Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، مومن کی خوشی اس کے چہرے پر، اس کی طاقت اس کے دین میں اور غم اس کے دل میں ہوتا ہے۔ غررالحکم حدیث1554

نہج البلاغہ خطبات

طلحہ سے ملاقات نہ کرنا۔ اگر تم اس سے ملے ، تو تم اس کو ایک ایسا سرکش بیل پاؤ گے ۔ جس کے سینگ کانوں کی طرف مڑے ہوئے ہوں ۔ وہ منہ زور سواری پر سوار ہوتا ہے اور پھر کہتا یہ ہے کہ یہ رام کی ہوئی سواری پر سوار ہوتا ہے اور پھر کہتا یہ ہے کہ یہ رام کی ہوئی سواری ہے بلکہ تم زبیر سے ملنا اس لئے کہ وہ نرم طبیعت ہے اور اس سے یہ کہنا کہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے کہا ہے کہ تم حجاز میں تو مجھ سے جان پہنچا ن رکھتے تھے اور یہاں عراق میں آکر بالکل اجنبی بن گئے ۔ آخر اس تبدیلی کا کیا سبب ہے ۔ علامہ رضی فرماتے ہیں کہ اس کلام کا آخری جملہ ” فما عد اممابدا“ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تبدیلی کا کیا سبب ہوُا۔ سب سے پہلے آپ ہی کی زبان سے سنا گیا ہے۔

اے لوگو ! ایک ایسے کج رفتار زمانہ اور ناشکر گذار دنیا میں پیدا ہوئے ہیں کہ جس میں نیکو کار کو خطا کار سمجھا جاتا ہے ، اور ظالم اپنی سرکشی میں بڑھتا ہی جاتا ہے ۔ جن چیزوں کو ہم جانتے ہیں ، ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور جن چیزوں کو نہیں جانتے ، انہیں دریافت نہیں کرتے اور جب تک مصیبت آ نہیں جاتی، ہم خطرہ محسوس نہیں کرتے ۔ (اس زمانے کے ) لوگ چار طرح کے ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جنہیں مفسدہ انگیزی سے مانع صرف ان کے نفس کا بے وقعت ہونا ، ان کی دھار کا کند ہونا۔ اور ان کے پاس مال کا حاکم ہونا ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جو تلواریں سونتے ہوئے علانیہ شر پھیلا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے سوار اور پیادے جمع کر رکھے ہیں ۔ صرف کچھ مال بٹورنے کسی دستہ کی قیادت کرنے ، یا منبر پر بلند ہونے کے لئے انہوں نے اپنے نفسوں کو وقف کر دیا ہے اور دین کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے کتنا ہی بُرا سودا ہے کہ تم دنیا کو اپنے نفس کی قیمت اور اللہ کے یہاں کی نعمتوں کا بدل قرار دے لو۔ اور کچھ لوگ وُہ ہیں جو آخرت والے کاموں سے دنیا طلبی کرتے ہیں اور یہ نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں سے بھی آخرت کا بنانا مقصود رکھیں ۔ یہ اپنے اوپر بڑا سکون و وقار طاری رکھتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہیں اور دامنوں کو اوپر کی طرف سمیٹتے رہتے ہیں اور اپنے نفسوں کو اس طرح سنوار لیتے ہیں کہ لوگ انہیں امین سمجھ لیں ۔ یہ لوگ اللہ کی پردہ پوشی سے فائدہ اٹھا کر اس کا گناہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں ان کے نفسوں کی کمزوری اور سازو سامان کی نافراہمی ملک گیری کے لئے اٹھنے نہیں دیتی۔ ان حالات نے انہیں ترقی و بلندی حاصل کرنے سے درماندہ و عاجز کر دیا ہے ۔ اس لئے قناعت کے نام سے انہوں نے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے اور زاہدوں کے لباس سے اپنے کو سج لیا ہے ۔ حالانکہ انہیں ان چیزوں سے کسی وقت کبھی کوئی لگاؤ نہیں رہا۔ اس کے بعد تھوڑے سے وہ لوگ رہ گئے جن کی آنکھیں آخرت کی یاد اور حشر کے خوف سے جھکی ہوئی ہیں ۔ جو دنیا والوں سے الگ تھلگ تنہائی میں پڑے ہیں ۔ اور کچھ خوف و ہراس کے عالم میں ذلتیں سہہ رہے ہیں ، اور بعض نے اس طرح چپ سادھ لی ہے کہ گویا ان کے منہ باندھ دیئے گئے ہیں ۔ کچھ خلوص سے دُعائیں مانگ رہے ہیں کچھ غم زدہ و درد رسیدہ ہیں ۔ جنہیں خوف نے گمنامی کے گوشہ میں بٹھا دیا ہے اور خستگی و درماندگی ان پر چھائی ہوئی ہے وہ ایک شور دریا میں ہیں ۔ (کہ باوجود پانی کی کثرت کے پھر وہ پیاسے ہیں ) ان کے منہ بند اور دل مجروح ہیں ۔ انہوں نے لوگوں کو اتنا سمجھایا، بجھایا، کہ وہ اکتا گئے اور اتنا ان پر جبر کیا گیا کہ وہ بالکل دب گئے اور اتنے قتل کئے گئے کہ ان میں (نمایاں ) کمی ہوگئی ۔ اس دنیا کو تمہاری نظروں میں کیکر کے چھلکوں اور ان کے ریزوں سے بھی زیادہ حقیر و پست ہونا چاہیئے اور اپنے قبل کے لوگوں سے تم عبرت حاصل کر لو۔ اس سے قبل کہ تمہارے حالات سے بعد والے عبرت حاصل کریں اور اس دنیا کی بُرائی محسوس کرتے ہوئے اس سے قطع تعلق کرو۔ اس لئے کہ اس نے آکر میں ایسوں سے قطع تعلق کر لیا جو تم سے زیادہ اس کے والہ و شبدا تھے ۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اپنی لاعلمی کی بناء پر اس خطبہ کو معاویہ کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ یہ امیر الموٴمنین علی السلام کا کلا م ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ بھلا سونے کی متی سے کای نسبت اور شیریں پانی کو شور پانی سے کیا ربط ۔ چنانچہ اس وادی میں راہ دکھانے والے ماہرِ فن اور پرکھنے والے با بصیرت عمر و ابن بحر جا حظ نے اس کی خبر دی ہے ، اور اپنی کتاب ”البیان والتبین“ میں اس کاذکر کیا ہے اور ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے ، جنہوں نے اسے معاویہ کی طرف منسوب کی اہے اس کے بعد کہا ہے کہ یہ کلام علی علیہ السلام کے کلام سے ہُو بہُو ملتا جلتا ہے اور اس میں جو لوگوں کی تقسیم اور ان کی ذلت و پستی اور خوف و ہراس کی حالت بیان کی ہے ، یہ آپ ہی کے مسلک سے میل کھاتی ہے ۔ ہم نے تو کسی حالت میں بھی معاویہ کو زاہدوں کے انداز اور عابدوں کے طریقہ پر کلام کرتے ہوئے نہیں پایا۔

خطبہ 32: دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں