Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حقیقی معنوں میں بخیل وہ ہوتا ہے جو اپنے مال سے واجب زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی قوم کے قریب ترین افراد کے کام آتا ہےجبکہ باقی ہرجگہ فضول خرچی کرتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفرباب136حدیث30

نہج البلاغہ خطبات

اس کا حکم‘ فیصلہ کن اور حکمت آمیز اور اس کی خوشنودی امان اور رحمت ہے‘ وہ اپنے علم سے فیصلہ کرتا ہے اور اپنے حلم سے عفو کرتا ہے۔ بارالٰہا! تو جو کچھ (دے کر) لیتا ہے اور جو کچھ عطا کرتا ہے اور جن (مرضوں سے) شفا دیتا ہے اور جن آزمائشوں میں ڈالتا ہے (سب پر) تیرے لیے حمد و ثنا ہے ایسی حمد جو انتہائی درجے تک تجھے پسند آئے اور انتہائی درجے تک تجھے محبوب ہو اور تیرے نزدیک ہر ستائش سے بڑھ چڑھ کر ہو۔ ایسی حمد جو کائنات کو بھر دے اور جو تو نے چاہا ہے اس کی حد تک پہنچ جائے۔ ایسی حمد کہ جس کے آگے تیری بارگاہ تک پہنچنے سے کوئی حجاب ہے اور نہ اس کیلئے کوئی بندش ایسی حمد کہ جس کی گنتی نہ کہیں پر ٹوٹے اورنہ اس کا سلسلہ ختم ہو ہم تیری عظمت و بزرگی کی حقیقت کو نہیں جانتے مگر اتنا کہ تو زندہ و کار ساز (عالم) ہے نہ تجھے غنودگی ہوئی ہے اور نہ نیند آتی ہے نہ تار نظر تجھ تک پہنچ سکتا ہے اور نہ نگاہیں تجھے دیکھ سکتی ہیں تو نے نظروں کو پالیاہے اور عمروں کا احاطہ کرلیاہے اور پیشانی کے بالوں کو پیروں (سے ملا کر) گرفت میں لے لیا ہے یہ تیری مخلوق کیا ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور اس میں تیری قدرت (کی کارسازیوں ) پر تعجب کرتے ہیں اور تیری عظیم فرمانروائی (کی کارفرمائیوں ) پر اس کی توصیف کرتے ہیں ‘ حالانکہ درحقیقت وہ (مخلوقات)جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اور جس تک پہنچنے سے ہماری نظریں عاجز اور عقلیں درماندہ ہیں اور ہمارے اور جن کے درمیان عیب کے پردے حائل ہیں اس سے کہیں زیادہ باعظمت ہے جو شخض (وسوسوں سے) اپنے دل کو خالی کرکے اور غور و فکر (کی قوتوں ) سے کام لے کر یہجاننا چاہے کہ تو نے کیونکر عرش کو قائم کیا ہے اور کس طرح مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور کیونکر آسمانوں کو فضا میں لٹکایا ہے اور کس طرح پانی کے تھپیڑوں پر زمین کو بچھایا ہے تو اس کی آنکھیں تھک کر عقل مغلوب ہوکر اور کان حیران و سراسیمہ اور فکر گم گشتہ راہ ہو کر پلٹ آئے گی۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے : وہ اپنے خیال میں اس کا دعوے دار بنتا ہے کہ اس کا دامن امید اللہ سے وابستہ ہے۔ خدائے برتر کی قسم وہ جھوٹا ہے (اگر ایسا ہی ہے) تو پھرکیوں اس کے اعمال میں اس امید کی جھلک نمایاں نہیں ہوتی جبکہ ہر امیدوار کے کاموں میں امید کی پہچان ہوجایا کرتی ہے۔ سوائے اس امید کے کہ جو اللہ سے لگائی جائے کہ اس میں کھوٹ پایا جاتا ہے اور ہر خوف و ہراس جو (دوسروں سے ہو) ایک مسلمہ حقیقت رکھتا ہے۔ مگر اللہ کا خوف غیر یقینی ہے وہ اللہ سے بڑی چیزوں کا اور بندوں سے چھوٹی چیزوں کا امیدوار ہوتا ہے پھر بھی جو عاجزی کا رویہ بندوں سے رکھتا ہے۔ وہ رویہ اللہ سے نہیں برتتا تو آخر کیا بات ہے کہ اللہ کے حق میں اتنا بھی نہیں کیا جاتا جتنا بندوں کے لیے کیا جاتا ہے کیا تمہیں کبھی اس کا اندیشہ ہوا ہے کہ کہیں تم ان امیدوں (کے دعوؤں ) میں جھوٹے تو نہیں ؟ یا یہ کہ تم اسے محل امید ہی نہیں سمجھتے یوں ہی انسان اگر اس کے بندوں میں سے کسی بندے سے ڈرتا ہے تو جو خوف کی صورت اس کے لیے اختیار کرتا ہے اللہ کیلئے ویسی صورت اختیار نہیں کرتا انسانوں کا خوف تو اس نے نقد کی صورت میں رکھا ہے اور اللہ کا ڈر صرف ٹال مٹول اور (غلط سلط) وعدے یوں ہی جس کی نظروں میں دنیا عظمت پالیتی ہے اور اس کے دل میں اس کی عظمت و وقعت بڑھ جاتی ہے تو وہ اسے اللہ پر ترجیح دیتا ہے اور اس کی طرف مڑتا ہے اور اسی کا بندہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول و عمل پیروی کے لیے کافی ہے اور ان کی ذات دنیا کے عیب و نقص اور اس کی رسوائیوں اوربرائیوں کی کثرت دکھانے کیلئے رہنما ہے۔ اس لیے کہ اس دنیا کے دامنوں کو ان سے سمیٹ لیا گیا اور دوسروں کیلئے اس کی وسعتیں مہیا کر دی گئیں ور اس (زال دنیا کی چھاتیوں سے) آپ کا دودھ چھڑا دیا گیا اور اس کی آرائشوں سے آپ کا رخ موڑ دیا گیا۔ اگر دوسرا نمونہ چاہو تو موسیٰ کلیم اللہ ہیں کہ جنہوں نے اپنے اللہ سے کہا کہ : پروردگار! تو جو کچھ بھی اس وقت تھوڑی بہت نعمت بھیج دے گا میں اس کا محتاج ہوں خدا کی قسم انہوں نے صرف کھانے کے لیے روٹی کا سوال کیا تھا۔ چونکہ وہ زمین کا ساگ پات کھاتے تھے اور لاغری اور (جسم پر) گوشت کی کمی کی وجہ سے ان کے پیٹ کی نازک جلد سے گھاس پات کی سبزی دکھائی دیتی تھی اگرچاہو تو تیسری مثال داؤد علیہ السلام کی سامنے رکھ لو جو صاحب زبور اور اہل جنت کے قاری ہیں ۔ وہ اپنے ہاتھ سے کھجور کی پتیوں کی ٹوکریاں بنا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ تم میں سے کون ہے جو انہیں بیچ کر میری دستگیری کرے (پھر) جو اس کی قیمت ملتی اس سے جو کی روٹی کھا لیتے تھے۔ اگر چاہو تو عیسیٰ ابن مریم کا حال کہوں کہ جو (سر کے نیچے) پتھر کا تکیہ رکھتے تھے سخت اور کھردرا لباس پہنتے تھے اور (کھانے) میں سالن کے بجائے بھوک اور رات کے چراغ کی جگہ چاند اور سردیوں میں سایہ کے بجائے (ان کے سر پر) زمین کے مشرق و مغرب کا سائبان ہوتا تھا اور زمین جو گھاس پھوس چوپاؤں کے لیے اگاتی تھی وہ ان کے لیے پھل پھول کی جگہ تھی نہ ان کی بیوی تھیں جو انہیں دنیا (کے جھنجٹوں ) میں مبتلا کرتیں اور نہ بال بچے تھے کہ ان کے لیے فکر و اندوہ کا سبب بنتے اور نہ مال و متاع تھا کہ ان کی توجہ کو موڑتا اورنہ کوئی طمع تھی کہ انہیں رسوا کرتی۔ ان کی سواری ان کے دونوں پاہوں اور خادم ان کے دونوں ہاتھ تھے۔ تم اپنے پاک و پاکیزہ نبی کی پیروی کرو چونکہ ان کی ذات اتباع کرنےوالے کے لیے ڈھارس ہے۔ ان کی پیروی کرنے والا اور ان کے نقش قدم پرچلنے والا ہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے جنہوں نے دنیا کو (صرف ضرورت بھر) چکھا اور اسے نظر بھر کر نہیں دیکھا وہ دنیا میں سب سے زیادہ شکم تہی میں بر کرنے و الے اور خالی پیٹ رہنے والے تھے۔ ان کے سامنے دنیا کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور (جب) جان لیا کہ اللہ نے ایک چیز کو برا جانا ہے تو آپنے بھی اسے برا ہی جانا اور اللہ نے ان چیز کو حقیر سمجھا ہے تو آپ نے بھی اسے حقیر ہی سمجھا اور اللہ نے ایک چیز کو پست قرار دیا ہے تو آپ نے بھی اسے پست ہی قرار دیا ۔ اگر ہم میں صرف یہی ایک چیز ہو کہ ہم اس شے کو چاہنے لگیں جسے اللہ اور رسول برا سمجھتے ہیں اور اس چیز کو برا سمجھنے لگیں جسے وہ حقیر سمجھتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سرتابی کیلئے یہی بہت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور غلاموں کی طرح بیٹھتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے جوتی ٹانکتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے کپڑوں میں پیوند لگاتے تھے اور بے پالان کے گدھے پر سوار ہوتے تھے اور اپنے پیچھے کسی کو بٹھا بھی لیتے تھے۔ گھر کا دروازہ پر (ایک دفعہ) ایسا پردہ پڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔تو آپ نے اپنے ازواج میں سے ایک کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اسے میری نظروں سے ہٹا دو۔ جب میری نظریں اس پر پڑتی ہیں تو مجھے دنیا اوراس کی آرائشیں یاد آجاتی ہیں ۔ آپنے دنیا سے دل ہٹا لیا تھا اور اس کی یاد تک اپنے نفس سے مٹا ڈالی تھی اور یہ چاہتے تھے کہ اس کی سج دھج نگاہوں سے پوشیدہ رہے تاکہ نہ اس سے عمدہ عمدہ لباس حاصل کریں اور نہ اسے اپنی منزل خیال کریں اور نہ اس میں زیادہ قیام کی آس لگائیں انہوں نے اس کا خیال نفس سے نکال دیا تھا اور دل سے اسے ہٹا دیا تھا اور نگاہوں سے اسے اوجھل رکھا تھا۔ یونہی جو شخص کسی شے کو برا سمجھتا ہے تو نہ اسے دیکھنا چاہتا ہے اور نہ اس کا ذکر سننا گوارا کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے عادات و خصائل) میں ایسی چیزیں ہیں کہ جو تمہیں دنیا کے عیوب و قبائح کا پتہ دیں گی۔ جبکہ آپ اس دنیا میں اپنے خاص افراد سمیت بھوکے رہا کرتے تھے اور باوجود انتہائی قرب منزلت کے اس کی آرائشیں ان سے دور رکھی گئیں چاہیے کہ دیکھنے والا عقل کی روشنی میں دیکھے کہ اللہ نے انہیں دنیا نہ دے کر ان کی عزت بڑھائی ہے یا اہانت کی ہے اگر کوئی یہ کہے کہ اہانت کی ہے تو اس نے جھوٹ کہاہے اور بہت بڑا بہتان باندھا اور اگر یہ کہے کہ عزت بڑھائی ہے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ نے دوسروں کی بے عزتی ظاہر کی جبکہ انہیں دنیا کی زیادہ سے زیادہ وسعت دے دی اور اس کا رخ اپنے مقرب ترین بندے سے موڑ رکھا۔ پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ ان کی پیروی کرے اور ان کے نشان قدم پر چلے اور انہی کی منزل میں آئے ورنہ ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اللہ نے ان کو (قرب) قیامت کی نشانی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور عذاب سے ڈرانے والا قرار دیا ہے۔ دنیا سے آپ بھوکے نکل کھڑے ہوئے اور آخرت میں سلامتیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ آپ نے تعمیر کیلئے کبھی پتھر پر پتھر نہیں رکھا۔ یہاں تک کہ آخرت کی راہ پر چل دئیے اور اللہ کی طرف بلاوا دینے والے کی آواز پر لبیک کہی۔ یہ اللہ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک پیشرو و پیشوا جیسی نعمت عظمیٰ بخشی کہ جن کی ہم پیروی کرتے ہیں اور قدم بہ قدم چلتے ہیں (انہی کی پیروی میں ) خدا کی قسم میں نے اپنی اس قمیض میں اتنے پیوند لگائے ہیں کہ مجھے پیوند لگانے والے سے شرم آنے لگی ہے۔مجھ سے ایک کہنے والے نے کہا کہ کیا آپ اسے اتاریں گے نہیں ؟ تو میں نے سے کہا کہ میری (نظروں سے) دور ہو کر صبح کے وقت ہی لوگوں کو رات کے چلنے کی قدر ہوتی ہے اور وہ اس طرح کی مدح کرتے ہیں ۔

خطبہ 158: خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاء کی زندگی ،اور امیر المومنین [ع] کے پیراہن کی حالت