Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، توبہ رحمت کے نزول کا سبب بنتی ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث13707
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

اسلامی افکار

امامت معاشرہ کی حاکمیت کے معنیٰ میں

آية اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

جیسا کہ عرض کر چکا ہوں امامت کا مطلب اپنے پہلے معنی کے مطابق ریاست عامہ ہے ۔ یعنی پیغمبر کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کا وہ عہدہ جسے معاشرہ کی رہبری کہتے ہیں، خالی ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے کسی کو انکار نہیں کہ انسانی معاشرہ ایک رہبر کا محتاج ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے بعد معاشرہ کا حاکم و رہبر کو ن ہے ؟ یہ وہ مسئلہ ہے جسے بنیادی لو۔ پر شیعہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور سنّی بھی ۔ شیعہ بھی کہتے ہیں کہ معاشرہ کو ایک اعلیٰ رہبر و قاعد اور حاکم کی ضرورت ہے اور سنّی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں ۔ یہی وہ منزل ہے جہاں خلافت کا مسئلہ اس شکل میں سامنے آتا ہے ۔ سیعہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اپنے بعد ایک حاکم و رہبر معین کردیا اور فرمایا کہ میرے بعد مسلمانوں کے امور کے امام علی کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے اور اہل سنت اس منطق سے اختلاف کرتےہوئےکم از کم اس شکل میں جس شکل میں شیعہ مانتے ہیں یہ بات قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں پیغمبر نے کسی خاص شخص کو معین نہیں فرمایا تھا ۔ بلکہ یہ خود مسلمانوں کا فرض تھا کہ پیغمبر کے بعد اپنا ایک حاکم ورہبر منتخب کرلیں چنانچہ وہ بھی بنیادی طور پر امامت و پیشوائیکو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حاکم و رہبر ضرور ہونا چاہءے بس اختلاف یہ ہے کہ ان کے نزدیک رہبر انتخاب کے ذریعہ معین ہوتا ہے اور شیعہ کہتے ہیں کہ حاکم و رہبر کو خود پیغمبر نے وحی کے ذریعہ معین فرمادیا ہے ۔ اگر مسئلہ امامت یہیں تک محدود رہتا اور بات صرف پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے سیاسی رہبر کی ہوتی تو انصاف کی بات یہ ہے کہ ہم شیعہ بھی امامت کو اصول دین کے بجائے فروع دین کا جزو قرار دیتےاور سمجھتے ہیں کہ یہ بھی نماز کی طرح ایک فرعی مسئلہ ہے لیکن شیعہ جس امامت کےقائل ہیں وہ اس قدر محدود نہیں ہے کہ چونکہ علی بھی دیگر اصحاب مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان اور سیکڑوں اصحاب یہاں تک کہ سلمان و ابوذر کی طرح پیغمبر کے ایک صحابی تھے لیکن ان سب سے بر تر و افضل، سب سے زیادہ عالم، سب سے زیادہ متقی اور باصلاحیت تھے اور پیغمبر نے بھی انہیں معین فرمادیا تھا ۔ نہیں، شیعہ صرف اسی حد پر نہیں ٹھہرتے بلکہ امامت کے سلسلہ میں دو اور پہلووں کےقائل ہیں ۔ جن میں سے کسی ایک کو بھی اہل تسنن سرے سے نہیں مانتے ایسا نہیں ہے کہ امامت کی ان دوحیثیتوں کو تو مانتے ہوں لیکن علی کی امامت سے انکار کرتے ہوں، نہیں !ان میں سے یاک مسئلہ یہ ہے کہ امامت دینی مر جعیت کا عنوان رکھتی ہے ۔