Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، اپنی زبان کی تیزی اس پر استعمال نہ کر جس نے تجھے بولنا سکھایا اور اپنےکلام کی بلاغت اس کے خلاف استعمال نہ کر جس نے تجھے سیدھی راہ دکھائی ہے۔ نھج البلاغۃ حکمت411

نہج البلاغہ خطبات

ایک دوسری روایت کی بناء پر یہ خطبہ پہلے درج ہو چکا ہے :۔

جب اللہ نے محمد ﷺ کو بھیجا ، تو عربوں میں نہ کوئی (آسمانی ) کتاب کا پڑھنے والا تھا اور نہ کوئی نبوتو وحی کا دعوے دار ۔ آپ نے اطاعت کرنے والوں کو لے کر اپنے مخالفوں سے جنگ کی۔ درآں حالیکہ آپ ان لوگوں کو نجات کی طرف لے جارہے تھے اور قبل اس کے کہ موت ان لوگوں پر آپڑے ، ان کی ہدایت کے لیے بڑھ رہے تھے ۔ جب کوئی تھکا ماندہ رک جاتا تھا۔ اور خستہ و درماندہ ٹھہرجاتا تھا۔ تو آپ اس کے (سر پر) کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اور اسے اس کی منزل مقصود تک پہنچا دیتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی ایسا تباہ حال ہو جس میں ذرہ بھر بھلائی ہی نہ ہو۔ یہاں تک کہ آپ نے انہیں نجات کی منزل دکھا دی ، اور انہیں ان کے مرتبہ پر پہنچا دیا چنانچہ ان کی چکی گھومنے لگی، ان کے نیزے کا خم جاتا رہا خدا کی قسم میں بھی انہیں ہنکانے والوں میں تھا۔ یہاں تک کہ وہ پوری طرح پس پا، ہو گئے اور اپنے بندھنوں میں جکڑ دیے گئے ۔ اس دوران میں نہ میں عاجز ہوا نہ بزدلی دکھائی ، نہ کسی قسم کی خیانت کی ، اور نہ مجھ میں کمزوری آئی ۔ خدا کی قسم ! میں (اب بھی ) باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں گا۔“

خطبہ 102: بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر کی تبلیغ و ہدایت کے متعلق فرمایا