Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی زین العابدین نے فرمایا، برزخ سے مراد قبر ہے جہاں اکثر لوگوں کی زندگی بڑی تنگی اور سختی میں ہوگی، بخدا قبر یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ بحارالانوار کتاب الروضۃ باب21 حدیث10

نہج البلاغہ خطبات

میں تمہیں دنیا سے خبر دار کئے دیتا ہوں کہ یہ ایسے شخص کی منزل ہے جس کے لئے قرار نہیں اور ایسا گھر ہے جس میں آب و دانہ نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔ یہ اپنے باطل سے آراستہ ہے اور اپنی آرائشوں سے دھوکا دیتی ہے ۔ یہ ایک ایسا گھر ہے جو اپنے رب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ چنانچہ اس نے حلال کے ساتھ حرام اور بھلائیوں کے ساتھ برائیاں اور زندگیکے ساتھ موت اور شیرینیوں کے ساتھ تلخیاں غلط ملط کر دی ہیں اور اپنے دوستوں کے لئے اسے بے غل و غش نہیں رکھا اور نہ دشمنوں کو دینے میں بخل کیا ہے ۔ اس کی بھلائیاں بہت ہی کم ہیں ۔ اور برائیاں (جہاں چاہو) موجود ۔ اس کی جمع پونجی ختم ہو جانے والی اور اس کا ملکچھن جانے والا ہے اور اس کی آبادیاں ویران ہو جانے والی ہیں ۔ بھا اس گھر میں خیر و خوبی ہی کیا ہو سکتی ہے ۔ جو مسمار عمارت کی طرح گر جائے ۔ اور اس عمر میں جو زاد راہ کی طرح ختم ہوا جائے اور اس مدت میں جو چلنے پھرنے کی طرح تمام ہو جائے جن چیزوں کی تمہیں طلب و تلاش رہنی ہے ان میں اللہ تعالیٰ کے فرائض کو بھی داخل کرلو اور جو اللہ نے تم سے چاہا ہے اسے پورا کرنے کی توفیق بھی اس سے مانگور موت کا پیغام آنے سے پہلے موت کی پکار اپنے کانوں کو سنا دو۔ اس دنیا میں زاہدوں کے دل روتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ہنس رہے ہوں اور ان کا غم اندوہ حد سے بڑھا ہوتا ہے اگرچہ ان ( کے چہروں ) سے مسرت ٹپک رہی ہو۔ اور انہیں اپنے نفسوں سے انتہائی بَیر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس رزق کی وجہ سے جو انہیں میسر ہے ، ان پر رشک کیا جاتا ہو تمہارے دلوں سے موت کی یاد جاتی رہی ہے اور جھوٹی امیدیں (تمہارے اندر) موجود ہیں ۔ آخرت سے زیادہ دنیا تم پر چھائی ہوئی ہے اور وہ عقبیٰ سے زیادہ تمہیں اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ تم دین خدا کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو۔ لیکن بد نیتی اور بد بختی نے تم میں تفرقہ ڈال دیا ہے ۔ نہ تم ایک دوسرے کا بوجھ بٹاتے ہو نہ باہم پندو نصیحت کرتے ہو۔ نہ ایک دوسرے پر کچھ خر چ کرتے ہو، نہ تمہیں ایک دوسرے کی چاہت ہے ۔ تھوری سی دنیا پا کر خوش ہونے لگتے ہو، اور آخرت کے پیشتر حصہ سے بھی محرومی تمہیں غم زدہ نہیں کرتی ۔ ذرا سی دنیا کا تمہارے ہاتھوں سے نکلنا تمہیں بے چین کر دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ بے چینی تمہارے چہروں سے ظاہر ہونے لگتی ہے اور کھوئی ہوئی چیز پر تمہاری بے صبریوں سے آشکار ا ہو جاتی ہے ۔ گویا یہ دنیا تمہارا(مستقبل ) مقام ہے ، اور دنیا کا ساز و برگ ہمیشہ رہنے والا ہے ۔ تم میں سے کسی کو بھی اپنے کسی بھائی کا ایسا عیب اچھالنے سے کہ جس کے ظاہر ہونے سے ڈرتا ہے ۔ صرف یہ امر مانع ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کا ویسا ہی عیب کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا۔ تم نے آخرت کو ٹھکرانے اور دنیا کو چاہنے پر سمجھوتہ کر رکھا ہے ۔ تو لوگوں کا دین تو یہ رہ گیا ہے کہ جیسے ایک دفعہ زبان سے چاٹ لیا جائے (ینعی صرف زبانی اقرار) اور تم تو اس شخص کی طرح (مطمئن) ہو چکے ہو کہ جو اپنے کام دھندول سے فارغ ہو گیا ہو، اور اپنے مالک کی رضا مندی حاصل کر لی ہو۔

خطبہ 111: دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا