Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ایمان (گویا) ایک درخت ہے یقین جس کی جڑ ، تقویٰ جس کی شاخ، حیا جس کا زیور اور سخاوت جس کا پھل ہوتا ہے غررالحکم حدیث 1786

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 7: منافقین کی حالت

انہوں نے اپنے ہر کام کا کرتا دھرتا شیطان کو بنا رکھا ہے اور اس نے ان کو اپنا آلہٴ کار بنا لیا ہے ۔ اس نے ان کے سینوں میں انڈے دیئے ہیں اور بچے نکالے ہیں اور انہیں کی گود میں وہ بچے رینگتے اور اچھلتے کودتے ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں سے ، اور بولتا ہے تو ان کی زبانوں سے ۔ اس نے انہیں خطاؤں کی راہ پر لگایا ہے اور بُری باتیں سجا کر ان کے سامنے رکھی ہیں جیسے اس نے انہیں اپنے تسلط میں شریک بنا لیا ہو اور انہیں کی زبانوں سے اپنے کلام باطل کے ساتھ بولتا ہو۔

(۱) منافقین کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ لوگ شیطان کے رفیق کار اور اس کے معین وعدہ گار ہیں اور اس نے بھی ان سے اتنی راہ و رسم پید ا کرلی ہے کہ انہی کے ہاں ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور انہی کے سینوں کو اپنا آشیانہ بنا لیا ہے ۔ یہیں پروہ انڈے بچے دیتا ہے اور وہ بچے بغیر کسی جھجک کے ان کی گودیوں میں اچھل کودمچاتے ہیں یعنی ان کے دلوں میں شیطانی وسوسے جنم لیتے ہیں اور وہیں پر فروغ پاتے اور پروان چڑھتے ہیں ۔ نہ ان کے لیے کوئی روک ٹوک ہے نہ کسی قسم کی بندش اور وہ اس طرح ان کے خون میں رچ گیا اور روح مٰیں بس گیا ہے کہ دوئی کے پردے اٹھ چکے ہیں ۔ اب آنکھیں ان کی ہیں اور نظر اس کی ۔ زبان ان کی ہے اور قول اس کا ۔ جیسا کہ پیغمبر نے فرمایا: ” ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم “ شیطان اولادِ آدم کے رگ و پے میں خون کی جگہ دوڑتا ہے ” یعنی جس طرح خون کی گردش نہیں رکتی یوں ہی اس کی وسوسہ اندازیوں کا سلسلہ رکنے نہیں پاتا اور وہ انسان کو اس کے سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے برابر برائیوں کی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور اس طرح اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے کہ ان کا ہر قول و عمل ہو بہو اس کے قول و عمل کی تصویر بن جاتا ہے جن کے سینے ایمان کی ضیابار یوں سے جگمگار رہے ہیں وہ ان وسوسوں کی روک تھام کرتے ہیں اور کچھ ان کی پذیرائی کے لیے ہر وقت آمادہ و مستعد رہتے ہیں اور وہی لوگ ہیں جو اسلام کی نقاب اوڑھ کر کفر کو فروغ دینے کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