Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، مہدی ؑمیری اولاد سے ہوں گے، ان کا چہرہ روشن ستارے کی مانند ہوگا بحارالانوار ابواب النصوص من اللہ تعالیٰ باب1 حدیث 37
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

اسلامی افکار

گھریلو زندگی پر آزادی کے اثرات

آية اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

بعض لوگوں کا یہی خیال ہے کہ گھریلو نظام کے سست ہوجانے اور اس میں فساد کا عنصر داخل ہوجانے کا اصلی سبب عورت کی آزادی ہی ہے اور دوسری طرف سے ’’آزادی‘‘صنعتی زندگی اور علم و تمدن کی ترقی کا قہری نتیجہ ہے ،تاریخی مجبوری اور ضرورت ہے اور اس بات کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ ہم اس فساد اور بے نظمی کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور پرانے زمانے کی گھریلو سعادت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چشم پوشی کریں۔ اگر ہم اس طرح سوچیں تو یہ نہایت ہی سطحی اور ناشیانہ سوچ ہے،یہ بات ہم قبول کرتے ہیں کہ گھریلو تعلقات پر زندگی کے اثرات ضرور پڑتے ہیں لیکن یورپ میں گھریلو نظام کے بکھر جانے کے دو اصلی عامل اور اسباب ہیں: اول:وہ رسم و رواج اور عادات و اطوار اور وہ جاہلانہ اور ظالمانہ قوانین کہ جو اس صدی سے پہلے عورت کے بارے میں یورپ میں حاکم و نافذ تھے کہ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں پہلی بار عورت کو مالکانہ حقوق سے نوازا گیا۔ دوم:وہ لوگ جو عورتوں کے اوضاع و احوال کی اصلاح کرنے کی فکر میں پڑ گئے،وہ ٹھیک اسی راہ پر چلے کہ جس پر آج کے بعض روشن فکر مدعی لوگ چل رہے ہیں اور چالیس بند پر مشتمل ایک تجویزی دستاویز اسی کا ایک جلوہ ہے،عورت کی بھوئیں ٹھیک کرنے چلے تھے،بیچاری کی آنکھ ہی نکال دی۔