Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حقیقی معنوں میں بخیل وہ ہوتا ہے جو اپنے مال سے واجب زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی قوم کے قریب ترین افراد کے کام آتا ہےجبکہ باقی ہرجگہ فضول خرچی کرتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفرباب136حدیث30

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 181: خداوند عالم کی توصیف ، قرآن کی عظمت و اہمیت اور عذاب آخرت سے تخویف

تمام حمد اس اللہ کے لےے ہے جوبن دیکھے جانا پہچانا ہوا اور بے رنج و تعب اٹھائے (ہر چیز کا)پیدا کرنے والا ہے ۔اس نے اپنی قدرت سے مخلوقات کو پیدا کیا اور اپنی عزت و جلالت کے پیش نظر فرمانرواؤں سے اطاعت و بندگی او راپنے جودو عطا کی بدولت با عظمت لوگوں پر سرداری کی ۔وہ اللہ جس نے دنیا میں اپنی مخلوقات کو آباد کیا اور اپنے رسولوں کو جن و انس کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے دنیا کو بے نقاب کریں اور اس کی مضر توں سے انہیں ڈرائیں دھمکائیں اس کی (بیوفائی کی ) مثالیں بیان کریں اور اس کی صحت و بیماری کے تغیرات سے ایک دم انہیں پوری پوری عبرت دلانے کا سامان کردیں اور اس کے عیوب اور حلال و حرام کے (ذرائع اکتساب) اور فرمانبرداروں اور نافرمانوں کے لےے جو بہشت و دوزخ او رعزت و دولت کے سامان اللہ نے مہیا کئے ہیں دکھلائیں میں اس ذات کی طرف ہمہ تن متوجہہوکر اس کی ایسی حمد و ثنا کرتا ہوں جیسی حمد اس نے اپنی مخلوقات سے چاہی ہے۔اس کے ہر شے کا اندازہ اور ہراندازے کی ایک مدت اور ہر مدت کے لےے ایک نوشتہ قراردیا ہے۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے :قرآن (اچھائیوں کا )حکم دینے والا ،برائیوں سے روکنے والا(بظاہر ) خاموش اور (بباطن)گویا اور مخلوقات پر اللہ کی حجت ہے کہ جس پر (عمل کرنے والا )اس نے بندوں سے عہد لیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنا یا ہے ۔اس کے نور کو کامل اور اس کے ذریعہ سے دین کو مکمل کیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو اس حالت میں دنیا سے اٹھایا کہ وہ لوگوں کو ایسے احکام قرآن کی تبلیغ کر کے فارغ ہوچکے تھے کہ جو ہدایت و رستگاری کا سبب ہےں ۔ لہٰذا اللہ سبحانہ٘ کو ایسی بزرگی و عظمت کے ساتھ یاد کرو جیسی اپنی بزرگی خود اس نے بیان کی ہے کیونکہ ا س نے اپنے دین کی کوئی بات تم سے نہیں چھپائی او رکسی شے کو خوا ہ اسے پسند ہو یا ناپسند بغیر کسی علامت اور محکم نشان کے نہیں چھوڑا جو ناپسند امور سے روکے اور پسندیدہ باتوں کی طرف دعوت دے (ان احکام کے متعلق)اس کی خوشنودی و ناراضگی کا معیار زمانہ آئندہ میں بھی ایک رہے گا ۔یا د رکھو !کہ وہ تم سے کسی ایسی چیز پر رضا مند نہ ہوگا ۔کہ جس پرتمہارے اگلوں سے ناراض ہوچکا ہو اور نہ کسی ایسی چیز پرغضب ناک ہوگاکہ جس پر پہلے لوگوں سے خوش رہ چکا ہو ۔تمہیں تو بس یہی چاہیے کے تم واضح نشانوں پر چلتے رہو اور تم سے پہلے لوگو ں نے جوکہاہے اسے دہراتے رہو ۔وہ تمہاری ضروریات دنیا کا ذمہ لے چکا ہے اور تمہیں صرف شکر گزار رہنے کی ترغیب دی ہے اور تم پر واجب کیا ہے کہ اپنی زبان سے اس کا ذکر کرتے رہو ۔اور تمہیں تقویٰ و پرہیز گاری کی ہدایت کی ہے اور اسے اپنی رضا ء و خوشنودی کی حد آخراور مخلوق سے اپنا مدعا قرار دیا ہے اس اللہ سے ڈرو کہ تم جس کی نظروں کے سامنے ہو اور جس کے ہاھ میں تمہاری پیشانیوں کے بال اور جس کے قبضہء قدرت میں تمہار ا اٹھنابیٹھنا او ر چلنا پھرنا ہے ۔اگر تم کوئی بات مخفی رکھو گے تو وہ اس کو جان لے گا اور ظاہر کرو گے تو اسے لکھ لے گا (کیوں کہ) اس نے تم پر نگہبانی کرنے والے مکرم فرشتے مقرر کررکھے ہیں ۔وہ کسی حق کو نظر انداز اور کسی غلط چیز کو درج نہیں کرتے۔یاد رکھو!کہ جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لےے فتنوں سے (بچ کر)نکلنے کی راہ نکال دے گااور اندھیاریوں سے اجالے میں لے آئے گا او را س کے حسب دلخواہ نعمتوں میں اسے ہمیشہ رکھے گا اور اسے اپنے پاس ایسے گھر میں کہ جسے اس نے اپنے لےے منتخب کیا ہے عزت و بزرگی کی منزل میں لا اتارے گا ۔اس گھر کا سایہ عرش ،اس کی روشنی جمال قدرت (کی چھوٹ) اس میں ملاقاتی ملائکہ اور رفیق و ہمنشین انبیاء و مرسلین ہیں ۔اپنی باز گشت کی طرف بڑھو اور زاد عمل فراہم کرنے میں موت پر سبقت کرو۔ا س لےے کہ وہ وقت قریب ہے کہ لوگوں کی امیدیں ٹوٹ جائیں ،موت ان پر چھا جائے او ر توبہ کا دروازہ ان کے لےے بند ہوجائے ابھی تو تم ا س دور میں ہو کہ جس کی طرف پلٹنے کی تم سے قبل گز ر جانے والے لوگ تمنا کرتے ہیں ۔تم اس دار دنیا میں کہ جو تمہاے رہنے کاگھر نہیں ہے ،مسافر راہ نورد ہو ۔اس سے تمہیں کوچ کرنے کی خبر دی جاچکی ہے اور اس میں رہتے ہوئے تمہیں زاد کے مہیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یاد رکھو ! کہ اس نرم و نازک کھال میں آتش جہنم کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں (تو پھر ) اپنی جانوں پر رحم کھاؤکیونکہ تم نے ان کو دنیا کی مصیبتوں میں آزما کر دیکھ لیا ہے کیا تم نے اپنے میں کسی ایک کو دیکھا ہے کہ وہ (جسم میں )کانٹا لگنے سے یا ایسی ٹھوکر کھانے سے کہ جو اسے لہولہا ن کردے یا ایسی گرم ریت (کی تپش )سے کہ جو اسے جلا دے کس طرح نے چین ہو کر چیختا ہے ۔(ذرا سوچو تو) کہ اس وقت کیا حالت ہوگی کہ جب جہنم کے دو آتشین تودوں کے درمیان (دہکتے ہوئے)پتھروں کا پہلو نشین اور ساتھی ہوگا ۔کیا تمہیں خبر ہے ۔کہ جب مالک (پاسبان جہنم )آگ پر غضب ناک ہو گاتو وہ اس کے غصہ سے (بھڑک کر آپس میں ٹکرانے لگے گی )اور اس کے اجزا ایک دوسرے کو توڑنے پھوڑنے لگیں گے اور جب اسے جھڑکے گا تو اس کی جھڑکیوں سے (تلملا کر )دوزخ کے دروازوں میں اچھلنے لگے گی۔

