ وَٲَنْقَذَنا مِنْ شَفا جُرُفِ الْھَلَکاتِ

کہ خدا نے آپکے ذریعے ہمیں خواری سے بچایا ہمارے رنج و غم کو دور فرمایا اور ہمیں تباہی کی وادی سے نکالا اور جہنم کی آگ سے آزاد

وَمِنَ النَّارِ بِٲَبِی ٲَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی بِمُوالاتِکُمْ عَلَّمَنَا اللّهُ مَعالِمَ دِینِنا وَٲَصْلَحَ مَا کانَ

کیا میرے ماں باپ اور میری جان آپ(ع) پر قربان آپ(ع) کی دوستی کے وسیلے سے خدا نے ہمیں دینی تعلیمات عطا کی اور ہماری دنیا کے

فَسَدَ مِنْ دُنْیانا وَبِمُوالاتِکُمْ تَمَّتِ الْکَلِمَۃُ وَعَظُمَتِ النِّعْمَۃُ وَایْتَلَفَتِ الْفُرْقَۃُ وَ بِمُوالاتِکُمْ

بگڑے کام سنوار دیے آپ(ع) کی ولایت کی بدولت کلمہ مکمل ہوا نعمتیں بڑھ گئیں اور آپس کی دوریاں مٹ گئیں آپ(ع) کی دوستی کے

تُقْبَلُ الطَّاعَۃُ الْمُفْتَرَضَۃُ وَلَکُمُ الْمَوَدَّۃُ الْواجِبَۃُ وَالدَّرَجاتُ الرَّفِیعَۃُ وَالْمَقامُ الْمَحْمُودُ

باعث اطاعت واجبہ قبول ہوتی ہے آپ(ع) سے محبت رکھنا واجب ہے خدائے عزو جل کے ہاں آپ کیلئے بلند درجے پسندیدہ مقام اور

وَالْمَکانُ الْمَعْلُومُ عِنْدَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْجاھُ الْعَظِیمُ وَالشَّٲْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَۃُ الْمَقْبُولَۃُ

اونچا مرتبہ ہے نیز اس کے حضور آپ(ع) کی بڑی عزت ہے بہت اونچی شان ہے اور آپ(ع) کی شفاعت قبول شدہ ہے

رَبَّنا آمَنَّا بِمَا ٲَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاھِدِینَ

اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے

رَبَّنا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ ٲَنْتَ

اے ہمارے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ ہونے دے جب کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنی طرف سے رحمت عطاکر بے شک تو

الْوَہَّابُ سُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً۔ یَا وَلِیَّ اللّهِ إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ

بہت عطا کرنے والا ہے پاک تر ہے ہمارا رب یقینا ہمارے رب کاوعدہ پورا ہو گا اے ولی خدا بے شک میرے اور خدائے عز و جل

اللّهِ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً لاَ یَٲْتِی عَلَیْہا إلاَّ رِضاکُمْ فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکُمْ عَلَی سِرِّھِ وَاسْتَرْعاکُمْ

کے درمیان گناہ حائل ہیں جو آپ(ع) چاہیں تومعاف ہو سکتے ہیں پس واسطہ اس کا جس نے آپ کو اپنا راز داں بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ

ٲَمْرَ خَلْقِہِ وَقَرَنَ طاعَتَکُمْ بِطاعَتِہِ لَمَّا اسْتَوْھَبْتُمْ ذُنُوبِی وَکُنْتُمْ شُفَعائِی

آپکو سونپا آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ واجب قرار دی آپ میرے گناہ معاف کروائیں اور میرے سفارشی بن جائیں کہ

فَ إنِّی لَکُمْ مُطِیعٌ مَنْ ٲَطاعَکُمْ فَقدْ ٲَطاعَ اللّهَ وَمَنْ عَصَاکُمْ فَقَدْ عَصَی اللّهَ

یقیناً میں آپکا پیرو کارہوں جس نے آپکی پیروی کی تو اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جس نے آپکی نافرمانی کی خدا کی نافرمانی کی

وَمَنْ ٲَحَبَّکُمْ فَقَدْ ٲَحَبَّ اللّهَ وَمَنْ ٲَبْغَضَکُمْ فَقَدْ ٲَبْغَضَ اللّهَ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی لَوْ

جس نے آپ(ع) سے محبت کی تو اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ(ع) سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اے معبود یقیناً جب

وَجَدْتُ شُفَعائَ ٲَقْرَبَ إلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ الْاََخْیارِ الاََئِمَّۃِ الاََبْرارِ لَجَعَلْتُھُمْ

میں نے ایسے سفارشی پا لیے ہیں جو تیرے مقرب ہیں یعنی حضرت محمد(ص) اور انکے اہلبیت(ع) جو نیک اور خوش کردار امام(ع) ہیں ضرور میں نے

شُفَعائِی فَبِحَقِّھِمْ الَّذِی ٲوْجَبْتَ لَھُم عَلَیْکَ ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُدْخِلَنِی فِی

انہیں اپنے سفارشی بنایا ہے پس انکے حق کے واسطے سے جو تو نے خود پر لازم کرر کھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں

جُمْلَۃِ الْعارِفِینَ بِھِمْ وَبِحَقِّھِمْ وَفِی زُمْرَۃِ الْمَرْحُومِینَ بِشَفاعَتِھِمْ إنَّکَ

داخل فرما جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیں اور مجھے اس گروہ میں رکھ جس پر انکی سفارش سے رحم کیا گیا ہے بے شک تو

ٲَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراًوَحَسْبُنَا

سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور خدا محمد(ص) پر اور انکی پاکیزہ آل(ع) پر درود بھیجے اور بہت بہت سلام بھیجے سلام اور کافی ہے ہمارے لیے

اللّهُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔

خدا جو بہترین کارساز ہے۔

مولف کہتے ہیں یہ زیارت شیخ نے بھی تہذیب میں نقل کی ہے اور اس کے بعد ایک دعائے وداع بھی درج کی ہے جسے ہم نے اختصار کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کیا علامہ مجلسی(رح) کے بقول یہ بہترین زیارت جامعہ ہے جو سند متن اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت خوب ہے علامہ مجلسی کے والد ماجد نے الفقیہ کی شرح میں فرمایا ہے کہ یہ زیارت دیگر تمام زیارتوں کی نسبت بہتر اور کامل تر ہے اور یہ کہ میں جب تک عتبات عالیات میں رہا ہوں اس زیارت کے علاوہ میں نے کوئی زیارت نہیں پڑھی۔

سید رشتی کا واقعہ

ہمارے استاد محترم نے نجم الثاقب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زیارت کو ہمیشہ پابندی کے ساتھ پڑھتے رہنا چاہیے اور اس میں غفلت نہیں کرنا چاہیے وہ واقعہ یہ ہے کہ جناب سید احمد بن ہاشم بن سید حسن موسوی رشتی ایک تاجرتھے جو رشت میں رہائش رکھتے تھے سترہ برس قبل وہ زیارت کیلئے نجف اشرف آئے اور عالم ربانی فاضل صمدانی شیخ علی رشتی کے ہمراہ میرے مکان پر بھی تشریف لائے وہ میرے ہاں سے روانہ ہونے لگے تو شیخ علی رشتی نے ان سید کی جلالت و صالحیت کی طرف اشارہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کو ایک عجیب و غریب واقعہ بھی پیش آ چکا ہے تاہم اس کو بیان کرنے کے لیے وقت نہیں تھا لہذا وہ چلے گئے۔ چند دنوں کے بعد جب شیخ مذکور سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ سید موصوف تو چلے گئے ہیں مگر ان کو پیش آیا ہوا واقعہ انہوں نے مجھے سنا دیا تھا۔ اس واقعہ کو سننے کے بعد مجھے افسوس ہوا کہ کیوں یہ واقعہ میں خود ان کی زبانی نہ سن سکا؟ اگرچہ شیخ محترم کے مقام و مرتبہ کودیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ انہوں نے اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کی ہے چنانچہ اس دن سے یہ واقعہ میرے ذہن میں جا گزیں رہا۔ یہاں تک کہ میں اس سال میں ماہ جمادی آلاخر میں نجف اشرف سے کاظمین آ گیا وہاں ان سید محترم سے میری ملاقات ہو گئی جو سامرہ کی زیارت سے لوٹے تھے اور ایران جانے کا ارادہ رکھتے تھے تب میں نے وہ سنا ہوا واقعہ پھر ان سے بھی سننے کی خواہش کی تو انہوں نے پورا واقعہ نقل کیا جیسا کہ شیخ مرحوم نے مجھے سنایا تھا اس کا خلاصہ یوں ہے۔

ان سید محترم نے فرمایا کہ میں 1280ھ میں حج بیت اللہ کے قصد سے اپنے شہر رشت سے تبریز آیا اور وہاں کے معروف تاجر حاجی صفر علی تبریزی کے گھر میں قیام کیا وہاں مجھے حج کو جانے والا کوئی قافلہ نہیں مل رہا تھا۔ لہذا میں بہت پریشان تھا اسی اثنا میں حاجی جبار اصفہانی آ گئے جو سامان لے کر طرابوزن کی طرف جا رہے تھے چنانچہ ان سے سواری کرایہ پر لے کر میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا جب ہم پہلی منزل پر اترے تو حاجی صفر علی تبریزی کی ترغیب و تشویق سے تین اور آدمی وہاں سے ہمارے ساتھ آملے ان میں سے ایک تو حاجی ملا باقر تبریزی تھے‘ دوسرے حاجی سید حسین تبریزی کہ جوتا جرتھے اور تیسرے حاجی علی تھے۔ چانچہ ہم چاروں قافلے کے ہمراہ روانہ ہو کرارزنتہ الروم آئے اور وہاں سے طرابوزن کی طرف گامزن ہوئے۔ ان دونوں شہروں کے درمیان کی ایک منزل پر سالار قافلہ حاجی جبارجلودار ہمارے پاس آئے اور کہا کہ آگے کی منزل بہت پر خطر ہے لہذا آج ذرا جلدی تیار ہو جانا تاکہ آپ یہ منزل قافلے کے ہمراہ طے کر لیں‘ اس سے پہلے ہم چاروں رفقا قافلے کے پیچھے کچھ فاصلے پر چلتے آ رہے تھے۔ حاجی جبار کے کہنے پر ہم آج بہت جلد تیار ہوئے اور طلوع فجر سے تقریباً تین گھنٹے قبل سفر شروع کر دیا‘ ابھی ہم تین ہی میل آگے بڑھے ہونگے کہ بادل گھر آئے اور برف باری بھی ہونے لگی‘ چنانچہ قافلے والوں میں سے ہر ایک نے تیزی سے چلنا شروع کر دیا۔ میں نے ان کے برابر چلنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں ایسا نہ کر سکا اور وہ لوگ بہت دور نکل گئے اور میں ان سے بچھڑ گیا۔ میں گھوڑے سے اتر کر سرراہ ایک طرف بیٹھ گیا۔ جب کہ گبھراہٹ اور پریشانی مجھ پر چھائی ہوئی تھی‘ کیونکہ سفر خرچ کی چھ سو تومان کی رقم میرے پاس تھی میں نے سوچا کہ سورج نکلنے تک یہاں بیٹھا رہوں اور پھر پچھلی منزل پر جاؤں جہاں سے آج ہم روانہ ہوئے تھے‘ میں چاہتا تھا کہ اس منزل سے چند محافظ ساتھ لے کر قافلے سے جاملوں گا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ سامنے ایک باغ ہے اور اس کا مالی بیلچہ لیے درختوں پر گری ہوئی برف ہٹا رہا ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے قریب آ کر کھڑا ہو گیا اور فارسی زبان میں پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا میرے قافلے والے آگے نکل گئے ہیں اور میں ان سے جدا ہو کر رہ گیا ہوں۔ جبکہ میں ان راستوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس بزرگ نے فرمایا کہ اتنے میں نماز تہجد ادا کرو تاکہ تمہیں راستہ معلوم ہو جائے میں نا فلہ شب ادا کرنے لگا اور وہ چلے گئے‘ جب میں نماز شب پڑھ چکا تو وہ دوبارہ میرے پاس آئے اور کہا کہ تم ابھی تک گئے نہیں۔ میں نے عرض کی کہ ابھی تک مجھے راستہ معلوم نہیں ہوا! تب فرمایا کہ زیارت جامعہ پڑھو‘ لیکن مجھے زیارت جامعہ یاد نہ تھی اور کئی مرتبہ زیارت کو آنے کے باوجود وہ اب بھی یاد نہیں ہے‘ لیکن اس وقت میں نے زیارت جامعہ زبانی پڑھنا شروع کر دی‘وہ کچھ دیر بعد پھر میرے پاس آئے اور فرمایا کہ تم ابھی تک گئے نہیں اور اس جگہ بیٹھے ہو؟ اس مرتبہ مجھے بے اختیار رونا آگیا اور عرض کی کہ ابھی تک مجھے راستے کا علم نہیں ہوا‘ تب آپ نے فرمایا کہ زیارت عاشورا پڑھو اور مجھے یہ زیارت بھی یاد نہ تھی اور نہ ہی اب یاد ہے۔ تا ہم میں نے یہ زیارت زبانی پڑھنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ صلوات، لعنت اور دعائے علقمہ بھی پڑھ ڈالی۔ آپ پھر وہاں آئے اور فرمایا کہ تم ابھی تک گئے نہیں ہو؟ تب میں نے عرض کی کہ میں سورج نکلنے تک یہیں رہوں گا! آپ نے فرمایا میں تمہیں قافلے تک پہنچا آتا ہوں تب آپ خچر پر سوار ہو کر بیلچہ کندھے پر رکھے ہوئے میرے قریب آگئے اور فرمایا میرے پیچھے سوار ہو جاؤ اور میں آپ کے پیچھے سوار ہو گیا اور اپنے گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لے لی‘ میں نے اسے آگے چلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ رکا رہا‘ اس پر آپ نے بیلچہ بائیں کندھے پر رکھا اور میرے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اسے چلایا تو وہ چلنے لگا چلتے چلتے آپ نے اپنا ہاتھ میری ران پر رکھا اور فرمایا کہ تم نافلہ تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ پھر تین بار فرمایا نافلہ نافلہ نافلہ۔ پھر فرمایا کہ تم زیارت عاشورا کیوں نہیں پڑھتے اور تین بار فرمایا عاشورا‘ عاشورا‘ عاشورا۔ پھر فرمایا کہ زیارت جامعہ کیوں نہیں پڑھتے اور تین بار فرمایا جامعہ جامعہ جامعہ۔ آپ سفر طے کرنے میں خچر کو اس قدر تیز چلارہے تھے کہ تھوڑی ہی دیر میں گردن موڑ کر مجھ سے فرمایا کہ وہ دیکھو تمھارے قافلے والے نہر پر اترے ہوئے ہیں اور نماز فجر کیلئے وضو کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کی سواری سے اتر کر اپنے گھوڑے پر سوار ہونا چاہا تو سوار نہ ہو سکا‘ آپ نے اپنی سواری سے اتر کر اپنا بیلچہ برف میں گاڑدیا اور مجھے گھوڑے پر سوار کرادیا۔ اسکے ساتھ ہی اس کا رخ قافلے کی طرف موڑدیا اس وقت میں دل ہی دل میں کہ رہا تھا کہ یہ بزرگ کون ہیں جو مجھ سے فارسی زبان میں گفتگو کرتے رہے جب کہ اس علاقہ میں ترکی زبان بولنے والوں کے علاوہ کوئی نہیں رہتا اور یہاں اکثر عیسائی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ پھر یہ کہ انہوں نے اتنی جلدی قافلے تک پہنچا دیا ہے‘ میں نے انہیں خیالوں میں جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نظر نہ آیا اور نہ ان کا کوئی نشان دکھائی دیا‘اسکے بعد میں قافلے والوں سے جا ملا۔

