Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام موسیٰ کاظم نے فرمایا، جب انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ خدا سے بہت دور ہوجاتا ہے مستدرک الوسائل حدیث19618، بحارانوار ج63ص331، تتمۃ کتاب السماء والعالم، ابواب آداب الاکل، باب5ذم کثرۃ الأکل
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

اسلامی افکار

امامت کے معانی و مراتب

آية اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

ھماری بحث مسئلہ امامت سے متعلق ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ مسئلہ امامت کو ہم شیعوں کے یہاں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔ جبکہ دوسرے اسلامی فرقوں میں اسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ راز یہ ہے کہ شیعوں کے یہاں امامت کا جو مفہوم ہے وہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں سے مختلف ہے ۔ اگر چہ بعض مشترک پہوبھی پائے جاتے ہیں ، لیکن شیعی عقاعد میں امامت کا ایک مخصوص پہلو بھی ہے اور یہی پہلو امامت کو غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا دیتا ہے ۔ مثال کے طور پر جب ہم شیعہ اصول دین کو شیعی نقطہ نظر کے مطابق بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصول دین ، توحید ، عدل، نبوت، امامت اور قیامت کاو مجموعہ ہے ۔ یعنی امامت کو اصول دین کا جز و شمار کرتے ہیں ۔ اہل تسنن بھی ایک طرح جو امامت کے قایل ہیں ۔ بنیادی طور سے امامت کے منکر نہیں ہیں وہ اسے دوسری شکل سے تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن وہ جس نوعیت سے تسلیم کرتے ہیں، اس میں امامت اصول دین کا جز ونہیں ہے بلکہ فروع دین کا جو ہے بہر حال ہم دونوں امامت کے مسئلہ میں اختلاف رکھتے ہیں وہ ایک اعتبار سے امامت کےقائل ہےیں اور ہم دوسرے اعتبار سے امامت کو تسلیم کرتے ہیں آخر یہ کیسے ہوا کہ شیعہ امامت کو اصول دین کا جزو انتے ہیں او اہل سنت اسے فروغ دین کا جزو سمجھتے ہیں ؟ اس کا سبب وہی ہے جو عرض کرچکا ہوں کہ شیعہ اور ایہل سنت کے یہاں امامت کے مفہوم میں فرق ہے ۔