Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، جس بات پر تم خدا سے استغفار کرو وہ تمہاری طرف سے ہے اور جس پر تم خدا کی حمد بجالاؤ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ بحارالانوار ابواب العدل باب1 حدیث108

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

گر یہ خلاف معمول یا معمول کے مطابق

سوا ل ۶۸ : اما م حسینؑ پر گر یہ کی تر غیب دلا نا غمگینی کی ترغیب ہے جو کہ ایک منفی حالت ہے،اسلام کیوں ہمیں اما م حسینؑ پر گر یہ کی ترغیب کے ذریعے غم وحزن کی تر غیب دیتا ہے،جو دین کمال کا دعویدار ہے، اس کی طر ف سے ایک منفی حالت کی تر غیب کیسے قا بل توجیہ ہے؟
جوا ب : اسلامی تعلیمات اور معصو مین کی روایا ت میں گر یہ کی بہت زیا د ہ تر غیب دلا ئی گئی ہے اور اس پر بہت زیا دہ اجر و ثوا ب ذکر کیا گیا ہے۔(۱)
اس با رے میں دو نکا ت بہت اہم ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے ۔
ایک تو یہ کہ: ہر گر یہ غم و اندو ہ کی علامت نہیں ہے ،گر یہ کی بہت سی اقسا م ہیں
دوسرا یہ کہ : غم سے کیا جا نے والا ہرگریہ منفی نہیں ہے۔ابتداء میں ہم اس دوسرے نکتے کو سا منے رکھتے ہو ئے کہ اما م حسینؑ پر گریہ غم و حزن اور ماتم وعزاداری ہے اس سوا ل کا جواب دیتے ہیں ۔
غم بے جا کی وجہ سے گر یہ کر نا اور غمگین رہنا ایک طرح کی بیما ری ہے کہ جسے آپ منفی حالت کہہ رہے ہیں ،ا لبتہ ما تم اورا س کے سا تھ غمگین حالا ت کی حدو د و تعریف تو علمی
بحارالانوار ، ج۴۴، ص ۲۴۱،الخصائص الحسینیہ ،ص۱۴۲
غم بے جا کی وجہ سے گر یہ کر نا اور غمگین رہنا ایک طرح کی بیما ری ہے کہ جسے آپ منفی حالت کہہ رہے ہیں ،ا لبتہ ما تم اورا س کے سا تھ غمگین حالا ت کی حدو د و تعریف تو علمی زبان میں زیادہ وضا حت سے بیا ن نہیں ہوئی ۔ ما تم ، غم ،غمزدہ، داغدیدہ اور عز ا دا ری یہ الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعما ل ہو ئے ہیں ، ایک دوسرے سے الگ الگ استعما ل ہونے کی حدود معلو م نہیں ہیں ـ ۔
البتہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہو ئے در ج ذیل تعریف کی جا سکتی ہے’’ماتم‘‘یہ وہ اہم علامت ہے جو غم و اندوہ کے مقابل فیز یالوجیکل اور نفسیا تی طرزعمل کا جواب دیتی ہے اور ممکن ہے سخت و کہنہ اثر کا باعث بھی بن جا ئے‘‘
’’داغدیدگی‘‘یعنی کسی متعلقہ شخص کی وفا ت یا کسی خا ص موضو ع کا بچھڑ نا جس سے جذباتی تعلق ہو نے کی وجہ سے جو حالت حاصل ہو۔
’’عزادا ری‘‘ داغدیدگی کی کیفیت کا معاشرتی اظہا ر ہے، طر ز عمل کے ذریعے اور یہ معنی عزادا ری کے اس نفسیا تی معنی سے فر ق رکھتا ہے جو کہ اندر ونی علا ج کے عنوان سے ذکر ہوا ہے۔
