Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، مومن غیرت مند اور شریف ہوتا ہے، لوگوںکو اس پر اطمینان ہوتا ہے، وہ احتیاط سے کام لیتا ہے۔ غررالحکم حدیث 1901

نہج البلاغہ خطبات

پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد جب سقیفہ بنی ساعدہ کی خبریں امیرالموٴمنین (ع) تک پہنچیں ، توآپ (ع) نے دریافت فرمایا کہ انصار کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ ایک ہم میں سے امیر ہو جائے اور ایک تم میں سے حضرت (ع) نے فرمایا کہ:۔

”تم نے یہ دلیل کیوں نہ پیش کی کہ رسول اللہ (ص) نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور جو برا ہو اس سے درگذر کیا جائے۔ “ لوگوں نے کہا کہ اس میں ان کے خلاف کیا ثبوت ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا کہ اگر حکومت و امارت ان کے لئے ہوتی ۔ تو پھر ان کے بارے میں دوسروں کو وصیت کیوں کی جاتی ۔ پھر حضرت نے پوچھا کہ قریش نے کیا کہا؟ لوگوں نے کہا کہ انہوں ے نے شجرئہ رسول (ص) سے ہونے کی وجہ سے اپنے استحقاق پر استدلال کیا۔ تو حضرت (ع) نے فرمایا کہ انہوں نے شجرئہ ایک اہونے سے تو استدلال کیا، لیکن اس کے پھلوں کو ضائع و برباد کر دیا۔

(۱) سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انصار کے مقابلے میں مہاجرین کی سب سے بڑی دلیل اور وجہٴ کامرانی یہی چیز تھی کہ قریش چونکہ پیغمبر (ص) کے ہم قوم وہم قبیلہ ہیں ، لہذا ان کے ہوتے ہوئے کوئی غیر خلافت کا حقدار نہیں ہو سکتا اور اسی بناء پر انصار کا جمِ غفیر تین مہاجرین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو گیا اور وہ نسلی امتیاز کو پیش کر کے خلافت کی بازی جیتنے میں کامیاب ہو گئے ۔ چنانچہ مورخ طبری واقعات سقیفہ کے سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں ، کہ جب انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد ابن عبادہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے اجتماع کیا، تو حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور ابو عبیدہ ابن جراح بھی سن گن پا کر وہاں پہنچ گئے ۔ اس موقعہ کے لئے حضرت عمر نے پہلے سے کچھ سوچ لیا تھا۔ جسے کہنے کے لئے اٹھے ، مگر حضرت ابو بکر نے انہیں روک دیا، اور کھڑے ہو گئے اور اللہ کی حمدو ثنا ء اور مہاجرین کی ہجرت اور سبقت ایمانی کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا:۔

یہ وہی ہیں ، جنہوں نے سب سے پہلے زمین میں اللہ کی پرستش کی ، اور سب سے پہلے اللہ و رسول(ص) پر ایمان لائے ۔ یہی پیغمبر کے دوست اور ان کے کنبہ والے ہیں اور یہی سب سے زائد خلافت کے حقدار ہیں ۔ جو ان سے ٹکرائے گا۔ وہ ظالم ہو گا۔“

جب حضرت ابو بکر اپنا بیان ختم کر چکے ، تو حباب ابن منذر کھڑے ہوئے اور انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ اے گروہ انصار تم اپنی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں نہ دو۔ دنیا تمہارے سایہ میں بس رہی ہے ۔ تم عزت و ثروت والے اور قبیلے جتھے والے ہو ۔ اگر مہاجرین کو بعض چیزوں میں تم پر فضیلت ہے ۔ تو تمہیں بھی بعض چیزوں میں ان پر فوقیت حاصل ہے تم نے انہیں اپنے گھروں میں پناہ دی۔ تم اسلام کے بازوئے شمشیرزن ہو ۔ تمہاری وجہ سے اسلام اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ تمہارے شہروں میں آزادی سے اللہ کی نمازیں قائم ہوئیں ۔ تم تفرقہ و انتشار سے اپنے کو بچاؤ اور اپنے حق پر یک جہتی سے جمے رہو ، اور اگر مہاجرین تمہارا حق تسلیم نہ کریں ، تو پھر ان سے کہو کہ ایک امیر تم میں سے ہوگا، اور ایک امیر ہم میں سے ہوگا۔ حباب یہ کہہ کر بیٹھے ہی تھے، کہ حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور فرمایا:۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک زمانہ میں دو (حکمران) جمع ہو جائیں ۔ خدا کی قسم! عرب اس پر کبھی راضی نہ ہوں گے کہ تمہیں امیر بنائیں ۔ جب کہ نبی (ص) تم میں سے نہیں ہے۔ البتہ عرب کو اس میں ذرا پس و پیش نہ ہو گا کہ وہ خلافت اس کے حوالے کریں کہ جس کے گھرانے میں نبوت ہو۔ اور صاحبِ امر

