Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، اے بازار والو! قسمیں کھانے میں خدا سے ڈرتے رہو، کیونکہ قسمیں کھانے سے مال ناکارہ ہوجاتا ہے، برکت اُٹھ جاتی ہے، تاجر فاجر بن جاتا ہے، مگر یہ کہ جو حق کے ساتھ لین دین کرے۔ کنزالعمال حدیث 10043
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

ام المومنین حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا کا یوم وفات

10 رمضان سنہ 10 بعثت کو رسول اکرم (ص) کی شریک حیات حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے مکّہ میں وفات پائی ۔آپ قریش کی دولت مند اور نامور خاتون تھیں اور بعثت سے 15 سال قبل رسول اکرم (ص) کی زوجیت میں آئیں ۔حضرت خدیجہ(س) پہلی فرد تھیں جو رسول اکرم (ص) پر ایمان لائیں اور ایمان لانے کے بعد پوری قوت کے ساتھ دین اسلام کی ترویج میں لگ گئیں ۔آپ نے اپنی تمام دولت و ثروت دین الٰہی کی ترویج و اشاعت کے لئے رسول اکرم (ص) کے حوالے کردی اور ہمیشہ آپ (ص) کی مونس و مددگار رہیں ۔حضرت خدیجہ (س) کی ذات گرامی رسول اکرم (ص) کے لئے اتنی زيادہ اہم تھی کہ اس عظیم خاتون کی رحلت کو رسول اکرم (ص) نے بڑی مصیبت قراردیا ۔حضرت خدیجہ (س) کی رحلت پر رسول اکرم (ص) نے فرمایا تھا کہ : خدا کی قسم خدیجہ (س) سے بہتر خدا نے مجھے کوئی چیز عطا نہیں کی ، وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگ کفر میں مبتلا تھے اس وقت میری آواز پر لبیک کہا جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے اور اس وقت اپنے مال و ثروت میں برابر کا شریک قراردیا جب لوگوں نے مجھ سے رشتہ توڑ لیاتھا ۔واضح رہے کہ اسی سال رسول اکرم (ص) کے چچا حضرت ابوطالب کی بھی وفات ہوئی تھی اور ان دونوں کے شدید غم کے سبب رسول اکرم (ص) نے اس سال کو غم کا سال قراردیا تھا۔

25 برس کی عمر مبارک میں رسول خدا(ص) حضرت خدیجہ کا مال تجارت لے کر ان کے غلام میسرہ کے ہمراہ تجارتی سفر پر شام روانہ ہوئے۔ راستے میں میسرہ نے حضور کے اخلاق اور عادات و خصائل دیکھے تو آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ واپس آکر اس نے حضرت خدیجہ کو تفصیل کے ساتھ آپ کے بارے میں بتایا ۔ تجارت میں بھی حضور نہایت کامیاب رہے اور ماضی کی نسبت جناب خدیجہ کو زیادہ منافع حاصل ہوا۔ اس سفر میں بحیریٰ کی آپ سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اس موقع پر اس نے کہا میں شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ وہ نبی امی جن کی بشارت عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی۔

اسی سفر کے دوران حضور بصریٰ میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرے جو نسطورا راہب کی خانقاہ کے پاس تھا۔ حضور کو دیکھ کر نسطورا باہر نکل آیا اور اس نے میسرہ غلام سے دریافت کیا کہ اس درخت کے نیچے کون کھڑا ہے؟ اس نے کہا قریش اہل حرم میں سے ایک شخص محمد ۔ اس پر نسطورا بولا کہ اس درخت کے نیچے عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آج تک یعنی تقریبا چھ سو برس تک نبی کے سوا کوئی نہیں ٹھہرا ۔ پھر نسطورا آپ کے پاس آیا آپ کا سر اور آپ کے قدم چومے اور کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول وہ نبی امّی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ نے دی تھی اور کہا تھا کہ میرے بعد اس درخت کے نیچے نبی امّی ہاشمی عربی مکی صاحب الحوض و الشفاعۃ و صاحب لواء الحمد کے سوا کوئی نہیں ٹھہرے گا۔

جناب خدیجہ کو پیغمبر اسلام کے تجارتی سفر سے ماضی کی نسبت کافی زیادہ منافع حاصل ہوا ۔جناب خدیجہ نے پیغمبر اکرم کو طے شدہ معاوضے سے زیادہ معاوضہ دینا چاہا لیکن پیغمبر نے صرف وہی چار اونٹ معاوضے کے طور پر وصول کئے جو انہوں نے طے کئے تھے ۔جناب خدیجہ کو ان کے غلام میسرہ نے بھی شام میں پیش آنے والے واقعات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ وہ پہلے ہی پیغمبر اکرم کے اخلاق اور رفتار و کردار سے بے حد متاثر تھیں یہ واقعات سننے کے بعد ان کی نظر میں پیغمبر کی قدر و منزلت اور بڑھ گئی ۔ اس وقت جناب خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی وہ اپنی عفت و پاک دامنی کی بنا پر طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو حسن و جمال کی دولت سے بھی نوازا تھا ۔ قریش کے بڑے بڑے سردار اور دولت مند ان سے شادی کے خواہش مند تھے جن میں ابو سفیان، ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط و غیرہ شامل تھے۔ ان افراد نے کئی بار جناب خدیجہ کو شادی کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نےسب کو سختی سے انکار کردیا۔ ان کا ضمیر ہمیشہ انہیں گناہ اور انحراف سے روکتا تھا اور نیکی و اچھائی کی ترغیب دلاتا تھا۔ ان کے ضمیر نے انہیں اس بات کا یقین دلادیا تھا کہ ان بت پرست سود خوروں کے ساتھ شادی ان کی شان کے خلاف ہے۔ اب جب محمد کی خوبیوں ،اخلاق اور گفتار و کردار کے جوہر کھل کران کے سامنے آنے لگے تو وہ ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگئیں ۔ اسی رات جناب خدیجہ نےایک انتہائی عجیب خواب دیکھا، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں کھڑی ہیں اور آسمان بالکل تاریک ہے اچانک ایک ستارہ چمکا اور خدیجہ کی توجہ اس کی طرف ہوگئی ۔ ستارےکی روشنی آہستہ آہستہ بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ مہر تاباں کی شکل اختیار کر گیا او پورا عالم اس کے نور سے روشن ہوگیا۔ پھر مہر تاباں نے نیچے کی طرف اترنا شروع کردیا اور نیچے آتے آتےمکہ کے بالکل اوپر پہنچ گیا پھر اس نے مکہ کے گرد ایک چکر لگایا اور جناب خدیجہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں کہ وہ خورشید عالمتاب براہ راست ان کے گھر کی طرف آیا اور صحن میں اتر گیا اور اپنے نور سے ان کے گھر کو روشن و منور کردیا۔ اسی اثنا میں جناب خدیجہ کی آنکھ کھل گئی او ر اپنی ایسی حالت دیکھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ اس رات پھر وہ دوبارہ نہ سو سکیں ۔

صبح ہوتے ہی وہ اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو تعبیر خواب کےعلم سےآگاہی رکھتا تھا۔ اسے اپنے اس حیرت انگیز خواب سے آگاہ کیا اور اس کی تعبیر دریافت کی ورقہ بن نوفل نے غور سے سننے کے بعد کہا کہ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں خدیجہ یہ خواب تمہارے لئے ایک عظیم بشارت ہے۔ عنقریب تمہاری شادی روئے زمین پر موجود شریف ترین اور برترین مرد سے ہوگی جس کی شہرت نہ صرف زمین پر ہوگی بلکہ آسمان میں بھی ان کاشہرہ ہوگا۔حضرت خدیجہ نے بخوبی جان لیا کہ روئے زمین پرشریف ترین اور برترین مرد کون ہے اور انہیں کس کے ساتھ شادی کی بشارت دی گئی ہے۔انہیں ایک عرصے سے اس بات کاعلم ہو چکا تھا کہ محمد کی شخصیت بے نظیر اور لاثانی ہے۔ لیکن وہ اپنی اور پیغمبر کی عمر کے فرق اور اپنے بہت زیادہ مال دار ہونے کو پیش نظر رکھتے ہوئے شادی کے بارے میں پیغمبر سے اپنی خواہش کے اظہار کے بارے میں تذبذب کا شکار تھیں ۔ اپنی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے انہوں نے مکہ کی ایک محترم خاتون نفیسہ بنت منیہ کو پیغمبرکے پاس بھیجا تا کہ وہ ان کی مرضی معلوم کر سکیں۔ نفیسہ بنت منیہ نے آنحضرت سے کہا کہ اے محمد آپ کی سچائی،امانت داری اور پاک دامنی کے ہر طرف چرچے ہیں مکہ میں ہر لڑکی آپ سے شادی کرنے کی آرزو رکھتی ہے۔اب تو آپ پچیس برس کے ہو گئے ہیں آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ پیغمبر نے اپناسرجھکا لیا اور فرمایا میرے پاس کیا رکھا ہے کہ میں شادی کروں؟ نفیسہ نے کہا کہ اس کا انتظام ہوگیا ہے اور آپ کو ایک ایسی جگہ شادی کرنے کی دعوت دی جارہی ہے جہاں حسن و جمال بھی ہے اور مال بھی ،شرافت و پاک دامنی بھی ہے اور ثروت و قابلیت بھی ۔ کیا آپ اسے قبول کریں گے۔ فرمایا وہ کون ہے؟ نفیسہ نے کہا خدیجہ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ اس شادی پر راضی ہوجائیں گی جبکہ میرے اور ان کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نفیسہ نے کہا اسے آپ میرے اوپر چھوڑ دیں میں انہیں راضی کرلوں گی اور ان سے بات چیت کرنے کے لئے آپ کو ان کے گھر لے جا‎ؤں گی ۔ آپ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تومیں تیار ہوں نفیسہ یہ سنتے ہی خوشی سے نہال ہوگئیں اور خدیجہ کو یہ خوش خبری سنانے کےلئے جلدی سے ان کےگھر کی طرف روانہ ہوگئیں۔ پیغمبر اسلام جناب خدیجہ کے اخلاق و کردار سے بخوبی واقف تھے ۔ دولت کی ہوس جہالت اور بت پرستی کے دور میں خدیجہ کی پاک دامنی، شرافت، عطا و بخشش اور یتیم نوازی زباں زد خاص و عام تھی۔ ایک ایسے شہر میں کہ جہاں تقریبا سب لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے پتھر اور لکڑی کے بتوں کے سامنے سر جھکاتے اور ماتھا ٹیکتے تھے، خدیجہ اور ان کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل اس کام کو باطل سمجھ رہے تھے اور حقیقت کی تلاش و جستجو میں تھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو بچپن سے ہی بت پرستی سے نفرت کرتے تھے کس طرح مکہ کی کسی ایسی لڑکی یا عورت سے شادی کر سکتے تھے جو بتوں پر گہرا اور پکا عقیدہ اور ایمان رکھتی تھی ۔ صرف خدیجہ ہی وہ خاتون تھیں کہ جنھیں خدا نے ظہور اسلام سے قبل اپنے آخری پیغمبر کےساتھ شادی کی اہلیت و قابلیت عطا فرمائی تھی۔

جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نفیسہ کے ساتھ خدیجہ کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے کر گئے اور ان کےسامنے پہنچے تو ہرچیز گواہی دے رہی تھی کہ یہ کوئی معمولی شادی نہیں ہوگی بلکہ آسمانی اور ملکوتی رشتہ قائم ہونے جا رہا ہے مکہ کی پاک دامن خاتون نے اپنی بات ایک جملے میں خلاصہ کردی پیغمبر سے کہا میں آپ کی سچائی ، امانت داری ، نیک فطرت ، بہترین اخلاق کہ جس کی ہر جگہ شہرت ہے اور آپ کی عظمت و برتری کہ جو تمام لوگوں میں بے مثال ہے کی بنا پر آپ سے شادی کی خواہش مند ہوں ۔ پیغمبر چونکہ ہمیشہ بزرگوں کا احترام کرتے تھے اس لئے خدیجہ کے جواب میں کہا۔ میں اس امر سے اپنے بزرگوں کو آگاہ اور ان سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جناب خدیجہ نے اس بات کو پسند اور قبول کیا اور طے پایا کہ دو نوں کے بزرگ مل بیٹھیں گے اور ان کی موجودگی میں یہ کام انجام پائے گا۔ پیغمبر نے اپنے چچاؤں سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت خدیجہ سے شادی کےلئے ہاں کہ دی ۔ شادی کی تاریخ طے ہوگئی اور پھر شادی کے دن پیغمبر اسلام اپنے چچاؤں کے ساتھ حضرت خدیجہ کےگھر تشریف لے گئے۔ مہمانوں کی آؤ بھگت کی گئی ۔

حضرت ابوطالب نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا اور خداوند متعال کی حمد و ثنا کرنے کے بعد اپنے بھتیجے کا تعارف کراتے ہوئے کہا میرے بھتیجے محمد عبداللہ کا قریش کےکسی بھی مرد سے موازنہ کیا جائے تو بلاشبہ وہ اس پر برتری اور شرف رکھتا ہے۔ اگر چہ مالی لحاظ سے وہ تنگ دست ہے لیکن دولت آنے جانے والی چیز ہے اور یہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی جبکہ تقویٰ اور شرافت ایسی چیز ہے جو پائیدار اور باقی رہنے والی ہے اور کوئی بھی دولت اس کا مقابلہ اور برابری نہیں کر سکتی ۔ حضرت ابو طالب نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعارف کرانے کے بعد اپنی بات ختم کی ۔ ان کے بعد حضرت خدیجہ کے چچا زاد ورقہ بن نوفل نے بات کرنا شروع کی ۔ وہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتی خصوصیات اور حیرت انگیز مستقبل سے کسی حد تک واقف تھے اور انہوں نے حضرت خدیجہ کا خواب سننے کے بعد پیشین گوئی کی تھی کہ ان کی شادی دنیا کے باشرف ترین مرد سے ہوگی ۔ ورقہ بن نوفل نے کہا مکہ میں کوئی بھی آپ کے فضائل اور شرافت کا منکر نہیں ہے ۔ ہم بھی صمیم قلب سےآپ کے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں ۔ حضرت خدیجہ کامہر 400 درہم طے ہوا اور نکاح حضرت ابو طالب نے پڑھایا حضرت خدیجہ نے اپنا جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھایا اورمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خوبصورت اور پر کشش چہرے کو دیکھا اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کس طرح ان کی زندگی اس خورشید عالمتاب کے آنے سے روشن و منور ہوگئی ہے اوران کاحیرت انگیز خواب حقیقت کا روپ دھارگیا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اورحضرت خدیجہ کی شادی کی تقریب خدیجہ کے گھر میں منعقد ہوئی۔

یہ گھر اس شادی سے قبل غریبوں اور محتاجوں کی جائے پناہ تھا اس شادی کے بعد وہ ان کے لئے مزید اہمیت اختیارکرگیا کیونکہ ان کی آنکھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ با اخلاق اور مہربان کسی اور کو نہیں دیکھا تھا اور حضرت خدیجہ سے زیادہ عطا و بخشش کی حامل کوئی اور شخصیت نہیں دیکھی تھی اور اب وہ دیکھ رہے تھے کہ ان دو عظیم ہستیوں کی شادی ہو رہی ہے لہذا ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس مبارک موقع پر جناب خدیجہ کےگھر کے قریب جمع ہونے والے فقیروں ، غریبوں اور نادار افراد کی اونٹ کے گوشت سے تواضع کی جارہی تھی اور ان کی زبانیں شکر کے کلمات ادا کر رہی تھیں ۔ حضرت خدیجہ اپنے شوہر کے روحانی مقام و مرتبے اور حیرت انگیز مستقبل سے بخوبی واقف تھیں اوراسی بنا پر وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں گہری دلچسپی لے رہی تھیں۔ شادی کے بعد انہوں نے اپنی ساری دولت پیغمبر کے اختیار میں دے دی کہ وہ جہاں اور جیسے چاہیں خرچ کریں ۔پیغمبر اکرم نے شادی کے بعد اسی راستے کوجاری رکھا جو حضرت خدیجہ نے شادی سے قبل اختیار کیا تھا یعنی یتیموں ،غریبوں اور ناداروں کی مدد کرنے کاراستہ ۔ یہ بے مثال جوڑا دنیا کی تمام عورتوں اور مردوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل ہے۔شادی کے بعد پیغمبر اسلام اپنے چچا ابو طالب کے گھر سے حضرت خدیجہ کے گھر منتقل ہوگئے اور حضرت خدیجہ نےاپنا گھر اور تمام دولت و ثروت پیغمبر اکرم کےاختیار میں دے دی۔ حضرت ابو طالب کے ہاں غریبانہ زندگی گزارنے کے بعد پیغمبر خدیجہ کے مال و دولت سے بھرے گھر میں منتقل ہوگئے لیکن پیغمبر کے طرز زندگی میں ذرہ برابر تبدیلی نہ آئی۔ ان کی زندگی اسی طرح سادہ رہی۔انہوں نے غریبوں اور محتاجوں کی مدد نہ صرف جاری رکھی بلکہ اپنے پروردگار سے راز و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رکھا اوراس کے لئے وہ بدستور شہر سے باہر پہاڑوں اور غاروں میں جاتے تھے۔

حضرت خدیجہ اور ابوطالب رسول کے دو ایسے مدافع تھے جنکی زندگی میں کفار قریش کی طرف سے آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا لیکن رسول اللہ کے یہ دونوں جانثار ایک ہی سال بہت مختصر وقفہ سے یکے بعد دیگرے دنیاسے رخصت ہوگئے اورروایات کے مطابق رسول اللہ پر دونوں مصیبتیں ہجرت سے تین سال قبل اورشعب ابی طالب سے باہر آنے کے کچھ روز بعد واقع ہوئیں۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا اوریہ مصیبت رسول کیلئے اتنی سخت تھی کہ رسول خانہ نشین ہوگئے اورآپ نے حضرت خدیجہ اورحضرت ابوطالب کی وفات کے بعد باہر نکلنابہت کم کردیاتھا۔ ایک روز کسی کافر نے آپ کے سر پر خاک ڈال دی رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں گھر میں داخل ہوئے آپ کی زبان پر یہ کلمات تھے " قریش ابوطالب کی زندگی میں مجھکوکوئی گزند نہیں پہنچا سکے"۔ آپ حضرت ابوطالب اورخدیجہ کی زندگی میں اطمینان سے تبلیغ میں مصروف رہتے تھے ۔خدیجہ گھر کی چار دیواری میں اور ابوطالب مکہ کی گلیوں میں آپ کے مدافع تھے۔

حضرت خدیجہ جب تک زندہ رہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اطمینان وسکون کا سبب بنی رہیں دن بھر کی تبلیغ کے بعد جب آپ بجھے ہوئے دل اورپژمردہ چہرے کے ساتھ گھر میں قدم رکھتےتو خدیجہ کی ایک محبت آمیز مسکراہٹ آپ کے مرجھائے ہوئے چہرے کوپھر سے ماہ تمام بنادیاکرتی تھی ، حضرت خدیجہ کی محبتوں کے زیر سایہ عالمین کیلئے رحمت بنکر دنیاکی ایذارسانیوں کو بھلاکر ایک نئے جوش و جذبے اورولولے کے ساتھ ڈوبتے ہوئے ستاروں کاالوداعی سلام اورمشرق سے سرابھارتے ہوئے سورج سے خراج لیتے ہوئےایک بار پھر خانہ عصمت وطہارت سے باہر آتے اورباطل کو لرزہ براندام کرنے والی لاالہ الاالله کی بلند بانگ صداؤں سے مکہ کے درودیوارہل کررہ جاتے کفارجمع ہوتے رسول پر اذیتوں کی یلغار کردیتے لیکن انسانیت کی نجات اورانسانوں کی اصلاح کاخواب دل میں سجائے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم خوش آیند مستقبل کے تصور میں ہر مصیبت کاخندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے اورآپ کے اسی صبر وتحمل اورآپ کی پاکدامن زوجہ کے تعاون اورجانثاری سے آج ہم مسلمانان جہان پرچم توحید کے علمبردار رسول کے اس خواب اصلاح کوشرمندہ تعبیر کرنے کے لئے آپ کے اس آخری جانشین کے انتظار میں سرگرداں ہیں جوزمین کوعدل وانصاف سے پر کردیگا ۔