Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، مومن کو اپنی ذات پر تسلط ہوتا ہےوہ اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو رکھتاہے۔ غررالحکم حدیث 2204

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

بی بی شہر بانو

سوّم کی بیٹی تھیں ؟ اور کیا آپ کربلا میں موجود تھیں ؟ کیا یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ ا ما م حسینؑ کے حکم سے ایر ان کی طرف چلی آئیں ؟ کیا تہران کے نزدیک جو آرامگا ہ بی بی شہر بانو کے نا م سے معر وف ہے صحیح ہے؟
(۱) آقا ی در بند ی اکسیر العبادات فی اسرا ر الشہا دات ،ج۳ ص ۱۱۰
(۲) حوالہ سابق
(۳) سید جعفر شہید ی ، زندگا نی علی بن الحسینؑ
جوا ب:بعض متا خر کتا بوں ( جو خو د یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے معتبر تار یخو ں سے نقل کیا ہے) میں لکھا ہے کہ بعض معتبر تا ریخو ں میں ملتا ہے کہ شہر با نویہ جو کہ کربلا میں حاضر تھیں اور جنا ب قاسم کی زوجہ فاطمہ کی والدہ تھیں ۔ اما م حسینؑ کے حکم کے مطا بق اما م کے گھوڑے پر سوا ر ہوئیں اور وہ گھوڑا اذن خدا کے ساتھ کچھ ہی دیر میں شہر رے پہنچ گیا ۔ آپ وہیں ایک پہا ڑ کی غارمیں سید عبدا لعظیم الحسینی کے نزدیک مد فون ہوئیں ۔ (۱)
اسی کتا ب میں مرقوم ہے کہ لوگوں میں یہ بات مشہو رہے کہ پہا ڑ کی چوٹی پر عورت کے مقنع کی طرح کا کپڑ ا نظر آتا ہے کہ کوئی مرد اس کے نزدیک نہیں جا سکتا اور حاملہ عورت کے پیٹ میں بیٹا ہو تو وہ بھی اس کے قریب نہیں جا سکتی (۲)یہ بات مشہو ر ہو چکی ہے کہ جب بی بی رے کے نزدیک پہنچیں تو ہو( خدا) سے مدد مانگنا چاہی ، غلطی سے منہ سے کوہ نکل گیا، وہیں پہاڑ نے آپ کو اپنے اندر لے لیا ۔ (۳)
(۴) سید جعفر شہید ی ، زندگا نی علی بن الحسینؑ ص ۱۰ ، ۱۱
(۵) مقالہ حول سید ہ شہر بانو ، نو شتہ شیخ محمد ہا دی یو سفی ،مندرج در مجلہ رسالۃ الحسین سال اول شما رہ ۲۵،ربیع الاول ۱۴۱۲
(۶) بحارالا نوار ،ج۴۶ ،ص ۸ ۔ ۱۳
(۷) محمود د رضا ، افتخا ر زا دہ ، شعو بیہ فاسیو نالیسم ایران ،ص ۳۰۵ ، یہ بلا ذری کی انسا ب الا شراف ، ابن سعد کی طبقات ، دینوری کی المعارف اور کامل سے نقل کر تے ہیں
(۸) سید جعفر شہید ی ، زندگا نی علی بن الحسینؑ ،ص ۱۲
(۹) بحا ر ،ج ۶،ص۹،حدیث ،۱۲
(۱۰) اصول کافی، ج۲ ، ص ۳۶۹
(۱۱) تا ریخ شہر بانو کی بحث کی تفصیلا ت کے لئے دیکھیں ، شعوبیہ نالیسم ایرانی ،ص ۲۸۹۔ ۳۳۷
شاید بعض کے نزدیک اس افسا نے کا مصنو عی ہو نا اور اما م سجاد علیہ السلام کی والد ہ گرا می کا کربلا میں حا ضر نہ ہو نا واضح امور میں سے ہو کہ جسے زیادہ تحقیق کی ضرور ت نہ ہو لیکن چونکہ اس بارے میں عام لوگوں کے درمیا ن بلکہ پڑ ھے لکھے افرا د کے درمیان بہت سی باتیں مشہو ر ہو چکی ہیں لہٰذا ہم اس با رے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں ۔
