Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، تنگ دل انسان کو اپنا امین نہ بناؤ۔ نھج البلاغۃ حکمت211

نہج البلاغہ خطبات

اللہ نے آپ کو حق کی طرف بلانے والا اور اور مخلوق کی گواہی دینے والا بنا کر بھیجا ۔ چنانچہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کو پہنچایا۔ نہ اس میں کچھ سستی کی نہ کوتاہی اور اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے جہاد کیا۔ جس میں نہ کمزوری دکھائی ، نہ حیلے بہانے کئے ، وہ پرہیز گاروں کے امام اور ہدایت پانے والے (کی آنکھوں ) کے لیے بصارت ہیں ۔

اسی خطبہ کا ایک جُز یہ ہے :۔

جو چیزیں تم سے پردہ غیب میں لپیٹ دی گئی ہیں اگر تم بھی انہیں جان لیتے ، جس طرح میں جانتا ہوں ، تو بلا شبہ تم اپنی بداعمالیوں پر روتے ہوئے اور اپنے نفسوں کا ماتم کرتے ہوئے اور اپنے مال و متاع کو بغیر کسی نگہبان اور بغیر کسی نگہداشت کرنے والے کے یونہی چھوڑ چھاڑ کر کھلے میدانوں میں نکل پڑتے ، اور ہر شخص کو اپنے ہی نفس کی پڑی ہوتی ۔ کسی اور کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتا ۔ لیکن جو تمہیں یاد دلایا گیا تھا اسے تم بھول گئے اور جن چیزوں سے تمہیں ڈرایا گیا تھا اسے تم بھول گئے اور جن چیزوں سے تمہیں ڈرایا گیا تھا ان سے تم نڈر ہو گئے اس طرح تمہارے خیالات بھٹک گئے ، اور تمہارے سارے امور درہم برہم ہو گئے ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے ، اور مجھے ان لوگوں سے ملا دے جو تم سے زیادہ میرے حقدار ہیں خدا کی قسم ! وہ ایسے لوگو ہیں جن کے خیالات مبارک اور عقلیں ٹھوس تھیں ۔ وہ کھل کر حق بات کہنے والے اور سرکشی و بغاوت کو چھوڑنے والے تھے وہ قدم آگے بڑھا کر اللہ کی راہ پر ہو لیے اور سیدھی راہ پر (بے کھٹکے) دوڑے چلے گئے ۔ چنانچہ انہوں نے ہمیشہ رہنے والی آخرت اور عمدہ و پاکیزہ نعمتوں کو پالیا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ تم پر بنی ثقیقف کا ایک لڑکا تسلط پا لے گا وہ دراز قد ہو گا، اور بل کھا کر چلے گا۔ وہ تمہارے تمام سبزہ زاروں کو چر جائے گا۔ اور تمہاری چربی (تک ) پگھلا دے گا۔ ہاں اے ابو دوحہ کچھ اور!

سید رضی فرماتے ہی:۔

کہ وذحہ کے معنی خنفسا(۱) کے ہیں ۔ آپ نے اپنے ارشاد سے حجاج (ابن یوسف ثقفی) کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اور اس کا خنفساء سے متعلق ایک واقعہ ہے جس کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں ہے ۔

(۱) اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے یہ حجاج ایک دن نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، تو خنفساء اس کی طرف بڑھا حجاج نے ہاتھ بڑھا کر اسے روکنا چاہا۔ مگر اس نے اسے کاٹ لیا۔ جس سے اس کے ہاتھ پر ورم آگیا اور آخر اس کے اثر سے اس کی موت واقع ہوئی۔“

ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ وذحہ اس گوبر کو کہتے ہیں کہ کسی حیوان کی دم پر لگا رہ گیا ہو، اور اس کنیت سے مقصود اس کی تذلیل ہے:۔

خطبہ 114: آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق فرمایا