Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، بخل تمام عیبوں کا مجموعہ ہے، وہ ایسی مہار ہے جس کے ذریعہ ہر برائی کی طرف کھینچ کر لے جایا جاتا ہے۔ نھج البلاغۃ حکمت 378

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 83: تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا

میں گواہی دیتا ہوں کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو کتا ؤ لاشریک ہے ۔وہ اوّل ہے اس طرح کہ اس کے پہلے کوئی چیز نہیں ۔ وہ آخر ہے ۔ یوں کہ اس کی کوئی انتہا نہیں ۔ اس کی کسی صفت سے وہم و گمان با خبر نہیں ہو سکتے ، نہ اس کی کسی کیفیت پر دلوں کا عقیدہ جم سکتا ہے ، نہ اس کے اجزاء ہیں کہ اس کا تجزیہ کیا جاسکے اور نہ قلب و چشم اس کا احاطہ کر سکتے ہیں ۔

اس خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے :۔

خدا کے بندو! مفید عبرتوں سے پندو نصیحت اور کھلی ہوئی دلیلوں سے عبرت حاصل کرو۔ اور موٴثر خوف دہانیوں سے اثر لو۔ اور مواعظ و افکار سے فائدہ اٹھاؤ۔ کیونکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ موت کے نیچے تم میں گڑ چکے ہیں ۔ اور تمہاری امیدو آرزو کے تمام بندھن ایکدم ٹوٹ چکے ہیں ۔ سختیاں تُم پر ٹوٹ پڑی ہیں ۔ اور (موت کے) چشمہ پر کہ جہاں اترا جاتا ہے ۔ تمہیں کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے اور ہر نفس کے ساتھ ایک ہنکانے والا ہوتا ہے اور شہادت دینے والا۔ ہنکانے والا اسے میدانِ حشر تک ہنکا کر لے جائے گا۔ اور گواہ اس کے عملوں کی شہادت دے گا۔

اسی خطبے کا یہ جز جنت کے متعلق ہے ۔ اس میں ایک دوسرے سے بڑھے چڑھے ہوئے درجے ہیں اور مخلتف معیار کی منزلیں ہیں ، نہ اس کی نعمتوں کا سلسلہ ٹوٹے گا، نہ اس میں ہمیشہ کے رہنے والوں کو بوڑھا ہونا ہے اور نہ اس میں بسنے والوں کو فقر و نادار سے سابقہ پڑنا ہے۔