اما م سجا د علیہ السلا م کی والدہ گرامی
شیعہ و سنی کتا بوں کی طرف رجو ع کر یں تو پتہ چلتا ہے کہ ائمہ معصومینؑمیں سے سب سے زیادہ اختلا ف امام سجا دعلیہ السلام کی والد ہ کے نام کے بارے میں ہے ۔ بعض محققین نے ان کتب کی طرف رجوع کر کے چود ہ نام (۴)اور بعض نے پندرہ نام (۵)ذکر کئے ہیں (۶)یہ سب نام یہ ہیں :
۱ شہر بانو
۲ شاہ ِزنان
۳ جہان شاہ
۴ شہربانویہ
۵ شہ زنان
۶ شہر ناز
۷ جہاں بانویہ
۸ خولہ
۹ برّہ
۱۰ سلافۃ
۱۱ غزا لۃ
۱۲ سلامۃ
۱۳ حرار
۱۴ مریم
۱۵ فاطمہ
سنی کتب میں سلافہ ، سلامہ اور غزالہ زیادہ ذکر ہو ئے ہیں ۔(۷)جب کہ شیعہ کتب خصوصاً روایات کی کتا بوں میں شہر بانو زیادہ مشہور ہے۔ بعض محققین (۸)کے مطا بق سب سے پہلے یہ نام محمد بن حسن صفا ر قمی ( متو فیٰ ۲۹۰ ہجری) کی بصائر الدرجات میں آیا ہے۔ (۹)بعد میں محدث شیخ کلینیؒ نے یہ روا یت کافی میں نقل کی (۱۰)بقیہ کتب نے یا انہی دو کتابوں سے استفا دہ کیا یا پھر ضعیف و غیر معتبر روایا ت کو ذکر کیا ۔(۱۱)
اس روایت میں یوں آیا ہے ۔جب یزدگرد کی بیٹی قید ی بنا کر عمر کے پا س لائی گئی تو مدینہ کی عو ر تیں اسے دیکھنے کے لئے اُمڈ آئیں جب آپ کو مسجد میں لایا گیا تو آپ کی
(۱۲) ترجمہ سید جوا د مصطفو ی، اصول کافی، ج۲ ، ص ۳۶۹
(۱۳) آیۃ اللہ خوئی، معجم رجا ل الحدیث، ج۱ ، ص ۳۰۲ ، و ج ۱۳ ص ۱۰۶
(۱۴) حوالہ سابق
اس روایت میں یوں آیا ہے ۔جب یزدگرد کی بیٹی قید ی بنا کر عمر کے پا س لائی گئی تو مدینہ کی عو ر تیں اسے دیکھنے کے لئے اُمڈ آئیں جب آپ کو مسجد میں لایا گیا تو آپ کی نورانیت سے مسجد چمک اٹھی، عمر نے جب آپ پرنظر کی تو آپ نے چہر ہ چھپا ئے ہو ئے کہا اف بیر وج بادا ہرمز (وائے ہر مز کا مقد ر تاریک ہو گیا ) عمر نے کہا یہ لڑ کی مجھے گالیاں دے رہی ہے توحضر ت علی علیہ السلام نے فرما یا یہ تمہیں گا لیاں نہیں دے رہی پھر عمرنے اسے اختیا رکرناچاہا تو حضر ت امیرؑنے فرمایا تمہیں یہ حق نہیں ہے ، تم اسے یہ اختیاردو کہ وہ مسلما نوں میں سے جسے چاہے منتخب کرلے، تم اسے اس کے غنیمت کے حصے میں سے شما ر کر لینا عمر نے اسے یہ اختیار دیا تو اس نے آکر ہاتھ اما م حسینؑ کے سر پررکھ دیا۔ حضر ت علیؑنے اس سے فرمایا تمہا ر ا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا جہان شاہ ۔ تو آپ نے فرمایا بلکہ شہر بانو، اس کے بعد اما م حسینؑ سے فرما یا اے ابا عبداللہ اس لڑکی سے تمہا ر اجو لڑکا پیدا ہو گا وہ رو ئے زمین پر سب سے بہتر ہو گا ، اور حضر ت علی بن الحسین علیہ السلام ان سے متولد ہوئے حضرت اما م زین العا بدینؑکو ابن الخیر تین ( دو برگزیدہ کا بیٹا)کہتے تھے کیونکہ عرب سے خدا کا برگزیدہ جناب ہا شم تھے اورعجم سے فارسی ۔(۱۲)
اس رو ایت میں سند کی بحث بھی ہے اور متن کی بھی،اس کی سند میں ابرا ہیم بن اسحاق احمر (۱۳) اور عمر و بن شمر موجود ہیں جو کہ غلوّ سے متہم تھے اور شیعہ رجالی علما ء کی طرف سے ان کی تو ثیق نہیں ہوئی ۔ (۱۴)اور متن کے لحا ظ سے بھی اس رو ایت پر در ج ذیل اشکالات کئے گئے ہیں ۔
(۱۵) تا ریخ یعقو بی ،ج۲ ، ص ۳۰۳
(۱۶) تاریخ قم ،ص ۱۹۵
(۱۷) اصول کافی، ج۲ ص ۳۶۹
(۱۸) بحارالا نوار، ج۴۶ ص ۹
(۱۹) عیو ن الاخبا ر الرضاؑ،ج۲ ، ص ۱۲۸
(۲۰) الا ر شا د ،ص ۴۹۲
(۲۱) زندگا نی علی ابن الحسینؑ ،ص ۱۲
(۲۲) شعو بیہ ،ص ۳۰۵
۱) یز د گرد کی کسی بیٹی کا قید ہونا سخت مشکو ک ہے۔
۲) ایسی لڑ کی کا عمر کے دور میں قید ہو نا اور پھر اما م حسینؑ کے ساتھ اس کی تزویج بھی ناقابل قبو ل ہے۔
۳) اس روا یت کے علا وہ کسی معتبر شیعہ کتاب میں اما م زین العا بدین علیہ السلام کا لقب ابن الخیر تین ذکر نہیں ہوا۔ لگتا ہے یہاں ایرانی تعصب کا م کر گیا ہے کہ ساسانی نسل کو نسل پیغمبر ؐ سے ربط دے کر امامؑ کو خیر اہل الا رض کے طو ر پر مشہو ر کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ جن روایات میں شہر بانو کا نام مذکو ر ہے ان پر ان جیسے اشکا لات باعث بنتے ہیں کہ ان روایات کو حدیث سا زوں کی کار ستا نی قرار دیتے ہو ئے رد کر دیا جائے اور اما م علیہ السلام کی والدہ کا نام شہر بانوبھی مو ر دقبول قرار نہ پا ئے۔
اما م سجا د علیہ السلام کی والدہ کے نسب کے حوالے سے بھی تاریخ و حدیث کی کتب میں اختلاف پایا جاتا ہے :
یعقوبی ؒ( متوفیٰ ۲۸۱ ہجری ) (۱۵) محمد بن حسن قمی ؒ (۱۶)
کلینیؒ(متوفیٰ ۳۲۹ہجری ) (۱۷) محمد بن حسن صفا ر قمیؒ( متو فیٰ ۲۹۰ ہجری ) (۱۸)
شیخ صدو قؒ ( متوفیٰ ۳۸۱ ہجری ) (۱۹) شیخ مفیدؒ ( متو فیٰ ۴۱۳ ہجری) (۲۰)
آپ کو یزدگردکی دخترشما ر کرتے ہیں اگرچہ آپ کے نام پریہ سب بھی متفق نہیں ہیں ۔یہ نسب متاخرین شیعہ کے در میا ن کافی شہر ت حاصل کر چکا ہے یہاں تک کہ کسی دوسرے نظریئے کی گنجائش ہی نہیں رہی (۲۱)اس قو ل کے مقا بل کچھ اور اقوا ل بھی قد یم و جدید کتابوں میں ذکر کئے گئے ہیں ، بعض نے سندی، بعض نے سیستا نی اور بعض نے آپ کا کابلی ہونا ذکر کیا ہے (۲۲)بعض نے آپ کے ایرانی والد کے نام سبحان ، نو شجان اور شیرویہ وغیرہ ذکر کئے ہیں ۔(۲۳)اس نسب کی تحقیق کے لئے ان روایات کی سند ی بحث پر
(۲۳) حول السیدہ شہر با نو، ص ۲۸