تیسری زیارت جامعہ

تحفت الزائرین میں علامہ مجلسی(رح) نے اس زیارت کو آٹھویں زیارت جامعہ شمار کیا اور فرمایا ہے کہ سید بن طاؤس(رح) نے اس زیارت کو امام جعفر صادق کے حوالے سے روز عرفہ کی دعاؤں میں روایت کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسے ہر وقت اور ہرمقام پر اور خاص کر عرفہ کے دن پڑھے اور وہ زیارت یہ ہے۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَۃَ اللّهِ مِنْ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول(ص) آپ پر سلام ہو اے خدا کے نبی(ص) سلام ہو آپ پر اے خلق خدا میں اس کے

خَلْقِہِ وَٲَمِینَہُ عَلَی وَحْیِہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامَوْلایَ یَا ٲَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

برگزیدہ اور اس کی وحی کے امانتدار آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے مومنوں کے امیر آپ پر سلام ہو

یَا مَوْلایَ ٲَنْتَ حُجَّۃُ اللّهِ عَلَی خَلْقِہِ وَبابُ عِلْمِہِ وَوَصِیُّ نَبِیِّہِ وَالْخَلِیفَۃُ مِنْ بَعْدِھِ فِی ٲُمَّتِہِ

اے میرے مولا(ع) آپ خلق خدا پر اسکی حجت اسکے علم کا دروازہ اسکے نبی (ص) کے جانشین اور ان کے بعد ان کی امت میں ان کے خلیفہ ہیں

لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً غَصَبَتْکَ حَقَّکَ وَقَعَدَتْ مَقْعَدَکَ ٲَنَا بَرِیئٌ مِنْھُمْ وَمِنْ شِیعَتِھِمْ إلَیْکَ

خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا حق چھینا اور آپکی جگہ پر حاکم بن بیٹھا میں آپکے سامنے ان سے اور انکے پیروکاروں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَۃُ الْبَتُولُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا زَیْنَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ

ہوں سلام ہو آپ(ع) پر اے فاطمہ﴿س﴾ کہ آپ بتول﴿س﴾ ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ زنان جہان کی زینت ہیں آپ پر سلام ہو

یَا بِنْتَ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ صَلَّی اللّهُ عَلَیْکِ وَعَلَیْہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا ٲُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ

کہ آپ عالمین کے پرودگارکے رسول(ص) کی دختر ہیں آپ پر اور ان پر خدا رحمت کرے آپ پر سلام ہو کہ آپ حسن(ع) و حسین(ع) کی والدہ ہیں

لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً غَصَبَتْکِ حَقَّکِ وَمَنَعَتْکِ مَا جَعَلَہُ اللّهُ لَکِ حَلالاً ٲَنَا بَرِیئٌ إلَیْکِ

خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا حق غصب کیا اور آپکو اس چیز سے محروم کیا جو خدا نے آپ کیلئے حلال کی میں آپکے سامنے

مِنْھُمْ وَمِنْ شِیعَتِھِمْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ الزَّکِیَّ اَلسَّلَامُ

ان سے اور انکے پیروکاروں سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں سلام ہو آپ(ع) پر اے میرے آقا اے ابومحمد حسن کہ آپ(ع) پاک ہیں آپ(ع) پر

عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ وَبایَعَتْ فِی ٲَمْرِکَ وَشایَعَتْ ٲَنَا بَرِیئٌ

سلام ہو اے میرے مولا(ع) خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیاآپکے خلاف بیعت کی اور مدد گار بنے میں آپکے سامنے ان سے

إلَیْکَ مِنْھُمْ وَمِنْ شِیعَتِھِمْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ

اور ان کے پیروکاروں سے دوری اختیار کرتا ہوں سلام ہوآپ پر اے میرے مولا اے ابو عبداﷲحسین بن علی(ع)

صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَبِیکَ وَجَدِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً

آپ پر آپکے بابا پر اور آپکے نانا محمد پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر

اسْتَحَلَّتْ دَمَکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ وَاسْتَباحَتْ حَرِیمَکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲَشْیاعَھُمْ

جس نے آپکا خون حلال جانا خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا اور آپکے اہل حرم کو بے پردہ کیاخدا کی لعنت ہو انکے ساتھیوں پر

وَٲَتْباعَھُمْ وَلَعَنَ اللّهُ الْمُمَہِّدِینَ لَھُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ ٲَنَا بَرِیئٌ إلَی اللّهِ وَ إلَیْکَ مِنْھُمْ

اور پیروکاروں پر خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپکے قتل کی بساط قتل بچھائی میں خدا کے اور آپکے سامنے آپکے قاتلوں سے اظہار بیزاری کرتا ہوں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا

سلام ہو آپ(ع) پر اے میرے مولااے ابو محمدعلی بن حسین(ع) آپ پر سلام ہو اے میرے مولا(ع) اے ابو

جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا مَوْلایَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ اَلسَّلَامُ

جعفر محمد بن علی(ع) آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابو عبداللہ جعفر بن محمد(ع) آپ پر

عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبَا الْحَسَنِ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یا ٲَبَا الْحَسَنِ

سلام ہو اے میرے مولا اے ابوالحسن موسیٰ بن جعفر(ع) سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اے ابوالحسن

عَلِیَّ بْنَ مُوسَی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

علی بن موسیٰ(ع) آپ پر سلام ہو میرے مولا اے ابو جعفر محمد بن علی(ع) آپ پر سلام ہو

یَا مَوْلایَ یَا ٲَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ

اے میرے مولا اے ابو الحسن علی بن محمد(ع) آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابو محمد حسن

بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَبَا الْقاسِمِ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ صاحِبَ الزَّمانِ صَلَّی

بن علی(ع) آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابوالقاسم محمد بن الحسن(ع) اے امام زمانہ آپ(ع) پر

اللّهُ عَلَیْکَ وَعَلَی عِتْرَتِکَ الطَّاھِرَۃِ الطَّیِّبَۃِ یَا مَوالِیَّ کُونُوا شُفَعائِی فِی حَطِّ وِزْرِیٰ

اور آپ(ع) کی اولاد پر خدا رحمت کرے جو پاک شدہ ہیں پسندیدہ اے میرے سرداران میری شفاعت کریں کہ میرے گناہوں اور

وَخَطایایَ آمَنْتُ بِاللّهِ وَبِما ٲُنْزِلَ إلَیْکُمْ وَٲَتَوالیٰ آخِرَکُمْ بِما

خطاؤں کا بوجھ ختم ہو جائے ایمان رکھتا ہوں خدا پر اور اس پر جو کچھ آپ(ع) پر نازل ہو ادوست رکھتا ہوں آپ(ع) کے آخری کو جیسے

ٲَتَوالی ٲَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ مِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّیٰ یَا مَوالِیَّ ٲَنَا

دوست رکھتا ہوں آپ(ع) کے اول کو ، میں بیزار ہوں بتوں سے شیطانوں سے اور بیزار ہوں لات و عزی سے اے میرے آئمہ(ع) میری

سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ وَوَلِیٌّ

صلح ہے اس سے جو آپ سے صلح رکھے اور میری جنگ ہے اس سے جو آپ سے جنگ کرے میں دشمن ہوں آپکے دشمن کا اور دوست ہوں

لِمَنْ والاکُمْ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَلَعَنَ اللّهُ ظالِمِیکُمْ وَغاصِبِیکُمْ وَلَعَنَ اللّهُ ٲَشْیاعَھُمْ

آپکے دوست کا روز قیامت تک آپ پر ظلم کرنے والوں پر خدا لعنت کرے اور آپکا حق غصب کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو انکے ساتھیوں

وَٲَتْباعَھُمْ وَٲَھْلَ مَذْھَبِھِمْ وَٲَبْرَٲُ إلَی اللّهِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ۔

ان کے پیروکاروں اور ان کا مذہب رکھنے والوں پر بھی خدا کے سامنے اور آپ کے سامنے ان سے بیزاری کرتا ہوں۔

چوتھی اور پانچویں زیارت جامعہ

چوتھی زیارت جامعہ

یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲمِینَ اللّهِ فِی ٲرْضِہِ وَحُجَّتَہُ عَلَی عِبادِھِ ٲشْھَدُ ٲنَّکَ جاھَدْتَ فِی اللّهِ ..الاخ

سلام ہو آپ(ع) پر کہ آپ(ع) خدا کی زمین میں اسکے امانتدار اور اسکے بندوں پر اسکی حجت ہیں میں گواہ ہوں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا

جیسا کہ زیارت امیر المومنین میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم نے اس زیارت کو امیر المومنین کی زیارت دوم کے طور پر نقل کیا ہے۔

پانچویں زیارت جامعہ

یہ وہی زیارت ہے جو اعمال رجب میں نقل ہو چکی ہے اس زیارت سمیت اس کتاب میں کل پانچ زیارتیں ہیں جو انشا اﷲ پڑھنے والوں کیلئے کافی ہوں گی اس زیارت کی ابتدا اسطرح ہے:

اَلْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ اَشْھَدَنَا مَشْھَدَ اَوْلِیَآئِہٰ فِیْ رَجَبْ۔

حمد ہے خدا کیلئے جس نے ماہ رجب میں ہمیں اپنے اولیا کی زیارت گاہ پر پہنچایا۔

دوسرا مقام

دعا بعد از زیارت

یہ وہ دعا ہے جو ہر امام(ع) کی زیارت کے بعد پڑھی جاتی ہے ‘ سید بن طاؤس(رح) فرماتے ہیں کہ تمام ائمہ (ع)کی زیارت کے بعد اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے:

اَللّھُمَّ إنْ کانَتْ ذُنُوبِی قَدْ ٲَخْلَقَتْ وَجْھِی عِنْدَکَ وَحَجَبَتْ دُعائِی عَنْکَ وَحالَتْ

اے معبود اگر میرے گناہوں نے مجھے تیرے سامنے رسوا کر دیا میری دعا کو تیرے حضور جانے سے روک دیا ہے اور وہ میرے اور تیرے درمیان

بَیْنِی وَبَیْنَکَ فٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تُقْبِلَ عَلَیَّ بِوَجْھِکَ الْکَرِیم ِوَتَنْشُرَ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَتُنَزِّلَ

رکاوٹ بن گئے ہیں تو بھی سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی ذات کریم کے صدقے میری طرف توجہ کرے مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ ڈال دے

عَلَیَّ بَرَکاتِکَ وَ إنْ کانَتْ قَدْ مَنَعَتْ ٲَنْ تَرْفَعَ لِی إلَیْکَ صَوْتاً ٲَوْ تَغْفِرَ لِی ذَنْباً ٲَوْ

اور مجھ پر برکتیں نازل کر اگرچہ وہ گناہ رکاوٹ ہیں اس سے کہ میری آواز تیری بارگاہ میں پہنچے یا تو میرے گناہ بخشے یا تو میری

تَتَجاوَزَ عَنْ خَطِیئَۃٍ مُھْلِکَۃٍ فَہاٲَنَا ذَا مُسْتَجِیرٌ بِکَرَمِ وَجْھِکَ وَعِزِّ جَلالِکَ مُتَوَسِّلٌ

خطائیں معاف کرے جو تباہ کرنے والی ہیں پس میں پناہ لیتا ہوں تیری ذات کریم اور تیری عزت و جلال کی تجھ سے تعلق بناتاہوں

إلَیْکَ مُتَقَرِّبٌ إلَیْکَ بِٲَحَبِّ خَلْقِکَ إلَیْکَ وَٲَکْرَمِھِمْ عَلَیْکَ وَٲَوْلاھُمْ بِکَ

تیرے قریب ہوتا ہوں ان کے ذریعے جو مخلوق میں تیرے محبوب ہیں تیرے ہاں سب سے معزز ہیں تیرے نزدیک سب سے

وَٲَطْوَعِھِمْ لَکَ وَٲَعْظَمِھِمْ مَنْزِلَۃً وَمَکاناً عِنْدَکَ مُحَمَّدٍ وَبِعِتْرَتِہِ

بہتر ہیں سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں وہ شان میں سب سے بلند اورتیرے ہاں عزت والے محمد(ص) ہیں اور بذریعہ ان کی پاک اولاد(ع)

الطَّاھِرِینَ الْاََئِمَّۃِ الْھُداۃِ الْمَھْدِیِّینَ الَّذِینَ فَرَضْتَ عَلَی خَلْقِکَ طاعَتَھُمْ وَٲَمَرْتَ

کے جو امام(ع) ہیں ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ کہ جن کی اطاعت تو نے اپنے بندوں پر واجب کی ہے ان سے محبت

بِمَوَدَّتِھِمْ وَجَعَلْتَھُمْ وُلاۃَ الْاََمْرِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِکَ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ یَا مُذِلَّ

رکھنے کا حکم دیا اور انہیں اپنے رسول کے بعد ولایت و حکومت دی ہے ان پر اور ان کی آل (ع) پر خدا رحمت کرے اے ہر دشمنی

کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ وَیَا مُعِزَّ الْمُؤْمِنِینَ بَلَغَ مَجْھُودِی فَھَبْ لِی نَفْسِیَ السَّاعَۃَ

کرنے والے سرکش کو ذلیل کرنے والے اے مومنوں کو عزت دینے والے میری ہمت تمام ہوگئی ہے پس اسی گھڑی مجھے معافی دے

وَرَحْمَۃً مِنْکَ تَمُنُّ بِہا عَلَیَّ یا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

اور مجھ پر رحمت فرما اور مجھ پر احسان کر اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

اب حضرت کی ضریح مبارک پر بوسہ دے اور باری باری اپنے دونوں رخسار اس پر رکھے اور کہے:

اَللّٰھُمَّ إنَّ ہذَا مَشْھَدٌ لاَ یَرْجُو مَنْ فاتَتْہُ فِیہِ رَحْمَتُکَ ٲَنْ یَنالَہا فِی غَیْرِھِ وَلاَ ٲَحَدٌ ٲَشْقیٰ

اے معبود بے شک یہ وہ بارگاہ ہے کہ جو یہاں تیری رحمت حاصل نہ کر سکا کہیں حاصل نہ کر پائے گا اور اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں

مِنِ امْرِیًَ قَصَدَھُ مؤَمِّلاً فَآبَ عَنْہُ خائِباً اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْاِیَابِ وَخَیْبَۃِ

جو یہاں امید لے کر آیا تو ناکام پلٹ گیا اے معبود یقیناً میں تیری پناہ لیتا ہوں بری طرح پلٹنے نا امیدی کے ساتھ

الْمُنْقَلَبِ وَالْمُناقَشَۃِ عِنْدَ الْحِسابِ وَحاشَاکَ یَارَبِّ ٲَنْ تَقْرِنَ طَاعَۃَ وَلِیِّکَ بِطاعَتِکَ

لوٹ کر جانے سے اور حساب میں سختی سے اور اے پروردگار ایسا نہ ہو کہ تو اپنے ولی کی اطاعت اپنی اطاعت کے ساتھ

وَمُوالاتَہُ بِمُوالاتِکَ وَمَعْصِیَتَہُ بِمَعْصِیَتِکَ ثُمَّ تُؤْیِسَ زائِرَھُ وَالْمُتَحَمِّلَ مِنْ بُعْدِ

انکی دوستی اپنی دوستی کے ساتھ اور ان کی نا فرمانی اپنی نا فرمانی کے ساتھ لازم کر دے پھر ان کے زائر اور دور کے شہروں سے بہ مشکل

الْبِلادِ إلَی قَبْرِھِ وَعِزَّتِکَ یَارَبَّ لاَ یَنْعَقِدُ عَلَی ذلِکَ ضَمِیرِی إذْ کانَتِ

ان کی قبر پر آنے والے کو مایوس کرے اے پروردگار تیری عزت کی قسم کہ میرا دل اس بات پر یقین نہیں رکھتاکیونکہ دل تو تیری

الْقُلُوبُ إلَیْکَ بِالْجَمِیلِ تُشِیرُ۔

مہربانی اور اچھائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس کے بعد نماز زیارت ادا کرے اور جب وہاں سے واپس ہونا چاہے تو اس طرح و داع کرے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا ٲَھْلَ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ وَمَعْدِنَ الرِّسالَۃِ سَلامَ مُوَدِّعٍ لاَ سَئِمٍ وَلاَ قالٍ

سلام ہو آپ(ع) پر اے خانوادۂ نبوت اور رسالت کے سر چشمہ سلام ہو وداع کرنے والے کا جو نہ دل تنگ ہے اور نہ جھگڑالو آپ(ع) پر

وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ۔

رحمت خدا ہو اور اس کی برکات ہوں۔

مذکورہ بالا دعا شیخ مفید(رح) نے بھی نقل کی ہے لیکن’’ بِالْجَمِیْلِ تُشِیْرُ‘‘کے بعد یہ بھی تحریر فرمایا ہے:

یَا وَلِیَّ اللّهِ إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ اللّهِ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً لاَ یَٲْتِی عَلَیْہا إلاَّرِضاکَ فَبِحَقِّ

اے ولی خدا یقینا میرے اور خدائے عزوجل کے درمیان گناہ حائل ہیں جو آپکی مرضی کے بغیر معاف نہیں ہوتے پس اس حق کا

مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّھِ وَاسْتَرْعاکَ ٲَمْرَ خَلْقِہِ وَقَرَنَ طاعَتَکَ بِطاعَتِہِ وَمُوالاتَکَ

واسطہ جس نے آپکو اسکا راز دار بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ آپکے سپرد کیا آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ اور آپ(ع) کی دوستی اپنی دوستی

بِمُوالاتِہِ تَوَلَّ صَلاحَ حالِی مَعَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاجْعَلْ حَظِّی مِنْ زِیارَتِکَ تَخْلِیطِی

کیساتھ رکھی خدائے عزوجل کے ساتھ ہو کر میری بہتری کے ذمہ دار بنیں اپنی زیارت میں میرا حصہ قرار دیں اور مجھے اپنے مخلص

بِخالِصِی زُوَّارِکَ الَّذِینَ تَسْٲَلُ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فِی عِتْقِ رِقابِھِمْ وَتَرْغَبُ إلَیْہِ فِی حُسْنِ

زائرین میں شامل کریں کہ جنکو جہنم سے چھٹکارا دلانے کیلئے آپ(ع) نے خدائے عزوجل سے سوال کیا اور آپ(ع) انکو زیارت کا بہترین

ثَوابِھِمْ وَھَاٲَنَا الْیَوْمَ بِقَبْرِکَ لائِذٌ وَبِحُسْنِ دِفاعِکَ عَنِّی عائِذٌ فَتَلافَنِی

اجر دلانے کے خواہاں ہیں اور یہ میں ہوں جو آج آپکی قبر پر پناہ لیے ہوں اور آپکی طرف سے اپنے بچاؤ کی امید رکھتا ہوں پس مجھے بچائیں

یَا مَوْلایَ وَٲَدْرِکْنِی وَاسْٲَلِ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فِی ٲَمْرِی فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ اللّهِ مَقاماً کَرِیماً وَجاہاً

اے میرے مولا او مدد کو پہنچیں میرے لیے خدائے عزوجل سے دعا خیر فرمائیں کیونکہ آپ(ع) خدا کے ہاں بہترین مقام اور بلند تر مرتبہ

عَظِیماً صَلَّی اللّهُ عَلَیْکَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً۔

رکھتے ہیں آپ پر خدا درود بھیجے اور سلام بہت بہت سلام۔

مؤلف کہتے ہیں: جب کوئی زائر مقامات مقدسہ میں دعا مانگے یا کوئی شخص کسی بھی مقام پر طلب خیر کرے تو سب سے پہلے اسے امام العصر (ع) کی حفظ و امان کیلئے دعا کرنا چاہئے یہ ایک بہت ہی اہم معاملہ ہے اور اسکے بہت ہی فوائد ہیں جسکی تشریح اس مقام پر نہیں کی جاسکتی‘ لیکن شیخ مرحوم نے نجم الثاقب کے باب دہم میں اس موضوع کی تفصیل بیان کی ہے اور اس کیلئے چند دعائیں بھی تحریر فرمائی ہیں۔ پس جو شخص یہ عمل انجام دینا چاہے وہ مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کرے اس سلسلے میں ایک مختصر دعا وہ ہے جو رمضان المبارک کی تیئیسویں رات کے اعمال میں نقل کی گئی ہے اور ہم نے بھی زائر کے آداب میں ایک دعا تحریر کی ہے جسے تمام مشاہد میں پڑھا جا سکتا ہے۔

تیسرا مقام

چہاردہ معصومین پر صلوات

ائمہ طاہرین پر صلوات کے ضمن میں شیخ طوسی(رح) نے مصباح میں اعمال روز جمعہ میں فرمایا ہے کہ ہمارے رواۃ نے ابوالمُفضل شیبانی سے ایک خبر نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے ابو محمد عبداللہ بن محمد عابد بدالیہ نے بتایا کہ میں 255ھ میں اپنے مولا امام حسن عسکری سے سامرہ میں ان کے مقام پر حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ آپ مجھے حضرت محمد(ص) اور ان کے اوصیا ائمہ معصومین میں سے ہر ایک کیلئے صلوات لکھوائیں میں قلم، دوات اور کاغذ ہمراہ لے کر گیا آپ نے کسی کتاب سے دیکھے بغیر مجھے یہ صلوات زبانی لکھوائی:

حضرت رسول اللہﷺ پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما حَمَلَ وَحْیَکَ وَبَلَّغَ رِسالاتِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما

اے معبود! حضرت محمد(ص) پر درود بھیج کہ انہوں نے تیری وحی کو سنبھالا اور تیرے پیغام پہنچائے حضرت محمد(ص) پر درود بھیج

ٲَحَلَّ حَلالَکَ وَحَرَّمَ حَرَامَکَ وَعَلَّمَ کِتابَکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما ٲَقامَ الصَّلاۃَ

کہ انہوں نے تیرے حلال کو حلال اور حرام کو حرام بتایا اور تیری کتاب کی تعلیم دی خدایا محمد(ص) پر درود بھیج کہ انہوں نے نماز قائم کی

وَآتَیٰ الزَّکَاۃَ وَدَعا إلی دِینِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا صَدَّقَ بِوَعْدِکَ وَٲَشْفَقَ مِنْ

اور زکوۃ دیتے رہے اور تیرے دین کی طرف دعوت دی حضرت محمد(ص) پر درود بھیج کہانہوں نے تیرے وعدے کی تصدیق کی اور تیری

وَعِیدِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا غَفَرْتَ بِہِ الذُّنُوبَ وَسَتَرْتَ بِہِ الْعُیُوبَ وَفَرَّجْتَ بِہِ

دھمکی سے لوگوں کو ڈرایا خدایا محمد(ص) پر درود بھیج کہ جنکے ذریعے تو نے لوگوں کے گناہ معاف کیے انکے عیبوں کو چھپایا اور انکے ذریعے

الْکُرُوبَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا دَفَعْتَ بِہِ الشَّقائَ وَکَشَفْتَ بِہِ الْغَمَّائَ وَٲَجَبْتَ بِہِ

لوگوں کی مشکلات دور کیں خدایا محمد(ص) پر درود بھیج کہ تو نے انکے ذریعے بد بختی دور کی انکے ذریعے رنج دور کیے انکے ذریعے دعائیں

الدُّعائَ وَنَجَّیْتَ بِہِ مِنَ الْبَلائِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما رَحِمْتَ بِہِ الْعِبادَ وَٲَحْیَیْتَ بِہِ الْبِلادَ

قبول کیں اور انکے وسیلے مصیبتوں سے نجات دی خدایا محمد(ص) پر درود بھیج کہ تو نے ان کے ذریعے بندوں پر رحم کیا اور شہروں کو آباد کیا

وَقَصَمْتَ بِہِ الْجَبابِرَۃَ وَٲَھْلَکْتَ بِہِ الْفَراعِنَۃَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما ٲَضْعَفْتَ بِہِ الْاََمْوالَ

اور انکے ذریعے سرکشوں کی کمر توڑی اور انکے ذریعے مغرور بادشاہوں کو قتل کیاخدا یا محمد(ص) پر درود نازل فرما تو نے انکے ذریعے اموال زیادہ کیے

وَٲَحْرَزْتَ بِہِ مِنَ الْاََھْوَالِ وَکَسَرْتَ بِہِ الْاََصْنامَ وَرَحِمْتَ بِہِ الْاََنامَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ

انکے ذریعے خوف وہراس سے محفوظ کیا انکے ہاتھوں بتوں کو توڑا انکے وسیلے سے لوگوں پر رحم فرمایا خدایا محمد(ص) پر درود بھیج

کَمَا بَعَثْتَہُ بِخَیْرِ الْاََدْیانِ وَٲَعْزَزْتَ بِہِ الْاِیمانَ وَتَبَّرْتَ بِہِ الْاََوْثانَ وَعَظَّمْتَ بِہِ الْبَیْتَ

کہ تو نے انکو بہترین دین کیساتھ بھیجا ان کے ذریعے ایمان کو قوت دی ان کے ہاتھوں بتوں کو تباہ کیا اور ان کے ذریعے بیت الحرام

الْحَرامَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ الطَّاھِرِینَ الْاََخْیارِ وَسَلِّمْ تَسْلِیماً۔

کو بزرگی دی خدایا حضرت محمد(ص) پر درود بھیج اور ان کے اہل بیت(ع) پر جو پاک ہیں پسندشدہ اور سلام بھیج بہت بہت سلام ۔

امیرالمومنین پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی ٲَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی طالِبٍ ٲَخِی نَبِیِّکَ وَوَلِیِّہِ وَصَفِیِّہِ وَوَزِیرِھِ

اے معبود! مومنوں کے امیر علی بن ابی طالب(ع) پر درود بھیج کہ جو تیرے نبی(ص) کے برادر ان کے وارث ان کے پسندیدہ ان کے معاون

وَمُسْتَوْدَعِ عِلْمِہِ وَمَوْضِعِ سِرِّھِ وَبابِ حِکْمَتِہِ وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِہِ وَالدَّاعِی إلَی شَرِیعَتِہِ

انکے علم کے امانتدار ان کے راز کے امین انکے حکمت کے مظہر انکی حجت بیان کرنے والے، انکی شریعت کیطرف دعوت دینے والے

وَخَلِیفَتِہِ فِی ٲُمَّتِہِ وَمُفَرِّجِ الْکُرَبِ عَنْ وَجْھِہِ قاصِمِ الْکَفَرَۃِ وَمُرْغِمِ الْفَجَرَۃِ

انکی امت میں انکے خلیفہ ان کی ذات سے مشکلوں کو دور کرنے والے کافروں کی قوت توڑنے والے اور فسادیوں کو زیر کرنے والے

الَّذِی جَعَلْتَہُ مِنْ نَبِیِّکَ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُونَ مِنْ مُوسَی۔ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ والاھُ

کہ جن کو تو نے اپنے نبی(ص) کے ساتھ وہ مقام دیا جو ہارون(ع) کا موسی(ع) کے ساتھ تھا اے معبود! اسے دوست رکھ جو ان کو دوست رکھے

وَعادِ مَنْ عاداھُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَھُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ وَالْعَنْ مَنْ نَصَبَ لَہُ مِنَ

دشمن رکھے اس کو جو ان کا دشمن ہو مدد دے اس کو جوان کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو ان کو چھوڑ جائے اور اس پر لعنت بھیج جس

الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ

نے ان کی مخالفت کی اولین وآخرین میں سے اور ان پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں کے جانشینوں میں سے

ٲَوْصِیائِ ٲَنْبِیائِکَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ۔

کسی پر فرمائی ہو اے جہانوں کے پرودگار۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر صلوات

اَللّھُمَّ صَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَۃِ فاطِمَۃَ الزَّکِیَّۃِ حَبِیبَۃِ حَبِیبِکَ وَنَبِیِّکَ وَٲُمِّ ٲَحِبَّائِکَ

اے معبود درود بھیج صدیقہ کائنات سیدہ فاطمہ(س) پر جو پاکیزہ ہیں تیرے پیغمبر(ص) اور تیرے محبوب کی پیاری بیٹی ہیں اور تیرے محبوب

وَٲَصْفِیائِکَ الَّتِی انْتَجَبْتَہا وَفَضَّلْتَہا وَاخْتَرْتَہا عَلَی نِسائِ الْعالَمِینَ۔ اَللّٰھُمَّ

اور برگزیدوں کی والدہ ہیں وہی بی بی(س) جہانوں کی عورتوں میں سے جنکو تو نے چن لیا عظمت دی اور پسندیدہ بنایا اے معبود

کُنِ الطَّالِبَ لَہا مِمَّنْ ظَلَمَہا وَاسْتَخَفَّ بِحَقِّہا وَکُنِ الثَّائِرَ اَللّٰھُمَّ بِدَمِ ٲَوْلادِہا۔

جنہوں نے ان پر ظلم ڈھایا ان سے بدلہ لے اور انکے حق کی پرواہ نہ کی ان سے بدلہ لے اور اے معبود انکی اولاد کے خون کا انتقام لے

اَللّٰھُمَّ وَکَما جَعَلْتَہا ٲُمَّ ٲَئِمَّۃِ الْھُدیٰ وَحَلِیلَۃَ صاحِبِ الِلَّوائِ وَالْکَرِیمَۃَ عِنْدَ

اور اے معبود جیسا کہ تو نے انکوبنایا ہدایت والے اماموں کی ماں پیغمبر(ص) کے علمبردار کی زوجہ محترمہ اور عالم بالاعرش و کرسی کے مقام میں

الْمَلاَ الْاََعْلی فَصَلِّ عَلَیْہا وَعَلَی ٲُمِّہا صَلاۃً تُکْرِمُ بِہا وَجْہَ مُحَمَّدٍ وَتُقِرُّ بِہا ٲَعْیُنَ

عزت والی قرار دیا پس ان پر اور انکی والدہ(س) پر رحمت فرما جس سے تیرے نبی محمد(ص)کا چہرہ مبارک چمک اٹھے اور ان بی بی(س)

ذُرِّیَّتِہا وَٲَبْلِغْھُمْ عَنِّی فِی ہذِھِ السَّاعَۃِ ٲَفْضَلَ التَّحِیَّۃِ وَالسَّلامِ۔

کی اولاد کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور پہنچا ان سب کو اس وقت میرا بہترین درود اور آداب و سلام۔

امام حسن اور حسین پر صلوات

اَللّھُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَبْدَیْکَ وَوَلِیَّیْکَ وَابْنَیْ رَسُولِکَ وَسِبْطَیِ الرَّحْمَۃِ

اے معبود حسن(ع) اور حسین(ع) پر درود بھیج جو دونوں تیرے بندے محبوب تیرے رسول(ص) کے بیٹے رحمت والے نواسے

وَسَیِّدَیْ شَبابِ ٲَھْلِ الْجَنَّۃِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَوْلادِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ

اور جوانان جنت کے سید و سردار ہیں ان پر بہترین رحمت فرما جیسی رحمت تو نے نبیوں اور رسولوں کی اولاد میں سے کسی پر بھیجی ہو

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ وَوَصِیِّ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

اے معبود امام حسن(ع) پر درود بھیج جو نبیوں کے سردار کے فرزند ہیں اور مومنوں کے امیر(ع) کے جانشین ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خدا(ص)

رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ یَابْنَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ٲَمِینُ اللّهِ

کے فرزند آپ پر سلام ہو اے اوصیا کے سردار کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مومنوں کے امیر کے فرزند، خدا کے امانتدار اور

وَابْنُ ٲَمِینِہِ عِشْتَ مَظْلُوماً وَمَضَیْتَ شَھِیداً وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ الْاِمامُ الزَّکِیُّ الْہادِی

اسکے امین کے فرزند ہیں آپ دنیا میں مظلوم جیے اور شہید ہو کر گزرے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام(ع) ہیں پاک شدہ ہدایت دینے

الْمَھْدِیُّ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَبَلِّغْ رُوحَہُ وَجَسَدَھُ عَنِّی فِی ہذِھِ السَّاعَۃِ ٲَفْضَلَ التَّحِیَّۃِ

والے ہدایت یافتہ اے معبود ان پر رحمت نازل کر اور انکی روح اور انکے جسم کو میری طرف سے اس لمحے میں بہترین درود و سلام اور

وَالسَّلامِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الْمَظْلُومِ الشَّھِیدِ قَتِیلِ الْکَفَرَۃِ

آداب پہنچا دے اے معبود امام حسین(ع) فرزند علی(ع) پر درود بھیج جو مظلومیت کی حالت میں شہید ہوئے بے دینوں نے انہیں قتل کیا

وَطَرِیحِ الْفَجَرَۃِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا عَبْدِاللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ

اور بدکاروں نے ساتھ چھوڑدیا آپ پر سلام ہو اے ابو عبداﷲ(ع) آپ پر سلام ہو اے رسول خدا(ص) کے فرزند آپ پر

عَلَیْکَ یَابْنَ ٲَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ ٲَشْھَدُ مُوقِناً ٲَنَّکَ ٲَمِینُ اللّهِ وَابْنُ ٲَمِینِہِ قُتِلْتَ

سلام ہو اے مومنوں کے امیر(ع) کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں یقین کیساتھ کہ آپ خدا کے امانتدار اور اسکے امین کے فرزند ہیں آپ

مَظْلُوماً وَمَضَیْتَ شَھِیداً وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ اللّهَ تَعالَی الطَّالِبُ بِثارِکَ وَمُنْجِزٌ مَا وَعَدَکَ مِنَ

مظلومی میں قتل ہوئے اور شہادت پا کر گزرے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ آپکے خون کا بدلہ لے گا اور وہ آپ سے کیا

النَّصْرِ وَالتَّٲْیِیدِ فِی ھَلاکِ عَدُوِّکَ وَ إظْہارِ دَعْوَتِکَ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ

ہوا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپکے دشمن کی تباہی اور آپکی دعوت کے اظہار کیلئے مدد اور قوت دے گامیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے

وَفَیْتَ بِعَھْدِ اللّهِ وَجاھَدْتَ فِی سَبِیلِ اللّهِ وَعَبَدْتَ اللّهَ مُخْلِصاً حَتَّی ٲَتاکَ الْیَقِینُ لَعَنَ

خدا سے کیا ہوا پیمان پورا کیا خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی پر خلوص عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے خد اکی

اللّهُ ٲُمَّۃً قَتَلَتْکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً خَذَلَتْکَ وَلَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً ٲَلَّبَتْ عَلَیْکَ

لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپکا ساتھ نہ دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے

وَٲَبْرَٲُ إلَی اللّهِ تَعالی مِمَّنْ ٲَکْذَبَکَ وَاسْتَخَفَّ بِحَقِّکَ وَاسْتَحَلَّ دَمَکَ بِٲَبِی ٲَنْتَ

آپ پر گھیرا ڈالا اور میں خدا کے سامنے بیزار ہوں اس سے جس نے آپکو جھٹلایا آپکے حق کی پرواہ نہ کی اور آپکا خون بہایا میرے ماں

وَٲُمِّی یَاٲَبا عَبْدِاللّهِ لَعَنَ اللّهُ قاتِلَکَ وَلَعَنَ اللّهُ خاذِلَکَ وَلَعَنَ اللّهُ

باپ آپ پر قربان اے ابوعبد اﷲ(ع) خدا لعنت کرے آپکے قاتل پر خدا لعنت کرے آپ کو چھوڑ جانے والے پر اور خدا لعنت کرے

مَنْ سَمِعَ وَاعِیَتَکَ فَلَمْ یُجِبْکَ وَلَمْ یَنْصُرْکَ وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ سَبَیٰ نِسائَکَ ٲَنَا إلَی اللّهِ

اس پر جس نے آپکی پکار سنی تو جواب نہ دیا اور آپکی مدد نہ کی اور خدا لعنت کرے جس نے آپ کی عورتوں کو اسیر کیا میں خدا کے

مِنْھُمْ بَرِیئٌ وَمِمَّنْ والاھُمْ وَمالأََھُمْ وَٲَعانَھُمْ عَلَیْہِ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ وَالْاََئِمَّۃَ مِنْ وُلْدِکَ

سامنے ان سے بیزار ہوں اور ان سے بھی جو انکے دوست انکے ساتھی اور انکے مددگار ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ(ع) اور آپکی اولاد

کَلِمَۃُ التَّقْوَیٰ وَبابُ الْھُدَیٰ وَ الْعُرْوَۃُ الْوُثْقیٰ وَالْحُجَّۃُ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَٲَشْھَدُ

میں سے ائمہ(ع) پرہیز گاری کی علامت ہدایت کا ذریعہ پائیدار سلسلہ اور دنیا والوں پر خد اکی حجت ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں

ٲَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌوَبِمَنْزِلَتِکُمْ مُوقِنٌ وَلَکُمْ تابِعٌ بِذاتِ نَفْسِی وَشَرایِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی

کہ میں آپ کا معتقد ہوں اور آپ کے مرتبے کا یقین رکھتا ہوں میں دل سے آپ کا تابع ہوں میں احکام دین اور عمل کی پاداش

وَمُنْقَلَبِی فِی دُنْیایَ وَآخِرَتِی۔

اور بازگشت میں آپ(ع) کاتابع ہوں دنیا و آخرت میں۔

امام زین العابدین پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ سَیِّدِ الْعابِدِینَ الَّذِی اسْتَخْلَصْتَہُ لِنَفْسِکَ وَجَعَلْتَ

اے معبود امام علی بن الحسین(ع) پر درود بھیج جو عبادت گزاروں کے سردار ہیں جن کو تو نے اپنے لیے مخصوص کیا اور ان کی اولاد میں تو نے

مِنْہُ ٲَئِمَّۃَ الْھُدَی الَّذِینَ یَھْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ اخْتَرْتَہُ لِنَفْسِکَ وَطَہَّرْتَہُ مِنَ الرِّجْسِ

ائمہ ہدایت قرار دئیے جو حق کیساتھ ہدایت کرتے اور عدل سے فیصلے کرتے ہیں تو نے انکو اپنے لیے چنا ان کو آلودگی سے پاک رکھا

وَاصْطَفَیْتَہُ وَجَعَلْتَہُ ہادِیاً مَھْدِیّاً اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ذُرِّیَّۃِ

ان کو پسند کیا اور ان کو ہدایت یافتہ رہبر بنایا پس اے معبود امام(ع) چہارم پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں کی اولاد

ٲَنْبِیائِکَ حَتَّی تَبْلُغَ بِہِ مَا تَقَرُّ بِہِ عَیْنُہُ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ إنَّکَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ۔

میں سے کسی پر کی ہو حتی کہ انکو اس مقام پر پہنچا جس سے انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں دنیا اور آخرت میں بے شک تو زبردست ہے حکمت والا۔

امام محمد باقر پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ باقِرِ الْعِلْمِ وَ إمامِ الْھُدیٰ وَقائِدِ ٲَھْلِ التَّقْویٰ وَالْمُنْتَجَبِ

اے معبود محمد بن علی(ع) پر درود بھیج جو علم پھیلانے والے امام(ع) ہدایت پرہیز گاروں کے پیشوا اور تیرے بندوںمیں سے

مِنْ عِبادِکَ۔ اَللّٰھُمَّ وَکَما جَعَلْتَہُ عَلَماً لِعِبادِکَ وَمَناراً لِبِلادِکَ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِکَ

برگزیدہ ہیں اے معبود جیسے تو نے قرار دیا انکو اپنے بندوں کے لیے نشان ہدایت اپنے شہروں کے لیے روشنی اپنی حکمت کا امین

وَمُتَرْجِماً لِوَحْیِکَ وَٲَمَرْتَ بِطاعَتِہِ وَحَذَّرْتَ مِنْ مَعْصِیَتِہِ فَصَلِّ عَلَیْہِ یَارَبِّ ٲَفْضَلَ مَا

اور اپنی وحی کا ترجمان بنایانیز ان کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کی نافرمانی سے منع کیا ہے پس ان پر رحمت فرما اے پروردگار وہ بہترین

صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ذُرِّیَّۃِ ٲَنْبِیائِکَ وَٲَصْفِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَٲُمَنائِکَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ۔

رحمت جو تونے اپنے نبیوں اپنے بر گزیدوں اپنے رسولوں اور اپنے امانتداروں میں سے کسی کی اولادپر کی ہے اے جہانوں کے پروردگار۔

امام جعفر صادق پر صلوات

اَللّھُمَّ صَلِّ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ خازِنِ الْعِلْمِ الدَّاعِی إلَیْکَ بِالْحَقِّ النُّورِ

اے معبود جعفر بن محمد(ع) پر درود بھیج جو صادق(ع) ہیں وہ علم کے خزینہ دار حق کے ساتھ تیری طرف بلانے والے اور نور

الْمُبِینِ۔ اَللّٰھُمَّ وَکَما جَعَلْتَہُ مَعْدِنَ کَلامِکَ وَوَحْیِکَ وَخازِنَ عِلْمِکَ وَلِسانَ تَوْحِیدِکَ

آشکارا ہیں اے معبود جیسے تو نے اپنے کلام اور وحی کا سنبھالنے والا قرار دیا اپنے علم کا خزینہ دار اپنی توحید کا ترجمان

وَوَلِیَّ ٲَمْرِکَ وَمُسْتَحْفِظَ دِینِکَ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَصْفِیائِکَ

اپنے حکم کا نگہدار اور اپنے دین کا رکھوالا بنایا ہے اسی طرح ان پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے برگزیدوں

وَحُجَجِکَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔

اور اپنی حجتوں میں سے کسی پر کی ہے بے شک تو تعریف والا ہے بزرگوار۔

امام موسیٰ کاظم پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی الْاََمِینِ الْمُؤْتَمَنِ مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْبَرِّ الْوَفِیِّ الطَّاھِرِ الزَّکِیِّ النُّورِ الْمُبِینِ

اے معبود امانت دار اور امانت دار بنائے گئے موسیٰ بن جعفر(ع) پر درود بھیج جو نیک وفا دار پاک شدہ پاکباز نور درخشاں

الْمُجْتَھِدِ الْمُحْتَسِبِ الصَّابِرِ عَلَی الْاََذیٰ فِیکَ۔ اَللّٰھُمَّ وَکَما بَلَّغَ عَنْ آبائِہِ مَا اسْتُودِعَ

ساعی و کوشاں خیر چاہنے والے تیرے لیے تکلیف پر صبر کرنے والے ہیں اے معبود جیسے انہوں نے اپنے بزرگان کیطرف سے سپرد

مِنْ ٲَمْرِکَ وَنَھْیِکَ وَحَمَلَ عَلَی الْمَحَجَّۃِ وَکابَدَ ٲَھْلَ الْعِزَّۃِ وَالشِّدَّۃِ فِیما کانَ یَلْقیٰ

شدہ تیرے امر و نہی کو بیان کیالوگوں کو سیدھی راہ پر ڈالا اور سامنا کیا اہل کبر و غرور کے سخت برتاؤ کا ان باتوں میں جو آپ کی قوم کے

مِنْ جُہَّالِ قَوْمِہِ رَبِّ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ وَٲَکْمَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِمَّنْ ٲَطاعَکَ

جاہلوں نے پھیلائیں پس اے پرودگار حضرت پر رحمت کر بہترین و کامل ترین رحمت جو تو نے کسی ایسے شخص پر کی جس نے تیری اطاعت

وَنَصَحَ لِعِبادِکَ إنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔

اور تیرے بندوں کی خیر خواہی کی بے شک تو پردہ پوش ہے مہربان۔

امام علی رضا پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الَّذِی ارْتَضَیْتَہُ وَرَضَّیْتَ بِہِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِکَ۔

اے معبود علی بن موسیٰ(ع) پر درود بھیج کہ جن کو تو نے پسند فرمایا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے پسند کر لیتا ہے

اَللّٰھُمَّ وَکَمَا جَعَلْتَہُ حُجَّۃً عَلَی خَلْقِکَ وَقائِماً بِٲَمْرِکَ وَناصِراً لِدِینِکَ وَشاھِداً عَلَی

اے معبود جس طرح تو نے قرار دیا ان کو اپنی مخلوق پر حجت قائم کیا اپنے امر پرمدد گار بنایا اپنے دین کا اور گواہ بنایا

عِبادِکَ وَکَمَا نَصَحَ لَھُمْ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَۃِ وَدَعا إلَی سَبِیلِکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ

اپنے بندوں پر اور جس طرح انہوں نے عیاں و نہاں ان کی خیر خواہی کی اور ان کو دانش مندی اور بہترین نصیحت کے ساتھ تیرے

الْحَسَنَۃِ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَوْلِیائِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ

راستے کیطرف بلایا اسی طرح تو بھی ان پر رحمت کر وہ بہترین رحمت جو تو نے مخلوقات میں سے اپنے والیوں اور برگزیدوں میں سے

خَلْقِکَ إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ۔

کسی ایک پر کی ہے بےشک تو بہت دینے والا سخی ہے۔

امام محمد تقی پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُوسَیٰ عَلَمِ التُّقیٰ وَنُورِالْھُدَیٰ وَمَعْدِنِ الْوَفائِ وَفَرْعِ

اے معبود محمد بن علی بن موسیٰ(ع) پر درود بھیج جو پرہیز گاری کے نشان ہدایت کے نور وفا کے مرکز و محور پاکبازوں کی شاخ

الْاََزْکِیائِ وَخَلِیفَۃِ الْاََوْصِیائِ وَٲَمِینِکَ عَلَی وَحْیِکَ اَللّٰھُمَّ فَکَما ھَدَیْتَ بِہِ مِنَ الضَّلالَۃِ

اور اوصیا پیغمبر کے جانشین اور تیری وحی کے امانتدار ہیں پس اے معبود جیسے تو نے ان کے ذریعے گمراہی سے نکال کر ہدایت دی ان

