عورت و مرد میں فرق

سوال ۹۲ : ۔ کیا عورت و مرد کے درمیان کوئی بنیادی فرق ہے یا نہیں؟
علمی، اقتصادی، اخلاقی مسائل اور کمال انسانی میں عورت و مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں لیکن اجرائی و انتظامی مسائل اور تقسیم کار میں عورت و مرد کے درمیان فرق ہے البتہ یہ فرق تکاملِ انسان میں موثر نہیں۔
مطلب اوّل کی توضیح میں کہنا چاہیے کہ تمام انبیاء کی رسالت کا مقصد، خصوصی طور پر رسول اکرم ﷺ کا مقصد تعلیمِ کتاب، حکمت اور تزکیہ نفوس ہے، یعنی انبیاء آئے ہیں تاکہ لوگوں کو معارفِ الٰہی سے آگاہ کریں اور معاشرہ کے عقائد و اخلاق کو کامل کریں، قرآن کریم فرماتا ہے:
َیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ (ا)
انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور نہیں(ہر قسم کے رذائل سے) پاک کرے۔
انبیاء تعلیم و تزکیہ کے لیے آئے ہیں اور یہ دونوں خصوصیات روح انسان سے مربوطہیں اور روح انسان کیونکہ ملکوتی وجود ہے، جو عورت و مرد نہیں رکھتا، تمام انبیاء تعلیم و تربیت و تزکیہ کے لیے آئے ہیں تاکہ وہ نظری طور پر معاشرہ کو صحیح علومِ الٰہی سے آشنا کریں اور عملی طور پر لوگوں کو روح ِکی طہارت و پاکیزگی تک پہنچائیں، یہ سب چیزیں روح کی طرف پلٹتی ہیں جو کہ نہ مذکر ہے اور نہ مونث، یہ بدن ہے جو مذکر و مونث ہوتا ہے وگرنہ روح مجرد ہے، جیسا کہ آپ سوال کریں کہ فرشتوں کا فلاں گروہ اس گروہ سے باہم فرق رکھتے ہیں یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصلاً فرشتے مرد یا عورت نہیں، یعنی نہ عورت ہیں اور نہ ہی مرد کیونکہ یہ مجرد ہیں۔
دوسری بات کی وضاحت یہ ہے کہ عالمِ طبیعت میں کام خصوصیاتِ طبیعی وبدنی کے لحاظ سے تقسیم ہوتے ہیں، کچھ کام عورت و مرد میں مشترک ہیں اور کچھ کام ہر جنس کے لیے علیحدہ طور پر مخصوص ہیں، وہ بھی اجراء، نفاذ اور ذمہ داری کی تقسیم کے لحاظ سے، اگر مرد کاموں میں متقی اور مخلص تر ہو تو وہ کامل تر ہے اور اگر عورت اپنے کام انجام دینے میں مخلص تر ہو تو وہ کامل ہے۔

(حوالہ)
(۱) سورہ بقرہ آیت ۱۲۹