’’غم ‘‘ یہ ایک جذباتی حالت ہے جو کسی اہم شے کے چلے جا نے سے پیدا ہو تی ہے۔
غمگینی بھی ایک غم آور حاد ثے کے رد عمل کو کہتے ہیں نہ کہ یہ افسر دگی کے ہم معنی ہے، البتہ افسر دگی غمگینی کی حالت کو شامل ہے جو کہ انسا ن کے رو زانہ کے کاموں ، فیصلوں اور نیند و بھو ک وغیر ہ پر اثر اندا ز ہو تی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہر طرح کا غم و ماتم منفی اور مر ض شما ر ہو تا ہے یا ایسا نہیں ہے، تاکہ معلو م ہو سکے کہ اما م حسینؑ پر رو نا کس زمر ے میں آتا ہے۔
علمی نکتہ نظر سے اور نفسیات کی روشنی میں ہر طرح کا گریہ نہ مرض ہے، نہ خلاف طبیعت ہے ، بلکہ غمگینی تب مر ض شما ر ہو تی ہے کہ جب مد ت اور شد ت کے لحا ظ سے ہر واقعہ میں اس کے اپنے لحاظ سے حد سے تجاوز کر جا ئے اور خصو صاً جب بغیر کسی ظاہری علّت و وجہ کے اس کا اظہا ر شر وع کردیا جا ئے ، یہ اس وقت پیدا ہو تی ہے کہ جب غم کی شد ت انسا ن کو دباؤ میں لے لے اور وہ غیر طبیعی طر ز عمل اپنا لے یا یہ کہ ما تم کو لمبی مد ت گذ ر جا ئے اوراس کے ماتم میں کمی واقع نہ ہو ۔ دوسرے لفظوں میں اگر عزا دا ری اور ما تم درج علامتوں کے ہمرا ہ ہوتو یہ عزاداری مرض و بیما ری شمار ہو گی۔
۱
صحت گر تی جا ئے
۲
معاشرے سے کٹ جائے
۳
۵
نا چیز ہو نے کا احساس
خو د کشی کے رجحا نا ت
۴
۶
گنا ہ کا احسا س
زیادہ کام بے مقصد ہوں
۷
غم کی نشا نیاں لمبی مدت رہیں
۸
اچا نک نشا نیوں کا ظہو ر
اب آپ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا شیعہ کا سید الشہدا ء کے غم میں عزاداری کر نا ان علاما ت میں سے کوئی علامت رکھتا ہے یا نہیں ؟کیا آپ نے دیکھا ہے کہ سیدا لشہدا ء کی عزاداری کر نے سے ان مذکو رہ بالاعلامات میں سے کوئی ایک علامت بھی پیدا ہو تی ہے اور عزا دا ری کرتے وقت کیا احسا س ہو تا ہے، سا ئنسی طو ر پر سید الشہدا ء کی عز اد اری میں طبعی و فطر ی غمگینی کی مکمل شرائط موجود ہیں اور معرفت پر مبنی اجتما عی طر ز عمل کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔
اسی وجہ سے عزا دا ری بغیر کسی خاص طر ز عمل کو بنیا د بنا ئے، لوگوں کی دینی و معاشرتی فرہنگ و ثقافت کی بنیا د پر بر قرا ر کی جا تی ہے اور لوگوں کی معرفت و شنا خت پر استوا ر ہے نہ کہ صرف ایک مردہ و بے روح عزادا ری کا اظہا ر ہو ، لوگوں کا عزادا ری کرنا اس معرفت و شنا خت کی بناء پر ہے جو انہیں حسینؑ بن علیؑ اوران کے بلند اہدا ف و مقا صد اوران کی اس نہضت کے بارے میں حاصل ہے جس کا نتیجہ شہاد ت اما م تھی،لہٰذا ان کی عزاداری و مر ثیہ و نوحہ خوانی با طل کی نقا ب کشائی کرتی ہے نہ کہ یہ بے مقصد رونا دھونا ہے بلکہ وہ اس