وَاسْتَنْقَذْتَ بِہِ مِنَ الْحَیْرَۃِ وَٲَرْشَدْتَ بِہِ مَنِ اھْتَدیٰ وَزَکَّیْتَ بِہِ مَنْ تَزَکَّیٰ فَصَلِّ

کے وسیلے سے پریشانی و سرگردانی سے بچایا انکے ذریعے راہ دکھائی اسے جس نے ہدایت چاہی اور انکے ذریعے پاک کیا اسے جو پاک ہوا

عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَوْلِیائِکَ وَبَقِیَّۃِ ٲَوْصِیائِکَ إنَّکَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ۔

ایسے ہی ان پر رحمت کر بہترین رحمت جو تو نے کسی پر کی ہے اپنے اولیا میں سے اور اوصیا میں سے موجود وصی پر بے شک تو زبردست ہے حکمت والا۔

امام علی نقی پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَصِیِّ الْاََوْصِیائِ وَ إمامِ الْاََتْقِیائِ وَخَلَفِ ٲَئِمَّۃِ الدِّینِ

اے معبود علی بن محمد(ع) پر درود بھیج جو اوصیا پیغمبر(ص) کے وصی پرہیز گاروں کے پیشوا ائمہ(ع) دین کے قائمقام

وَالْحُجَّۃِ عَلَی الْخَلائِقِ ٲَجْمَعِینَ اَللّٰھُمَّ کَما جَعَلْتَہُ نُوراً یَسْتَضِیئُ بِہِ الْمُؤْمِنُونَ فَبَشَّرَ

اور ساری مخلوقات پر تیری حجت ہیں اے معبود جیسے تو نے ان کو ایسا نور بنایا کہ جس سے مومنین روشنی حاصل کرتے ہیں پس انہوں

بِالْجَزِیلِ مِنْ ثَوابِکَ وَٲَنْذَرَ بِالْاََلِیمِ مِنْ عِقابِکَ وَحَذَّرَ بَٲْسَکَ وَذَکَّرَ بِآیاتِکَ وَٲَحَلَّ

نے تیرے ثواب عظیم کی خوشخبری سنائی تیرے سخت ترین عذاب سے خوف دلایا تیرے غضب سے آگاہ کیا تیری آیتوں کے ذریعے

حَلالَکَ وَحَرَّمَ حَرامَکَ وَبَیَّنَ شَرایِعَکَ وَفَرائِضَکَ وَحَضَّ عَلَی عِبادَتِکَ وَٲَمَرَ

نصیحت کی تیرے حلال کو حلال کہا تیرے حرام کو حرام بتایا تیرے قوانین اور احکام کو کھول کر بیان کیا تیری عبادت کا شوق دلایا تیری

بِطاعَتِکَ وَنَہیٰ عَنْ مَعْصِیَتِکَ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَوْلِیائِکَ

فرمانبرداری کا حکم دیا اور تیری نافرمانی سے منع کیا پس ان پر رحمت کر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے اولیا

وَذُرِّیَّۃِ ٲَنْبِیائِکَ یَا إلہَ الْعالَمِینَ۔

اور اپنے نبیوں کی اولاد میں سے کسی پر کی ہے اے جہانوں کے معبود۔

اس صلوات کا راوی ابو محمد یمنی بیان کرتا ہے کہ جب امام حسن عسکری اپنے آبائے طاہرین میں سے ہر ایک کیلئے صلوات تعلیم فرما چکے اور نوبت اپنی ذات تک پہنچی تو آپ خاموش ہو گئے میں نے عرض کی اے فرزند رسول(ص) باقی کے لیے بھی صلوات لکھوائیں۔آپ نے فرمایا یہ صلوات دین کے نشانوں میں سے نہ ہوتی اور خدائے تعالیٰ نے اس کا حکم نہ دیا ہوتا کہ ہم یہ چیزیں لائق و موزوں افراد تک پہنچائیں تو میں خاموشی کو بہتر سمجھتا خود اپنے لیے صلوات کا ذکر نہ کرتالیکن یہ دین کا معاملہ ہے لہذا آگے یہ لکھو۔

امام حسن عسکری پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَرِّ التَّقِیِّ الصَّادِقِ الْوَفِیِّ النُّورِ الْمُضِیئِ

اے معبود حسن بن علی بن محمد(ع) پر درود بھیج جو خوش کردار پرہیز گار صادق وفادار چمکتا ہوں نور

خازِنِ عِلْمِکَ وَالْمُذَکِّرِ بِتَوْحِیدِکَ وَوَلِیِّ ٲَمْرِکَ وَخَلَفِ ٲَئِمَّۃِ الدِّینِ الْھُداۃِ

اور تیرے علوم کے خزینہ دار ہیں وہ تیری توحید کا اعلان کرنے والے تیرے حکم کے پاسدار دین کے ان اماموں کے جانشین

الرَّاشِدِینَ وَالْحُجَّۃِ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا فَصَلِّ عَلَیْہِ یَارَبِّ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ

کہ جو رہبر اور راہ یافتہ ہیں اور دنیا والوں پر تیری حجت ہیں پس ان پر رحمت فرما اے پرودگار بہترین رحمت جو تو نے اپنے برگزیدوں

ٲَصْفِیائِکَ وَحُجَجِکَ وَٲَوْلادِ رُسُلِکَ یَا إلہَ الْعالَمِینَ۔

اپنی حجتوں اور اپنے نبیوں کی اولاد میں سے کسی پر کی ہے اے جہانوں کے معبود

امام العصر عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف پر صلوات

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی وَلِیِّکَ وَابْنِ ٲَوْلِیائِکَ الَّذِینَ فَرَضْتَ طاعَتَھُمْ وَ ٲَوْجَبْتَ حَقَّھُمْ

اے معبود اپنے ولی(ع) پر رحمت فرما جو تیرے ان اولیا کے فرزند ہیں جن کی اطاعت تو نے لازم ٹھہرائی ان کا حق واجب کیا

وَٲَذْھَبْتَ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَہَّرْتَھُمْ تَطْھِیراً اَللّٰھُمَّ انْصُرْھُ وَانْتَصِرْ بِہِ لِدِینِکَ وَانْصُرْ بِہِ

آلودگی کو ان سے دور رکھا اور ان کو پاک کیا بہت پاک اے معبود مہدی(ع) کی مدد فرما ان کے ذریعے اپنے دین کی مدد کر اور ان کے

ٲَوْلِیائَکَ وَٲَوْلِیائَہُ وَشِیعَتَہُ وَٲَنْصارَھُ وَاجْعَلْنا مِنْھُمْ اَللّٰھُمَّ ٲَعِذْھُ مِنْ شَرِّ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ

ہاتھوں اپنے اور انکے دوستوں انکے پیروکاروں اور ساتھیوں کو کامیاب فرما اور ہمیں ان میں شامل کر اے معبود امام عصر(ع) کو ہرستمگار

وَمِنْ شَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ وَاحْفَظْہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ وَعَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ

اور سرکش کے شر سے بچائے رکھ اور اپنی مخلوق کے شر سے بچا ان کی نگہبانی فرما انکے آگے سے ان کے پیچھے سے انکے دائیں سے اور

شِمالِہِ وَاحْرُسْہُ وَامْنَعْہُ ٲَنْ یُوصَلَ إلَیْہِ بِسُوئٍ وَاحْفَظْ فِیہِ رَسُولَکَ وَ آلَ رَسُولِکَ

انکے بائیں سے انکی نگہداشت کر اور محفوظ رکھ کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے انکی حفاظت کے ذریعے اپنے رسول(ص) اور انکی آل (ع) کی حفاظت فرما

وَٲَظْھِرْ بِہِ الْعَدْلَ وَٲَیِّدْھُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ ناصِرِیہِ وَاخْذُل خاذِلِیہِ وَاقْصِمْ بِہِ جَبابِرَۃَ الْکُفْرِ

انکے ہاتھوں عدل کو رائج کر اور انکو مدد دے کر قوی فرما انکے ساتھیوں کی مدد کر اور انکو چھوڑ جانے والوں کوپست کر د ے

وَاقْتُلْ بِہِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ وَجَمِیعَ الْمُلْحِدِینَ حَیْثُ کانُوا مِنْ مَشارِقِ الْاََرْضِ

انکے ذریعے سخت دل کافروں کا زور توڑ دے انکے ہاتھوں تمام کافروں منافقوں اور بے دینوں کو قتل کرا دے چاہے وہ زمین کے

وَمَغارِبِہا وَبَرِّہا وَ بَحْرِہا وَامْلاََْ بِہِ الْاََرْضَ عَدْلاً وَٲَظْھِرْ بِہِ دِینَ

مشرقوں میں ہوں یا مغربوں میں اور میدانوں میں ہوں یا سمندروں میںامام(ع) کے ذریعے زمین کوعدل سے بھر دے اور اپنے نبی(ص) کے

نَبِیِّکَ عَلَیْہِ وَآلِہِ اَلسَّلَامُ وَاجْعَلْنِی اَللّٰھُمَّ مِنْ ٲَنْصارِھِ وَٲَعْوانِہِ وَٲَتْباعِہِ وَشِیعَتِہِ

دین کو غالب فرما کہ ان پر اور انکی آل (ع) پر سلام ہو اور اے معبود ہمیں شامل فرما امام(عج) کے مددگاروں کے ہمراہیوں انکے پیروکاروں

وَ ٲَرِنِی فِی آلِ مُحَمَّدٍ مَا یَٲْمُلُونَ وَفِی عَدُوِّھِمْ مَا یَحْذَرُونَ

اور انکے اطاعت گزاروں میں اور مجھے آل محمد(ع) کا وہ وقت دکھا جسکے وہ آرزو مند ہیں اور انکے دشمنوں کاوہ حال دکھا جس سے وہ ڈرتے ہیں

إلہَ الْحَقِّ آمِینَ۔

اے سچے معبود ایسا ہی ہو۔

خاتمہ

اس میں زیارت انبیا، زیارت امام زادگان عالی مقام اور زیارت قبور مومنین کا بیان ہے اور یہ تین مطالب پر مشتمل ہے۔

پہلا مطلب

زیارت انبیا

واضح رہے کہ انبیا کی تعظیم و تکریم عقلی و شرعی لحاظ سے واجب ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِنْ رُّسُلِہٰ یعنی اس سلسلے میں کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ہے اور ان کی زیارت کرنا ایک پسندیدہ فعل ہے چنانچہ علمائے کرام نے ان کی زیارت کرنے کو یقینی طور پر مستحب قرار دیا ہے، انبیا(ع) کی تعداد اگرچہ بہت زیادہ ہے لیکن ہمیں ان میں سے بہت کم نبیوں کی قبریں معلوم ہیں اور جن انبیا(ع) کی قبروں کا ہمیں علم ہے وہ یہ بزرگوار ہیں۔

حضرت آدم‘ حضرت نوح نجف اشرف میں امیر المؤمنین کے روضہ مبارک میں دفن ہیں۔ حضرت ابراہیم کی قبر قدس خلیل میں بیت المقدس کے قریب ہے ان کے نزدیک ہی ان کی زوجہ بی بی سارہ(س)‘ حضرت اسحاق‘ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی قبریں ہیں ‘حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ بی بی ہاجرہ(س) مسجد الحرام (کعبہ) میں حجر کے قریب مدفون ہیں اور یہاں دیگر پیغمبروں کی قبریں بھی ہیں۔ امام محمد باقر سے مروی ہے کہ رکن اور مقام کا درمیانی حصہ انبیا کی قبور سے بھرا ہوا ہے‘ امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان ستر پیغمبر دفن ہیں پھر بیت المقدس میں پیغمبروں کا ایک گروہ مثل حضرت داؤد و حضرت سلیمان و غیرہ دفن ہیں اور ان بزرگان کی قبور مذکورہ مقامات کے لوگوں میں معروف ہیں۔ اسی طرح حضرت زکریا کی قبر حلب میں اور حضرت یونس کی قبر کوفہ کی نہر کے کنارے مشہور معروف ہے۔ نیز حضرت ہود اور حضرت صالح نجف اشرف کے قریب وادی السلام میں مدفون ہیں۔ حضرت ذوالکفل کی قبر کوفہ کے نواح میں چند فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے شہر موصل میں حضرت جرجیس اور بیرون شہر حضرت شیث کی قبر ہے شوش میں حضرت دانیال اور کاظمین میں مسجد براثا کے نزدیک حضرت یوشع مدفون ہیں۔

کیفیت زیارت

احادیث میں ان بزرگوں کیلئے کوئی مخصوص زیارت وارد نہیں ہوئی ہاں حضرت آدم و حضرت نوح کی زیارت امیر المومنین کی زیارت کے ساتھ ذکر ہوئی ہے تاہم زیارت جامعہ کی روایت کے مطابق انبیا کی زیارت میں بھی یہی پہلی زیارت جامعہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس بات کی تائید یوں ہوتی ہے کہ شیخ محمد بن المشہدی نے مزار میں سید بن طاؤس نے مصباح الزائر میں انکے علاوہ علما نے کوفہ میں داخل ہونے کے آداب میں حضرت یونس(ع) کیلئے یہی زیارت مشہور نقل کی گئی ہے اور گمان یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس قاعدے کلیے کے تحت ہی اس زیارت کو اس مقام پر نقل کیا ہے اور یہی سابقہ روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے لہذا اگر کوئی زائران انبیا میں سے کسی ایک کی زیارت کے وقت اسی زیارت جامعہ کو پڑھے تو بہت مناسب اور موزوں ہے چونکہ قبل ازیں ہم زیارت جامعہ کو نقل کر چکے ہیں لہذا یہاں اسے دوبارہ نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو شخص اسکی تلاوت کرنا چاہتا ہے وہ پہلی زیارت جامعہ کیطرف رجوع کرکے اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔

دوسرا مطلب

زیارت امام زادگان و شہزادگان

ان امام زادوں اور خانوادہ پیغمبر(ص) کے شہزادوں کی قبور فیض و برکت کا ذریعہ اور رحمت خداوندی و عنایت پروردگار کے نزول کا محل و مقام ہیں یہی وجہ ہے کہ علمائ اعلام نے ان کی زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اور شکر خدا کہ ہر شہر و قریہ بلکہ پہاڑوں کے دامن میںبھی ان سادات عظام کی قبور بے کسوں بے چاروں اور ستم دیدہ لوگوں کیلئے جائے پناہ اور بے چین دلوں کیلئے تا قیامت موجب تسلی بنی رہیں گیں۔ ان قبور سے اکثر کرامات و برکات کا ظہور دیکھنے میں آتا ہے لیکن یاد رہے کہ وہ امام زادگان جن کی زیارت کے لیے دور دراز کے سفر طے کر کے جانا ضروری ہے تو بھی سفر سے پہلے ان دو چیزوں کو نظر میں رکھے اولاً حسب و نسب کے علاوہ اس صاحب قبر کی عظمت و بزرگی کو کتب تاریخ سے معلوم کرے ثانیاً یہ کہ آیا واقعی وہ قبر اس امام زادے ہی کی ہے یا نہیں اگرچہ ان باتوں کا کسی ایک جگہ جمع ہونا قدرے مشکل ہے پھر بھی ہم نے ہدیۃ الزائرین میں ان میں سے بعض بزرگواروں کا ذکر کیا اور نفثۃ المصدور اور منتہی الآمال میں محسن بن حسین کے حالات کی طرف اشارہ کیا ہے مگر زیر نظر کتاب میں ان چیزوں کا ذکر کیے جانے کی گنجائش نہیں ہے لہذا یہاں میں ان میں سے صرف دو بزرگان کا تذکرہ کرتا ہوں کہ ان میں اول سیدہ جلیلہ جناب فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفر ہیں جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے نام سے معروف ہیں۔

فضلیت زیارت معصومہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، قم

یہ معظمہ جو امام موسیٰ کاظم کی دختر اور امام رضا کی خواہر ہیں ایران کے شہر قم میں دفن ہیں جہاں ان کا بہت بہترین سنہری گنبد اور ضریح ہے اور وسیع و عریض صحن بھی بنایا گیا ہے وہاں بہت زیادہ خدام ہیں اور وافر مقدار میں اموال و جائداد اس روضہ مبارک کیلئے وقف کیے گئے ہیں یہ بارگاہ دنیا بھر کے وابستگان اہل بیت(ع) اور خصوصاً اہل قم کیلئے پناہ گاہ ہے چنانچہ دوران سال لوگ دور دور سے اس بی بی کی زیارت سے مستفید ہونے اور ان سے فیض و برکت حاصل کرنے آتے ہیں احادیث و اخبار سے معصومہ قم کی زیارت کی بہت زیادہ فضلیت ظاہر ہوتی ہے چنانچہ شیخ صدوق نے سند حسن کے ساتھ جو صحیح کے برابر ہے سعدبن سعد سے روایت کی ہے کہ امام علی رضا سے جناب فاطمہ(س) بنت امام موسیٰ کاظم(ع) کی زیارت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ(ع) نے فرمایا جو شخص ان معصومہ(س) کی زیارت کرنے آئے تو جنت اس کیلئے واجب ہو گی معتبر سند کیساتھ امام محمد تقی سے مروی ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا جو شخص قم میں میری پھوپھی جناب فاطمہ(س) کی زیارت کرے وہ جنت کا حق دار ہے علامہ مجلسی نے بعض کتب زیارت میں علی بن ابراہیم سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے سعد اشعری قمی سے اور انہوں نے امام رضا سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اے سعد تمہارے قرب میں ہماری ایک قبر ہے میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جاؤں کیا آپ جناب فاطمہ(س) بنت موسیٰ کاظم(ع) کی قبر کے بارے میں فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں جو شخص انکے حق کو پہچانتے ہوئے انکی زیارت کرے تو جنت اس کیلئے واجب ہو گی جب تم ان کی قبر پر جاؤ تو سرہانے کی طرف قبلہ رخ کھڑے ہو کر 34 مرتبہ اَﷲُاَکْبَرُ ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اَﷲِ اور ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ ﷲِ کہو اور پھر یہ زیارت پڑھو:

زیارت معصومہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، قم

اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَۃِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراھِیمَ خَلِیلِ اللّهِ

سلام ہو آدم(ع) پر جو خدا کے برگزیدہ ہیں سلام ہو نوح(ع) پر جو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیم(ع) پر جو خدا کے دوست خاص ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسَی کَلِیمِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّهِ

سلام ہو موسیٰ(ع) پر جو خدا کے کلیم ہیں سلام ہو عیسیٰ(ع) پر جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول(ص)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ

آپ پر سلام ہو کہ آپ خلق خدا میں بہترین ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند کردہ آپ پر سلام ہو اے محمد(ص)

بْنَ عَبْدِاللّهِ خاتَمَ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ ٲَبِی طالِبٍ وَصِیَّ

بن عبداﷲ(ع) کہ آپ نبیوں کے خاتم ہیں سلام ہو آپ پر اے امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب(ع) رسول خدا(ص)

رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَۃُ سَیِّدَۃَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا سِبْطَیْ نَبِیِّ

کے وصی آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) کہ آپ زنان عالم کی سردار ہیں سلام ہو آپ دونوں پر کہ آپ نبی (ص) رحمت کے

الرَّحْمَۃِ وَسَیِّدَیْ شَبابِ ٲَھْلِ الْجَّنَۃِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سِیِّدَ الْعابِدِینَ

دو نواسے(ع) اور جوانان اہل جنت کے دو سید و سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے علی بن الحسین(ع) کہ آپ عبادت گزاروں کے سردار اور اہل

وَ قُرَّۃَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ باقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ اَلسَّلَامُ

بصیرت کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں سلام ہو آپ پر اے محمد بن علی(ع) کہ آپ بعد از نبی (ص) علم پھیلانے والے ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ ابْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبارَّ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ

سلام ہو اے جعفر بن محمد(ع) کہ آپ راستگو خوش کردار امانتدار ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰ بن جعفر(ع)

الطَّاھِرَ الطُّھْرِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

کہ آپ پاک ہیں پاک شدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے علی بن موسیٰ(ع) کہ آپ رضا والے پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو

یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ

اے محمد بن علی(ع) کہ آپ پرہیز گار ہیں آپ پر سلام ہو اے علی بن محمد(ع) کہ آپ باصفا خیر خواہ امانتدار ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِھِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی نُورِکَ وَسِراجِکَ

سلام ہو اے حسن بن علی(ع) اور سلام ہو اس امام پر جو ان کے قائم مقام ہوئے اے معبود اپنے نور پر رحمت فرما جو تیرا چراغ تیرے ولی

وَوَلِیِّ وَلِیِّکَ وَوَصِیِّ وَصِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ

کے وارث تیرے وصی کے جانشین اور تیری مخلوق پر حجت ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خدا(ص)

رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ فاطِمَۃَ وَخَدِیجَۃَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ ٲَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ

کی دختر آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا(س) خدیجۃ الکبریٰ(س)کی دختر آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیر(ع)کی دختر(ع)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ وَلِیِّ اللّهِ اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو اے حسن(ع) و حسین(ع) کی دختر(ع) آپ پر سلام ہو اے ولی خدا(ع) کی دختر(ع) آپ پر

عَلَیْکِ یَا ٲُخْتَ وَلِیِّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا عَمَّۃَ وَلِیِّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ مُوسَی

سلام ہو اے ولی خدا(ع) کی ہمشیرہ آپ پر سلام ہو اے ولی خدا(ع) کی پھوپھی سلام ہو آپ(ع) پر اے موسیٰ(ع) بن جعفر(ع) کی

بْنِ جَعْفَرٍ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ عَرَّفَ اللّهُ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی الْجَنَّۃِ

دختر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں آپ پر سلام ہوکہ خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے درمیان شناسائی کرائے ہمیں آپ

وَحَشَرَنا فِی زُمْرَتِکُمْ وَٲَوْرَدَنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَسَقَانا بِکَٲْسِ جَدِّکُمْ مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی

کے گروہ میں اٹھائے ہمیں آپکے نبی (ص) کے حوض کوثر پر وارد کرے اور ہمیں آپکے نانا کے جام کیساتھ علی بن ابی طالب(ع) کے ہاتھوں

طالِبٍ صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکُمْ ٲَسْٲَلُ اللّهَ ٲَنْ یُرِیَنا فِیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ وَٲَنْ یَجْمَعَنا

سیراب فرمائے آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں آپ(ع) لوگوں میں مسرت و خوشحالی دکھائے اور یہ کہ ہمیں اور آپ(ع) کو

وِ إیَّاکُمْ فِی زُمْرَۃِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ لاَ یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ إنَّہُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ ٲَتَقَرَّبُ إلَی اللّهِ

آپکے نانا محمد(ص) کے گروہ میں اکٹھا کرے اور ہم سے آپ(ع) کی معرفت واپس نہ لے کہ وہ حاکم ہے قدرت والامیں قرب الہی چاہتا ہوں

بِحُبِّکُمْ وَالْبَرائَۃِ مِنْ ٲَعْدائِکُمْ وَالتَّسْلِیمِ إلَی اللّهِ راضِیاً بِہِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَلاَ مُسْتَکْبِرٍ وَعَلَی

آپ(ع) کی محبت اور آپ(ع) کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے ہم خدا کی رضا پر راضی ہو کر بغیر دل تنگ ہونے اور تکبر کے اور اس چیز پر

یَقِینِ مَا ٲَتیٰ بِہِ مُحَمَّدٌ وَبِہِ راضٍ نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْھَکَ یَا سَیِّدِی اَللّٰھُمَّ وَرِضاکَ

یقین سے جو محمد(ص) لائے اور اس پر خوش رہ کر اس طرح ہم تیری توجہ چاہتے ہیں اے ہمارے خدا اے معبود میں تیری رضا اور آخرت

وَالدَّارَ الْاَخِرَۃَ یَا فاطِمَۃُ اشْفَعِی لِی فِی الْجَنَّۃِ فَ إنَّ لَکِ عِنْدَ اللّهِ شَٲْناً مِنَ الشَّٲْنِ۔

کی بہتری چاہتا ہوں اے فاطمہ(س) حصول جنت میں میری سفارش کریں کیونکہ آپ خدا کے ہاں بڑی عزت و شان رکھتی ہیں

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعادَۃِ فَلاَ تَسْلُبْ مِنِّی مَا ٲَنَا فِیہِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ

اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ میرا انجام خوش بختی پر فرما میں جس گروہ میں ہوں اسی میں رہنے دے نہیں کوئی حرکت و قوت

إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔ اَللّٰھُمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَتَقَبَّلْہُ بِکَرَمِکَ وَعِزَّتِکَ وَبِرَحْمَتِکَ

مگر وہ جو خدائے بلند و بزرگ سے ملتی ہے اے معبود ہماری دعائیں منظور و مقبول فرما اپنی بزرگی اپنی عزت اپنی رحمت اور اپنی پناہ

وَعافِیَتِکَ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

کے واسطے سے خدا حضرت محمد(ص) اور انکی ساری آل (ع) پر درود بھیجے اور سلام بھیجے بہت بہت سلام اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

فضلیت زیارت شاہ عبدالعظیم

ان امام زادگان میں سے دوسرے بزرگ شہزادہ عبد العظیم ہیں کہ ان کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے امام حسن تک پہنچتا ہے یعنی عبدالعظیم بن عبداﷲ بن علی بن الحسن بن زید بن الحسن بن علی ابن ابی طالب(ع) آپ کی قبر شریف تہران کے محلہ رے میں مشہور و معروف ہے (اور آج کل اس محلہ کو شاہ عبدالعظیم کے نام سے پکارا جاتا ہے اور تہران سے وہاں تک بسیں آتی جاتی ہیں) آپ کا روضہ مبارک عوام و خواص کی زیارت گاہ اور جائے پناہ ہے آپ کے مقام کی بلندی اور مرتبے کی بڑائی محتاج بیان نہیں کیونکہ آپ خاندان نبوت کے فرد ہونے کے علاوہ عظیم محدثین اور اجل علما میں سے ہیں آپ بڑے عابد و زاہد اور بہت متقی و پرہیز گار تھے اور امام محمد تقی اور امام نقی (ع) کے خاص صحابہ میں سے تھے آپ کو ان ہر دو ائمہ(ع) کے حضور خصوصی تعلق و توسل حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ عبدالعظیم نے ان دونوں معصومین(ع) سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں یہی بزرگ ’’خطب امیر المومنین- ‘‘ کے نام سے مشہور کتاب کے مؤلف ہیں نیز آپ نے ’’یوم ولیلہ‘‘ نامی کتاب میں اپنے عقائد درج فرمائے اور یہ کتاب امام علی نقی کی خدمت میں پیش کی تھی۔ چنانچہ امام(ع) نے اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ اے اباالقاسم خدا کی قسم یہی وہ دین ہے جو خدائے تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے پسند کیا ہے پس خدا وند جہاں تمہیں دنیا و آخرت میں اس عقیدہ و دین پر قائم رکھے۔

صاحب بن عباد نے آپ کے حالات میں ایک مختصر رسالہ لکھا ہے جسے ہمارے استاد علامہ نوری مرحوم نے مستدرک الوسائل کے آخر میں نقل کر دیا ہے۔ اس رسالے اوررجال نجاشی میں یہ واقعہ منقول ہے کہ حضرت شاہ عبدالعظیم(ع) بادشاہ وقت کے خوف سے جلا وطن ہو کر شہر بہ شہر پھرتے اور اپنے آپ کو ایک قاصد ظاہر کرتے رہے حتیٰ کہ آپ شہررے پہنچے اور خود کو ساربانوں میں شامل کر کے پوشیدہ ہو رہے لیکن بقول نجاشی سکۃ الموالی کے بعض شیعوں کے سرداب میں رہا کرتے کہ رات کو عبادت کرتے اور دن میں روزہ رکھتے تھے جب کبھی اس سرداب سے باہر آتے تو اس قبر کی زیارت کرتے تھے جو اب آپ کی قبر کے سامنے واقع ہے آپ فرماتے تھے کہ یہ امام موسیٰ کاظم کے ایک فرزند کی قبر ہے شروع شروع میں تو آپ کو صرف چند ایک شیعہ بزرگ جانتے پہچانتے تھے لیکن کچھ عرصہ کے بعد عام لوگوں نے بھی آپ کو پہچان لیا انہی ایام میں ایک شیعہ بزرگ نے عالم خواب میں حضرت رسول(ص) کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ سکۃ الموالی سے جا کر میرے فرزند کو عبدالجبار کے باغ میں سیب کے درخت کے نیچے دفن کریں گے اور یہ وہی جگہ ہے جہاں اب شاہ عبدالعظیم مدفون ہیں یہ خواب دیکھ کر وہ شیعہ بزرگ اس باغ کے مالک کے پاس گئے تاکہ وہ باغ اوردرخت خرید لیں‘ باغ کے مالک نے پوچھا کہ آپ کس لیے باغ خرید کرتے ہیں؟ انہوں نے اپنا خواب باغ کے مالک سے بیان کیا تو اس نے بھی اپنا ایسا ہی خواب سنایا اور کہا کہ میں نے یہ باغ ان سید پاک اور دیگر شیعہ مومنین کیلئے وقف کر دیا ہے کہ وہ اپنے متوفیوں کو یہاں دفن کیا کریں۔ پھر انہی ایام میں شاہ عبدالعظیم بیمار پڑے اور کچھ دنوں بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جب غسل دینے کیلئے ان کا لباس اتارا گیا تو ان کی جیب میں سے ایک رقعہ نکلا جس میں آپ نے اپنا نام و نسب لکھا ہوا تھا کہ میں ابوالقاسم عبدالعظیم ہوں میں فرزند ہوں عبداللہ کا جو فرزند ہیں علی کے اور وہ فرزند ہیں حسن کے اور وہ فرزند ہیں زید کے اور وہ امام حسن کے فرزند ہیں۔

صاحب بن عباد نے شاہ عبدالعظیم کے علم و فضل کے بارے میں ابوتراب رویانی کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو حماد رازی سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں سامرہ میں ایک روز امام علی نقی کی خدمت میں پہنچا اور حلال و حرام سے متعلق بہت سے مسائل آپ سے دریافت کیے اور آپ نے انکے جوابات ارشاد فرمائے جب میں رخصت ہونے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو حماد اگر اپنے شہررے میں تمہیں کوئی مشکل مسئلہ پیش آئے تو جناب عبدالعظیم بن عبداللہ حسنی کے پاس جا کر پوچھ لینا اور انکو میرا سلام بھی پہنچا دینا محقق میر داماد(رح) نے کتاب رواشح میں تحریر کیا ہے کہ شاہ عبدالعظیم کی فضلیت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص انکی زیارت کو جائے جنت اس کیلئے واجب ہے شیخ شہید ثانی(رح) نے حاشیہ میں بعض نسابین کے حوالے سے اسی روایت کا خلاصہ نقل کیا ہے ابن بابویہ(رح) اور ابن قولویہ نے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ شہررے کا ایک شخص امام علی نقی کی خدمت میں آیا تو حضرت نے پوچھا کہ تم کہاں تھے؟ اس نے عرض کی کہ میں امام حسین کی زیارت کرنے گیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم اپنے شہر میں سید عبدالعظیم کی قبر کی زیارت کرتے تو اس شخص کی مانند ہوتے جس نے امام حسین کی زیارت کی ہو۔

