Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ایمان، خالص عمل کا نام ہے غررالحکم حدیث 873

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس سے ایک آسمان دوسرے آسمان کو اور ایک زمین دوسری زمین کو نہیں چھپاتی ۔ اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا: مجھ(۱)سے ایک کہنے والے نے کہا کہ اے ابنِ ابی طالب آپ تو اس خلافت پر للچائے ہوئے ہیں ۔ تو میں نے کہا کہ خدا کی قسم تم اس پر کہیں زیادہ حریص اور (اس منصب کی اہلیت سے ) دور ہو ، اور میں ا س کا اہل اور (پیغمبر سے) نزدیک توہوں ۔ میں نے تو اپنا حق طلب کیا ہے ۔ اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہو اور جب اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں تو تم میرا رخ موڑ دیتے ہو۔ چنانچہ جب بھری محفل میں مَیں نے اس دلیل سے اس (کے کان کے پرودوں ) کو کھٹکھٹایا تو چوکنا ہوا، اور اس طرح مبہُوت ہو رک رہ گیا کہ اسے کوئی جواب نہ سوجھتا تھا۔

خدایا! میں قریش اور ان کے مدد گاروں کے خلاف تجھ سے مدد چاہتا ہوں ۔ کیونکہ انہوں نے قطع رحمی کی اور میرے مرتبہ کی بلندی کو پست سمجھا اور اس (خلافت) پر کہ جو میرے لیے مخصوص تھی ٹکرانے کے لیے ایکا کر لیا ہے ۔ پھر کہتے یہ ہیں کہ حق(۲) حق تو یہی ہے کہ آپ اسے لیں اور یہ بھی حق ہے کہ آپ اس سے دستبردار ہو جائیں ۔

اس خطبہ کا یہ جز اصحاب جمل کے متعلق ہے : وہ لوگ(مکہ سے) بصرہ کا رُخ کئے ہوئے اس طرح نکلے کہ رسُول اللہ کی حُرمت و ناموس کو یوں کھینچے پھرتے تھے ۔ جس طرح کسی کنیز کو فروخت کے لیے( شہر بشہر) پھرایا جاتا ہے ۔ ان دونوں نے اپنی بیویوں کو تو گھروں میں روک رکھا تھا اور رسوُل اللہ کی بیوی کو اپنے اور دوسروں کے سامنے کھلے بندوں لے آئے تھے ۔ ایک ایسے لشکر میں کہ جس کا ایک ایک فرد میری اطاعت تسلیم کئے ہوئے تھا اور برضاء و رغبت میری بیعت کر چکا تھا یہ لوگ بصرہ میں میرے (مقررہ کردہ) عامل اور مسلمانوں کے بیت المال کے خزینہ داروں اور وہاں کے دوسرے باشندوں تک پہنچ گئے اور کچھ لوگوں کو قید کے اندر مار مار کے اور کچھ لوگوں کو حیلہ و مکر سے شہید کیا۔ خدا کی قسم اگر وہ مسلمانوں میں سے صرف ایک ناکردہ گناہ مسلمان کو عمداً قتل کرتے تو بھی میرے لیے جائز ہوتا کہ میں اس تمام لشکرکو قتل کردوں کیوں کہ وہ موجود تھے اور انہوں نے نہ تو اسے بُرا سمجھا اور نہ زبان اور ہاتھ سے اس کی روک تھام کی چہ جائیکہ انہوں نے مسلمانوں کے اتنے آدمی قتل کر دیئے۔ جتنی تعداد خود ان کے لشکر کی تھی جسے لے کر ان پر چڑھ دوڑے تھے ۔

(۱) حضرت عمر نے اپنے آخر وقت میں امیر الموٴمنین[ع]کے متعلق جس خیال کا اظہار کیا تھا اسی کو سعد ابن ابی وقاص نے شوریٰ کے موقعہ پر دہراتے ہوئے حضرت سے کہا کہ اے علی[ع]آپ اس منصب ، خلافت کے بہت حریض ہیں جس کے جواب میں حضرت نے فرما یا کہ جو اپنا حق طلب کرے اسے حریص نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ حریص وہ ہے جو اس حق تک پہنچنے سے مانع اور سدِ راہ ہو ، اور نااہلیت کے باوجود اسے حاصل کرنے کے درپے ہو۔“

اس میں شک نہیں کہ امیر الموٴمنین[ع]اپنے حق دار سمجھتے تھے اور اپنا حق طلب کرتے تھے لیکن اس حق طلبی سے حق ساقط نہیں ہو جاتا کہ اسے خلافت کے نہ دینے کے لیے وجہ جواز قرار دے لیا جائے اور اسے حرص سے تعبیر کیا جائے اور اگر یہ حرص ہے تو پھر کون ایسا تھا جو حرص کے پھندوں میں جکڑا ہوا نہ تھا ۔ کیا انصار کے مقابلہ میں مہارجرین کی زور آزمائی ارکانِ شوریٰ کی باہمی کش مکش اور طلحہ و زبیر کی ہنگامہ آرائی اسی حرص کا نتیجہ نہ تھی؟ اگر امیر الموٴمنین[ع]کو منصب کا لالچ ہوتا تو جب ابن عباس اور ابو سفیان نے بیعت قبول کرنے کے لیے زور دیا تھا۔ تو آپ نتائج و عواقب سے آنکھیں بند کر کے ان کےکہنے پر اٹھ کھڑے ہوتے اور جب دور ثالث کے بعد لوگ بیعت کے لیے ٹوٹ رہے تھے تو آپ بگڑے ہوئے حالات کا خیال کئے بغیر ان کی پیش کش کو فوراً قبول کر لیتے ۔ مگر آپ نے کسی موقعہ پر بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایاجس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ منصب کو منصب کی حیثیت سے چاہتے ہیں بلکہ خلافت کی طلب تھی تو صرف اس لیے کہ شریعت کے خدوخال بگڑنے نہ پائیں اور دین دوسروں کی خواہشوں کی آماجگاہ نہ بنے، نہ یہ کہ دنیا کی کامرانیوں سے بہرہ اندوز ہوں کہ جسے حرص کہا جا سکے ۔

(۲) مقصد یہ ہے کہ اگر وہ یہ نہ کہتے کہ میرا خلافت سے الگ رہنا بھی حق ہے تو میرے لیے اس پر صبر کرنا آسان ہوتا اس خیال سے کہ کم از کم میرے حق کا اعتراف تو ہے ۔ اگر چہ اسے ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

خطبہ 170: جب آپ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا ․اور اس کے ذیل میں قریش کے مظالم اور اصحاب جمل کی غارتگریوں کا تذکرہ ہے