اے پیر کہن سال کہ جس پر بڑھاپا چھایا ہوا ہے ۔اس وقت تیری کیا حالت ہوگی کہ جب آتشین طوق گردن کی ہڈیوں میں پیوست ہوجائیں گے ؟او ر(ہاتھوں میں ) ہتھکڑیا ں گڑ جائیں گی ؟یہاں تک کہ وہ کلائیوں کا گوشت کھالیں گی ۔اے خدا کے بندوں !اب جبکہ تم بیماریوں میں مبتلا ہونے اور تنگی و ضیق میں پڑنے سے پہلے صحت و فراخی کے عالم میں صحیح و سالم ہو اللہ کا خوف کھالو اور اپنی گردنوں کو قبل اس کے کہ وہ اس طرح گروی ہو جائیں کے انہیں چھڑایا نہ جاسکے ۔چھڑانے کی کوشش کرو ۔اپنی آنکھوں کو بیدار او رشکموں کو لاغر بناؤ(میدان میں )اپنے قدموں کو کام میں لاؤ۔اور اپنے مال کو (اس کی راہ میں )خرچ کرو ۔اپنے جسموں کو اپنے نفسوں پر نثار کر دو اور ان سے بخل نہ برتو ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم خد اکی مد د کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا ۔اور (پھر) فرمایا :کہ کو ن ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ،تو خد اس کے اجر کو دوگنا کردے گا ۔او ر اس کے لےے عمدہ جزا ہے ۔خد ا نے کسی کمزوری کی بنا پر تم سے مدد نہیں مانگی اور نہ بے مائگی کی وجہ سے تم سے قرض کا سوال کیا ہے ۔اس نے تم سے مدد چاہی ہے باوجودیکہ ا س کے پاس سارے آسمان و زمین کے لشکر ہیں ۔اور وہ غلبہ اور حکمت والا ہے۔اور تم سے قرض مانگا ہے حالانکہ آسمان و زمین کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں اور وہ بے نےاز و لائق حمد وثناہے ۔اس نے تو یہ چاہا کہ تمہیں آزمائے ک تم میں اعمال کے لحاظ سے کون بہتر ہے تم اپنے اعمال کو لے کر بڑھو تاکہ اللہ کے ہمسایوں کے ساتھ اس کے گھر (جنت ) میں رہو ۔وہ ایسے ہمسائے ہیں کہ اللہ نے جنہیں پیغمبروں کا رفیق بنایا ہے اور فرشتوں کو ان کی ملاقات کا حکم دیا ہے اور ان کے کانوں کو ہمیشہ کے لےے محفوظ رکھا ہے ۔کہ آگ کی (اذیتوں ) کی بھننگ ان میں نہ پڑے اور ان کے جسموں کو بچائے رکھا ہے ۔تاکہ وہ رنج او رتکان سے دو چار نہ ہوں ۔یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے عطاکرتا ہے اور خدا تو بڑے فضل و کرم والا ہے ۔میں وہی کہہ رہا ہوں جو تم سن رہے ہو میرے اور تمہارے نفسوں کے لےے اللہ ہی مدد گار ہے اور وہی میرے لےے کافی ہے اور اچھا ساز گار ہے۔