Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، خوفِ خدا میں رونا، رحمتِ الٰہی کی کنجی ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث 5707

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 184: مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ

یہ خطبہ توحید کے متعلق ہے اور علم و معرفت کی اتنی بنیادی باتوں پر مشتمل ہے کہ جن پر کوئی دوسرا خطبہ حاوی نہیں ہے۔

جس نے اسے مختلف کیفیتوں سے متصّف کیا اس نے یکتانہیں سمجھا ،جس نے اس کا مثل ٹھہرایا اس نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا،جس نے اسے کسی چیز سے تشبیہ دی اس نے اس کا قصد نہیں کیا ،جس نے اسے قابل ِاشارہ سمجھا اور اپنے تصو ّر کا پابند بنایا۔

اس نے اس کا رخ نہیں کیا ،جو اپنی ذا ت سے پہچانا جائے و ہ مخلوق ہوگااور جو دوسرے کے سہارے پر قائم ہو ،وہ علت کا محتاج ہو گا ۔وہ غافل ہے بغیر آلات کو حرکت میں لائے ۔وہ ہر چیز کا اندازہ مقر ّر کرنے والا ہے۔بغیرفکرکی جولانی کے وہ تونگرو غنی ہے ۔بغیر دوسروں سے استفادہ کئے نہ زمانہ اس کا ہم نشین اورنہ آلات اس کے معا ون و معین ہیں ۔اس کی ہستی زمانہ سے پیشتر اس کا وجود عدم سے سابق اور اس کی ہمیشگی نقطہ ءِ آغا زسے بھی پہلے سے ہے اس نے جو احساس و شعور کی قوتوں کو ایجاد کیا اسی سے معلوم ہوا کہ وہ خود حواس و آلات شعور نہیں رکھتا اور چیزوں میں ضدیت قرار دینے سے معلوم ہواکہ اس کی ضد نہیں ہو سکتی اور چیزوں کو جواس نے ایک دوسرے کے ساتھ رکھاہے اسی سے معلوم ہوا کہ اس کا کوئی ساتھی نہیں ،اس نے نورکو ظلمت کی روشنی کو اندھیرے کی ،خشکی کوتری کی اور گرمی کو سردی کی ضد قرار دیاہے۔وہ ایک دوسرے کی دشمن چیزوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے والا،متضاد چیزوں کو باہم قریب لانے والا اور باہم پیوستہ چیزوں کو الگ الگ کرنے والاہے۔وہ کسی حد میں محدود نہیں اورنہ گننے سے شمار میں آتا ہے جسمانی قوی ٰتو جسمانی ہی چیزوں کو گھیرا کرتے ہیں اور اپنے ہی ایسوں کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں انہیں لفظ منذنے قدیم ہو نے سے روک دیا ہے۔اور لفظ قدیم نے ہمیشگی سے منع کر دیا ہے۔لفظ لولا نے کمال سے ہٹا دیا ہے ۔انہی اعضا ء و جوارح اور حواس و مشاعر کے ذریعہ ان کا موجد عقلوں کے سامنے جلوہ گر ہوا ہے اور ان ہی کے تقاضوں کے سبب سے آنکھوں کے مشاہدہ سے بری ہو گیاہے ۔حرکت و سکون اس پر طاری نہیں ہو سکتے۔بھلا جو چیز اس کی مخلوقات پر طاری کی ہو ،وہ اس پر کیونکر طاری ہو سکتی ہے۔اور جوچیز پہلے پہل اسی نے پیداکی ہے وہ اس کی طرف عائد کیونکر ہو سکتی ہے اور جس چیز کو اس نے پیدا کیا ہو وہ اس میں کیونکر پیدا ہوسکتی ہے اگر ایسا ہوتو اس کی ذات تغیر پذیر قرار پائے گی اوراس کی حقیقت ہمیشگی ودوام سے علیحدہ ہو جائے گی۔اگر اس کے لےے سامنے کی جہت ہو تی تو پیچھے کی سمت بھی ہوتی اور اگر اس میں کمی آتی تو وہ اس کی تکمیل کا محتاج ہوتا اور اس صورت میں وہ خود کسی خالق کے وجود کی دلیل بن جاتاحالانکہ وہ اس امر مسلمہ کی رو سے کہ اس میں مخلوق کی صفتوں کا ہو نا ممنوع اس سے بری ہے کہ اس میں وہ چیز اثر انداز ہو جو ممکنات میں اثر انداز ہوتی ہے۔وہ ادلتا بدلتا نہیں نہ زوال پذیر ہوتا ہے۔ نہ غروب ہونااس کے لےے روا ہے اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ورنہ محدود ہو کر رہ جائے گا،وہ آل اولاد رکھنے سے بالاتر اور عورتوں کو چھونے سے پاک ہے ۔تصو ّرات اسے پانہیں سکتے کہ اس کا اندازہ ٹھہرالیں اور عقلیں اس کا تصو ّر نہیں کر سکتی کہ اس کی کوئی صورت مقر ّر کرلیں ۔حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے کہ اسے محسوس کرلیں اور ہاتھ اس سے مس نہیں ہو سکتے کہ اسے چھو لیں ،وہ کسی حال میں بدلتا نہیں اور نہ مختلف حالتوں میں منتقل ہوتارہتاہے نہ شب ورو ز اسے کہنہ کرتے ہیں ،نہ روشنی و تاریکی اسے متغیر کرتی ہے اسے اجزاء و جوارح صفات میں سے کسی صفت اور ذات کے علاوہ کسی بھی چیز اور حصوں سے متصف نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے لےے کسی حد اور اختتام اور زوال پذیری اور انتہا کو کہانہیں جاسکتا اور نہ یہ چیزیں اس پر حاوی ہیں کہ خواہ اسے بلند کریں اور خواہ پست ،یا چیزیں اسے اٹھائے ہوئے ہیں کہ چاہے اسے اِدھراُدھر مو ڑیں اور چاہے اسے سیدھا رکھیں ۔نہ وہ چیزوں کے اندر ہے نہ ان سے باہر ،وہ خبر دیتا ہے۔بغیر زبان اور تالو جبڑے کی حرکت کے وہ سنتاہے ،بغیر کانوں کے سوراخوں والے آلات سماعت کے وہ بات کرتا ہے ،بغیر تلفظ کے و ہ ہر چیز کو یاد رکھتا ہے بغیر یاد کرنے کی زحمت کے ،وہ ارادہ کرتا ہے ،بغیر قلب اور ضمیر کے وہ دوست رکھتاہے اور خوشنود ہوتا ہے بغیر رقت طبع کے ،وہ دشمن پر غضبناک ہو تا ہے بغیر غم وغصہ کی تکلیف کے ،جسے پیدا کرنا چاہتا ہے اسے "ہوجا"کہتا ہے۔جس سے وہ ہوجاتی ہے بغیر کسی ایسی آواز کے جو کان (کے پردوں )سے ٹکرائے اور بغیر ایسی صدا کے جو سنی جاسکے ۔بلکہ اللہ سبحانہُ کا کلام بس اس کا ایجاد کردہ فعل ہے اور اس طرح کا کلا م پہلے موجودنہیں ہوسکتا اور اگر وہ قدیم ہوتا تو دوسرا خد ا ہوتا ۔یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ عدم کے بعد وجود میں آیا ہے کہ اس پرحادث صفتیں منطبق ہو نے لگےں اور اس میں اور مخلوقات میں کوئی فرق نہ رہے او ر نہ اسے اس پر کوئی فوقیت و برتری رہے کہ جس کے نتیجہ میں خالق و مخلوق ایک سطح پر آجائیں اورصانع و مصنوع برابر ہو جائیں ۔اس نے مخلو قات کو بغیر کسی ایسے نمونہ کے پیدا کیا کہ جو اس سے پہلے کسی دوسرے نے قائم کیا ہو اور اس کے بنانے میں اس نے مخلوقات میں سے کسی ایک کی بھی مدد نہیں چاہی۔وہ زمین کو وجود میں لایا اور بغیر اس کام میں الجھے ہوئے اسے برابر روکے تھامے رہااور بغیر کسی چیز پر لٹکائے ہوئے اسے برقرار کر دیا ،اور بغیر ستونوں کے اس نے قائم اور بغیر کھمبو ں کے اسے بلند کیا ۔کجی اورجھکاؤ سے اسے محفوظ کر دیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے اور پھٹنے سے اسے بچائے رہا۔اس کے پہاڑوں کو میخو ں کی طرح گاڑا اور چٹانوں کو مضبوطی سے نصب کیا ،اس نے جو بنایا ا س کے چشموں کو جاری اور پانی کی گزر گاہوں کو شگافتہ کیا اس میں کوئی سستی نہ آئی اور جسے مضبو ط کیا اس میں کمزوری نہیں پیدا ہوئی۔وہ اپنی عظمت و شاہی کے ساتھ زمین پر غالب ،علم و دانائی کی بدولت اس کے اندرونی رازوں سے واقف اور اپنے جلال و عزت کے سبب سے اس کی ہرچیز پر چھایا ہو ا ہے وہ جس چیز کا اس سے خواہاں ہو تاہے وہ اس کی دسترس سے باہر نہیں نکل سکتی اورنہ ہی اس سے روگردانی کرکے اس پر غالب آسکتی ہے اور نہ کوئی تیز رو اس کے قبضہ سے نکل سکتاہے کہ اس سے بڑھ جائے اور نہ وہ کسی مال دار کامحتاج ہے کہ وہ اسے روزی دے ۔