Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ایمان (گویا) ایک درخت ہے یقین جس کی جڑ ، تقویٰ جس کی شاخ، حیا جس کا زیور اور سخاوت جس کا پھل ہوتا ہے غررالحکم حدیث 1786

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 96: نبی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا

خدا کی قسم ! وہ ہمیشہ یونہی (ظلم ڈھاتے ) رہیں گے اور کوئی اللہ کی حرام کی ہوئی چیز ایسی نہ ہو گی، جسے وہ حلال نہ سمجھ لیں کے ، اور ایک بھی عہد و پیمان ایسا نہ ہوگا جسے وہ توڑ نہ ڈالیں گے ۔ یہاں تک کہ کوئی اینٹ پتھر کا گھر اور اون کا خیمہ ان کے ظلم کی زد سے محفوظ نہ رہے گا اور ان کی بُری طرز نگہداشت سے لوگ کا اپنے گھروں میں رہتا مشکل ہو جائے گا، اور یہاں تک کہ دو قسم کے رونے والے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک دین کے لیے رونے والا، اور ایک دنیا کے لیے اور یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک کا ان میں سے کسی ایک سے داد خواہی کرنا ایسا ہی ہو گا۔ جیسے غلام کا اپنے آقا سے کہ وہ سامنے اطاعت کرتا ہے ، اور پیٹھ پیچھے برائی کرتا ( اور دل کی بھڑاس نکالتا) ہے اور یہاں تک نوب ت پہنچ جائے گی کہ تم میں سے جو اللہ کا زیادہ اعتقاد رکھے گا اتنا ہی وہ زحمت و مشقت میں بڑھا چڑھا ہو گا۔ اس صورت میں اگر اللہ تمہیں امن و عافیت میں رکھے ، تو (اس کا شکر کرتے ہوئے ) اسے قبول کرو۔ اور اگر ابتلاؤ وآزمائش میں ڈالے جاؤ تو صبر کرو اس لیے کہ اچھا انجام پرہیز گاروں کے لیے ہے ۔