پیامبر ؐ اور مومنین پر خدا کی صلوات

سوال ۹۴ : ۔ اس بات کی تاکید کیوں کی گئی ہے کہ دعا سے پہلے اور بعد میں صلوات پڑھیںنیز خدا کے پیامبر ؑ اور مومنین پر صلوات بھیجنے میں فرق کیا ہے؟
آنحضرت ؐ پر صلوات کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ! پیامبر ؐ اور ان کی آل پر اپنی رحمت نازل فرما،جب آنحضرت ؐ پر رحمت نازل ہوتی ہے تو دوسروں تک بھی پہنچتی ہے کیونکہ وہ مجریٰ فیض ہیں ،اگر کوئی خیر دوسروں تک پہنچنا چاہے تو پہلے رحمت ِخاصہ کے عنوان سے آنحضرت ؐ پر نازل ہو اور پھر دوسروں تک پہنچے۔ (۱)
حضرت علیؑ فرماتے ہیں دعایا اپنی حاجت کو رسول خدا ﷺ پر صلوات میں گھیر کر (لپیٹ کر)خدا سے مانگوکیونکہ آنحضرت ﷺ پر صلوات دعائے مستجاب ہے اور چونکہ صلوات کے ساتھ تم نے اپنی حاجت طلب کی ہے، ایسا نہیں کہ خداوندِمتعال دو حاجتوں میں سے ایک کو قبول کرے اور دوسری کو رد کرے۔ (۲)
امام زین العابدینؑ صحیفۂ سجادیہ میں دعا کرنے اور حاجت طلب کرنے کا طریقہ ہمیں بتاتے ہیں، آپ ؑ کی دعائوں کے بہت سے فقروں میں صلوات دیکھی جا سکتی ہے جو بات بھی خدا سے چاہتے ہیں، اس سے پہلے یا بعد میں صلوات ہے کیونکہ خداوندمتعال صلوات کی وجہ سے اس کے ہمراہ دعا کو بھی قبول کرتا ہے۔
وہ صلوات جو خدا و ملائکہ آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور مومنین پر بھی نازل کرتے ہیں، مومن ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ خدائے سبحان و فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں، سورہ مبارکہ احزاب میں دونوں باتیں بیان ہوئی ہیں یعنی پیغمبر ﷺ پر خدا و ملائکہ کی صلوات اور خدا و ملائکہ کی طرف سے مومن پر صلوات۔
خدا کی صلوات جو کہ اس کے فعل کی صفت ہے وہ وہی نورانی کرنا ہے (رحمت بھیجنا ہے) قولِ خدا ہی فعلِ خدا ہے، جب انسان کو توفیق نصیب ہوتی ہے کہ اپنے قلب کی فضا میں تاریکی محسوس نہ کرے بلکہ نورانیت دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور ملائکہ کی طرف سے صلوات اسے نصیب ہوتی ہے۔
خداوندِمتعال پیغمبر ﷺ کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ(۳)
اللہ اور اس کے فرشتے یقیناً نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔
جب خدا اپنے پیغمبر ﷺ پر درود بھیجنا چاہے تو تمام فرشتوں کو اپنے ہمراہ ذکر کرتا ہے جیسے کوئی معزز مہمان شہر میں آئے تو جو شخصیت اس کا اچھے طریقے سے استقبال کرنا چاہے وہ اپنے تمام دوستوں اور جاننے والوں کو ساتھ لے کر اس کی ملاقات کے لیے جاتے ہیں لیکن
خداوندِمتعال مومنین کی بزرگی اور ان پر صلوات کے بارے میں فرماتا ہے:
ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْْکُمْ وَمَلَائِکَتُہُ لِیُخْرِجَکُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّور(۴)
وہی تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعا کرتے ہیں) تاکہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائے۔
یعنی خدا الگ اور ملائکہ الگ مومنین پر درود بھیجتے ہیں۔
ایک اور فرق اس میں یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے بارے میں نہیں فرمایا کہ ہم ان پر درود بھیجتے ہیں تاکہ اسے ظلمت و تاریکی سے نکال کر نور تک پہنچائیں کیونکہ وہ خود نور ہے اور آیت شریفہ :
وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاس(۵)
اور ہم نے اسے روشنی بخشی جس کی بدولت وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔
کا مصداقِ کامل ہیں لیکن مومنین کے بارے میں فرمایا: خدا تم پر درود بھیجتا ہے اور فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے، معلوم ہوتا ہے خدا کی صلوات یعنی نورانی کرنا اور اگر یہ فیض منقطع ہو جائے اور خداوندمتعال کسی پر درود نہ بھیجے تو وہ تاریکی میں باقی رہے گا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو اس معیار پر پرکھیں، اگر اطاعت اور تکالیف شرعی کے انجام دینے کی توفیق ہمیں نصیب ہوئی ہے اور احکام و عبادات سے کچھ نا کچھ ان کی حکمت تک راہ پیداکرلی ہے تویقین کریںکہ خدا و ملائکہ کی صلوات ہمیں نصیب ہوئی ہے وگرنہ لغزش کرتے ہوئے گناہ میںمُبتلاہو گئے ہیں۔
جب مومن اس راہ سے نورانی ہوتا ہے تو راہ کو دیکھ بھی سکتا ہے اور رہبر بھی ہو سکتا ہے تاکہ دوسروں کو راہ دکھائے، حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
لَیْسَ فِی الْبَرْقِ الْخٰطِفِ مُسْتَمْتِعٌ لِمَنْ یَخُوضُ فِی الظُّلْمَۃِ(۶)
وہ انسان جو تاریکی میں غرق ہے اور وہ مسافر جو تاریک رات میں راستہ گم کرتا ہے اس کے لیے رعدبرق مفید نہیں ہو گی، وہ ایک لحظہ کی آسمانی چمک سے راہ تلاش نہیں کر سکتا، دنیا زدہ انسان بھی اس گرفتار کی طرح ہے جو تاریکی میں غرق ہو، ایسے شخص کے لیے اگر کبھی اس کے دل میں نور جوش مارے اور پھر خاموش ہو جائے تو وہ اس کے لیے زیادہ مفید نہیں۔آیۃ شریفہ:
وَمٰا تَشٰاؤنَ الاّٰأنْ یَشٰائَ اللّٰہُ(۷)
اور تم نہیں چاہتے ہو مگر وہ جو اللہ چاہتا ہے۔
کے ذیل میں معصوم ؑسے ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ آپؑ نے فرمایا:
بَلُ قُلوُبُنٰا أوعیۃ لمشیۃ اللہ(۸)
ہمارے قلوب و ظرف ارادہ خدا ہیں۔
اگر خداوندِمتعال چاہے کہ کائنات میں کوئی معین کام کرے تو وہ ارادہ سے انجام دیتا ہے اور ارادہ خدا صفت فعل ہے جو اس کی ذات کی غیر ہے اور موجودِ ممکن اور مظہر میں ظاہر ہوتی ہے اور وہ مظہرقلبِ اورمعصوم اولیائے الٰہی ہے۔
لہٰذا مرحوم علامہ طباطبائی قدس سرہ فرماتے تھے کہ محمد و آل محمد پر صلوات کا معنی یہ ہے کہ خدایا! اپنی رحمت کو ان پر نازل فرما اور ان سے ہم تک پہنچا، اگر رحمت کی بارش برسنا چاہے تو پہلے اس خاندان پر برستی ہے اور پھر دوسروں تک پہنچتی ہے، لہٰذا رحمت طلب کرنے کا لازمہ اجابت ِ دعا ہے۔
مرحوم سید حیدر آملی اس عظیم ترین بات کو نقل کرتے ہیں اور محقق طوسی ؒ کی طرف بھی منسوب ہے کہ حضرت ولی عصرؑ (ارواحنالہ الفدا) کے بارے میں کہا جاتا ہے:
بِیُمْنِہِ رُزِقَ الْوَرَی وَبِوُجُودِہِ ثَبَتَتِ الْأَرْضُ وَالسَّمَائُ (۹)
حضرت ولی امام عصر ؑکی برکت سے دنیا رزق کھاتی ہے اور زمین و آسمان قائم ہیں، پس تمام برکات اس گھرانہ سے دوسروں تک پہنچتی ہیں۔

(حوالہ جات)
(۱) اصول کافی ج ۲، ص ۴۲۹،ح،۳
(۲) نہج البلاغہ حکمت ۳۶۱
(۳) سورہ احزاب آیت۵۶
(۴) سورہ احزاب آیت ۴۳
(۵)سورہ انعام آیت ۱۲۲
(۶) نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۲۰ ص،۴۳۵،ملحقات حکمت ۱۶۵
(۷)سورہ انسان آیت ۳۰
(۸) بحار الانوار ج ۲۵،ص ۳۳۶
(۹) مفاتیح الجنان دعائے عدیلہ