تمام چیزیں اس کے سامنے عاجز اور اس کی بزرگی و عظمت کے آگے ذ لیل و خوار ہیں اس کی سلطنت (کی وسعتوں )سے نکل کر کسی اور طرف بھا گ جانے کی ہمت نہیں رکھتیں کہ اس کے جود و عطا سے (بے نیاز)اور اس کی گرفت سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لیں نہ اس کا کوئی ہمسر ہے جو اس کے برابر اتر سکے نہ اس کا مثل و نظیر ہے جو اس کی برابری کر سکے وہی ان چیزوں کو وجود کے بعد فنا کرنے والا ہے یہاں تک کہ موجود چیزیں ان چیزوں کی طرح ہو جائیں کہ جو کبھی تھیں ہی نہیں اور یہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد نیست و نابود کرنااس کے شرو ع شروع وجود میں لانے سے زیادہ تعجب خیز (دشوار )نہیں اور کیوں کر ایسا ہوسکتا ہے جب تمام حیوان وہ پرندے ہوں یا چوپائے ۔را ت کو گھروں کی طرف پلٹ کر آنے والے ہوں ۔یاچراگاہوں میں چرنے والے جس نوع کے بھی ہوں اور جس قسم کے ہوں و ہ اورتمام آدمی کو دن و غبی صنف سے ہوں یا زیرک و ہوشیار سب مل کر اگر ایک مچھر کو پیدا کرنا چاہیں تو وہ اس کے پیدا کرنے پر قادرنہ ہونگے اور نہ یہ جان سکیں گے اس کے پیدا کرنے کی کیا صورت اور اس جاننے کے سلسلہ میں ان کی عقلیں حیران و سر گرداں اور قوتیں عاجز و درماندہ ہو جائیں گی اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ شکست خور دہ ہیں اور یہ اقرار کرتے ہوئے کہ وہ اس کی ایجاد سے درماندہ ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ وہ اس کے فناکرنے سے بھی عاجز ہیں ۔خستہ و نامراد ہو کر پلٹ آئیں گے بلا شبہ اللہ سبحانہ٘ دنیا کے مٹ جانے کے بعد ایک اکیلا ہوگاکوئی چیز اس کے ساتھ نہ ہوگی ۔جس طرح کہ دنیا کی ایجاد و آفر نیش سے پہلے تھا ۔یونہی اس کے فنا ہو جانے کے بعد بغیر وقت و مکان اور ہنگام و زمان کے ہوگا اس وقت مدتیں اور اوقات سال اور گھڑیاں سب نابود ہونگی سوائے اس خدائے واحد و قہار کے جس کی طرف تمام چیزوں کی باز گشت ہے ۔کوئی چیز باقی نہ رہے گی ۔ان کی آفرنیش کی ابتداء ان کے اختیارو قدرت سے باہر تھی اور ان کا فنا ہونا بھی ان کی روک ٹوک کے بغیر ہوگا۔اگر ان کو انکار پر قدرت ہوتی تو ان کی زندگی بقاسے ہمکنار ہوتی جب اس نے کسی چیز کو بنایا تو ا س کے بنانے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی اور نہ جس چیز کو اس نے خلق و ایجاد کیااس کی آفرنیش نے اسے خستہ و درماندہ کیا ۔اس نے اپنی سلطنت (کی بنیادوں ) کو استوار کرنے اور(مملکت کے) زوال اور(عزت کے ) الخطاط کے خطرات (سے بچنے ) اورکسی جمع جتھے والے حریف کے خلاف مدد حا صل کرنے اور کسی حملہ آور غنیم سے محفو ظ رہنے اور ملک و سلطنت کا دائرہ بڑھانے کے لےے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیااور نہ اس نے (تنہائی کی ) وحشت سے(گھبرا کر) یہ چاہا ہوکہ ان چیزوں سے جی لگائے ،پھر وہ ان چیزوں کو بنانے کے بعد فنا کر دے گا اس لےے نہیں کہ ان میں ردو بدل کرنے اور ان کی دیکھ بھال رکھنے سے اسے دل تنگی لاحق ہوئی ہو اور نہ اس آسودگی و راحت کے خیال سے کہ جو (انہیں )مٹا کر اسے حاصل ہونے کی توقع ہو اور نہ اس وجہ سے کہ ان میں سے کسی چیز کا اس پر بوجھ ہو اسے ان چیزوں کی طول طویل بقا آزردہ و دل تنگ نہیں بناتی کہ یہ انہیں جلدی سے فنا کردےنے کی اسے دعوت دے بلکہ اللہ سبحانہ٘ نے اپنے لطف و کرم سے ان کا بندوبست کیا ہے اور اپنے فرمان سے ان کی رو ک تھام کر رکھی ہے ،اور اپنی قدرت سے ان کو مضبوط بنایا ہے ۔پھر وہ ان چیزوں کو فنا کے بعد پلٹائے گا ۔نہ اس لےے کہ ان میں سے کسی چیز کی احتیاج ہے ۔اوران کی مدد کا خواہاں ہے اور نہ تنہائی کی الجھن سے منتقل ہوکر دل بستگی کی حالت پید اکرنے کے لےے اور جہالت وبے بصیرتی کی حالت سے واقفیت و تجربات کی دنیا میں آنے کے لےے او ر فقر و احتیاج سے دولت و فراوانی او ر ذلت و پستی سے عزت وتوانائی کی طرف منتقل ہونے کے لےے ان کو دوبار ہ پیدا کرتا ہے۔

