Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، اپنے پاکیزہ دامن کی اچھی طرح حفاظت کرنا اور بقدرِ کفایت چیز پر راضی رہنا، ایمان کے دو بڑے ستون ہیں۔ غررالحکم حدیث 4838

مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)

دوسرا مقصد

زیارت مخصوصہ امیر المؤمنین

زیارت امیر  روز عید غدیر

یہ امیرالمؤمنین کی زیارت مخصوصہ کے بارے میں ہے اور اس میں چند زیارات ہیں کہ ان میں پہلی زیارت روز غدیر ہے یہ زیارت امام رضا سے روایت ہوئی ہے آپ نے ابن ابی نصر سے فرمایا:اے ابن ابی نصر! تم جہاں کہیں بھی ہو روز غدیر امیرالمؤمنین کے روضہ پر حاضر ہو جاؤ یقینا حق تعالی اس روز مؤمن مردوں اور عورتوں کے ساٹھ سال کے گناہ معاف کرتا ہے اور اس روز اس سے دگنے مردوں عورتوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے جتنے ماہ رمضان ،شب قدر، اور شب عید فطر میں آزاد کیے ہوتے ہیں واضح رہے کہ اس پاک دن پڑھنے کیلئے بہت سی زیارتیں نقل کی گئی ہیں۔﴿۱﴾ امین اللہ ہے جو کہ مطلقہ زیارت میں دوسری زیارت کے عنوان سے گزر چکی ہے۔ ﴿۲﴾یہ زیارت معتبر اسنا د کے ساتھ امام علی نقی  سے نقل کی گئی ہے جس کی کیفیت یہ ہے کہ جب زیارت کا ارادہ کرے تو امیرالمؤمنین کے روضہ منورہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اِذن دخول پڑھے اور شیخ شہید نے اس طرح فرمایا ہے کہ غسل کرے پاکیزہ لباس پہنے اور پھر داخلے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہے :

اَللّٰھُمَ أِنِیْ وَقَفْتُ عَلَیٰ بَابِ۔

اے اللہ ! میں اس دروازے پر کھڑا ہوں ۔

اور یہ وہی پہلا اذن دخول ہے جو ہم نے باب اول میں نقل کیا ہے دایاں پاؤں آگے رکھ کر اندر داخل ہو ضریح مبارک کے نزدیک جائے اور پشت بہ قبلہ ضریح کے سامنے کھڑا ہو اور کہے :

اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّهِ، خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَسَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَصَفْوَۃِ رَبِّ

سلام ہو حضرت محمد(ص) پرجو خدا کے رسول(ص) نبیوں کے خاتم پیغمبروں کے سردار منتخب پروردگار عالم ہیں اس کی

الْعالَمِینَ، ٲَمِینِ اللّهِ عَلَی وَحْیِہِ وَعَزائِمِ ٲَمْرِہِ، وَالْخاتِمِ لِما سَبَقَ، وَالْفاتِحِ لِمَا

وحی اور محکم امر کے امانت دار ہیں سابقہ علوم کو کامل کرنے والے آئندہ علوم کے دروازے

اسْتُقْبِلَ وَالْمُھَیْمِنِ عَلَی ذلِکَ کُلِّہِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ وَصَلَواتُہُ وَتَحِیَّاتُہُ

کھولنے والے اور ان سب کے محافظ و نگہبان ہیں خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں اس کے درود اور سلام ہوں

اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَنْبِیَائِ اللّهِ وَرُسُلِہِ وَمَلائِکَتِہِ الْمُقَرَّبِینَ وَعِبَادِہِ الصَّالِحِینَ اَلسَّلَامُ

سلام ہو خدا کے نبیوں اور اس کے رسولوں اس کے مقرب فرشتوں اور اس کے نیک بندوں پر آپ پر سلام ہو

عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّدَ الْوَصِیِّینَ وَوَارِثَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ وَوَلِیَّ رَبِّ الْعالَمِینَ

اے مؤمنوں کے امیر اوصیا کے سردار نبیوں کے علم کے وارث جہانوں کے رب کے ولی

وَمَوْلایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکَاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا ٲَمِیرَ

اور میرے اور سب مؤمنوں کے مولا سلام ہو خدا کی رحمت اور برکتیں سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اے مؤمنوں کے

الْمُؤْمِنِینَ یَا ٲَمِینَ اللّهِ فِی ٲَرْضِہِ وَسَفِیرَہُ فِی خَلْقِہِ، وَحُجَّتَہُ الْبَالِغَۃَ عَلَی عِبَادِہِ

امیر اے خدا کی زمین میں اس کے امین اس کی مخلوق میں اس کے سفیر اور اس کے بندوں پر اس کی کامل تر حجت

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا دِینَ اللّهِ الْقَوِیمَ، وَصِراطَہُ الْمُسْتَقِیمَ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا النَّبَٲُ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے دین محکم اور اس کے راہ راست آپ پر سلام ہو اے خبر عظیم

الْعَظِیمُ الَّذِی ھُمْ فِیہِ مُخْتَلِفُونَ وَعَنْہُ یُسْئَلُوْنَ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ،

جس میں لوگوں نے اختلاف کیا اور اس کے لئے جواب دہ ہیں آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیر(ع) کہ آپ

آمَنْتَ بِاللّهِ وَھُمْ مُشْرِکُونَ، وَصَدَّقْتَ بِالْحَقِّ وَھُمْ مُکَذِّبُونَ، وَجاھَدْتَ فِی اللّهِ

خدا پر ایمان لائے اور وہ مشرک ہو گئے آپ نے حق کی تصدیق فرمائی اور انہوں نے جھٹلایا آپ نے جہاد کیا اور وہ سر

وَھُمْ مُحْجِمُونَ وَعَبَدْتَ اللّهَ مُخْلِصاً لَہُ الدِّینَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی ٲَتَاکَ الْیَقِینُ

چھپاتے رہے اور آپ نے خدا کے دین میں خالص ہو کر اس کی عبادت کی خیر خواہ اور صابر رہ کر حتی کہ آپ کی شہادت ہوگئی

ٲَلاَ لَعْنَۃُ اللّهِ عَلَی الظَّالِمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُسْلِمِینَ وَیَعْسُوبَ الْمُؤْمِنِینَ

آگاہ رہو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے آپ پر سلام ہو اے مسلمانوں کے سردار مؤمنوں کے رہبر و پیشوا پرہیزگاروں کے

وَ إمامَ الْمُتَّقِینَ، وَقائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ، وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ ٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ ٲَخُو

امام نورانی چہرے والے پیشانی والوں کے پیشرو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں میں گواہ ہوں بے شک آپ رسول(ص) خدا کے

رَسُولِ اللّهِ وَوَصِیُّہُ وَوارِثُ عِلْمِہِ، وَٲَمِینُہُ عَلَی شَرْعِہِ، وَخَلِیفَتُہُ فِی ٲُمَّتِہِ، وَٲَوَّلُ

برادر ان کے وصی ان کے علوم کے وارث ان کی شریعت کے امانت دار ان کی امت میں ان کے جانشین اور وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر

مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَصَدَّقَ بِما ٲُنْزِلَ عَلَی نَبِیِّہِ، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّہُ قَدْ بَلَّغَ عَنِ اللّهِ مَا ٲَ نْزَلَہُ

ایمان لائے اور جو کچھ اس کے نبی(ص) پر نازل ہوا اس کی تصدیق کی میں گواہ ہوں کہ آنحضرت(ص) نے پہنچایا جو کچھ آپ کے حق میں اترا

فِیکَ فَصَدَعَ بِٲَمْرِہِ وَٲَوْجَبَ عَلَی ٲُمَّتِہِ فَرْضَ طاعَتِکَ وَوِلایَتِکَ وَعَقَدَ عَلَیْھِمُ الْبَیْعَۃَ

پس حکم خدا میں سعی کی اور اپنی امت پر آپکی اطاعت واجب کی آپکی ولایت فرض کر دی آپ کیلئے ان لوگوں سے بیعت لی اور

لَکَ، وَجَعَلَکَ ٲَوْلَیٰ بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ ٲَنْفُسِھِمْ کَما جَعَلَہُ اللّهُ کَذَلِکَ، ثُمَّ ٲَشْھَدَ اللّهَ

آپ کوان کے نفسوں سے زیادہ بااختیار بنایا جیسا کہ خدا نے آنحضرت(ص) کو با اختیا ر بنایا پھر خدا کو ان پر گواہ قرار دیا

تَعَالی عَلَیْھِمْ فَقالَ ٲَلَسْتُ قَدْ بَلَّغْتُ فَقالُوا اَللّٰھُمَّ بَلیٰ فَقالَ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ وَکَفیٰ بِکَ

اور فرمایا آیا میں نے تبلیغ نہیں کی انہوں نے کہا با خدا کی ہے تب فرمایا اے اللہ گواہ رہنا اور تو گواہی کے لئے کافی ہے

شَھِیداً وَحاکِماً بَیْنَ الْعِبادِ، فَلَعَنَ اللّهُ جاحِدَ وِلایَتِکَ بَعْدَ الْاِقْرارِ، وَناکِثَ عَھْدِکَ

اور بندوں میں حکم کرنے والا ہے پس خدا کی لعنت اس پر جو اقرار کے بعد تیری ولایت کا انکار کرے اور تجھ سے عہد باندھنے

بَعْدَ الْمِیثَاقِ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ وَفَیْتَ بِعَھْدِ اللّهِ تَعالَی وَٲَنَّ اللّهَ تَعالَی مُوفٍ لَکَ بِعَھْدِہِ

کے بعد توڑے اور میں گواہ ہوں بے شک آپ نے خدا سے کیا ہوا عہد پورا کیا اور یقینا خدا بھی آپ سے کیا ہوا عہد پورا کر یگا اور جو

وَمَنْ ٲَوْفَی بِما عاھَدَ عَلَیْہِ اللّهَ فَسَیُؤْتِیہِ ٲَجْراً عَظِیماً، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ ٲَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ

خدا سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرے تو وہ اسے بہت بڑا اجر دے گا میں گواہ ہوں کہ مؤمنوں کے حقیقی امیر ہیں

الْحَقُّ الَّذِی نَطَقَ بِوِلایَتِکَ التَّنْزِیلُ، وَٲَخَذَ لَکَ الْعَھْدَ عَلَی الْاَُمَّۃِ بِذلِکَ الرَّسُولُ

جن کی ولایت قرآن نے بتائی اور رسول(ص) نے اس کا عہد لے کر حجت تمام کر دی ہے

وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ وَعَمَّکَ وَٲَخاکَ الَّذِینَ تاجَرْتُمُ اللّهَ بِنُفُوسِکُمْ فَٲَنْزَلَ اللّهُ فِیکُمْ إنَّ اللّهَ

میں گواہ ہوں کہ آپ کے چچا حمزہ(ع) آپ کے بھائی جعفر (ع)نے خدا سے اپنی جانوں کا سودا کیا تو اس نے آپ کے لئے فرمایا بے شک

اشْتَرَیٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ٲَنْفُسَھُمْ وَٲَمْوَالَھُمْ بِٲَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ

خدا نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ان کو جنت دے کر کہ وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں

فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْہِ حَقَّاً فِی التَّوْرٰاۃِ وَالْاِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ ٲَوْفَیٰ

پھر قتل کرتے ہیں اور قتل ہو جاتے ہیں یہ اس کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو اس نے توریت انجیل اور قرآن میں فرمایااور کون ہے جو

بِعَھْدِہِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ وَذلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ

خدا سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والاہے پس مژدہ ہو تمہارے سودے پر جو تم نے خدا سے کیا ہے اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے

التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدُونَ الْاَمِرُونَ

جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے اس کی حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے

بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاھُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِینَ،

نیک کاموں کا حکم دینے والے برے کاموں سے روکنے والے اور خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ایسے مؤمنوں کو

ٲَشْھَدُ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ٲَنَّ الشَّاکَّ فِیکَ مَا آمَنَ بِالرَّسُولِ الْاََمِینِ وَٲَنَّ الْعادِلَ بِکَ

خوشخبری دو اے مؤمنوں کے امیر میں گواہی دیتا ہوں کہ جو آپ کی امامت میں شک کرے وہ رسول(ص) امین پر ایمان نہیں لایا اور جو

غَیْرَکَ عانِدٌ عَنِ الدِّینِ الْقَوِیمِ الَّذِی ارْتَضَاہُ لَنَا رَبُّ الْعَالَمِینَ، وَٲَکْمَلَہُ

آپ کے علاوہ غیر کو مانے تو وہ اس محکم دین کا دشمن ہے جسے جہانوں کے رب نے ہمارے لئے پسند فرمایا اور یوم غدیر آپ کی

بِوِلایَتِکَ یَوْمَ الْغَدِیرِ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ الْمَعْنِیُّ بِقَوْلِ الْعَزِیزِ الرَّحِیمِ وَٲَنَّ ھذَا صِرَاطِی

ولایت سے اس کو کامل کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ قوی و مہربان کے قول میں آپ ہی مراد ہیں کہ بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے

مُسْتَقِیماً فَاتَّبِعُوہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ ضَلَّ وَاللّهِ وَٲَضَلَّ مَنِ

پس اس کی پیروی کرو اور ٹیڑھے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے بھٹکا دیں گے بخدا آپ کے غیر کا پیروکار اور گمراہ

اتَّبَعَ سِواکَ وَعَنَدَ عَنِ الْحَقِّ مَنْ عاداکَ اَللّٰھُمَّ سَمِعْنا لاََِمْرِکَ وَٲَطَعْنا وَاتَّبَعْنا

کرنے والا ہے اور آپ کا دشمن حق و حقیقت کا دشمن ہے اے معبود! ہم نے تیرا فرمان سنا اور اطاعت کی اور تیری صراط مستقیم ﴿علی(ع)﴾

صِراطَکَ الْمُسْتَقِیمَ فَاھْدِنا رَبَّنا وَلاَتُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا إلی طاعَتِکَ وَاجْعَلْنا

کی پیروی کی پس قائم رکھ ہمیں اے ہمارے رب اور جب ہمیں اپنی اطاعت کی راہ دکھائی ہے تو ہمارے دلوں کو کج نہ ہونے دے

مِنَ الشَّاکِرِینَ لاََِنْعُمِکَ ۔ وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ لَمْ تَزَلْ لِلْھَویٰ مُخالِفاً، وَ لِلتُّقیٰ مُحالِفاً،

اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنادے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہمیشہ خواہش نفس کے مخالف پرہیز گاری کے حامی غصے کو

وَعَلَی کَظْمِ الْغَیْظِ قادِراً ، وَعَنِ النَّاسِ عافِیاً غافِراً، وَ إذا عُصِیَ اللّهُ ساخِطاً، وَ

پینے پر قادر اور لوگوں کو معاف کرنے بخش دینے والے رہے آپ خدا کی نافرمانی پر ناراض اور

إذا ٲُطِیعَ اللّهُ راضِیاً، وَبِما عَھِدَ إلَیْکَ عامِلاً، راعِیاً لِمَا اسْتُحْفِظْتَ، حافِظاً لِمَا

اس کی اطاعت پر راضی ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرنے والے قابل حفاظت چیزوں کے نگہبان خدا و رسول(ص) کی امانتوں کے محافظ

اسْتُودِعْتَ، مُبَلِّغاً مَا حُمِّلْتَ، مُنْتَظِراً مَا وُعِدْتَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ مَا اتَّقَیْتَ ضارِعاً،

احکام الہی کے مبلغ اور اس کے وعدوں کے منتظر رہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی روا داری کمزوری کی وجہ سے

وَلاَ ٲَمْسَکْتَ عَنْ حَقِّکَ جازِعاً وَلاَ ٲَحْجَمْتَ عَنْ مُجاھَدَۃِ غاصِبِیکَ ناکِلاً وَلاَ

نہ تھی آپ کی اپنے حق پر خاموشی خوف کے باعث نہ تھی غاصبوں سے جہاد نہ کرنے میں آپ کی سستی کا دخل نہ تھا آپ نے

ٲَظْھَرْتَ الرِّضیٰ بِخِلافِ مَا یُرْضِی اللّهَ مُداھِناً، وَلاَ وَھَنْتَ لِما ٲَصابَکَ فِی سَبِیلِ

رضا الہی کے خلاف سہل پسندی سے اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا اور خدا کی راہ میں مصیبتو ں پر کبھی کم ہمتی سے کام نہیں لیا

اللّهِ، وَلاَ ضَعُفْتَ وَلاَ اسْتَکَنْتَ عَنْ طَلَبِ حَقِّکَ مُراقِباً، مَعاذَ اللّهِ ٲَنْ تَکُونَ کَذلِکَ،

آپ نے دیکھنے سننے اپنا حق طلب کرنے میں کوئی کمزوری اور ناتوانی نہیں دکھائی اس سے خدا کی پناہ کہ آپ اس طرح کے ہوں

بَلْ إذْ ظُلِمْتَ احْتَسَبْتَ رَبَّکَ وَفَوَّضْتَ إلَیْہِ ٲَمْرَکَ وَذَکَّرْتَھُمْ فَمَا ادَّ کَرُوا وَوَعَظْتَھُمْ

بلکہ جب آپ پر ظلم کیا گیا جس پر آپ نے صبر کیا اور اپنا یہ معاملہ خدا کے سپرد کر دیا آپ نے انہیں نصیحت کی تو انہوں نے قبول نہ کی

فَمَا اتَّعَظُوا، وَخَوَّفْتَھُمُ اللّهَ فَمَا تَخَوَّفُوا، وَٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ جاھَدْتَ

انکو سمجھایا تو وہ نہیں سمجھے اور آپ نے خد ا سے ڈرایا تو وہ نہیں ڈرے اے مؤمنوں کے امیر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کیلئے

فِی اللّهِ حَقَّ جِھادِہِ حَتّی دَعاکَ اللّهُ إلی جِوارِہِ، وَقَبَضَکَ إلَیْہِ بِاخْتِیارِہِ، وَٲَلزَمَ

وہ جہاد کیا جو جہاد کرنے کا حق ہے یہاں تک کہ خدا نے آپکو جوار رحمت میں بلا لیا اور اپنے اختیار سے آپکی جان قبض کر لی اور آپکے

ٲَعْدائَکَ الْحُجَّۃَ بِقَتْلِھِمْ إیَّاکَ لِتَکُونَ الْحُجَّۃُ لَکَ عَلَیْھِمْ مَعَ مَا لَکَ مِنَ الْحُجَجِ

دشمنوں پر حجت لازم کردی جب کہ انہوں نے آپکو قتل کیا تاکہ آپکی طرف سے ان پر حجت قائم ہو جائے علاوہ ان کامل حجتوں کے

الْبَالِغَۃِ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِہِ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَبَدْتَ اللّهَ مُخْلِصاً

جو آپ کی طرف سے ساری مخلوق پر قائم ہیں آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیر کہ آپ نے خدا کی خالص عبادت کی

وَجَاھَدْتَ فِی اللّهِ صَابِراً، وَجُدْتَ بِنَفْسِکَ مُحْتَسِباً، وَعَمِلْتَ بِکِتابِہِ ، وَاتَّبَعْتَ

خدا کی راہ میں صبر تحمل کیساتھ جہاد کیا اور ُحسن نیت کے ساتھ اپنی جان قربان کر دی آپ نے کتاب خدا پر عمل کیا اس کے نبی کی سنت

سُنَّۃَ نَبِیِّہِ وَٲَقَمْتَ الصَّلاۃَ، وَآتَیْتَ الزَّکاۃَ، وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ

کی پیروی فرمائی آپ نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا جہاں تک

مَا اسْتَطَعْتَ مُبْتَغِیاً مَا عِنْدَ اللّهِ، رَاغِباً فِیمَا وَعَدَ اللّهُ، لاَ تَحْفِلُ بِالنَّوَائِبِ، وَلاَ تَھِنُ

آپ کی وسعت تھی آپ کا مقصد رضا الہی تھا خدا کے وعدوں پر توجہ رکھی آپ مصائب میں گھبرائے نہیں اور سختیوں میں

عِنْدَ الشَّدائِدِ وَلاَ تَحْجِمُ عَنْ مُحارِبٍ ٲَفِکَ مَنْ نَسَبَ غَیْرَ ذلِکَ إلَیْکَ

کمزوری ظاہر نہیں کی نہ آپ نے کسی دشمن کو پیٹھ دکھائی جس نے اس کے علاوہ آپ کے بارے کچھ کہا اس نے آپ پر بہتان لگایا

وَافْتَریٰ باطِلاً عَلَیْکَ، وَٲَوْلی لِمَنْ عَنَدَ عَنْکَ، لَقَدْ جاھَدْتَ فِی اللّهِ حَقَّ الْجِھادِ

اور آپ کے بارے میں جھوٹ باندھا اور یہ باتیں آپ کے دشمنوں میں موجود رہی ہیں جب کہ آپ نے خدا کی خاطر جہاد کا حق ادا

وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ صَبْرَ احْتِسابٍ، وَٲَنْتَ ٲَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَصَلَّی لَہُ

کر دیا اور دکھوں پر خیر خواہی کے ساتھ صبر استقامت کا مظاہرہ کیا آپ ہی وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر ایمان لائے اس کی نماز پڑھی اور

وَجاھَدَ وَٲَبْدی صَفْحَتَہُ فِی دارِ الشِّرْکِ وَالْاََرْضُ مَشْحُونَۃٌ ضَلالَۃً، وَالشَّیْطانُ

جہاد کیا آپ نے اس شرک کے مرکز اور گمراہی سے بھری دنیا میں خود کو آشکار کیا جہاں کھلے عام شیطان کی

یُعْبَدُ جَھْرَۃً، وَٲَنْتَ الْقائِلُ لاَ تَزِیدُنِی کَثْرَۃُ النَّاسِ حَوْلِی عِزَّۃً، وَلاَ

پوجا کی جارہی تھی وہ آپ ہی ہیں جو کہ رہے تھے کہ میرے گرد لوگوں کی کثرت سے میری عزت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا اور نہ ان

تَفَرُّقُھُمْ عَنِّی وَحْشَۃً، وَلَوْ ٲَسْلَمَنِی النَّاسُ جَمِیعاً لَمْ ٲَکُنْ مُتَضَرِّعاً ۔ اعْتَصَمْتَ

کے ہٹ جانے سے مجھے وحشت ہوتی ہے اگر سب لوگ مجھے چھوڑ کر جائیں تو بھی میں باطل کے آگے نہیں جھکونگا آپ نے خدا سے تعلق رکھا

بِاللّهِ فَعَزَزْتَ، وَآثَرْتَ الْآخِرَۃَ عَلَی الْاَُولی فَزَھِدْتَ، وَٲَیَّدَکَ اللّهُ وَھَداکَ

تو اس نے عزت عطا کی آپ نے دنیا کے مقابل آخرت کو ترجیح دی پس آپ نے زہد کو اپنایا پھر خدا نے آپکی تائید فرمائی آپ کو ہدایت

وَٲَخْلَصَکَ وَاجْتَباکَ، فَما تَناقَضَتْ ٲَ فْعالُکَ، وَلاَ اخْتَلَفَتْ ٲَقْوالُکَ، وَلاَ تَقَلَّبَتْ

دی آپ کو خالص اپنا بنایا اور برگزیدہ کیا پس آپ کے افعال میں تفریق نہیں آپ کے اقوال میں مختلف نہیں آپ کے احوال

ٲَحْوالُکَ، وَلاَ ادَّعَیْتَ وَلاَ افْتَرَیْتَ عَلَی اللّهِ کَذِباً، وَلاَ شَرِھْتَ إلَی الْحُطامِ، وَلاَ

متغیر نہیں ہوئے آپ نے کوئی غلط دعویٰ نہیں کیا نہ آپ نے خدا کے بارے میں جھوٹ کہا آپ نے دنیا کمانے کی خواہش نہیں رکھی

دَنَّسَکَ الْاَثامُ، وَلَمْ تَزَلْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّکَ، وَیَقِینٍ مِنْ ٲَمْرِکَ، تَھْدِی إلَی الْحَقِّ وَ

نہ گناہوں نے آپ کو آلودہ کیا آپ ہمیشہ ہمیشہ خدا کی دلیل و حجت پر قائم اور یقین کے ساتھ عمل کرتے رہے یعنی حق و حقیقت راہ

إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، ٲَشْھَدُ شَھادَۃَ حَقٍّ، وَٲُقْسِمُ بِاللّهِ قَسَمَ صِدْقٍ ٲَنَّ مُحَمَّداً

راست کی طرف رہبری فرمائی کہ گواہی دیتا ہوں میں سچی گواہی اور قسم کھاتا ہوں اللہ کی سچی قسم کہ محمد(ص)

وَآلَہُ صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْھِمْ سَادَاتُ الْخَلْقِ، وَٲَ نَّکَ مَوْلایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَٲَ نَّکَ

و آل محمد(ص) ساری مخلوق کے سردار ہیں خدا کی رحمتیں ہوں ان پر اور بے شک آپ میرے مولا اور مؤمنوں کے مولا ہیں یقینا

عَبْدُ اللّهِ وَوَ لِیُّہُ وَٲَخُوالرَّسُولِ وَوَصِیُّہُ وَوارِثُہُ، وَٲَنَّہُ الْقائِلُ لَکَ وَالَّذِی بَعَثَنِی

آپ خدا کے بندے اسکے ولی رسول(ص) کے بھائی انکے وصی اور انکے وارث ہیں اور انہوں نے آپ کیلئے فرمایا قسم اسکی جس نے مجھے

بِالْحَقِّ مَا آمَنَ بِیْ مَنْ کَفَرَ بِکَ، وَلاَ ٲَقَرَّ بِاللّهِ مَنْ جَحَدَکَ، وَقَدْ ضَلَّ مَنْ صَدَّ عَنْکَ

حق کیساتھ مبعوث کیا کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا جس نے تمہارا ا نکار کیا اور جو تمہارا منکر ہؤا اس نے خدا کو نہیں مانا وہ گمراہ ہوا جوتم

وَلَمْ یَھْتَدِ إلَی اللّهِ وَلاَ إلَیَّ مَنْ لاَ یَھْتَدِی بِکَ، وَھُوَ قَوْلُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ

سے پھر گیا جو تمہاری ولایت کا قائل نہیں وہ اللہ کی طرف اور میری طرف راہ نہیں پائے گا یہی میری عزت وجلال والے رب کا قول

وَ إنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اھْتَدیٰ إلی وِلایَتِکَ مَوْلایَ

ہے یقینا میں اسے بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر آپکی ولایت کے راستے پر آئے میرے سردار آپ

فَضْلُکَ لاَ یَخْفیٰ، وَنُورُکَ لاَ یُطْفَٲُ، وَٲَنَّ مَنْ جَحَدَکَ الظَّلُومُ الْاََشْقیٰ، مَوْلایَ

کی بزرگی پوشیدہ نہیں آپ کا نور بجھتا نہیں بے شک آپ سے جنگ کرنے والا بڑا ظالم اور بد بخت ہے میرے آقا

ٲَنْتَ الْحُجَّۃُ عَلَی الْعِبادِ، وَالْھادِی إلَی الرَّشادِ، وَالْعُدَّۃُ لِلْمَعادِ، مَوْلایَ لَقَدْ رَفَعَ

آپ بندوں پر خدا کی حجت ہیں راہ راست کی طرف لے جانے والے اور آخرت کے لئے سرمایہ ہیں میرے مولا !دنیا میں

اللّهُ فِی الْاَُولی مَنْزِلَتَکَ، وَٲَعْلی فِی الْاَخِرَۃِ دَرَجَتَکَ، وَبَصَّرَکَ مَا عَمِیَ عَلَی مَنْ

خدا نے آپ کا مرتبہ بلند کیا اور آخرت میں آپ کو بلند تر قرار دیا ہے خدا نے آپ کو بصیرت دی جب کہ آپ کے مخالف نابینا ہیں

خالَفَکَ، وَحالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَواھِبِ اللّهِ لَکَ، فَلَعَنَ اللّهُ مُسْتَحِلِّی الْحُرْمَۃِ

اس لئے وہ آپکے اور آپ کیلئے خدا کے عطیوں کے درمیان حائل ہوگئے پس خدا لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ کی حرمت کا

مِنْکَ وَذائِدِی الْحَقِّ عَنْکَ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّھُمُ الْاََخْسَرُونَ الَّذِینَ تَلْفَحُ وُجُوھَھُمُ النَّارُ

خیال نہ رکھا اور آپ کے حق پر قبضہ کر بیٹھے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بہت گھاٹے میں ہیں آگ ان کے چہروں کوپگھلائے گی

وَھُمْ فِیھا کالِحُونَ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ مَا ٲَقْدَمْتَ وَلاَ ٲَحْجَمْتَ وَلاَ نَطَقْتَ وَلاَ ٲَمْسَکْتَ

اور وہ اس میں خوار ہوں گے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا آگے بڑھنا پیچھے ہٹنا آپ کا کلام کرنا اور خاموش رہنا

إلاَّ بِٲَمْرٍ مِنَ اللّهِ وَرَسُو لِہِ، قُلْتَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ نَظَرَ إلَیَّ رَسُولُ اللّهِ

بس اللہ اور اس کے رسول(ص) کے حکم سے ہے آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضرت رسول(ص)

صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ ٲَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدْماً فَقالَ یَا عَلِیُّ ٲَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ھَارُونَ

اللہ نے مجھ پر نظر فرمائی جب میں بڑھ بڑھ کے تلوار چلا رہا تھا پس فرمایا اے علی(ع) ! میرے ساتھ تیری وہی نسبت ہے جو ہارون(ع) کی

مِنْ مُوسیٰ إلاَّ ٲَ نَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی، وَٲُعْلِمُکَ ٲَنَّ مَوْتَکَ وَحَیاتَکَ مَعِی وَعَلَی سُنَّتِی،

موسیٰ(ع) سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میں تجھے بتا دوں کہ بے شک تیری موت و حیات میرے ساتھ اور میری سنت پر ہے

فَوَاللّهِ مَا کَذِبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ وَلاَ ضَلَلْتُ وَلاَ ضُلَّ بِی وَلاَ نَسِیتُ مَا عَھِدَ إلَیَّ رَبِّی،

بخدا میں نے جھوٹ نہیں کہا نہ جھوٹ سنا نہ میں گمراہ ہوا نہ گمراہ کیا اور میں اپنے رب کی فرمائش نہیں بھولا

وَ إنِّی لَعَلی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّی بَیَّنَہا لِنَبِیِّہِ، وَبَیَّنَھَا النَّبِیُّ لِی، وَ إنِّی لَعَلَیٰ الطَّرِیقِ

میں ضرور اس دلیل پر قائم ہوں جومیرے رب نے اپنے نبی(ص) کو بتائی اور نبی(ص) نے مجھ کو سمجھائی میں لفظ بہ لفظ

الْواضِحِ ٲَلْفِظُہُ لَفْظاً صَدَقْتَ وَاللّهِ وَقُلْتَ الْحَقَّ فَلَعَنَ اللّهُ مَنْ ساواکَ بِمَنْ ناواکَ

واضح راستے اور طریقے پر رواں ہوں بخدا آپ نے سچ فرمایا اور حق بات کہی پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپکو آپکے مخالف

وَاللّهُ جَلَّ اسْمُہُ یَقُولُ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لاَ یَعْلَمُون، فَلَعَنَ اللّهُ

کے برابر جانا جبکہ بلند نام والا خدا کہتا ہے کہ آیا برابر ہو سکتے ہیں جاننے والے اور وہ جو نہیں جانتے ہیں پس خدا لعنت کرے

مَنْ عَدَلَ بِکَ مَنْ فَرَضَ اللّهُ عَلَیْہِ وِلایَتَکَ وَٲَنْتَ وَلِیُّ اللّهِ، وَٲَخُو رَسُولِہِ، وَالذَّابُّ

اس پر جو خدا کیطرف سے واجب شدہ آپکی ولایت سے منہ موڑے رہا جبکہ آپ خدا کے دوست اسکے رسول(ص) کے برادر اور اسکے

عَنْ دِینِہِ، وَالَّذِی نَطَقَ الْقُرْآنُ بِتَفْضِیلِہِ، قالَ اللّهُ تَعالی وَفَضَّلَ اللّهُ الْمُجاھِدِینَ

دین کو بچانے والے ہیں آپ وہ ہیں جسکی فضیلت کو قرآن ظاہر کرتا ہے جیسے خدائے تعالی نے فرمایا کہ خدا نے بڑائی دی ہے مجاہدوں

عَلَی الْقاعِدِینَ ٲَجْراً عَظِیماً دَرَجاتٍ مِنْہُ وَمَغْفِرَۃً وَرَحْمَۃً وَکانَ اللّهُ غَفُوراً رَحِیماً

کو پیچھے بیٹھ رہنے والوں پر ان کیلئے اس کیطرف سے بڑا اجر اور بلند درجہ بخشش اور رحمت ہے اور خدا بہت بخشنے والااور مہربان ہے

وَقالَ اللّهُ تَعالی ٲَجَعَلْتُمْ سِقایَہَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّهِ

اور خدائے تعالی نے یہ بھی فرمایا آیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے والے کے عمل کو ویسا قرار دیتے ہو جو کہ خدا

وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَجاھَدَ فِی سَبِیلِ اللّهِ لاَ یَسْتَوُونَ عِنْدَ اللّهِ وَاللّهُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ

و یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے راہ خدا میں جہاد کیا اور خدا کے ہاں برابر نہیں ہیں اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت

الظَّالِمِینَ، الَّذِینَ آمَنُوا وَھاجَرُوا وَجاھَدُوا فِی سَبِیلِ اللّهِ بِٲَمْوالِھِمْ وَٲَنْفُسِھِمْ

نہیں دیتا وہ جو ایمان لائے ہجرت کی اور انہوں نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں سے

ٲَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّهِ وَٲُولَئِکَ ھُمُ الْفائِزُونَ یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھمْ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَرِضْوانٍ

خدا کے نزدیک ان کا بڑا درجہ ہے وہی تو کامیاب ہیں ان کا پروردگار بشارت دیتا ہے ان کو اپنی رحمت اورخوشنودی کی اور ان کیلئے

وَجَنَّاتٍ لَھُمْ فِیھا نَعِیمٌ مُقِیمٌ، خَالِدِینَ فِیھَا ٲَبَداً إنَّ اللّهَ عِنْدَہُ ٲَجْرٌ عَظِیمٌ، ٲَشْھَدُ

باغات ہیں نعمت بھرے جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے کیونکہ خدا وہ ہے جس کے ہاں بہت بڑا اجر ہے میں گواہی دیتا ہوں

ٲَنَّکَ الْمَخْصُوصُ بِمِدْحَۃِ اللّهِ، الْمُخْلِصُ لِطاعَۃِ اللّهِ، لَمْ تَبغِ بِالْھُدیٰ بَدَلاً، وَلَمْ

کہ آپ خدا کی مدح کے خاص مصداق ہیں خدا کی اطاعت میں مخلص ہیں آپ نے ہدایت کے بدلے میں کچھ نہیں چاہا اور اپنے

تُشْرِکْ بِعِبادَۃِ رَبِّکَ ٲَحَداً، وَٲَنَّ اللّهَ تَعالَی اسْتَجابَ لِنَبِیِّہِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ

یگانہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا بے شک خدائے تعالی نے اپنے نبی (ص)کی وہ دعا قبول فرمائی

فِیکَ دَعْوَتَہُ، ثُمَّ ٲَمَرَہُ بِ إظْھارِ مَا ٲَوْلاکَ لاَُِمَّتِہِ، إعْلائً لِشَٲْنِکَ، وَ إعْلاناً لِبُرْھانِکَ،

جو آپکے بارے میں تھی پھر انکو حکم دیا کہ انکی امت پر آپکو جو بڑائی ہے اسکا اظہار کریں تاکہ آپکی شان عیاں ہو نیزآپکے بارے میں

وَدَحْضاً لِلاََْباطِیلِ، وَقَطْعاً لِلْمَعاذِیرِ، فَلَمَّا ٲَشْفَقَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفاسِقِینَ، وَاتَّقیٰ فِیکَ

برہان و دلیل کا اعلان کریں کہ باطل ہٹ جائے اور بہانے کٹ جائیں پس وہ آپکے حق میں بد کرداروں اور منافقوں سے خوف و

الْمُنافِقِینَ، ٲَوْحیٰ إلَیْہِ رَبُّ الْعالَمِینَ یَا ٲَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ٲُنْزِلَ إلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ

خطر محسوس کرتے تھے تب جہانوں کے پروردگار نے ان کو یہ وحی بھیجی کہ اے رسول(ص) جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ

وَ إنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللّهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ، فَوَضَعَ عَلَی نَفْسِہِ

پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا اور خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا پس حضرت نے سفر کی زحمت

ٲَوْزارَ الْمَسِیرِ، وَنَھَضَ فِی رَمْضائِ الْھَجِیرِ، فَخَطَبَ وَٲَسْمَعَ وَنَادَی فَٲَبْلَغَ، ثُمَّ

کا بوجھ اٹھا لیا غدیر کے تپتے ہوئے صحرا میں رک گئے پس خطبہ دیا اور بآواز بلند سب کو سنایا پھر

سَٲَلَھُمْ ٲَجْمَعَ، فَقالَ ھَلْ بَلَّغْتُ فَقالُوا اَللّٰھُمَّ بَلَیٰ فَقالَ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ، ثُمَّ قالَ ٲَلَسْتُ

اس اجتماع سے سوال کیا فرمایا آیا میں نے تبلیغ کردی؟ سب نے کہا ہاں تب فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا پھر فرمایا آیا میں مؤمنوں پر ان

ٲَوْلَیٰ بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ ٲَنْفُسِھِمْ فَقالُوا بَلیٰ فَٲَخَذَ بِیَدِکَ، وَقالَ مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَھَذا

کی جانوں سے بڑھ کر مختار نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں پس حضرت نے آپکا ہاتھ پکڑا اور کہا جس کا میں مولا ہوں پس یہ علی (ع)اس کا

عَلِیُّ مَوْلاہُ، اَللّٰھُمَّ والِ مَنْ والاہُ، وَعادِ مَنْ عَادَاہُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ وَاخْذُلْ مَنْ

مولا ہے اے اللہ اسکے دوست سے دوستی اور اسکے دشمن سے دشمنی رکھ جو اسکی مدد کرے اسکی مدد کر اور جو اسے چھوڑے تو اسے چھوڑ

خَذَلَہُ، فَمَا آمَنَ بِما ٲَنْزَلَ اللّهُ فِیکَ عَلَی نَبِیِّہِ إلاَّ قَلِیلٌ، وَلاَ زَادَ ٲَکْثَرَھُمْ غَیْرَ

دے پس وہ ایمان نہ لائے اس پر جو خدا نے آپکے حق میں اپنے نبی پر نازل کیا لیکن تھوڑے لوگ اور ان میں زیادہ تر لوگوں نے

تَخْیِیرٍ، وَلَقَدْ ٲَنْزَلَ اللّهُ تَعالی فِیکَ مِنْ قَبْلُ وَھُمْ کَارِھُونَ یَا ٲَیُّھَا

گھاٹے کے سوا کچھ حاصل نہ کیا اس سے پہلے خدا نے آپ کے بارے میں آیات نازل کیں تو انہوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی اے

الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَٲْتِی اللّهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّونَہُ

ایمان لانے والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائیگا تو خدا آیندہ ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ چاہتا اور وہ اسے چاہتے ہیں

ٲَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ٲَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاھِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ وَلاَ یَخَافُونَ

وہ مؤمنوں کے ساتھ نرم اور کافروں پر سخت گیر ہیں وہ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور ملامت کرنے والوں کی ملامت

لَوْمَۃَ لائِمٍ ذلِکَ فَضْلُ اللّهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشائُ وَاللّهُ واسِعٌ عَلِیمٌ إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّهُ

سے نہیں ڈرتے یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے تحقیق تمہارا ولی اللہ

وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَھُمْ رَاکِعُونَ،

اور اس کا رسول(ص) اور وہ ہیں جو ایمان لائے انہوں نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں

وَمَنْ یَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَ إنَّ حِزْبَ اللّهِ ھُمُ الْغَالِبُونَ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا

اور جو لوگ اللہ اس کے رسول(ص) اور صاحبان ایمان کی ولایت قبول کر لیں تو وہ خدا کا گروہ ہیں غالب رہنے والے ہمارے رب

ٲَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاھِدِینَ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ

ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل کیا اور رسول(ص) کی پیروی کرتے ہیں پس ہمیں گواہوں میں لکھ لے ہمارے رب ہمارے دلوں کو

إذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ ٲَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ اَللّٰھُمَّ إنَّا

ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے اے اللہ

نَعْلَمُ ٲَنَّ ھذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَالْعَنْ مَنْ عَارَضَہُ وَاسْتَکْبَرَ وَکَذَّبَ بِہِ

ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہی حق ہے کہ جو تیری طرف سے ہے پس لعنت کر ان پر جو انکے مخالف تکبر کرنے والے اسکا انکار

وَکَفَرَ وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا ٲَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ

کرنے جھٹلانے والے ہیں اور ظلم کرنے والوں کو جلد معلوم ہو جائیگا کہ انہیں کہاں لوٹ کر جانا ہے سلام ہوآپ پر اے مؤمنوں کے امیر

وَسَیِّدَ الْوَصِیِّینَ وَٲَوَّلَ الْعابِدِینَ وَٲَزْھَدَ الزَّاھِدِینَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ وَصَلَواتُہُ

اوصیا کے سردار عبادت کرنے والوں میں پہلے سب سے بڑے زاہد خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں اور اس کا درود

وَتَحِیَّاتُہُ، ٲَنْتَ مُطْعِمُ الطَّعامِ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیناً وَیَتِیماً وَٲَسِیراً لِوَجْہِ اللّهِ لاَ تُرِیدُ

و سلام ہو آپ ہیں خدا کی محبت میں مسکین یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانے والے ہیں محض خدا کی خاطر کہ آپ ان سے

مِنْھُمْ جَزائً وَلاَ شُکُوراً، وَفِیکَ ٲَنْزَلَ اللّهُ تَعالی وَیُؤْثِرُونَ عَلی ٲَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ

کسی بدلے اور شکریے کے خواہاں نہ تھے اور آپ کے بارے میں خدا نے نازل کیا کہ وہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ

بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَٲُولئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ وَٲَ نْتَ الْکاظِمُ لِلْغَیْظِ

انکو شدید حاجت بھی ہو اور جو اپنے نفس کو بخل سے بچاتے ہیں تو وہی نجات پانے والے ہیں اور آپ ہیں غصے کو پینے والے لوگوں کو

وَالْعافِی عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ، وَٲَنْتَ الصَّابِرُ فِی الْبَٲْسائِ وَالضَّرَّائِ

معاف کرنے والے اور خدا نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور آپ ہیں تنگدستی اور سختیوں اور ہنگام جنگ میں

وَحِینَ الْبَٲْسِ، وَٲَنْتَ الْقاسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ، وَالْعادِلُ فِی الرَّعِیَّۃِ، وَالْعالِمُ بِحُدُودِ اللّهِ

صبر کرنے والے اور آپ برابر تقسیم کرنے والے رعیت میں عدل کرنے والے اور سب سے بڑھ کر خدا

مِنْ جَمِیعِ الْبَرِیَّۃِ وَاللّهُ تَعالی ٲَخْبَرَ عَمَّا ٲَوْلاکَ مِنْ فَضْلِہِ بِقَوْ لِہِ ٲَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناً

کی حدوں کو جاننے والے اور اللہ تعالی نے آپ کو فضیلت و بڑائی کی خبر دی اپنے قول میں کہ آیا جو مؤمن ہے

کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ، ٲَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَھُمْ جَنَّاتُ

وہ فاسق کی مانند ہے وہ برابر نہیں ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے تو ان کے لئے ہمیشگی والے

الْمَٲْوَیٰ نُزُلاً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ وَٲَنْتَ الْمَخْصُوصُ بِعِلْمِ التَّنْزِیلِ وَحُکْمِ

باغات ٹھکانہ ہیں ان کے بدلے میں جو عمل انہوں نے کیے اور آپ کوخاص کیا گیا نزول آیات کے علم میں اور آیتوں کی تاویل کے

التَّٲْوِیلِ وَنَصِّ الرَّسُولِ، وَلَکَ الْمَواقِفُ الْمَشْھُودَۃُ، وَالْمَقاماتُ الْمَشْھُورَۃُ

