Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ایثار، اعلیٰ ترین خوبی ہے۔ غررالحکم حدیث606
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

اسلامی افکار

امامت دینی مرجعیت کے معنی میں

آية اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

ہم عرض کرچکے ہیں کہ پیغمبر وحی الٰہی کی تبلیغ کرنے والے اور اس کا پیغام پہونچانے والے تھے ۔ لوگ جب متن اسلامی کے بارے میں جاننا چاہتے تھے یا قرآن میں مطلب نہ پاتے تھے پیغمبر سے سوال کرتے تھے مسئلہ یہ ہے کہ اسلام جو کچھ معارف احکام اور قوانین بیان کرنا چاہتا تھا کیا وہ سب کے سب وہی ہے جو قرآن میں آگئے ہیں اور پیغمبر نے عام طور سے لوگوں کے سامنے بیان کردیا ہے ؟ یانہیں بلکہ قہری طور سے زمانہ اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ پیغمبر تمام قوانینوں احکام عام طور سے لوگوں میں بیان کردیں علی پیغمبر کے وصی و جانشین تھے اور پیغمبر اسلام نے اسلام کی تمام چھوٹی بڑی باتیں یا کم از کم اسلام کے تمام کلیات علی سے بیان کردئےاور انہیں ایک بے مثال عالم غیر معلم اپنے اصحاب میں سے سب سے ممتاز انہیں کی طرح اپنء باتوں میں خطا و لغزش سے میری اور خدا کی جانب سے نازل ہونے والی تمام باتوں سے واقف شخصیت کے عنوان سے لوگوں کےسامنے پیش کیا ار فرمایا اے لوگوں میرے بعد دینی مسائل میں جو کچھ پوچھنا ہو میرے اس وصی و جانشین اور اس کے بعد تما م آنے والے اوصیاء سے سوال کرنا در حقیقت یہاں امامت ایک کامل اسلام شناس کی حیثیت سے سامنے آتی ہے لیکن یہ اسلام شناس ایک مجتہد کی حد سے کہیں بالا تر ہے اس کی اسلام شناسی منجانب اللہ ہے اور اءمہ علیہ السلام یعنی واقعی اسلام شناس البتہ یہ وہ افراد نہیں ہے جنھوں نے اپنی عقل اور فکر کے ذریعے اسلام کو پہچانا ہوجن کے یہاں قہری طور پر خطا اور اشتباہ کا امکان بھی پایا جاتا ہو بلکہ انھوں نے ان غیبی اور مرموز ذرائع سے اسلامی علوم پیغمبر سے حاصل کئے ہیں جو ہم پر پوشیدہ پے او ر یہ علم پیغمبر سے علی علیہ السلام تک اور علی سے بعد کے اءمہ تک پہونچا ہے اور اءمہ علیہ السلام کے پورے دور میں یہ علم خطاوں سے بری معصوم علم کی صورت میں ایک امام سے دوسرے امام تک پہونچتا رہا ہے ۔ اہل سنت کسی شخص کے لئےاس منزلت و مقام کےقائلنہیں ہیں لہٰذا وہ سرے سے اس طرح کی امامت کے حامل کسی بھی امام کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ۔ یعنی وہ امامت کے ہی قائل نہیں ہیں، نہ یہ کہ امامت کے توقائل ہوں اور کہیں کہ علی امام نہیں ہیں، ابوبکر اس کے اہل ہیں، نہیں بلکہ وہ لوگ ابوبکر، عمر عثمان بلکہ کلی طور پر کسی ایک صحابی کے لئےبھی اس منصب یا مقام کو تسلیم نہیں کرتے ۔یہی سبب ہےکہ خود اپنی کتابوں میں ابوبکرعمر سے دینی مسائل میں ھزاروں اشتباہات اورغلطیاں نقل کرتے ہیں لیکن شیعہ اپنے اماموں کوخطائوں سے معصوم جانتے ہیں اور امام سے کسی خطا کےسرزدہ ونےکو محال سمجھتے ہیں (مثال کے طور پر اہل سنت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ) ابوبکرنے فلاں مقام پراشتباہ کیا اوربعد میں خود ہی کہا کہ "ان لی شیطاناً نعترینی" بلاشبہ ایک شیطان ہےجو اکثر میرے اوپر مسلط ہوجاتا ہےاور میں غلطیاں کربیٹھتا ہوں،یا عمر نےفلاں مقام پرخطااورغلطی کی اوربعدمیں کہاکہ:یہ عورتیں بھی عمر سےزیادہ عالم وفاضل ہیں۔ کہتے ہیں کی جب ابوبکر کاانتقال ہواتو ان کےاہل خاندان منجملہ ابوبکرکی صاحبزادی اورزوجہء رسول عائشہ بھی گریہ وآہ زاری کرنےلگیں۔یہ صداے گریاجب ابوبکر کے گھرسے بلند ہوئی توعمر نے پیغام کہلوایا کی جاکر عورتوںسے کہ دوکہ خاموش رہیں۔وہ خاموش نہ ہوئیںدوسری مرتبہ کہلایاکہ اگرخاموش نہ ہوئیں تو میں تازیانہ لیکرآتا ہوں یوں ہی پیغام کے بعد پیغام جاتے رہےلوگوں نے عائشہ سے کہاکہ عمرگریا کرنے پربگڑرہےہیںدھمکیاںدے رہےہیںاوررونےسےمنع کرتےہیںآپ نے کہاابن خطاب کو بلاءو،دیکھیںوہ کیا کہ رہا ہے۔