Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی رضا نے فرمایا، فرعون (بھی)موت کو دیکھ کر ایمان لے آیا تھا لہٰذا موت کو دیکھ کر ایمان لانا قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ بحارالانوارکتاب العدل باب20حدیث25

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ97: ترکِ دینا اور نیرنگیٴ عالم کے سلسلہ میں فرمایا

جو ہو چکا اس پر ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں ، اور جو ہوگا اس کے مقابلہ میں اس سے مدد چاہتے ہیں ۔ جس طرح اس سے جسموں کی صحت کا سوال کرتے ہیں اسی طرح دین و ایمان کی سلامتی کے طلب گا رہیں ۔“

اے اللہ کے بندو! میں تمہیں اس دنیا کے چھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہیں چھوڑ دینے والی ہے ، حالانکہ تم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے ، اور وہ تمہارے جسموں کو کہنہ و بوسیدہ بنانے لی ہے حالانکہ تم اسے تروتازہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ بنانے والی ہے حالانکہ تم اسے تروتازہ رکھنے ہی کی کوشش کرتے ہو تمہاری اور اس دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے چند مسافر کسی راہ پر چلیں اور چلتے ہی منزل طے کر لیں اور کسی بلند نشان کا قصد کریں اور فوراً وہاں تک پہنچ جائیں کتنا ہی تھوڑا وقفہ ہے اس (گھوڑا دوڑانے والے ) کا کہ جو اسے دوڑ ا کر انتہا کی منزل تک پہنچ جائے اور اس شخص کی بقا ہی کیا ہے کہ جس کے لیے ایک ایسا دن ہو کہ جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور دنیا میں ایک تیز گام طلب کرنے والا اسے جنکا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا کوچھوڑ جائے ۔ دنیا کی عزت اور اس میں مخزو سر بلندی کی خواہش نہ کرو اور نہ اس کی آرائشوں اور نعمتوں پر خوش ہو اور نہ اس کی سختیوں اور تنگیوں پر بے صبری سے چیخنے چلانے لگو۔ اس لیے کہ اس کی عزت و فخر دونوں مٹ جانے والے ہیں اور اس کی آرائشیں اور نعمتیں زائل ہو جانے والی ہیں اور اس کی سختیاں اور تنگیاں آخر ختم ہو جائیں گی۔ اس کی ہر مدت کا نتیجہ اختتام اور ہر زندہ کا انجام فنا ہونا ہے کیا پہلے لوگوں کے واقعات میں تمہارے لیے کافی تنبیہ کا سامان نہیں ، اور تمہارے لیے عبرت اور بصیرت نہیں اگر تم سوچو سمجھو۔ کیا تم گزرے ہوئے لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلٹ کر نہیں آتے اور ان کے بعد باقی رہنے والے بھی زندہ نہیں رہتے ۔ تم دنیا والوں پر نظر نہیں کرتے کہ جو مختلف حالتوں میں صبح و شام کرتے ہیں ۔ کہیں کوئی میت ہے جس پر رویا جارہا ہے ۔ اور کہیں کسی کو تعزیت دی جارہی ہے کوئی عاجز و زمین گیر مبتلا ئے مرض ہے اور کوئی عیادت کرنے والا عیادت کر رہا ہے ۔ کہیں کوئی دم توڑ دیا ہے ۔کوئی دنیا تلاش کرتا پھرتا ہے اور موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کوئی غفلت میں پڑا ہے ، لیکن (موت) اس سے غافل نہیں ہے ۔ گزر جانے والوں کے نقشِ قدم پر ہی باقی رہ جانے والے چل رہے ہیں ۔ “

میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ بد اعمالیوں کے ارتکاب کے وقت ذرا موت کو بھی یاد کر لیا کرو کہ جو تمام لذتوں کو مٹا دینے والی، اور تمام نفسانی مزوں کو کرکرا دینے والی ہے اللہ کے واجب الادا حقوق ادا کرنے اور اس کی ان گنت نعمتوں اور لاتعداد احسانوں کا شکر بجا لانے کے لیے اس سے مدد مانگتے رہو۔“