Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، آنسوؤں کا خشک ہوجانا دل کے سخت ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے اور دل کا سخت ہوجانا، گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وسائل الشیعۃ حدیث 20938

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 128: جب حضرت ابوذر کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو انہیں رخصت کرتے وقت فرمایا

جس میں آپ نے پیمانوں اور ترازؤں کا ذکر فرمایا ہے ۔

اللہ کے بندو! تم اور تمہاری اس دنیا سے بندھی ہوئی امیدیں مقررہ مدت کی مہمان ہیں اور ایسے قرضدار جن سے ادائیگی کا تقاضا کیا جا رہا ہے عمر ہے جو گھٹتی جا رہی ہے اور اعمال ہیں جو محفوظ ہو رہے ہیں ۔ بہت سے دوڑ دھوپ کرنے والے اپنی محنت اکارت کرنے والے ہیں اور بہت سے سعی و کوشش میں لگے رہنے والے گھاٹے میں جارہے ہیں تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جس میں بھلائی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور برائی آگے بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو تباہ کرنے میں شیطان کی حرص تیز ہوتی جا رہی ہے ۔ چنانچہ یہی وہ وقت ہے کہ اس کے (ہتھکنڈوں ) کا سروسامان مضبوط ہو چکا ہے ۔ اور اس کی سازشیں پھیل رہی ہیں اور اس کے شکار آسانی سے پھنس رہے ہیں ، جدھر چاہو لگوں پر نگاہ دوڑاؤ تم یہی دیکھو گے کہایک طرف کوئی فقیر فقرو فاقہ بھیل رہا ہے اور دوسری طرف دولت مند نعمتوں کو کفر انِ نعمت سے بدل رہا ہے اور کئی بخیل اللہ کے حق کو دبا کر مال بڑھا رہا ہے اور کوئی سرکش پندو نصیحت سے کان بند کئے پڑا ہے ۔ کہاں ہیں تمہارے نیک اور صالح افرد اور کہاں ہیں تمہارے عالی حوصلہ اور کریم النفس لوگ۔ کہاں ہیں کاروبار میں (دغا وفریب سے ) بچنے والے اور اپنے طور طریقوں میں پاک و پاکیزہ رہنے والے ؟ کیا وہ سب کے سب اس ذلیل اور زندگی کا مزا کر کے کرکرا کرنے والی تیز رو دنیا سے گزر نہیں گئے اور کیا تم ان کے بعد ایسے رذیل اور ادنیٰ لوگوں میں نہیں رہ گئے کہ جن کے مربتہ کو پست و حقیر سمجھتے ہوئے اور ان کے ذکر سے پہلو بچاتے ہوئے ہونٹ ان کی مذمت میں بھی کھلنا گوارا نہیں کرتے ۔ اِنّاَ اللہ ِ وَ اِنَّا اِلیہِ رَاجِعُونَ فسا دابھر آیا ہے بُرائی کا وہ دور ایسا ہے کہ انقلاب کے کوئی آثار نہیں اور نہ کوئی روک تھام کرنے والا ہے جو خود بھی بازرہے ۔ کیا انہی کرتوتوں سے جنت میں اللہ کے پڑوس میں بسنے اور اس کا گہرا دوست بننے کا ارادہ ہے ، ارے تو بہ اللہ کو دھوکا دے کر اس سے جنت نہیں لی جا سکتی اور بغیر اس کی اطاعت کے اس کی رضا مندیاں حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ خدا ان لگوں پر لعنت کرے کہ جو اوروں کو بھلائی کا حکم دیں اور خود اسے چھوڑ بیٹھیں اور دوسروں کو بُری باتوں سے روکیں اور خود ان پر عمل کرتے رہیں ۔