امام زین العابدین علیہ السلامدانشکدہسیرت اھلبیتمقالات

صحیفہ سجادیہ میں امامت اور مہدویت کا تعارف

(تحریر: امیر محسن عرفان)

دعا خداوند متعال کے قرب کا ذریعہ اور انسانوں کو گناہوں سے پاک کرنے والی ہمیشہ جاری نہر کا نام ہے۔ دعا پروردگار عالم سے آگاہانہ، مخلصانہ اور خاشعانہ رابطہ ہے۔ دعا زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے ذریعے سے پہلے بندگی اور عبودیت کا ذریعہ ہے۔ دعا مادی ضروریات اور حاجات برطرف کرنے سے پہلے قلبی ضروریات اور روحانی حاجات پورا کرتی ہے۔ دعا اور مناجات کی وادی میں امام زین العابدین علیہ السلام کی دعاوں پر مشتمل کتاب صحیفہ سجادیہ ایک خاص مقام کی حامل ہے۔ بزرگ شیعہ علماء نے اس کتاب کو "اخت القرآن”، "انجیل اہل بیت علیہم السلام” اور "زبور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم” جیسے ناموں سے نوازا ہے۔ مصر کے معروف عالم دین اور مفسر قرآن کریم علامہ طنطاوی کو جب تحفے کے طور پر صحیفہ سجادیہ کا ایک نسخہ بھیجا گیا تو انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اب تک ہم اس عظیم کتاب سے آشنا نہیں ہوئے تھے جو درحقیقت نبوت کی میراث میں سے ہے۔ میں جتنا بھی ان دعاوں پر غور کرتا ہوں اسے مخلوق کے کلام سے برتر اور خالق کے کلام سے کم تر پاتا ہوں۔”

امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا زمانہ ایسا دور تھا جب دینی اقدار تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی تھیں۔ ایسے حالات میں جب لوگوں کی دینی تربیت زوال کا شکار ہو چکی تھی اور جاہلانہ اقدار واپس لوٹ چکی تھیں امام زین العابدین علیہ السلام نے دعا کے ذریعے خدا سے انسانوں کے تعلق کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی نظر میں دعا صرف مادی یا غیر مادی ضروریات کی برطرفی کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اس میں جامعیت پائی جاتی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے طاغوتی طاقتوں سے مقابلے اور دین کی تبلیغ کیلئے جو طریقہ کار اپنایا وہ دعا کی شکل میں دینی حقائق اور تعلیمات بیان کرنا تھا۔ صحیفہ سجادیہ میں جن اہم دینی موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے ان میں سے ایک امامت کا موضوع ہے۔ امامت کا مفہوم اپنے اندر خلافت اور رہبری کے قانونی جواز کے علاوہ عصمت کے الہی پہلو اور انبیاء الہی خاص طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم سے برخورداری جیسے پہلووں کو سموئے ہوا ہے۔

صحیفہ سجادیہ سے امامت کا مفہوم اخذ کرنا دو پہلووں سے اہم ہے: ایک یہ کہ امام کی حقیقی معرفت امام کے ذریعے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور دوسرا یہ کہ امامت کے مقام کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج ہمارے زمانے کے امام حضرت ولی عصر عج ہیں۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی مختلف دعاوں میں ائمہ معصومین علیہم السلام کا تعارف کروایا ہے اور لوگوں کی حقیقی امام کی پہچان کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 47 میں امام زین العابدین علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد میں سے ان پیشواوں کا ذکر کرتے ہیں جو ہدایت کے بنیادی ترین ستون ہیں اور ایمان کی مضبوط ترین پناہ گاہیں ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

"رب صل علي اطائب اهل بيته الذين اخترتهم لامرك و جعلتم خزنته علمك، و حفظة دينك، و خلفائك في أرضك”
ترجمہ: اے میرے پروردگار، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کے پاکیزہ افراد پر صلوات بھیج، وہ جنہوں تو نے اپنے دین کے امر کیلئے انتخاب کیا ہے اور انہیں اپنے علم کا خزانہ اور دین کا محافظ اور زمین پر اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام اسی دعا میں آگے جا کر اس بات پر تاکید کرتے نظر آتے ہیں کہ امامت کا سلسلہ کسی ایک زمانے تک محدود نہیں اور ہر زمانے میں جاری و ساری ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
"اللهم انك أيدت دينك في كل اوانٍ بامام اقمته علما لعبادك، و مناراً في بلادك بعد ان وصلت حبله بقبلك، و جعلته للذريعة الي رضوانك، و افترضت طاعته، و حذّرت معصيته، و أمرت امتثال اوامره، و الانتهاء عند نهيه، و الّا يتقدمه متقدم و لا يتأخر عنه متأخر”
ترجمہ: خدایا تو ہے جس نے ہر زمانے میں ایسے پیشواوں کے ذریعے جنہیں اپنے بندوں کیلئے رہنما اور اپنے شہروں کیلئے مشعل قرار دیا ہے اپنے دین کی نصرت فرمائی ہے، اس کے بعد کہ ان کے عہد کو اپنا عہد قرار دیا اور انہیں اپنی خوشنودی کا سبب بنایا اور ان کی اطاعت واجب قرار دی اور لوگوں کو ان کی نافرمانی سے منع کیا اور حکم دیا کہ ان کے دستورات کی اطاعت کی جائے اور جن امور سے وہ منع کریں انہیں ترک کر دیا جائے اور حکم دیا کہ کوئی ان سے نہ تو آگے بڑھے اور نہ ہی ان سے پیچھے رہے۔
دعا کے اس حصے سے امامت اور دینی پیشوا کے تسلسل کی ضرورت کا فلسفہ سمجھ آتا ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر زمانے میں الہی پیشوا اور امام معصوم کی ضرورت ہے۔ یہ پیشوا خداوند متعال سے منسوب ہونے چاہئیں اور خدا کی جانب سے ان کی تصدیق ضروری ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام اپنی اس دعا میں عصر غیبت میں امام معصوم علیہ السلام کے ظہور کے انتظار کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اللهم وصل علي اوليائهم المعترفين بمقامهم، المتبعين منهجهم، المقتفين اثارهم، المجتهدين في طاعتهم، المنتظرين أيامهم، المادّين اليهم أعينهم، الصلوات المباركات الزاكيات النّاميات الغاديات الرائحات”
ترجمہ: اے میرے پروردگار، ائمہ معصومین کے محبین پر درود بھیج جو ان کے اعلی مقام کا اعتراف کرنے والے ہیں اور ان کی راہ پر عمل پیرا ہیں، ان کی اطاعت میں جدوجہد کرتے ہیں، ان کی حکومت کا انتظار کرنے والے ہیں اور ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ مبارک اور پاکیزہ درود جو صبح اور شام بڑھتا رہتا ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے دعا کی زبان میں اگلی نسلوں کو ائمہ معصومین علیہم السلام کی مقدس حکومت کی تعلیم دی ہے اور ان کی محبت اور عمل کے درمیان گہرا تعلق قائم کیا ہے۔ اگرچہ امام زین العابدین علیہ السلام نے ظالم حکمرانوں کے خلاف مسلح جدوجہد نہیں کی لیکن اپنی تعلیمات میں ظلم دشمنی پر مبنی سوچ اور عقیدہ پھیلایا ہے اور دین کی حکومت اور الہی پیشواوں کی رہبری پر زور دیا ہے۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button