بھی انہی میں سے ہو۔ اور انکار کرنے والے کے سامنے اس سے ہمارے حق میں کھلم کھلا دلیل اور واضح بُرہان لائی جا سکتی ہے ۔ جو ہم سے محمد (ص) کی سلطنت و امارت میں ٹکرائے گا، وہ باطل کی طرف جھکنے والا، گناہ کا مرتکب ہونے والا، اور ورطہٴ ہلاکت میں گرنے والا ہے ۔“

حضرت عمر کے بعد حباب پھر کھڑے ہوئے اور انصا ر سے کہا کہ دیکھو! اپنی بات پر ڈٹے رہو، اور اس کی اور اس کے ساتھیوں کی باتوں میں نہ آؤ۔ یہ تمہارے حق کو دبانا چاہتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے ، تو انہیں اپنے شہروں سے نکال بار کرو۔ اور خلافت کو سنبھال لو۔ بھلا تم سے زیادہ اس کا کون حق دار ہو سکتا ہے۔ حباب خاموش ہوئے، تو حضرت عمر نے انہیں سخت سست کہا۔ ادھر سے بھی کچھ تلخ کلامی ہوئی ، اور بزم کا رنگ بگڑنے لگا۔ ابو عبیدہ نے جب یہ دیکھا ، تو انصار کو ٹھنڈہ کرنے اور اپنے دھڑے پر لانے کے لئے کہا کہ اے گروہِ انصار ! تم رہی لوگ ہو، جنہوں نے ہمیں سہارا دیا، ہماری ہر طرح کی مدد امداد کی۔ اب اپنی روش کو نہ بدلو۔ اور اپنے طور طریقوں کو نہ چھوڑو۔ مگر انصار ان باتوں میں نہ آئے ، اور وہ سعد کے علاوہ کسی کی بیعت کرنے کو تیار نہ تھے۔ اور ان کی طرف لوگ بڑھا ہی چاہتے تھے، کہ سعد کے قبیلہ کا ایک آدمی بشیر خزرجی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ بے شک ہم نے جہاد میں قدم اٹھایا ، دین کو سہارا دیا۔ مگر اس سے ہماری غرض صرف اللہ کی رضا مندی اور اس کے رسول کیااطاعت تھی۔ ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم تفوق جتلائیں ، اور خلافت میں جھگڑا کریں ۔ ان محمدٰ (ص) من قریش و قومہ احق بہ و اولی محمد (ص) قریش میں سے تھے۔ لہذا ان کی نیابت و وراثت کا حق بھی انہی کی قوم کو پہنچتا ہے۔ ” بشیر کا یہ کہنا تھا کہ انصار میں پھوٹ پڑ گئی اور اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ چونکہ وہ اپنے کنبہ کے ایک آدمی کو اس طرح بڑھتے ہوئے نہ دیکھ سکتا تھا ، لہذا مہاجرین نے انصار کے اس افتراق سے پوُرا پُورا فائدہ اٹھایا اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کا تہیا کر لیا۔ ابھی وہ بیعت کے لئے بڑھے ہی تھے کہ بشیر نے سب سے پہلے بڑھ کر اپنا ہاتھ حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر رکھ دیا، اور پھر حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے بیعت کی۔ اور پھر بشیر کے قوم قبیلے والے بڑھے اور بیعت کی اور سعد ابن عبادہ کو پیروں تلے روند کر رکھ یدا۔

امیرالموٴمنین (ع) اس موقعہ پر پیغمبر (ص) کے غسل و کفن میں مصروف تھے۔ بعد میں جب سقیفہ کے اجتماع کے متعلق سُنا اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ مہاجرین نے اپنے کو پیغمبر (ص) کا قوم و قبیلہ کہہ کر انصار سے بازی جیت لی ہے تو یہ لطیف جملہ فرمایا کہ شجرہ ایک ہونے سے دلیل لائے ہیں اور اس کے پھلوں کو ضائع کر دیا ہے کہ جو پیغمبر(ص) کے اہلبیت ہیں ۔ یعنی اگر شجرئہ رسول (ص) سے ہونے کی بنا ء پر ان کا حق مانا گیا ہے ۔ تو جو اس شجرئہ رسالت کے پھل ہیں ۔ وہ کیونکہ نظر انداز کئے جا سکتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ حضرت ابو بکر جو ساتویں پشت پر ، اور حضرت عمر جو نویں پشت پر رسول (ص) سے جا کر ملتے ہیں ۔ وہ تو پیغمبر (ص) کا قوم و قبیلہ بن جائیں ۔ اور جو ابن عم تھا اس کے بھائی ہونے سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے ۔

خطبہ 65: سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا