Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، تنگ دل انسان کو اپنا امین نہ بناؤ۔ نھج البلاغۃ حکمت211

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 209: خداوند عالم کی عظمت اورزمین و آسمان اور دریاوٴں کی خلقت کے متعلق فرمایا

اللہ سبحانہ٘ کے زور فرمانروائی اورعجیب و غریب صنعت کی لطیف نقش آرائی ایک یہ ہے کہ اس نے ایک انتھاہ دریا کے پانی سے جس کی سطحیں تہ بہ تہ اور موجیں تھپیڑے مار رہی تھیں ۔ایک خشک و بے حرکت زمین کو پیدا کیا پھر یہ کہ اس نے پانی (کے بخار )کی تہوں پر تہیں چڑھا دیں جو آپس میں ملیں ہو ئی تھیں اور انہیں الگ الگ کر کے سات آسمان بنائے جو اس کے حکم سے تھمے ہو ئے او راپنے مرکز پر ٹھہرے ہو ئے ہیں او ر زمین کو اس طرح قائم کیا کہ اسے ایک نیلگوں گہرا اور (فرمان الہی کے حدود میں ) گھرا ہو ا دریا اٹھائے ہو ئے ہے جو ا س کے حکم کے آگے بے بس اور اس کی ہیبت کے سامنے سر نگوں ہے اوراس کے خوف سے اس کی روانی تھمی ہوئی ہے اور ٹھوس چکنے پتھروں ،ٹیلوں اور پہاڑوں کو پیدا کیا اور ان کو ان کی جگہوں پر نصب اور ان کی قرا ر گاہوں میں قائم کیا۔چنانچہ ان کی چوٹیاں فضا کو چیرتی ہوئی نکل گئی ہیں اور بنیادیں پانی میں گڑی ہو ئی ہیں ۔اس طرح اس نے پہاڑوں کو پست اور ہموار زمین سے بلند کیا ہے اور ان کی بنیادوں کو ان کے پھیلا ؤ اور ان کے ٹھہراؤکی جگہوں میں زمین کے اند ر اتار دیا ۔ان کی چوٹیوں کو فلک بوس اور بلندیوں کو آسمان پیما بنا دیا اور انہیں زمین کے لےے ستون قرار دیا اور میخوں کی صورت میں انہیں گاڑا ،چنانچہ وہ ہچکولے کھانے کے بعد تھم گئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے رہنے والوں کولے جھک پڑے یا اپنے بوجھ کی وجہ سے دھنس جائے یا اپنی جگہ چھوڑدے پاک ہے وہ ذات کہ جس نے پانی کی طغیانیوں کے بعد زمین کو تھا م رکھا اور اس کے بعد خشک کیا اور اسے اپنی مخلوقات کے لےے گہوار ہ (استراحت )بنا یا اور ایک ایسے گہرے دریا کی سطح پر اس کے لےے فرش بچھایا جو تھما ہوا ہے بہتا نہیں اور رکا ہو ا ہے جنبش نہیں کرتا جسے تند ہوائیں اِدھر سے اُدھر دھکیلتی رہتی ہیں ،اور برسنے والے بادل اسے متھ کر پانی کھینچتے رہتے ہیں بے شک ان چیزوں میں سروسامان عبرت ہے اس شخص کے لےے جو اللہ سے ڈرے۔