فرشتوں کا انسانی اسرار سے آگاہ ہونا

سوال۹۳:۔ کس طرح فرشتے انسان کے باطنی رازوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کو لکھتے ہیں؟ کیونکہ قرآن میں ذکر ہے کہ قیامت میں تمہارے اندرونی و باطنی اسرار کے بارے میں بھی سوال ہو گا؟
حضرت امام زین العابدین ؑنے اس سوال کا بہت مناسب جواب دیا جو اس طرح ہے:
آپ کے شاگردوں میں سے ایک نے سوال کیا، فرشتے ہمارے اعمال کو لکھتے ہیں، یہ تو صحیح ہے کیونکہ وہ دیکھتے اور سنتے ہیں لیکن افکار، نیتیں جو صرف ہمارے دلوں میں ہوتی ہیں اور ابھی ہم نے عمل نہیں کیا ہوتا ان کو بھی لکھتے ہیں؟ ان کو تو وہ نہیں دیکھتے، پھر کہاں سے سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں؟ اور یہ جو خداوندمتعال فرماتا ہے:
وَإِن تُبْدُواْ مَا فِیْ أَنفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُم بِہِ اللّہُ(۱)
وہ اندرونی راز جو تم نے کسی کے سامنے ظاہر نہیں کیے، قیامت میں اللہ ان کا بھی تم سے حساب لے گا ۔
ان اندرونی رازوں کو فرشتے کس طرح جانتے ہیں؟ اور کہاں سے لکھتے ہیں؟
حضرت امام سجاد ؑنے فرمایا:
کیا باغ و بستان کی خوشبو و کثافت اور گندگی کی بدبو ایک ہیں؟ اگر انسان ایک معطر اور پھولوں سے بھرے باغ سے گزرے تو اچھی خوشبو محسوس کرتا ہے،لیکن اگر انسان کو بدبو آئے تو سمجھ لیتا ہے کہ یہاں پر کثافت و گندگی ہے،بو سے سمجھا جا سکتا ہے کہ باغ کے پاس سے گزر رہے ہیں یا گندے کنویں کے پاس سے۔
فرشتے اچھی خوشبو سے تشخیص دیتے ہیں کہ اس مومن کے قلب میں طیب، طاہر، اچھے ارادے، نیتیں اور اسرار ہیں اور بدبو سے سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص کے اندر پلیدی ہے۔
کس طرح ممکن ہے کہ انسان گندگی کے کنویں میں زندگی بسر کرے اور اس کی بدبو سے نفرت کا اظہار نہ کرے اور باخبر نہ ہو؟ اگر کوئی ملکوت تک پہنچ چکا ہو تو دوسروں کی خوشبو یا
بدبو بھی اس کے مشام تک پہنچتی ہے اور مومن کو منافق سے پہچان لیتا ہے۔

(حوالہ)
(۱) سورہ بقرہ آیت ۲۸۴