Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، یقینا فاطمہ ؑ کے غضبناک ہونے سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور اس کی رضا پر خدا راضی ہوتا ہے بحارالانوار کتاب تاریخ فاطمۃ ؑوالحسن ؑ والحسین ؑ باب3

نہج البلاغہ خطبات

یہ خطبہ اشباح کے نام سے مشہور ہے اور امیرالموٴمنین  کے بلند پایہ خطبنوں میں شمار ہوتا ہے اسے ایک سائل کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا جس نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ خلاق عالم کے صفات کو اس طرح بیان فرمائیں کہ ایسا معلوم ہو جیسے ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس پر حضرت غصب ناک ہو گئے اور فرمایا:۔

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے کہ جو فیض و عطا کے روکنے سے مال دار نہیں ہو جاتا اور جو دو عطا سے کبھی عاجز و قاصر نہیں ہوتا ۔ اس لیے کہ اس کے سوا ہر دینے والے کے یہاں دادو دہش سے کمی واقع ہوتی ہے اور ہاتھ روک لینے پر انہیں برا سمجھا جا سکتا ہے ۔ وہ فائدہ بخش نعمتوں اور عطیوں کی فراوانیوں اور روزیوں (کی تقسیم) سے ممنون احسان بنانے والا ہے ۔ ساری مخلوق اس کا کنبہ ہے ۔ اس (۱) نے سب کی روزیاں مقرر کر رکھی ہیں ۔ اس نے اپنے خواہش مندوں اور اپنی نعمت کے طلب گاروں کے لیے راہ کھول دی ہے ۔ وہ دستِ طلب کے نہ بڑھنے پر بھی اتنا ہی کریم ہے جتنا طلب و سوال کا ہاتھ بڑھنے پر۔ وہ ایسا اول ہے جس کے لیے کوئی قبل ہے ہی نہیں کہ کوئی شئے اس سے پہلے ہو سکے ، اور ایسا آخر ہے جس کے لیے کوئی بعد ہے ہی نہیں تاکہ کوئی چیز اس کے بعد فرض کی جاسکے ۔ وہ آنکھ کی پتلیوں کو (دور ہی سے ) روک دینے والا ہے کہ وہ اسے پاسکیں یا اس کی حقیقت معلوم کر سکیں ۔ اس پر زمانہ کے مختلف دور نہیں گذرتے کہ اس کے حالات میں تغیر و تبدل پیدا ہو ، وہ کسی جگہ میں نہیں ہے کہ اس کے لیے نقل و حرکت صحیح ہو سکے ۔ اگر وہ چاندی اور سونے جیسے نفیس دھاتیں کہ جنہیں پہاڑوں کے معدن (لمبی لمبی) سانسیں بھر کر اچھال دیتے ہیں ۔ اور بکھرے ہوئے موتی اور مرجان کی کٹی ہوئی شاخیں کہ جنہیں دریاؤں کی سیپیاں کھکھلا کر ہنستے ہوئے اگل دیتی ہیں ، بخژ دے تو اس سے اس کے جو دو عطا پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ اس کی دولت کا ذخیرہ اس سے ختم ہو سکتا ہے ۔ اور اس کے پاس پھر بھی انعام و کرام کے اتنے ذخیرے موجود رہیں گے۔ جنہیں لوگوں کی مانگ ختم نہیں کر سکتی اس لیے کہ وہ ایسا فیاض ہے جسے سوالوں کا پورا کرنا مفلس نہیں بنا سکتا اور گِڑ گڑا کر سوال کرنے والوں کا حد سے بڑھاہوا اصرار بخل پر آمادہ نہیں کر سکتا ۔ اسے (اللہ کی صفتوں کو) دریافت کرنے والے دیکھو! کہ جن صفتوں کا تمہیں قرآن نے پتہ دیا ہے (ان میں ) تم اس کی پیروی کرو اور اسی کے نور ہدایت سے کسبِ ضیا کرتے رہو اور جو چیزیں کہ قرآن میں واجب نہیں اور نہ سنت پیغمبر و آئمہ ہُدیٰ میں ان کا نام و نشان ہے اور نہ صرف شیطان نے اس کے جاننے کی تمہیں زحمت دی ہے ۔ اس کا علم اللہ ہی کے پاس رہنے دو، اور یہی تم پر اللہ کے حق کی آخری حد ہے ۔ اور اس بات کو یاد رکھو کہ علم میں راسخ و پختہ لوگ وہی ہیں کہ جو غیب کے پردوں میں چھپی ہوئی ساری چیزوں کا اجمالی طور پر اقرار کرتے ( اور ان پر اعتقاد رکھتے ) ہیں اگرچہ ان کی تفسیر و تفصیل نہیں جانتے اور یہی اقرار انہیں غیب پر پڑے ہوئے پر دوں میں دراز گھسنے سے بے نیاز بنائے ہوئے ہے ۔ اور اللہ نے اس بات پر ان کی مدح کی ہے کہ جو چیز ان کے احاطہٴ علم سے باہر ہوتی ہے ۔ اس کی رسائی سے اپنے عجز کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نہیں دی ۔ اس میں تعمق و کاوش کے ترک ہی کا نام رسوخ رکھا ہے ۔ لہذا بس ارسی پر اکتفا کر و اور اپنے عقل کے پیمانہ کے مطابق اللہ کی عظمت کو محدود نہ بناؤ۔ اور نہ تمہارا شمار ہلاک ہونے والوں میں قرار پائے گا۔

وہ ایسا قادر ہے کہ جب اس کی قدرت کی انتہا معلوم کرنے کے لیے وہم اپنے تیر چلا رہا ہو اور فکر ہر طرح کے وسوسوں کے ادھیڑ بن سے آزاد ہو کر اس کے قلمو مملکت کے گہرے بھیدوں پر آگاہ ہونے کے درپے ہو، اور دل اس کی صفتوں کی کیفیت سمجھنے کے لیے والہانہ طور پر دوڑ پڑے ہوں اور ذاتِ الٰہی کو جاننے کے لیے عقلوں کی جستجو و تلاشی کی راہیں حد بیان سے زیادہ دور تک چلی گئی ہوں تو اللہ اس وقت جب وہ غیب کی تیرگیوں کے گڑھوں کو عبور کر رہی ہوتی ہیں ۔ ان سب کو (ناموں کے ساتھ) پلٹا دیتا ہے ۔ چنانچہ جب اس طرح منہ کی کھا کر پلٹی ہیں تو انہیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایسی بے راہ رویوں سے اس کی معرفت کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا اور نہ فکر پیماؤں کے دلوں میں اس کی عزت کے تمکنت و جلال کا ذرا سا شانبہ آ سکتا ہے ۔ وہ وہی ہے کہ جس نے مخلوقات کو ایجاد کیا بغیر اس کے کہ کوئی مثال اپنے سامانے رکھتا اور بغیر اس کے کہ اپنے سے پہلے کسی اور خالق و معبود کی بنائی ہوئی چیزوں کا چربہ اتارتا اس نے اپنی قدرت کی بادشاہت اور ان عجیب چیزوں کے واسطہ سے کہ جن میں اس کی حکمت و دانائی کے آثار (منہ سے) بول رہے ہیں اور مخلوق کے اس اعتاف سے کہ وہ اپنے رکنے تھمنے میں اس کے سہارے کی محتاج ہے ۔ ہمیں وہ چیزیں دکھائی ہیں کہ جنہوں نے قہراً دلیل قائم ہو جانے کے دباؤ سے اس کی معرفت کی طرف ہماری راہنمائی کی ہے اور اس پیدا کر دہ عجیب و غریب چیزوں میں اس کی صنعت کے نقش و نگار اور حکمت کے آثار ۔ نمایاں اور واضح ہیں ۔ چنانچہ ہر مخلوق اس کی ایک حجت اور ایک برہان بن گئی ہے ۔ چاہے وہ خاموش مخلوق ہو۔ مگر اللہ کی تدبیر و کار سازی کی ایک بولتی ہوئی دلیل ہے اور ہستی ضانع کی طرف اس کی راہنمائی ثابت و برقرا رہے میں گواہی دیتا ہوں ۔ کہ جس نے تجھے تیری ہی مخلوق سے ان کے اعضاء کے الگ الگ ہونے اور تیری حکمت کی کارسازیوں سے گوشت و پوست میں ڈھکے ہوئے ان کے جوڑوں ے سروں کے ملنے میں تشبیہہ دی ۔ اس نے اپنے چھپے ہوئے ضمیر کو تیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اور اس کے دل کو یہ یقین چھوُ بھی نہیں گیا کہ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ گویا اس نے پیرو کاروں کا یہ قول نہیں سنا جو اپنے مقتداؤں سے بیزاری چاہتے ہوئے یہ کہیں گے کہ ”خدا کی قسم! ہم تو قطعاً ایک کھلی ہوئی گمراہی میں تھے کہ جب ہم سارے جہاں کے پالنے والے کے برابر تمہیں ٹھہرایا کرتے تھے ۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو تجھے دوسروں کے برابر سمجھ کر اپنے بتوں سے تشبیہہ دیتے ہیں اور اپنے وہم میں تجھ پر مخلوقات کی صفتیں جڑ دیتے ہیں اور اپنے خیال میں اس طرح تیرے حصے بخرے کرتے ہیں ، جس طرح مجسم چیزوں کے جوڑ بند الگ الگ کئے جاتے ہیں ۔ اور اپنی عقلوں کی سوجھ بوجھ کے مطابق تجھے مختلف قوتوں والی مخلوقات پر قیاس کرتے ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے تیری مخلوق میں سے کسی کے برابر جانا اس نے تیرا ہمسر بنا ڈالا۔ اور تیرا ہمسر بنانے والا تیری کتاب کی محکم آیتوں کے مضامین اور ان حقائق کا جنہیں تیری طرف کے روشن دلائل واضح کررہے ہیں ۔ منکر ہے تو وہ اللہ ہے کہ عقلوں کی حد میں گھر نہیں کر سکتا ان کی سوچ بچار کی زد پر آکر کیفیات کو قبول کر لے اور نہ ان کے غور و فکر کی جو لانیوں میں تیری سمائی ہے کہ تو محدود ہو کر ان کے فکری تصرفات کا پابند بن جائے:۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے:۔

اس نے جو چیزیں پیدا کیں ۔ ان کا ایک اندازہ رکھا۔ مضبوط و مستحکم ، اور ان کا انتظام کیا، عمدہ و پاکیزہ ، اور انہیں ان کی سمت پر اس طرح لگایا کہ نہ وہ اپنی آخری منزل کی حدوں سے آگے بڑھیں اور نہ منزل منتہا تک پہنچنے میں کوتاہی کی ۔ جب انہیں اللہ کے ارادے پر چل پڑنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے سرتابی نہیں کی اور وہ ایسا کر ہی کیوں کر سکتی تھیں ۔ جب کہ تمام امور اسی کی مشیئت و ارادہ سے صادر ہوئے ہیں وہ گوناکوں چیزوں کا موجد ہے بغیر کسی سوچ بچار کی طرف رجوع کئے اور بغیر طبیعت کی کسی جولانی کے کہ جسے دل میں چھپائے ہو اور بغیر کسی تجربہ کے کہ جو زمانہ کے حوادث سے حاصل کیا ہو اور بغیر کسی شریک کے کہ جو ان عجیب و غریب چیزوں کی ایجاد میں اس کا معین و مددگار رہا ہو چنانچہ مخلوق (بن بنا کر) مکمل ہو گئی اور اس نے اللہ کی اطاعت کے سامنے سر جھکا دیا اور (فوراً) اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بڑھی۔ نہ کسی دیر کرنے والے کی سی سست رفتاری دامن گیر ہوئی اور نہ کسی حیل حجت کرنے والے کی سی سستی اور ڈھیل حائل ہوئی اس نے ان چیزوں کے ٹیڑھا پن کو سیدھا کر دیا اور ان کی حدیں معین کر دیں ۔ اور اپنی قدرت سے ان متضاد چیزوں میں ہم رنگی و ہم آہنگی پیدا کی اور نفسوں کے رشتے (بدنوں سے) جوڑ دیئے اور انہیں مختلف جنسوں پر بانٹ دیا ۔ جو اپنی حدوں ، اندازیوں ، طبیعتوں اور صورتوں میں جُدا جُدا ہیں ۔ یہ نو ایجاد مخلوق ہے کہ جس کی ساخت اس نے مضبوط کی ہے اور اپنے ارادے کے مطابق اسے بنایا اور ایجاد کیا۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے آسمان کے وصف میں :۔

اس نے بغیر (کسی چیز سے ) وابستہ کئے اس کے شگافوں کے نشیب و فراز کو مرتب کر دیا اور اس کے دراڑوں کی کشادگیوں کو ملادیا اور انہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیا اور اس کے احکام کو لے کر اترنے والوں اور خلق کے اعمال کو لے کر چڑھنے والوں کے لیے اس کی بلندیوں کی دشوار گزاری کو آسان کر دیا ابھی وہ آسمان دھوئیں ہی کی شکل میں تھے ۔ کہ اللہ نے انہیں پکار ا تو (فوراً) ان کے تسموں کے رشتے آپس میں متصل ہو گئے ۔ اس نے ان کے بند دروازوں کو بستہ ہونے کے بعد کھول دیا اور ان کے سوراخوں پر پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے نگہبان کھری کر دیئے اور انہیں اپنے زور سے روک دیا کہ کہیں وہ ہوا کے پھیلاؤ میں ادھر نہ ہو جائیں اور انہیں مامور کیا کہ و ہ اس کے حکم کے سامنے سرجھکائے ہوئے اپنے مرکز پر تھہرے رہیں ۔ اس نے فلک کے سورج کو دن کی روشن نشانی اور چاند کو رات کی دھندلی نشانی قرار دیا ہے ۔ اور انہیں ان کی منزلوں پر چلایا ہے اور ان کی گزرگاہوں میں ان کی رفتار مقرر کر دی ہے تاکہ ان کے ذریعہ سے شب وروز کی تمیز ہو سکے اور انہیں کے اعتبار سے برسوں کی گنتی اور (دوسرے) حساب جانے جا سکیں ۔ پھر یہ کہ اس نے آسمانی فضا میں اس فلک کو آویزاں کیا اور اس میں اسی کی آرائش کے لیے منے منے موتیوں ایسے تارے اور چراغوں کی طرف چمکتے ہوئے ستارے آویزاں کیے اور چوری چھپے کان لگانے والوں پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے تیر چلائے اور ستاروں کو اپنے جبرو قہر سے ان کے ڈھرے پر لگایا کہ کوئی ثابت رہے اور کوئی سیار کبھی تاتار ہو ۔ اور کبھی ابھار اور کسی میں نحوست ہو اور کسی میں سعادت۔“

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے فرشتوں کے وصف ہیں :۔

پھر اللہ سبحانہ ‘ نے اپنے آسمانوں میں ٹھہرانے اور اپنی مملکت کے بلند طبقات کو آباد کرنے کے لیے فرشتوں کی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی ان سے آسمان کے وسیع راستوں کا گوشہ گوشہ بھر دیا اور اسی کی فضا کی وسعتوں کا کونا کونا چھلکا دیا اور ان وسیع اطراف کی پہنائیوں میں تسبیح کرنے والے فرشتوں کی آوازیں قدس و پاکیزگی کی چار دیواریوں اور عظمت کے گہرے حجابوں اور بزرگی و جلال کے سراپردوں میں گونجتی ہیں اور اس گونج کے پیچھے جس سے کان بہرے ہو جاتے ہیں ۔ تجلیات نور کی اتنی فراونیاں ہیں کہ جو نگاہوں کو اپنے تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں ۔ چنانچہ وہ ناکام ونامراد ہو کر اپنی جگہ پر ٹھہری رہتی ہیں َ اللہ نے ان (فرشتوں ) کو جُدا جُدا صورتوں اور الگ الگ پیمانوں پر پیدا کیا ہے ۔ وہ بال و پَر رکھتے ہیں اور اس کے ھجلال و عزت کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ۔ اور مخلوق میں جو اس کی صنعتیں اجاگر ہوئی ہیں ۔ انہیں اپنی طرف نسبت نہیں دیتے اور نہ یہ ادعا کرتے ہیں کہ وہ کسی ایسی شے کو پیدا کر سکتے ہیں کہ جس کے پیدا کرنے میں وہ منفرد دیکتا ہے ۔ بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں جو کسی بات کے کہنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے کہنے پر چلتے ہیں اللہ نے انہیں وہاں اپنی وحی کا امانتدار اور اپنے اوامر نواہی کی ودیعتوں کا حامل بنا کر رسولوں کی طرف بھیجا ہے اور شک و شبہات کے حزشوں سے انہیں محفوظ رکھا ہے ۔ تو ان میں سے کوئی بھی اس کی رضاجوئی کی راہ سے کترانے والا نہیں ۔ اور اس نے اپنی توفیق و اعانت سے ان کی دستگیری کی ، اور خضوع و خشوع کی عجزو شکستگی سے ان کے دلوں کو ڈھانپ دیا ہے اور تسبیح و تقدیس کی سہولتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ہیں اور اپنی توحید کے نشانوں پر ان کے لئے روشن مینار نصب کیے ہیں نہ گناہوں کی گرانباریوں نے انہیں دبا رکھا ہے ، نہ شب و روز کی گردشوں نے ان پر (سواری کے لیے ) پالان ڈالے ہیں اور نہ شکوک و شبہات نے ان کے ایمان کے استحکام پر تیر چلائے ہیں اور نہ ان کے یقنین کی پختگیوں پر (ادہام و ) ظنون نے دھاوا بولا ہے ۔ اور نہ ان کے درمیان کبھی کینہ و حسد کی چنگاریاں بھڑکی ہیں ۔ اور نہ حیرانی و سراسیمگی ان کے دلوں میں سرائیت کی ہوئی معرفت اور ان کے سینے کی تہوں میں تہوں میں جمی ہوئی عظمت خدا وندی وہیبتِ جلال الٰہی کو چھین سکی ہے ۔ نہ کبھی وسوسوں نے ان پر دندان آزا تیز کیا ہے ، کہ ان کے فکروں کو زنگ و تکدرے سے آلودہ کردیں ۔ ان میں کچھ وہ ہیں جو اللہ کے پیدا کردہ بوجھل بادلوں اور اونچے پہاڑوں کی بلندیوں اور گھٹاٹوپ اندھیروں کی سیاہیوں کی صورتوں میں ہیں اور ان میں کچھ وہ ہیں جن کے قدم تحت الثریٰ کی حدوں کو چیر کر نکل گئے ہیں ۔ تو وہ سفید جھنڈوں کے مانند ہیں جو فضا کی وسعت کو دیتے ہوئے آگے بڑھ گئے ہیں اور ان پھر یروں کے آخری سرے تک ایک ہلکی ہوا چل رہی ہے جو انہیں روکے ہوئے ہے ۔ ان فرشتوں کو عبادت کو مشغولیتوں نے ہر چیز سے بے فکر بنا دیا ۔ اور ایمان کے ٹھوس عقیدے ان کے لیے اللہ کی معرفت کا وسیلہ بن گئے ہیں اور یقین کا مل نے اوروں سے ہٹا کر اسی سے ان کی لو لگا دی ہے ۔ اللہ کی طرف کی نعمتوں کے سوا کسی غیر کے عطا وانعام کی انہیں خواہش ہی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے معرفت کے شیریں مزے چکھے ہیں اور اس کی محبت کے سیراب کرنے والے جام سے سرشار ہیں ۔ اوران کے دلوں کی تہ میں اس کا خوف جڑپکڑ چکا ہے ، تو انہوں نے لمبی چوڑی عبادتوں سے اپنی سیدھی کمریں ٹیڑھی کر لی ہیں اور ہمہ وقت اسی کی طلب میں لگے رہنے کے باوجود ان کے تضرع و عاجزی کے ذخیرے ختم نہیں ہوتے اور قرب الٰہی کی بلندیوں کے باوجود خوف و خشوع کے پھندے ان (کے گلے ) سے نہیں اترتے ۔ نہ ان میں کبھی خود پشندی پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال کو زیادہ خیال کرنے لگیں اور نہ جلال پر وردگار کے سامنے ان کے عجزو انکسار نے یہ موقع آنے دیا ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بڑا سمجھ سکیں ۔ ان میں مسلسل تعب اٹھانے کے باوجود بھی سستی نہیں آنے پاتی، اور نہ ان کی طلب و رغبت میں کبھی کمی پیدا ہوئی ہے کہ وہ اپنے پالنے والے کے توقعات سے روگرداں ہو جائیں اور نہ مسلسل مناجاتوں سے ان کی زبان کی نوکیں خشک ہوتی ہیں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ وہ دوسرے اشغال کی وجہ سے تضرع و زاری کی آوازوں کو دھیما کر لیں اور نہ عبادت کی صفوں میں ان کے شانے آگے پیچھے ہو جاتے ہیں اور نہ وہ آرام و راحت کی خاطر اس کے احکام کی تعمیل میں کوتاہی کر کے اپنی گردنوں کو ادھرسے ادھر کرتے ہیں نہ ان کی کوششوں کے عزم پر غفلت کی نادانیاں حملہ آور ہوتی ہیں ، اور نہ ان کی (بلند) ہمتوں میں فریب دینے والے وسوسوں کا گزر ہوتا ہے ۔ انہوں نے احتیاج کے دن کے لیے صاحب عرش کواپنا ذخیرہ بنا رکھا ہے ، اور جب دوسرے لوگ مخلوقات کی طرف اپنی خواہشوں کو لے کر بڑھتے ہیں تو یہ بس اسی سے لو لگاتے ہیں ۔ وہ اس کی عبادت کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے انہیں عبادت کا والہانہ شوق (کسی اور طرف لے جانے کے بجائے) ان کی قلبی امید و بیم کے ان ہی سرچشموں کی طرف لے جاتا ہے ، جن کے سوتے کبھی موقوف نہیں ہوتے خوف کھانے کے وجود ختم نہیں ہوئے کہ وہ اپنی کوششوں میں سستی کریں اور نہ دنیا کے طمعوں نے انہیں جکڑ رکھا ہے کہ وہ دنیا کے لیے وقتی کوششوں کو اپنی اس جدوجہد پر ترجیح دیں اور نہ انہوں نے اپنے سابقہ اعمال کو کبھی بڑا سمجھا ہے ، اور اگر بڑا سمجھتے تو پھر امیدیں خوف خدا کے اندیشوں کو ان (کے صفحہٴ دل) سے مٹا دیتیں ۔ اور نہ شیطان کے ورغلانے سے ان میں باہم اپنے پروردگار کے مرمتعلق کبھی کوئی اختلاف پیدا ہو ، اور نہ ایک دوسرے سے کٹنے (اور بگاڑ پیدا کرنے ) کی وجہ سے پراگندہ و متفرق ہوئے ، اور نہ آپس میں حسد رکھنے کے سبب سے ان کے دلوں میں کینہ و بغض پیدا ہوا اور نہ شک و شبہات میں پڑنے کی وجہ سے تتر بتر وہئے ۔ اور نہ پست ہمتیوں نے ان پر کبھی قبضہ کیا۔ وہ ایمان کے پابند ہیں ، انہیں اس کے بندھنوں سے کجی ، روگردانی سستی یا کاہلی نے کبھی نہیں چھڑایا۔ سطح آسمان پر کھال کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں کوئی سجدہ کرنے والا فرشتہ یا تیزی سے تگ و دو کرنے والا ملک نہ ہو، پروردگار کی اطاعت کے بڑھنے سے ان کے علم میں زیادتی ہی ہوتی رہتی ہے اور ان کے دلوں میں اس کی عزت کی عظمت و جلالت بڑھتی ہی جاتی ہے ۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے :۔

”جس میں زمیں اور اس کے پانی پر بچھائے جانے کی کیفیت بیان فرمائی ہے “:۔

(اللہ نے ) مزین کو تہ و بالاہونے والی مہیب لہروں اور بھر پور سمندروں کی انتہاہ گہرائیوں کے اوپر پاٹا جہاں موجیں موجوں سے ٹکرا کر تھپیڑے کھاتی تھیں اور لہریں لہروں کو دھیل کر گونج اٹھتی تھیں اور اس طرح پھین دے رہی تھیں جس طرح مستی و ہیجان کے عالم میں نر اونٹ ۔ چنانچہ اس متلاطم پانی کی طغیانیاں زمین کے بھاری بوجھ کے دباؤ سے فرو ہو گئیں ، اور جب اس نے اپنا سینہ اس پر ٹھک کر اسے روندا تو سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا اور جب اپنے شانے ٹکا کر اس پر لوتی، تو وہ ڈلتوں اور خواریوں کے ساتھ رام ہو گیا ۔ کہاں تو اس کی موجیں دند نا رہی تھیں کہ اب عاجز و بے بس ہو کر تھم گیا، اور ذلت کی لگاموں میں اسیر ہو کر مطیع ہو گیا، اور زمین اس طوفان خیز پانی کے گہراؤ میں اپنا دامن پھیلا کر ٹھہر گئی اور اس کے اٹھانے اور سر اٹھانے کے غرور اور تکبر سے ناک اور اوپر چڑھانے اور بہاؤ میں تفوق و سر بلندی دکھانے کا خاتمہ کر دیا ۔ اور اس کی روانی کی بے اعتدالیوں پر ایسے بند باندھے کہ وہ اچھلنے کو دنے کے بعد(بالکل بے دم) ہو کر ٹھہر گیا۔ اور جست و خیز کی سر مستیاں دکھا کر تھم گیا۔ جب اس کے کناروں کے نیچے پانی کی طغیانی کا زور و شور سکون پذیر ہوا۔ اور اس کے کاندھوں پر اونچے اونچے اور چوڑے چکلے پہاڑوں کا بوجھ لد گیا، تو (اللہ نے ) اس کی ناک کے بانسوں سے پانی کے چشمے جاری کر دیئے جنہیں دور دراز جنگلوں اور کھُدے ہوئے گڑھوں میں پھیلا دیا۔ اور پتھروں کی مضبطوط چٹانوں اور بلند چوٹیوں والے پتھریلے پہاڑوں سے اس کی حرکت میں اعتدال پیدا کیا۔ چنانچہ اس کی سطح کے مختلف حصوں میں پہاڑوں کے ڈوب جانے اور اس کی گہرائیوں کی تہ میں گھس جانے اور اس کے ہموار حصوں کی بلندیوں اور پست سطحوں پر سوار ہو جانے کی وجہ سے اس کی تھرتھراہٹ جاتی رہی اور اللہ نے زمین سے لے کر فضائے بسیط تک پھیلاؤ اور وسعت رکھی اور اس میں رہنے والوں کو سانس لینے کو ہوا مہیا کی اور اس میں بسنے والوں کو ان کی تمام ضروریات کے ساتھ ٹھہرایا، پھر اس نے چٹیل زمیوں کو کہ جن کی بلندیوں تک نہ چشموں کا پانی پہنچ سکتا ہے اور نہ نہروں کے نالے وہاں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ رکھتے ہیں ۔ یونہی نہیں رہنے دیا، بلکہ ان کے لیے ہوا پر اٹھنے والی گھٹائیں پیدا کیں جو مردہ زمین میں زندگی کی لیریں دوڑا دیتی ہیں ۔ اور اس سے گھاس پات اگاتی ہیں ، اس نے ابر کی بکھری ہوئی چمکیلی ٹکڑیوں اور پراگندہ بدلیوں کو ایک جا کر کے ابر محیط بنا یا، اور جب اس کے اندر پانی کے ذخیرے حرکت میں آگئے اور اس کے کناروں میں بجلیاں تڑپنے لگیں اور برق کی چمک سفید ابروں کی تہوں اور گھنے بادلوں کے اندر مسلسل جاری رہی تو اللہ نے انہیں موسلادھار برسنے کے لیے بھیج دیا۔ اس طرح کہ اس کے پانی سے بھرے ہوئے بوجھل ٹکڑے زمین پر مندڈلا رہے تھے اور جنوبی ہوائیں انہیں مسل مسل کر برسنے والے مینہ کی بوندیں اور ایک دم ٹوٹ پڑنے والی بارش کے جھالے برسا رہی تھیں ۔ جب بادلوں نے اپنا سینہ ہاتھ پیرؤں سمیت زمین پر ٹیک دیا اور پانی کا سارا لدا لدا یا بوجھ اس پر پھینک دیا، تو اللہ نے اقتادہ زمینوں سے سر سبز کھیتیاں اگائیں اور خشک پہاڑوں پر ہرا بھرا سبزہ پھیلا دیا زمین بھی اپنے مرغزاروں کے باؤ سنگار سے خوش ہو کر جھومنے لگی اور ان شگوفوں کی اوڑھنیوں سے جو اسے اوڑھا دی گئی تھیں اور ان شگفتہ و شاداب کلیوں کے زیوروں سے جو اسے پہنا دیئے گئے تھے ، اترانے لگی ۔ اللہ نے ان چیزوں کو لوگوں کی زندگی کا وسیلہ اور چوپاؤں کا رزق قرار دیا ہے اور اسی نے زمین کی سمتوں میں کشادہ راستے نکالے ہیں ، اور اس کی شاہراہوں پر چلنے والوں کے لیے روشنی کے مینار نصب کئے ہیں جب اللہ نے فرشِ زمین بچھا لیا اور اپنا کام پورا کر لیا تو آدم علیہ السام کو دوسری مخلوق کے مقابلہ میں برگزیدہ ہونے کی وجہ سے منتخب کر لیا اور انہیں نوع انسانی کی فرد اوّل قرار دیا ۔ اور انہیں اپنی جنت میں ٹھرایا جہاں دل کھول کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کی اور جس سے منع کرنا تھا ۔ اس سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، اور یہ تبا دیا تھا۔ اس کی طرف قدم بڑھانے میں عدول حکمی کی آلائش ہے اور اپنے مربتہ کو خطرہ میں ڈالنا ہے ۔ لیکن جِس چیز سے انہیں روکا تھا۔ انہوں نے اسی کا رخ کیا جیسا کہ پہلے ہی سے اس کے علم میں تھا۔ چنانچہ توبہ کے بعد انہیں جنت سے نیچے اتار دیا، تاکہ اپنی زمین کو ان کی اولاد سے آباد کرے اور ان کے زریعے بندوں پر حجت پیش کرے اللہ نے آدم  کو اتھا لینے کے بعد بھی اپنی مخلوق کر ایسی چیزوں سے خالی نہیں رکھا جو اس کی ربوبیت کی دلیلوں کو مضبوط کرتی رہیں ۔ اور بندوں کے لیے اس کی معرفت کا ذریعہ بنی رہیں اور یکے بعد دیگرے ہر دور میں وہ اپنے بر گزیدہ نبّیوں اور رسالت کے امانتداروں کی زبانوں سے حجت کے پہنچانے کی تجدیدکرتا رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے نبی کے ذریعہ وہ حجت (پوری طرح) تمام ہو گئی اور حجت پورا کرنا اور ڈرا دیا جانا اپنے نقطئہ اختتام کو پہنچ گیا اس نے روزیاں مقرر کر رکھی ہیں (کسی کے لیے ) زیادہ اور (کسی کے لیے ) کم اور اس کی تقسیم میں کہیں تنگی رکھی ہے اور کہیں فراخی اور یہ بالکل عدل کے مطابق تھا اس طرح کہ اس نے جس جس صورت سے چاہا امتحان لیا ہے ۔ رزق کی آسانی یا دشواری کے ساتھ اور مال دار فقیر کے شکر اور صبر کو جانچا ہے ۔ پھر اس نے رزق کی فراخیوں کے ساتھ فقرو فاقہ کے خطرے اور اس کی سلامتیوں میں نت نئی آفتوں کے دغدغے اور فراخی و وسعت کی شادمانیوں کے ساتھ غم و غصہ کے گلوگیر پھندے بھی لگا رکھے ہیں ۔ اس نے زندگی کی (مخلف) مدّتیں مقرر کی ہیں ۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم ، کسی کو آگے اور کسی کو پیچھے کر دی اہے اور ان مدّتوں کی رسیوں کی موت سے گرہ لگا دی ہے اور وہ موت ان کو کھینچے لیے جاتی ہے اور ان کے مضبوط رشتوں کو ٹکڑے کئے دیتی ہے ۔

وہ بھید چھپانے والوں کی نیتوں ، کھُسر پھُسر کرنے والوں کی سرگوشیوں ، منطون اور بے بنیاد خیالوں ، دل میں جمے ہوئے یقینی ارادوں ، پلکوں (کے نیچے) کنگھیوں کے اشاروں ، دل کی تہوں اور غیب کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے اور (ان آوازوں کا سننے والا ہے ) جن کا کان لگا کر سننے کے لیے کانوں کے سراخوں کر جھکنا پڑتا ہے اور چیونٹیوں کے موسم گرما کے مسکنوں اور حشرات الارض کے موسمِ سرما بسر کرنے کے مقاموں سے آگاہ ہے اور پسر مردہ عورتوں کے (درود بھرے) نالوں کی گونج اور قدموں کی چاپ کا سننے والا ہے اور سبز پتیوں کے غلاموں کے اندرونی خولوں میں پھلوں کے نشوو نما پانے کی جگہوں اور پہاڑوں کی کھوؤں اور ان کے نشیبوں میں وحشی جانروں کی پناہ گاہوں اور درختوں کے تنوں اور ان کے چھلکوں میں مچھروں کے سر چھپانے کے سوراخوں اور شاخوں میں پتیوں کے پھوٹنے کی جگہوں اور صلب کی گذر گاہوں میں نطفوں کے ٹھکانوں اور زمین سے اٹھنے والے ابر کے لکوں اور آپس میں جڑے ہوئے بادلوں اور تہ بہ تہ جمے ہوئے ابروں سے ٹپکنے والے بارش کے قطروں سے باخبر ہے ۔ اور ریگ (بیابان) کے ذراّے جنہیں بادبگولوں نے اپنے دامنوں سے اڑایا ہے اور وہ نشانات جنہیں بارشوں کے سیلابوں نے مٹا ڈالا ہے اس کے علم میں ہیں ، اور ریت کے ٹیلوں پر زمین کے کیڑوں کے چلنے پھرنے اور سربلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر بال و پر رکھنے والے طائروں کے نشیمنوں اور گھونسلوں کی اندھیاریوں میں چہچہانے والے پرندوں کے نعمتوں کو جانتا ہے اور جن چیزوں کو سیپیوں نے سمیٹ رکھا ہے اور جن چیزوں کو دریان کی موجیں اپنے پہلو کے نیچے دبائے ہوئے ہیں اور جن کو رات (کی تاریک چادروں ) نے ڈھانپ رکھا ہے اور جن پر دن کے سورج نے اپنی کرنوں سے نور بکھیرا ہے اور جن پر کبھی ظلمت کی تہیں جم جاتی ہیں اور کبھی نور کے دھارے بہہ نکلتے ہیں پہچانتا ہے ۔ وہ ہر قدم کا نشان ، ہر چیز کی حسو حرکت ، ہر لفظ کی گونج ، ہر ہونٹ کی جنبش ، ہر جاندار کا ٹھکانا، ہر ذرے کا وزن اور ہر جی دار کی سسکیوں کی آواز اور جو کچھ بھی اس زمین پر ہے ، سب اس کے علم میں ہے ۔ وہ درختوں کا پھل ہو یا ٹوٹ کر گرنے والا پتہ ، یا نطفے یا منجمد خون کا ٹھکانا اور لوتھڑا یا ( اس کے بعد) بننے ولای مخلوق اور پیدا ہونے والا بچہ (ان چیزوں کے جاننے میں ) اسے کلفت و تعب اٹھانا نہیں پڑی اور نہ اسے اپنی مخلوق کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ درپیش ہوئی اور نہ اسے اپنے احکام کے چلانے اور مخلوقات کا انتظام کرنے سے سستی اور تھکن لاحق ہوئی بلکہ اس کا علم تو ان چیزوں کے اندر تک اترا ہو اہے اور ایک ایک چیز اس کے شما ر میں ہے ۔ اس کا عدل ہمہ گیر، اور اس کا فضل سب کے شامل حال ہے ، اور اس کے ساتھ وہ اس کے شایان شان حق کی ادائیگی سے قاسر ہیں ۔

اے خدا ! تو ہی توصیف و ثنا اور انتہائی درجفہ تک سرا ہے جانے کا مستحق ہے ۔ اگر تجھ سے آس لگائی جائے ، تو تو دلوں کی بہریں ڈھارس ہے اور اگرتجھ سے امیدیں باندھی جائیں ، تو تو بہترین چشمہٴ امید ہے ۔ تو نے مجھے ایسی قوت بیان بخشی ہے کہ جس سے تیرے علاوہ کسی کی مدح اور ستائش نہیں کرتا ہوں ، اور میں اپنی مدح کا رخ کبھی ان لوگوں کی طرف نہیں موڑنا چاہتا جو ناامیدیوں کو مرکز اور بدگمانیوں کے مقامات ہیں ، تو نے میری زبانوں کو انسانوں کی مدح اور پردردہ مخلوق کی تعریف و ثنا سے ہٹا لیا ہے ۔ بار الٰہا!ہر ثناء گستُر کے لیے اپنے ممدُوح پر انعام و کرام اور عطاو بخشش پانے کا حق ہوتا ہے ۔ اور میں تجھ سے امید لگائے بیٹھا ہوں یہ کہ تو رحمت کے ذخیروں اور منعفرت کے خزانوں کا پتہ دینے والا ہے ۔ خدایا! یہ تیرے سامنے وہ شخص کھڑا ہے جس نے تیری توحید و یکتائی میں تجھے منفرد مانا ہے اور ان ستائشوں اور تعریفوں کا تیرے علاوہ کسی کو اہل نہیں سمجھا ۔ میری احتیاج تجھ سے وابستہ ہے ۔ تیری ہی بخششوں اور کامرانیوں سے اس کی بے نوائی کا علاج ہو سکتا ہے ۔ اور ا سکے فقرو فاقہ کو تیرا ہی جو دواحسان سہارا دے سکتا ہے ہمیں تو اسی جگہ پر اپنی خوشنودیاں بخش دے اور دوسروں کی طرف دستِ طلب بڑھانے سے بے نیاز کر دے تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

(۱) اس خطبہ کا نام ” خطبئہ اشباح“ ہے ۔ اشباح شج کی جمع ہے ، جس کے معنی ڈھانچے کے ہوتے ہیں ، چونکہ اس میں ملائکہ اور مختلف قسم کے پیکروں کا تذکرہ ہے ۔ اس لیے اس نام سے موسوم کیا گی اہے ۔

مسعدہ ابن صدقہ عبدی نے امام جعفر صادق علیہ السّلام سے روایت کی ہے کہ جب حضرت  سائل کے سوال پر برہم ہوئے تو مسجدِ کوفہ میں ایک جم غفیر کے سامنے یہ خطبہ دیا۔ سائل پر برہم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کا سوال تکلیف شرع سے غیر متعلق اور حدود امکان سے باہر تھا۔

(۲) خدا وندِ عالم رزق کا ضامن اور روزی کا کفیل ہے ، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے ۔

زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کے رزق کا ذمہ اللہ نے نہ لیا ہو لیکن اس کے ضامن رزق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سب کے لیے زندگی و معیشت کے سروسامان مہیا کر دیئے ہیں ۔ اور جنگلوں ، پہاڑوں ، دریاؤں ، میدانوں اور زمین کی وسعتوں میں سب کا حصہ یکسا رکھا ہے اور ہر ایک کو ان سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا ہے ۔ اس کے انعامات کسی ایک سے مخصوص نہیں ہیں اور نہ اس کے رزق کا دروازہ کسی کے لیے بند ہے ۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے ۔

ہم ان کی اور ان کی تمہارے پروردگا ر کی بخششوں سے مدد کرتے ہیں ۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش کسی کے لیے بند نہیں ۔ “

اب کوئی تن آسانی و سہولت پسندی کی وجہ سے ان چیزوں کو حاسل نہ کرے اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے ، تو ایسا نہیں کہ گھر بیٹھے روزی پہنچ جایا کرے ۔ اس نے تو زمین پر گونا گوں نعمتوں کے خوان چن دیئے ہیں ۔ لیکن انہیں حاصل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ سمندر کی تہ میں موتی بکھیر دیئے ہیں ۔ لیکن انہیں نکالنے کے لیے غوطہ زنی کی حاجت ہے ۔ پہاڑوں کے دامن میں لعل و جواہر بھر دیئے ہیں ۔ لیکن کوہ کنی کے بغیر ان تک رسائی نہیں ہو سکتے ۔ زمین میں نمو کے خزانے موجود ہیں ۔ مگر تخم پاشی کے بغیر ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ دنیا میں چوطرفہ رزق کے انبار بکھرے ہوئے ہیں سفر کی مشقتوں کے بغیر انہیں سمیٹا نہیں جا سکتا ۔ چنانچہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے ۔“

زمین کے اطراف و جوانب میں چلوپھرو، اور اس کا رزق کھاؤ۔

اس کے رازق ہونے کے یہ معنی نہیں کہ نہ کدو کاوش کرنا پڑے نہ تلاشِ معاش میں گھر سے نکلنا پڑے اور خود بخود روزی پہنچ جایا کرے ۔ بلکہ رازق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں نشوو نما کی صلاحیت پیدا کی ۔ روئید گی کے لیے بادل برسائے پھل ، سبزیاں ، اور غلے پیدا کئے ۔ یہ سب تو اللہ کی طرف سے ہے لیکن ان کا حاصل کرنا سعی و عمل سے وابستہ ہے جو جدو جہد کرے گا۔ وہ اپنی کوشش دریاضت کے ثمرات سے بہرہ اندوز ہوگا اور جو اپنی کوشش سے ہاتھ اٹھا لے گا، وہ اپنی سستی و کوتاہی کے نتائج سے دو چار ہو گا۔ چنانچہ قدرت کاارشاد ہے :۔

انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے نظامِ قدرت اسی پر قائم ہے کہ بوؤ اور کاٹو، اور بوئے بغیر روئیدگی کی امید رکھنا ، اور کئے بغیر نتائج کی آس لگانا غلط ہے اعضاؤ جوارح ہیں ہی اسی لیے کہ انہیں بر سر عمل رکھا جائے ۔ چنانہ حضرت باری تعالیٰ کا جناب مریم علیہا السلام سے خطاب ہے ۔

تم خرمے کے درخت کا تنہ اپنی طرف ہلاؤ تم پر پکے ہوئے خرمے گریں گے ، انہیں کھاؤ اور (چشمے کا پانی ) پیو، اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ “

قدرت نے حضرت مریم علیہا السلام کے لیے کھانے پینے کا سامان مہیا کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں کیا کہ خرموں کو درخت سے اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیا ہو۔ کیونکہ جہاں تک رزق کے پیدا کرنے کا تعلق ہے وہ اسی کا کام ہے ۔ اس لیے درخت کو سر سبزو شاداب کیا، اس میں پھل لگائے اور پھلوں کو پختہ کر دیا۔ لیکن جب انہیں اتارنے کی نوبت آتی ہے ، تو قدرت دخل نہیں دیتی ۔ صرف حضرت مریم (س) کو ان کا کام یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کو ہلائیں ، اور اپنے رزق کو حاصل کریں ۔

اگر اس کی راز قیت کے یہی معنی ہیں کہ ”جو دیتا ہے وہی دیتا ہے اور جو ملتا ہے اسی کی طرف سے ملتا ہے ۔“ تو پھر انسان جو کچھ بھی کھائے کمائے گا، اور جس طرح بھی حاصل کرے گا، اوہ اس کے لیے حلال ہی ہو گا۔ خواہ چوری سے حاصل ہو یا رشوت سے ظلم سے حاصل ہو یا غصب سے ۔ کیونکہ یہ اللہ کا فعل اور اس کا دیا رزق ہو گا جس میں انسان کے اختیار کا کچھ دخل نہ ہو گا اور جہاں کوئی چیز اختیار کے حدود سے باہر ہو اس کے لیے حلال و حرام کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے کسی قسم کی باز پرس ہوتی ہے اور جب ایسا نہیں بلکہ اس سے حلال و حرام کا تعلق ہوتا ہے ، تو پھر اسے انسانی اعمال سے متعلق ہونا چاہئے تاکہ اس سے پوچھا جا سکے کہ اس نے حلال طریقہ سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے البتہ جہاں اس نے اکتساب رزق کی قوتیں ہی نہیں دیں ، وہاں رشق رسانی کا ذمہ خود لیا ہے ۔ چنانچہ شکمِ مادر میں جنین کے لیے غذا کے پہنچانے کا سروسامان کیا ، جو اس کی ضرورت اور احتیاج کے مطابق اسے ملتا رہتا ہے ۔ لیکن جب یہی بچہ کار گاہ ہستی میں قدم رکھتا ہے اور ہاتھ پیر ہلائے کی سکت اس میں آجاتی ہے ، تو پھر منہ ہلائے بغیر اپنے سر چشمئہ رزق سے غذا حاصل نہیں کر سکتا۔

(۲) کائناتِ ہستی کے نظم و نسق میں جس طرح نتائج کے ترتب کو انسانی کا رگذاریوں سے وابستہ کیا ہے جس سے قوت عمل باطل نہیں ہوتی ، اسی طرح ان مساعی کو کامیانی و ناکامی کو اپنی مشیت کا پابند بھی بنایا ہے تاکہ انسان اپنی طاقت عمل پر بھروسہ کر کے خالق کو نہ بھول جائے ۔ یہی جبرو تفویض کے درمیان امر بین الامرین کا نقطہ ہے ۔ چنانچہ جس طرح تمام کائنات میں قدرت کا ہمہ گیر اور محکم قانون کام کر رہا ہے ، اس طرح رزق کی پید وار اور اس کی تقسیم بھی تدبیر و تقدیر دونوں کی کار فرمائی کے ساتھ اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازے کے مطابق ہوتی ہے جو انسانی نتائج عمل کے تناسب اور پھر اس کی حکمت و مصنحت کی کارفرمائی کی وجہ سے کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ ۔ اب چونکہ سامان معیشت کا وہی خالق و موجد ہے اور اکتساب رزق کی قوتیں اس کی بخشی ہوئی ہیں ، اس لیے رزق کی کمی و بیشی کی نسبت اسی کی طرف دی گئی ہے کہ ا س نے سعی و عمل کے اختلا ف اور مصالح عباد کے پیش نظر رزق کے الگ الگ معیار اور مختلف پیمانے مقرر کئے ہیں ۔ کہیں افلاس ہے اور کہیں خوش حالی کہیں تکلیف ہے اور کہیں راحت ، کوئی مسرت و اطمینان کے گہوارے میں جھول رہا ہے ، اور کوئی فقرو ناداری کی سختیاں جھیل رہا ہے ۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے :۔

اللہ جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے ، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیت اہے ، بے شک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

امیر الموٴمنین علیہ السّلام نے خطبہ ۲۳ میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔

ہر شخص کے مقسوم میں جو کم یا زیادہ ہے اسے لے کر فرمان قضا آسمان سے زمین پر اس طرح اترتے ہیں جس طرح بارش کے قطرے ۔

چنانچہ جس طرح بارش کے فیضان کا ایک نظم و انضباط ہے کہ سطح سمندر سے بخارات انہیں اورپانی کے ذخیرے اٹھائے ہوئے فضا میں گھنگور گھٹا کی صورت میں پھیل جائیں اور قطرہ قطرہ کر کے اس طرح ٹپکیں کہ قطروں کے تار بندھ جائیں اور میدانی زمینوں اور بلند ٹیلوں کی رگوں اور نسوں کو سیراب کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں اور جہاں نشیب ہو، پانی کے خزانے جمع کرتے رہیں تاکہ پیاسے آکر پئیں ، جانور سیراب ہوں ، اور سوکھی زمینوں کی اس سے آبیاری ہو۔ یونہی اللہ سبحانہ نے زندگی و معیشت کے تمام سروسامان مہیا کر رکھے ہیں ۔ لیکن اس کی بخشش کا ایک مقررہ اندازہ ہے جس میں ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا چنانچہ ارشاد قدرت ہے ۔“