(۲۴) شعوبیہ، ص ۳۲۴آپ کو یزدگردکی دخترشما ر کرتے ہیں اگرچہ آپ کے نام پریہ سب بھی متفق نہیں ہیں ۔یہ نسب متاخرین شیعہ کے در میا ن کافی شہر ت حاصل کر چکا ہے یہاں تک کہ کسی دوسرے نظریئے کی گنجائش ہی نہیں رہی (۲۱)اس قو ل کے مقا بل کچھ اور اقوا ل بھی قد یم و جدید کتابوں میں ذکر کئے گئے ہیں ، بعض نے سندی، بعض نے سیستا نی اور بعض نے آپ کا کابلی ہونا ذکر کیا ہے (۲۲)بعض نے آپ کے ایرانی والد کے نام سبحان ، نو شجان اور شیرویہ وغیرہ ذکر کئے ہیں ۔(۲۳)اس نسب کی تحقیق کے لئے ان روایات کی سند ی بحث پر تو اکتفا نہیں کیا جاسکتا ہے چو نکہ ان اقوال میں سے کسی قول کی بھی مستحکم سند موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اکثر تا ریخی کتب ( جیسے یعقوبی) نے یہ مطالب سند ذکرکئے بغیر بیان کئے ہیں ۔
لہٰذا ان اقوا ل و رو ایات کے متن کے لحا ظ سے ان کی تحقیق کر نا ہو گی اور اس لحاظ سے درج ذیل اشکا لات پیش آتے ہیں :
۱) سب سے اہم اشکا ل ان اقو ا ل و رو ایا ت کا نا م کے لحا ظ سے اختلا ف ہے اوران کتب میں مختلف نام ذکر ہو ئے ہیں جیسے حرار ، شہر بانو ، سلاخہ اورغزالہ وغیرہ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان رو ایات کے جعل کر نے والے ایک مشتر کہ مقصد و ہد ف رکھتے تھے اور وہ وہی ایرانی تعصب اور ایرانیوں اور ائمہؑ کے درمیا ن نسب کے ذریعے ارتبا ط پیدا کرنے کی کوشش تھی، تاکہ اپنے گما ن کے مطا بق سا سا نی با د شاہوں سے شا ہی تخم اور خدائی سبب ائمہؑکی طرف منتقل کر سکیں ـ۔
۲) روایا ت ان کی اسا رت کے زما نے کے لحا ظ سے بھی اختلا ف رکھتی ہیں ، بعض میں حضر ت عمر کا دور ذکر ہو ا ہے اور بعض میں عثمان کا دور اور بعض میں جیسے شیخ مفیدؒ ، اسے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے دور میں ذکر کیا ہے ۔(۲۴)
۳)تا ریخ طبری اور الکا مل ابن اثیر جیسی کتابیں جن میں ایرا نیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگیں سال بہ سا ل ذکر کی گئی ہیں اور ان میں یزدگردجہاں جہاں بھاگ کر گیا ان سب مقا ما ت کا تذکر ہ کیا گیا ہے لیکن ان کتابوں میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ اس کی اولا د میں سے کسی کو قیدی بنا یا گیا ہو ۔ حالا نکہ یہ مسئلہ دوسرے کئی جزئی واقعات سے اہم تھا جن کے بارے میں ان کتابوں میں لکھا گیا ہے۔
(۲۵) شعوبیہ ،ص ۳۰۴
(۲۶) الکا مل فی التا ریخ، ج۲ ص ۵۷۰
(۲۷) حول السیدہ شہر بانو ،ص ۲۸
۴)بعض سا بقہ مصنفین جیسے مسعو دی جب یز د گرد سوم کی اولاد کا ذکر کر تے ہیں تو اس کی بیٹیوں کے نام ادرک ، شا ہین اور مردآوندبیان کرتے ہیں جو کہ پہلا تو یہ کہ اما م سجاد ؑ کی والدہ ماجدہ کے مذکورہ ناموں میں سے کسی ایک سے بھی میل نہیں کھا تے اوردوسر ا یہ کہ کہیں بھی ان لڑکیوں کی قید و اسا رت کی بات نہیں کر تے ۔ (۲۵)