عزاداری کے لئے اپنی پو ری زندگی کو با ہد ف و بامقصد بناتے ہیں ، اپنی زندگی کو حسینی بنا کر اسے تا زگی بخشتے ہیں اور ذلت کی موت کے بجا ئے عزت کی زندگی اور اہمیت کے احساس کے ساتھ زند گی کی طر ف قد م بڑھاتے ہیں ،لہٰذا سیدالشہداء پر گر یہ و ماتم کو بے مقصد و منفی اورمر ض نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تو دینی و معا شر تی تقا ضو ں کے عین مطابق اور روح و جسم کی سلامتی کے برا بر ہے ۔ اگر ہمارے آنسو جوہم سیدا لشہدا ء کے غم میں گراتے ہیں ہماری روح کے مو افق راستے میں ہو ں تو یہ ہماری روح کی معمولی سی پر واز ہے حسینی روح کی ہمرا ہی میں ـ۔
علمی نفسیا ت شنا سی کی نظر میں ایک مسلما ن سے اس طرح کا جذباتی رد عمل ظاہر نہ ہو تو یہ بیماری کی علامت ہے ،جیسا کہ عز ادار ی کی علاما ت کا نہ ہو نا یا ما تم و نوحہ سرائی کے طرز عمل کا ظاہر نہ ہو نا بھی بیمار ی شما رکیا گیا ہے ، جو لوگ اپنے کسی عزیز کی وفات میں آنسو نہیں بہاتے متا ثر نہیں ہوتے ،بے حس وحر کت رہتے ہیں اور کوئی غم کی علامت ان سے ظا ہر نہیں ہوتی ممکن ہے سطحی نظر میں انہیں کوئی بڑی ہستی سمجھ لیا جا ئے لیکن در حقیقت یہ اچھی بات نہیں ہے بلکہ اس سطحی رو یے میں حد سے زیا دہ دفا عی نظا م اور انکار غم سے استفا دہ کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے تھوڑی مد ت کے لئے تو یہ رویہ اسے سنبھا ل لے، لیکن یہی رو یہ اگر ذرا لمبی مدت کے لئے اس میں با قی رہ جا ئے تو اسے زبردست نقصا ن پہنچا سکتا ہے ، نہ صرف عزا دا ری کی علامات کانہ ہو نا بیما ری ہے بلکہ ان کا دیر سے ظاہر ہو نا بھی بیما ری ہے ، جیسے تذکرہ کی گئی آٹھ علامتوں کا ماتم و عزادا ری میں ظا ہر ہو نا باعث بنتا ہے کہ وہ ما تم و عزاداری ایک طرح کی بیما ری و منفی شمار ہو اسی طرح جن افراد میں عزا دا ری کی علامات ظاہر ہی نہیں ہو تی یا دیر سے ظا ہر ہو تی ہیں ا نہیں بھی بیما ر و منفی شمار کیا جا ئے گا ، ممکن ہے کوئی کہے کہ آپ کی بات کا مطلب تو یہ ہو گا کہ جو بھی سیدالشہداء پر عزا دا ری و سوگوا ر ی نہ کرے وہ بیمارہے، تو اس کا جو اب یہ ہے کہ نہ قطعاً ہم نے ایسا نہیں کہا بلکہ جو سیدا لشہدا ء پر عزا دا ری نہیں کر تا وہ آپ سے تعلق خا طر نہیں رکھتا اسی وجہ سے تو آپ کی شہاد ت و مصائب کا اس کے دل پر اثر نہیں ہو رہا ،چو نکہ وہ امام پا ک سے تعلق خاطر نہیں رکھتا ،اپنے آپ کو ان سے الگ سمجھتا ہے لہٰذا غم و اند و ہ کا احسا س نہیں کر تا ، ماتم کی تعریف میں بیا ن ہو چکا ہے کہ جو شے یا شخص چلا گیا ہے اس سے ایک تعلق خا طر ہو نا چاہیے تاکہ انسان میں غم و اندو ہ کی حالت پیدا ہو سکے اور جو شخص اما م