۱#مطلب یہ ہے کہ لفظ منذ ،قد،اور لولاجن معانی کے لےے وضع ہیں قدیم و ازلی و کامل ہونے کے منافی ہیں ۔لہٰذا ان کا اشیاء سے متعلق ہونا ان کے حادث و ناقص ہونے کی دلیل ہوگا ۔وہ اس طرح کہ منذا بتدائے زمانہ کی تعین کے لےے وضع ہے جیسے قد وجد منذ کذا (یہ چیز فلاں وقت سے پائی جاتی ہے)اس سے وقت کی تعین و حد بندی ہو گئی اور جس کے لےے تحدید وقت ہو سکے و ہ قدیم نہیں ہو سکتی اور لفظ قد ماضی قریب کے معنی دیتا ہے اور یہ معنی اسی میں ہوسکتے ہیں جو زمانہ میں محدود ہو اور لولا کی وضع امتناع الشئی لوجودغیرہ کے لےے ہے جیسے مااحسنہ و اکملہ لولا فیہ کذا یہ چیز کتنی حسین و کامل ہوتی اگر اس میں یہ بات نہ ہوتی لہٰذا جس سے یہ متعلق ہوگا و ہ حسن و کمال میں دوسرے کا محتاج اور اپنی ذات میں ناقص ہوگا۔

یہ حوادث دفتن کے ذکر سے مخصوص ہے :۔

ہاں !میرے ماں باپ ان گنتی کے چند افراد پر قربان ہوں ،جن کے نام آسمانوں میں جانے پہچانے ہوئے اور زمین میں انجانے ہیں ۔لہٰذا اس صورت حال کے متوقع رہو کہ تمہیں مسلسل ناکامیاں ہوتی رہیں اور تمہارے تعلقات درہم برہم ہوں اور تم میں چھوٹے برسرکار نظر آئیں یہ وہ ہنگام ہوگاکہ جب مومن کے لےے بطریق حلال ایک درہم حاصل کرنے سے تلوار کا وار کھانا آسان ہوگا ۔وہ۱# وقت ہو گا جب لینے والے (فقیر بے نوا ) کا اجر و ثواب دینے والے اغنیا ء سے بڑھا ہوا ہوگا ،یہ وہ زمانہ ہو گا کہ جب تم مست و سرشار ہو گے ۔شراب سے نہیں بلکہ عیش و آرام سے اور بغیر کسی مجبوری کے (بات بات پر ) قسمیں کھاؤ گے اور بغیر کسی لاچاری کے جھوٹ بولو گے ۔یہ وہ وقت ہو گا کہ مصیبتیں تمہیں اس طر ح کاٹیں گی جس طرح اونٹ کی کوہان کو پالا ن (آہ)ان سختیوں کی مدت کتنی دراز او ر اس سے(چھٹکارا پانے کی) امیدیں کتنی دو ر ہیں ۔

اے لوگو ! ان سواروں کی باگیں اتار پھینکو کہ جن کی پشت نے تمہارے ہاتھوں گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہیں ۔اپنے حاکم سے کٹ کر علیحدہ نہ ہو جاؤ ،ورنہ بد اعمالیوں کے انجام میں اپنے ہی نفسوں کو برا بھلا کہو گے اورجو آتش فتنہ تمہارے آگے شعلہ ور ہے ا س میں اندھا دھند کود پڑو ۔اس کی راہ سے مڑ کر چلو اور درمیانی راہ کو اس کے لےے خالی کر دو۔کیونکر میری جان کی قسم !یہ وہ آگ ہے کہ مومن اس کی لپٹوں میں تباہ و برباد،کافر اس میں سالم و محفوظ رہے گا ۔ تمہارے درمیان میری مثال ایسی ہے ۔جیسے اندھیرے میں چراغ کہ جو اس میں داخل ہو وہ اس سے روشنی حاصل کرے ۔اے لوگو!سنو اور یاد رکھو اور دل کے کانوں کو (کھول کر)سامنے لاؤ ،تاکہ سمجھ سکو :۔

۱#اس دور میں دینے والء مالدار سے لینے والے فقیرو نادار #ثواب اس لےے زیادہ ہو گا کہ مالدار کے اکتساب رزق کے ذرائع ناجائز و حرام ہو ں گے اور وہ جو کچھ دے گا۔اس میں نمود وریا اور شہرت و نمائش مقصودہوگی جس وجہ سے و ہ کسی اجر و ثواب کا مستحق نہ ہو گا اور غریب لے گا تو اپنی عزت و بیچارگی سے مجبور ہو کر اور اسے صحیح مصرف میں صرف کرنے سے اجرو ثواب کا مستحق ہو گا ۔

شارح معتزلی نے اس کے ایک معنی اور بھی تحریر کئے ہیں اور وہ یہ کہ اگر وہ مال دولت مند کے پا س رہتا اور یہ فقیر اسے نہ لیتا تو وہ حسب معمول اسے بھی حرام کاریوں اور عیش پرستیوں میں صرف کرتا اور چونکہ اس کا لے لینا بظاہر اس کے مصرف کا ناجائز میں صرف کرنے سے سد ّراہ ہوا ہے ۔لہٰذا اس برے مصر ف کی روک تھام کی وجہ سے وہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا۔

حضرت کے اس قول کی تصدیق آپ کے ان ارشادات سے بھی ہوتی ہے جو ایک مرتبہ نہیں سو مرتبہ نہیں بلکہ مسلسل و متواتر امور غیبیہ کے سلسلے میں آپ کی زبان سے نکلے جس سے اس امر میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ آپ جو فرماتے تھے وہ علم و یقین کی بنیاد پر فرماتے تھے۔ اتفاقی صورت سے ایسا نہ ہوتا تھا۔