۵) سب سے اہم تا ریخی دستا ویز جس پر اما م سجا د علیہ السلام کی والدہ کے نام کے حوالے سے اعتما د کیا جا سکتاہے وہ منصو ر کے محمدبن عبدا للہ المعرو ف نفس زکیہ کے نام خطو ط ہیں جو کہ مدینہ میں علوی و طالبی ( اولاد ابو طا لب) مخالفین کا رہبر تھا اور اس کے اور منصو ر کے درمیان ہمیشہ چپقلش رہتی تھی ۔ نفس ذکیہ کے نسبی افتخا رکے دعو ے کو رد کر تے ہو ئے ایک خط میں منصور اسے لکھتا ہے:
ما ولدفیکم بعد وفاۃ رسو ل ؐ اللّٰہ افضل من
علی ابن الحسین وھو الا م ولد(۲۶)
’’یعنی رسو ل ؐ خدا کی رحلت کے بعد تم لوگوں کے درمیا ن علی بن الحسینؑسے افضل شخصیت متو لد نہیں ہوئی حالا نکہ وہ بھی ام ولد کنیز سے متو لد ہو ئے‘‘اور منصورکی اس با ت کہ علی بن الحسینؑ ام ولد کنیز کے بیٹے تھے نہ محمد نفس زکیہ نے اعتراض کیا اور نہ کسی اور نے اگر آپ ایرا نی شہزا دی کے بیٹے ہو تے توکوئی تو اسے ٹوکتا ۔ اگر یہ داستا ن سچ ہو تی تو خو د محمد نفس زکیہ اس کا حوا لہ دیتے ۔ ان سب قر ائن سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اما م زین العابدین علیہ السلام کی والدہ کو اس نا م و نسب کے ساتھ ایرانی قرار دینا ایک مصنو عی اورمن گھڑت روایت ہے جس میں دوسری رو ایا ت سے صرف نظر کیا گیا ہے جن میں آپ کی والدہ کو سند سے یا کابل سے قرا ر دیا گیا ہے حالا نکہ قرن سو م سے پہلے تک تو اکثر ناقلین
(۲۸) عیون اخبار الرضاؑ ، ج۲، ص ۱۲۸
(۲۹) بحا ر الا نوار ، ج ۴۶،ص ۸
(۳۰) شعوبیہ ،ص ۳۲۶
’’یعنی رسو ل ؐ خدا کی رحلت کے بعد تم لوگوں کے درمیا ن علی بن الحسینؑسے افضل شخصیت متو لد نہیں ہوئی حالا نکہ وہ بھی ام ولد کنیز سے متو لد ہو ئے‘‘اور منصورکی اس با ت کہ علی بن الحسینؑ ام ولد کنیز کے بیٹے تھے نہ محمد نفس زکیہ نے اعتراض کیا اور نہ کسی اور نے اگر آپ ایرا نی شہزا دی کے بیٹے ہو تے توکوئی تو اسے ٹوکتا ۔ اگر یہ داستا ن سچ ہو تی تو خو د محمد نفس زکیہ اس کا حوا لہ دیتے ۔ ان سب قر ائن سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اما م زین العابدین علیہ السلام کی والدہ کو اس نا م و نسب کے ساتھ ایرانی قرار دینا ایک مصنو عی اورمن گھڑت روایت ہے جس میں دوسری رو ایا ت سے صرف نظر کیا گیا ہے جن میں آپ کی والدہ کو سند سے یا کابل سے قرا ر دیا گیا ہے حالا نکہ قرن سو م سے پہلے تک تو اکثر ناقلین نے انہیں سندیاکابل کی کنیز شمار کیا ہے۔ (۲۷)
امام سجا دؑ کی والد ہ کا کربلا میں موجود نہ ہو نا
اس بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ سا بقہ شیعی کتب جن میں اما م سجا د علیہ السلام کی والد ہ کی اسیری کے بعد والی زند گی کا ذکر ہو اہے، ان سب میں لکھا ہے کہ آ پ کی وفا ت اس وقت ہو گئی تھی جس وقت امام سجا دؑ کی ولا دت باسعا دت ہو ئی ۔(۲۸)اور ان میں لکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی ایک کنیز دائی کے طور پرامام سجا دؑ کی پرو رش کی ذمہ داری نبھا تی رہی اور لوگ اسے آپ کی والدہ سمجھتے تھے، جب آپ نے اس کی آگے شا دی کر دی تو تب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ تو آپ کی دائی تھی نہ کہ والد ہ تھی۔ (۲۹)لہٰذا شیعی معتبر کتب کے لحا ظ سے قطعی طور پر اما م پاکؑکی والدہ کا کربلا میں موجود نہ ہو نا ثابت ہے، چاہے آپ کا نام و نسب کچھ بھی ہو ۔
بی بی شہر با نوکا مقبرہ
سا بقہ مطا لب سے بھی اور ا س با ت سے بھی کہ اما م سجا د علیہ السلام کی والد ہ آپ کے تولد کے ساتھ وفا ت پا گئیں اس بات کا جو ا ب بھی رو شن ہو جا تا ہے اور ہما رے ہم عصر محققین نے قطعی دلیلوں سے یہ ثا بت کر دیا ہے کہ شہر رے کے مشرق میں کوہ بی بی شہر بانو پر جو مقبر ہ ہے اس کا اما م سجاد علیہ السلام کی والد ہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔ یہ عما رت بعد والی صدیوں میں بنا ئی گئی ہے جیسا کہ اس مقبر ہ کے تعویز پر تعمیر کی تا ریخ ۸۸۸ ہجری لکھی ہوئی ہے اور اس عما ر ت کا دروازہ جس طرح کا میناکاری شد ہ ہے یہ صفو ی دور کا ہے اوراس پر اضافے قا جاری دور کے فن کاری نمونے ہیں ـ ۔ (۳۰)
شیخ صد وق سا لہا سا ل شہر رے میں رہا اور اس سے مکمل وا قفیت رکھتے تھے، ان کا
(۳۱) اس مقبر ہ کے اما م سجا دؑ کی والدہ سے مر بو ط نہ ہو نے کے حوالے سے دیکھئے ـ: باشان (کریمیان ) و دانشنامہ ایران (کلہ شہر با نو) واسلام
شیخ صد وق سا لہا سا ل شہر رے میں رہا اور اس سے مکمل وا قفیت رکھتے تھے، ان کا اس مقبرے کے بارے میں اپنی کتابوں میں ذکر نہ کر نا بھی اس بات کی تا ئید کرتا ہے کہ یہ مقبرہ شیخ صدو ق کے زما نے یعنی چو تھی صدی ہجر ی میں موجود نہیں تھا۔ دوسرے لکھنے والے جنہوں نے شاہ عبدا لعظیم اور رے میں مدفون دوسری ہستیوں کا تذکر ہ کیا ہے انہو ں نے بھی ایسے کسی مقبرے کا تذکر ہ نہیں کیا۔ لہٰذا احتما ل یہی ہے کہ بعد کے زما نوں میں کوئی نیک بی بی جن کا نام شہر بانو ہو گا یہاں دفن ہو ئی ہو اورپھر مد تیں گذرنے کے بعد لو گوں نے غلطی سے اسے اما م سجا دعلیہ السلام کی والدہ سمجھنا شر وع کر دیا ہو چونکہ اس کا نام بھی شہر بانو تھا اور آپؑکی والدہ بھی شہر بانو کے نام سے مشہور ہو چکی تھیں یا بعض نے جان بو جھ کر لوگوں کے ذہنوں میں ایسی بات ڈالی ہو اور مختلف مقاصد کے پیش نظر اس بات کو تقویت دیتے رہے ہوں ۔ (۳۱)