Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، سنت کے مطابق انجام شدہ تھوڑا سا عمل اُس زیادہ عمل سے بہتر ہے جو اپنی مرضی کے مطابق انجام دیا جائے۔ مستدرک الوسائل حدیث 6773

نہج البلاغہ خطبات

36: اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا

میں تمہیں متنبّہ کر رہا ہوں کہ تم لوگ اس نہر کے موڑوں اور اس نشیب کی ہموار زمینوں پر قتل ہو ہوکر گرے ہوئے ہو گے ۔ اس عالم میں کہ نہ تمہارے پاس اللہ کے سامنے (عذر کرنے لے لیے) کوئی واضح دلیل ہو گی نہ کوئی روشن ثبوت۔ اس طرح کہ تم اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے اور پھر قضائے الٰہی نے تمہیں اپنے پھندے میں جکڑ لیا۔ میں نے تو تمہیں پہلے ہی اس تحکیم سے روکا تھا۔ لیکن تم نے میرا حکم ماننے سے مخالف پیمان شکنوں کی طرح انکار کر دیا ۔ یہاں تک کہ (مجبوراً) مجھے بھی اپنی رائے کو ادھر موڑنا پڑا جو تم چاہتے تھے۔ تم ایک ایسا گروہ ہو جن کے افراد کے سَر عقلوں سے خالی ، اور فہم و دانش سے عاری ہیں ۔ خدا تمہارا بُرا کرے میں نے تمہیں نہ کسی مصیبت میں پھنسایا ہے ، نہ تمہارا بُرا چاہا تھا۔

(۱) جنگِ نہر وان کی وجہ یہ ہوئی کہ جب تحکیم کی قرارداد کے بعد امیرالموٴمنین  کوفہ کی طرف پلٹ رہے تھے ، تو لوگ تحکیم کے منوانے میں پیش پیش تھے ، یہ کہنے لگے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو حکم ٹھہرانا کفر ہے ، اور معاذا للہ امیر الموٴمنین  تحکیم کو مان کر کافر ہو گئے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے ”لاحکم الا اللہ “ (حکم اللہ کے لئے مخصوص ہے ) کو غلط معنی پہنا کر سیدھے سادھے مسلمانوں کو اپنا ہم خیال بنا لیا اور امیر الموٴمنین سے کٹ کر کوفہ کے قریب مقامِ حروراء میں ڈیرے ڈال دیئے ۔ امیر الموٴمنین کو ان ریشہ دوانیوں کا علم ہوا تو آپ نے صعصعہ ابنِ صوحان اور زیاد ابنِ نضر حارثی کو ابنِ عباس کے ہمراہ ان کی طرف روانہ کیا اور بعد میں خود ان کی قیام گاہ تک تشریف لے گئے ، اور انہیں سمجھا بُجھا کر منتشر کر دیا۔

جب یہ لوگ کوفہ پہنچے تو یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ امیرالموٴمنین  نے تحکیم کے معاہدہ کو توڑ ڈالا ہے اور وہ پھر سے شامیوں کے مقابلہ کے لئے آإادہ ہیں ۔ حضرت کو معلوم ہوا تو آپ نے اس کی تردید فرمائی جس پریہ لوگ فتنہ انگیزی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور بغداد سے بارہ میل کے فاصلہ پر نہر فاصلہ پر نہر کے نشیبی حصہ کہ جسے ” نہروان“ کہا جاتا ہے پڑاؤ ڈال دیا۔

ادھر امیر الموٴمنین  تحکیم کا فیصلہ سُن کر سپاہِ شام سے لڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور خوارج کو تحریر کیا کہ حکیمین نے کتاب و سنت کے بجائے خواہشِ نفسانی سے کام لیتے ہوئے جو فیصلہ کیا ہے وہ ہمیں منظور نہیں ۔ لہذا ہم نے ان سے لڑنے کی ٹھان لی ہے ۔ تم بھی ہمارا ساتھ دو تاکہ دشمن کی سرکوبی کی جائے ۔ مگر خوارج نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آپ نے جب تحکیم مان لی تھی ، تو آپ ہمارے نزدیک کافر ہو گئے تھے ۔ اب اگر آپ اپنے کفر کا اقرار کرتے ہوئے تو بہ کریں تو ہم اس معاملہ میں غور کریں گے اور سوچیں گے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے ۔ حضرت نے ان کے جواب سے سمجھ لیا کہ ان کی سرکشی و گمراہی بہت شدید ہو گئی ہے ۔ اب ان سے کسی قسم کی امید رکھنا بیکار ہے ۔ لہٰذا آپ نے انہیں نظر انداز کر کے شام کی طرف کوچ کرنے کےلئے وادی ٴ نخیلہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ جب لشکر ترتیب دیا جا چکا، تو حضرت کو معلوم ہوا کہ لشکر کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پہلے اہل نہر وان سے نپٹ لیں اور بعد میں شام کا رخ کریں ۔ مگر حضرت نے فرمایا کہ ابھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، پہلے شام کی طرف بڑھو، اور پھر انہیں دیکھ لیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے ہر حکم کے لئے بدل و جان حاضر ہیں ۔ خواہ اِدھر چلئے یا ادھر چلئے لیکن ابھی لشکر نے حرکت نہ کی تھی، کہ خوارج کی شورش انگیزیوں کی خبریں آنے لگیں اور معلوم ہوا کہ انہوں نے عامل نہر وان عبداللہ ابن خباب اور ان کی کنیز کو اس بچے سمیت جو اس کے شکم تھا ، ذبح کر ڈالا ہے ۔ اور بنی طَے کی تین عورتوں اور ام سنان صیداویہ کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ امیر الموٴمنین نے حارث ابن مرہ کو تحقیق ِ حال کے لیے روانہ کیا۔ لیکن یہ بھی ان کے ہاتھ سے مارے گئے ۔ جب ان کی شورش انگیزیاں اس حد تک بڑھ گئیں ، تو انہیں جھنجھوڑنا ضروری ہو گیا ۔ چنانچہ لشکر نے نہر وان کا رُخ کر لیا، اور وہا ں پہنچ کر حضرت نے انہیں کہلوا بھیجا کہ جن لوگوں نے عبداللہ ابن خباب اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا ہے۔ انہیں ہمارے حوالے کر دو تاکہ ہم اُن سے خون کا قصاص لیں ۔ مگر اُن لوگوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ ہم سب نے مل کر اُن کو مارا ہے، اور ہمارے نزدیک تم سب کا خون مباح ہے۔ اس پر بھی امیرالمومنین نے جنگ میں پہل نہ کی۔ بلکہ حضرت ابوایوب انصاری کو پیغامِ امن دے کر اُن کی طرف بھیجا۔ چنانچہ اُنہوں نے پکار کر اُن سے کہا کہ جو شخص اس جھنڈے کے نیچے آجائے گا یا اس جماعت سے کٹ کر کوفہ یا مدائن چلا جائے گا، اس کے لیے امان ہے اور اُس سے کوئی باز پُرس نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ اس کا یہ اثر ہوا کہ فردہ ابنِ نوفل اشجعی نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس بنیاد پر امیرالمومنین سے آمادہ پیکار ہوئے ہیں اور یہ کہہ کر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ الگ ہو گئے اور یونہی لوگ گروہ در گروہ چھٹنا شروع ہو گئے اور کچھ لوگ امیرالمومنین سے آملے، جو لوگ باقی رہ گئے اُن کی تعداد چار ہزار تھی۔ (طبری کی روایت کی بناء پر دوہزار آٹھ سو تھی)۔ یہ لوگ کسی صورت میں دعوتِ حق کی پکار سننے کے لیے تیار نہ تھے اور مرنے مارنے پر اُتر آئے تھے۔ حضرت نے اپنی فوج کو پہل کرنے سے روک رکھا تھا۔ مگر خوارج نے کمانوں میں تیر جوڑ لیے اور تلواروں کی نیامیں توڑ کر پھینک دیں ۔ حضرت  نے اس موقعہ پر بھی جنگ کے ہونلاک نتائج اور اس کے انجامِ بد سے انہیں آگاہ کیا، اور یہ خطبہ بھی اسی زجروتوبیخ کے سلسلہ میں ہے۔ لیکن وہ اس طرح جوش میں بھرے بیٹھے تھے کہ یک لخت سپاہِ امیرالمومنین پر ٹوٹ پڑے۔ یہ حملہ اتنا بے پناہ تھا کہ پیداوں کے قدم اُکھڑ گئے۔ لیکن پھر اس طرح جمے کہ تیروسنان کے حملے انہیں اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے اور دیکھتے ہی دیکھتے خوارج کا اس طرح صفایا کیا کہ نو آدمیوں کے علاوہ کہ جنہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچالی تھی، ایک متنفّس بھی زندہ نہ بچا۔ امیرالمومنین ع کے لشکر میں سے صرف آٹھ آدمی شہید ہوئے۔ یہ جنگ ۹ صفر ۳۸ ھ میں واقع ہوئی۔