Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، جس نے کسی مومن کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی بحارالانوار ج64 ص72، کتاب الایمان والکفر، ابواب الایمان والاسلام، باب1فضل الایمان، مستدرک الوسائل حدیث 10335
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

اسلامی افکار

عورت اور مرد کے حقوق میں برابری کا تصور

آية اللہ شہید مرتضیٰ مطہری

عصری تقاضوں کے تحت ہمیں بہت سارے مسائل کو دوبارہ کھنگالنے کی ضرورت ہے اور گذشتہ بحثوں اور نتائج پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے ’’گھریلو وظائف اور حقوق کا نظام‘‘بھی ان ہی جیسے مسائل میں سے ایک ہے۔ دور حاضر میں کچھ علل و اسباب کہ جن کی طرف میں بعد میں اشارہ کروں گا کی بنیاد پر کچھ ایسا فرض کیا گیا ہے کہ اس سلسلہ کا بنیادی مسئلہ عورت کی ’’آزادی‘‘ اور مرد کے ساتھ اس کے حقوق کی برابری‘‘ہے اور بقیہ سارے مسائل انہیں دو مسائل کی شاخیں ہیں۔ لیکن ہماری نظر میں جو’’گھریلو نظام‘‘ سے متعلق بنیادی مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ آیا’’گھریلو نظام‘‘دوسرے تمام سماجی نظاموں کے مقابلہ میں ایک مستقل نظام ہے اور یہ اپنا مخصوص معیار و منطق رکھتا ہے جو دوسرے تمام سماجی نظاموں کے معیاروں اور منطقوں سے الگ ہے یا نہیں!ان دونوں سماجی نظاموں کے درمیان آپس میں کوئی تفاوت اور فرق نہیں ہے اور اس نظام پر بھی وہی منطق اور وہی معیار حکم فرما ہے جو دوسرے تمام نظاموں پر حکم فرما ہے۔؟ اس شک و تذبذب کی اصلی جڑ ایک طرف تو اس نظام کے دو بنیادی ارکان کادو مختلف جنس کا ہونا ہے اور دوسری طرف سے والدین اور اولاد کا یکے بعد دیگرے ہونے کا تسلسل ہے۔ نظام خلقت نے اس گھریلو نظام کے اعضاء کو غیر یکساں ،نا مشابہ اورمختلف کیفیتوں اور حالتوں کے ساتھ قرار دیا ہے۔ ’’گھریلو نظام‘‘ایک قدرتی قرار دادی نظام ہے یعنی اوسط درجہ کا ایک ایسا نظام کہ جو فطری اور قدرتی سماج(جیسے شہدکی مکھیوں یا چیونٹیوں کا سماج کہ جہاں حقوق اور قوانین کی سر پیچی اور نافرمانی ممکن نہیں ہے)اور قرار داری سماج(جیسے سماج کہ جہاں قدرتی(civilized)انسانوں کا ترقی یافتہ اور فطری پہلو کم نظر آتا ہے)کے بینا بین ہے۔