Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، سب سے اعلیٰ ثواب صبر کرنے کا ہوتا ہے۔ غررالحکم حدیث6240

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

خدا کا انتقام

سوا ل ۵۸ : ’’ثار اللّٰہ‘‘کے کیا معنی ہیں اور اما م حسینعلیہ السلام پر اس کے اطلا ق کی کیا دلیل ہے ؟
جو اب : ثا ر عر بی میں انتقا م کے معنی میں استعما ل ہو تا ہے اور خو ن کا معنی بھی دیتا ہے۔ (۱)’’ثا ر اللہ‘‘ کے مختلف معا نی ذکر ہو ئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی خاص تفسیر کی ضرورت ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا وند اما م حسینؑ کا ولّی دم ہے یعنی اما م حسین علیہ السلام کا دشمنوں سے انتقا م خود خدا لے گا، کیونکہ سیدا لشہدا ء کا کربلا میں قتل کر نا حر یم الٰہی پر تجاو ز تھا اور خدا کے مقا بل قرا ر پا نا تھا ، خلاصہ یہ کہ اہل بیتؑ آل اللہ ہیں لہٰذا ان کی شہادت بھی اس خو ن کا گر ا نا ہو گا جو خدا و ند سے منسو ب ہے۔(۲) اگر چہ یہ اصطلاح قرآن میں وا ر د نہیں ہو ئی لیکن آیا ت قرآن کے ساتھ اس کی تو جیہ کی جاسکتی ہے خدا وند فرماتا ہے ـ:
ومن قتل مظلو ما ً فقد جعلنا لو لیہ سلطا نا (۳)
’’جو شخص مظلو م مارا جا ئے ہم نے اس ولی کے لئے سلطنت ( حق قصاص) قرار دی ہے‘‘
پس جوبھی ظلم کے ساتھ قتل ہو جا ئے اس کے ور ثہ کو حق قصا ص ہے اور چو نکہ اہل بیتؑ خصوصاً اما م حسینعلیہ السلام ظلم کے ساتھ راہ خدا و حق و حقیقت کی خا طر ما رے گئے ہیں لہٰذاان کا ولّی دم اورخونخواہ خود خدا ہے ،پس ثار اللہ کے معنی یہ ہو ں گے کہ اما م حسینؑ کے خون کا بد لہ خداوند سے متعلق ہے ،خدا وندہی اما م حسینؑ کے خو ن کا بد لہ لے گا ۔ یہ اصطلاح اما م حسینؑ اور خدا وند کے در میا ن شدید تعلق و ہم بستگی سے حکا یت کر تی ہے جو خو ن خدا سے متعلق ہے اس کا خدا وند خو د انتقا م لے گا۔(۴)
(۱) اطریحی، مجمع البحرین ،ج۱، ص ۲۳۷ ،محمد فر ہنگ فا رسی ج۱ ص ۱۱۸۵ ، مفردات راغب، ص ۸۱
(۲) محد ثی جو اد ، زیارات عا شو رہ ،ص ۱۴ ، عز یز ی تہرا نی ، اصغر شر ح زیا رت عا شورہ ،ص ۳۵
(۳)اسراء / ۳۳
۲)اگر ثا ر خو ن کے معنی میں ہو تو قطعی طور پر اس کے حقیقی معنی مرا د نہیں ہوں گے بلکہ ایک طرح کی تشبیہ ، کنا یہ او ر مجا ز ہو گا کیونکہ خدا وند جسم تو رکھتا نہیں کہ اس کا خو ن ہو، لہٰذا یہ معقول کو محسو س سے تشبیہ دینے کے با ب سے ہو گا یعنی جیسے خو ن بد ن میں حیا تی فعالیت انجام دیتا ہے اسی طرح اما م حسینؑ نے بھی دین خدا کے لئے یہی کام کیا اور نہضت عا شورہ سے اسلام کو زند گی ملی ۔
۳)اس بارے میں رو ایا ت سے استفادہ شدہ عرفانی نظر سے بھی بڑ ا نورا نی نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے ، حضر ت علی علیہ السلام کو ’’اسد اللہ ‘‘ اور ’’ید اللہ‘‘جیسے القا ب دئیے گئے ہیں اورحدیث قرب نو افل میں رسو ل ؐ خدا نے فر ما یا کہ خدا وند فر ما تا ہے۔
ماتجب الی عبد ی بشئی احب الی مما افتر ضت علیہ وانہ لیتجب الی بالنا فلہ حتی احبہ فا ذا اجبتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصر ہ الذی یبصر بہ ولسا نہ الذی ینطق بہ و ید ہ التی یبطش بھا و ر جلہ التی بھا اذا دعا ئی احببتہ وا ذا سأ لتی اعطیتہ۔(۵)
’’ میرا بند ہ واجبا ت سے پسند یدہ ترین چیز کے ساتھ میرے نزدیک اظہار محبت نہیں کر تا ،وہ نو ا فل کے ذریعے میرے نزدیک اظہا ر محبت کر تا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کر تا ہوں تو میں اس کے ہنسنے ، بولنے وغیر ہ کا ذریعہ بن جا تا ہوں ،وہ جب مجھے پکارے تو میں اسے جو اب دیتا ہوں جب کچھ ما نگے تو اسے عطا کر تا ہوں ‘‘
اس رو ا یت سے یہ بات واضح و رو شن ہے کہ اولیا ئے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور
(۴) فرہنگ عاشورہ
(۵) محا سن بر قی، ج۱ ،ص ۲۹۱
اس رو ا یت سے یہ بات واضح و رو شن ہے کہ اولیا ئے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور مظہر افعال الٰہی ہیں ، خدا و ند جسم نہیں ہے جو وہ انجا م دینے کا ارا دہ کر تا ہے تو اپنے اولیاء کے ذریعے اس کا اظہا ر کر تا ہے ، جب اپنے بند ے تک مدد پہنچا نا چاہتا ہے تو اپنے اولیا ء کو پہنچا تا ہے اور جب وہ چا ہتا ہے کہ اس کی طر ف سے دین کے احیا ء کے لئے قر با نی دی جائے خو ن بہایا جا ئے تو اسے بھی اپنے اولیا ء کی شہا دت کے ذریعے اظہا ر کر تا ہے، اسی وجہ سے جیسے حضرت علیؑدست قدر ت خدا ( یداللہ) ہیں ۔اسی طرح امام حسین علیہ السلام بھی ثا ر اللہ اور خو ن خدا ہیں ، لہٰذا زیارت عا شورہ میں ہے :
السلام علیک یا ثار اللّٰہ وبن ثارہ والوتر الموتور
’’سلام ہو آپ پر اے خون خدا اور خو ن خدا کے بیٹے اور سلام ہو آپ پر آپ یگا نہ دہر ‘‘
مر حو م ابن قو لو یہ نے بھی زیا ر ت صفحہ ۱۷و ۲۰ میں یہ جملہ نقل کیا ہے:
وانک ثا ر اللّٰہ فی الا رض والدم الذی لا یدرک ترتہ احد من اھل الارض وال ید رکہ الا اللّٰہ وحدہ ۔(۶)
جیسے بد ن میں خو ن کا کر دا ر حیا تی کر دا ر ہے اس کے ہو نے سے زند گی ہے اور نہ ہونے سے زندگی نہیں ہے حضرت علیؑاور اما م حسین علیہ السلام کا وجود مقد س بھی خدا کے نز دیک اور دین میں اسی کردا ر کا حامل ہے اگر آپ نہ ہو تے تو نہ اسلام ہو تا نہ دین ہو تا۔
ہاں جب تک اما م حسینؑکا نا م اور یا د زبا نو ں پر ہے ،جب تک عشق حسینؑ دلوں میں جو ش مارر ہا ہے ،جب تک آپ کی ولا یت کی حرا ر ت دلوں کو گر ما رہی ہے اور جب تک یا حسینؑ کی آوازیں زمین و آسما ن میں گو نج رہی ہیں ،تب تک نا م خدا اور یا د خدا زندہ ہے کیونکہ آپ نے اپنی پور ی ہستی و کا ئنات را ہ خدا میں قر با ن کر دی ، اس دور کے ریاکاروں اور تحریف گر وں کے چہر وں سے نقا ب اتا ر دی اور نبو ی و علو ی خالص اسلا م لوگوں پرآشکا ر کر دیا، لہٰذا آپ کا خو ن بھی اتنا عظیم ہو گا کہ ثا ر اللہ کہلا یا ۔
(۶)کامل الزیارات ، ص۳۶۸،۴۰۶