Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، خلوص کے ساتھ کی جانے والی توبہ گناہوں کو ختم کردیتی ہے۔ غررالحکم حدیث3836

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عورتوں کا کردار

سوا ل ۲۴ : جب اما م حسینؑ جا نتے تھے کہ شہید ہو جا ئیں گے تو پھر اپنے خا ندا ن کو ساتھ کیوں لے گئے؟ اما م حسینؑ کے عاشو رائی انقلاب میں عو رتوں کا کیا کردار ہے؟
جو اب : اما م حسین علیہ السلام کی نہضت و تحر یک کے دو رُخ تھے، دونوں کے لحا ظ سے تقسیم کار انجام پائی ، ایک رخ فدا کا ری و شہادت کا تھا اور دوسرا رخ پیغا م پہنچا نے کا تھا ، یہ پیغام پہنچا ناسختیا ں اور مصائب جھیلے بغیر ممکن نہیں تھا ، عو رتوں کا اصلی کر دار اس دوسرے رخ اور وظیفہ کو پو را کر نے میں ظاہر ہو ا ، اگر چہ عو رتیں مجا ہدین کی تر بیت اور جنگ میں ان کے جذبہ کو ابھا رنے اور میدان کی طرف بھیجنے کے حوالے سے بھی اپنا مؤ ثر کردار اداکر تی رہیں اور دوسرے کاموں میں بھی پشت پنا ہ رہیں لیکن ان کا اصلی کردا ر یہی پیغا م کر بلا کا پہنچا نا تھا۔
نہضت حسینی اوراسلام کی تبلیغ کے حوا لے سے عو رتوں کے کردا ر پر گفتگو کر نے سے پہلے دو مقد مات کا بیان ضرور ی ہے ،پہلا یہ کہ سید الشہداء کے کام باقا عدہ طے شدہ حکمت عملی کے مطا بق تھے اور سفر کی صعو بتوں سے وا قفیت کے باو جو د اپنے اہل بیت کو کوفہ سا تھ لے جا نا بھی اسی وجہ سے تھا کہ آپ کو رسو ل ؐ خدا نے الہا م کے ذریعے جو خواب آپ نے دیکھا تھا،حکم دیا اس میں حضو ر ؐ نے فرمایا:
(۱) بحار الانوار ،ج۴۴، ص ۳۶۴
ان اللّٰہ شاء ان پر اھن سبا با (۱)
”خدا و ند کی مشیت مستورات کو قید ی دیکھنا ہے“
اس سے آپ سمجھ گئے کہ اہل بیت عصمت و طہارت کی قید رضائے خدا ہے آپ نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ اپنے اہل بیت کو ساتھ لے جائیں ، حضرتؑ نے اپنے طے شدہ پرو گرا م کے مطا بق درحقیقت اپنے مبلغ اسلامی مملکت کے مختلف شہروں حتیٰ کہ دا ر الخلا فہ میں بھیجے جنہوں نے حضر ت کا پیغام سب لوگوں تک پہنچا دیا،
دوسرا مطلب عورتوں کے تاریخی کردار کے حوا لے سے گفتگو کر نا ہے، کوئی بھی عورتوں کے تاریخی کردارسے انکارنہیں کر سکتا، کم از کم عورتوں کے بالوا سطہ کردار کو سب تسلیم کر تے ہیں ،اس لحا ظ سے کہ عورت مرد کی تر بیت کر تی ہے اور مرد تاریخ پر اثر انداز ہوتا ہے اور عو رت کا مرد کی تعمیر میں جو کر دا ر ہے وہ اس سے کہیں بڑ ھ کر ہے، جو مر د تا ریخ بنا نے میں ادا کرتا ہے، تاریخی کردار کے حوا لے سے عور توں کی تین قسمیں ہیں :
الف) وہ عور تیں جو ایک قیمتی شے کی ما نند تھیں ،لیکن ان کا کوئی عمل و دخل کبھی نہیں رہا ،جیسا کہ اکثر لوگ عورت کوانسان کے بجائے ایک قیمتی شے سمجھتے ہیں جسے گھرکی چا ر دیواری میں حفا ظت سے رکھا جا نا چاہیے ،یہ عورتیں اپنے اسی قیمتی ہونے کے تصور سے مردوں پر مؤ ثر واقع ہوتی رہیں ۔ ایسے معاشروں میں تا ریخ ساز صرف مر د ہو تے ہیں ۔
ب ) بعض معا شروں میں عورت صرف ایک شے ہو نے کے تصور سے با ہر نکل کر معاشرے میں وارد ہو جا تی ہے لیکن اپنی حدو د گم کر بیٹھتی ہے ،سب جگہوں پر موجودگی کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتی ہے ۔ ان معا شروں میں عورت ایک شخص ہے، لیکن بے ارزش بے قدرو قیمت شخص جسے علم ، ارا دہ ، اجتما عی شخصیت اور کام کرنا جیسے عناوین دے کر اسے
(۲) عیسائیت میں یہ غلط فکر رائج ہے کہ مرد ( آدم) اصلیت رکھتا ہے اور عورت ( حوا ء) کو ثا نو ی حیثیت حاصل ہے جب کہ قرآن اس غلط فکر کی نفی کر تا ہے ،اس بارے میں مفصل گفتگو شہید مطہر ی نے حما سہ حسینی ج۱، میں کی ہے دیکھیں ص ۴۰۶ ۔ ۴۰۴
ب ) بعض معا شروں میں عورت صرف ایک شے ہو نے کے تصور سے با ہر نکل کر معاشرے میں وارد ہو جا تی ہے لیکن اپنی حدو د گم کر بیٹھتی ہے ،سب جگہوں پر موجودگی کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتی ہے ۔ ان معا شروں میں عورت ایک شخص ہے، لیکن بے ارزش بے قدرو قیمت شخص جسے علم ، ارا دہ ، اجتما عی شخصیت اور کام کرنا جیسے عناوین دے کر اسے شخصیت دی جاتی ہے اور صرف ایک شے ہونے سے نکا لتے ہیں لیکن دوسر ی طرف سے مرد کے لئے اس کی قدر و قیمت کو ختم کر دیتے ہیں ، عو رت کی طبیعت یہ ہے کہ مر د کے لئے اہمیت کی حامل رہے اگر یہ چیزاس سے لے لی جائے تو اس کے لئے ایک بڑا روحی صدمہ ہوگا ایسے معاشروں میں ا گرچہ معاشرہ بنانے والے مرد و زن ہو تے ہیں ۔لیکن عورت ایک سستی ، کم ارزش جنس بن جا تی ہے ، عورت کو مر د کی نظرمیں وہ احترام و عزت نہیں دی جا تی جو اسے ملنی چاہیے۔
ج ) اسلام کی نظر میں عور ت کی بڑی اہمیت ہے یعنی ایک طرف سے علم مہارت ، شجا عت ، قوت ارادی جیسے معنو ی و انسانی کمالات حتیٰ کہ معنو ی فضا ئل کو اعلیٰ سطح پر رکھتی ہو اور دوسری طرف سے بدکردارنہ ہو ، قرآ ن کر یم نے عو رت کو یہی قدروقیمت دی ہے، مثلاً حضرت حواء کو حضرت آدمؑ کے ساتھ مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ۔ اس درخت کے نزدیک نہ جا نا (۲)حضرت سارا بھی حضر ت ابر اہیم خلیل اللہ کی ما نند فر شتوں کو دیکھتی تھیں اوران کے ساتھ گفتگوکر تی تھیں ،حضر ت مریم کو خدا وند اپنے ہاں سے رزق دیتا جس سے حضر ت زکریا بھی تعجب میں پڑ گئے اور فا طمہ زہر ا ء سلام اللہ علیہ کو کوثر ( خیر کثیر ) کہا جا تا ہے۔
تاریخ اسلام میں ایسی عورت کا بہترین نمونہ حضرت فاطمہ زہر ا ء سلام اللہ علیہا ہیں ، آپ اس بات پر خوشی کا اظہا ر کر تی ہیں کہ آپ کو جب حضو ر اکرم ؐ کی طر ف سے صرف گھر کے کاموں پرمامور کیا گیا ، آپ مسجد میں ایسا خطبہ ارشا د فر ما تی ہیں کہ بو علی سینا جیسے فلاسفہ بھی توحید کے بارے میں ایسے دقیق مطالب انشاء کرنے سے عا جز نظر آتے ہیں لیکن بی بی یہ خطبہ پس پردہ ارشاد فر ما تی ہیں ، یعنی بی بی نے مرد وں کے مقابل اپنے حرم کی حفاظت کرتے ہو ئے ثابت کر دیا کہ عو رت معاشرے میں کس حد تک مؤ ثر ہو سکتی ہے۔
ان دو مقدمات کو سا منے رکھتے ہو ئے عرض کر تے ہیں کہ تاریخ کر بلا صر ف مرد کی
(۳) حماسہ حسینی،ج۱،ص۴۱۱۔۳۹۷،ج۲،ص۲۳۶۔۲۳۱
ان دو مقدمات کو سا منے رکھتے ہو ئے عرض کر تے ہیں کہ تاریخ کر بلا صر ف مرد کی تشکیل دی ہوئی نہیں ہے بلکہ مرد +عورت نے اسے تشکیل دیا ہے لیکن ہر ایک نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے اس میں کردار ادا کیا ہے،مر دو ں کا کردار توواقعہ عاشورہ میں واضح ہے اور عو رتوں کا کردار خصو صاً ثانی زہراء سیدہ زینب علیہ السلام کا کردار عصرعا شو رہ کے بعد صحیح طور سے شر وع ہو ا اور اس کے بعد سب کام آپ کے سپرد ہوئے ۔ آپ نے بھائی کی لاش پر اس اندا ز میں عزا داری کی کہ دوست و دشمن سب رودئیے ، یہ در حقیقت امام حسین علیہ السلام کی پہلی مجلس عزا تھی جو بی بی نے برپا کی ، اب اما م سجا دؑ،عورتوں ، بچوں کی حفا ظت کی ذمہ داری آپ کے سپرد تھی ، دروازۂ کوفہ پر بی بی نے لہجۂ علیؑ اور حیائے فاطمہؑکے ساتھ ایسا خطبہ دیا جس نے لوگوں کے ذہنوں میں مولا علیؑکے اعلیٰ ترین خطبوں کی یاد تازہ کردی اس خطبے میں بی بی نے کوفیوں کو ان کے کئے پر سخت سرزنش کی ۔اسلام ایسی ہی حیاء و عفت اور اسلا می حریم کی حفاظت کرنے والی اجتما عی ترقی یافتہ عورت کی تربیت کرنا چاہتا ہے۔(۳)
مذکو ر ہ بالا گفتگو کے پیش نظر انقلاب عاشو رہ میں اما م حسین علیہ السلا م کا ا پنے اہل بیتؑکو ساتھ لے جا نا کئی لحا ظ سے اہمیت کا حامل ہے۔
۱) عورتوں اور بچوں میں بھی پیغا م رسا نی کی صلاحیت ہے۔
۲) ان کی اس صلاحیت کے علا وہ دشمن ان کے مقابلے سے بھی عا جز ہو تا ہے کیونکہ عورتوں اور بچوں کا خیا ل رکھنا پڑ تا ہے اور اگر انہیں نقصا ن پہنچا ئے گا تو اس سے عمو می جذبات کوٹھیس پہنچے گی اور تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ان کے خلا ف یہ بات ذہنوں میں نقش ہوجائے گی، جیسا کہ وا قعہ کربلا میں دشمنوں نے عو رتو ں اور بچوں پر ظلم کئے جس کی وجہ سے خو د اپنے گھر کے افرا د کے سا منے شر مسارو سرافکندہ ٹھہر ے۔
دوسرا یہ کہ : عرفانی لحا ظ سے اما م حسینؑ نے اپنی اوراپنے ساتھیوں کی پو ری ہستی بغیر کچھ بچائے اخلاص کے ساتھ راہ خدا میں پیش کر دی ، یہ اسی عظیم خلو ص کا ہی اثر تھا کہ پوری تاریخ انسانیت میں واقعہ کربلا مسلم و غیر مسلم سب کو متا ثر کر تا رہا اور قیا مت کے دن بھی آپ کا وہ درجہ ہوگا کہ سب محشر والے اس پر رشک کریں گے اس بارے میں مزید وضاحت کے لئے چند نکات پر تو جہ ضروری ہے۔
پہلا ) پیغام پہنچا نا
اسلام و شریعت کی نظر میں اجتما عی ذمہ دا ری صر ف مر دوں پر عا ئد نہیں ہوتی بلکہ اسلام مسلمان و پابندعورتوں کو بھی حق و باطل اور ولا یت و رہبر یت کے حوالے سے ذمہ دار قراردیتا ہے ،عورتوں پر بھی رہبر حق ( اما م حق) کا دفا ع کر نا لازم ہے اور ناحق حکومتوں اور فاسد و نالائق حکمرانوں پر تنقید کر نا بھی ان کا وظیفہ ہے نیز مختلف اجتما عی کاموں میں بھی انہیں حاضر ہونا چاہیے ۔ حضر ت فا طمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو اما م معصوم ( حضر ت علیؑ) کی حمایت اور حکمرانوں کے غلط و ظالما نہ رویوں کا پردہ چا ک کرنے کی رسم ڈالی تھی اس راہ و رسم کو جاری رکھتے ہوئے خوا تین نے خصوصاً ثا نی زہر اء نے نہضت عاشورہ میں اما م کا قدم قدم پر سا تھ دیا۔
ہر تحریک عمو ماً دو عناصر پر مشتمل ہو تی ہے ایک خو ن اور دوسر ا پیغا م، خو ن سے مراد مسلح قیام ہے، جس میں یقینا مقدس ہد ف کی خا طر جا نیں چلی جا تی ہیں اور پیغا م سے مراد اس انقلاب کے اہدا ف و مقاصدکو لوگوں تک پہنچا نا ہے۔ اما م حسین علیہ السلام کی عاشورائی تحریک میں بھی یہ دونوں عنصر نظر آتے ہیں کیونکہ عصر عا شو رہ تک اما م حسین علیہ السلام کا قیا م پہلے عنصر کا مظہر تھا یعنی مظہر خون و شہا دت تھا اس وقت میں پر چم داری اور رہبریت آپ کے ہاتھ میں تھی،اس کے بعد دوسرا عنصر شر و ع ہو ا اس میں پر چم داری اما م سجا دؑ اور سید ہ زینبؑ کے ہا تھ میں تھی، ان ہستیوں نے اپنے آتشی خطبوں کے ذریعے اما م حسینؑ اور آپ کے ساتھیوں کی شہا دت کا پیغام لوگوں تک پہنچا یا اور اموی پلید حکومت کو رسو ا کر دیا۔
امو ی حکومت نے معا ویہ کے دور میں ہی اہل بیتؑکے خلا ف پر و پیگنڈا خصوصاً شام کے علا قے میں وسیع سطح پر شر وع کیا ہواتھا اس کے پیش نظر اگر اما م حسین علیہ السلام کے باقی ماندہ خاندا ن والے ان کی حقیقت کو لوگوں پر نہ کھو لتے تو دشمن اوراربا ب اقتدا ر اما م حسین علیہ السلام کی عظیم تحریک کو مسخ کر دیتے، جیسا کہ بعض نے اما م حسینؑ کے بارے میں یہ تہمت لگائی ہے کہ اما م حسینؑ ذات الریہ نامی بیماری سے فوت ہو ئے ۔
لیکن یہ آپ کے خا نو ا دہ کی اسا رت کے دو را ن وسیع تبلیغا ت ہی تھیں جنہوں نے دشمن کو اس مقد س نہضت میں تحر یف نہ کرنے دی، یوں عاشو رہ میں اما م حسینؑ کے خاندان کی شرکت کی ضرورت مزید رو شن ہو جا تی ہے جب ہم امو یوں کی شام پر حکومت کے حوالے سے تحقیق کر تے ہیں ۔
دوسرا) بنی امیہ کے پروپیگنڈے کا توڑ
جب سے سر زمین شام کو مسلمانوں نے فتح کیا اس وقت سے شام پر خالد بن ولید اور معاویہ بن ابی سفیا ن حکمرا ن رہے ، وہاں کے رہنے والوں نے نہ رسول ؐ خدا کاکلا م سنا نہ اصحاب کی سیرت سے وا قف ہو ئے اور نہ اسلام کو کم از کم اس طرح پہچانا جیسے وہ مدینہ میں رائج تھا ،اگرچہ سرزمین شام کی فتح میں اصحا ب رسو ل ؐ میں سے ۱۱۳ ،افرا د شر یک تھے یا تدریجا ً وہاں آکر آبا د ہو گئے لیکن ان کے حالا ت زندگی دیکھنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ چند افرا د کو چھوڑ کر باقی سب نے بہت کم مد ت کے لئے حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے استفادہ کیا اور انہوں نے چندایک حدیثوں سے زیا دہ روایا ت بھی نقل نہیں کیں ۔اس کے علا وہ ان میں اکثر افرا د حضرت عمر و عثما ن اور معا ویہ کی ابتدائے حکمرانی کے دوران وفات پا گئے اور اما م حسینؑ کے قیا م کے وقت ان میں سے صرف گیا رہ افرا د زندہ بچے تھے جو شام میں سکو نت پذیر تھے۔ وہ بھی ستریا اسی سال کے بو ڑھے تھے جو
(۱) سید جعفر شہیدی ،قیام امام حسین علیہ السلام ، ص ۱۸۵
(۲) آیتی ، محمد ابراہیم ، بررسی ، تاریخ عاشورہ ، ص ۴۷
جب سے سر زمین شام کو مسلمانوں نے فتح کیا اس وقت سے شام پر خالد بن ولید اور معاویہ بن ابی سفیا ن حکمرا ن رہے ، وہاں کے رہنے والوں نے نہ رسول ؐ خدا کاکلا م سنا نہ اصحاب کی سیرت سے وا قف ہو ئے اور نہ اسلام کو کم از کم اس طرح پہچانا جیسے وہ مدینہ میں رائج تھا ،اگرچہ سرزمین شام کی فتح میں اصحا ب رسو ل ؐ میں سے ۱۱۳ ،افرا د شر یک تھے یا تدریجا ً وہاں آکر آبا د ہو گئے لیکن ان کے حالا ت زندگی دیکھنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ چند افرا د کو چھوڑ کر باقی سب نے بہت کم مد ت کے لئے حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے استفادہ کیا اور انہوں نے چندایک حدیثوں سے زیا دہ روایا ت بھی نقل نہیں کیں ۔اس کے علا وہ ان میں اکثر افرا د حضرت عمر و عثما ن اور معا ویہ کی ابتدائے حکمرانی کے دوران وفات پا گئے اور اما م حسینؑ کے قیا م کے وقت ان میں سے صرف گیا رہ افرا د زندہ بچے تھے جو شام میں سکو نت پذیر تھے۔ وہ بھی ستریا اسی سال کے بو ڑھے تھے جو اجتماعیات میں شرکت پر گو شہ نشینی کو تر جیح دیتے ہیں اور نہ ہی ان کا عا م لوگوں میں کوئی اثر و رسو خ تھا ، لہٰذا اس دور کی جوان نسل حقیقی اسلام سے نا بلد و نا واقف تھی، شا ید ان کی نظر میں اسلام بھی ایک حکومت ہی کا نام تھا جیسا کہ اس سر زمین پر اسلام کے وارد ہو نے سے پہلے وہاں حکومتیں برقرار تھیں ۔ معا ویہ کے دربار کی زیبا ئش مسلمانوں کے اموال میں لوٹ ما ر ، بڑے بڑے محل بنا نا ، لوگوں کو شہربدر کر نا، جیلوں میں ڈالنا اور مخالفوں کو قتل کر وادینا ان کے لئے یہ سب کام عا م سی بات تھی، کیوں کہ یہی نظام وہ پچاس سال پہلے ملا حظہ کر چکے تھے اوریقینا وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ مدینہ میں رسو ل ؐ خدا کا دور بھی ایسا ہی ہو گا ۔ (۱)
معا ویہ نے تقریباً ۴۲ سال شام پر حکومت کی،اس نے اس لمبی مدت میں شام والوں کی اس طرح کی تر بیت کی کہ وہ دینی بصیر ت سے با لکل بے بہر ہ تھے اور معا ویہ کے فرامین و خواہشات کو بے چوں و چر ا تسلیم کر نے والے تھے۔ (۲)
معا ویہ نے اس مدت میں نہ صر ف فو جی و سیا سی لحا ظ سے شا م والوں کو اپنے زیر تسلط رکھا بلکہ فکری و مذہبی لحا ظ سے بھی انہیں اند ھا ، بہر ا اور گمراہ بنا دیا تاکہ وہ انہیں جو چیزبھی احکا م اسلام کے عنو ا ن سے بتلا ئے وہ اسے بغیر کسی چوں چرا کے مان لیں ۔