حسینؑ کے غم میں نہیں روتا تو اسے چونکہ آ پ سے کوئی ربط و تعلق نہیں ہے کہ آپ کی شہا دت یا آپ کے فیض وجود سے محرومی کی وجہ سے وہ محز و ن ہو ، اگر آپ کے محلے کا دکاندا ر فو ت ہو جا ئے تو اس پر بھی آپ متاثر ہو تے ہیں چونکہ اس سے آپ کو تعلق خاطر تھا یا فیض وجود حا صل تھا، ہاں جو شخص سیدا لشہدا ء سے تعلق خا طر رکھتا ہو جیسا کہ شیعہ ہیں لیکن اسے آپ کی شہادت و مصا ئب سن کر رو نا نہ آئے یا رونے سے اپنے آپ کو رو کے یا بڑی دیر کے بعد رو نا آئے تو یہ طرز عمل منفی اوربیما ری شمار ہو گا۔
اگر یہی علامات وہاں ہوں جہاں پر کسی شخص کو اما م حسینؑ سے تعلق خا طر نہیں ہے تو نفسیاتی طور پر تو اسے منفی یا بیما ر نہیں کہا جا ئے گا لیکن دین اور دینی شخصیا ت کے سا تھ تعلق کے لحا ظ سے اسے اپنے اندر ضر ور جھا نکنا چاہیے کہ وہ کیسا مسلما ن ہے جسے نوا سہ رسول دلبند زہراء ،ابن علی مر تضیٰ کی شہادت ومصا ئب پر کیوں احسا س رنج و غم نہیں ہو رہا ؟ ہاں شیعہ کے بارے اما م صا دق علیہ السلا م نے فر ما یا کہ:
شیعہ اس طینت سے خلق ہو ئے جسے ہمارے سا تھ نسبت حاصل ہے اور ہما ری ولا یت کے نور سے مخلوط ہوچکے ہیں ہماری امامت کے معتقد ہیں ہم بھی ان کی پیرو ی و محبت پر راضی ہیں ، ہمار ی مصیبت ان کے اندر سرایت کر تی ہے اور وہ اس پر گر یہ کرتے ہیں ہمارا غم انہیں غمگین کر دیتا ہے اور ہماری خو شی سے وہ خو ش ہو تے ہیں ہم بھی ان کی حالت سے مطلع ہیں اوران کے ساتھ ہیں ، ان کی تکلیف پر ہم بھی متاثر ہوتے ہیں ، نہ وہ ہم سے جدا ہو تے ہیں اور نہ ہم ان سے جدا ہو تے ہیں ۔ (۲)
پس اما م حسینؑ کے لئے گر یہ و سوگوا ری صحت کی علامت ہے نہ کہ بیماری کی اور نہ کوئی منفی وغیر عادی ، بلکہ غمگین نہ ہو نا اور سو گ نہ منا نا ایک مسلمان کے لئے بیماری یا نامانوس طرز عمل ہو سکتاہے ، گر یہ نہ صرف یہ کہ بیما ری کی علامت یا منفی حالت نہیں ہے بلکہ مصیبت زدہ شخص کے لئے رو نا باعث شفا و صحت بھی بن سکتا ہے کیونکہ رونے سے اندرونی دباؤ میں کمی واقع ہو جاتی ہے ورنہ مصیبت کی وجہ سے انسا ن کے ذہن اور اعصا ب پر جو دباؤ پڑتا ہے وہ اس کے داخلی کیمیائی عمل کے سسٹم کو خرا ب کر سکتا ہے رو نے سے یہ دبا ؤ کم ہو جاتا ہے اورا س سسٹم پر اثر اندا ز نہیں ہو سکتا ، بعض کے نز دیک رو نے سے بد ن سے زہر یلا مادہ خارج ہو جاتا ہے اوراس سے زندگی کا اعتدال باقی رہتا ہے۔
واقعہ کر بلا پر ہماری نظر صرف علم نفسیا ت کے نتائج کے حوالے سے نہیں ہے کہ ہم اس الٰہی حادثہ کی صرف ایک زمینی و بشری تو جیہ کر سکیں اور اما م حسینؑ پر سو گ و گریہ کے بارے علم نفسیا ت کی تو جیہ ہی حاصل ہو جا ئے ، ایک آسما نی و ما ور ائے طبعی واقعہ کے بارے صرف بشری و زمینی توجیہ کا کوئی فا ئد ہ نہیں ہے،بلکہ ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اما م حسینؑ پر گریہ و ما تم ان تما م اصولوں کے مطا بق ہے جو علم النفسیا ت نے غم و ما تم کے حوالے سے بیا ن کئے ہیں اور جس پر مصیبت پڑ تی ہے اس سے اس مصیبت کے تما م منفی اثر ات کو ختم کر دیتا ہے، لہٰذا سیدا لشہدا ء کی عزادا ری کی جتنی شکلیں اوررسمیں رائج ہیں وہ سب غم و ماتم کے بارے میں علم ا لنفسیات کے تما م اصولوں پر پوری اترتی ہیں ، ہم یہاں چند ایک کی طرف اشارہ کر تے ہیں ۔
اگر اما م حسینؑ کی عزا دا ری میں ہم واقعہ کربلا کو ذکر کر تے ہیں اور اما م حسینعلیہ
(۲)بحارالانوار، ج۵۱، ص ۱۵۱
۱) اگر اما م حسینؑ کی عزا دا ری میں ہم واقعہ کربلا کو ذکر کر تے ہیں اور اما م حسینعلیہ السلام کی شہادت اور ان کے خا ندا ن کی قید کو یاد کر تے ہیں تواس کی وجہ یہ ہے کہ اس جان لیوا مصیبت و اسارت کے غم کوکم کر نے کا بھی یہ ایک طریقہ ہے ، جیسا کہ اپنی پسندیدہ شخصیت کے بارے گفتگو کرنا، اس کے کمالا ت و صفات کو بیا ن کر نا اورا س کی وفا ت کے اسبا ب کا ذکر کر نا یہ سب چیزیں غم کو کم کر نے اور تسلی خا طر کا با عث بنتی ہیں ۔
البتہ دینی فکر میں واقعہ کربلا کوزندہ رکھنے کامقصد صرف یہی نہیں ہے بلکہ حسینی تعلیمات کو قدم بہ قدم زند گی کی رگوں میں خو ن کی طرح دوڑ ا نا اور دین کی تبلیغ کر نا خو د خط رسا لت ہی کا تسلسل ہے۔
اما م حسین علیہ السلام کی مجلس عزا مکتب حسینؑ ہے اور اس مکتب میں دین دا ری ، شجاعت ، حریت اور جو انمردی کی تعلیم دی جاتی ہے ، صرف غم زدوں کے دلوں پر مرہم مقصد نہیں ہے بلکہ شعر بھی ہے، شعور بھی ہے ، احسا س بھی ہے اور ادرا ک بھی ہے۔
۲)اما م حسینؑ کی عزا دا ری میں دو عنصر ہیں :
(i)الٰہی سنتیں و مذہبی اصول ،
(ii) قومی و علا قا ئی آدا ب و رسوم ،
یعنی عزادا ری دینی و الٰہی بھی ہے اور لوگوں کے علاقائی آدا ب و رسوم بھی اس میں دخیل ہیں اور مذہبی و دینی رسو م کی برقرار ی خود غمزدہ افراد کی تسلی خاطر کا ذریعہ ہیں ، نو حہ خوانوں کا نوحہ پڑھنا اور خطبا ء کا واقعات شہادت پڑھنا اس طریقے پر جو آئمہؑ نے خو د ہمیں تعلیم فر ما یا ہے اور یہی ہماری مجالس میں بھی مر سو م ہے ۔ یہ بہترین اور مناسب تر ین مذہبی و دینی طریقہ ہے جو عزادا ری و سوگوار ی میں بر قرا ر ہو سکتا ہے ۔ یہ طریقہ بے مقصد گریہ، حدسے بڑ ھے ہو ئے طر ز عمل سے بالکل دور اور مکمل پاک ہے اور غم سیدا لشہد ا ء میں شکستہ دلوں کے لئے بہتر ین راہ علاج ہے، البتہ وہ دل ایسا ہو جو اما م حسین علیہ السلام کی محبت میں گر فتا ر ہے اور اہل بیت کے ساتھ تمسک رکھتا ہے ۔ لیکن جو دل حسینی تعلق سے خالی ہے وہ شکستہ ہی نہیں ہو ا تو اسے علاج کی کیا ضرورت ہوگی؟ اس کی نظر میں تویہ گریہ و عزاداری بے مقصد کی گریہ وفر یا د ہے ۔
۳) عزادا روں کی مجلس میں جا کر بیٹھنا اور اس غم آلو د فضا اور غمزدہ ماحول میں غم و اندوہ کا احساس کر نا اپنے غم کو ہلکا کر نے کے لئے ایک اور طریقہ ہے ، غمز دہ شخص اس محفل میں اپنے آپ کو بہتر محسو س کر تا ہے جہاں غم و سو گ بر قرا ر ہو بجا ئے اس کے کہ اسے کسی خوشی کی محفل میں لے جا یا جائے کہ جہاں لوگ اس کے احسا سات کو سمجھ ہی نہیں سکتے ، اسے غم منا نے کی ضرورت ہے تا کہ آنسو ؤ ں کی صورت میں ا س کے اندر کا غبا ر نکل جا ئے اور اسے سکو ن حاصل ہو ۔
جو شخص سیدا لشہدا ء کی مصیبت میں غم زد ہ ہے وہ گر یہ کی کوشش کر کے بھی اپنا دل ہلکا کر سکتا ہے لیکن اگر اس دل میں ایسا سو ز ہی نہ ہو تو پھر اس کا کوئی اور علاج کرنا چاہیے۔
پس ثا بت ہو گیا کہ عزا دا ری ایک منفی چیز یا بیما ری نہیں ہے بلکہ غمگین نہ ہو نا بیماری ہے اور جو دل غم حسینؑ میں گرفتا ر ہے اس کے لئے مجا لس عزا میں شریک ہو نا ، رسوم عزاداری انجام دینا یا کم از کم رو نے کی کو شش کر نا اس کے غم کو ہلکا کر نے کے لئے بھی ضروری ہے اور ان دنیا وی فوا ئد کے علا وہ اخر وی اجرو ثو اب کا باعث بھی ہے اور انسا ن کے اندر روح شہا دت ، شجاعت ، ایثار ، حق طلبی اور حقیقت طلبی جیسی صفا ت بھی پیدا کر تا ہے۔
۴)مجالس عزا میں شر کت غم و مصیبت کی وجہ سے پیدا ہو نے والے ذہنی دباؤ میں کمی واقع ہونے کے علاوہ عزاداری کا فا ئدہ اور بھی ہے اور وہ ہے امید کا پیدا کر نا ، معلوما ت کو دوسروں تک منتقل کر نا اور غم کو عمو میت دینا ( مشکل میں عمو میت پیدا ہو جا ئے تو اس کا برداشت کر نا آسان ہو جاتا ہے ) ایک دوسرے کے طرز کو اپنا نا، مل بیٹھنے کی عا دت پڑ نا ، نفسیاتی خلو ت اور انسان دوستی جیسے ایک دوسرے سے تاثیر کے لحا ظ سے جدا نہیں ہیں یہ سب مل کر غم کو کم کر نے کا ذریعہ بن جا تے ہیں ،سید الشہدا ء کی مجا لس عز ا میں غمز دہ مومنین شر کت کر تے ہیں اور ان میں مذکو رہ بالا عو امل سے استفا د ہ کر تے ہو ئے غم سیدا لشہدا ء کے بو جھ کو مومنین کے دلوں سے کم کر نے کی کو شش کی جا تی ہے۔
اس جو ا ب کے حوالہ جا ت
۱)معتمد ی ، غلا م حسین ، انسا ن و مرگ ، نشر مر کز ۱۳۷۲، ص ۲۱۹
۲) خسروی ، زہر ہ ، رو ان در مانی دا غدیدگی ۔انتشا رات نقش ہستی ، ۱۳۷۴
۳) مطہر ی ، مر تضیٰ ،حما سہ حسینی انتشا رات صد ر ا، ۱۳۶۷ ص ۹۴
۴)رمضا ن ز ادہ ، محمود، ھیجا نھا ، انتشا رات آستا ن قد س رضوی ۱۳۷۱ص۱۵۵
۵)دادستان ، پر یر خ ، روان شناسی مرضی ، انتشارات سمت ۱۳۷۶ص ۲۷