مطابق حکم لگانے میں اور رسول(ص) کی طرف سے نامزدگی میں اور آپ کی ثابت قدمی کے مقامات عیاں ہیں آپ کے مرتبے آشکار اور

وَالْاََیَّامُ الْمَذْکُورَۃُ ، یَوْمَ بَدْرٍ وَیَوْمَ الْاََحْزابِ إذْ زاغَتِ الْاََ بْصارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ

آپ کے خاص دن یادگار ہیں یعنی یوم بدر اور یوم خندق کہ جب ڈر سے آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور دل گردنوں میں

الْحَناجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللّهِ الظُّنُونَا ھُنالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزالاً شَدِیداً

آپھنسے اور خدا کے بارے میں بد گمانیاں ہونے لگیں وہاں مؤمنوں کی آزمائش کی گئی اور ان پر سخت لرزہ طاری ہوگیا

وَ إذْ یَقُولُ الْمُنافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللّهُ وَرَسُولُہُ إلاَّ غُرُوراً

جب منافقین اور جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ کہ رہے تھے کہ خدا اور رسول(ص) نے ہمیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیا

وَ إذْ قالَتْ طائِفَۃٌ مِنْھُمْ یَا ٲَھْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَیَسْتَٲْذِنُ فَرِیقٌ مِنْھُمُ

اور یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے یثرب والو یہاں تمہارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں گھروں کو چلے جاؤ اور ان میں ایک

النَّبِیَّ یَقُولُونَ إنَّ بُیُوتَنا عَوْرَۃٌ وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ إنْ یُرِیدُونَ إلاَّ فِراراً،

گروہ پیغمبر سے واپسی کی اجازت کیلئے کہتا تھا ہمارے گھرغیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے بلکہ وہ صرف جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے

وَقالَ اللّهُ تَعالی وَلَمَّا رَٲَیٰ الْمُؤْمِنُونَ الْاََحْزابَ قَالُوا ھذَا مَا وَعَدَنَا اللّهُ وَرَسُولُہُ

اور خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ جب مؤمنوں نے احزاب کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور رسول(ص) نے ہم سے

وَصَدَقَ اللّهُ وَرَسُولُہُ وَمَا زَادَھُمْ إلاَّ إیماناً وَتَسْلِیماً، فَقَتَلْتَ عَمْرَھُمْ، وَھَزَمْتَ

وعدہ کیا خدا اوراسکا رسول(ص) سچے ہیں اور اس سے انکے ایمان و یقین میں اضافہ ہوا تب آپ نے عمر﴿بن ود﴾ کو قتل کیا اور ان کے لشکر

جَمْعَھُمْ وَرَدَّ اللّهُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنالُوا خَیْراً وَکَفَیٰ اللّهُ الْمُؤْمِنِینَ

کو شکست دی خدا نے کافروں کو غیض و غضب کے عالم میں واپس کیا اور انہوں نے کوئی بھلائی نہ پائی اور خدا نے جنگ میں

الْقِتالَ وَکانَ اللّهُ قَوِیَّاً عَزِیزاً، وَیَوْمَ ٲُحُدٍ إذْ یُصْعِدُونَ وَلاَ یَلْوُونَ عَلَی ٲَحَدٍ

مؤمنوں کی کفایت فرمائی اور خدا قوت والا غالب تر ہے اور احد کے دن جب لوگ پہاڑ پر چڑھے جاتے تھے اور پیچھے رہ جانے والوں

وَالرَّسُولُ یَدْعُوھُمْ فِی ٲُخْراھُمْ وَٲَنْتَ تَذُودُ بِھِمُ الْمُشْرِکِینَ عَنِ النَّبِیِّ ذَاتَ

کو دیکھتے ہی نہ تھے اور رسول(ص) ان کے پیچھے ان کو پکار رہے تھے جب کہ آپ نبی (ص)کے دائیں بائیں سے مشرکین کو لڑ بھڑ کر پیچھے دھکیلتے

الْیَمِینِ وَذاتِ الشِّمَالِ حَتَّی رَدَّھُمُ اللّهُ تَعَالی عَنْکُما خائِفِینَ وَنَصَرَ بِکَ الْخاذِلِینَ

جاتے تھے یہاں تک کہ خدا نے خائف دشمنوں کو آپ سے دور کر دیا اور آپ کے ذریعے بھاگے ہوؤں کو مدد دی

وَیَوْمَ حُنَیْنٍ عَلَی مَا نَطَقَ بِہِ التَّنْزِیلُ إذْ ٲَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئاً

اور حنین کا دن جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ جب تمہاری کثرت نے تمہیں نازاں کر دیا پس وہ تمہارے کسی کام نہ آئی

وَضاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاََرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ، ثُمَّ ٲَنْزَلَ اللّهُ سَکِینَتَہُ عَلَی

اور زمین تمہارے لئے تنگ ہو گئی جب وہ وسیع تھی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول(ص) پر سکون قلب نازل کیا

رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنُونَ ٲَنْتَ وَمَنْ یَلِیکَ وَعَمُّکَ الْعَبَّاسُ یُنادِی الْمُنْھَزِمِینَ

اور مؤمنوں پر بھی ہاں آپ اور آپ کے پیروکار ہی تو مؤمن ہیں اس وقت آپ کے چچا عباس بھاگنے والوں کو پکار رہے تھے اے

یَا ٲَصْحَابَ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ، یَا ٲَھْلَ بَیْعَۃِ الشَّجَرَۃِ، حَتَّی اسْتَجابَ لَہُ قَوْمٌ قَدْ

سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے والواے بیعت شجرہ میں حصہ لینے والویہاں تک کہ ایک گروہ نے ان کو لبیک کہا اس وقت آپ نے ان

کَفَیْتَھُمُ الْمَؤُونَۃَ وَتَکَفَّلْتَ دُونَھُمُ الْمَعُونَۃَ فَعَادُوا آیِسِینَ مِنَ الْمَثُوبَۃِ رَاجِینَ وَعْدَ

کے نان و نفقہ کا انتظام کیا پس وہ ثواب جہاد سے ناامیدی میں خدا کے قبول توبہ کے وعدے کی

اللّهِ تَعالی بِالتَّوْبَۃِ، وَذلِکَ قَوْلُ اللّهِ جَلَّ ذِکْرُہُ ثُمَّ یَتُوبُ اللّهُ مِنْ بَعْدِ ذلِکَ عَلی مَنْ

آس میں پلٹ آئے اور یہ بلند ذکر والے خدا کا فرمان ہے کہ پھر خدا جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور آپ ہی ہیں جو صبر کے

یَشَائُ، وَٲَنْتَ حَائِزٌ دَرَجَۃَ الصَّبْرِ فائِزٌ بِعَظِیمِ الْاََجْرِ، وَیَوْمَ خَیْبَرَ إذْ ٲَظْھَرَ اللّهُ

اونچے درجے پر ہیں بہت بڑا اجر پانے والے ہیں اور خیبر کے دن جب خدا نے منافقوں کی سستی ظاہر کی

خَوَرَ الْمُنافِقِینَ وَقَطَعَ دابِرَ الْکافِرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَلَقَدْ کانُوا عَاھَدُوا

اور آپ کے ذریعے کافروں کی جڑیں کاٹ دیں اور حمد ہے خدا کے لئے جو جہانوں کا رب ہے اور فرمان الہی ہے کہ اس سے پہلے

اللّهَ مِنْ قَبْلُ لاَ یُوَلُّونَ الْاََدْبَارَ وَکَانَ عَھْدُ اللّهِ مَسْؤُولاً ۔ مَوْلایَ ٲَنْتَ

انہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ دشمنوں سے پیٹھ نہ پھیریں گے اور خدا سے کیے ہوئے عہد پر باز پرس ہوگی اے میرے مولا آپ ہی

الْحُجَّۃُ الْبالِغَۃُ ، وَالْمَحَجَّۃُ الْواضِحَۃُ، وَالنِّعْمَۃُ السَّابِغَۃُ، وَالْبُرْھانُ الْمُنِیرُ، فَھَنِیئاً

تو کامل حجت حق کا واضح تر طریق خدا کی نعمت عامہ اور روشن تردلیل ہیں پس آپ پر اللہ کا

لَکَ بِما آتاکَ اللّهُ مِنْ فَضْلٍ، وَتَبّاً لِشانِئِکَ ذِی الْجَھْلِ، شَھِدْتَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی

یہ فضل مبارک بہت بہت مبارک ہو آپ کے جاہل دشمن پر ہلاکت پڑے آپ حضرت رسول(ص) کے ہمراہ

اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ جَمِیعَ حُرُوبِہِ وَمَغازِیہِ تَحْمِلُ الرَّایَۃَ ٲَمامَہُ وَتَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدَّامَہُ

سبھی جنگوں میں حاضر اور شامل ہوئے ان کے حضور علمبردار لشکر رہے اور ان پر حملہ کرنے والوں پر تلوار چلاتے رہے

ثُمَّ لِحَزْمِکَ الْمَشْھُورِ، وَبَصِیرَتِکَ فِی الْاَُمُورِ ٲَمَّرَکَ فِی الْمَواطِنِ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ

پھر آپ کی انتہائی احتیاط اور آپ کی معاملہ فہمی کے پیش نظر وہ آپ کو امیر بناتے تھے کسی کو آپ پر امیر نہیں بنایا

ٲَمِیرٌ، وَکَمْ مِنْ ٲَمْرٍ صَدَّکَ عَنْ إمْضائِ عَزْمِکَ فِیہِ التُّقیٰ، وَاتَّبَعَ غَیْرُکَ فِی مِثْلِہِ

کتنے ہی ایسے امور ہیں جن میں تقویٰ آپ کے لئے رکاوٹ بن گیا جب کہ آپ کے غیر نے ان میں خواہش کی

الْھَویٰ فَظَنَّ الْجاھِلُونَ ٲَنَّکَ عَجَزْتَ عَمَّا إلَیْہِ انْتَھیٰ، ضَلَّ وَاللّهِ الظَّانُّ لِذَلِکَ وَمَا

پیروی کی پس جاہلوں نے خیال کیا آپ ان امور میں قاصر و عاجز ہیں قسم بخدا یہ خیال کرنے والا گمراہ ہوا اور راہ نہ پاسکا اور آپ نے

اھْتَدیٰ، وَلَقَدْ ٲَوْضَحْتَ مَا ٲَشْکَلَ مِنْ ذلِکَ لِمَنْ تَوَہَّمَ وَامْتَریٰ بِقَوْ لِکَ صَلَّی اللّهُ

ایسا وہم کرنے والے کی مشکل آسان کر دی جو آپ کے قول پر شک کرتا تھا خدا کی رحمت ہو آپ پر کبھی

عَلَیْکَ قَدْ یَرَیٰ الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْہَ الْحِیلَۃِ وَدُونَھا حَاجِزٌ مِنْ تَقْوَی اللّهِ فَیَدَعُھا

امور کو انجام دینے والا ان کے لئے عجیب سا طریقہ دیکھتا ہے جس میں تقویٰ رکاوٹ بن جاتا ہے لیکن اس کی

رَٲْیَ الْعَیْنِ، وَیَنْتَھِزُ فُرْصَتَھا مَنْ لاَ حَرِیجَۃَ لَہُ فِی الدِّینِ، صَدَقْتَ وَاللّهِ وَخَسِرَ

پروا نہیں کرتا جو چاہے کر گزرتا ہے اور اپنے دین کی کچھ فکر نہیں کرتا آپ سچے اور اہل باطل

الْمُبْطِلُونَ وَ إذْ ماکَرَکَ النَّاکِثانِ، فَقالا نُرِیدُ الْعُمْرَۃَ، فَقُلْتَ لَھُما

گھاٹے میں ہیں جب بیعت توڑنے والے دو شخصوں نے مکر کیا اور آپ سے کہا ہم عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے ان سے کہا

لَعَمْرُکُما مَا تُرِیدانِ الْعُمْرَۃَ، لکِنْ تُرِیدانِ الْغَدْرَۃَ، فَٲَخَذْتَ الْبَیْعَۃَ عَلَیْھِما،

تمہاری زندگی کی قسم تم عمرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن یہ کہ تم دھوکہ دینا چاہتے ہو پس آپ نے بار دیگر ان سے بیعت لے لی

وَجَدَّدْتَ الْمِیثاقَ، فَجَدَّا فِی النِّفاقِ، فَلَمَّا نَبَّھْتَھُما عَلَی فِعْلِھِما ٲَغْفَلا وَعادا وَمَا

اور پھر سے عہد و پیمان باندھا مگر وہ دونوں نفاق کر رہے تھے جب آپ نے ان کو اس فعل سے خبردار کیا تو بے پروا ہو کر چلے گئے اور

انْتَفَعا، وَکانَ عاقِبَۃُ ٲَمْرِھِما خُسْراً، ثُمَّ تَلاھُما ٲَھْلُ الشَّامِ فَسِرْتَ إلَیْھِمْ بَعْدَ

کچھ فائدہ نہ پا سکے اور انجام کار وہ خسارے سے دوچار ہوئے پھر شام والوں نے بھی انہی کی پیروی کی تو ان کا عذر و بہانہ سن کر آپ

الْاِعْذارِ وَھُمْ لاَ یَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ، وَلاَ یَتَدَ بَّرُونَ الْقُرْآنَ، ھَمَجٌ رُعاعٌ ضَالُّونَ

ان کی طرف روانہ ہوئے کیونکہ ان کا دین و حق سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی قرآن کی تعلیم پر توجہ دیتے تھے اور ہر آواز کے پیچھے چلنے

وَبِالَّذِی ٲُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ فِیکَ کافِرُونَ، وَلاََِھْلِ الْخِلافِ عَلَیْکَ

والے گمراہ تھے آپ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پر جو آیات آئیں ان کا انکار کرتے تھے اور آپ کے دشمنوں کی مدد و نصرت کرنے

نَاصِرُونَ، وَقَدْ ٲَمَرَ اللّهُ تَعالی بِاتِّباعِکَ، وَنَدَبَ الْمُؤْمِنِینَ إلَی نَصْرِکَ، وَقالَ عَزَّ

والے تھے جبکہ خدا نے آپ کی پیروی کا حکم دیا اور مؤمنوں کو آپ کی نصرت کی دعوت دی تھی اور خدائے عز وجل

وَجَلَّ یَا ٲَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ، مَوْلایَ بِکَ ظَھَرَالْحَقُّ،

نے فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور حق سچ والوں کیساتھ ہو جاؤ میرے مولا(ع) آپ کے ذریعے حق آشکار ہوا

وَقَدْ نَبَذَہُ الْخَلْقُ، وَٲَوْضَحْتَ السُّنَنَ بَعْدَ الدُّرُوسِ وَالطَّمْسِ، فَلَکَ سابِقَۃُ الْجِھادِ

جب کہ لوگ اسے چھوڑ چکے تھے آپ نے پیغمبر کی سنتوں کو ظاہر کیا جب وہ بھلائی مٹائی جا چکیں تھیں پس تبلیغ قرآن کے لئے جہاد

عَلَی تَصْدِیقِ التَّنْزِیلِ وَلَکَ فَضِیلَۃُ الْجِھادِ عَلَی تَحْقِیقِ التَّٲْوِیلِ وَعَدُوُّکَ عَدُوُّ اللّهِ

میں آپ کو سبقت حاصل ہے اور قرآن کی تاویل و تعین مفہوم کیلئے جہاد کی فضیلت بھی آپ ہی کے لئے ہے آپ کا دشمن خدا کا دشمن

جاحِدٌ لِرَسُولِ اللّهِ یَدْعُو باطِلاً، وَیَحْکُمُ جائِراً، وَیَتَٲَمَّرُ غاصِباً، وَیَدْعُو حِزْبَہُ

خدا کے رسول(ص) کا انکار کرنے والا باطل کی طرف بلانے والا ظالمانہ فیصلہ کرنے والا زبردستی حکومت لینے والا اور اپنے گروہ کو جہنم

إلَی النَّارِ، وَعَمَّارٌ یُجاھِدُ وَیُنادِی بَیْنَ الصَّفَّیْنِ الرَّواحَ الرَّواحَ إلَی الْجَنَّۃِ، وَلَمَّا

کی طرف بلانے والا لیکن عمار جہاد کرتے اور آواز دے رہے تھے دو لشکروں کے درمیان کہ چلو چلو جنت کی طرف چلو

اسْتَسْقیٰ فَسُقِیَ اللَّبَنَ کَبَّرَ وَقالَ قالَ لِی رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ آخِرُ

اور جب انہوں نے پانی مانگا تو انہیں دودھ پلایا گیا تب تکبیر بلند کی اور کہا حضرت رسول نے مجھ سے فرمایا تھا

شَرابِکَ مِنَ الدُّنْیا ضَیاحٌ مِنْ لَبَنٍ، وَتَقْتُلُکَ الْفِیَۃُ الْباغِیَۃُ، فَاعْتَرَضَہُ ٲَبُو الْعادِیَۃِ

کہ دنیا میں تمہاری آخری خوراک دودھ کا پیالہ ہے اور تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا پس ابو العادیہ فزاری آپکے مقابل آیا اور

الْفَزارِیُّ فَقَتَلَہُ فَعَلیٰ ٲَبِی الْعادِیَۃِ لَعْنَۃُ اللّهِ وَلَعْنَۃُ مَلائِکَتِہِ وَرُسُلِہِ ٲَجْمَعِینَ وَعَلَیٰ

اس نے آپ کو شہید کردیا پس ابو العادیہ پر خدا کی اس کے فرشتوں کی اور اس کے رسولوں کی لعنت برستی رہے اس پر

مَنْ سَلَّ سَیْفَہُ عَلَیْکَ، وَسَلَلْتَ سَیْفَکَ عَلَیْہِ، یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، مِنَ الْمُشْرِکِینَ

جس نے آپ پر تلوار کھینچی اور اس پر بھی جس پر آپ نے تلوار کھینچی اے مؤمنوں کے امیر(ع)، جو مشرکوں میں سے اور

وَالْمُنافِقِینَ إلی یَوْمِ الدِّینِ وَعَلَی مَنْ رَضِیَ بِما سَائَکَ وَلَمْ یَکْرَھْہُ وَٲَغْمَضَ عَیْنَہُ

منافقوں میں سے ہیں روز قیامت تک لعنت ہو اور اس پر لعنت ہو اور آپ کو تکلیف پہنچانے پر راضی ہوا اور ناخوش نہ ہوا آنکھیں

وَلَمْ یُنْکِرْ، ٲَوْ ٲَعانَ عَلَیْکَ بِیَدٍ ٲَوْ لِسانٍ، ٲَوْ قَعَدَ عَنْ نَصْرِکَ، ٲَوْ خَذَلَ عَنِ الْجِھادِ

بند کر لیں اور نفرت نہیں کی یا آپ کے خلاف ہاتھ یا زبان سے معاون بنا آپ کی نصرت سے دست بردار یا جہاد میں آپ کو چھوڑ کر

مَعَکَ ٲَوْ غَمَطَ فَضْلَکَ وَجَحَدَ حَقَّکَ، ٲَوْ عَدَلَ بِکَ مَنْ جَعَلَکَ اللّهُ ٲَوْلیٰ بِہِ

چلا گیا یا آپ کی فضیلت کو چھپایا اور آپ کے حق کا منکر ہوا یااسے آپ کے برابرلایا کہ جس پر خدا نے آپ کو اس کے اپنے آپ

مِنْ نَفْسِہِ وَصَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ وَسَلامُہُ وَتَحِیَّاتُہُ وَعَلَی

سے زیادہ اختیار دیا اور درود ہو خدا کاآپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں اس کا سلام اور اس کی عنایت ہو اور آپ کی

الْاََئِمَّۃِ مِنْ آلِکَ الطَّاھِرِینَ إنَّہُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ۔ وَالْاََمْرُ الْاََعْجَبُ، وَالْخَطْبُ الْاََفْظَعُ

پاکیزہ اولاد میں سے ہونے والے ائمہ(ع) پر بھی بے شک وہ حمد والا شان والا ہے اور آپ کے حق کاانکار کیے جانے کے بعد سب سے

بَعْدَ جَحْدِکَ حَقَّکَ غَصْبُ الصِّدِیقَۃِ الطَّاھِرَۃِ الزَّھْرائِ سَیِّدَۃِ النِّسائِ فَدَکاً، وَرَدُّ

عجیب اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ صدیقہ طاہرہ زہرا کا حق غصب کیا گیا اور فدک چھین لیا گیا اور آپ کی اور آپ کی اولاد

شَھادَتِکَ وَشَھادَۃِ السَّیِّدَیْنِ سُلالَتِکَ وَعِتْرَۃِ الْمُصْطَفیٰ صَلَّی اللّهُ عَلَیْکُمْ وَقَدْ

میں سے دو ،سرداروں کی شہادتیں رد کی گئیں جو عترت پیغمبر (ص)میں سے ہیں خدا کی رحمت آپ سب پر کیونکہ خدا نے آپ کو امت پر

ٲَعْلَی اللّهُ تَعالی عَلَی الْاَُمَّۃِ دَرَجَتَکُمْ، وَرَفَعَ مَنْزِلَتَکُمْ، وَٲَبانَ فَضْلَکُمْ وَشَرَّفَکُمْ

بلندئ درجات عطا فرمائی، آپ کی شان بلند کی آپ کی فضیلت ظاہر فرمائی اور آپ کو سب جہانوں پر

عَلَی الْعالَمِینَ فَٲَذْھَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَہَّرَکُمْ تَطْھِیراً، قالَ اللّهُ عَزَّ وَجَلَّ إنَّ

بڑائی دی پس آپ سب سے ہر برائی کو دور رکھا اور آپ کو پاک رکھا جسطرح پاک رکھنے کا حق ہے خدائے عز و جل نے فرمایا انسان

الْاِنْسانَ خُلِقَ ھَلُوعاً إذا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعاً وَ إذا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوعاً إلاَّ الْمُصَلِّینَ

کو بے صبر پیدا کیا گیا کہ جب اسے تکلیف پہنچے تو گھبرا جاتا ہے اور جب بھلائی ملے تو روک لیتا ہے سوائے نماز گزاروں کے پس خدا

فَاسْتَثْنَیٰ اللّهُ تَعالی نَبِیَّہُ الْمُصْطَفیٰ وَٲَنْتَ یَا سَیِّدَ الْاََوْصِیائِ مِنْ جَمِیعِ الْخَلْقِ،

نے اپنے نبی محمد(ص) مصطفی کو اور اے اوصیا کے سردار آپ کو ساری مخلوق سے الگ قراردیا

فَما ٲَعْمَہَ مَنْ ظَلَمَکَ عَنِ الْحَقِّ، ثُمَّ ٲَفْرَضُوکَ سَھْمَ ذَوِی الْقُرْبیٰ مَکْراً، وَٲَحادُوہُ

پس کس قدر اندھا ہے وہ جو آپ کے حق کو نہیں پہچانتا پھر یہ کہ ان لوگوں نے مکر کے ساتھ نبی (ص)کے قرابت داروں کا حق تسلیم کیا اور ظلم

عَنْ ٲَھْلِہِ جَوْراً، فَلَمَّا آلَ الْاََمْرُ إلَیْکَ ٲَجْرَیْتَھُمْ عَلَی مَا ٲَجْرَیَا رَغْبَۃً عَنْھُما

کے ساتھ ان حقداروں کو محروم کیا پھر جب معاملہ آپ کے ہاتھ میں آیا تو آپ نے ان امور کو جوں کا توں رہنے دیا یا اس ثواب کی

بِمَا عِنْدَ اللّهِ لَکَ، فَٲَشْبَھَتْ مِحْنَتُکَ بِھِما مِحَنَ الْاََ نْبِیائِ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ عِنْدَ الْوَحْدَۃِ

خاطر جو خدا کے ہاں آپ کیلئے ہے پس ان دو باتوں میں آپ کی مظلومی انبیاء کی مظلومی جیسی ہے یعنی آپ کی تنہائی

وَعَدَمِ الْاََ نْصارِ، وَٲَشْبَھْتَ فِی الْبَیاتِ عَلَی الْفِراشِ الذَّبِیحَ ں إذْ ٲَجَبْتَ کَما

اور مددگاروں سے محرومی آپ کا شب ہجرت بستر رسول(ص) پر سونا مشابہ ہے ذبیح کی قربانی کے

ٲَجابَ، وَٲَطَعْتَ کَما ٲَطاعَ إسْمَاعِیلُ صَابِراً مُحْتَسِباً إذْ قالَ لَہُ یَا بُنَیَّ إ نِّی ٲَریٰ

جب آپ نے سونا قبول کیا اور حکم کی اطاعت کی جیسا کہ اسماعیل (ع)نے خوشدلی اور صبر سے اطاعت کی جب باپ نے ان سے کہا اے

فِی الْمَنامِ ٲَ نّٰی ٲَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَریٰ قالَ یَا ٲَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ

میرے بیٹے بے شک میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھو تمہاری کیارائے ہے انہوں نے کہا اے بابا جو

سَتَجِدُنِی إنْ شائَ اللّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ، وَکَذَلِکَ ٲَ نْتَ لَمَّا ٲَباتَکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ

حکم ملا اس کی تعمیل کریں خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر ہی پائیں گے اور اسی طرح جب نبی (ص)نے آپ کو

عَلَیْہِ وَآلِہِ وَٲَمَرَکَ ٲَنْ تَضْجَعَ فِی مَرْقَدِہِ واقِیاً لَہُ بِنَفْسِکَ ٲَسْرَعْتَ إلَی

اپنے بستر پر سلایا اور حکم دیا کہ آپ ان کے بستر پر سو جائیں اور اپنی جان کی قربانی سے آنحضرت(ص) کی جان بچائیں تو آپ فورا

إجابَتِہِ مُطِیعاً، وَ لِنَفْسِکَ عَلَی الْقَتْلِ مُوَطِّناً، فَشَکَرَ اللّهُ تَعالی طَاعَتَکَ،

اطاعت کرتے ہوئے اس پر آمادہ ہوگئے اور اپنے آپکو قتل ہونے کیلئے پیش کر دیا پس خدا نے آپکی اس فرمانبرداری کی قدر فرمائی

وَٲَبَانَ عَنْ جَمِیلِ فِعْلِکَ بِقَوْ لِہِ جَلَّ ذِکْرُہُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی

اور آپ کے کارنامے کو ظاہر کیا اپنے اس واضح قول کے ذریعے کہ لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی

نَفْسَہُ ابْتِغَائَ مَرْضَاۃِ اللّهِ، ثُمَّ مِحْنَتُکَ یَوْمَ صِفِّینَ وَقَدْ رُفِعَتِ الْمَصَاحِفُ حِیلَۃً

جانیں بیچ دیتے ہیں پھر جنگ صفین میں آپ کی سخت مصیبت کہ جب انہوں نے فریب کاری کے ساتھ قرآن نیزوں پر بلند کر

وَمَکْراً فَٲَعْرَضَ الشَّکُّ، وَعُزِفَ الْحَقُّ، وَاتُّبِعَ الظَّنُّ، ٲَشْبَھَتْ مِحْنَۃَ ھَارُونَ إذْ

دیئے تو لوگ شک و شبہ میں پڑ گئے حق کو چھوڑ دیا گیا اور شک پر عمل ہونے لگا آپ کی یہ مصیبت ہارون (ع) کی مشکل جیسی تھی جب کہ

ٲَمَّرَہُ مُوسیٰ عَلَیٰ قَوْمِہِ فَتَفَرَّقُوا عَنْہُ، وَھارُونُ یُنادِی بِھِمْ وَیَقُولُ یَا قَوْمِ إنَّما

موسیٰ(ع) نے ان کو اپنی قوم پر امیر مقرر کیا تولوگ انہیں چھوڑ گئے تب ہارون (ع)انہیں آوازیں دیتے اور کہتے تھے کہ اے قوم یقینا تم

فُتِنْتُمْ بِہِ وَ إنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمنُ فَاتَّبِعُونِی وَٲَطِیعُوا ٲَمْرِی ۔ قالُوا لَنْ

بچھڑے کے ذریعے آزمائے گئے ہو بے شک رحمان ہی تمہارا رب ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو انہوں نے کہا ہم تو

نَبْرَحَ عَلَیْہِ عاکِفِینَ حَتَّی یَرْجِعَ إلَیْنا مُوسیٰ ۔ وَکَذلِکَ ٲَنْتَ لَمَّا رُفِعَتِ

اس کے ارد گرد عبادت کرتے رہیں گے جب تک موسیٰ(ع) ہمارے پاس واپس نہیں آتے اسی طرح جب قرآن نیزوں پر بلند کیے

الْمَصاحِفُ قُلْتَ یَا قَوْمِ إنَّما فُتِنْتُمْ بِھا وَخُدِعْتُمْ فَعَصَوْک

گئے تو آپ بھی ان لوگوں سے فرما رہے تھے کہ اے لوگو یقینا اس میں تم آزمائے گئے ہو اور فریب دیے گئے ہو پس انہوں نے

وَخالَفُوا عَلیْکَ وَاسْتَدْعَوْا نَصْبَ الْحَکَمَیْنِ، فَٲَبَیْتَ عَلَیْھِمْ وَتَبَرَّٲْتَ إلَی

نافرمانی کی اور آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کو حکمین کے تقررکی خواہش کی تو آ پ نے اس سے انکار کیا ان کے اس فعل سے

اللّهِ مِنْ فِعْلِھِمْ وَفَوَّضْتَہُ إلَیْھِمْ، فَلَمَّا ٲَسْفَرَ الْحَقُّ، وَسَفِہَ الْمُنْکَرُ، وَاعْتَرَفُوا

خدا کی جانب برأت ظاہر کی اور معاملہ ان پر چھوڑ دیا پھر جب حق ظاہر ہوا منکروں کی بے وقوفی عیاں ہوئی اور انہوں نے لغزش کا

بِالزَّلَلِ وَالْجَوْرِ عَنِ الْقَصْدِ اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِہِ وَٲَلْزَمُوکَ عَلَی سَفَہِ التَّحْکِیمِ الَّذِی

اعتراف کیا اور نافرمانی کی اور بعد میں اپنی اس بات سے پھر گئے اور اس پنچایت ﴿تحکیم﴾کی غلطی کو آپکے ذمے لگانے لگے کہ جسکا

ٲَبَیْتَہُ وَٲَحَبُّوہُ وَحَظَرْتَہُ وَٲَباحُوا ذَ نْبَھُمُ الَّذِی اقْتَرَفُوہُ وَٲَنْتَ عَلَی نَھْجِ بَصِیرَۃٍ

آپ نے انکار کیا اور انہوں نے اس میں رغبت کی آپ نے منع کیا اورانہوں نے جو گناہ کیا تھا اس کو درست سمجھنے لگےآپ عقل

وَھُدیً، وَھُمْ عَلَی سُنَنِ ضَلالَۃٍ وَعَمیً، فَمَا زالُوا عَلَی النِّفاقِ مُصِرِّینَ

وہدایت کی راہ پر تھے اور وہ لوگ گمراہی اور اندھے پن کے طریقے اختیار کیے ہوئے تھے پس انہوں نے نفاق کا دامن پکڑا اپنی

وَفِی الْغَیِّ مُتَرَدِّدِینَ حَتَّی ٲَذاقَھُمُ اللّهُ وَبَالَ ٲَمْرِھِمْ،

گمراہی پر اصرار کرتے رہے جب کہ گمراہی میں پڑتے رہے یہاں تک کہ خدا نے انہیں انکے کیے کا مزہ چکھایا آپ کے مخالفوں

فَٲَماتَ بِسَیْفِکَ مَنْ عانَدَکَ فَشَقِیَ وَھَویٰ، وَٲَحْیا بِحُجَّتِکَ مَنْ سَعَدَ

کو آپ کی تلوار سے قتل کرایا اور وہ بد بختی کے ساتھ تباہ ہوئے اور جنہوں نے آپ کو حجت مانا وہ خوش بخت اور خدا کی ہدایت حاصل

فَھُدِیَ، صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ غادِیَۃً وَرائِحَۃً وَعاکِفَۃً وَذاھِبَۃً، فَمَا یُحِیطُ الْمَادِحُ

کرتے زندہ ہوئے رحمت ہو آپ پر ہر صبح وشام خواہ آپ کسی جگہ ٹھہرے ہوں چل رہے ہوں کیونکہ مدح کرنے والا آپ کے

وَصْفَکَ، وَلاَ یُحْبِطُ الطَّاعِنُ فَضْلَکَ، ٲَنْتَ ٲَحْسَنُ الْخَلْقِ عِبَادَۃً، وَٲَخْلَصُھُمْ

اوصاف گن نہیں سکتا اورطعن کرنے والا آپ کی فضیلت کو چھپا نہیں سکتا آپ عبادت میں ساری مخلوق سے بہتر زہد میں سب سے

زَھَادَۃً ، وَٲَذَ بُّھُمْ عَنِ الدِّین ِ، ٲَقَمْتَ حُدُودَ اللّهِ بِجُھْدِکَ، وَفَلَلْتَ عَسَاکِرَ الْمَارِقِینَ

خالص ہیں اور دین کی حفاظت میں سب سے آگے ہیں آپ نے حدود الہی کے قیام میں بڑی کوشش کی آپ نے اپنی تلوار سے

بِسَیْفِکَ، تُخْمِدُ لَھَبَ الْحُرُوبِ بِبَنانِکَ، وَتَھْتِکُ سُتُورَ الشُّبَہِ

بے دین ہونے والوں کے لشکر ناکارہ بنادئیے آپ نے انگلی کے اشارے سے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کردیئے اپنے بیان سے

بِبَیانِکَ، وَتَکْشِفُ لَبْسَ الْباطِلِ عَنْ صَرِیحِ الْحَقِّ لاَ تَٲْخُذُکَ فِی اللّهِ

شک کے پردوں کو چاک کر ڈالا اور آپ نے حق کے چہرے سے باطل کے حجاب نوچ لئے کیونکہ خدا کے معاملے میں آپ کو ملامت

لَوْمَۃُ لائِمٍ، وَفِی مَدْحِ اللّهِ تَعالی لَکَ غِنیً عَنْ مَدْحِ الْمادِحِینَ وَتَقْرِیظِ

کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں اور جب خدا ہی آپ کی تعریف کر رہا ہے تو مدح کرنے والوں کی مدح اور تعریف کرنے

الْواصِفِینَ قالَ اللّهُ تَعالی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّهَ عَلَیْہِ

والوں کی تعریف کا کیا ہے خدائے تعالی کا فرمان ہے کہ مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے خدا سے کیا ہوا عہد سچ کردکھایا

فَمِنْھُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْھُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلاً، وَلَمَّا رَٲَیْتَ ٲَنْ قَتَلْتَ

پس ان میں سے کچھ دنیا سے چلے گئے اور ان میں سے بعض انتظار میں ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جب آپ نے دیکھا

النَّاکِثِینَ وَالْقَاسِطِینَ وَالْمَارِقِینَ وَصَدَقَکَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَعْدَہُ

کہ عہد توڑنے والے تفرقہ ڈالنے والے اور بے دین آپ سے لڑتے ہیں اور حضرت رسول اﷲ کا آپ کو دیا ہوا وعدہ سچ نکلا

فَٲَوْفَیْتَ بِعَھْدِہِ قُلْتَ ٲَمَا آنَ ٲَنْ تُخْضَبَ ھذِہِ مِنْ ھذِہِ ٲَمْ مَتیٰ یُبْعَثُ ٲَشْقاھا

تو آپ نے وہ عہد پورا کردیا تب آپ نے کہا کہ وہ وقت کیا نہیں آیا ہے کہ پیشانی کے خون سے داڑھی پر خصاب ہو تو وہ بد بخت

واثِقاً بِٲَنَّکَ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّکَ، وَبَصِیرَۃٍ مِنْ ٲَمْرِکَ، قادِمٌ عَلَی اللّهِ،

کب اٹھے گا یہ اس لیے کہ اپنے رب کی واضح دلیل کا آپ کو یقین اور اپنے معاملے میں کامل بصیرت حاصل تھی آپ بارگاہ الہی میں

مُسْتَبْشِرٌ بِبَیْعِکَ الَّذِی بایَعْتَہُ بِہِ وَذلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَۃَ ٲَنْبِیائِکَ

جان کی تجارت پر خوش ہوکر گئے جو تجارت اس ذات خداسے کی تھی اور یہی وہ بڑی کامیابی ہے اے اللہ! لعنت کراپنے

وَٲَوْصِیائِ ٲَنْبِیائِکَ بِجَمِیعِ لَعَناتِکَ، وَٲَصْلِھِمْ حَرَّ نارِکَ ، وَالْعَنْ مَنْ غَصَبَ وَلِیَّکَ

نبیوں کے قاتلوں اور انکے اوصیا کے قاتلوں پر مکمل لعنت اور انکو آتش جنہم میں جھونک دے اور لعنت کر ان پر جنہوں نے تیرے ولی

حَقَّہُ، وَٲَنْکَرَ عَھْدَہُ، وَجَحَدَہُ بَعْدَ الْیَقِینِ وَالْاِقْرارِ بِالْوِلایَۃِ لَہُ یَوْمَ ٲَکْمَلْتَ لَہُ

کا حق چھینا ان کی بیعت کا انکار کیا اور دین کے کامل ہونے کے دن ان کی ولایت کا یقینی اقرار کرنے کے بعد اس کے مخالف

الدِّینَ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَۃَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ ظَلَمَہُ وَٲَشْیاعَھُمْ وَٲَ نْصارَھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ

ہوگئے اے اللہ! لعنت کر امیر المؤمنین(ع) کے قاتلوں پر حضرت پر ظلم کرنے والے پر ان ظالموں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر اے اللہ!

الْعَنْ ظالِمِی الْحُسَیْنِ وَقاتِلِیہِ، وَالْمُتابِعِینَ عَدُوَّہُ وَناصِرِیہِ، وَالرَّاضِینَ

لعنت کر امام حسین (ع)پرظلم کرنے والوں پر آپ کے قاتلوں پر آپ کے دشمنوں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر آپ کے قتل پر خوش

بِقَتْلِہِ وَخاذِلِیہِ لَعْناً وَبِیلاً ۔ اَللّٰھُمَّ الْعَنْ ٲَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ آلَ مُحَمَّدٍ وَمانِعِیھِمْ

ہونے والوں اور آپ کو چھوڑ جانے والوں پر لعنت اور انہیں عذاب دے اے اللہ! لعنت اس پہلے ظالم پر جس نے آل محمد(ص) (ص) پر ظلم کیا

حُقُوقَھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ خُصَّ ٲَوَّلَ ظالِمٍ وَغاصِبٍ لآَِلِ مُحَمَّدٍ بِاللَّعْنِ وَکُلَّ

اور انکے حقوق کو روک لیا اے اللہ! آل محمد(ص) پر ظلم کرنے والے انکا حق غصب کرنے والے پہلے ظالم سے مخصوص اظہار بیزاری کر اور

مُسْتَنٍّ بِمَا سَنَّ إلی یَوْمِ الْقِیامَۃِ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلَی

اس کے طریقے پر چلنے والوں سے تاقیامت اظہار بیزاری کرتا رہ اے معبود! رحمت فرما نبیوں کے خاتم حضرت محمد(ص) پر اور رحمت کر

عَلِیٍّ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ، وَاجْعَلْنا بِھِمْ مُتَمَسِّکِینَ، وَبِوِلایَتِھِمْ مِنَ

اوصیا کے سردار علی (ع) پر اور ان کی پاک آل (ع)پر اور قرار دے ہمیں ان سے تعلق رکھنے اور ان کی ولایت کو ماننے والوں

الْفَائِزِینَ الْاَمِنِینَ الَّذِینَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُونَ ۔

میں کہ جن کو نہ کوئی خوف ہے نہ ان کو کچھ غم واندیشہ ہے۔

مؤلف کہتے ہیں ہم نے کتاب ہدیتہُ الزائرین میں اس زیارت کی سندکی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس زیارت کو ہر روز نزدیک یا دور سے پڑھا جاسکتا ہے ذوق عبادت رکھنے والوں اور امیرالمؤمنین کی زیارت کے شائقین کو اسے غنیمت شما رکرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے

روز غدیرکی تیسری زیارت وہ ہے‘ جسے سید نے اقبال میں امام جعفر صادق  سے نقل کیا اور فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص غدیر کے دن امیر المؤمنین (ع)کی قبر پر موجود ہو تو نماز اور دعا کے بعد قبر شریف کے نزدیک جاکر یہ زیارت پڑھے۔ اگر کسی دوسرے شہر میں ہو تو اس دن امیر المؤمنین کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے پڑھے اور وہ دعا یہ ہے۔

دعائے بعد از زیارت امیر

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ وَٲَخِی نَبِیِّکَ وَوَزِیرِہِ وَحَبِیبِہِ وَخَلِیلِہِ، وَمَوْضِعِ سِرِّہِ،

اے معبود! رحمت نازل فرما اپنے ولی پر جو تیرے نبی(ص) کے برادر ان کے وزیر ان کے حبیب ان کے خلیل اور ان کے راز دار ہیں

وَخِیَرَتِہِ مِنْ ٲُسْرَتِہِ، وَوَصِیِّہِ وَصَفْوَتِہِ وَخالِصَتِہِ وَٲَمِینِہِ وَوَ لِیِّہِ وَٲَشْرَفِ عِتْرَتِہِ

وہ انکے خاندان میں سے بہترین شخص انکے وصی انکے چنے ہوئے انکے خاص وخالص انکے امانتدار انکے ولی اور انکی عترت میں بلند

الَّذِینَ آمَنُوا بِہِ، وَٲَبِی ذُرِّیَّتِہِ، وَبابِ حِکْمَتِہِ، وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِہِ، وَالدَّاعِی إلَی

تر ہیں کہ وہ نبی اکرم (ص) پر ایمان لائے اور انکی ذریت کے باپ ہیں وہ ان کی حکمت کا دروازہ ان کی حجت کے بیان کرنے والے ان

شَرِیعَتِہِ، وَالْماضِی عَلَی سُنَّتِہِ، وَخَلِیفَتِہِ عَلَی ٲُمَّتِہِ، سَیِّدِ الْمُسْلِمِینَ، وَٲَمِیرِ

کی شریعت کی طرف بلانے والے ان کی سنت پر عمل کرنے والے ان کی امت میں ان کے جانشین مسلمانوں کے سردار اور مومنوں

الْمُوَْمِنِینَ وَقائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ

کے امیر ہیں وہ چمکتے چہروںوالوں کے پیشرو ہیں ان پروہ بہترین رحمت فرما کہ جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی پر اور اپنے برگزیدہ و

وَٲَصْفِیائِکَ وَٲَوْصِیائِ ٲَنْبِیائِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَشْھَدُ ٲَنَّہُ قَدْ بَلَّغَ عَنْ

منتخب بندوں میں سے اور اپنے نبیوں کے اوصیا میں کسی پر کی ہو اے اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے وہ احکام لوگوں تک پہنچائے

نَبِیِّکَ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ مَا حُمِّلَ وَرَعیٰ مَا اسْتُحْفِظَ وَحَفِظَ مَا اسْتُودِ عَ وَحَلَّلَ

جو تیرے نبی سے حاصل کیے وہ یاد رکھا جو یاد رکھناچاہیے تھا جو کچھ ان کے سپرد ہوا اس کی نگہداری کی تیرے حلال کو

حَلالَکَ، وَحَرَّمَ حَرامَکَ، وَٲَقامَ ٲَحْکامَکَ، وَدَعا إلی سَبِیلِکَ، وَوَالیٰ ٲَوْلِیائَکَ،

حلال اور تیرے حرام کو حرام قرار دیا اور تیرے احکام جاری کیے تیری راہ کی طرف بلاتے رہے تیرے دوستوں سے محبت رکھی

وَعَادَیٰ ٲَعْدائَکَ وَجَاھَدَ النَّاکِثِینَ عَنْ سَبِیلِکَ، وَالْقاسِطِینَ وَالْمارِقِینَ عَنْ ٲَمْرِکَ،

اور تیرے دشمنوں کے دشمن رہے انہوں نے تیری بیعت توڑنے والوں تفرقہ ڈالنے والوں اور تیرے حکم کو نہ سمجھنے والوں کے ساتھ

صابِراً مُحْتَسِباً مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ لاَ تَٲْخُذُہُ فِی اللّهِ لَوْمَۃُ لائِمٍ حَتَّی بَلَغَ فِی ذلِکَ

صبر اور خیر خواہی سے جہاد کیا کہ بڑھتے تو پیچھے نہ ہٹتے تھے خدا کے معاملے میں وہ کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ اسی عمل

الرِّضا، وَسَلَّمَ إلَیْکَ الْقَضائَ، وَعَبَدَکَ مُخْلِصاً، وَنَصَحَ لَکَ مُجْتَھِداً حَتَّی ٲَتاہُ

میں تیری رضا تک پہنچے اور تیرے فیصلے کو قبول کرلیا انہوں نے تیری خاص عبادت کی اور تیری خاطر نصیحت کرتے رہے حتیٰ کہ ان کی

الْیَقِینُ، فَقَبَضْتَہُ إلَیْکَ شَھِیداً سَعِیداً وَلِیّاً تَقِیّاً رَضِیّاً زَکِیّاً ھادِیاً مَھْدِیّاً ۔

شہادت واقع ہوئی تو نے ان کی جان قبض کرلی اور وہ شہید نیک بخت ولی پرہیزگار پسندیدہ پاکباز رہبر ورہنما اور ہدایت یافتہ تھے

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْہِ ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَنْبِیائِکَ وَٲَصْفِیائِکَ

اے اللہ رحمت فرما حضرت محمد(ص) پر اور ان ﴿علی(ع)﴾ پر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں اوراپنے منتخب بندوں میں سے کسی پر کی ہو

یَا رَبَّ الْعالَمِینَ ۔

اے جہانوں کے پروردگار ۔

مؤلف کہتے ہیں: سید (رح) نے مصباح الزائر میں اس باشرف دن میں پڑھنے کیلئے ایک اور زیارت نقل کی ہے مگر اس دن کے ساتھ اس زیارت کی خصوصیت کا علم نہیں ہوسکا‘ مذکورہ زیارت ان دو زیارتوں پر مشتمل ہے جن کو علامہ مجلسی نے تحفہ کی دوسری اور تیسری زیارت قرارد یا ہے۔

دوسری مخصوص زیارت

یہ حضرت رسولﷺ کے روز ولادت کی زیارت ہے ‘ شیخ مفید(رح) شہید(رح) اور سید ابن طاؤس نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق  نے 17ربیع الاول کو امیر المؤمنین کی زیارت میں یہی زیارت پڑھی اور باوثوق صحابی محمد بن مسلم ثقفی کو بھی تعلیم فرمائی۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ جب امیر المؤمنین کے روضئہ پاک پر آؤ تو زیارت کیلئے غسل کرو، پاک ترین لباس پہنو اورخوشبو لگاؤ پھر آرام وسکون کے ساتھ چلتے ہوئے جب باب السلام یعنی حرم مطہر کے دروازے پر پہنچو تو قبلہ رخ ہوکر تیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور اس کے بعد یہ زیارت پڑھو۔

اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی خِیَرَۃِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْبَشِیرِ النَّذِیرِ

سلام ہو خدا کے رسول(ص)(ص) پر سلام ہو خدا کے چنے ہوئے پر سلام ہو خوشخبری دینے ڈرانے والے پر

السِّراجِ الْمُنِیرِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَی الطُّھْرِ الطَّاھِرِ، اَلسَّلَامُ عَلَی

جو نورانی چراغ ہے خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکتیں ہوں سلام ہو پاک وپاکیزہ پر سلام ہو

الْعَلَمِ الزَّاھِرِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَنْصُورِ الْمُؤَیَّدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَبِی الْقَاسِمِ مُحَمَّدٍ

چمکتے ہوئے پرچم پر سلام ہو مدد کیے ہوئے تائید کیے ہوئے پر سلام ہو ابو القاسم حضرت محمد(ص) پر

وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَنْبِیائِ اللّهِ الْمُرْسَلِینَ وَعِبادِ اللّهِ الصَّالِحِینَ،

خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوںسلام ہو خدا کے بھیجے ہوئے سبھی نبیوں پر اور اس کے نیک بندوں پر

اَلسَّلَامُ عَلَی مَلائِکَۃِ اللّهِ الْحَافِّینَ بِھَذَا الْحَرَمِ وَبِھَذَا الضَّرِیحِ اللاَّئِذِینَ بِہِ ۔

سلام ہو خدا کے ان فرشتوں پر جو اس حرم کے گرد کھڑے ہیں اور انہوں نے اس ضریح کی پناہ لے رکھی ہے ۔

پھر قبر کے نزدیک جا کر یہ پڑھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ الْاََوْصِیائِ، السَّلامُّ عَلَیْکَ یَا عِمادَ الْاََتْقِیائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

آپ پر سلام ہو اے سب اوصیائ کے وصی آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاروں کے ستون آپ پر سلام ہو

یَا وَ لِیَّ الْاََوْلِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الشُّھَدائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا آیَۃَ اللّهِ الْعُظْمی

اے اولیا کے ولی آپ پر سلام ہو اے شہیدوں کے سالار آپ پر سلام ہو اے خدا کی عظیم نشانی

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خامِسَ ٲَھْلِ الْعَبائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْاََتْقِیائِ

آپ پر سلام ہوا ے آل عبا میں پانچویں فرد آپ پر سلام ہو اے چمکتے چہروں والے نیکوں کے سردار

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عِصْمَۃَ الْاََوْ لِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا زَیْنَ الْمُوَحِّدِینَ النُّجَبائِ

سلام ہو آپ پر اے اولیا کی ڈھال سلام ہو آپ پر اے توحید پر ستوں کی زینت

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خالِصَ الْاََخِلاّئِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا والِدَ الْاََئِمَّۃِ الْاَُمَنائِ، اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو اے دوستان خدا میں خالص سلام ہو آپ پر اے امانتدار ا ئمہ(ع) کے باپ آپ پر

عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْحَوْضِ وَحامِلَ اللِّوائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَسِیمَ الْجَنَّۃِ وَلَظی،

سلام ہو اے ساقی حوض کوثر اور لوائ الحمد کے اٹھانے والے آپ پر سلام ہو اے جنت وجہنم کو تقسیم کرنے والے

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ شُرِّفَتْ بِہِ مَکَّۃُ وَمِنی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَحْرَ الْعُلُومِ وَکَنَفَ

آپ پر سلام ہو اے وہ ذات جس سے مکہ ومنیٰ نے عزت پائی آپ پر سلام ہو اے علوم کے سمندر اور محتاجوں کی

الْفُقَرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ وُ لِدَ فِی الْکَعْبَۃِ وَزُوِّجَ فِی السَّمائِ بِسَیِّدَۃِ النِّسائِ

امید گاہ آپ پر سلام ہو اے وہ جو کعبے میں پیدا ہوا جس کا آسمان پر سیدہ زہرا﴿س﴾ سے نکاح ہوا

وَکانَ شُھُودُھَا الْمَلائِکَۃُ الْاََصْفِیائُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مِصْباحَ الضِّیائِ، اَلسَّلَامُ

اور منتخب فرشتے اس کے گواہ بنے آپ پر سلام ہو اے روشنی دینے والے چراغ آپ پر

عَلَیْکَ یَا مَنْ خَصَّہُ النَّبِیُّ بِجَزِیلِ الْحِبائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ باتَ عَلَی فِرَاشِ

سلام ہو اے وہ جسے پیغمبر (ص)نے بڑی عطا کے لیے مخصوص فرمایا آپ پر سلام ہو اے وہ جو نبیوں میں

خاتَمِ الْاََ نْبِیائِ وَوَقاہُ بِنَفْسِہِ شَرَّ الْاََعْدائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ رُدَّتْ لَہُ الشَّمْسُ

آخری نبی (ص)کے بستر پر سویا اور اپنی جان کے عوض انہیں دشمنوں سے بچایاآپ پر سلام ہو اے وہ جس کے لیے سورج پلٹ آیا

فَسامیٰ شَمْعُونَ الصَّفا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ ٲَنْجَی اللّهُ سَفِینَۃَ نُوحٍ بِاسْمِہِ

تو وہ شمعون صفا قرار پایا آپ پر سلام ہو اے وہ کہ خدا نے کشتی نوح کو اس کے نام اور اس کے

وَاسْمِ ٲَخِیہِ حَیْثُ الْتَطَمَ الْمائُ حَوْلَھا وَطَمیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ تابَ اللّهُ بِہِ

بھائی کے نام پر بچایا جب وہ پانی کی موجوں میں طلاطم کے خطرے میں تھی آپ پر سلام ہو اے وہ کہ خدا نے اس کے

وَبِٲَخِیہِ عَلَی آدَمَ إذْ غَویٰ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فُلْکَ النَّجاۃِ الَّذِی مَنْ

اور اس کے بھائی کے نام پر آدم (ع) کی توبہ کوقبول کیا جب وہ ترک اولی میں مبتلا ہو گئے آپ پر سلام ہو اے وہ کشتی نجات کہ جو اس پر

رَکِبَہُ نَجَا وَمَنْ تَٲَخَّرَ عَنْہُ ھَوی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ خاطَبَ الثُّعْبانَ وَذِئْبَ الْفَلا،

سوار ہوا بچ گیا اور جو ہٹا رہا وہ ہلاک ہوگیا آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے اژدھا اور جنگل کے بھیڑیے سے خطاب کیا

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیرخدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے انکار کرنے والوں اور رجوع

عَلَیٰ مَنْ کَفَرَ وَٲَنابَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ ذَوِی الْاََلْبابِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَعْدِنَ

کرنے والوں پر خدا کی حجت آپ پر سلام ہو اے صاحبان عقل کے امام آپ پر سلام ہو اے علم

الْحِکْمَۃِ وَفَصْلَ الْخِطابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

وحکمت اور فیصلہ دینے کے خرینہ دار آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے پاس علم کتاب ہے سلام ہو آپ پر

یَا مِیزانَ یَوْمِ الْحِسابِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فاصِلَ الْحُکْمِ النَّاطِقَ بِالصَّوابِ اَلسَّلَامُ

اے حساب میں میزان عمل آپ پر سلام ہو اے واضح اور بہترین فیصلہ دینے والے آپ پر

عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْمُتَصَدِّقُ بِالْخاتَمِ فِی الْمِحْرابِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ کَفَی اللّهُ الْمُؤْمِنِینَ

سلام ہو کہ آپ نے محراب عبادت میں انگشتری صدقہ میں دی آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے ذریعے خدا نے مومنوں

الْقِتالَ بِہِ یَوْمَ الْاََحْزابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ ٲَخْلَصَ لِلّٰہِ الْوَحْدَانِیَّۃَ وَٲَنَابَ،

کی احزاب کے دن مدد کی آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے خلوص سے خدا کو ایک مانا اور متوجہ رہے

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَاتِلَ خَیْبَرَ وَقالِعَ الْبابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ دَعَاہُ خَیْرُ الْاََنَامِ

آپ پر سلام ہو اے اہل خیبر کو قتل کرنے اور دروازہ اکھاڑنے والے آپ پر سلام ہو اے وہ جسے مخلوقات میں سے سب سے افضل نے

لِلْمَبِیتِ عَلَی فِراشِہِ فَٲَسْلَمَ نَفْسَہُ لِلْمَنِیَّۃِ وَٲَجابَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ لَہُ طُوبیٰ

اپنے بستر پر سونے کے لیے بلایا تو اس نے حکم مانا اور خود کو موت کے منہ میں دے دیا آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے لیے خوشخبری

وَحُسْنُ مَآبٍ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ عِصْمَۃِ الدِّینِ وَیَا سَیِّدَ

اور بہترین مقام ہے خدا کی رحمت ہے اور اس کی برکات ہیں سلام ہو آپ پر اے دین کی حفاظت کے ذمہ دار اور سرداروں کے

السَّاداتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْمُعْجِزاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ نَزَلَتْ فِی

سردار آپ پر سلام ہو اے معجزوں کے مالک سلام ہوآپ پر اے وہ جس کی فضیلت میں

فَضْلِہِ سُورَۃُ الْعادِیاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ کُتِبَ اسْمُہُ فِی السَّمائِ عَلَی السُّرادِقاتِ

سورہ عادیات نازل ہوا آپ پر سلام ہو اے وہ جس کا نام آسمانوں کے پردوں پر لکھا ہوا ہے

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُظْھِرَ الْعَجائِبِ وَالْاَیاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْغَزَواتِ اَلسَّلَامُ

سلام ہو آپ پر اے عجیب امور اور نشانیاں ظاہر کرنے والے آپ پر سلام ہو اے جنگوں کے سپہ سالار آپ پر

عَلَیْکَ یَا مُخْبِراً بِما غَبَرَ وَبِما ھُوَ آتٍ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُخاطِبَ ذِئْبِ الْفَلَواتِ اَلسَّلَامُ

سلام ہو اے خبر دینے والے اس کی جو ہوچکا اور جو ہوگا آپ پر سلام ہو اے صحرائی بھیڑیے سے خطاب کرنے والے آپ پر

عَلَیْکَ یَا خاتِمَ الْحَصیٰ وَمُبَیِّنَ الْمُشْکِلاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ عَجِبَتْ مِنْ

سلام ہو اے پتھروں پر نقش کرنے والے اور مشکلیں حل کردینے والے سلام ہو آپ پرا ے وہ کہ جنگ میں جس کے حملوں

حَمَلاتِہِ فِی الْوَغَی مَلائِکَۃُ السَّمٰوَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ ناجَی الرَّسُولَ فَقَدَّمَ

سے آسمانوں کے فرشتے حیران ہوئے سلام ہو آپ پر اے وہ جس نے حضرت رسول(ص) سے سرگوشی کی

بَیْنَ یَدَیْ نَجْواہُ الصَّدَقاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا والِدَ الْاََئِمَّۃِ الْبَرَرَۃِ السَّاداتِ وَرَحْمَۃُ

اور سرگوشی کے وقت صدقات پیش کیے سلام ہوآپ پر اے ان ائمہ(ع) کے باپ جو نیک سردار ہیں خدا کی

اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا تالِیَ الْمَبْعُوثِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ خَیْرِ

رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے رسول(ص) کے قائم مقام سلام ہو آپ پراے علم کے مورث جو بہترین

مَوْرُوثٍ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا

ورثہ ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے اوصیا کے سردار آپ پر سلام ہو اے

إمامَ الْمُتَّقِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاغِیاثَ الْمَکْرُوبِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عِصْمَۃَ الْمُؤْمِنِینَ

پرہیزگاروں کے امام آپ پر سلام ہو اے دکھی لوگوں کے فریاد رس آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے نگہدار

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُظْھِرَ الْبَراھِینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا طہ وَیٓسَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبْلَ

آپ پر سلام ہو اے دلیل وبرہان ظاہر کرنے والے سلام ہوآپ پر اے طہ اور یاسین آپ پر سلام ہو اے اللہ کی مضبوط

اللّهِ الْمَتِینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ تَصَدَّقَ فِی صَلاتِہِ بِخاتَمِہِ عَلَی الْمِسْکِینِ اَلسَّلَامُ

رسی آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے حالت نماز میں اپنی انگشتری مسکین کو صدقہ میں دی آپ پر

عَلَیْکَ یَا قالِعَ الصَّخْرَۃِ عَنْ فَمِ الْقَلِیبِ وَمُظْھِرَ الْمائِ الْمَعِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ

سلام ہو اے کنویں پر سے پتھر کی سل ہٹا کر ٹھنڈا پانی کھولنے والے آپ پر سلام ہو اے خدا کی دیکھنے

اللّهِ النَّاظِرَۃَ ، وَیَدَہُ الْباسِطَۃَ، وَ لِسانَہُ الْمُعَبِّرَ عَنْہُ فِی بَرِیَّتِہِ ٲَجْمَعِینَ، اَلسَّلَامُ

والی آنکھ اس کا کھلا ہوا ہاتھ اور اسکی ساری مخلوق کو اس کی خبردینے والی زبان آپ پر

عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، وَمُسْتَوْدَعَ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَصاحِبَ لِوائِ

سلام ہو اے نبیوں کے علم کے وارث اور اولین اور آخرین کے علم کے امانتدار لوائ حمد کے

اَلْحَمْدِ وَساقِیَ ٲَوْلِیائِہِ مِنْ حَوْضِ خاتَمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا یَعْسُوبَ الدِّین

اٹھانے والے اور آخری پیغمبر(ص) کے حوض کوثر سے ان کے دوستوں کو سیراب کرنے والے آپ پر سلام ہو اے دین کے سردار

وَقائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ، وَوالِدَ الْاََئِمَّۃِ الْمَرْضِیِّینَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ

چمکتے چہرے والوں کے قائد پر سلام ہو خدا کے پسندیدہ اماموں کے باپ خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں سلام ہو

عَلَی اسْمِ اللّهِ الرَّضِیِّ وَوَجْھِہِ الْمُضِیئِ وَجَنْبِہِ الْقَوِیِّ وَصِراطِہِ السَّوِیِّ

خدا کے پسندیدہ نام پر اس کے تابندہ جلوے اس کے توانا طرفدار اور اس کے راہ راست پر

اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ التَّقِیِّ الْمُخْلِصِ الصَّفِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْکَوکَبِ الدُّرِّیِّ

سلام ہو اس امام پر جو پرہیزگار مخلص پاکیزہ ہے سلام ہو چمکتے ہوئے ستارے پر

اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ ٲَبِی الْحَسَنِ عَلِیٍّ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی ٲَئِمَّۃِ

سلام ہو ابو الحسن امام علی مرتضی(ع)ٰ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو ہدایت یافتہ

الْھُدیٰ، وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ، وَٲَعْلامِ التُّقیٰ، وَمَنارِ الْھُدیٰ، وَذَوِی النُّھَیٰ، وَکَھْفِ

اماموں پر جو تاریکی کے چراغ پرہیزگاری کے نشان ہدایت کے مینار صاحبان عقل وخرد مخلوق کی جائے پناہ مضبوط تر رسی اور

الْوَرَیٰ، وَالْعُرْوَۃِ الْوُثْقی، وَالْحُجَّۃِ عَلَی ٲَھْلِ الدُّنْیا وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ اَلسَّلَامُ

دنیا والوں پر خدا کی حجت ہیں خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو

عَلَی نُورِ الْاََ نْوارِ، وَحُجَّۃِ الْجَبَّارِ، وَوالِدِ الْاََئِمَّۃِ الْاََطْھارِ، وَقَسِیمِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ،

انوار کے نور پر جو خدائے جبار کی حجت پاک ائمہ(ع) کا باپ جنت وجہنم تقسیم کرنے والا

الْمُخْبِرِ عَنِ الْاَثارِ، الْمُدَمِّرِ عَلَی الْکُفَّارِ، مُسْتَنْقِذِ الشِّیعَۃِ الْمُخْلِصِینَ مِنْ عَظِیمِ

قدیم آثار سے خبریں دینے والا کافروں کو ہلاک کرنے والا اور خالص ومخلص شیعوں کو گناہوں کے بوجھ تلے سے

الْاََوْزارِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ بِالطَّاھِرَۃِ التَّقِیَّۃِ ابْنَۃِ الْمُخْتارِ، الْمَوْلُودِ فِی

نکالنے والا ہے سلام ہو اس پر جو خاص کیا گیا پاکیزہ تقیہ دختر نبی(ص) کے لیے جو پیدا ہوا پردوں والے گھر ﴿کعبہ﴾

الْبَیْتِ ذِی الْاََسْتارِ، الْمُزَوَّجِ فِی السَّمائِ بِالْبَرَّۃِ الطَّاھِرَۃِ الرَّضِیَّۃِ الْمَرْضِیَّۃِ والِدَۃِ

میں جس کا نکاح ہوا آسمان میں نیک اور پاکیزہ بی بی سے جو راضی شدہ راضی کی گئی

الْاََئِمَّۃِ الْاََطْھارِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبَاََ الْعَظِیمِ الَّذِی ھُمْ فِیہِ

پاک ائمہ(ع) کی ماں ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو اس بڑی خبر پر کہ جس میں وہ لوگ

مُخْتَلِفُونَ، وَعَلَیْہِ یُعْرَضُونَ، وَعَنْہُ یُسْٲَلُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ اللّهِ الْاََ نْوَرِ،

اختلاف کرتے اس پر معترض ہوتے اور اس کے متعلق پوچھتے ہیں سلام ہو خدا کے روشن نور

وَضِیائِہِ الْاََزْھَرِ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اللّهِ وَحُجَّتَہُ وَخالِصَۃَ

اور اسکی چمک پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے ولی خدا اور اس کی حجت خدا کے

اللّهِ وَخاصَّتَہُ، ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ یَا وَلِیَّ اللّهِ وَحُجَّتَہُ لَقَدْ جاھَدْتَ فِی سَبِیلِ اللّهِ حَقَّ

مخلص اور اس کے خاص بندے میں گواہی دیتا ہوں اے ولی خدا کہ آپ نے جہاد کیا خدا کی راہ میں جو جہاد کرنے کا

جِھادِہِ، وَاتَّبَعْتَ مِنْھاجَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَحَلَّلْتَ حَلالَ اللّهِ،

حق ہے اور آپ نے حضر ت رسول(ص) کے راستے کی پیروی کی خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل(ع) پرآپ نے حلال خدا کو حلال رکھا

وَحَرَّمْتَ حَرامَ اللّهِ، وَشَرَعْتَ ٲَحْکامَہُ، وَٲَقَمْتَ الصَّلاۃَ، وَآتَیْتَ الزَّکاۃَ، وَٲَمَرْتَ

حرام خدا کو حرام قرار دیا اس کے احکام جاری کیے آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا

بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَجاھَدْتَ فِی سَبِیلِ اللّهِ صابِراً ناصِحاً مُجْتَھِداً

حکم دیا اور برے کاموں سے روکتے رہے آپ نے راہ خدا میں صبر و تحمل کے ساتھ جہاد کیا اور خیر خواہی میں

مُحْتَسِباً عِنْدَ اللّهِ عَظِیمَ الْاََجْرِ حَتَّیٰ ٲَتاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ اللّهُ مَنْ دَفَعَکَ

کوشاں رہے اور اس پر خدا کے نزدیک سے اجر کی امید رکھی یہاں تک کہ آپ شہید ہوگئے پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ

عَنْ حَقِّکَ، وَٲَزالَکَ عَنْ مَقامِکَ، وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ بَلَغَہُ ذلِکَ فَرَضِیَ بِہِ، ٲُشْھِدُ اللّهَ

کو حق سے محروم کیا اور آپکے مقام سے ہٹایا اور خدا لعنت کرے اس پر جو یہ اطلاع حاصل کرکے خوش ہوا گواہ بناتا ہوں خدا کو اسکے

وَمَلائِکَتَہُ وَٲَنْبِیائَہُ وَرُسُلَہُ ٲَنّٰی وَ لِیٌّ لِمَنْ وَالاکَ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَاداکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

فرشتوں اس کے نبیوں اور رسولوں کو اس پر کہ میں آپ کے دوست کا دوست اور آپ کے دشمن کا دشمن ہوںآپ پر سلام ہو

وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکاتُہُ ۔خود کو قبر شریف سے لپٹائے اسے بوسہ دے اور کہے:ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ تَسْمَعُ

خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرا کلام

کَلامِی، وَتَشْھَدُ مَقامِی، وَٲَشْھَدُ لَکَ یَا وَ لِیَّ اللّهِ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ، یَا مَوْلایَ،

سنتے ہیں اور میرے قیام کا مشاہدہ کر رہے ہیںاور آپ کا گواہ ہوں اے ولی خدا کہ آپ نے پیغام دیا اور فرض نبھایا اے میرے آقا

یَا حُجَّۃَ اللّهِ یَا ٲَمِینَ اللّهِ، یَا وَلِیَّ اللّهِ، إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذُ نُوباً قَدْ ٲَثْقَلَتْ ظَھْرِی،

اے حجت خدا اے خدا کے امین اے خدا کے ولی بے شک میرے اور خدا کے درمیان میرے گناہ حائل ہیں جن کا بوجھ میری کمر پر

وَمَنَعَتْنِی مِنَ الرُّقادِ، وَذِکْرُھا یُقَلْقِلُ ٲَحْشَائِی، وَقَدْ ھَرَبْتُ إلَی اللّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَ إلَیْکَ،

ہے انہوں نے میری نیند اڑادی ہے ان کی یاد سے میرا دل گبھراتاہے اور میں بھاگ کے آیا ہوں خدائے عزوجل کی طرف اور آپ

فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّہِ، وَاسْتَرْعاکَ ٲَمْرَ خَلْقِہِ، وَقَرَنَ طاعَتَکَ بِطاعَتِہِ،

کی طرف لہذا اس کے واسطہ سے جس نے آپ کو اپنا راز دار بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ آپ کو سوپنا اس نے آپ کی اطاعت اپنی اطاعت کے ساتھ

وَمُوالاتَکَ بِمُوالاتِہِ، کُنْ لِی إلَی اللّهِ شَفِیعاً، وَمِنَ النَّارِ مُجِیراً، وَعَلَی الدَّھْرِ ظَھِیراً ۔

اور آپ کی محبت اپنی محبت کے ساتھ قرار دی آپ خدا کے ہاں میری شفاعت کریں جہنم سے پناہ دیں اور حالات میں میرے مدد گار ہوں۔

پھر دوسری مرتبہ قبر مبارک سے لپٹ کر بوسہ دے کر پڑھے:

یَا وَلِیَّ اللّهِ یَا حُجَّۃَ اللّهِ، یَا بابَ حِطَّۃِ اللّهِ وَلِیُّکَ وَزائِرُکَ وَاللاَّئِذُ بِقَبْرِکَ، وَالنَّازِلُ

اے ولی خدا اے حجت خدا اے باب حطہ گناہان خدا کی جانب سے آپ کا دوست آپ کا زائر آپ کی قبر کی پناہ لینے والا آپ کی

بِفِنائِکَ، وَالْمُنِیخُ رَحْلَہُ فِی جِوارِکَ یَسْٲَلُکَ ٲَنْ تَشْفَعَ لَہُ إلَی اللّهِ فِی قَضائِ

درگارہ پر آنے والا اور آپ کے جوار میں آرہنے والا سوال کرتا ہے کہ آپ خدا کے ہاں اس کی شفاعت کریں کہ اس کی حاجت

حاجَتِہِ وَنُجْحِ طَلِبَتِہِ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ اللّهِ الْجَاہَ الْعَظِیمَ وَالشَّفاعَۃَ

پوری ہو اور مقصد حاصل ہو دنیا اور آخرت میں، کیونکہ خدا کے حضور آپ کی بڑی عزت ہے اور آپ کی شفاعت

الْمَقْبُولَۃَ، فَاجْعَلْنِی یَا مَوْلایَ مِنْ ھَمِّکَ وَٲَدْخِلْنِی فِی حِزْبِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

مقبول ہے پس قراردیں اے میرے آقا مجھے اپنے اصل عنایت میں شامل اور اپنے گروہ میں داخل کرآپ پر سلام ہو

وَعَلَی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی وَلَدَیْکَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،

اور آپ کے دونوں ساتھیوں آدم(ع) ونوح(ع) پر سلام ہو آپ پر اور آپ کے فرزندوں حسن(ع) وحسین(ع) پر اور سلام ہو آپ کی

وَعَلَی الْاََئِمَّۃِ الطَّاھِرِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ وَرَحْمَۃُ اللّهِ وَبَرَکَاتُہُ ۔

اولاد میں سے پاک ائمہ(ع) پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں۔

المؤمنین نفس پیغمبرﷺ

اس کے بعد چھ رکعت نماز زیارت پڑھے جن میں سے دو رکعت امیر المؤمنین کیلئے اور دو دو رکعت حضرت آدم اور دو رکعت حضرت نوح  کیلئے بجالائے اسکے بعد بہت زیادہ ذکر الہی کرے انشااللہ اس کی زیارت ودعا قبول ہوگی۔

مؤلف کہتے ہیں: صاحب مزار کبیر نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہی زیارت 17 ربیع الاول کو طلوع شمس کے قریب پڑھی جائے اور علامہ مجلسی(رح) کا فرمان ہے کہ یہ بہترین زیارتوں میں سے ہے کہ اسکا ذکر معتبراسناد کے ساتھ کتابوں میں ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیارت اس دن سے مخصوص نہیں ۔ بلکہ جس وقت بھی یہ زیارت پڑھی جائے اچھا ہے مؤلف کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسکی کیاوجہ ہے کہ حضرت رسولﷺ کے یوم ولادت یا یوم بعثت میں امیر المؤمنین کی زیارت پڑھنے کو کہا گیا ہے۔ حالانکہ مناسب یہ ہے کہ اس دن حضرت رسولﷺ کی زیارت پڑھنے کا حکم ہو؟ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن دو بزرگوں کا آپس میں کمال اتصال ہے۔ اور دونوں نور کے مکمل اتحاد کی علامت ہیں ۔ گو یا جس نے امیر المؤمنین کی زیارت کی اس نے حضرت رسول کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ اس امر کی دلیل قرآن کریم کی آیت انفسنا ہے۔ کیونکہ مباہلہ میں خدائے تعالیٰ نے امیر المومنین کو نفس پیغمبر قرار دیا اور کسی دوسرے کو یہ مقام نہیں ملا بہت سی روایتوں میں آیا ہے اور ان میں سے ایک شیخ محمد بن مشہدی نے امام جعفر صادق  سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک اعرابی حضرت رسول کے حضور حاضر ہوا اور عرض کی کہ یارسول اللہ! میرا گھر یہاں سے بہت دور ہے اور آپ کی زیارت کا اشتیاق کبھی کبھی مجھے یہاں لے آتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی آپ سے شرف ملاقات حاصل نہیں ہو پاتا تو میں علی ابن ابی طالبسے ملاقات کرلیتا ہوں اور وہ مجھے وعظ و نصیحت کرتے ہیں اورحدیث تعلیم فرما کر مانوس و مطمئن کر دیتے ہیں تا ہم آپ کی ملاقات نہ ہونے پر افسوس کے ساتھ واپس ہوجاتا ہوں۔ اس پر آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ جو شخص علی المرتضی  کی زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی جو اسے دوست رکھتا ہے وہ مجھے دوست رکھتا ہے اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے دشمنی کرتا ہے پس تم یہ بات میری طرف سے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو بتادو کہ جو شخص علی  کی زیارت کیلئے جائے تو گویا وہ میری زیارت کو آیا ہے۔ پس میں جبرائیل اور ایک صالح مؤمن اس شخص کو قیامت میں اس عمل کی جزا دیں گے۔ ایک معتبر حدیث میں امام جعفر صادق  سے روایت ہوئی ہے کہ جب تم نجف اشرف کی زیارت کرو تو آدم اور نوح  کے ابدان اور علی  کے جسم کی زیارت کرتے ہو، اس میں شک نہیں کہ گویا تم نے ان کے آباء واجداد، نبیوں کے خاتم محمد مصطفیﷺ اور حضرت علی  کی زیارت کی ہوگی کہ جواوصیا میں بہترین ہیں، قبل ازیں چھٹی زیارت میں ذکر ہوچکا ہے کہ حسب فرمان امیر المؤمنین کی قبر مبارک کی طرف رخ کرکے کھڑا ہو اور کہے :

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّهِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَۃَ اللّهِ ۔۔۔ الخ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول(ص) آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ۔

ابیات قصیدہ ازریہ

شیخ جابر نے قصیدئہ ازریہ میں کیا خوب اشعار کہے ہیں حضرت علی  کے گنبد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے:

فَاعْتَمِدْ لِلنَّبِیِّ ٲَعْظَمَ رَمْسٍ

فِیہِ لِلطُّھْرِ ٲَحْمَدٍ ٲَیُّ نَفْسٍ

اعتماد کرو بہ خاطر پیغمبر(ص) اس قبر شریف کو

اس میں احمد(ص) کا نفس جاگزیں ہے

ٲَوْ تَرَیٰ الْعَرْشَ فِیہِ ٲَنْوَرَ شَمْسٍ

فَتَواضَعْ فَثَمَّ دارَۃُ قُدْسٍ

یا اس عرش کو دیکھو اس میں چمکتا سورج ہے

پس جھک جا کہ یہ پاکیزہ مقام ہے

تَتَمَنَّی الْاََفْلاکُ لَثْمَ ثَراھَا

تمنا کرتے ہیں افلاک کہ چومیں اس کی خاک کو

حکیم سنائی نے یہ فارسی کے اشعار کہے:

﴿۱﴾مر تضائی کہ کردیز دانش

ہمرہ جان مصطفی جانش

﴿۱﴾علی مرتضی وہ ہیں کہ خدا نے

ان کو جان مصطفی قرار دیا۔

﴿۲﴾ہر دو یک قبلہ وخرد شان دو

ہر دویک روح کا لبد شان دو

﴿۲﴾ان دونوں کا قبلہ ایک اور عقلیں دو ہیں۔

ان کی روح ایک اور جسم دو ہیں۔

﴿۳﴾دور وندہ چواختر گردوں

دوبرادر چوں موسیٰ وہارون

﴿۳﴾ وہ دونوں آسمان پر چلتے ہوئے ستارے ہیں

وہ موسیٰ(ع) وہارون(ع) کی طرح دوبھائی ہیں

﴿۴﴾ہر دویکدرز یکصد ف بودند

ہر دو پیرایئہ شرف بودند

﴿۴﴾ وہ دونوں ایک صدف کے دو موتی ہیں ۔

وہ دونوں شرف کے ایک ہی مقام پر ہیں۔

﴿۵﴾تانہ بکشاد علم حیدر در

ند ہد سنت پیغمبر(ص) بر

﴿۵﴾ جب تک حیدر کرار کا علم اپنا دروازہ نہ کھولے

پیغمبر(ص) کی سنت کا میٹھا پھل حاصل نہیں ہوتا۔

تیسری مخصوص زیارت

یہ بعثت کی رات اور دن کیلئے ہے۔

روز مبعث یعنی حضرت رسول اللہﷺ کے مبعوث ہونے کا دن 27 رجب ہے اس رات اور دن میں تین زیارتیں ہیں اور وہ یہ ہیں۔

پہلی زیارت رجبیہ

اس زیارت کا آغاز اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِیْ اَشْھَدَنَا مَشْھَدَ اَوْلِیَائِہٰ سے ہوتا ہے جو ماہ رجب کے اعمال مشترکہ میں زیارت رجبیہ کے عنوان سے ذکر ہو چکی ہے۔ یہ زیارت ماہِ رجب میں ہر امام کے روضہ مبارک پر پڑھی جا سکتی ہے‘ لیکن صاحب مزار قدیم اور شیخ محمد بن مشہدی نے اسے شب ِ مبعث کی مخصوص زیارات میں قرار دیا ہے۔ جب کوئی شخص اس رات یہ زیارت پڑھے تو بعد میں دو رکعت نماز زیارت بجا لائے اور پھر جو چاہے دعا مانگے۔

دوسری زیارت

اس کی ابتدائ اَلسَّلاَمُ عَلیٰ اٰبیْ الْاَئِمَۃِ وَ مَعْدِنِ النَبُوَّۃِ سے ہوتی ہے اور علامہ مجلسی(رح) نے تحفہ میں اسے ساتویں زیارت قرار دیا ہے ۔ صا حب مزار قدیم فرماتے ہیںکہ یہ 27 رجب کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ ہم نے بھی ہدیتہ الزائرین میں اس کا ذکر کیا ہے۔

تیسری زیارت

یہ وہی زیارت ہے‘ جسے شیخ مفید،(رح)سید(رح) اور شہید(رح) نے اس طرح نقل کیا ہے کہ مبعث کی رات یا دن میں جب کوئی شخص امیرالمؤمنین کی زیارت کرنا چاہے‘ تو پہلے قبہ شریفہ کے دروازے پر آنجناب کی قبر کے مقابل کھڑے ہو کر یہ کہے:

ٲَشْھَدُ ٲَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللّهُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یگانہ ہے اسکا کوئی شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد(ص) اس کے بندے

وَرَسُولُہُ، وَٲَنَّ عَلِیَّ بْنَ ٲَبِی طالِبٍ ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدُ اللّهِ وَٲَخُو رَسُو لِہِ، وَٲَنَّ

اور رسول(ص) ہیں اور یہ کہ علی بن ابی طالب (ع)مومنوں کے امیر خدا کے بندے اور رسول(ص) کے بھائی ہیں اور وہ

الْاََئِمَّۃَ الطَّاھِرِینَ مِنْ وُلْدِہِ حُجَجُ اللّهِ عَلَی خَلْقِہِ ۔

پاک و پاکیزہ امام جو ان کی اولاد سے ہیں وہ مخلوق خدا پر اس کی حجت ہیں۔

پھر اندر داخل ہو کر پشت بہ قبلہ حضرت کی قبر مبارک کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہے اور اس کے بعد یہ زیارت پڑھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ آدَمَ خَلِیفَۃِ اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ صِفْوَۃِ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے وارث آدم(ع) جو خلیفہ خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث نوح (ع)جو خدا کے برگزیدہ ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراھِیمَ خَلِیلِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اللّهِ

آپ پر سلام ہو اے وارث ابراہیم(ع) جو خدا کے دوست ہیں سلام ہوآپ پر اے وارث موسیٰ(ع) جو خدا کے کلیم ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ رُسُلِ

آپ پر سلام ہو اے وارث عیسٰی(ع) جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث محمد(ص) جو خدا کے رسولوں کے

اللّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْمُتَّقِینَ، اَلسَّلَامُ

سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امیر(ع) آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاروں کے امام(ع) سلام ہو

عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ

آپ پر اے اوصیائ کے سردار آپ پر سلام ہو اے جہانوں کے پروردگار کے رسول(ص) کے وصی سلام ہو

عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا النَّبَٲُ الْعَظِیمُ، اَلسَّلَامُ

آپ پر اے اولین و آخرین کے علم کے ورثہ دار سلام ہو آپ پر کہ آپ بہت بڑی خبر ہیں

عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الصِّراطُ الْمُسْتَقِیمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْمُھَذَّبُ الْکَرِیمُ

آپ پر سلام ہوکہ آپ ہی صراط مستقیم ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ سنوارے ہوئے صاحب مرتبہ ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْوَصِیُّ التَّقِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو کہ آپ پرہیزگار وصی ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ راضی شدہ پاک شدہ ہیں آپ پر

عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الْبَدْرُ الْمُضِیئُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا الصِّدِّیقُ الْاََکْبَرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

سلام ہو کہ آپ چودھویں کے چمکتے چاند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ سب سے بڑے تصدیق کرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو

ٲَیُّھَا الْفارُوقُ الْاََعْظَمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَ یُّھَا السِّراجُ الْمُنِیرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

کہ آپ سب سے بڑھ کر حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ روشن و تاباں چراغ ہیں آپ پر سلام ہو

یَا إمامَ الْھُدیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلَمَ التُّقی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اللّهِ الْکُبْریٰ،

اے ہدایت دینے والے امام(ع) آپ پر سلام ہو اے تقویٰ کے نشان آپ پر سلام ہو اے خدا کی بہت بڑی حجت

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خاصَّۃَ اللّهِ وَخالِصَتَہُ وَٲَمِینَ اللّهِ وَصَفْوَتَہُ وَبابَ اللّهِ وَحُجَّتَہُ

آپ پر سلام ہو اے خدا کے مقرب اور اس کے خاص کردہ اور خدا کے امانتدار اور اس کے چنے ہوئے باب الہی اور اس کی حجت

وَمَعْدِنَ حُکْمِ اللّهِ وَسِرِّہِ، وَعَیْبَۃَ عِلْمِ اللّهِ وَخازِنَہُ، وَسَفِیرَ اللّهِ فِی خَلْقِہِ، ٲَشْھَدُ

خدا کے حکم اور اس کے رازکے حامل خدا کے علم کے جامع اور خزینہ دار اور خلق خدا میں اس کے نمائندہ میں گواہی دیتا ہوں کہ

ٲَنَّکَ ٲَقَمْتَ الصَّلاۃَ وَآتَیْتَ الزَّکاۃَ وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاتَّبَعْتَ

آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکاآپ نے رسول(ص) کی پیروی

الرَّسُولَ، وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَبَلَّغْتَ عَنِ اللّهِ، وَوَفَیْتَ بِعَھْدِ اللّهِ، وَتَمَّتْ

کی اور قرآن کی تلاوت کی جو تلاوت کرنے کا حق ہے آپ نے خدا کا پیغام دیاخدا کا عہد پورا کیا اور آپ کے ذریعے خدا کی

بِکَ کَلِماتُ اللّهِ، وَجاھَدْتَ فِی اللّهِ حَقَّ جِھادِہِ، وَنَصَحْتَ لِلّٰہِ وَ لِرَسُولِہِ صَلَّی

باتیں مکمل ہوئیں آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے آپ نے خدا اور اس کے رسول(ص) کی

اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَجُدْتَ بِنَفْسِکَ صابِراً مُحْتَسِباً مُجاھِداً عَنْ دِینِ اللّهِ مُوَقِّیاً

خاطر نصیحت و خیرخو اہی کی آپ نے جان کی بازی لگائی صبر و احتیاط کے ساتھ جہاد کیا خدا کے دین کے لیے

لِرَسُولِ اللّهِ، طالِباً مَا عِنْدَ اللّهِ، راغِباً فِیما وَعَدَ اللّهُ، وَمَضَیْتَ لِلَّذِی

اور خدا کے رسول(ص) کی آبرو کے لیے خدا کے ہاں اجر چاہتے ہوئے خدا کے وعدے پر توجہ رکھے ہوئے اور آپ اس عقیدہ پر باقی رہے

کُنْتَ عَلَیْہِ شَھِیداً وَشاھِداً وَمَشْھُوداً، فَجَزاکَ اللّهُ عَنْ رَسُو لِہِ وَعَنِ

کہ جس کیلئے آپ شہید ہوئے آپ اس پر گواہ اور گواہی والے تھے پس خدا جزا دے آپ کو اپنے رسول(ص) کی طرف سے اور اسلام و

الْاِسْلامِ وَٲَھْلِہِ مِنْ صِدِّیقٍ ٲَفْضَلَ الْجَزائِ ۔ ٲَشْھَدُ ٲَ نَّکَ کُنْتَ ٲَوَّلَ الْقَوْمِ إسْلاماً،

صاحب صدق مسلمانوں کی طرف سے بہتر و برتر جزا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب لوگوں میں اول ہیں اسلام لانے میں

وَٲَخْلَصَھُمْ إیماناً، وَٲَشَدَّھُمْ یَقِیناً، وَٲَخْوَفَھُمْ ﷲِ، وَٲَعْظَمَھُمْ عَنائً، وَٲَحْوَطَھُمْ

ان میں سے مخلص ہیں ایمان میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں یقین میں ان سے زیادہ خوف خدا والے ہیں اور سب سے زیادہ

عَلَی رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَٲَفْضَلَھُمْ مَناقِبَ ، وَٲَکْثَرَھُمْ سَوابِقَ،

مصیبت برداشت کرنے والے اور رسول اللہ کے بارے میں زیادہ محتاط ہیں ان سے بلند ہیں خوبیوں میں ان سے آگے ہیں

وَٲَرْفَعَھُمْ دَرَجَۃً، وَٲَشْرَفَھُمْ مَنْزِلَۃً، وَٲَکْرَمَھُمْ عَلَیْہِ، فَقَوِیْتَ حِینَ

فضیلتوں میں ان سے بلندتراور برتر ہیں درجے میں ارفع اورمنزلت میں بزرگ تر ہیں آنحضرت(ص) کے نزدیک پس آپ قوی تھے

وَھَنُوا، وَلَزِمْتَ مِنْھَاجَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ کُنْتَ

جب وہ لوگ کمزور پڑے اور آپ قائم رہے طریقہ رسول(ص) پر خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل (ع)پر اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ

خَلِیفَتَہُ حَقَّاً، لَمْ تُنازَعْ بِرَغْمِ الْمُنافِقِینَ، وَغَیْظِ الْکافِرِینَ، وَضِغْنِ الْفاسِقِینَ،

ان کے خلیفہ برحق بلا تنازعہ ہیں منافقوں کی مخالفت کافروں کے غصے اور بدکاروں کے کینے کے باوجودآپ دین

وَقُمْتَ بِالْاََمْرِ حِینَ فَشِلُوا، وَنَطَقْتَ حِینَ تَتَعْتَعُوا، وَمَضَیْتَ بِنُورِ اللّهِ إذْ

کے امر کے ساتھ قائم رہے جب لوگ سست پڑ گئے آپ نے حق بیان کیا جب وہ چپ تھے اور آپ راہ ہدایت پر چلے جب وہ رکے

وَقَفُوا، فَمَنِ اتَّبَعَکَ فَقَدِ اھْتَدیٰ، کُنْتَ ٲَوَّلَھُمْ کَلاماً، وَٲَشَدَّھُمْ خِصاماً، وَٲَصْوَبَھُمْ

ہوئے تھے پس جس نے آپ کی پیروی کی وہ ہدایت پا گیا کیونکہ آپ کلام میں ان سے بہتر مقابلے میں ان سے سخت تر گفتار میں

مَنْطِقاً وَٲَسَدَّھُمْ رَٲْیاً وَٲَشْجَعَھُمْ قَلْباً وَٲَکْثَرَھُمْ یَقِیناً، وَٲَحْسَنَھُمْ عَمَلاً، وَٲَعْرَفَھُمْ

ان سے خوب تر رائے میںان سے محکم تر دل کے سب سے بہادر ہیںیقین میں ان سے بڑھ کر عمل میں ان سے نیک تر اور

بِالْاَُمُورِ، کُنْتَ لِلْمُؤمِنِینَ ٲَباً رَحِیماً إذْ صارُوا عَلَیْکَ عِیالاً ، فَحَمَلْتَ ٲَ ثْقالَ مَا عَنْہُ

معاملات کو زیادہ جاننے والے ہیں آپ مومنوں کیلئے مہربان باپ جب آپکے ارد گرد جمع ہو گئے آپ نے وہ بوجھ اٹھاے جنکے

ضَعُفُوا، وَحَفِظْتَ مَا ٲَضاعُوا وَرَعَیْتَ مَا ٲَھْمَلُوا، وَشَمَّرْتَ إذْ جَبَنُوا، وَعَلَوْتَ إذْ

مقابل وہ ناتواں تھے آپ نے بچا لیا جو انہوں نے گنوایا آپ نے یاد رکھا جو انہوں نے بھلایا آپ نے جرأت کی جب وہ ڈر گئے

ھَلِعُوا، وَصَبَرْتَ إذْ جَزِعُوا، کُنْتَ عَلَی الْکافِرِینَ عَذاباً صَبّاً

آپ غالب آئے جب وہ نالے کرتے تھے اور آپ جمے رہے جب وہ گھبرا گئے آپ کافروں کے لیے نہ رکنے والا عذاب ان کے

وَغِلْظَۃً وَغَیْظاً، وَ لِلْمُؤْمِنِینَ غَیْثاً وَخِصْباً وَعِلْماً، لَمْ تُفْلَلْ حُجَّتُکَ،

لیے سختی اور قہر و غضب تھے اور مومنوں کے لیے ابر رحمت اور علم و نعمت کی فراوانی تھے کہ آپ کی دلیل کمزورنہ تھی آپ کا دل کج نہ ہوا

وَلَمْ یَزِغْ قَلْبُکَ وَلَمْ تَضْعُفْ بَصِیرَتُکَ وَلَمْ تَجْبُنْ نَفْسُکَ، کُنْتَ کَالْجَبَلِ لاَ تُحَرِّکُہُ

آپ کی سمجھ میں کمی نہ ہوئی اور آپ کا دل خوفزدہ نہ ہوا کہ آپ پہاڑ کی طرح جمے کہ جسے آندھیاں ہلا نہیں سکیں

الْعَواصِفُ، وَلاَ تُزِیلُہُ الْقَواصِفُ، کُنْتَ کَما قالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ

بجلی کی کڑک اسے گرا نہیں سکی آپ ایسے تھے جیسے رسول اللہ نے فرمایا تھا

قَوِیَّاً فِی بَدَنِکَ، مُتَواضِعاً فِی نَفْسِکَ، عَظِیماً عِنْدَ اللّهِ، کَبِیراً فِی الْاََرْضِ، جَلِیلاً

کہ آپ قوی بدن والے اپنے آپ میں فروتنی کرنے والے خدا کے ہاں بلند مرتبے والے زمین میں بڑائی والے آسمان میں عزت

فِی السَّمائِ لَمْ یَکُنْ لاََِحَدٍ فِیکَ مَھْمَزٌ وَلاَ لِقائِلٍ فِیکَ مَغْمَزٌ وَلاَ لِخَلْقٍ فِیکَ مَطْمَعٌ

والے آپکے متعلق کسی کے لئے نکتہ چینی کا مقام نہیں کوئی بولنے والا آپ کی برائی نہیں بتا سکتا لوگوں کو آپ کی طرف داری میں کوئی

وَلاَ لاََِحَدٍ عِنْدَکَ ھَوادَۃٌ، یُوجَدُ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ عِنْدَکَ قَوِیَّاً عَزِیزاً حَتَّی تَٲْخُذَ لَہُ

لالچ نہیںنہ آپ کے ہاں کسی کے لیے کچھ رعایت ہے ہر کمزور آپ کے نزدیک طاقتور ہے جب تک آپ اس کا حق اسے دلا نہ

بِحَقِّہِ وَالْقَوِیُّ الْعَزِیزُ عِنْدَکَ ضَعِیفاً حَتَّی تَٲْخُذَ مِنْہُ الْحَقَّ، الْقَرِیبُ وَالْبَعِیدُ عِنْدَکَ

دیں اور ہر طاقتور شخص آپ کے نزدیک کمزور ہے جب تک اس سے حق وصول نہ کر لیں اس معاملے میں اپنا بیگانہ آپ کے

فِی ذلِکَ سَوائٌ شَٲْنُکَ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکَ حُکْمٌ وَحَتْمٌ ، وَٲَمْرُکَ حِلْمٌ

نزدیک برابر ہے آپ کی روش حق سچائی اور ملائمت ہے آپ کے قول میں مضبوطی و استواری آپ کے حکم میں نرمی

وَعَزْمٌ، وَرَٲْیُکَ عِلْمٌ وَحَزْمٌ، اعْتَدَلَ بِکَ الدِّینُ، وَسَھُلَ بِکَ الْعَسِیرُ، وَٲُطْفِیَتْ بِکَ

و ثبات آپ کی رائے میں علم و پختگی ہے کہ دین اسلام آپ کے ذریعے سنبھلا آپ کے ذریعے مشکل کام آسان ہوا آپکے ذریعے

النِّیرانُ، وَقَوِیَ بِکَ الْاِیمانُ، وَثَبَتَ بِکَ الْاِسْلامُ، وَھَدَّتْ مُصِیبَتُکَ الْاََنامَ،

فتنے کی آگ ٹھنڈی ہوئی آپکے ذریعے ایمان کو قوت ملی آپکے ذریعے اسلام کا نقش گہرا ہوا اور آپ کی مصیبت نے لوگوں کو متاثر کیا

فَ إنَّا لِلّٰہِ وَ إنَّا إلَیْہِ راجِعُونَ، لَعَنَ اللّهُ مَنْ قَتَلَکَ، وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ خالَفَکَ

پس ہم خدا ہی کیلئے ہیں اور اسی کیطرف پلٹیں گے خدا لعنت کرے آپکے قاتل پر خدا لعنت کرے آپکے مخالف پرخدا لعنت کرے

وَلَعَنَ اللّهُ مَنِ افْتَریٰ عَلَیْکَ، وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ ظَلَمَکَ وَغَصَبَکَ حَقَّکَ، وَلَعَنَ اللّهُ مَنْ

آپ پر جھوٹ باندھنے والے پرخدا لعنت کرے آپ سے ناانصافی کرنے والے اور آپ کا حق دبانے والے پراور خدا لعنت

بَلَغَہُ ذلِکَ فَرَضِیَ بِہِ، إنَّا إلَی اللّهِ مِنْھُمْ بُرَائُ، لَعَنَ اللّهُ ٲُمَّۃً خالَفَتْکَ،

کرے اس معاملے پر خوش ہونے والے پر یقینا ہم آپکے سامنے ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس

وَجَحَدَتْ وِلایَتَکَ، وَتَظاھَرَتْ عَلَیْکَ وَقَتَلَتْکَ، وَحادَتْ عَنْکَ وَخَذَلَتْکَ،

نے آپکی مخالفت کی آپکی ولایت سے انکار کیا آپکے دشمن کا ساتھ دیا آپ سے جنگ کی آپکی جمعیت سے نکل گیا اور آپکو چھوڑ دیا

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَ النَّارَ مَثْواھُمْ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ ۔ ٲَشْھَدُ لَکَ یَا وَلِیَّ اللّهِ

حمد ہے خدا کے لیے جس نے جہنم کو ان لوگوں کا ٹھکانہ بنایا اور وہ بڑاہی برا ٹھکانا ہے میں گواہی دیتا ہوں آپ کی اے خدا کے ولی

وَوَلِیَّ رَسُولِہِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ وَٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ حَبِیبُ اللّهِ وَبابُہُ

اور اس کے رسول کے کار تبلیغ میں معاون اور ادائے فرض میں معاون اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے دوست اور اس کا

وَٲَنَّکَ جَنْبُ اللّهِ وَوَجْھُہُ الَّذِی مِنْہُ یُؤْتیٰ، وَٲَ نَّکَ سَبِیلُ اللّهِ، وَٲَنَّکَ عَبْدُ

دروازہ ہیں اور یہ کہ آپ خدا کے طرفدار اور مظہر ہیں جس کے ذریعے اس تک پہنچتے ہیں بے شک آپ خدا کا راستہ ہیں نیز آپ خدا

اللّهِ، وَٲَخُو رَسُولِہِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، ٲَتَیْتُکَ زائِراً لِعَظِیمِ حالِکَ وَمَنْزِلَتِکَ عِنْدَ

کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی ہیں آپ کی زیارت کو آیا ہوں کہ خدا اور اس کے رسول(ص) کے نزدیک آپ کا مقام

اللّهِ وَعِنْدَ رَسُولِہِ، مُتَقَرِّباً إلَی اللّهِ بِزِیارَتِکَ، راغِباً إلَیْکَ فِی الشَّفاعَۃِ، ٲَبْتَغِی

ومرتبہ بلند ہے میں آپ کی زیارت سے خدا کا قرب چاہتاہوں شفاعت کے لیے آپ کی طرف مائل ہوا ہوں آپ کی شفاعت

بِشَفاعَتِکَ خَلاصَ نَفْسِی، مُتَعَوِّذاً بِکَ مِنَ النَّارِ، ھارِباً مِنْ ذُ نُوبِیَ الَّتِی احْتَطَبْتُھا

کے ذریعے اپنی نجات چاہتا ہوں خوف جہنم سے آپ کی پناہ لیتا ہوں اپنے گناہوں سے دور بھاگا ہوں جن کا بوجھ میری

عَلَی ظَھْرِی، فَزِعاً إلَیْکَ رَجائَ رَحْمَۃِ رَبِّی، ٲَتَیْتُکَ ٲَسْتَشْفِعُ بِکَ یَا مَوْلایَ

پشت پر ہے اپنے رب کی رحمت کی امید میں آپ کے آگے روتا ہوں اے میرے آقا میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ خدا کے حضور میری

إلَی اللّهِ وَٲَتَقَرَّبُ بِکَ إلَیْہِ لِیَقْضِیَ بِکَ حَوائِجِی، فَاشْفَعْ لِی یَا ٲَمِیرَ

شفاعت کریں اور آپ کے وسیلے سے اس کاقرب چاہتا ہوں کہ آپ کے ذریعے وہ میری حاجات بر لائے پس اے مومنوں کے

الْمُؤْمِنِینَ إلَی اللّهِ فَ إنِّی عَبْدُ اللّهِ وَمَوْلاکَ وَزائِرُکَ وَلَکَ عِنْدَ اللّهِ الْمَقامُ الْمَعْلُومُ

امیر خدا کے سامنے میری شفاعت کریں کہ میں خدا کا بندہ ہوں آپکا محب اور زائر ہوں جبکہ آپ خدا کے ہاں نمایاں مرتبہ رکھتے ہیں

وَالْجاہُ الْعَظِیمُ وَالشَّٲْنُ الْکَبِیرُ، وَالشَّفاعَۃُ الْمَقْبُولَۃُ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

اس کے حضور بڑی عزت اور اونچی شان کے مالک ہیں آپ کی شفاعت قبول کی جاتی ہے اے معبود! رحمت نازل فرما محمد(ص) و آل(ع)

مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی عَبْدِکَ وَٲَمِینِکَ الْاََوْفی وَعُرْوَتِکَ الْوُثْقی وَیَدِکَ الْعُلْیا وَکَلِمَتِکَ

محمد(ص) پر اور رحمت نازل کر اپنے بندے پر جو تیرے اسرار کا بہترین امین مضبوط رسی تیرا اوپر والا ہاتھ تیرا کلمہ

الْحُسْنی وَحُجَّتِکَ عَلَی الْوَریٰ وَصِدِّیقِکَ الْاََکْبَرِ سَیِّدِ الْاََوْصِیائِ وَرُکْنِ الْاََوْلِیائِ

حسنہ مخلوقات پر تیری دلیل و حجت تیرا بنایا ہوا صدیق اکبر اوصیا کا سردار اولیا کا

وَعِمَادِ الْاََصْفِیائِ، ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَیَعْسُوبِ الْمُتَّقِینَ، وَقُدْوَۃِ الصِّدِّیقِینَ، وَ إمامِ

مرکز پاکبازوں کا سہارا مومنوں کا امیر(ع) نیکو کار سالار صدیقوں کا پیشوا خوش کرداروں کا

الصَّالِحِینَ ، الْمَعْصُومِ مِنَ الزَّلَلِ، وَالْمَفْطُومِ مِنَ الْخَلَلِ، وَالْمُھَذَّبِ مِنَ الْعَیْبِ،

امام لغزش سے محفوظ خطا سے دور عیب سے پاک

وَالْمُطَھَّرِ مِنَ الرَّیْبِ ٲَخِی نَبِیِّکَ وَوَصِیِّ رَسُولِکَ وَالْبآئِتِ عَلَی فِرَاشِہِ وَالْمُوَاسِی

شک سے دورتیرے نبی کا بھائی تیرے رسول(ص) کا وصی شب ہجرت ان کے بستر پر سونے والا ان پر جان قربان کرنے والا

لَہُ بِنَفْسِہِ وَکَاشِفِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْھِہِ الَّذِی جَعَلْتَہُ سَیْفاً لِنُبُوَّتِہِ وَمُعْجِزاً لِرِسَالَتِہِ

اور ان کے غم و پریشانی کو دور کرنے والا کہ جسے تو نے ان کی نبوت کی تلوار بنایا ان کی رسالت کا معجزہ

وَدَلالَۃً واضِحَۃً لِحُجَّتِہِ، وَحامِلاً لِرایَتِہِ، وَوِقَایَۃً لِمُھْجَتِہِ، وَھادِیاً لاَُِمَّتِہِ، وَیَداً

اور ان کی حجت کے لیے روشن دلیل جسے تو نے ان کے علم کو اٹھانے والا ان کی جان کا محافظ ان کی امت کا رہبر ان کا بازوئے شمشیر

لِبَٲْسِہِ وَتاجاً لِرَٲْسِہِ وَباباً لِنَصْرِہِ وَمِفْتاحاً لِظَفَرِہِ حَتَّی ھَزَمَ جُنُودَ الشِّرْکِ بِٲَیْدِکَ

ان کے سر کاتاج ان کی نصرت کا ذریعہ اور ان کی کامیابی کی کلید قرار دیا یہاں تک کہ تیری مدد سے شرک کے لشکرمات ہو گئے

وَٲَبادَ عَساکِرَ الْکُفْرِ بِٲَمْرِکَ وَبَذَلَ نَفْسَہُ فِی مَرْضاتِکَ وَمَرْضاۃِ رَسُولِکَ وَجَعَلَھا

اور کفر کی فوجیں تیرے حکم سے نابودہوگئیں تیرے بندے ﴿علی(ع)﴾ نے اپنی جان تیری اور تیرے رسول(ص) کی رضا پر نثار کی اس نے خود کو

وَقْفاً عَلَی طاعَتِہِ، وَمَجِنّاً دُونَ نَکْبَتِہِ، حَتَّیٰ فاضَتْ نَفْسُہُ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ

ان کی فرمانبرداری میں لگایا اور تکلیف میں ان کی ڈھال بنا رہا یہاں تک کہ حضور کی روح پرواز کر گئی جب کہ آپ

فِی کَفِّہِ وَاسْتَلَبَ بَرْدَھا وَمَسَحَہُ عَلَی وَجْھِہِ وَٲَعانَتْہُ مَلائِکَتُکَ عَلَی غُسْلِہِ

اسکی آغوش میں تھے اس نے جسد رسول(ص) کی ٹھنڈک محسوس کی اور آپ کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے غسل و کفن میں تیرے فرشتوں

وَتَجْھِیزِہِ وَصَلَّی عَلَیْہِ وَواریٰ شَخْصَہُ، وَقَضی دَیْنَہُ وَٲَنْجَزَ وَعْدَہُ وَلَزِمَ

نے اس کی اعانت کی اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفنا یا اس نے ان کے قرضے ادا کیے ان کے وعدے نبھائے ان کے

عَھْدَہُ وَاحْتَذی مِثالَہُ، وَحَفِظَ وَصِیَّتَہُ، وَحِینَ وَجَدَ ٲَنْصاراً نَھَضَ مُسْتَقِلاًّ بِٲَعْبائِ

عہد پر قائم رہا انکے نقش قدم پر چلا انکی وصیت کا پابند رہا اور جب مددگار مل گئے تو بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ خلافت کی ذمہ داریاں

الْخِلافَۃِ، مُضْطَلِعاً بِٲَ ثْقالِ الْاِمامَۃِ، فَنَصَبَ رایَۃَ الْھُدَیٰ فِی عِبَادِکَ، وَنَشَرَ ثَوْبَ

سنبھالیں اور امامت کے بھاری فرائض قبول کیے پھر علی نے تیرے بندوں کے درمیان علم ہدایت بلند کیا تیرے شہرو دیہات میں

الْاََمْنِ فِی بِلادِکَ، وَبَسَطَ الْعَدْلَ فِی بَرِیَّتِکَ، وَحَکَمَ بِکِتَابِکَ فِی خَلِیقَتِکَ، وَٲَقامَ

امن و امان قائم کیا تیری مخلوق میں عدل و انصاف رائج کیا اور تیری خلقت میں تیری کتاب کے مطابق فیصلے کئے دین کی حدود قائم

الْحُدُودَ وَقَمَعَ الْجُحُودَ وَقَوَّمَ الزَّیْغَ وَسَکَّنَ الْغَمْرَۃَ وَٲَبادَ الْفَتْرَۃَ وَسَدَّ الْفُرْجَۃَ

کیں اور کفر و انکار کی جڑیں کاٹیں کجرؤوں کو سیدھا کیا بے راہ روی کو ختم کیا بے خبری کو دور کیا دشمنوں کے رخنوں کو بند کیا عہد توڑنے

وَقَتَلَ النَّاکِثَۃَ وَالْقاسِطَۃَ وَالْمارِقَۃَ، وَلَمْ یَزَلْ عَلَی مِنْھاجِ رَسُولِ اللّهِ صَلَّی اللّهُ

والوں پھوٹ ڈالنے والوں اور پھر جانے والوں کو قتل کیا اور ہمیشہ حضرت رسول(ص) کے طور طریقے پر قائم رہے

عَلَیْہِ وَآلِہِ وَوَتِیرَتِہِ، وَلُطْفِ شاکِلَتِہِ، وَجَمالِ سِیرَتِہِ، مُقْتَدِیاً بِسُنَّتِہِ، مُتَعَلِّقاً

ان کے چلن ان کے نیک افعال اور ان کی سیرت کی خوبی کو اختیار کیا ان کی سنت پر چلے

بِھِمَّتِہِ، مُباشِراً لِطَرِیقَتِہِ، وَٲَمْثِلَتُہُ نَصْبُ عَیْنَیْہِ یَحْمِلُ عِبَادَکَ عَلَیْھا وَیَدْعُوھُمْ

انکے مقصد کو نظر میں رکھا انکے طریقے آپنائے انکے نمونہ عمل پر نگاہ رکھے ہوئے تیرے بندوں کو ان پر چلایا اورانہیں اسی طرف

إلَیْھا إلی ٲَنْ خُضِبَتْ شَیْبَتُہُ مِنْ دَمِ رَٲْسِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَکَما لَمْ یُؤْثِرْ فِی طاعَتِکَ شَکّاً

بلاتے رہے یہاں تک کہ ان کی داڑھی ان کی پیشانی کے خون سے رنگین ہو گئی خدایا جیسا کہ اس ذات﴿علی(ع)﴾ نے تیری اطاعت

عَلَی یَقِینٍ، وَلَمْ یُشْرِکْ بِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ صَلِّ عَلَیْہِ صَلاۃً زاکِیَۃً نامِیَۃً یَلْحَقُ بِھَا

میں شک کو یقین پر غلبہ نہ پانے دیا اور ایک لمحہ کے لیے تیرے ساتھ شریک قرار نہیں دیا تو بھی ان پررحمت فرما پاکیزہ رحمت جو بڑھتی

دَرَجَۃَ النُّبُوَّۃِ فِی جَنَّتِکَ، وَبَلِّغْہُ مِنَّا تَحِیَّۃً وَسَلاماً، وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی

جائے اسکے ذریعے انہیں اپنی جنت میں نبی اکرم(ص) کے ساتھ ملا دے ہماری طرف سے انہیں رحمت و سلام پہنچا دے اور ہمیں انکی محبت

مُوَالاتِہِ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَۃً وَرِضْواناً، إنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْجَسِیمِ، بِرَحْمَتِکَ

کے باعث اپنی طرف سے فضیلت نیکی بخشش اور خوشنودی نصیب فرما دے بے شک تو بڑا فضل کرنے والا ہے بوجہ اپنی رحمت کے

یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

اے سب سے زیادہ رحم والے۔

اسکے بعد ضریح مبارک پر بوسہ دے‘ پہلے دایاں رخسار پھربایاں رخسار اس پررکھے اسکے ساتھ ہی قبلہ رخ ہو کر نماز زیارت بجا لائے نماز کے بعد جو چاہے دعا مانگے پھر تسبیح فاطمہ زہرا(س) پڑھے اور کہے:

اَللّٰھُمَّ إنَّکَ بَشَّرْتَنِی عَلَی لِسانِ نَبِیِّکَ وَرَسُولِکَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْہِ وَآلِہِ فَقُلْتَ

اے معبود: بے شک تو نے اپنے نبی و رسول محمد(ص) کی زبانی ہمیں خوشخبری دی تیری رحمتیں ہوں ان پراور ان کی آل(ع) پر پس تو نے فرمایا

وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا ٲَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ اَللّٰھُمَّ وَ إنِّی مُؤْمِنٌ بِجَمِیعِ ٲَنْبِیائِکَ

بشارت دے دو ایمان والوں کو کہ ان کے لیے پرودرگار کے ہاں کامرانی ہے اے معبود! میں بھی تیرے سبھی نبیوں

وَرُسُلِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْھِمْ، فَلاَ تَقِفْنِی بَعْدَ مَعْرِفَتِھِمْ مَوْقِفاً تَفْضَحُنِی فِیہِ عَلَی

اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں تیری رحمتیں ہوں ان پر جب میں ان کی معرفت رکھتا ہوں تو مجھے اس جگہ کھڑا نہ رکھنا جہاں لوگوں کے

رُوَُوسِ الْاََشْھادِ، بَلْ قِفْنِی مَعَھُمْ وَتَوَفَّنِی عَلَی التَّصْدِیقِ بِھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ وَٲَنْتَ

سامنے تو مجھے رسوا کرے بلکہ مجھے ان نبیوں کے ساتھ کھڑا کرنا اور مجھے ان کو ماننے کی حالت میں موت دینا اے معبود! تو نے ان کو

خَصَصْتَھُمْ بِکَرامَتِکَ، وَٲَمَرْتَنِی بِاتِّباعِھِمْ، اَللّٰھُمَّ وَ إنِّی عَبْدُکَ وَزائِرُکَ مُتَقَرِّباً

اپنی طرف سے بزرگی دے کر خصوصیت عطا فرمائی اور انکی پیروی کا حکم فرمایا اے معبود! میں تیرا بندہ ہوں اور وہ زائرہوں جو تیرا

إلَیْکَ بِزِیارَۃِ ٲَخِی رَسُولِکَ وَعَلَی کُلِّ مَٲْتِیٍّ وَمَزُورٍ حَقٌّ لِمَنْ ٲَتاہُ وَزارَہُ

قرب حاصل کرتا ہے تیرے نبی(ص) کے بھائی کی زیارت سے اور ہر آنیوالے اور زائر کا حق ہے اس پر جسکی زیارت آکر کی جارہی ہے

وَٲَنْتَ خَیْرُ مَٲْتِیٍّ، وَٲَکْرَمُ مَزُورٍ، فٲَسْٲَلُکَ

اور آپ بہترین میزبان ہیں کہ جسکے پاس آیا جائے اوران سب سے زیادہ کریم ہیں جن کی زیارت کی جائے پس میں سوالی ہوں

یَا اللّهُ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ یَا جَوادُ یَا ماجِدُ یَا ٲَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ

اے اللہ اے مہربان اے رحم کرنیوالے عطا کرنے والے اے بزرگی والے اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا

وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ وَلَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَۃً وَلاَ وَلَداً ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

اور نہ جنا گیا اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے نہ اس نے کوئی بیوی رکھی نہ کسی کو اپنا بیٹا بنایا سوال ہے کہ تورحمت نازل فرما محمد(ص) و آل

مُحَمَّدٍ، وَٲَنْ تَجْعَلَ تُحْفَتَکَ إیَّایَ مِنْ زِیارَتِی ٲَخا رَسُولِکَ فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ

محمد(ص) پر اور یہ کہ میں نے جو تیرے رسول(ص) کے بھائی کی زیارت کی ہے اس پر مجھے تحفہ دے جو میری گردن کو آگ سے آزاد کرتا ہو

وَٲَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُسارِ عُ فِی الْخَیْراتِ وَیَدْعُوکَ رَغَباً وَرَھَباً، وَتَجْعَلَنِی

نیز مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور تجھے محبت اور خوف سے یاد کرتے ہیں اور مجھے ان لوگوں میں

لَکَ مِنَ الْخاشِعِینَ اَللّٰھُمَّ إنَّکَ مَنَنْتَ عَلَیَّ بِزِیارَۃِ مَوْلایَ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی طالِبٍ

شامل کر جو تجھ سے ڈرتے ہیں اے معبود! بے شک تو نے مجھ پر احسان فرمایا کہ مجھ کو میرے آقا علی بن ابی طالب(ع) کی زیارت کرائی

وَوِلایَتِہِ وَمَعْرِفَتِہِ فَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَنْصُرُہُ وَیَنْتَصِرُ بِہِ، وَمُنَّ عَلَیَّ بِنَصْرِکَ

اور انکی ولایت و معرفت بخشی ہے پس مجھے ان میں قرار دے جو انکی مدد کرتے اور انکی مدد پاتے ہیں نیز مجھ پر اپنے دین میں مدد دے کر

لِدِینِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ وَاجْعَلْنِی مِنْ شِیعَتِہِ، وَتَوَفَّنِی عَلَی دِینِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ ٲَوْجِبْ لِی مِنَ

احسان فرما اے معبود!مجھے ان کے پیروکاروں میں شامل فرما اور ان کے دین پر موت دے اے معبود! واجب کر میرے لیے اپنی

الرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوانِ وَالْمَغْفِرَۃِ وَالْاِحْسانِ وَالرِّزْقِ الْواسِعِ الْحَلالِ الطَّیِّبِ مَا ٲَنْتَ

رحمت خوشنودی بخشش احسان اور حلال و پاک زیادہ روزی عطا کر جس کا تو

ٲَھْلُہُ یَا ٲَرْحمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ۔

اہل ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد ہے خدا کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔

مولف کہتے ہیں معتبر روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت علی  کی شہادت کے دن خضر اِنَّا ﷲِپڑھتے اور روتے ہوئے آئے اور آنجناب (ع)کے مکان کے دروازے پر آکر یہ کلمات کہے:

رَحِمَکَ اللّهُ یَا ٲَبَاالْحَسَنِ، کُنْتَ ٲَوَّلَ الْقَوْمِ إسْلاماً، وَٲَخْلَصَھُمْ إیماناً،

خدا رحمت کرے آپ پر اے ابوالحسن آپ امت میں سب سے پہلے اسلام لائے ایمان میں ان سب سے زیادہ مخلص یقین میں

وَٲَشَدَّھُمْ یَقِیناً، وَٲَخْوَفَھُمْ لِلّٰہِ۔

سب سے بڑھے ہوئے اور سب سے زیادہ خوف خدا والے تھے۔

حضرت خضر  نے امیر المومنین  کے بہت سے فضائل گنوائے جو اس زیارت میں مذکور ہیں پس اگر روزِ مبعث یہ زیارت بھی پڑھی جائے تو بہت مناسب ہے۔ اور ان کلمات کی اصل جو منزلہ زیارت روز شہادت ہے اسے ہم نے ہدیۃ الزائر میں ذکر کیا ہے۔ لہذا خواہشمند مومنین اس کی طرف رجوع کریں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اعمال شب مبعث کے ضمن میں ہم نے ابن بطوطہ کے سفر نامے کا اقتباس اور کلام نقل کیا ہے جو اس روضہ مشرفہ سے متعلق تھااور بہتر ہو گا کہ اس مقام پر انہیں بھی دیکھ لیا جائے۔

 

 

 

فہرست مفاتیح الجنان

فہرست سورہ قرآنی

تعقیبات, دعائیں، مناجات

جمعرات اور جمعہ کے فضائل

جمعرات اور جمعہ کے فضائل
شب جمعہ کے اعمال
روز جمعہ کے اعمال
نماز رسول خدا ﷺ
نماز حضرت امیرالمومنین
نماز حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بی بی کی ایک اور نماز
نماز امام حسن
نماز امام حسین
نماز امام زین العابدین
نماز امام محمد باقر
نماز امام جعفر صادق
نماز امام موسیٰ کاظم
نماز امام علی رضا
نماز امام محمد تقی
نماز حضرت امام علی نقی
نماز امام حسن عسکری
نماز حضرت امام زمانہ (عج)
نماز حضرت جعفر طیار
زوال روز جمعہ کے اعمال
عصر روز جمعہ کے اعمال

تعین ایام ہفتہ برائے معصومین

بعض مشہور دعائیں

قرآنی آیات اور دعائیں

مناجات خمسہ عشرہ

ماہ رجب کی فضیلت اور اعمال

ماہ شعبان کی فضیلت واعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
(پہلا مطلب)
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
(پہلی قسم )
اعمال شب و روز ماہ رمضان
(دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
دعائے افتتاح
(ادامہ دوسری قسم)
رمضان کی راتوں کے اعمال
(تیسری قسم )
رمضان میں سحری کے اعمال
دعائے ابو حمزہ ثمالی
دعا سحر یا عُدَتِیْ
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
(چوتھی قسم )
اعمال روزانہ ماہ رمضان
(دوسرا مطلب)
ماہ رمضان میں شب و روز کے مخصوص اعمال
اعمال شب اول ماہ رمضان
اعمال روز اول ماہ رمضان
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
فضیلت شب ١٧ رمضان
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مخصوص لیلۃ القدر
اکیسویں رمضان کی رات
رمضان کی ٢٣ ویں رات کی دعائے
رمضان کی ٢٧ویں رات کی دعا
رمضان کی٣٠ویں رات کی دعا

(خاتمہ )

رمضان کی راتوں کی نمازیں
رمضان کے دنوں کی دعائیں

ماہ شوال کے اعمال

ماہ ذیقعدہ کے اعمال

ماہ ذی الحجہ کے اعمال

اعمال ماہ محرم

دیگر ماہ کے اعمال

نوروز اور رومی مہینوں کے اعمال

باب زیارت اور مدینہ کی زیارات

مقدمہ آداب سفر
زیارت آئمہ کے آداب
حرم مطہر آئمہ کا اذن دخول
مدینہ منورہ کی زیارات
کیفیت زیارت رسول خدا ۖ
زیارت رسول خدا ۖ
کیفیت زیارت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا
زیارت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
زیارت رسول خدا ۖ دور سے
وداع رسول خدا ۖ
زیارت معصومین روز جمعہ
صلواة رسول خدا بزبان حضرت علی
زیارت آئمہ بقیع
قصیدہ ازریہ
زیارت ابراہیم بن رسول خدا ۖ
زیارت فاطمہ بنت اسد
زیارت حضرت حمزہ
زیارت شہداء احد
تذکرہ مساجد مدینہ منورہ
زیارت وداع رسول خدا ۖ
وظائف زوار مدینہ

امیرالمومنین کی زیارت

فضیلت زیارت علی ـ
کیفیت زیارت علی
پہلی زیارت مطلقہ
نماز و زیارت آدم و نوح
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
حرم امیر المومنین میں زیارت امام حسین ـ
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
دوسری زیارت مطلقہ (امین اللہ)
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
ذکر وداع امیرالمؤمنین
زیارات مخصوصہ امیرالمومنین
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
دعائے بعد از زیارت امیر
زیارت امیر المومنین ـ یوم ولادت پیغمبر
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
ابیات قصیدہ ازریہ
زیارت امیر المومنین ـ شب و روز مبعث

کوفہ کی مساجد

امام حسین کی زیارت

فضیلت زیارت امام حسین
آداب زیارت امام حسین
اعمال حرم امام حسین
زیارت امام حسین و حضرت عباس
(پہلا مطلب )
زیارات مطلقہ امام حسین
پہلی زیارت مطلقہ
دوسری زیارت مطلقہ
تیسری زیارت مطلقہ
چوتھی زیارت مطلقہ
پانچویں زیارت مطلقہ
چھٹی زیارت مطلقہ
ساتویں زیارت مطلقہ
زیارت وارث کے زائد جملے
کتب حدیث میں نااہلوں کا تصرف
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس
فضائل حضرت عباس
(تیسرا مطلب )
زیارات مخصوص امام حسین
پہلی زیارت یکم ، ١٥ رجب و ١٥شعبان
دوسری زیارت پندرہ رجب
تیسری زیارت ١٥ شعبان
چوتھی زیارت لیالی قدر
پانچویں زیارت عید الفطر و عید قربان
چھٹی زیارت روز عرفہ
کیفیت زیارت روز عرفہ
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت یوم عاشورا
زیارت عاشورا کے بعد دعا علقمہ
فوائد زیارت عاشورا
دوسری زیارت عاشورہ (غیر معروفہ )
آٹھویں زیارت یوم اربعین
اوقات زیارت امام حسین
فوائد تربت امام حسین

کاظمین کی زیارت

زیارت امام رضا

سامرہ کی زیارت

زیارات جامعہ

چودہ معصومین پر صلوات

دیگر زیارات

ملحقات اول

ملحقات دوم

باقیات الصالحات

مقدمہ
شب وروز کے اعمال
شب وروز کے اعمال
اعمال مابین طلوعین
آداب بیت الخلاء
آداب وضو اور فضیلت مسواک
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
آداب نماز
آذان اقامت کے درمیان کی دعا
دعا تکبیرات
نماز بجا لانے کے آداب
فضائل تعقیبات
مشترکہ تعقیبات
فضیلت تسبیح بی بی زہرا
خاک شفاء کی تسبیح
ہر فریضہ نماز کے بعد دعا
دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا
نماز واجبہ کے بعد دعا
طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
سور حمد، آیة الکرسی، آیة شہادت اورآیة ملک
فضیلت آیة الکرسی بعد از نماز
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
فضیلت تسبیحات اربعہ
حاجت ملنے کی دعا
گناہوں سے معافی کی دعا
ہر نماز کے بعد دعا
قیامت میں رو سفید ہونے کی دعا
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
ہر نماز کے بعد دعا
پنجگانہ نماز کے بعد دعا
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
گناہوں سے بخشش کی دعا
ہرنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
لمبی عمر کیلئے دعا
(تعقیبات مختصر)
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات
گناہوں سے بخشش کی دعا
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
دعائے عافیت
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
رزق میں برکت کی دعا
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
خدا سے عہد کی دعا
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
سجدہ شکر
کیفیت سجدہ شکر
طلوع غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
نماز ظہر وعصر کے آداب
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک
آداب نماز مغرب وعشاء
تعقیبات نماز مغرب وعشاء
سونے کے آداب
نیند سے بیداری اور نماز تہجد کی فضیلت
نماز تہجد کے بعددعائیں اور اذکار

صبح و شام کے اذکار و دعائیں

صبح و شام کے اذکار و دعائیں
طلوع آفتاب سے پہلے
طلوع وغروب آفتاب سے پہلے
شام کے وقت سو مرتبہ اﷲاکبر کہنے کی فضیلت
فضیلت تسبیحات اربعہ صبح شام
صبح شام یا شام کے بعد اس آیة کی فضیلت
ہر صبح شام میں پڑھنے والا ذکر
بیماری اور تنگدستی سے بچنے کیلئے دعا
طلوع وغروب آفتاب کے موقعہ پر دعا
صبح شام کی دعا
صبح شام بہت اہمیت والا ذکر
ہر صبح چار نعمتوں کو یاد کرنا
ستر بلائیں دور ہونے کی دعا
صبح کے وقت کی دعا
صبح صادق کے وقت کی دعا
مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
اﷲ کا شکر بجا لانے کی دعا
شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
دن رات امان میں رہنے کی دعا
صبح شام کو پڑھنی کی دعا
بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا
اہم حاجات بر لانے کی دعا

دن کی بعض ساعتوں میں دعائیں

پہلی ساعت
دوسری ساعت
تیسری ساعت
چوتھی ساعت
پانچویں ساعت
چھٹی ساعت
ساتویں ساعت
آٹھویں ساعت
نویں ساعت
دسویں ساعت
گیارہویں ساعت
بارہویں ساعت
ہر روز وشب کی دعا
جہنم سے بچانے والی دعا
گذشتہ اور آیندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا
نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا
ستر قسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا
فقر وغربت اور وحشت قبر سے امان کی دعا
اہم حاجات بر لانے والی دعا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا
دعاؤں سے پاکیزگی کی دعا
فقر وفاقہ سے بچانے والی دعا
چار ہزار گناہ کیبرہ معاف ہو جانے کی دعا
کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا
بہت زیادہ اجر ثواب کی دعا
عبادت اور خلوص نیت
کثرت علم ومال کی دعا
دنیاوی اور آخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا
بہشت میں اپنے مقام دیکھنے کی دعا

دیگر مستحبی نمازیں

نماز اعرابی
نماز ہدیہ
نماز وحشت
دوسری نماز وحشت
والدین کیلئے فرزند کی نماز
نماز گرسنہ
نماز حدیث نفس
نماز استخارہ ذات الرقاع
نماز ادا قرض وکفایت از ظلم حاکم
نماز حاجت
نماز حل مہمات
نماز رفع عسرت(پریشانی)
نماز اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز دیگر اضافہ رزق
نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
دیگر نماز حاجت
نماز استغاثہ
نماز استغاثہ بی بی فاطمہ
نماز حضرت حجت(عج)
دیگر نماز حضرت حجت(عج)
نماز خوف از ظالم
تیزی ذہن اور قوت حافظہ کی نماز
گناہوں سے بخشش کی نماز
نماز دیگر
نماز وصیت
نماز عفو
(ایام ہفتہ کی نمازیں)
ہفتہ کے دن کی نماز
اتوار کے دن کی نماز
پیر کے دن کی نماز
منگل کے دن کی نماز
بدھ کے دن کی نماز
جمعرات کے دن کی نماز
جمعہ کے دن کی نماز

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات

بیماریوں کی دعائیں اور تعویذات
دعائے عافیت
رفع مرض کی دعا
رفع مرض کی ایک اوردعا
سر اور کان درد کا تعویذ
سر درد کا تعویذ
درد شقیقہ کا تعویذ
بہرے پن کا تعویذ
منہ کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ
دانتوں کے درد کا ایک اور تعویذ
درد سینے کا تعویذ
پیٹ درد کا تعویذ
درد قولنج کا تعویذ
پیٹ اور قولنج کے درد کا تعویذ
دھدر کا تعویذ
بدن کے ورم و سوجن کا تعویذ
وضع حمل میں آسانی کا تعویذ
جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ
بخار کا تعویذ
پیچش دور کرنے کی دعا
پیٹ کی ہوا کیلئے دعا
برص کیلئے دعا
بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ
شرمگاہ کے درد کی دعا
پاؤں کے درد کا تعویذ
گھٹنے کے درد
پنڈلی کے درد
آنکھ کے درد
نکسیر کا پھوٹن
جادو کے توڑ کا تعویذ
مرگی کا تعویذ
تعویذسنگ باری جنات
جنات کے شر سے بچاؤ
نظر بد کا تعویذ
نظر بد کا ایک اور تعویذ
نظر بد سے بچنے کا تعویذ
جانوروں کا نظر بد سے بچاؤ
شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ
چور سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ
سانپ اور بچھو سے بچنے کا تعویذ
بچھو سے بچنے کا تعویذ

کتاب الکافی سے منتخب دعائیں

سونے اور جاگنے کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں

نماز سے پہلے اور بعد کی دعائیں

وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں

ادائے قرض کیلئے دعائیں

غم ،اندیشہ و خوف کے لیے دعائیں

بیماریوں کیلئے چند دعائیں

چند حرز و تعویذات کا ذکر

دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے دعائیں

بعض حرز اور مختصر دعائیں

حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں

بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص

خواص با سور قرآنی
خواص بعض آیات سورہ بقرہ وآیة الکرسی
خواص سورہ قدر
خواص سورہ اخلاص وکافرون
خواص آیة الکرسی اورتوحید
خواص سورہ توحید
خواص سورہ تکاثر
خواص سورہ حمد
خواص سورہ فلق و ناس اور سو مرتبہ سورہ توحید
خواص بسم اﷲ اور سورہ توحید
آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کی دعا
سرکش گھوڑے کے رام کی دعا
درندوں کی سر زمین میں ان سے محفوظ رہنے کی دعا
تلاش گمشدہ کا دستور العمل
غلام کی واپسی کیلئے دعا
چور سے بچنے کیلئے دعا
خواص سورہ زلزال
خواص سورہ ملک
خواص آیہ الا الی اﷲ تصیر الامور
رمضان کی دوسرے عشرے میں اعمال قرآن
خواب میں اولیاء الہی اور رشتے داروں سے ملاقات کا دستور العمل
اپنے اندر سے غمزدہ حالت کو دور کرنے کا دستور العمل
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
سونے کے وقت کے اعمال
دعا مطالعہ
ادائے قرض کا دستور العمل
تنگی نفس اور کھانسی دور کرنے کا دستور العمل
رفع زردی صورت اور ورم کیلئے دستور العمل
صاحب بلا ومصیبت کو دیکھتے وقت کا ذکر
زوجہ کے حاملہ ہونے کے وقت بیٹے کی تمنا کیلئے عمل
دعا عقیقہ
آداب عقیقہ
دعائے ختنہ
استخارہ قرآن مجید اور تسبیح کا دستور العمل
یہودی عیسائی اور مجوسی کو دیکھتے وقت کی دعا
انیس کلمات دعا جو مصیبتوں سے دور ہونے کا سبب ہیں
بسم اﷲ کو دروزے پر لکھنے کی فضیلت
صبح شام بلا وں سے تحفظ کی دعا
دعائے زمانہ غیبت امام العصر(عج)
سونے سے پہلے کی دعا
پوشیدہ چیز کی حفاظت کیلئے دستور العمل
پتھر توڑنے کا قرآنی عمل
سوتے اور بیداری کے وقت سورہ توحید کی تلاوت خواص
زراعت کی حفاظت کیلئے دستور العمل
عقیق کی انگوٹھی کی فضیلت
نیسان کے دور ہونے جانے کی دعا
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
دعاء تمجید اور ثناء پرودرگار

موت کے آداب اور چند دعائیں

ملحقات باقیات الصالحات

ملحقات باقیات الصالحات
دعائے مختصراورمفید
دعائے دوری ہر رنج وخوف
بیماری اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
درد مقعد دور کرنے کا عمل
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
دعائے خلاصی قید وزندان
دعائے فرج
نماز وتر کی دعا
دعائے حزین
زیادتی علم وفہم کی دعا
قرب الہی کی دعا
دعاء اسرار قدسیہ
شب زفاف کی نماز اور دعا
دعائے رہبہ (خوف خدا)
دعائے توبہ منقول از امام سجاد