عمرعائشہ کے احترام میں خودآئے،عائشہ نےپوچھاکیا بات ہےیہ باربارپیغام کییوں کہلارہےتھے؟کہنےلگےمیںنےپیغمبرص سے سناہےکہ اگر کوئی شخص مرجائےاورلوگ اس پرروءیںتو جس قدر وہ گریہ کریں گے اتنا ہی مرنے والا عذاب میں گرفتار ہوتا جائے گا، لوگوں کا گریہ اس کےلئےعذاب ہے ۔ عائشہ نے کہا : تم سمجھتے نہیں، تمہیں اشتباہ ہوا ہے ۔ مسئلہ کچھ اور ہے، میں جانتی ہوں اصل قصہ کیا ہے ۔ ایک مرتبہ ایک خبیث یہودی مر گیا تھا، اس کے اعزا اس پر رورہے تھے ۔ پیغمبر نے فرمایا :یہ لوگ رورہے ہیں، جبکہ اس پر عذاب ہوریا ہے ۔ یہ نہیں فرمایا تھا کہ ان لوگوں کو رونا عذاب کا سبب بن رہاہے ۔ بلکہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اس پر رورہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس پر عذاب کیا جارہا ہے ۔ آخر اس واقعہ کا اس مسئلہ سے تعلق ہے ؟!اس کے علاوہ اگر میت پر رونا حرام ہے تو ہم گناہ کررہے ہیں خدا ایک بے گناہ پر عذاب کیوں کر رہا ہے ؟!اس کا اس میں کیا گناہ ہے کہ گریہ ہم کریں اور عذاب میں وہ مبتلا کیا جائے ؟! اگر عورتیں نہ ہوتیں تو عمر ہلاک ہو گیا ہوتا ۔ خود اہل سنت کہتے ہیں کہ عمر نے ستر جگہوں پر (یعنی ستر مقاما ت پر اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ایسے موارد بہت زیادہ ہے کہا لولا علی لہلک عمر اور امیر المومنین علیہ السلام ان کی غلطیوں کو درست کرتے تھے اور خود بھی اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے تھے مختصر یہ کہ اہل سنت اس نوعیت کی امامت کےقاءل نہیں ہے اب بحث کا رخ اس مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے بلا شبہ وحی فقط پیغمبر پر نازل ہوتی تھی ہم یہ نہیں کہتے کہ اءمہ پر نازل ہوتی ہے اسلام صرف پیغمبر نے عالم بشریت تک پہونچایا خدا نے بھی اسلام سے متعلق جو کچھ کہنا تھا پیغمبر سے فرمادیا ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلام کے بعض قوانین پیغمبر سے نہ کہے گئے ہوں پیغمبر سے سب کچھ کہ دیا گیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے تمام احکام و قوانین عام لوگوں تک پہونچادیے گئے یا نہیں ؟ اہل سنت کہتے ہیں کہ اسلام کے جتنے احکام و قوانین تھے پیغمبر نے اپنے اصحاب تک پہونچا دءے لیکن بعد میں جب صحابہ سے کسی مسئلہ میں کوئی روایت نہیں ملتی تو الجھ جاتے ہیں کے کیا کریں ؟ اور یہیں سے دین میں قیاس کا مسئلہ داخل ہوجاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ان مسائل کو قانون قیاس کے ذریعہ مکمل کرلیتے ہیں جس کے متعلق امیر المومنین علیہ السلام نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں گویا خدا نے ناقص دین بھیجا ہے کہ تم اسے مکمل کرو گے ؟ لیکن شیعہ کہتے ہیں کہ نہ خدانے ناقص اسلامی قوانین پیغمبر پر نازل کیے اور نہ پیغمبر نے انہیں ناقص صورت میں لوگوں تک پہونچایا پیغمبر نے کامل طور پر سب کچھ بیان کردیا لیکن جو کچھ کامل شکل مین پیغمبر نے بیان کیا سب کچھ وہی نہیں ہے جو پیغمبر نے عوام کے سامنے بیان کیا ہے کتنے ہی احکام ایسے تھے جن کی ضرورت پیغمبر کے زمانے میں پیش ہی نہیں آءی اور بعد میں ان سے متعلق سوال ا ٹھا بلکہ آپ نے خدا کی جانب سے نازل ہونے والے تمام احکام اپنے شاگرد خاص کو تعلیم کیے اور ان سے فرمادیا کہ تم بعد میں ضرورت کے مطابق لوگوں سے بیان کرنا یہیں سے عصمت کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے شیعہ کہتے ہیں کہ جس طرح پیغمبر اپنے بیان و گفتگو میں عمداً یا سھوا غلطی یا اشتباہ سے دو چار نہیں ہوتے یوں ہی ان کا شاگرد خاص بھی خطا یا اشتباہ سے دوچار نہیں ہوسکتا کیوں کہ جس طرح پیغمبر کو ایک نوعیت سے تائید الٰہی حاصل تھی یوں ہی ان کے خصوصی شاگرد کو بھی غیبی و الٰہی تائید حاصل تھی اور یہ گویا امامت کا ایک اور فضل و شرف ہے ۔