مولف کہتے ہیں علمائے کرام نے شاہ عبدالعظیم کیلئے کوئی مخصوص زیارت نقل نہیں کی تاہم فخر المحققین آقا جمال الدین(رح) نے اپنی کتاب مزار میں فرمایا ہے کہ انکی زیارت یوں پڑھنا چاہیے:

زیارت شاہ عبدالعظیم

اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَۃِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراھِیمَ خَلِیلِ اللّهِ

سلام ہو آدم پر جو خدا کے بزگزیدہ ہیں سلام ہو نوح(ع) پر جو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیم(ع) پرجو خدا کے دوست خاص ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسَی کَلِیمِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسَی رُوحِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّهِ

سلام ہو موسیٰ(ع) پر جو خدا کے کلیم ہیں سلام ہو عیسیٰ(ع) پر جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول(ص)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ

آپ پر سلام ہو اے مخلوق خدا میں بہترین سلام ہو آپ پر اے خدا کے پسند کردہ آپ پر سلام ہو اے محمد(ص)

بْنَ عَبْدِاللّهِ خاتَمَ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ ٲَبِی طالِبٍ وَصِیَّ

بن عبداللہ (ع)کہ آپ نبیوں کے خاتم ہیں سلام ہوآپ پر اے مومنوں کے امیر علی بن ابی طالب(ع) کہ آپ رسول خدا(ص)

رَسُولِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَۃُ سَیِّدَۃَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا سِبْطَیِ

کے قائم مقام ہیں آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) عالمین کی عورتوں کی سردار سلام ہو آپ دونوں پر اے پیغمبر رحمت کے

الرَّحْمَۃِ وَسَیِّدَیْ شَبابِ ٲَھْلِ الْجَنَّۃِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سَیِّدَ الْعابِدِینَ

نواسو(ع) اور اہل جنت کے جوانوں کے سید و سردار آپ پر سلام ہو اے علی بن الحسین(ع) کہ آپ عبادت گزاروں کے سردار اور بصیرت

وَقُرَّۃَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ باقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ اَلسَّلَامُ

والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد بن علی(ع) کہ آپ بعد پیغمبر علم کے پھیلانے والے ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبارَّ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ

سلام ہو اے جعفر بن محمد(ع) کہ آپ راستگو خوش کردارامانتدار ہیں سلام ہو آپ پر اے موسیٰ بن جعفر(ع)

الطَّاھِرَ الْطُّھْرَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

کہ آپ پاک ہیں پاک شدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے علی بن موسیٰ(ع) کہ آپ رضا والے ہیں پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو

یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ

اے محمد بن علی(ع) کہ آپ پرہیزگار ہیں آپ پر سلام ہو اے علی بن محمد(ع) کہ آپ باصفا خیر خواہ امانتدار ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِھِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی نُورِکَ

سلام ہو اے حسن بن علی(ع) اور سلام ہو اس امام پر جو ان کے بعد قائم(ع) مقام ہوئے اے معبود اپنے نور پر رحمت فرما

وَسِراجِکَ وَوَلِیِّ وَلِیِّکَ وَوَصِیِّ وَصِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

جو تیرا چراغ تیرے ولی(ع) کے وارث تیرے وصی کے جانشین اور تیری مخلوق پر حجت ہیں آپ پر سلام ہو

ٲَیُّھَا السَّیِّدُ الزَّکِیُّ وَالطَّاھِرُ الصَّفِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ السَّادَۃِ الْاََطْہارِ اَلسَّلَامُ

کہ آپ سردار ہیں پاکباز پاک تر پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ پاک تر سرداروں کے فرزند ہیں آپ پر

عَلَیْکَ یَابْنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ اللّهِ وَعَلَی ذُرِّیَّۃِ رَسُولِ اللّهِ وَرَحْمَۃُ

سلام ہو کہ آپ چنے ہوئے نیکو کاروں کے فرزند ہیں سلام ہو خدا کے رسول(ص) پر اور خدا کے رسول(ص) کی اولاد پر خدا کی

اللّهِ وَبَرَکاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبْدِ الصَّالِحِ الْمُطِیعِ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَلِرَسُولِہِ وَلاََِمِیرِ

رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خدا کے نیکوکار بندے پر جو تمام جہانوں کے پرودگار اس کے رسول(ص) اور امیر المومنین(ع) کا

الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبَا الْقاسِمِ ابْنَ السِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ الْمُجْتَبَیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

پیرو کار ہے آپ پر سلام ہو اے ابوالقاسم کہ آپ پیغمبروں کے نیک نواسے حسن مجتبیٰ (ع)کے فرزند ہیں آپ پر سلام ہو

یَا مَنْ بِزِیارَتِہِ ثَوابُ زِیارَۃِ سَیِّدِ الشُّھَدائِ یُرْتَجیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ عَرَّفَ اللّهُ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ

اے وہ کہ جن کی زیارت پر سید الشہدا کی زیارت کے ثواب کی امید ہے سلام ہو آپ پر خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے

فِی الْجَنَّۃِ وَحَشَرَنا فِی زُمْرَتِکُمْ وَٲَوْرَدَنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَسَقَانا بِکَٲْسِ جَدِّکُمْ

درمیان شناسائی کرائے ہمیں آپکے گروہ میں اٹھائے اور آپ میں سے نبی(ص) کے حوض کوثر پر وارد کرے اور ہمیں آپکے نانا(ص) کے جام کیساتھ

مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی طالِبٍ صَلَواتُ اللّهِ عَلَیکُمْ ٲَسْٲَلُ اللّهَ ٲَنْ یُرِیَنا فِیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ

علی بن ابی طالب(ع) کے ہاتھوں سیراب فرمائے آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں آپ لوگوں میں مسرت وخوشحالی دکھائے

وَٲَنْ یَجْمَعَنا وَ إیَّاکُمْ فِی زُمْرَۃِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ لاَ یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ إنَّہُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ

اور ہمیں اور آپکو آپ کے نانا حضرت محمد(ص) کے گروہ میں اکٹھا کرے وہ ہم سے آپ کی معرفت واپس نہ لے کہ وہ حاکم ہے قدرت

ٲَتَقَرَّبُ إلَی اللّهِ بِحُبِّکُمْ وَالْبَرائَۃِ مِنْ ٲَعْدائِکُمْ وَالتَّسْلِیمِ إلَی اللّهِ راضِیاً بِہِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَلاَ

میں قرب خدا چاہتا ہوں بواسطہ آپکی محبت آپکے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے اور رضا خدا پر راضی رہتے ہوئے بغیر دل تنگ ہوئے اور

مُسْتَکْبِرٍ وَعَلَی یَقِینِ مَا ٲَتیٰ بِہِ مُحَمَّدٌ نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْھَکَ یَا سَیِّدِی اَللّٰھُمَّ

تکبرکرنے اور اس چیز پر یقین رکھتے ہوئے جو محمد(ص) لائے ہیں ان چیزوں کے ذریعے ہم تیری توجہ چاہتے ہیں اے میرے سردار اے معبود!

وَرِضاکَ وَالدَّارَ الْاَخِرَۃَ یَا سَیِّدِی وَابْنَ سَیِّدِی اشْفَعْ لِی فِی الْجَنَّۃِ فَ إنَّ

تیری رضا اور آخرت کی بہتری چاہتے ہیں اے میرے سردار اور میرے سردار کے فرزندحصول جنت میں میری سفارش کریں کیونکہ

لَکَ عِنْدَ اللّهِ شَٲْناً مِنَ الشَّٲْنِ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ ٲَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعادَۃِ فَلاَ تَسْلُبْ مِنِّی

آپ خدا کے ہاں بڑی عزت و شان رکھتے ہیں اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا انجام سعادت پر فرما پس جس گروہ میں

مَا ٲَنَا فِیہِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔ اَللّٰھُمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَتَقَبَّلْہُ بِکَرَمِکَ

ہوں اسی میں رہنے دے اور نہیں ہے طاقت و قوت مگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے ملتی ہے اے معبود ہماری دعائیں قبول و منظور فرما اپنی بزرگی

وَعِزَّتِکَ وَبِرَحْمَتِکَ وَعافِیَتِکَ وَصَلَّی اللّهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ ٲَجْمَعِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً

اپنی عزت اپنی رحمت اور اپنی بخشش کے ذریعے اور خدا حضرت محمد(ص) اور ان کی ساری آل(ع) پر درود بھیجے اور سلام بہت بہت سلام

یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

زیارت امام زادہ حمزہ(رح)

فخرالمحققین آقا جمال الدین(رح) نے فرمایا ہے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ عبد العظیم جب رے میں مقیم تھے تو بعض اوقات پوشیدہ طور پر باہر آتے اور ان کی زیارت کرتے جو آپکی قبر کے مقابل ہے اور درمیان سے راستہ گزرتا ہے آپ فرماتے تھے کہ یہ امام کاظم کی اولاد میں سے ایک بزرگ کی قبر ہے اس جگہ پر واقع قبر آج کل امامزادہ حمزہ بن امام کاظم سے منسوب و مشہور ہے بظاہر یہی وہ قبر ہے جسکی زیارت شاہ عبدالعظیم کیا کرتے تھے لہذا مومنین بھی مذکورہ بالا زیارت پڑھ کر اس قبر کی زیارت کر سکتے ہیں اوراَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا الْقَاسِمِ اور اسکے بعد کا جملہ نہ پڑھیں کہ یہ دونوں جملے شاہ عبدالعظیم کے نام سے خصوصیت رکھتے ہیں یہ بھی واضح ہو کہ امام زادہ حمزہ(رح) کے صحن مبارک میں شیخ جلیل ابوالفتوح جمال الدین حسین بن علی خزاعی کی قبر بھی ہے جو مشہور تفسیر ابواالفتوح رازی کے مصنف و مؤلف ہیں شیخ صدوق(رح) معروف بہ ابن بابویہ کی قبر عبدالعظیم شہر کے قریب ہے اور ان بزرگ علما کی زیارت کرنے میں غفلت سے کام نہ لیا جائے۔

تیسرا مطلب

زیارت قبور مومنین(رح)

شیخ جلیل و ثقہ جعفر بن قولویہ قمی(رح) نے عمرو بن عثمان رازی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے امام کا ظم سے سنا ہے کہ جو شخص ہماری زیارت کرنے سے قاصر ہو تو وہ ہمارے شیعوں میں سے صالح مومنوں کی زیارت کرے پس اس کیلئے وہی ثواب ہوگا جو ہماری زیارت کا ثواب ہے جو شخص ہمارے ساتھ صلہ و نیکی کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ ہمارے محبوں نیکوکار انسانوں کے ساتھ صلہ و نیکی کرے تاکہ اسکو وہی ثواب ملے جو ہمارے ساتھ صلہ و نیکی کرنے پر ملتا ہے انہوں نے صحیح سند کے ساتھ محمد بن احمد بن یحییٰ اشعری سے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں علی بن بلال کے ہمراہ راہ مکہ میں واقعہ مقام ’’فید‘‘ پر گیا اور ہم دونوں محمد بن اسماعیل ابن بزیع کی قبر پر پہنچے تب علی بن بلال نے مجھے کہا کہ اس صاحب قبر نے مجھ سے امام رضا کا فرمان نقل کیا تھا کہ جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر آئے اور اسکی قبر پر ہاتھ رکھ کر سات بار سورہ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھے تو وہ قیامت میں بڑے خوف(فزع اکبر) سے بچا رہیگا ایک اور روایت میں بھی یہی طریقہ نقل ہوا ہے مگر اس میں یہ بات زائد ہے کہ وہ شخص قبر پر ہاتھ رکھے ہوئے قبلہ رخ ہو کر بیٹھے۔

مولف کہتے ہیں فزع اکبر سے محفوظ رہنے کا جو ذکر روایت میں ہے شاید اس میں وہ سورہ کی تلاوت کرنے والا شخص مراد ہے اور روایت کا ظاہر بھی یہی ہے تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے وہ صاحب قبر مراد ہو‘ جیسا کہ وہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو سید بن طاؤس نے نقل کی ہے اور وہ آگے ذکر ہوگی کامل الزیارات میںمعتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ عبدالرحمان بن ابی عبداللہ نے امام جعفر صادق سے عرض کی کہ میں مومنین کی قبروں پر ہاتھ کس طرح رکھوں تو آپ نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے زمین پر رکھا جبکہ آپ قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے تھے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عبداللہ بن سنان نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کی کہ مومنوں کی قبروں پر سلام کس طرح کرنا چاہیے تو حضرت نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:

اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَھْلِ الدِّیارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ ٲَنْتُمْ لَنا فَرَطٌ وَنَحْنُ إنْ شائَ اللّهُ بِکُمْ لاحِقُونَ۔

سلام ہو اہل قبر ستان میں سے مومنوں اور مسلمانوں پر آپ لوگ ہمارے پیش رو ہیں اورانشااللہ ہم بھی آپ سے آ ملیں گے۔

امام حسین سے روایت ہے کہ جو شخص قبرستان میں جائے وہ وہاں جا کر یہ کہے:

اَللّٰھُمَّ رَبَّ ہذِھِ الْاََرْواحِ الْفانِیَۃِ وَالْاََجْسادِ الْبالِیَۃِ وَالْعِظامِ النَّخِرَۃِ الَّتِی خَرَجَتْ مِنَ

اے معبود تو ہی پرودگار ہے ان گزری ہوئی روحوں کا ان بوسیدہ جسموں کا اور ان گلی ہوئی ہڈیوں کا جو دنیا سے باہر

الدُّنْیا وَھِیَ بِکَ مُؤْمِنَۃٌ ٲَدْخِلْ عَلَیْھِمْ رَوْحاً مِنْکَ وَسَلاماً مِنِّی ۔

نکل چکی ہیں لیکن یہ چیزیں تجھ پر ایمان رکھتی ہیں ان کو اپنی طرف سے آسائش دے اور میرا سلام پہنچا۔

خدااس شخص کے آدم(ع) سے قیامت تک کے انسانوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھے گا ۔

امیر المومنین سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص قبر ستان میں جائے تو یہ کہے:

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَھْلِ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ مِنْ ٲَھْلِ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ یَا ٲَھْلَ لاَ

خدا کے نام سے شروع جو رحم والا مہربان ہے سلام ہو لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں پر ان کا جو لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں اے لا

إلہَ إلاَّ اللّهُ بِحَقِّ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ کَیْفَ وَجَدْتُمْ قَوْلَ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ مِنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ یَا لاَ إلہَ

الہ الا اللہ پر ایمان رکھنے والوں لا الہ الا اللہ کے حق کے واسطے ہمیں بتاؤ کہ تم نے عقیدہ لا الہ الا اللہ کیسے پایا لا الہ الا اللہ سے اے لا الہ

إلاَّ اللّهُ بِحَقِّ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ اغْفِرْ لِمَنْ قَالَ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَۃِ مَنْ قالَ لاَ إلہَ

الا اللہ والی ذات بحق لا الہ الا اللہ کے بخش دے ان کو جنہوں نے پڑھا لا الہ الا اللہ اور محشور کر ہمیں اس گروہ میں جنہوں نے پڑھا لا الہ

إلاَّ اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّهِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّهِ ۔

الا اﷲ محمد رسول اﷲ علی ولی اﷲ۔

پس حق تعالیٰ اس شخص کے لیے پچاس سال کی عبادت کا ثواب لکھے گا نیز اس کے اور اس کے ماں باپ کے پچاس سال کے گناہ محو کر دے گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ قبر ستان میں پڑھنے کیلئے بہتر کام یہ ہے کہ جب وہاں سے گزرے تو کہے:

اَللَّھُمَّ وَلِّھُمْ مَا تَوَّلُوْا وَاحْشُرْھُمْ مَعْ مَنْ اَحَبُّوا۔

اے معبود ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور انہیں ان کے ساتھ اٹھا جن سے وہ محبت رکھتے تھے۔

سید بن طاؤس(رح) نے مصباح الزائر میں فرمایا ہے جب کوئی شخص قبور مومنین کی زیارت کا ارادہ کرے تو بہتر ہے کہ وہ جمعرات کا دن ہو یا کوئی اور دن ہو ۔ تو ان کی زیارت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر قبر پر ہاتھ رکھے اور کہے:

اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ غُرْبَتَہُ وَصِلْ وَحْدَتَہُ وَآنِسْ وَحْشَتَہُ وَآمِنْ رَوْعَتَہُ وَٲَسْکِنْ إلَیْہِ مِنْ رَحْمَتِکَ

اے معبود اس کی تنہائی پر رحم فرما بے کسی میں اس کے ساتھ رہ خوف میں اس کا ہمدم بن اسے ڈر سے امان دے اور اپنی رحمت کے

رَحْمَۃً یَسْتَغْنِی بِہا عَنْ رَحْمَۃِ مَنْ سِواکَ وَٲَلْحِقْہُ بِمَنْ کانَ یَتَوَلاَّھُ۔

سائے میں قرار دے ایسی رحمت جس سے وہ سواے تیرے کسی رحمت کا محتاج نہ رہے اور اسے ان سے ملا دے جن کا وہ پیرو تھا۔

اس کے بعد سات مرتبہ سورۃ ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھے:

قبور مومنین کی زیارت اور اس کے ثواب میں فضیل سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص کسی مومن کی قبر پر سات بار سورۃ ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس قبر پر ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کے قریب عبادت کرتا رہتا ہے۔ پس حق تعالیٰ اس فرشتے کی عبادت کا ثواب اس قبر میں مدفون انسان کے نام سے لکھے گا اور جب وہ قبر سے اٹھے گا تو قیامت کے ہول و خوف میں سے کوئی خوف اسے لاحق نہ ہو گا یہاں تک کہ خدا اسے اس فرشتے کے عمل کی بدولت داخل جنت کر دے گا۔ سات مرتبہ سورۃ ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھنے کے بعد سورہ حمد سورہ فلق سورہ ناس سورہ اخلاص او رآیۃ الکرسی میں سے ہر ایک تین تین مرتبہ پڑھے نیز قبور مومنین کی زیارت کے بارے میں محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے امام جعفر صادق کی خدمت میں گزارش کی کہ آیا ہم فوت شدگان کی زیارت کیا کریں آپ نے فرمایا ہاں پھر میں نے کہا کہ کیا ان کو اس کی خبر بھی ہوتی ہے کہ ہم ان کی زیارت کرنے آتے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا کہ بخداا ن کو اس کی خبر ہوتی ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور وہ تم لوگوں کو پہچانتے ہیں میں نے کہا کہ ہم ان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھیں؟ آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو:

اَللّٰھُمَّ جافِ الْاََرْضَ عَنْ جُنُوبِھِمْ وَصاعِدْ إلَیْکَ ٲَرْواحَھُمْ وَلَقِّھِمْ مِنْکَ رِضْواناً

اے معبود زمین کو اس کے کناروں تک خالی کر دے ان کی روحوں کو اپنی طرف بلند کر ان کو اپنی خوشنودی سے بہرہ ور فرما

وَٲَسْکِنْ إلَیْھِمْ مِنْ رَحْمَتِکَ مَا تَصِلُ بِہِ وَحْدَتَھُمْ وَتُؤْنِسُ بِہِ وَحْشَتَھُمْ إنَّکَ عَلَی کُلِّ

اور اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے تاکہ تو ان کی تنہائی دور کردے اور ان کے خوف کو دور کر دے بے شک تو ہر

شَیْئ قَدِیرٌ۔

چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

مردوں کے لیے ہدیہ بھیجنا

اس کے بعد سید (رح) نے فرمایا کہ جب کوئی شخص مومنوں کی قبور پر جائے تو سورہ قل ھواللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھے اور ان کو ہدیہ کرے کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ یقیناً خدائے تعالیٰ اسکے عوض مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا فرماتا ہے کامل الزیارات میں امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ طلوع آفتاب سے پہلے مردوں کی زیارت کی جائے تو وہ سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اور اگر سورج نکلنے کے بعد زیارت کی جائے تو وہ سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے۔ دعوات راوندی میں حضرت رسول(ص) سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے جس میں رات کے وقت زیارت قبور کے نا پسندیدہ ہونے کا ذکر ہے جیسا کہ آنحضرت(ص) نے ابوذر غفاری سے فرمایا کبھی بھی رات کے وقت قبور مومنین کی زیارت نہ کرو نیز شیخ شہید(رح) کے مجموعہ میں بھی حضرت رسول(ص) سے نقل ہوا ہے کہ کوئی شخص کسی میت کی قبر پر تین بار یہ دعائیہ جملہ کہے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن ضرور اس سے عذاب دور کر دے گا اور وہ دعائیہ جملہ یہ ہے:

اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَنْ لاَ تُعَذِّبَ ھَذَا الْمَیِّتَ۔

اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمد(ص) و آل (ع) محمد (ص) کے واسطے کہ اس قبر والے پر عذاب نہ کر۔

جامع الاخبار میں بعض صحابہ رسول(ص) سے نقل ہوا ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا اپنے مردوں کیلئے ہدیہ دیا کرو۔ ہم نے عرض کی کہ ان کیلئے ہدیہ کیا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا کہ ان کیلئے ہدید صدقہ اور دعاہے نیز فرمایا کہ مومنوں کی روحیں ہر جمعہ کو آسمان دنیا پر اپنے اپنے گھروں کے سامنے آتی ہیں اور درد بھری آواز میں روتے ہوئے پکار کر کہتی ہیں اے میرے اہل و اولاد اے میرے ماں باپ اور رشتہ داروں۔ جو مال ہمارے ہاتھوں میں تھا اس میں سے ہم پر مہربانی کرو کہ اس مال کا حساب اور عذاب تو ہم پر ہے مگر اس سے فائدہ اور لوگ حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہر ایک روح اپنے خویش و اقربا سے فریاد کرتی اور کہتی ہے کہ ایک روپیہ یا ایک روٹی یا ایک کپڑا خدا کی راہ میں دے کر ہم پر مہربانی کرو تاکہ خدا بھی آپ پر مہربانی کریں۔ اس کے بعد حضرت رسول(ص) نے گریہ فرمایا اور ہم بھی گریہ کرنے لگے جب کہ آپ جوش گریہ کی وجہ سے بات نہ کر سکتے تھے اس وقت آپ(ص) نے فرمایا کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو مٹی نے ڈھانپ رکھا ہے کہ وہ اس سے پہلے نعمت و مسرت سے جی رہے تھے۔ ان کی جانوں پر جو عذاب او رسختی وارد ہو رہی ہے اس کے باعث وہ فریاد کرتے اور کہتے ہیں کہ ہائے افسوس کیاہی اچھا ہوتا کہ ہم اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے تو آج تم لوگوں کے محتاج نہ ہوتے اور پھر وہ حسرت و ندامت کے ساتھ واپس ہو جاتے ہیں۔ بنا بریں آپ(ص) نے ہدایت فرمائی کہ مردوں کے لیے صدقہ دینے میں جلدی کیا کرو۔ نیز آنحضرت(ص)نے فرمایا ہے کہ کسی میت کیلئے جو صدقہ دیا جائے اسے ایک فرشتہ نورکے طشت میں رکھ لیتا ہے کہ جس کی شعائیں ساتویں آسمان تک پہنچتی ہیں پس وہ فرشتہ یہ طشت لے کر اس میت کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر آواز دیتا ہے۔

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ۔

سلام ہو تم پر اے قبروں میں رہنے والو۔

تمہارے اہل و عیال نے تمہارے لیے یہ ہدیہ بھیجا ہے تب وہ ہدیہ لے کر قبر میں رکھ لیتا ہے اور اس کی بدولت وہاں اس کے لیٹنے کی جگہ زیادہ کھلی ہو جاتی ہے اس کے بعد حضرت(ص) نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی میت کے لیے صدقہ دے کر اس پر مہربانی کرے تو خود اس کے لیے خدائے تعالیٰ کی طرف سے احد کے پہاڑ کے برابر اجرلکھا جائے گا اور روز قیامت وہ عرش الٰہی کے سایہ میں ہو گا حالانکہ اس دن سواے عرش کے کہیں سایہ نہ ہو گا معلوم ہوا کہ اس صدقے کے وسیلے سے زندہ و مردہ دونوں ہی نجات حاصل کر تے ہیں یہ حکایت بھی بیان ہوئی ہے کہ کسی نے خراسان کے گورنر کو خواب میں دیکھا کہ وہ کہ رہا تھا کہ میرے لیے صدقہ کرو اگر چہ وہ ایسی چیز ہو جو تم اپنے کتوں کے آگے پھینکتے ہو کہ مجھے اس کی بھی ضرورت ہے۔

مردوں سے عبرت حاصل کرنا

واضح رہے کہ مومنین کی قبروں کی زیارت کے بہت زیادہ ثواب اور بہت سے فوائد کے علاوہ یہ عبرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے اس سے دنیا میں زہد و قناعت اور آخرت کیطرف میلان اور توجہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے پس ایک عاقل انسان کو قبرستان میں جا کر عبرت حاصل کرنا چاہیے تاکہ دنیا کی رغبت اس کے دل میں کم ہو دنیا کے مال ودولت کی مٹھاس اس کے حلق میں کڑوی معلوم ہو اور وہ دنیا کے فنا ہونے اور اس میں تغیر حال کے پہلو پر غور و فکر کرے کہ تھوڑے عرصے کے بعد میں بھی ان اہل قبور میں شامل ہو جاؤں گا تب وہ عمل سے عاجز اور دوسروں کیلئے سامان عبرت ہو گا اس مضمون کونظامی نے بڑے عبرت آموز انداز میں بیان کیا ہے۔

زندہ دلی در صف افسر دگان

رفت بہ ہمسائیگی مردگان

حرف فنا خواندز ہر لوح پاک

روح بقا جست زہر روح پاک

کارشناسی پی تفتیش حال

کرداز اوبر سرراہی سوال

کین ہمہ از زندہ رمیدن چراست

رخت سوی مردہ کشیدن چراست

گفت پلیدان بمغاک اندر ند

پاک نہادان تہ خاک اندرند

مردہ دلانند بروی زمین

بہر چہ با مردہ شوم ہم نشین

ہمدمی مردہ د ہد مردگی

صحبت افسردہ دل افسردگی

زیر گل آنانکہ پراگندہ اند

گرچہ بتن مردہ بدل زندہ اند

مردہ دلی بود مرا پیش از این

بستہ ہر چون و چراپیش ازاین

زندہ شدم از نظر پاک شان

آب حیات است مرا خاک شان

ترجمہ اشعار: ایک زندہ دل غمگین لوگوں کے ہجوم میں اہل قبور کا ہمسایہ بننے کے لیے جا رہا تھا اس نے ہر پاک کتبے پر فنا کا پیغام پڑھا اور اس کی روح نے ہر پاک روح سے بقا کا راز دریافت کیا۔

ایک مرد عارف نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے راہ چلتے میں اس سے پوچھاان زندہ لوگوں کو چھوڑ کے جانے کا کیا سبب ہے اور مرے ہوئے لوگوں کی طرف روانگی کی کیا وجہ ہے؟

اس نے جواب دیا کہ بد باطن لوگ تاریکی کے گڑھے میں پڑے ہیں اور پاک دل اشخاص زیر خاک سو رہے ہیں۔روئے زمین پر مردہ لوگوں کا اجتماع ہے پھر کس لیے میں ان سیاہ دل افراد کی صحبت میں رہوں۔

جب کہ مردہ دل ہم نشیں سے مردہ دلی ملتی ہے اور رنجیدہ آدمی سے رنج و غصہ حاصل ہوتا ہے مگر وہ افراد جو زیر زمین بکھرے ہوئے ہیں اگر چہ ان کے جسم مردہ ہیں تو بھی ان کے دل زندہ ہیں۔

آج سے قبل مجھ پر مردہ دلی چھائی ہوئی تھی اور میں کیوں اور کیسے کے چکر میں پھنسا ہوا تھا۔

تاہم آج میں ان اہل قبور کی ہمسائیگی میں آ کر ان کی نگاہ پاک سے زندہ دل بن گیا ہوں گویا ان کی خاک میرے لیے آب حیات ہے۔

اختتام مفاتیح عرض مؤلف

رُوِیَ اَنَّہُ اَوْحَی اللّهُ تَعَالیٰٓ اِلیٰ عِیسیٰ یَا عِیسیٰ ھَبْ لِی مِنْ عَیْنِکَ الدُّمُوعَ وَمِنْ قَلْبِکَ

روایت ہوئی ہے کہ خدا ئے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ(ع) کی طرف وحی فرمائی اے عیسیٰ(ع) مجھے دے اپنی آنکھوں سے آنسو اپنے قلب سے خوف اور

الْخُشُوعَ وَاکْحَلْ عَیْنَیْکَ بِمِیلِ الْحُزْنِ إذا ضَحِکَ الْبَطَّالُونَ وَقُمْ عَلَی قُبُورِ الْاََمْواتِ

رنج و غم کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا جب کہ بدکار لوگ ہنستے ہیں اور مردوں کی قبروں پر جاکے کھڑا ہو

فَنادِھِمْ بِالصَّوْتِ الرَّفِیعِ لَعَلَّکَ تَٲْخُذُ مَوْعِظَتَکَ مِنْھُمْ وَقُلْ إنِّی لاحِقٌ بِھِمْ فِی اللاَّحِقِینَ۔

پس ان کو بلند آواز سے پکار کر شاید تو ان سے نصیحت وعبرت حاصل کر لے نیز خود سے کہہ کہ میں بھی جلد ان سے جا ملوں گا۔

اس مرحلے پر وہ تمام اعمال و عبادات اور ادعیہ و ز یارات تکمیل کو پہنچیں جن کا اس با برکت کتاب میں درج کیا جانا ضروری تھا۔ چنانچہ یہ کتاب آج بروز اتوار 10 ذی القعدہ 1344ھ کی شام کو مکمل ہوئی ہے کہ جو ثامن الائمہ امام رضا کی شب ولادت ہے۔ چونکہ آج ہی مجھے اپنی والدہ محترمہ کی وفات کا اطلاع نامہ موصول ہوا ہے لہذا جو برادران ایمانی اس کتاب سے مستفید ہوں گے ان سے التماس ہے کہ وہ ان مرحومہ مغفورہ کیلئے دعائے مغفرت کریں نیز میرے لیے اور میرے والد مکرم کیلئے ہماری زندگی میں اور بعد از وفات بھی دعا خیر فرمائیں۔

والحمد ﷲاولا وآخرا وصلی اﷲ علی محمد وآلہ الطاھرین

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد