Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حقیقی معنوں میں بخیل وہ ہوتا ہے جو اپنے مال سے واجب زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی قوم کے قریب ترین افراد کے کام آتا ہےجبکہ باقی ہرجگہ فضول خرچی کرتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفرباب136حدیث30

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 25: پسر ابن ابء ارطاۃ کی تاخت و تاراج کے بعد جنگ سے جی چرانے والے ساتھیوں کے متعلق فرمایا

جب امیر الموٴمنین (ع) کو پے درپے یہ اطلاعات ملیں کہ مُعاویہ کے اصحاب (آپ کے مقبوضہ) شہروں پر تسلط جما رہے ہیں اور یمن کے عامل عبیدا اللہ ابنِ عباس اور سپہ سالارِ لشکر سعید ابن ِ نمران بسر ابن ابی ارطات سے مغلوب ہو کر حضرت کے پاس پلٹ آئے تو آپ اپنے اصحاب کی جہاد میں سُستی اور رائے کی خلاف ورزی سے بد دل ہو کر منبر کی طرف بڑھے اور فرمایا۔

یہ عالم ہے اس کوفہ کا ، جس کا بندوبست میرے ہاتھ میں ہے (اسے شہر کوفہ) اگر تیرا یہی عالم رہا کہ تجھ میں آندھیاں چلتی رہیں ، تو خدا تجھے غارت کرے ۔ پھر آپ نے شاعر کا یہ شعر بطورِ تمثیل پڑھا۔

اے عمرو!تیرے اچھے باپ کی قسم، مجھے تو اس برتن سے تھوڑی سی چکناہٹ ہی ملی ہے (جو برتن کے خالی ہونے کے بعد اس میں لگی رہ جاتی ہے ) مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ بسر یمن پر چھا گیا ہے ۔ بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ وہ (مرکز) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز ) حق سے پراگندہ و منتشر۔ تم امرِ حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں ۔ وہ اپنے ساتھی (معاویہ ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے ۔ وہ اپنے شہروں میں امن بحال رکھتے ہیں اور تم شورشیں برپا کرتے ہو میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔ ا ے اللہ وہ مجھ سے تنگ دل ہو چکے ہیں اور میں ان سے ۔ وہ مجھ سے تنگ دل ہو چکے ہیں اور میں ان سے ۔ وہ مجھے سے اکتا چکے ہیں اور میں ان سے ۔ مجھے ان کے بدلے میں اچھے لوگ عطا کر اور میرے بدلے میں انہیں کوئی اور بُرا حاکم دے ۔ خدا یا ان کے دلوں کو اس طرح (اپنے غضب سے ) پگھلا دے جس طرح نمک پانی میں گھول دیا جاتا ہے ۔ خدا کی قسم میں اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ تمہارے بجائے میرے پاس بنی فراس ابن غنم کے ایک ہی ہزار سوار ہوتے ایسے (جن کا وصف شاعر نے یہ بیان کیا ہے کہ ) اگر تم کسی موقعہ پر انھیں پکارو، تو تمہارے پاس ایسے سوار پہنچیں جو تیز روی میں گرمیوں کے ابر کے مانند ہیں اس کے بعد حضرت منبر سے نیچے آتر آئے۔

سید رضی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس شعر میں لفظِ ارمیہ رمی کی جمع ہے ، جس کے معنی اَبر کے ہیں اور حمیم کے معنی یہاں پر موسمِ گرم کے ہیں اور شاعرنے گرمیوں کے ابر کی تخلیق اس لئے کی ہے کہ وہ سرسریع السیر اور تیز ہوتا ہے اور ابر سست گام اس وقت ہوتا ہے جب اس میں پانی بھرا ہوا ہو اور ویسے ابرِ (ملک ِ عرب) عموماً سردیوں میں اٹھتے ہیں ۔ اس شعر سے شاعر کا مقصود یہ ہے کہ انہیں جب مدد کے لئے پکارا جاتا ہے ا ور ان سے فریاد سی کی جاتی ہے تو وہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور اس کی دلیل شعر کا پہلا مصرع ہے ۔ ھنالک لود عوت اتاک منھم (اگر تم پکارو تو وہ تمہارے پاس پہنچ جائیں گے ۔

(۱) جب تحکیم کے بعد معاویہ کے قدم مضبوطی سے جم گئے تو اس نے اپنا دائرہ سلطنت وسیع کرنے کے لئے امیر الموٴمنین کے مقبوضہ شہروں پر قبضہ جمانے کی تدبیریں شروع کر دیں اور مختلف علاقوں میں اپنی فوجیں بھیج دیں تاکہ وہ جبرو تشدد سے امیرِ شام کے لئے بیعت حاصل کریں ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں بسر ابن ابی ارطاة کو حجاز روانہ کیا ۔ جس نے حجاز سے لے کر یمن تک ہزاروں بے گناہوں کے خون بہائے قبیلوں کے قبیلے زندہ آگ میں جلا دیئے اور چھوٹے چھوٹے بچوں تک کو قتل کیا یہاں تک کہ عبید اللہ ابنِ عباس والی یمن کے دو کمسن بچوں قثم اور عبدالرحمٰن کو ان کی ماں حور یہ بنت خالد کے سامنے ذبح کر دیا۔

امیر المومنین کو جب اس کی سفاکیوں اور خونریزیوں کا علم ہوا تو آپ نے اس کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ کرنا چاہا مگر پہمِ جنگ آزمائیوں کی وجہ سے لوگ جنگ سے جی چھوڑ بیٹھے تھے اور سر گرمی کے بجائے بددلی ان میں پیدا ہو چکی تھی ۔ حضرت نے جب ان کو جنگ سے پہلو بچاتے ہوئے دیکھا تو یہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہیں حمیت و غیرت دلائی ہے ، اور دشمن کی باطل نوازیوں اور ان کے مقابلے میں ان کی کوتاہیوں کا تذکرہ کر کے انہیں جہاد پر اُبھارا ہے ۔ آخر جاریہ ابنِ قدامہ نے آپ کی آواز پر لبیک کہی ، اور دو ہزار کے لشکر کے ساتھ اس کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور اس کا پیچھا کر کے اسے امیر الموٴمنین کے مقبوضات سے نکا ل باہر کیا۔