پلید اموی حکو مت نے اپنے زہر یلے وشینہ توز پر وپیگنڈے کے ذریعے اہل بیت رسول کو شامیوں کی نظر وں میں نا پسندید ہ بنا دیا اور اس کے بر عکس بنی امیہ کو رسول ؐخدا کے قریبی اور رشتہ داروں کے عنو ان سے پیش کیا ،یہاں تک جب عبا سیوں کی حکومت برقرار ہو گئی اور ابو العبا س سفاح خلیفہ بن گیا تو امرا ئے شام میں سے دس افرا د اس کے پاس پہنچے اور اس سے کہا خدا کی قسم مروان ( ا موی حکمر ا ن ) کے قتل کے زما نے تک ہمیں یہ
(۳) ابن ابی الحدید ، شر ح نہج البلا غہ، ج ۷ ص ۱۵۹
(۴) خوارزمی مقتل الحسینؑ ،ج۲ ،ص ۶۱ ،للھو ف، ص ۷۴
پلید اموی حکو مت نے اپنے زہر یلے وشینہ توز پر وپیگنڈے کے ذریعے اہل بیت رسول کو شامیوں کی نظر وں میں نا پسندید ہ بنا دیا اور اس کے بر عکس بنی امیہ کو رسول ؐخدا کے قریبی اور رشتہ داروں کے عنو ان سے پیش کیا ،یہاں تک جب عبا سیوں کی حکومت برقرار ہو گئی اور ابو العبا س سفاح خلیفہ بن گیا تو امرا ئے شام میں سے دس افرا د اس کے پاس پہنچے اور اس سے کہا خدا کی قسم مروان ( ا موی حکمر ا ن ) کے قتل کے زما نے تک ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ رسول ؐ خدا کے بنی امیہ کے علاوہ بھی کوئی رشتہ دارہیں جوآپ کے وارث ہو سکتے ہیں ،اب آپ کے قیام کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے ۔(۳)
لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ بعض مقتل کی کتب میں لکھا ہے کہ جب کربلا کے اسیروں کا قافلہ بازا ر دمشق میں پہنچا تو ایک شخص نے اما م زین العا بد ینؑ کے سا منے آکر یہ گستا خی کی کہ خدا کا شکر ہے جس نے تم لوگوں کو قتل و نا بود کیا اور لوگوں کو تمہا رے شرسے بچالیا،اما مؑ خا موشی سے سنتے رہے جب وہ شا می سب کہہ چکا تو آپ نے قرآن سے اپنی شان میں نازل ہو نے والی آیا ت کی تلا وت فر ما ئی جیسے:
انما یر ید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس اہل بیت ویطھر کم تطھیر ا (احزا ب ۳۳)
اور فر ما یا کہ یہ آیا ت ہما رے بارے میں نا زل ہو ئی ہیں ‘‘
وہ شخص متو جہ ہو گیا کہ اس نے جوکچھ ان قید یوں کے بارے سن رکھا تھا وہ درست نہیں تھا یہ لوگ خارجی نہیں ہیں بلکہ اولاد رسو ل ؐ ہیں وہ شخص اپنے کہے ہو ئے پر پشیما ن ہو ااور تو بہ کی۔(۴)
بنا برین قا فلۂ اسر اء منز ل بہ منز ل اپنے سفر میں خطبو ں اور گفتگو کے ذریعے صورتحال بتلاتاگیا اور سید سجا دعلیہ السلام و ثا نی زہر اء علیہ السلام نے اپنے خطبوں کے ذریعے شام میں بنی امیہ کے سالہا سا ل کے پر وپیگنڈے کے اثر کو دھو ڈالا ۔
تیسرا ) ظالموں کے چہر ے سے نقاب کھینچنا
اما م حسینؑ کے خا ندا ن کی واقعہ کر بلا میں شرکت کی ایک اور و جہ یزید اور اس کی حکومت کی سفا کیت ،بے رحمی اور ظلم کو اجاگرکرنا تھی ،لوگوں کی طر ف سے پیغا م کی قبولیت اور پیغا م لانے والوں کی تبلیغات کے مؤثر ہو نے کی ایک اہم وجہ مظلومیت کا عنصر ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی گر وپ اور جماعتیں اپنے جلوس میں اپنی مظلومیت کو پیش کرتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے اذھا ن پر اثر انداز ہو سکیں ، کیونکہ انسا ن فطر ی طور پر ظالم اور ظلم سے متنفر ہے اور مظلو م کے ساتھ فطری طور پر دلی ہمدر دی پیدا ہوتی ہے، واقعہ کربلا میں صرف مظلوم نمائی نہیں تھی بلکہ حقیقتاً اہل بیت کی قربا نی میں مظلومیت کا عنصر شامل تھا۔ اسیروں نے سید الشہداء اور دوسرے شہیدوں کے پیغا م کو بڑے اچھے طریقے سے لوگوں تک پہنچایا، اس طرح کہ آج بھی ان کی آواز انسانی ضمیر میں گو نج رہی ہے۔
عو رتیں اور بچے جن کے پا س نہ جنگی اسلحہ تھا اور نہ جنگ کی قد ر ت تھی لیکن انہیں بھی انتہائی ظلم و بربریت کے ساتھ ظلم و ستم کا نشانہ بنا یاگیا،حسین علیہ السلام کا چھ ماہ کاشیر خوار اصغر تشنہ لبوں کے ساتھ فرات کے کنا رے سنگ دلی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا، حسین کی چار سالہ بچی سکینہ باپ کے پامال شدہ بدن پر آتی ہے تو اسے طما نچے ما رے جا تے ہیں ۔ مردوں کو شہید کر دینے کے بعد عورتوں کے خیا م کو آگ لگادی جا تی ہے … یہ سب وہ عوامل تھے جو سید الشہداء کے پیغا م کے پہنچانے اور یزید ی حکومت کی حقیقت کے روشن کرنے میں خو ن شہدا ء سے کم تر نہیں تھے، کربلا میں بچوں کی العطش کی آو ازیں اور علی اصغر کا خو ن آلو د کر تہ ہی تو تھے جنہوں نے جنگ کربلا اور کربلا میں بہنے والے خون کو زندہ رکھا۔
اما م سجا دؑنے شام میں جب چا ہا کہ امو ی حکو مت کی حقیقت رو شن کریں تو فرمایا:
’’میرے باپ کو اس طرح شہید کیا گیا ،کہ ان کے بد ن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے اور جیسے پرندے کو پنجر ے میں بند کر کے ما را جاتا ہے اس طرح میرے باپ کو شہید کیا گیا‘‘
یہاں اگر امام سجادعلیہ السلام صرف یہ جملہ کہتے کہ میر ا باپ شہید کر دیا گیا تو شام والے جو کہ اہل بیتؑکی صحیح معرفت نہیں رکھتے تھے ان پر اس جملے کا کوئی خا ص اثر نہ ہو تا،کیونکہ وہ یہی کہتے کہ جنگ میں لوگ مارے جا تے ہیں کیا ہو ا کہ حسینؑ بھی مار ے گئے ۔
اما م سجا دؑ نے فر ما یا میر ے با با کو قتل کر نا ہی چاہتے تھے تو اس طرح کیوں قتل کیا؟ کیوں پرندے کی طرح ان کے بد ن کو ٹکڑ ے ٹکڑے کیا گیا؟ کیوں لب فر ات انہیں پیاساماراگیا؟ کیوں انہیں دفن نہ کیا گیا ، کیوں ان کے خیا م پر حملہ کیا گیا اور کیوں ان کے چھ ماہ کے بچے کو قتل کیا گیا؟ یہ جملے اس حد تک ناقابل برداشت تھے کہ شام میں ایک طوفان برپا کر دیا اور امو ی حکومت کے خلاف ایک فکر ی ثقافتی انقلاب کی بنیا د پڑ گئی ۔
آخری بات یہ کہ یز ید مردوں کے قتل اورعورتوں کو قید ی بنا لینے سے یہ مقصد حاصل کر نا چاہتا تھا کہ اس نہضت کو یہیں دبا دے اور سب پر اس کی حکومت کا ایسا رعب ودبدبہ بیٹھے کہ کوئی بھی اس کے خلاف قیا م کی جرأت نہ کرے، لیکن اس کے بر عکس اما م حسینؑ کے خونی قیا م اور آپ کے خاندا ن کی مظلومانہ پیغام رسا نی نے لوگوں کے دلوں سے ہرخو ف نکال کر انہیں خون حسینؑکے انتقام اوراموی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پرآمادہ کر دیا۔
تیسرا حصہ
سیاسی فکر

علی رضا محمدی