خلیفۃ اللہ

سوال ۸۹: ۔ کیا خلیفۂ الٰہی(اللہ کی جانشینی) کا مقام حضرتِ آدم ؑاور دیگرانبیاء کے ساتھ ہی مخصوص ہے یا دوسرے انسانوں کو بھی شامل ہے؟
جس طرح نبوت درجات رکھتی ہے۔
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلَی بَعْض (ا)
اور بتحقیق ہم نے انبیاء میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
اور رسالت مراتب رکھتی ہے۔
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْض(۲)
ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
خلافت بھی مراتب رکھتی ہے، تمام انسان کامل خلیفہ خدا ہیں، تمام انبیاء مرسلین و اولیاء خلفاء الٰہی ہیں، صالح مومنین بھی خلیفۂ خدا ہیں، البتہ ان تمام میں درجات کا اختلاف ہے، خدا کا خلیفہ ہونا یعنی یہ کہ انسان خدا کے پسندیدہ کام خدا کی طرف سے بعنوانِ مظہر و آیت خدا انجام دے، خداوندمتعال فرماتا ہے:
جب تمہیں مال حلال ہاتھ آتا ہے تو اس کو انفاق کرنے میں خدا کے خلیفہ بنو اور یقین کرو کہ یہ مال تمہاری ملکیت نہیں، میری ملکیت ہے۔
خداوندِمتعال نے انسانوں میں مالکیت (اور اقتصادی روابط) کے اصول معیّن کئے ہیں یعنی جو شخص بھی حلال طریقے سے مال کسب کرتا ہے وہ اس کا مال ہے لیکن خدا کی نسبت ایسا نہیں، انسان خدا کی نسبت سے مالک نہیں ہوتا، نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز میری ہے اور خدا کی ملکیت نہیں، انسان فقط دوسرے انسانوں کی نسبت سے ادعائے مالکیت کر سکتا ہے اور خدا کے مقابلہ میں صرف امین و خلیفہ ہے، لہٰذا قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَآتُوہُم مِّن مَّالِ اللَّہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ (۳)
خدا نے جو تمہیں مال عطا کیا ہے اس سے انفاق کرو
باوجوداسکے کہ قرآن کریم میں باربار اموالکم کہا گیا ہے جیسے:
لِّلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ(۴)
مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ مل جائے گا اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ مل جائے گا۔
پس مقامِ خلافت وہ مقام ہے کہ ہر انسانِ صالح جس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے البتہ خلافت بہت زیادہ درجات رکھتی ہے۔
ہر مومن اپنے ایمان و عمل ِصالح کے حساب سے خلیفہ و جانشین ِ خدا ہے۔

(حوالہ جات)
(ا) سورہ اسرا آیت ۵۵
(۲) سورہ بقرہ آیت ۲۵۳
(۳) سورہ نور آیت ۳۳
(۴) سورہ نساء آیت ۳۲