Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو دنیا سے منہ موڑ کر آخرت کی طرف راغب ہوتے ہیں تنبیہ الخواطرج2ص123، مجموعۃ ورام ج 2ص143

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 98: اپنی سیرت و کردار اور اہل بیت کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا

اس اللہ کے لیے حمدو ثنا ہے جو مخلوقات میں اپنا (دامن) فضل پھیلائے ہوئے اور اپنا دست ِ کرم بڑھائے ہوئے ہے۔ ہم تمام امور میں اس کی حمد کرتے ہیں اور اس کے حقوق کا پاس (لحاظ رکھنے میں اس سے مدد مانگتے ہیں ۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے عبد اور رسول ہیں ۔ جنہیں اللہ نے اپنا امر واضح کر کے سنانے اور اپنا ذکر زبان پر لانے کے لیے بھیجا۔ آپ نے امانتداری کے ساتھ اسے پہنچایا اور راہ راست پر برقرار رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم میں حق کا وہ پرچم چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھے گا وہ (دین سے) نکل جائے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا، وہ مت جائے گا اور جو اس سے چمٹا رہ گا وہ حق کے ساتھ رہے گا ، اس پرچم کی طرف راہنمائی کرنے والا وہ ہے جو بات کہنے میں جلدبازی نہیں کرتا اور (پوری طرح غور کرنے کے لیے) اپنے اقدادم میں تاخیر کرتا ہے ۔ اور جب کسی امر کو لے کر کھڑا ہو جائے ، تو پھر تیز گام ہے ، اور جب تم اس کے سامنے گردنیں خم کر دو گے اور(اس کی عظمت و جلال کے پیش نظر) اس کی طرف انگلیوں کے اشارے کرنے لگو گے تو اسے موت آجائے گی اور اسے لے جائے گی اور پھر جب تک اللہ چاہے تم(انتظار میں ) ٹھہرے رہو گے یہاں تک کہ اللہ اس شخص کو ظاہر کرے جو تمہیں ایک جگہ پر جمع کرے اور تمہاری شیرازہ بندی کرے جو کچھ (۱) ہونے والا نہیں ہے ۔ اس کی لالچ نہ کرو۔ اور نہ برگشتہ صورت حال سے مایوس ہو اور بہت ممکن کہ برگشتہ صورت حال کا ایک قدم اکھڑ گیا ہو اور دوسرا قدم جما ہوا ہو اور پھر کوئی ایسی صورت ہو کہ دونوں قدم جم ہی جائیں ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ آلِ محمد آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں ۔ جب ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا ابھر آتا ہے گویا تم پر اللہ کی نعمتیں مکمل ہو گئی ہیں اور جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے ، وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے ۔

(۱) مطلب یہ ہے کہ اگر سردست تمہارے توقعات پورے نہیں ہورے تو مایس نہ ہو جاؤ کیوں کہ ممکن ہے کہ صورت حال میں تبدیلی ہو اور اصلاح میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہو جائیں اور معاملات تمہارے حسب دلخواہ طے پا جائیں ۔