کوئی چیز ایسی نہیں جس کے (بھر پوُر) خزانے ہمارے پاس موجود نہ ہوں ۔ لیکن ہم ہر چیز کو مقررہ پیمانے پر بھیجتے ہیں ۔

اگر انسان کی بڑھتی ہوئی طمع و حرص کے پیمانے چھلکنے لگیں ، تو جس طرح بارش کی فراوانی ، روئیدگی اور شادابی کے بجائے فصلیں تباہ کر دیتی ہے، یونہی سامانِ معیشت و ضروریاتِ زندگی کی کثرت ، انسان کو اللہ سے بے نیاز اور بغاوت و سرکشی پر آمادہ کر دے چنانچہ اللہ سبحانہ فرماتا ہے ۔

اگر خدا اپنے بندوں کی روزی میں فراخی کر دے ، تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں ۔ وہ تو ایک اندازے پر جس کے لیے جتان چاہتا ہے بھیجتا ہے اور وہ اپنے بندوں (کی مصلحتوں ) سے واقف اور ان پر نظر رکھتا ہے ۔

اور اگر رزق میں کمی کر دے تو جس طرح بارش کا رک جانا زمین کو بنجر اور چوپاؤں کو ہلاک کر دیتا ہے ، یونہی ذرائع رزق کی بندش سے انسانی معاشرہ تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے اور زندگی و معیشت کا کوئی سروسامان باقی نہ رہے چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے ۔“

اگر خدا اپنی روزی کو روک لے ، تو کون ایسا ہے جو تمہیں روزی دے۔

لہذا اس حکیم و دانا نے ایک متناسب و معتدل طریقہ پر نظام رزق جاری کیا ہے اور رزق کی اہمیت ظاہر کرنے اور ایک کو دوسرے سے مرتبط رکھنے کے لیے رزق کی تقسیم میں تفرقے پدیا کر دیئے ہیں ۔ یہ تفرقہ اور غیر مسادیانہ تقسیم کبھی خود انسانی مساعی کے اختلاف کا نتیجہ ہوتی ہے اور کبھی نظام عالم کے مجموعی مفاد اور اس کی حکمت و مصلحت کی کارفرمائی کی بنا پر ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ اگر فقیرو احتیاج میں نادار کے صبرو استقلال کا امتحان لیا ہے تو ثروت و دولت میں دولتمند کے شکر اور ادائیگی حقوق کی کڑی آشمائش ہے کہ وہ فقراء و مساکین کے حقوق ادا کرتا ہے یا نہیں ، ناداروں اور فاقہ کشوں کی خبر لیتا ہے یا نہیں ، اور پھر جہاں دولت ہو گی ، طرح طرح کے خطرات بھی پید اہوں گے ۔ کبھی مال و جائیداد کے لیے خطرہ ہو گا کبھی فقرو افلاس کا گٹھا ہو گا۔

چنانچہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ جو دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے کو زیادہ مطمئن اور خوش پاتے ہوں گے ان کے نزدیک یہ بے سروسامانی اور بے مائیگی اس دولت سے کہیں زیادہ بہتر ہو گی جو ان کے آرام و اطمینان کو چھین لے اور کبھی یہی دولت جسے انسان جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے اور اس کے جان جانے کا سبب بن جاتی ہے پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب تک دولت نہ تھی ، اخلاق محفوظ تھے ۔ سیرت بے داغ تھی اور ادھر مال و دولت کی فراوانی ہوئی کہ اخلاق تباہ وہ گئے کر دار بگڑ گیا۔ اب شراب کا دور بھی ہے ، مہوشوں کا جمگھٹا بھی ہے نغمہ و سرود کی بزم بھی ہے اس صورت میں دولت کا نہ ہونا ہی ایک نعمت تھا ۔ لیکن انسان اللہ کی مصلحت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے چیخ اٹھتا ہے اور وقتی تکلیف سے متاثر ہو کر شکوہ شکایت پر اتر آتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کتنی برائیوں سے اس کا دامن بچا رہا ہے کہ جو دولت کے ہونے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی تھیں ۔ لہذا دولت اگر راحت کی کفیل ہے تو فقراء اخلاق کا نگہبان ہے ۔“

(۱) امیر الموٴمنین  نے جس اعجازی بلاغت کے ساتھ خداوندِ عالم کے عالم جزئیات ہونے پر روشنی ڈالی ہے اور جن پر شکوہ لفظوں کے ساتھ اس کے علم کی ہمہ گیری کی تصویر کھینچی ہے ، وہ منکر کے ذہن کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی ، چنانچہ ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے :۔

اگر ارسطا طالیس کو جو خدا وندِ عالم کے عالم جرئیات ہونے کا منکر ہے اس کلام کو سنے ل، تو اس کا بھی دل جھک جائے ۔ رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور خیالات میں انقلاب پیدا ہو جائے کیا اس کلام کی آب و تاب دبدبہ و طنطنہ ، شکوہ و جلال اور متانت و پختگی تم نہیں دیکھتے اور ان اوصاف کے علاوہ اس میں شیریں بیانی، رنگینی ،لطافت اور سلامت کے جوہر نمایاں ہیں مجھے تو کوئی کلام اس سے ملتا جلتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ ہاں اگرکوئی کلام اس سے میل کھتا ہے تو وہ خالقِ کلام کا کلام ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے ۔ جب کہ یہ اسی شجر کی بلند شاخ ، ایس دریا کی جدول اور اسی تجلی کا “پر تو ہے ۔

جن لوگوں نے صرف اسے عالم ِ کلیات مانا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ جزئیات میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے لہذا اسے عالم نزئیات ماننے کی صورت میں اس کے علم کو بھی متغیر ماننا پڑے گا ، اور علم چونکہ عین ذات ہے لہذا ذات بھی تغیرات کی آماجگاہ بن جائے گی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ عادث قرار پا کر اپنی قدامت کو کھو بیٹھے گا۔ مگر یہ ایک ظاہر فریب مغالطہ ہے اس لیے کہ تگیر معلوم سے تغیر علم اس وقت لازم آتا ہے کہ جب یہ مانا جائے کہ اسے ان تغیرات کا علم نہیں اور اگر تمام تغیر و تبدل کی صورتیں اس کے سامنے آئینہ ہیں ۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ تغیر معلومات سے اس کے علم کو بھی تغیر پذیر سمجھ لیا جائے جب کہ یہ تغیر صرف معلوم تک محدود ہے اور علم پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

خطبہ 89: آسمان و زمین کی خلقت اور زمین کے پانی پر بچھانے جانے اور اللہ کے عالم جزئیات ہونے کے بارے میں فرمایا