Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی ہمیشہ تازہ رہتی ہے اور گناہ کبھی بھولتا نہیں بلکہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الروضۃ باب16 حدیث88

نہج البلاغہ خطبات

اللہ نے اپنے رسول کو چمکتے ہوئے نور‘روشن دلیل‘ کھلی ہوئی راہ شریعت اور ہدایت دینے والی کتاب کے ساتھ بھیجا‘ ان کا قوم و قبیلہ بہترین قوم و قبیلہ اور شجرہ بہترین شجرہ ہے کہ جس کی شاخیں سیدھی اور پھل جھکے ہوئے ہیں ۔ ان کا مولد مکہ اور ہجرت کا مقام مدینہ ہے کہ جہاں سے آپ کے نام کا بول بالا ہوا اور آپ کا آوازہ (چار سو) پھیلا اللہ نے آپ کو مکمل دلیل‘ شفا بخش نصیحت اور (پہلی حالتوں کی) تلافی کرنے والا پیغام دےکر بھیجا اور ان کے ذریعہ سے(شریعت کی) نامعلوم راہیں آسکارا کیں اور غلط سلط بدعتوں کا قلع قمع کیا اور (قرآنو سنت میں ) بیان کئے ہوئے احکام واضح کئے تو اب جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے تو اس کی بدبختی مسلم‘ اس کا شیرازہ درہم و برہم اور اس کا منہ کے بل گرنا سخت و (ناگزیر) اور انجام طویل حزن اور مہلک عذاب ہے۔ میں اللہ پر بھروسا رکھتا ہوں ‘ ایسا بھروسا کہ جس میں ہمہ تن اس کی طرف توجہ ہے اور ایسے راستے کی ہدایت چاہتا ہوں کہ جو اس کی جنت تک پہنچانے والا اور منزل مطلوب کی طرف بڑھنے والا ہے۔

اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ تقویٰ ہی کل رستگاری (کا وسیلہ) اور نجات کی منزل دائمی ہوگا۔ اس نے اپنے عذاب سے ڈرایا تو سب کو خبردار کر دیا اور جنت کی رغبت دلائی تو اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی دنیا اور اس کے فنا و زوال اور اس کے پلٹ جانے کو کھول کر بیان کیا۔ جو چیزیں اس دنیا سے تمہیں اچھی معلوم ہوتی ہیں ان سے پہلو بچائے رکھو۔ کیونکہ ان میں سے ساتھ جانے والی تو بہت ہی تھوڑی ہیں ۔ دنیا کی منزل اللہ کی ناراضگیوں سے قریب اور اس کی رضامندیوں سے دور ہے۔ اللہ کے بندوں اس کی فکروں اور اس کے دھندوں سے آنکھیں بند کرلو اس لیے کہ تمہیں یقین ہے کہ آخر یہ جدا ہو جانے والی ہے اور اس کے حالات پلٹا کھانے والے ہیں ۔ اس دنیا سے اس طرح خوف کھاؤ جس طرح کوئی ڈرنے والا اور اپنے نفس کا خیر خواہ اور جانفشانی کے ساتھ کوشش کرنے والا ڈرتا ہے۔ تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کے جو گرنے کی جگہیں دیکھی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے جوڑ بند الگ الگ ہوگئے۔ نہ ان کی آنکھیں رہیں اور نہ کان۔ ان کا شرف و وقار مٹ گیا‘ ان کی مسرتیں اور نعمتیں جاتی رہیں اور بال بچوں کے قرب کے بجائے علیحدگی اور بیویوں سے ہم نشینی کے بجائے ان سے جدائی ہوگئی۔ اب نہ وہ فخر کرتے ہیں اور نہ انکے اولاد ہوتی ہے۔ نہ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے ہمسایہ بن کر رہتے ہیں ۔ اے اللہ کے بندو! ڈرو جس طرح اپنے نفس پر قابو پالینے والا اور اپنی خواہشوں کو دبانے والا اور چشم بصیرت سے دیکھنے والا ڈرتا ہے کیونکہ (ہر) چیز واضح ہوچکی ہے۔ نشانات قائم ہیں راستہ ہموار ہے اور راہ سیدھی ہے۔

خطبہ 159: دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم