خاتون اور مقامِ نبوت

سوال ۹۱:۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور چودہ معصومین ؑ میں سے صرف ایک خاتون ہے؟
ایسا نہیں کہ صرف ایک معصوم خاتون ہو اور وہ بھی صرف حضرت زہراؑہو، ہماری حضرت زینب کبریٰ ؑاور حضرت فاطمۃ معصومہؑ جیسی مستورات کی عدم عصمت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ؑسب مرد ہیں، وہ اس وجہ سے ہے کہ نبوت و رسالت اجرائی کام ہیں اور مردوں کی جسمانی خصوصیات اس طرح ہیں کہ اجرائی کام مرد کے ذمہ ہیں، دوسری طرف مقام نبوت و رسالت کا پشتوانہ مقام ولایت ہے، انسان کا کمال اس میں ہے کہ ولی اللہ ہو اور یہ مقا م مرد یا عورت کے ساتھ مختص نہیں، عالَم میں حضرتِ آسیہؑ، مریمؑ، حضرت زہراؑ، زینب کبریٰ ؑ اور فاطمہ معصومہؑ جیسی عظیم خواتین تھیں، ان میں سے ہر ایک اپنے خاص درجہ، مرتبہ کے لحاظ سے ولایت تک پہنچی ہیں، نبوت و رسالت اجرائی کام ہے، کوئی خاتون پیغمبرنہیں ہوتی، یہ اس وجہ سے ہے کہ خاتون تمام افراد معاشرہ سے رابطہ برقرار کرے، جنگ و صلح میں جنگ کی کمانڈ کرے، یہ اجرائی کام ہے اور عورتوں کے لیے دشوار ہے، ایسا نہیں کہ اگر تمام انبیاء مرد تھے تو اس کا معنی یہ ہوا کہ کمال معنوی مرد کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ کمال معنوی ولایت کے ساتھ مربوط ہے اور ولایتِ الٰہی میں عورت و مرد میں کوئی فرق نہیں، عورت و مرد دونوں ولی اللہ ہو سکتے ہیں۔