Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، کل بروز قیامت وہ شخص مجھ سے زیادہ قریب ہوگا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو گا اور لوگوں سے بہت زیادہ قریب رہا ہوگا بحارالانوار تتمۃ کتاب الروضۃ باب16، مستدرک الوسائل حدیث9972

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 6: جب طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپ (ع) کو روکنا گیا تو اس موقع پر فرمایا

۶: جب طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپ (ع) کو روکنا گیا تو اس موقع پر فرمایا

جب آپ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کرنے کی نہ ٹھان لیں تو آپ نے فرمایا:

خدا کی قسم میں اس بجوّ کی طرح نہ ہوں گا جو لگاتار کھٹکھٹائے جانے سے سوتا ہوا بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طلب گار (شکاری) اس تک پہنچ جاتا ہے اور گھات لگا کر بیٹھنے والا اس پر اچانک قابو پالیتا ہے بلکہ میں تو حق کی طرف بڑھنے والوں اور گوش پر آواز اطاعت شعاروں کو لیکر ان خطاؤ شک میں پڑنے والوں پر اپنی تلوار چلاتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ میری موت کا دن آجائے ۔ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے اپنے رسول کو دنیا سے اٹھایا۔ برابر دوسروں کو مجھ پر مقدم کیا گیا اور مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا۔

جب امیرالموٴمنین نے طلحہ و زبیر کے عقب میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے ، ایسا نہ ہو کہ ان سے آپ کو کوئی گزند پہنچے تو اس کے جواب میں آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے ۔ جن کا ماحصل یہ ہے ” کہ میں کب تک اپنا حق چھنتا ہوا دیکھتا رہوں گا اور خاموشی بیٹھا رہوں گا۔ اب تو جب تک میرے دم میں دم ہے ، میں ان سے لڑوں گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر رہوں گا۔ اور انہیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیئے کہ میں بجوّ کی طرح بآسانی ان کے قابو آجاؤ نگا“۔ ضبع کے معنی بجوّ کے ہیں ۔ اس کی کنیت ام عامر اور ام طریق ہے اور اسے حضاجر بھی کہا جاتا ہے ۔ حضاجر حضجر کی جمع ہے جس کے معنی پیٹو کے ہوتے ہیں ، لیکن جب جمع کی صورت میں اسے استعمال کیا جائے تو اس سے بجو مراد لی جاتی ہے، کیونکہ یہ ہر چیز نگل جاتا ہے اور جو پاتا ہے ہڑپ کر جاتا ہے گویا اس میں کئی ایک پیٹ جمع ہو گئے ہیں جو بھرنے میں نہیں آتے اور اسے نعثل بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ بڑا سیدھا سادھا اور بڑا بیوقوف جانور ہوتا ہے۔ اگر کسی کی انتہائی حماقت دکھانا مقصود ہو تو یہ کہا جاتا ہے ” فلاں احمق من الضبع“ فلاں تو بجو سے بھی زیادہ بیوقوف ہے، چنانچہ اس کی حماقت اس کے بٓاسانی شکار ہوجانے ہی سے ظاہر ہے کہ شکاری اس کے بھٹ کے گرد گھیرا ڈال لیتا ہے اور لکڑی سے یا پیر سے زمین کو تھپتھپاتا ہے اور چپکے سے کہتا ہے ” اطرقی ام طریق خاصری ام عامر “۔ اسے بجوّ اپنے سر کو جھکالے ، اسے بجوّ چھپ جا، اس جملہ کو دہرانے اور زمین کو تھپتھپانے سے وہ بھٹ کے ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ پھر شکاری کہتا ہے ”ام عامر لیست فی وجارھا ام عامر نائمہ“ بھلا وہ اپنے بھٹ میں کہاں وہ تو کسی گوشہ میں سویا پڑا ہو گا“۔ یہ سن کر وہ ہاتھ پیر پھیلا دیتا ہے اور سوتا ہوا بن جاتا ہے اور شکاری اس کے پیروں میں پھندا ڈال کر اسے باہر کھینچ لیتا ہے اور یہ بزدلوں کی طرح بغیر مقابلہ کئے اس کے قابو میں آجاتا ہے ۔