Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، سخت مشکلات اور مصائب کے ذریعہ بلند درجات اور ہمیشہ کی راحت نصیب ہوتی ہے۔ غررالحکم حدیث1709

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 95: اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا

اگر اللہ نے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی گرفت سے تو وہ ہرگز نہیں نکل سکتا، اور وہ اس کی گزر گاہ اور گلے میں ہڈی پھنسنے کی جگہ پر موقع کا منتظر ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، یہ قوم (اہل شام) تم پر غالب آکر رہے گی۔ اس لیے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے ۔ بلکہ اسی لیے کہ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔ رعبتیں (۱) اپنے حکمرانوں کے ظلم وجور سے ڈرا کرتی تھیں اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں ۔ میں نے تمہیں جہاد کے لیے ابھار ا ، لیکن تم (اپنے گھروں سے ) نہ نکلے ۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کے لیے پکارا اور للکارا۔ لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں ۔ کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو، حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو، میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو ۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کے لیے تمہیں آمادہ کرتا ہوں ، تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولاد سبا(۲) کی طرح تر بتر ہو ہو گئے ۔ اپنی نشست گاہوں کی طرف واپس چلے جاتے ہو۔ اور ان نصیحتوں سے غافل ہو کر ایک دوسرے کے چکمے میں آجاتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو تو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے ۔ سیدھاکرنے والا عاجز آگیا، اور جسے سیدھا کیا جارہا ہے ۔ وہ لاعلاج ثابت ہوا ، اسے وہ لوگو! جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں ۔ ان پو حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں ۔ تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے ۔ اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو، اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے ۔ مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے ، اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے ، جس طرح دینار کا تبادلہ در ہموں سے ہوتا ہے اے اہل کوُفہ میں تمہاری تین اور ان کے علاوہ دو باتوں میں مبتلا ہوں پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو، اور بولنے چالنے کے باوجود گونگے ہو، اور آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے ہو۔ اور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقعہ پر سچے جوانمرد ہو، اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔ اے ان اونٹوں کی چال ڈھال والو کہ جن کے چرواہے گم ہو چکے ہوں اور انہیں ایک طرف سے گھیر کر لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سے بکھر جاتے ہیں ۔ خدا کی قسم! جیسا کہ میرا تمہارے متعلق خیال ہے ۔ گویا یہ منظر میرے سامنے ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کر لے اور میدان کا راز گرم ہو جائے ، تو تم ابن ابی طالب سے ایسے شرمناک طریقے پر علیحدہ ہو جیسے عورت بالکل برہنہ ہو جائے ۔ میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل اور اپنے نبی کے طریقے اور شاہراہ حق پر ہوں (جسے میں باطل کے راستوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاتا رہتا ہوں ۔ اپنے نبیﷺ کے اہل بیت کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو، اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے ۔ اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے ۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں ، تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ انہیں ، تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ، ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے میں نے محمد کے خاص خاص اصحاب دیکھے ہیں ۔ مجھے تو تم میں سے ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا، جو ان کے مثل ہو وہ اس عالم میں صبح کرتے تھے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے خاک سے اٹے ہوتے تھے جب کہ رات کو وہ سجو و قیام میں کاٹ چکے ہوتے تھے ۔ اس عالم میں کہ کبھی پیشانیاں سجدے میں رکھتے تھے اور کبھی رخسار، اور حشر کی یاد سے اس طرح بے چین رہتے تھے کہ جیسے انگاروں پر ٹہرے ہوئے ہوں ۔ اور لمبے سجدوں کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانیوں پر) بکری کے گھٹنوں ایسے گٹے پڑے ہوئے تھے ۔ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر آجاتا تھا۔ تو ان کی آنکھیں برس پڑتی تھیں ۔ یہاں تک کہ ان کے گریبانوں کو بھگو دیتی تھیں ۔ وہ اس طرح کانپتے رہتے تھے جس طرح تیز جھکڑ والے دن درخت تھر تھر اتے ہیں ۔ سزا کے خوف اور ثواب کی امیدمیں ۔

(۱) پیغمبر کے بعد جو فضا پیدا کر دی گئی تھی ، اس میں اہل بیت کے لیے گوشہ گزینی کے سوا کوئی ارہ نہ تھا جس کی وجہ سے دنیا ان کے اصلی خدو خال سے بیگانہ اور ان کے علوم و کمالات سے ناآشنا ہو کر رہ گئی اور انہیں نظروں سے گرانا اور اقتدار سے الگ رکھنا ہی اسلام کی سب سے بڑی خدمت تصور کر لیا گیا۔ اگرحضرت عثمان کی کھلم کھلا بے عنوانیاں مسلمانوں کو کروٹ لینے اور آنکھ کھولنے کا موقع نہ دیتیں ۔ تو ان کے بعد بھی امیر الموٴمنین کی بیعت کا کوئی سوال نہ ہوتا تھا۔ بلکہ اقتداد جس رخ پر بڑھ رہ اتھ اسی رخ بر بڑھتا رہتا ۔ لیکن جن لوگوں کا س سلسلہ میں نام لیا جا سکتا تھا۔وہ اپنے دامن بند و قبا کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی جراٴت نہ کرتے تھے ۔ اور معاویہ مرکز سے دور اپنی راجد ھانی میں بیٹھا رہو تھا۔ ان حالات میں امیر الموٴمنین کے سو کوئی ایسا نہ تھا جس کی طرف نظریں اٹھتیں ۔ چنانچہ نگاہیں آپ کے گرد طواف کرنے لگیں اور وہی عوام جو سیلاب کے بہاؤ اور ہوا کا رخ دیکھ کر دوسروں کی بیعت کرتے رہے تھے ۔ آپ کے ہاتھوں پر بیعت کے لیے ٹوٹ پڑتے ۔ لیکن یہ بیعت اس حیثیت سے نہ تھی کہ وہ آپ کے خلاف کو من جانب اللہ اور آپ کو امام مفترض الطاعتہ سمجھ رہے ہوں بلکہ انہیں کے اقرار دادہ اصول کے ماتحت تھی جسے جمہوری و شورائی قسم کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ البتہ ایک گروہ ایسا تھا جو آپ کی خلافت کو نصی سمجھتے ہوئے دینی فریضہ کی حیثیت سے بیعت کر رہا تھا۔ ورنہ اکثر یت تو آپ کو دوسرے خلفاء کی طرح ایک فرمانرو اور بلحاظِ فضیلت چوتھے درجہ پر یا خلفائے ثلاثہ کے بعد عام صحابہ کی سطح پر سمجھتی تھی ، اور چونکہ رعیّت فوج اور عہدہ دار سابقہ حکمرانوں کے عقائد اعمال سے متاثر اور ان کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے ۔ اس لیے جب کوئی بات اپنی منشاء کے خلاف پاتے تو بگڑتے ، الجھتے ، جنگ سے جی چراتے ، اور سرکشی و نافرمانی پر اتر آتے تھے ۔ اور پھر جس طرح پیغمبر کے ساتھ شریک جہاد ہونے والے کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور کچھ آخرت کے اسی طرح یہاں بھی دنیا پرستوں کی کمی نہ تھی ۔ جو بظاہر امیر الموٴمنین ع سے ملے ہوئے تھے اور در پر دہ معاویہ سے ساز باز رکھتے تھے جس نے ان میں سے کسی سے منصب کا وعدہ کر رکھا تھا، اور کسی کو دولت کا لالچ دے رکھا تھا۔

ان لوگوں کو شیعانِ امیر الموٴمنین  قرار دے کر شیعیت کو مورد الزام ٹھہرانا حقائق سے چشم پوشی کرتا ہے جب کہ ان لوگوں کا مسلک وہی ہو سکتا ہے جو امیر الموٴمنین  قرار دے کر شیعیت کو مور و الزام ٹھہرانا حقائق سے چشم پوشی کرتا ہے جب کہ ان لوگوں کا مسلک وہی ہو سکتا ہے جو امیر الموٴمنین کو چوتھے درجہ پر سمجھنے والوں کا ہونا ہونا چاہئے ۔ چنانچہ ابن ابی الحدیدی ان لوگوں کے مسلک و مذہب پر واشگاف لفظوں میں روشنی ڈالتے ہی:۔

جو شخص امیر الموٴمنین  کے زمانہٴ خلافت کے واقعات کو گہری نظر سے دیکھے گا، وہ اس (مرکوجان لے گا کہ امیر الموٴمنین مجبور اور بے بس بنا دیئے گئے تھے ، اور رسوا ء اعظم آپ کے بارے میں وہ اعتقاد نہ رکھتا تھا جو اعتقاد آپ کے متعلق رکھنا واجب و ضرور تھ ۔ وہ پہلے خلفاء کو آپ پر فضیلت دیتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ فضیلت کا معیار خلافت ہے اور اس مسئلہ میں بعد والے الگوں کی تقلید و پیروی کرتے تھے ۔ اور یہ کہتے تھے کہ اگر پہلے لوگوں کو یہ علم نہ ہو تا کہ پہلے خلفاء آپ پر فضیلت رکھتے تھے ، تو وہ آپ پر انہیں مقدم نہ کرتے اور یہ لوگ تو آپ کو ایک تابع اور ان کی رعیت کی حیثیت سے جانتے پہچانتے تھے ، اور جو لوگ آپ کے ساتھ شریک ہو کر جنگ کرتے تھے ، اور جو لوگ آپ کے ساتھ شریک ہو کر جنگ کرتے تھے ، ان میں اکثر حمیت اور عربی عصبیت کے پیش نظر شریک جنگ ہوتے تھے ، نہ دین اور عقیدہ کی بنا پر۔“

(۲) سبا ابن یشجب ابن یعرت ابن قحطان کی اولا د قبیلہٴ سبا کے نام سے موسوم ہے ۔ جب ان لوگوں نے انبیاء کو جھٹلانا شروع کیا تو قدرت نے انہیں جھنجوڑنے کے لیے ان پر پانی کا سیلاب مسلّط کر دیا۔ جس سے ان کے باغات تہہ آب ہر گئے ۔، اور وہ خود گھر بار چھور کر مختلف شہروں میں بکھر گئے ۔ اس واقعہ سے یہ مثل چل نکلی اور جہاں کہیں لوگ اس طرح جدا ہو جائیں کہ پھر مجتمع ہونے کی توقع نہ رہے ، تو یہ مثل استعمال کی جاتی ہے۔“