Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، قرآن پڑھا کرو، اس پر عمل کیا کرو، اس سے کنارہ کشی نہ کرو اور اسے ذریعہ معاش نہ بناؤ۔ کنزالعمال حدیث 2270

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

خدا کا انتقام

سوا ل ۵۸ : ’’ثار اللّٰہ‘‘کے کیا معنی ہیں اور اما م حسینعلیہ السلام پر اس کے اطلا ق کی کیا دلیل ہے ؟
جو اب : ثا ر عر بی میں انتقا م کے معنی میں استعما ل ہو تا ہے اور خو ن کا معنی بھی دیتا ہے۔ (۱)’’ثا ر اللہ‘‘ کے مختلف معا نی ذکر ہو ئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی خاص تفسیر کی ضرورت ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا وند اما م حسینؑ کا ولّی دم ہے یعنی اما م حسین علیہ السلام کا دشمنوں سے انتقا م خود خدا لے گا، کیونکہ سیدا لشہدا ء کا کربلا میں قتل کر نا حر یم الٰہی پر تجاو ز تھا اور خدا کے مقا بل قرا ر پا نا تھا ، خلاصہ یہ کہ اہل بیتؑ آل اللہ ہیں لہٰذا ان کی شہادت بھی اس خو ن کا گر ا نا ہو گا جو خدا و ند سے منسو ب ہے۔(۲) اگر چہ یہ اصطلاح قرآن میں وا ر د نہیں ہو ئی لیکن آیا ت قرآن کے ساتھ اس کی تو جیہ کی جاسکتی ہے خدا وند فرماتا ہے ـ:
ومن قتل مظلو ما ً فقد جعلنا لو لیہ سلطا نا (۳)
’’جو شخص مظلو م مارا جا ئے ہم نے اس ولی کے لئے سلطنت ( حق قصاص) قرار دی ہے‘‘
پس جوبھی ظلم کے ساتھ قتل ہو جا ئے اس کے ور ثہ کو حق قصا ص ہے اور چو نکہ اہل بیتؑ خصوصاً اما م حسینعلیہ السلام ظلم کے ساتھ راہ خدا و حق و حقیقت کی خا طر ما رے گئے ہیں لہٰذاان کا ولّی دم اورخونخواہ خود خدا ہے ،پس ثار اللہ کے معنی یہ ہو ں گے کہ اما م حسینؑ کے خون کا بد لہ خداوند سے متعلق ہے ،خدا وندہی اما م حسینؑ کے خو ن کا بد لہ لے گا ۔ یہ اصطلاح اما م حسینؑ اور خدا وند کے در میا ن شدید تعلق و ہم بستگی سے حکا یت کر تی ہے جو خو ن خدا سے متعلق ہے اس کا خدا وند خو د انتقا م لے گا۔(۴)
(۱) اطریحی، مجمع البحرین ،ج۱، ص ۲۳۷ ،محمد فر ہنگ فا رسی ج۱ ص ۱۱۸۵ ، مفردات راغب، ص ۸۱
(۲) محد ثی جو اد ، زیارات عا شو رہ ،ص ۱۴ ، عز یز ی تہرا نی ، اصغر شر ح زیا رت عا شورہ ،ص ۳۵
(۳)اسراء / ۳۳
۲)اگر ثا ر خو ن کے معنی میں ہو تو قطعی طور پر اس کے حقیقی معنی مرا د نہیں ہوں گے بلکہ ایک طرح کی تشبیہ ، کنا یہ او ر مجا ز ہو گا کیونکہ خدا وند جسم تو رکھتا نہیں کہ اس کا خو ن ہو، لہٰذا یہ معقول کو محسو س سے تشبیہ دینے کے با ب سے ہو گا یعنی جیسے خو ن بد ن میں حیا تی فعالیت انجام دیتا ہے اسی طرح اما م حسینؑ نے بھی دین خدا کے لئے یہی کام کیا اور نہضت عا شورہ سے اسلام کو زند گی ملی ۔
۳)اس بارے میں رو ایا ت سے استفادہ شدہ عرفانی نظر سے بھی بڑ ا نورا نی نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے ، حضر ت علی علیہ السلام کو ’’اسد اللہ ‘‘ اور ’’ید اللہ‘‘جیسے القا ب دئیے گئے ہیں اورحدیث قرب نو افل میں رسو ل ؐ خدا نے فر ما یا کہ خدا وند فر ما تا ہے۔
ماتجب الی عبد ی بشئی احب الی مما افتر ضت علیہ وانہ لیتجب الی بالنا فلہ حتی احبہ فا ذا اجبتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصر ہ الذی یبصر بہ ولسا نہ الذی ینطق بہ و ید ہ التی یبطش بھا و ر جلہ التی بھا اذا دعا ئی احببتہ وا ذا سأ لتی اعطیتہ۔(۵)
’’ میرا بند ہ واجبا ت سے پسند یدہ ترین چیز کے ساتھ میرے نزدیک اظہار محبت نہیں کر تا ،وہ نو ا فل کے ذریعے میرے نزدیک اظہا ر محبت کر تا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کر تا ہوں تو میں اس کے ہنسنے ، بولنے وغیر ہ کا ذریعہ بن جا تا ہوں ،وہ جب مجھے پکارے تو میں اسے جو اب دیتا ہوں جب کچھ ما نگے تو اسے عطا کر تا ہوں ‘‘
اس رو ا یت سے یہ بات واضح و رو شن ہے کہ اولیا ئے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور
(۴) فرہنگ عاشورہ
(۵) محا سن بر قی، ج۱ ،ص ۲۹۱
اس رو ا یت سے یہ بات واضح و رو شن ہے کہ اولیا ئے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور مظہر افعال الٰہی ہیں ، خدا و ند جسم نہیں ہے جو وہ انجا م دینے کا ارا دہ کر تا ہے تو اپنے اولیاء کے ذریعے اس کا اظہا ر کر تا ہے ، جب اپنے بند ے تک مدد پہنچا نا چاہتا ہے تو اپنے اولیا ء کو پہنچا تا ہے اور جب وہ چا ہتا ہے کہ اس کی طر ف سے دین کے احیا ء کے لئے قر با نی دی جائے خو ن بہایا جا ئے تو اسے بھی اپنے اولیا ء کی شہا دت کے ذریعے اظہا ر کر تا ہے، اسی وجہ سے جیسے حضرت علیؑدست قدر ت خدا ( یداللہ) ہیں ۔اسی طرح امام حسین علیہ السلام بھی ثا ر اللہ اور خو ن خدا ہیں ، لہٰذا زیارت عا شورہ میں ہے :
السلام علیک یا ثار اللّٰہ وبن ثارہ والوتر الموتور
’’سلام ہو آپ پر اے خون خدا اور خو ن خدا کے بیٹے اور سلام ہو آپ پر آپ یگا نہ دہر ‘‘
مر حو م ابن قو لو یہ نے بھی زیا ر ت صفحہ ۱۷و ۲۰ میں یہ جملہ نقل کیا ہے:
وانک ثا ر اللّٰہ فی الا رض والدم الذی لا یدرک ترتہ احد من اھل الارض وال ید رکہ الا اللّٰہ وحدہ ۔(۶)
جیسے بد ن میں خو ن کا کر دا ر حیا تی کر دا ر ہے اس کے ہو نے سے زند گی ہے اور نہ ہونے سے زندگی نہیں ہے حضرت علیؑاور اما م حسین علیہ السلام کا وجود مقد س بھی خدا کے نز دیک اور دین میں اسی کردا ر کا حامل ہے اگر آپ نہ ہو تے تو نہ اسلام ہو تا نہ دین ہو تا۔
ہاں جب تک اما م حسینؑکا نا م اور یا د زبا نو ں پر ہے ،جب تک عشق حسینؑ دلوں میں جو ش مارر ہا ہے ،جب تک آپ کی ولا یت کی حرا ر ت دلوں کو گر ما رہی ہے اور جب تک یا حسینؑ کی آوازیں زمین و آسما ن میں گو نج رہی ہیں ،تب تک نا م خدا اور یا د خدا زندہ ہے کیونکہ آپ نے اپنی پور ی ہستی و کا ئنات را ہ خدا میں قر با ن کر دی ، اس دور کے ریاکاروں اور تحریف گر وں کے چہر وں سے نقا ب اتا ر دی اور نبو ی و علو ی خالص اسلا م لوگوں پرآشکا ر کر دیا، لہٰذا آپ کا خو ن بھی اتنا عظیم ہو گا کہ ثا ر اللہ کہلا یا ۔
(۶)کامل الزیارات ، ص۳۶۸،۴۰۶